صفحات

Friday, March 16, 2018

::: اللہ کے ہاں دُعاء کی قُبولیت کے نُسخہ جات :::

٦ ٦ ٦  قران  و سُنّت کے باغ میں سے٥ ٥ ٥
:::  اللہ  کے ہاں دُعاء کی قُبولیت کے    نُسخہ جات   :::
بِسمِ اللَّہِ  الذی یَسمعُ ، و یُجیبُ الدَّعوات الدَّاعِ مِن دُون الواسطۃِ أو الوسیلۃ  و الصَّلاۃُ و السَّلام ُعلیٰ رسولِہِ الکریم مُحمد
شروع اللہ کے نام سے جو دُعاء  کرنے والے کی دُعاء کِسی واسطے اور وسیلے کے بغیر سُنتا اور قُبول فرماتا ہے، اور اللہ کی رحمتیں اور سلامتی ہو اللہ کے رسول کریم محمد  پر ،
اللہ تعالیٰ نے اِرشاد فرمایا (((((وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيبٌ أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ   إِذَا دَعَانِ فَلْيَسْتَجِيبُوا لِي وَلْيُؤْمِنُوا بِي لَعَلَّهُمْ يَرْشُدُونَ ::: اور اگر (اے محمد)میرے بندے آپ سے میرے بارے میں سوال کریں تو  یقیناً میں(اُن کے ) قریب ہوں ،جب (کوئی)مجھے پکارتا ہے (دُعاء کرتا ہے ، سوال کرتا ہے) تو میں  دُعاء کرنے والے کی دُعاء قُبول کرتا ہوں ، لہذا (سب ہی) لوگ میری بات قُبول کریں اور مجھ پر اِیمان لائیں تا کہ وہ ہدایت پا جائیں )))))سُورت البقرہ(2)/آیت186 ،
اللہ تبارک وتعالیٰ کا یہ فرمان مُبارک اِس بات کی دلیل ہے کہ اللہ ہم سے بالکل قریب ہے اور ہماری دُعائیں سُنتا ہے اور قُبول فرماتا ہے ،
پس لوگوں کا یہ کہنا اور سمجھنا کہ اللہ تو ہماری سُنتا نہیں ، یا  فُلاں لوگوں کی سنتا ہے اور فُلاں لوگوں کی نہیں سنتا ، فُلاں کی مانتا ہے ، اور فُلاں کی نہیں مانتا ، ہماری سنتا نہیں اور فُلاں کی ٹالتا نہیں ،  اِس قِسم کے سب ہی عقائد اور خیالات  اللہ تبارک و تعالیٰ کے اِس فرمان مُبارک کا بھی اِنکار ہیں ، یعنی دوسرے اِلفاظ میں یہ کہا جائے گا کہ ایسے عقائد یا خیالات اللہ تبارک و تعالیٰ کے مذکورہ بالا فرمان کا  کفر  ہیں ، اِس کفریہ عقیدے اور خیا ل کا شِکار کرنے کے بعد شیطان مردود اور اُس کے پیروکار ، اللہ کے بندوں کو اللہ تبارک و تعالیٰ سے دُعاء کرنے میں شِر ک کی راہوں  پر گامزن کر دیتے ہیں ، اور اللہ عزّ و جلّ کوبراہ راست پُکارنے اور برراہ راست اُس سے دُعاء ء کرنے کی بجائے اُنہیں  اللہ کے ساتھ شریک بنانے ، اور شریک  اپنانے میں لگا دیتے ہیں ،
یہ بھی یاد رکھیے ، اور ہمیشہ یاد رکھیے کہ کوئی بھی بات پہلے سُنی جاتی ہے اور پھر قُبول یا رَد کی جاتی ہے ، اور ہمارے اللہ عزّ و جلّ نے ہمیں یہ یقین دہانی کروائی ہے کہ وہ دُعائیں قُبول کرتا ہے ، لہذا دُعائیں سُنا جانا تو قُبول کیے جانے سے زیادہ یقینی امر ہوا ،    
لہذا ، ہمیں اللہ جلّ جلالہ کی طرف سے یہ مذکورہ بالا خوش خبری والا اعلان سننے ، پڑھنے کے بعد نہ صِرف ایسے کفریہ عقائد اور خیالات سے توبہ کرتے ہوئے اُنہیں ترک کرنا چاہیے  بلکہ یہ بھی سوچنا ، بلکہ سمجھنا چاہیے، کہ جب خود  اللہ تعالیٰ  نے ہی ہمیں بتا دِیا کہ(((((أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ   إِذَا دَعَانِ:::جب (کوئی)مجھے پکارتا ہے (دُعاء کرتا ہے ، سوال کرتا ہے) تو میں  دُعاء کرنے والے کی دُعاء قُبول کرتا ہوں))))) تو پھر ہمیں کِسی شک کے بغیر ، کِسی دھوکے اور کِسی فلسفے کے بغیر مان لینا چاہیے اور اِس پر اِیمان رکھنا چاہیے کہ اللہ پاک   ہماری دعائیں قُبول فرماتا ہے ،
 پس ہمیں اِس فرمان مُبارک  پر مکمل اِیمان رکھنا چاہیے ،  نہ کہ اِس فرمان مُبارک کے خِلاف یہ سوچنا چاہیے کہ اللہ ہماری نہیں سُنتا یا نہیں  مانتا وغیرہ ،  اور اگر  ہمیں  ہماری دُعائیں قُبول ہوتی ہوئی محسوس نہیں ہوتِیں تو ہمیں اللہ تعالیٰ  اور اُس کے رسول کریم محمد  صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے فرامین مُبارکہ کے مُطابق ہی اِس معاملے کو سمجھنا چاہیے ، نہ کہ اُن کے فرامین مُبارکہ کے خِلاف ،
ہماری زیر مطالعہ آ یت مُبارکہ میں  بھی اللہ  تبارک و تعالیٰ کی طرف سے ہمیں ایک ایسا نُسخہ بتایا گیا ہے جِس پر عمل کرنے سے ہماری دُعائیں جلد قُبول ہو سکتی ہیں ، جی ہاں ، اِسی آیت مُبارکہ میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے ہمیں یہ حکم فرمایا ہے کہ (((((فَلْيَسْتَجِيبُوا لِي ::: لہذا (سب ہی) لوگ میری بات قُبول کریں )))))، یہ ہی وہ نُسخہ جِس پر عمل کرنے سے ہماری دُعائیں اِن شاء اللہ جلدی ہی قُبول ہونے والی دُعاؤں میں شامل  ہو سکتی ہیں ، لیکن اِس کے لیے ہمیں یہ جاننا ہو گا کہ ہم اللہ تبارک و تعالیٰ نے اِس حکم پر عمل کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ کی بات کیسے قُبول کریں !!؟؟؟
اللہ جلّ و عُلا کے اِس فرمان مُبارک میں تدبر کرنے سے ہمیں یہ سمجھ آتا ہے کہ دُعا ؤں کی جلدی قُبولیت کے لیے ہمیں اللہ تعالیٰ کی ساری ہی باتیں قُبول کرنا ہوں گی ، ہر وہ کام جِس کی طرف اللہ تعالیٰ نے بلا یا ، وہ کام کرنا ہوگا ، اور ہر وہ کام جو کام کرنے  سے اللہ تعالیٰ نے  منع فرما دِیا اُس کام سے باز رہنا ہی ہو گا ، اِسی طرح اور صِرف اِس ہی طرح  (((((فَلْيَسْتَجِيبُوا لِي ::: لہذا (سب ہی)لوگ میری بات قُبول کریں)))))پر عمل ہو گا ، اور جب اِس نُسخے پر عمل ہو گا تو پھر اللہ تعالیٰ  بھی ہماری دعائیں اُسی وقت  قُبول فرما لے گا ،
اب اگر ہم اِس نُسخے کی تفصیل میں  تدبر کریں تو ہمیں اِسی نُسخے کے ضمن میں اور بھی بہت سے  ایسے نُسخے دِکھائی دیتے ہیں جِن کو اِستعمال کرتے ہوئے ہم اِس بنیادی نُسخے کے فائدے حاصل کر سکتے ہیں ، اور اپنی دُعاؤں کو اللہ کے ہاں جلد  ہی قُبول ہونے والی دُعاؤں میں شامل کرنے کی بھر پور کوشش کر سکتے ہیں ،
لہذا ہمیں خُوب اچھی طرح اُن باتوں اور کاموں کے بارے میں جان لینا  چاہیے جِن کی طرف ہمیں  اللہ تعالیٰ نے بلایا ہے ،  تا کہ ہم ان کو قُبول کریں اور اللہ تبارک و تعالیٰ کے ہاں ہماری دعائیں فوراً     قُبول ہوا کریں ،
::::::: پہلا  نُسخہ :::  نیکی کے کام کرنے میں جلدی کرنا :::::::
دُعاء کے فوراً    قُبول ہونے کے ذرائع میں سے سب سے پہلا ذریعہ نیکی کے کام کرنے میں جلدی کرنا ہے ، اللہ عزّ و جلّ  نے زکریا علیہ السلام کا واقعہ بیان فرماتے ہوئے ، اپنے نیک بندوں  کی صِفات میں یہ صِفات بیان فرمائی ہیں کہ (((((فَاسْتَجَبْنَا لَهُ وَوَهَبْنَا لَهُ يَحْيَىٰ وَأَصْلَحْنَا لَهُ زَوْجَهُ إِنَّهُمْ كَانُوا يُسَارِعُونَ فِي الْخَيْرَاتِ وَيَدْعُونَنَا رَغَبًا وَرَهَبًا وَكَانُوا لَنَا خَاشِعِينَ::: لہذا ہم نے  زکریا کی دُعاء قُبول فرمائی اور اُسے یحیی عطاء کیا ، اور ذکریا کے لیے اُس کی بیوی کو ٹھیک کر دِیا،بے شک وہ لوگ نیکی کے کام کرنے  میں بہت ہی تیزی کرتے تھے اور ہم سے(قُبولیت کے)شوق اور لگن اور (اللہ سے)ڈر کی کیفیات میں رہتے ہوئے دُعاء  کرتے تھے اور ہم سے ڈرتے تھے))))) سُورت الأنبیاء (21)/آیت  90،
اللہ  تعالیٰ کے اِس فرمان مُبارک سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ اللہ کے وہ نیک بندے جو نیکی کرنے میں کوئی دیر نہیں کرتے ، کِسی کا اِنتظار نہیں کرتے کہ کوئی اُنہیں کِسی نیکی کی دعوت دے ، نیکی کے کِسی کام کی طرف بلائے تو پھر وہ لوگ نیکی کریں ، بلکہ خود نیکی کرنے کے مواقع تلاش کرتے ہیں ، اپنے ہر کام کو اللہ کی رضا کے لیے  کرتے ہیں اور اُنہیں نیکی بنا لیتے ہیں ، اور ایسا کرنے میں نہ صِرف دیر نہیں کرتے بلکہ بہت ہی تیزی سے نیکی کرنے کے مواقع تلاش کرتے ہیں اور نیکی والے کام کرگذر تے ہیں، اور پھر صِرف  اپنے اللہ ہی کو پکارتے ہیں ، صِرف اُسی سے ہی دُعائیں کرتے ہیں ، اور اِس طرح کرتے ہیں کہ اُن کے دِلوں میں اللہ  کی ہاں دُعاؤں کی قُبولیت کا شوق و یقین بھی ہوتا ہے ، اور اِس بات سے بھی ڈرتے ہیں کہ کہیں اُن کی دُعاء  اوردُعاء کرنے کے انداز و اطوار میں کچھ ایسا نہ ہو جائے جِس کی وجہ سے اللہ ناراض ہوجائے اور وہ لوگ اللہ کے عذاب پانے والوں میں سے ہوجائیں ، لہذا یہ لوگ اللہ سے ڈرنے والے ہوتے ہیں ، اپنے ایسے  بندوں کی دعائیں بھی اللہ تعالیٰ جلدی ہی قُبول فرماتا ہے ،
اب ہم اپنا حال تو دیکھیں ، ہم میں سے کتنے ایسے ہیں جنہیں اللہ نے مال دیا ہے لیکن وہ کبھی یہ کوشش نہیں کرتے کہ اپنا مال خود کِسی ضرورت مند ، غریب ، محتاج ، مسکین ، بیوہ، یتیم ، تک پہنچا دیں ، بلکہ جب تک اُن کے پاس  کوئی حاجت مند خود نہیں آتا اُنہیں اِس کی پرواہ ہی نہیں ہوتی کہ وہ اپنے مال میں سے اللہ کی راہ میں بھی خرچ کر لیں ، اور پھر اُن میں سے بھی کتنے ایسے ہیں جن تک جب کوئی حاجت مند پہنچتا ہے تو وہ اُس کی کوئی مدد نہیں کرتے،
اور ہم میں سے کتنے ایسے ہیں ، جِن کے پاس صحت اور وقت اُن کی ضرورت سے زیادہ میسر ہیں ، لیکن وہ کبھی اُن نعمتوں کو اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کی طرف توجہ نہیں کرتے ، اور اگر کبھی اللہ ہی اُنہیں  کوئی ایسا موقع  عطاء کر دے جِس سے فائدہ اُٹھا کر وہ لوگ اپنا  وقت اور صحت اللہ کی راہ میں خرچ کر سکیں تو بھی وہ لوگ ایسا نہیں کرتے ،
ہم میں ہر ایک خود سے یہ پوچھے کہ میں  نے کتنی دفعہ خود کِسی محتاج اور ضرورت مند کو تلاش کر کے ، مالی ، یا بدنی طور پر اُس کی خدمت کرتے ہوئے اُس کی حاجت روائی کی ہے ؟؟؟
کتنی دفعہ ایسا ہوا ہے کہ میں نے کِسی کو راہ راست سے ہٹا ہوا پایا ہو اور اسے ٹھیک راستے کی خبر کی ہو ؟؟؟
کتنی دفعہ ایسا ہوا ہے کہ میں نے کِسی کو نماز نہ پڑھتے ہوئے دیکھ کر نماز پڑھنے کی تلقین کی ہو ؟؟؟
کتنی دفعہ ایسا ہوا کہ میں نے کِسی کو بے پردگی والا انداز اپنائے ہوئے دیکھ کر اُسے پردہ کے احکام پر عمل کی دعوت دِی ہو ؟؟؟
کتنی دفعہ ایسا ہوا کہ میں نے کِسی کو شیاطین کی آوازیں یعنی گانا اور موسیقی وغیرہ سُنتے دیکھ کر ، اُس سے دُور رہنے کی تلقین کی ہو ؟؟؟
بلکہ کِسی اور کے ساتھ کی جانے والی نیکیوں سے پہلے خود اپنی ہی جان کے ساتھ نیکی کرنے کے بارے میں ہی سوچتے ہیں کہ ، کتنی دفعہ ایسا ہوا ہے کہ میں نے اپنی ُمُعاشی اور مُعاشرتی ذمہ داریاں پوری کرنے کی  دُنیاوی مشغولیات کے عِلاوہ غیر ضروری مشغولیات کو ترک کر کے خود کو  اللہ کی کتاب کی تِلاوت ، دُرُست  فہم  اور اُس پر عمل میں مشغول کیا ہو ؟؟؟
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی سُنّت مُبارکہ کی تعلیم اور اُس پر عمل کی طرف خود کو راغب کیا ہو ؟؟؟    
جب ہم ، اور ہمارے دُوسرے مُسلمان بھائی اور بہنیں  اللہ کی طرف بڑھیں گے ہی نہیں ، نیک کام کرنے  میں جلدی کرنا تو دُور ٹھہرا نیک کاموں سے ہی دُور رہیں گے تو پھر یہ شکوہ کیوں کہ ہماری دعائیں قُبول نہیں ہو تِیں ؟؟؟
جبکہ ہمارے اللہ نے ،جِس سے ہم دُعائیں کرتے ہیں ، اور جو کِسی واسطے ، کِسی وسیلے کے بغیر براہ راست ہماری دعائیں سنتا اور قُبول کرتا ہے ، اس نے ہمیں یہ نُسخہ بتا دیا ہے کہ اُس سے دُعاء قُبول کروانے کے لیے نیکی کرنے میں بہت ہی جلدی کرنا اپنا معمول بنانا پڑے گا ،
(((میرے اس مضمون کے آغاز میں ذِکر کردہ سُورت البقرہ کی آیت186 ، ہی کے فہم و تدبر میں ایک اور مضمون   """ صرف اور براہ راست  اللہ سے دُعاء  کیجیے""" بھی شائع کیا جا چکا ہے، اُس کا مطالعہ بھی ضرور فرمایے گا  )))۔
::::::: دُوسرا نُسخہ :::  قُبولیت کےشوق اور لگن ،  اور اللہ  کی ناراضگی اور اُس کے عذاب کے خوف کی کیفیات کی موجودگی کے ساتھ دُعاء کرنا :::::::
(((((وَيَدْعُونَنَا رَغَبًا وَرَهَبًا ::: اور ہم سے(قُبولیت کے)شوق اور لگن اور (اللہ سے)ڈر کی کیفیات میں رہتے ہوئے دُعاء  کرتے تھے)))))اللہ سُبحانہ ُ و تعالیٰ نے اِس مذکورہ بالا فرمان پاک میں یہ بھی بتا دیا کہ اُس کے ہاں دُعاء کی جلدی قُبولیت کے لیے دُعاء  کرتے ہوئے مذکورہ بالا دو کیفیات، یعنی اللہ سے قُبولیت کا شوق اور لگن ، اور اُس کی ناراضگی اور عذاب کا ڈر ، اِن دو کیفیات  کا حاضر ہونا ضروری ہے ،
لہذا ضروری ٹھہرا کہ ہم اِن مذکورہ بالا دو کیفیات کو حاضر رکھتے ہوئے دُعائیں کریں ،
یہاں ایک بہت ہی أہم سوال سامنے آتا ہے اور وہ یہ ہے کہ :::
کیا جب ہم اللہ سے کوئی دُعاء کرتے ہیں تو  اُس وقت ہمارے دِل اللہ کی طرف متوجہ ہوتے ہیں ،،، اور ہمارا مطمع قلب اللہ کی رضا کا حصول ہوتا ہے ،،، یا ،،،ہمارے دِل ہماری مطلوبہ چیز ، یا ضرورت کی طرف لگے ہوتے ہیں اور اُنہی  کے حصول کے شوق اور لگن میں تڑپ رہے ہوتے ہیں ؟؟؟
اِس سوال کا جواب ، دُعاء کی قُبولیت کے رازوں میں سے ایک راز ہے ، جو دُعاء کرنے والا  ہر ایک شخص اپنی دُعاء کے بارے میں خود ہی جان سکتا ہے ،
اور خُوب اچھی طرح سے یاد رکھیےکہ جو دِل اللہ کی  طرف سے متوجہ نہ ہو اُس دِل کی دُعاء اللہ کے ہاں قُبول نہیں ہوتی،  اِس کی خبر ہمیں اُس صادق المصدوق صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے دِی ہے جِن کے بارے میں اللہ نے گواہی دی ہے کہ وہ اپنی مرضی سے کلام نہیں فرماتے تھے ، بلکہ اُن کی طرف کی گئی وحی کے مُطابق کلام فرماتے تھے ، اُنہوں نے ہمیں یہ بتایا ہے کہ (((((ادْعُوا اللَّهَ وَأَنْتُمْ مُوقِنُونَ بِالإِجَابَةِ وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ لاَ يَسْتَجِيبُ دُعاء  مِنْ قَلْبٍ غَافِلٍ لاَهٍ ::: اللہ سے اِس طرح دُعاء کیا کرو کہ تُمہیں قُبول ہونے کا یقین ہو ، اور جان رکھو کہ اللہ غفلت زدہ غیر متوجہ  دِل کی دُعاء قُبول نہیں کرتا)))))سُنن الترمذی /حدیث3816/کتاب الدعوات/باب66، امام الالبانی رحمہُ اللہ نے ’’’حَسن‘‘‘  قرار دِیا ،
پس یاد رکھیے کہ اگر دُعاءکرتے ہوئے دُعاءکرنے والا دِل اللہ کی طرف متوجہ نہیں تو اللہ اُس کی دُعاء قُبول نہیں کرتا ،
اور اس کے ساتھ یہ بھی سمجھ لیجیے کہ دِل کی حاضری سے پہلے اُس دِل میں دُعاء  کی قُبولیت کا یقین بھی ہونا چاہیے اور دُعاء کی قُبولیت کا یقین اُسی وقت کیا جا سکتا ہے جب دُعاء  اور اس کے کرنے کے انداز و اطوار کےت بارے میں یہ یقین ہو کہ اُن میں سے کہیں بھی کچھ بھی اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی نافرمانی والا نہیں ہے۔  
::::::: تیسرا نُسخہ :::  اللہ تبارک و تعالیٰ سے ڈر :::::::
(((((وَكَانُوا لَنَا خَاشِعِينَ::: اور ہم سے ڈرتے تھے)))))
اللہ سُبحانہ ُ و تعالیٰ نے ہم پر  اپنی بے پناہ رحمت اور شفقت کے ساتھ ہمیں یہ بھی بتا دِیا کہ اُس کے ہاں دُعاء  کی قُبولیت کے لیےدُعاء  کرنے والے کے دِل میں اللہ تعالیٰ کاڈر ہونا بھی ایک لازمی امر  ہے ، کہ جِس قدر دُعاء  کرنے والا اللہ سے ڈرنے والا ہوگا اُسی قدر اُس کی دُعائیں اللہ کے مقُبول ہونے والی ہوں گے ،
خیال رہے کہ اللہ سے ڈر صِرف دُعاء  کرتے ہوئے ہی مطلوب نہیں ، اور نہ ہی صرف دُعاء  کرتے ہوئے  پایا جانے والا ڈر دُعاء  کی قُبولیت کے اسباب میں سے ہے ، بلکہ یہ ڈر مُسلمان کی زندگی کے ہر لمحے میں پایا جانا مطلوب ہے اور اِس کا ہر کام اِس ڈر کے احساس کے ساتھ کیا جانا مقصود ہے ، جب تک ایسا نہیں ہو گا کِسی کا کوئی بھی عمل اللہ کے ہاں قُبولیت کے امکانات پانے والا نہیں ہو گا  کیونکہ اللہ کے ڈر کی عدم موجودگی میں نہ تو کِسی کو اللہ کی عِبادت کرنے یا نہ کرنے کا غم ہو گا ، اور نہ ہی عِبادت کرنے والے کو ٹھیک طور پر عِبادت کرنے کی فکر ہو گی ، اور نہ ہی مُعاشرتی زندگی میں اللہ کے بندوں کی جان ، مال ، اور عزتوں کو محفوظ رکھنے کی پرواہ ہو گی ، اور نہ ہی اپنے رزق کو حلال ذرائع سے کمانے کی فِکر ہو گی ،
پس جو شخص اللہ کی عِبادت ہی ٹھیک طور پر نہ کرتا ہو، اللہ اور اُس کے رسول کریم محمد  صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی طرف  سے مقرر کردہ حُدود  سے نکل کر اپنی مرضی کے مُطابق عِبادتیں کرے ، اورُ ان کے بتائے ہوئے انداز و طریقوں کی بجائے  اپنے یا دُوسروں کے خود ہی بنائے ہوئے طور طریقوں پر عِبادتیں کرے تو  کیا اُس کی کی ہوئی عِبادتوں کو اللہ کے ڈر کے ساتھ کی جانے والی عبادات کہا یا سمجھا جا سکتا ہے ؟؟؟ کیا  اللہ اُس سے راضی ہو گا ؟؟؟یقیناً نہیں ہو گا تو پھر کیا اُس کی دُعائیں اللہ کی ہاں قُبول ہوں گی ؟؟؟
جو شخص اللہ کے بندوں اور بالخصوص مُسلمانوں کے جان ، مال اور عزت میں بغیر حق  کے تصرف کرتا ہو، اُن کے حقوق کی ادائیگی میں جان بوجھ کر بد دیانتی کرتا ہو، کیا اُسے اللہ سے ڈرنے والا کہا یا سمجھا جا سکتا ہے ؟؟؟ کیا اللہ اُس سے راضی ہو گا ؟؟؟ یقیناً نہیں ہو گا تو پھر کیا اُس کی دُعائیں اللہ کی ہاں قُبول ہوں گی ؟؟؟
جو شخص اپنی کمائی میں حلا ل و حرام کی کچھ تمیز نہ رکھتا ہو ، بس جیسےبھی ہو  کمانے کی دُھن میں ہی لگا رہے،، کیا اُسے اللہ سے ڈرنے والا کہا یا سمجھا جا سکتا ہے ؟؟؟ کیا اللہ اُس سے راضی ہو گا ؟؟؟ تو کیا اُس کی دُعائیں اللہ کے قُبول ہوں گی ؟؟؟
جی نہیں ، ایسے لوگوں کو اللہ سے ڈرنے والا نہیں سمجھا جا سکتا ،  اگر اللہ اُن کے سوال کے مُطابق کچھ دے دیتا ہے تو وہ اللہ طرف سے اُن کے لیے امتحان ہوتا ہے ، اور اُن لوگوں کو اُن کی راہوں پر چھوڑ دیے جانے کے لیے ہوتا ہے ،  پس ہم سب کو بھرپور کوشش کرتے رہنا چاہیے کہ ہمارا کوئی  ایک بھی ، نہ ہی ظاہری اور نہ ہی  باطنی قول اور فعل اللہ کے ڈر سے خالی نہ ہو ،
اپنی دُعاؤں کی قُبولیت کے لیے قران کریم میں بیان فرمائے گئے ، مذکورہ بالا تین نُسخوں پر عمل شروع کر دیجیے ، اور یہ بھی یاد رکھیے کہ اگر آپ کی طرف سے دُعاء  کی قُبولیت کی شرائط پوری ہونے کے بعد بھی  دُعاء کرتے کرتے اگر کافی وقت بھی گذر جائے اور بظاہر دُعاء   قُبول ہوتی ہوئی محسوس نہ ہو ، تو بھی قُبولیت سے مایوس نہیں ہونا ،
اللہ تعالیٰ کے حبیب محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی پاکیزہ اور معصوم زبان سے اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہ خبر کروائی ہے کہ (((((يُسْتَجَابُ لأَحَدِكُمْ مَا لَمْ يَعْجَلْ يَقُولُ دَعَوْتُ فَلَمْ يُسْتَجَبْ لِى:::تُم میں سے کِسی دُعاء  کرنے والے کی دُعاء  اُس وقت قُبول ہوتی ہے جب تک کہ وہ جلدبازی نہیں کرتا اور ایسا  نہیں کہتا (یا ایسا نہیں سمجھنے لگتا) کہ میں نے دُعاء  کی اور میری دُعاء  قُبول نہیں کی گئی )))))صحیح البخاری /حدیث/6340کتاب الدعوات/باب22،
اور اِرشاد فرمایا (((((لاَ يَزَالُ يُسْتَجَابُ لِلْعَبْدِ مَا لَمْ يَدْعُ بِإِثْمٍ أَوْ قَطِيعَةِ رَحِمٍ مَا لَمْ يَسْتَعْجِلْ:::بندے کی دُعاء  اُس وقت تک قُبول ہوتی رہتی ہے جب تک کہ وہ گناہ یا صلہ رحمی کے خلاف دُعاء  نہ کرے ، اور جب تک وہ جلد بازی کا مظاہرہ نہ کرے)))))،صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین نے عرض کیا ،  جلد بازی کرنا کیا ہے ؟ اے اللہ کے رسول ،
تو اِرشاد فرمایا (((((يَقُولُ قَدْ دَعَوْتُ وَقَدْ دَعَوْتُ فَلَمْ أَرَ يَسْتَجِيبُ لِى فَيَسْتَحْسِرُ عِنْدَ ذَلِكَ وَيَدَعُ الدُعاء ::: جلد بازی) یہ کہنے لگے کہ میں نے دُعاء  کی ، اور دُعاء  کی لیکن مجھے( اپنی دُعاء  کی) قُبولیت ہوتی ہوئی دِکھائی نہیں دیتی،پس پھر وہ حسرت کا شِکار ہو جاتاہے اور دُعاء  کرنا چھوڑ دیتا ہے)))))صحیح مُسلم /حدیث/7112کتاب  الذِکر و الدُعاء  والتوبہ /باب25،
لہذا اس بات پر بھی اِیمان رکھیے کہ اگر آپ کی درست طور طریقے سے  مانگی ہوئی  جائز دُعاء   قُبول ضرور ہو گی خواہ اُس کی قُبولیت نظر آنے میں کتنی ہی دیر کیوں نہ لگ رہی ہو ، پس دُعاء  کرنے سے  رُکیے نہیں ،
اور اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی یاد رکھیے کہ اگر درست طور طریقے پر کی ہوئی  کوئی نیک دُعاء  دُنیا میں قُبول  شدہ نظر نہیں بھی آتی ہو  تو بھی اِن شاء اللہ وہ آپ کے لیے آخرت میں محفوظ کر لی گئی ہو گی ، اس کی خبر بھی ہمیں اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کریم محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی زبان مُبارک سے کروائی ہے کہ (((((ما مِنْ مُسلم يَدْعُو بِدَعْوَةٍ لَيْسَ فِيهَا إِثْمٌ وَلاَ قَطِيعَةُ رَحِمٍ إِلاَّ أَعْطَاهُ اللَّهُ بِهَا إِحْدَى ثَلاَثٍ إِمَّا أَنْ تُعَجَّلَ لَهُ دَعْوَتُهُ وَإِمَّا أَنْ يَدَّخِرَهَا لَهُ فِى الآخِرَةِ وَإِمَّا أَنُْ يَصْرِفَ عَنْهُ مِنَ السُّوءِ مِثْلَهَا:::کوئی  بھی مُسلمان جب کوئی ایسی دُعاء   کرتا ہے جس میں گناہ نہ ہو ، اور نہ ہی صلہ رحمی کے خلاف  ہو،  تو اللہ اُس کو (اُس کی دُعاء  کی قُبولیت میں) تین میں سے کوئی ایک چیز عطاء کرتا ہے ، (1) یا تو اُس کی دُعاء   کو جلد ہی پورا کر دیتا ہے ، اور (2)یا اُس کی دُعاء  کواُس کی  آخرت کے لیے محفوظ کر دیتا ہے ، اور (3)یا اُس کی اُس دُعاء  کے بدلے اُس پر آنے والے کوئی پریشانی ٹال دیتا ہے))))) مُسند احمد /حدیث11432،مُسند ابی سعید الخُدری رضی اللہ عنہ ُ میں سے حدیث 156 ،  امام الالبانی رحمہُ اللہ نے کہا ’’’حدیث حسن صحیح ‘‘‘ہے ، صحیح الترغیب والترھیب/ حدیث 1633،
پس میرے محترم بھائیوں ، اور محترمہ بہنوں ، ہم سب کو ہی چاہیے کہ ہم  اللہ تبارک و تعالیٰ کے فرامین ، اور اللہ کی وحی کے مُطابق اُس کے رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے فرامین کے مُطابق اپنی دُعاؤں کی قُبولیت کے ان نُسخوں پر عمل پیرا ہوتے ہوئے دُعاء  کیا کریں اور دُعاء کے نتائج سے بھی مایوس نہ ہوا کریں ۔
والسلام علیکم و رحمۃُ اللہ و برکاتہُ۔
طلب گارء دُعاء ،
عادِل سہیل ظفر ،
تاریخ کتابت : 11/06/1429ہجری، بمُطابق،15/09/2008عیسوئی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مضمون کا برقی نسخہ درج ذیل ربط پر میسر ہے :
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Thursday, March 1, 2018

::: اللہ ہماری تو سُنتا ہی نہیں ،دُعاء قُبول ، نہ قُبول ہونے کے اسباب :::


 

::: اللہ ہماری تو سُنتا ہی  نہیں ،دُعاء قُبول ، نہ قُبول ہونے کے اسباب :::

بِسمِ اللَّہِ الرِّحمٰنِ الرِّحیم

الحَمدُ لِلّہِ وَحدہُ الذی لا اِلہَ اِلاَّ ھُو ،  و لا أصدق مِنہ ُ قِیلا ،  و الَّذی أَرسلَ رَسولہُ بالھُدیٰ و تبیّن مَا ارادَ ، و الصَّلاۃُ و السَّلام عَلیَ مُحمدٍ عبد اللَّہ و رسولِ اللَّہ ، الَّذی لَم یَنطِق عَن الھَویٰ و الَّذی أمانۃ ربہِ قد اَدیٰ ،

شروع اللہ کے نام سے جو بہت ہی مہربان اور بہت رحم کرنے والا ہے ،

سچی اور خالص تعریف کا حق دار اللہ ہی ہے ، جس کے عِلاوہ کوئی بھی اور سچا اور حقیقی معبود نہیں ، اور جس سے بڑھ کر سچ کہنے والا کوئی نہیں ، اور جس نے اپنے رسول کو ہدایت کے ساتھ بھیجا اور وہ سب کچھ واضح فرما دیا جسے واضح کرنے کا اللہ نے ارداہ کیا ، اور سلامتی ہو اللہ کے بندے اور اللہ کے رسول محمد(صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم ) پر ، جو کہ اپنی خواہش کے مُطابق نہیں بات نہیں فرماتے تھے  ، اور جنہوں نے اپنے رب کی امانت مکمل طو رپر  دی،

السلامُ علیکم و رحمۃُ اللہ و برکاتہُ ،

اکثر لوگوں کی یہ شکایت سُننے میں آتی ہے کہ ’’’ اللہ ہماری  تو سُنتا ہی نہیں ‘‘‘ یہ بات کلمہ کفر ہے ، کیونکہ اللہ تعالیٰ کی ہمیشہ اور ہر بات ہر آواز سننے کی صفت کا اِنکار ہے ،

افسوس کہ لا علمی کی وجہ سے،  اور کبھی تعصب کی وجہ سے ہم اپنے اکیلے لا شریک معبودِ حق اللہ تقدس أسماوہ  کے ناموں اور صِفات کی ایسی ایسی تاویلیں کرتے ہیں کہ وہ ’’’تعطیل ::: یعنی اُس نام یا صِفت کو ختم ہی کر دینے والی ‘‘‘ ہوتی ہیں ، اور پھر اُن تاویلات کو دُرست ثابت کرنے کے لیے مزید تاویلات کی جاتی ہیں ، یہاں تک یہ سلسلہ لا متناہیت کی شکل اختیار کیے نظر آتا ہے ،

بے شک  اللہ ہی جِسے چاہتا ہے حق قُبُول کرنے کی ہمت و حوصلہ عطاء کرتا ہے ،

 شیطانی وساوس میں سے ایک وسوسہ ہمیشہ سے اِنسان کو گھیرے ہوئے ہے ﴿ وَإِذَا قِيلَ لَهُمُ اتَّبِعُوا مَا أَنْزَلَ اللَّهُ قَالُوا بَلْ نَتَّبِعُ مَا أَلْفَيْنَا عَلَيْهِ آبَاءَنَا أَوَلَوْ كَانَ آبَاؤُهُمْ لَا يَعْقِلُونَ شَيْئًا وَلَا يَهْتَدُونَ:::اور جب اُن سے کہا جاتا ہے کہ جو کچھ اللہ نے نازل کیا اُس کی پیروی کرو تو وہ کہتے ہیں ہم تو اُس کی پیروی کریں گے جِس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے اور چاہے اُن کے باپ دادا نہ کِسی بات کی سمجھ رکھتے ہوں اور نہ ہی ہدایت پائے ہوئے ہوں سُورت البقرۃ(2) /آیت 170،

آج ہم بھی اِسی قِسم کے جوابات دیتے ہیں ، کہ ، ہمارے عُلماء کا یہ کہنا ہے اور تُمہارے عُلماء کا یہ کہنا ہے ،

 لہذا ،   یہ جاننے اور سمجھنے کے لیے کہ اللہ تعالیٰ  اور اُس کے آخری نبی اور رسول کریم محمد  صلی اللہ علیہ وسلم کا کہنا کیا ہے ؟؟؟

ہم اپنے اپنے عُلماء کی تشریحات پر موقوف ہیں اور کبھی یہ جاننے کی کوشش نہیں کرتے کہ اللہ اور رسول اللہ محمد  صلی اللہ علیہ وسلم کے فرامین کا معنی   ٰ ، مفہوم اور مقصود خود اللہ کے کلام میں کیا ملتا ہے  ؟؟؟

اللہ کے رسول کریم محمد  صلی اللہ علیہ وسلم کے کلام اور عملی سُنّت میں کیا ملتا ہے؟ ؟؟

 اللہ تعالیٰ  کی طرف سے چنی گئی صحابہ رضی اللہ عنہم کی جماعت کے  اقوال و افعال میں کیا ملتا ہے ؟؟؟

ز ُبانی طور پر ہم خواہ کچھ بھی دعوے کرتے رہیں ، لیکن عملی طور پر  اِن سب سوالات کے لیے  ہمارا جواب وہی ہے کہ ﴿ بَلْ نَتَّبِعُ مَا أَلْفَيْنَا عَلَيْهِ آبَاءَنَا ، یعنی ، عملی طور پر ہم یہی کرتے ہیں کہ  ہمارے لیے ہمارے بزرگ اور  عُلماء اور تُمہارے لیے تُمہارے بزرگ اور  عُلماء ، اِنّا لِلَّہِ و اِنَّا إِلیہِ رَاجِعُون ،  إِلیہِ نَشتکی و ھُو المُستعان ،

ہم مُسلمانوں کو اللہ تعالیٰ کی توحید میں سے اللہ کے ناموں اور صِفات کی توحیدمیں سب سے زیادہ انحراف کا شِکار کیا گیا ہے اور اِس کا بڑا بنیادی  سبب فلسفہ اور عِلم الکلام وغیرہ کے اثر کو قران و سُنّت اور صحابہ رضی اللہ عنہم کے اقوال و افعال کی حُدود سے خارج ہو کر سمجھنا اور قُبُول  کرنا  ہے ، اور اپنی اپنی عقلوں کو کسوٹی بنانا ہے ،

 پس ہماری صفوں میں ایسے لوگ پائے گئے اور پائے جاتے ہیں جو اللہ کی صِفات کا اِنکار کرتے ہیں ، واضح طور پر نہیں تو عجیب و غریب غلط تاویلات کے ذریعے ، ایسی تاویلات  جو قران و صحیح سُنّت کے خِلاف ہیں ، اور اِن صِفات میں سے ایک کا اِنکار اِس طرح کیا جاتا ہے کہ ’’’’’ اللہ ہماری تو سُنتا ہی نہیں ‘‘‘‘‘

 اللہ سُبحانہُ و تعالیٰ نے اپنے کلام پاک میں چالیس دفعہ یہ خبر دی ہے کہ وہ  ’’’’’ سمیع ‘‘‘‘‘ یعنی سننے والا ہے ،

اور صرف ’’’’’ سمیع ‘‘‘‘‘ ہی نہیں ، بلکہ ، ’’’’’ سمیعٌ بصیرٌ ::: سُننے والا دیکھنے والا ، یعنی سب کچھ دیکھ بھی رہا ہے اور سُن بھی رہا ہے ‘‘‘‘‘ ،

’’’’’ سمیعٌ عَلِیمٌ ::: یعنی سب کچھ سنتا بھی ہے اور جو کچھ کہا جاتا ہے، اور  کیوں کہا جاتا ہے ، اور جو کچھ نہیں کہا جاتا دِلوں اور دِماغوں میں رہتا ہے وہ  سب ہی کچھ جانتا ہے ‘‘‘‘‘ ،

  اور’’’’’ سمیعٌ قَرِیبٌ ::: سُننے والا اور بہت نزدیک ہے ‘‘‘‘‘  ،

اور  ’’’’’ سمیعُ الدُّعاء ::: دُعاء سُننے والا ہے ‘‘‘‘‘ ،

 یعنی جب اللہ تعالیٰ کو  اُس کے ناموں میں سے کِسی نام کے ساتھ پُکارا جاتا ہے ، دُعاء کی جاتی ہے تو اللہ یقینا وہ دُعاء سنتا ہے ،( یہاں یہ معاملہ بھی خُوب اچھی طرح سے سمجھ کر یاد رکھنے والا کہ ،   اگر کِسی اور نام سے اللہ کو پکارا جائے تو وہ اُس  پکار، اُس دُعاء کو  بھی سنتا ہے لیکن اُس دُعاء کی قُبُولیت نہیں ہوتی، لہذا کِسی مَن گھڑت خود ساختہ جھوٹے باطل معبود کو، جیسا کہ ’’’ خُدا ‘‘‘ ہے ،  ایسے باطل معبود سے کی گئی دُعاء ، اللہ کو ایسے نام سے پُکار کر کی گئی دُعاء جو نام اللہ تعالیٰ کے ناموں میں  نہیں ، اللہ  ایسی دُعاء بھی سُنتا ہے ، لیکن اُس دُعاء کو  اپنی رضا کے ساتھ قُبول نہیں کرتا، جی، یہ عین ممکن ہے اللہ تعالیٰ کِسی ایسی پُکار ، ایسی دُعاء کرنے والے کا وہ کام پُورا کروا دے جس کا اُس شخص نے سوال کیا ہو، لیکن یہ اللہ کی رضا کے ساتھ نہیں ہوتا ، یہ کچھ ایسا ہی جیسا کہ کوئی غیر مُسلم اپنے کِسی باطل معبود سے دُعاء کرتا ہے اور اُس کا وہ کام پورا ہو جاتا ہے ، بے شک وہ کام ہوتا تو اللہ کی مشئیت سے ہی ہے، لیکن اُس شخص کی باطل معبود سے کی گئی دُعاء  کی تکمیل میں اللہ کی رضا شامل نہیں ہوتی، کیونکہ کِسی باطل معبود کو پُکارنا ، کِسی باطل معبود کا نام اللہ کو دے کر اُس نام سے اللہ کو پُکارنا ، اللہ سے دُعاء کرنا یہ اللہ تعالیٰ کے حکم کی خِلاف ورزی ہے لہذا اِس میں اللہ کی رضا کا شامل ہونا ممکن نہیں ، اِس موضوع کو سمجھنے کے لیے میرے مضمون ’’’ اللہ نہیں خُدا ‘‘‘ کا مطالعہ فرمایے ، اِن شاء اللہ مسئلہ وضاحت سے سمجھ میں آجائے گا ، اور اِن شاء اللہ خیرکا سبب ہو گا ،

یہ مضمون درج ذیل ربط پر مُسیر ہے : http://bit.ly/1pRDuWN      ‘‘‘‘‘ ،

محترم سامعین ، خُوب اچھی طرح سے سمجھ لیجیے کہ ،  اللہ تعالیٰ کی ذات ، ناموں اور صِفات کے بارے میں کوئی ایسی بات کرنا جو اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کِسی فرمان کے خِلاف ہو ، نا جائز ہے ، خواہ کہنے والا کا مقصد کچھ بھی ، بات ذو معنی  ٰ  نہیں ہونی چاہیے ، صاف صاف واضح بات کی جانی چاہیے ، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حُکم دِیا ہے کہ ﴿ إذا قُمتَ فی صَلَاتِکَ فَصَلِّ صَلَاۃَ مُوَدِّعٍ ولا تَکَلَّم بِکَلَامٍ تَعتَذِرُ مِنہ ُ غَداً ، وَأَجمِع الیَأسَ عَمَّا فی أَیدِی النَّاسِ ::: جب تُم نماز میں کھڑے ہو تو اِس طرح نماز پڑہو گویا کہ وہ تُمہاری آخری نماز ہے اور ایسی بات مت کرو جِس کی وجہ سے کل کو (لوگوں کے سامنے )عُذرپیش کرنے پڑیں (کہ میرے کہنے کا مقصد یا مطلب یہ تھا ، وہ تھا وغیرہ )، اور جو کچھ لوگوں کے ہاتھوں میں ہے اُس (حاصل کرنے )سے مایوسی اختیار کیے رکھومُسند احمد /حدیث 23545/ حدیث ابی ایوب الانصاری رضی اللہ عنہ ُ  کی پہلی حدیث ،سُنن اِبن ماجہ /حدیث4171/کتاب الزھد /باب 15،سلسلۃ الاحادیث الصحیحۃ/حدیث401،

لہذا ہمیں اپنی پر بات ہر ممکن حد تک اتنی صاف اور واضح رکھنی چاہیے کہ سننے پڑہنے والوں کو بالکل وہی معنی  ٰ و مفہوم سمجھ آ جائے جو ہم نے کہا ، نہ کہ ایسی بات کہ جِس کی تشریح اور مفہوم کی بعد میں وضاحت کرنی پڑے اور اُس کے منفی پہلوؤں اور مفاہیم پر معذرت کرنا پڑے ،  کہ جی  نہیں ، ہم خُدا سے مُراد اللہ لیتے ہیں ، ہم خدا کو ،یا یزداں کو پکارتے ہیں تو اُس سے مُراد اللہ کی ذات ہوتی ہے ، یا ،،یہ کہ خُدا تو اللہ کے نام کا ترجمہ  ہے ،، وغیرہ وغیرہ، 

اِن سب تاویلات و تشریحات میں داخل ہونے کے سبب کو ہی ختم کیجیے ، اور اللہ تعالیٰ کو اُس کے اُن ناموں سے ہی پکاریے ،  جو نام اُس نے اپنے لیے بتائے ہیں ،یا اپنے آخری رسول اور نبی کریم محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی ز ُبان مُبارک سے ادا کروائے ہیں،

اللہ تعالیٰ ہم سب کو اُس کی  توحید سمجھنے ، اُسے ماننے ، اپنانے ، کی توفیق عطاء فرمائے ،

 اپنی اِس رواں  گفتگو کے موضوع کی طرف واپس آتے  ہیں ،

اور اللہ جلّ جلالہ ُ کے کچھ فرامین مُبارکہ پڑھتے اور سمجھتے ہیں ، اِن شاء اللہ ،

اللہ سُبحانہ ُ و تعالیٰ نے  اِرشاد فرمایا ہے کہ ﴿ سَوَاءٌ مِّنكُم مَّنْ أَسَرَّ الْقَوْلَ وَمَن جَهَرَ بِهِ وَمَنْ هُوَ مُسْتَخْفٍ بِاللَّيْلِ وَسَارِبٌ بِالنَّهَارِ::: کوئی تم میں سے چپکے سے بات کہے یا پکار کر یا رات کو کہیں چھپ جائے یا دِن کی روشنی میں کھلم کھلا چلے پھرے (اللہ تعالی کے لیے سب ہی کیفیات) برابر ہیں سورت الرعد(13)/آیت10،

اور اِرشاد فرمایا ہے کہ  ﴿ قَدْ سَمِعَ اللَّهُ قَوْلَ الَّتِي تُجَادِلُكَ فِي زَوْجِهَا وَتَشْتَكِي إِلَى اللَّهِ وَاللَّهُ يَسْمَعُ تَحَاوُرَكُمَا::: یقیناً اللہ نے اُس عورت کی بات سُن لی ہے جو اپنے خاوند کی شکایت کرتے ہوئے آپ کے ساتھ  جھگڑے جیسی گفتگو  کر رہی تھی ، اور اللہ سے شکوہ کر رہی تھی، اور اللہ تم دونوں کی گفتگو سن رہا تھا سورت المجادلۃ(58)/آیت1،

الحمد للہ، ہم نے  اللہ پاک کے کلام کے ذریعے ہی یہ جان لیا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ، سمیعٌ بصیرٌ ہے ،اور سمیعٌ عَلِیمٌ   ہے ،اور سمیعٌ قَرِیبٌ   ہے ،  اور سمیعٌ الدُّعاء   ہے ، 

لہذا  یہ کہنا کہ’’’ اللہ ہماری تو سُنتا نہیں ‘‘‘  اللہ تبارک و تعالی کی ایک ایسی صِفت کا اِنکار ہے جِس صِفت کے دائمی طور پر موجود اور فعال ہونے میں کِسی ادنی   ٰ سے شک کی بھی کوئی گنجائش نہیں ،

’’’ اللہ ہماری تو سُنتا نہیں ‘‘‘ کہنے والے ایک تاویل کو صحیح ثابت کرنے کے لیے ایک اور تاویل کرتے ہوئے ، اپنی اِس بات کا سبب یہ بتاتے ہیں کہ ’’’ اُنکی دُعائیں قُبُول نہیں ہوتیں ‘‘‘،

 ایسا کہنے والے ہمارے مُسلمان بھائی اور بہنیں نہ تو پہلی بات کا خطر ناک انجام جانتے ہیں اور نہ ہی اپنی اُس بات کی اِس تاویل کاسبب ، کہ کیوں کِسی کی دُعا قُبُول نہیں ہوتی ،   

اِس معاملہ کو سمجھنے کے لیے ، ہمیں یہ جاننا ہو گا کہ ،دُعاء کی قُبولیت کے کیا  أسباب  ہیں  ؟؟؟

اور ،

دُعاء قُبول نہ ہونے کے کیا أسباب ہیں ؟؟؟

تا کہ ہم اپنی دُعاؤں کی حقیقت پہچان سکیں ، اور اللہ تبارک و تعالیٰ کی کِسی صِفت کے انکار پر مبنی کوئی کفریہ بات کہنے کی بجائے  اپنی کمی کو دُور کر سکیں ،

اگر میں اِن اسباب کو تفصیل سے بیان کروں تو بات بہت طویل ہو جائے گی ، لہذا میں مختصر طور پر اِن کا ذِکر کروں گا اِن شاء اللہ،

::: دُعاء کی قُبُولیت کے دو  أہم بُنیادی أسباب :::

::::: (1) :::::   اللہ تبارک و تعالیٰ   سے قُبُولیت  کے  مکمل یقین  کے ساتھ دُعاء کی جائے  ،

::::: (2)  :::::  اللہ عزّ و جلّ کی  طرف مکمل توجہ سے ، دِل و دماغ کی حاضری کے ساتھ دُعاء کی جائے ،

:::::  دلیل  ::::: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے اِرشاد فرمایا ہے کہ ﴿ ادْعُوا اللَّهَ وَأَنْتُمْ مُوقِنُونَ بِالإِجَابَةِ وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ لاَ يَسْتَجِيبُ دُعَاءً مِنْ قَلْبٍ غَافِلٍ لاَهٍ::: اللہ سے  قُبُو لیت کے مکمل یقین کے ساتھ دُعاء کرو، اور  جان لو کہ اللہ  غافل اور بے توجہ  دِل  سے (کی گئی ) دُعاء قُبُول نہیں فرماتا سُنن الترمذی /حدیث /3814کتاب الدعوات/باب 66،إِمام البانی رحمہُ اللہ نے "حَسن " قرار دِیا ،تفصیل کے لیے دیکھیے ، سلسلۃ الاحادیث الصحیحۃ /حدیث رقم 594،

دِل کی بے توجہی ، اور غفلت کا بنیادی  سبب  گناہ  ہیں ، اور اللہ سُبحانہ ُ و تعالٰی کی ذات شریف ، اور  صِفات مُبارکہ کے عِلم نہ ہونا، یا ، ٹھیک سے عِلم نہ ہونا، یا ، اُن پر مکمل یقین نہ ہونا ہے ،

الحمد للہ ، اِس موضوع کو ’’’ اللہ  کے ہاں دُعاء کی قُبولیت کے    نُسخہ جات  ‘‘‘  میں الگ سے بیان کیا  گیا ہے، جو درج ذیل ربط پر مُیسر ہے :

http://bit.ly/2Gy2XTd    

::: دُعاء کی قُبولیت کی ایک  اہم شرط :::

دُعاء کی قُبُولیت کے لیے کچھ شرطیں ہیں ، آئیے اُن میں ایک اہم ترین شرط کے بارے میں بنیادی معلومات حاصل کرتے ہیں  ، اور وہ شرط ہے ’’’ حلال رِزق ‘‘‘ ،

جی ہاں ’’’ حلال رِزق ‘‘‘ ، جِس کے بارے میں آج مُسلمانوں کی اکثریت غفلت اور کوتاہی کا بُری طرح شِکار ہے ،

 یاد رکھیے کہ ’’’ رِزق ‘‘‘   صِرف مال و دولت ہی نہیں، بلکہ اِنسان کو جو کچھ بھی ملتا ہے ، جو کچھ بھی وہ حاصل کرتا ہے وہ سب اُس کا رِزق ہو تا ہے ، اور مُسلمان اِس بات کا پابند ہے کہ وہ اپنی ہر ممکنہ کوشش کر کے صِرف حلال چیزیں حاصل کرے ،  اور اپنے معاملات کو حلال    طور طریقوں پر رہتے ہوئے مکمل کرے ،

اگر کِسی کی اپنی کمائی تو حلال ہو ، لیکن اُس  حلال کمائی سے وہ حرام خوراک اور لباس اِستعمال کرتا ہو ، تو یہ حرام خورا ک جو اُس کے جِسم کا حصہ بن  جاتی ہے ، اور  حرام لباس  جو اُس کے جِسم پر چڑھا ہوتا ہے  ، اور لوگوں کے حقوق جو  وہ غصب کیے ہوتا ہے ، اِن سب کی موجودگی میں دُعا ء کے لیے  قُبُولیت کے دروازےنہیں کُھلتے ،

:::::  دلیل  ::::: ابو ہُریرہ رضی اللہ عنہ ُ  سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ﴿ أَیُّہَا الناس إِنَّ اللَّہَ طَیِّبٌ لَا یَقبَلُ إلا طَیِّبًا وَإِنَّ اللَّہَ أَمَرَ المُؤمِنِینَ بِمَا أَمَرَ بِہِ المُرسَلِینَ فقال ﴿  یا أَیُّہَا الرُّسُلُ کُلُوا من الطَّیِّبَاتِ وَاعمَلُوا صَالِحًا إنی بِمَا تَعمَلُونَ عَلِیمٌ وقال ﴿  یا أَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا کُلُوا من طَیِّبَاتِ ما رَزَقنَاکُم ثُمَّ ذَکَرَ ﴿  الرَّجُلَ  یُطِیلُ السَّفَرَ أَشعَثَ أَغبَرَ یَمُدُّ یَدَیہِ إلی السَّمَاء ِ یا رَبِّ یا رَبِّ وَمَطعَمُہُ حَرَامٌ وَمَشرَبُہُ حَرَامٌ وَمَلبَسُہُ حَرَامٌ وَغُذِیَ بِالحَرَامِ فَأَنَّی یُستَجَابُ لِذَلِکَ ::: اے لوگو بے شک اللہ تعالیٰ پاک ہے اور پاک (چیز ، عمل و قول ) کے عِلاوہ کچھ قُبُول نہیں کرتا ، اور بے شک اللہ نے اِیمان والوں کو وہی حُکم دِیا ہے جو رسولوں کو دِیا اور فرمایا ﴿ اے رسولو  ، پاک چیزوں میں سے کھاؤ اور نیک عمل کرو بے شک تم جو کچھ کرتے ہو میں اُس کی خوب خبر رکھتا ہوں اور فرمایا ﴿ اے اِیمان لانے والو ہم نے جو پاک رزق تمہیں دِیا ہے اُس میں سے کھاؤ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کا ذِکر کہ کہ ،  وہ بہت لمبا سفر کرتا ہے جِس میں اُسکے سر اور پاؤں مٹی سے بھر جاتے ہیں اور اپنے دونوں ہاتھ آسمان کی طرف بُلند کر کے پُکارتا ہے اے میرے رب ، اے میرے رب ، لیکن اُسکا کھانا حرام (میں سے ) ہوتا ہے ، اور اُسکا پینا حرام (میں سے ) ہوتا ہے ، اور اُسکا لباس حرام (میں سے ) ہوتا ہے ، اور وہ حرام سے پلا ہوا ہوتا ہے تو بھلا اِسکی دُعا کیسے قُبُول ہو گی صحیح مُسلم/حدیث 1015 /کتاب الزکاۃ /باب 19،

حرام کمائی کا ذِکر ہوا ہے تو مختصر طور پر کچھ ایسے حرام ذرائع معاش(کمائی کے طریقوں ) کا ذِکر کرتا چلوں جنہیں ہماری اکثریت  اپنے رب  اللہ جلّ وعُلا   کے    دِین سے دُوری کے سبب جائز سمجھتی ہے جو کہ حرام ہیں ، اور اُن ذرائع سے کماتے ہیں اور کھاتے ہیں اور کِھلاتے ہیں ، پلتے ہیں اور پالتے ہیں ،بلکہ بسا اوقات تو اچھے خاصے نمازی اور دِینی حلیے اور دِینی مشغولیات والے بھائی بہنیں بھی اِنکے ذریعے کمائی کرتے ہوئے دِکھائی دیتے ہیں ، جب کمائی ایسی ہو گی تو ، پھر دُعائیں بھلا کیونکر  قُبُول ہوں گی  ؟؟؟

:::  (1) :::  تصویروں والی کتابیں ، رسالے وغیرہ کی خرید و فروخت ، جبکہ عُلماء کی طرف سے یہ بات کافی وضاحت سے بیان  کی جاتی ہے کہ بلا ضرورت تصویر بنانا و بنوانا حرام ہے ، اور ایسی کتابوں اور رسالوں وغیرہ کی خرید و فروخت جِنکی ضرورت نہیں اور جِن کو استعمال کرنا مجبوری نہیں ، خاص طور پر جِن میں ایسی تصویریں ہوں جو گُناہ کی طرف مائل کرنے اور گناہ کر گذرنے کا سبب ہوتی ہیں ، ایسی کتابوں ، رسالوں اخباروں وغیرہ کی خرید و فروخت حرام ہے ، اور ظاہر ہے اِس حرام کمائی پر پلنے والے کی دُعا کیسے قُبُول ہو سکتی ہے ؟؟؟

:::  (2) ::: موسیقی  کے آلات اور موسیقی نشر کرنے کے اسباب ، جیسا کہ موسیقی والی کیسٹس ، سی ڈیز ، وغیرہ کی خرید و فروخت ، خواہ اُن پراِسلامی  ہونے کا لیبل ہی لگا ہو ،

موسیقی کے حرام ہونے میں بھی کوئی شک نہیں اور اِس موضوع پر ایک تفصیلی مضمون جمادی الاول 1428میں شائع ہو چکا ہے ،

:::  (3) :::  سگریٹ اور تمباکو کی خرید و فروخت ، تمباکو نوشی ،  کی کئی صُورتیں ہیں ، جِن میں سے سب سے زیادہ عام سگریٹ نوشی ہے ، سگریٹ ایسی چیز ہے جِس کے اِستعمال میں چار حرام کام اکھٹے ہوتے ہیں ،

:::   (1) :::   اپنی جان کو ہلاکت میں ڈالنا ،

جبکہ  اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے ﴿ وَأَنفِقُوا فِی سَبِیلِ اللّہِ وَلاَ تُلقُوا بِأَیْدِیکُم إِلَی التَّہلُکَۃِ وَأَحسِنُوَا إِنَّ اللّہَ یُحِبُّ المُحسِنِینَ:::  اور اللہ کی راہ میں خرچ کرو اورخود کو ہلاکت میں مت ڈالو اور اچھے کام کرو بے شک اللہ تعالیٰ اچھائی کرنے والوں کو پسند کرتا ہے سورت البقرۃ (2)  /آیت 195 ،

پس اِس مذکورہ بالا آیت شریفہ کی روشنی میں سگریٹ نوشی کرنے والے ایک  حرام کام، یعنی اپنی جان کو ھلکات میں ڈالنے کا  شکار ہوتے ہیں ،

:::  (2) :::   یہ بات تو تقریبا ہر شخص ہی جانتا ہے کہ سگریٹ نوشی میں اِنسان کی جان اور مال  کی ہلاکت ہی ہلاکت ہے ایک معمولی سا بھی فائدہ یا صحت مندی نہیں ، اور ایسے کام میں خرچ کرنا جِس میں کوئی فائدہ نہیں ، نہ دِینی نہ دُنیاوی ، اللہ کی راہ میں خرچ کرنا ہر گِز نہیں ، بلکہ اللہ کے حُکم میں کے خِلاف خرچ کرنا اللہ اور اِیمان والوں کے دُشمن شیطان کی راہ میں خرچ کرنا ہے ، اور ہر وہ کام جو اللہ تبارک و تعالیٰ کے  حُکم کے خِلاف ہے حرام ہے ،

اللہ سُبحانہُ و تعالیٰ کا فرمان ہے ﴿ إِنَّ المُبَذِّرِینَ کَانُوا إِخوَانَ الشَّیَاطِینِ وَکَانَ الشَّیطَانُ لِرَبِّہِ کَفُوراً  :::  بے شک فضول خرچی کرنے والے شیطان کے بھائی ہیں اور بے شک شیطان اپنے رب کا کفر کرنے والا ہے سُورت بنی اِسرائیل (الاِسراء ) /آیت 27،

یعنی فضول کرچی کرنا شیطان کے سیکھائے ہوئے کاموں میں سے ہے اور ایسا کرنے والے اُس کے بھائی ہیں کیونکہ وہ اُس کی بات پر عمل کرتے ہیں ، اور جِس طرح شیطان اپنے رب کا کفر کرتا ہے یعنی نافرمانی کرتا ہے اُسی طرح اُس کی بات پر عمل کرنے والے بھی اپنے رب کی نافرمانی کرتے ہیں ، اور سگریٹ نوشی میں خرچ کرنا ، سراسر فضول خرچی ہے کیونکہ یہ ایسا کام ہے جِسکی اِنسان کو قطعاً کوئی ضرورت نہیں ، صدیوں سے اِنسان اِس کے بغیر رہتے چلے آئے ہیں ، اور اب بھی کڑوڑوں اِنسان اِس کے بغیر اپنی زندگی بغیر کِسی کمی اور نقص کے مکمل طور پر بسر کر رہے ہیں ، لیکن جِن پر شیطان کا داؤ چل جاتا ہے وہ اُس کے وساوس کا شِکار ہو جاتے ہیں اور یہ فضول خرچی کرنے لگتے ہیں ، اللہ کی نافرمانی جو سراسر حرام کام ہے ،اُس  کا شکار ہو کر اللہ کے ہاں شیطان کے بھائی ہو جاتے ہیں ،

:::  (3) :::  اپنے اِرد گِرد مُسلمانوں ، اور دیگر اِنسانوں کوجانی نقصان ، اور،

 :::  (4) :::   ذہنی و نفسیاتی اذیت اور دُکھ پہنچانا ،

جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ ُ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے ﴿ مَن أَکَلَ ثُومًا أو بَصَلًا فَلیَعتَزِلنَا أو قَالَ فَلیَعتَزِل مَسجِدَنَا وَلیَقعُد فی بَیتِہِ ::: جِس نے ثوم (لہسن) یا پیاز کھایا ہو وہ ہم سے دُور رہے یا فرمایا وہ ہماری مسجد سے دُور رہے اور اپنے گھر میں ہی بیٹھا رہے صحیح البُخاری /حدیث 817 /کتاب صفۃ الصلاۃ /باب 76 ، صحیح مسلم /حدیث 567/ کتاب المساجد و مواضعیھا /باب 17،

دیکھیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ  و علی آلہ وسلم ، دُوسروں کو تکلیف و اذیت سے بچانے کیلیے حلال چیز کھا کر بھی  دُوسروں سے اور خاص طور پر ایسی جگہ سے دُور رہنے کا حُکم دے رہے ہیں جہاں زیادہ لوگوں کا اجتماع ہوتا ہے ، تو پھر ایسی چیز کا کیا حال ہے جو بذاتِ خود حرام ہو ، کیونکہ وہ ہلاکت کا سبب ہے ، اور دُوسروں کو اُس کی بدبو اور اُس کے دیگر خطرناک اثرات پینے والے کی طرح ہی نُقصان پہنچاتے ہیں ، ڈاکٹرز کی تحقیق میں یہ ثابت ہوچکا کہ سگریٹ نوش کے ارد گِرد والے اُس کی سگریٹ نوشی کی وجہ سے اُس کی نسبت زیادہ نُقصان اُٹھاتے ہیں، اِس طرح یہ سگریٹ نوش اپنی جان کو ہلاکت میں ڈالنے کے ساتھ دُوسروں کی جان کو بھی نقصان پہنچاتا ہے اور بدبو کی وجہ سے نفسیاتی اذیت کا باعث بھی بنتا ہے ، اور مزید دو حرام کاموں کا شِکار ہو جاتا ہے،

یہاں تک کی بات سے یہ واضح ہوا کہ سگریٹ نوشی ایک ایسا کام ہے جِس کو کرنے والا چار حرام کاموں کا شکار ہو جاتا ہے ، اور سگریٹ بیچنے والے ، سگریٹ پینے والوں کے لیے اِن حرام کاموں کا شکار ہونے کا بنیادی سبب ہوتے ہیں ، کیونکہ بیچنے والے ہی وہ ہیں جو پینے والوں کو اِن حرام کاموں کا شکار بننے کا ذریعہ بنتے ہیں،

اب ذرا غور کیجیے  تو پتہ چل جاتا ہے کہ جو کچھ وہ اِس تجارت میں کماتے ہیں حرام ہوتا ہے ، جب کمائی اور اُس کمائی پر پرورش شدہ جِسم و جان حرام ہو گی تو پھر دُعاء کیسے قُبُول ہو گی ؟؟؟

::: آخر میں دُعاء کے کچھ بنیادی آداب بھی ذِکر کرتا چلوں :::

:::::  اللہ تعالٰی کی حمد و ثناء کے ساتھ دُعاء کا آغاز کیا جائے ،

:::::   دُعاء کا آغاز اور اختتام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم پر صلاۃ (دُرُود) کے ساتھ کیا جائے ،

:::::   اپنے گناہوں ، غلطیوں اور کوتاہیوں کا اعتراف کیا جائے ،

:::::   اللہ سُبحانہُ و تعالیٰ کی عطاء کردہ نعمتوں کا اعتراف کیا جائے ، اور اُن پر اللہ کا شُکر ادا کیا جائے ،

:::::   دونوں ہاتھ اُٹھا کر دُعاء کی جائے ،

دُعاء کے بعد چہرے پر ہاتھ پھیرنا خِلاف سُنّت ہے ، اور نہ ہی دُعاء کا حصہ  ہے ، الحمد للہ  اِس مسئلے کی تحقیق  الگ مضمون کی صُورت میں پیش کی جا چکی ہے،

اللہ تبارک وتعالیٰ ہم سب کو توفیق عطاء فرمائے کہ ہم اُس کی اور اُس کے رسول کریم محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی مقرر کردہ حُدود میں رہتے ہوئے اپنی زندگیوں کے معاملات نمٹائیں ، حلال رزق کمائیں اور اُن میں سے بن سکیں جِن کی دُعائیں قُبول ہوتی ہیں ،

والسلام علیکم ورحمۃُ اللہ و برکاتہ،

طلب گارء دُعاء ،  

عادِل سُہیل ظفر ۔

تاریخ کتابت : 23/09/1429ہجری، بمُطابق، 23/09/2008 عیسوئی ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

برقی کتابی نُسخہ (PDF) :

http://bit.ly/2oGUtk9 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

یو ٹیوب (MP4) :

 https://youtu.be/Vtw1pz7VaRg 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔