صفحات

Thursday, November 27, 2014

۝ ۝ ۝ قران کریم میں بیان کردہ قواعد (اصول ، قوانین)،،،،،پانچواں قاعدہ 5 ۝ ۝ ۝


۝ ۝ ۝ قران کریم میں بیان کردہ قواعد (اصول ، قوانین)،،،،،پانچواں قاعدہ  5  ۝ ۝ ۝  
                        بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ                
أَعُوذُ بِاللَّهِ السَّمِيعِ الْعَلِيمِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ مِنْ هَمْزِهِ وَنَفْخِهِ وَنَفْثِهِ
و الصَّلاۃُ والسَّلامُ عَلیٰ رَسولہ ِ الکریم مُحمدٍ و عَلیَ آلہِ وَأصحابہِ وَأزواجِہِ وَ مَن تَبِعَھُم بِاِحسانٍ إِلٰی یَومِ الدِین ، أما بَعد :::
اللہ تبارک و تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے ﴿ وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيبٌ أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ فَلْيَسْتَجِيبُوا لِي وَلْيُؤْمِنُوا بِي لَعَلَّهُمْ يَرْشُدُونَ::: اور اگر میرے بندے آپ سے میرے بارے میں سوال کریں تو ، یقیناً میں قریب ہوں ،جب کوئی پکارنے والا(صِرف ) مجھے پکارتا ہے تو میں اُس کی پکار کا جواب دیتا ہوں (یعنی قبول کرتا ہوں)،لہذا یہ (انسان)ضرور میری پُکار قبول کریں ، اور ضرور مجھ پر اِیمان لائیں ، تاکہ وہ ہدایت پائے ہوئے ہو سکیں سُورت البقرہ (2)/آیت 186،
اللہ تبارک و تعالیٰ کا یہ مذکورہ بالا فرمان  ہمارے موضوع "قران میں بیان کردہ  قواعد(اصول ، قوانین)"میں  پانچویں قانون کے طور پر بیان کیا جارہا ہے ،
اللہ جلّ و  عُلا کے اِس مذکورہ بالا فرمان شریف میں بہت سے مسائل و معاملات بیان فرمائے ہیں ،
:::::: (1) :::::: ایک عظیم عِبادت کے بارے میں ایک عظیم قاعدہ ، قانون بیان فرمایا ہے ، جو اِس آیت شریفہ میں بیان کردہ مختلف مسائل و معاملات میں سے سب سے أہم ترین ہے ،
اور وہ عظیم عِبادت ہے دُعاء کرنا ، اور وہ قاعدہ یہ ہے کہ جب دُعاء کی جائے تو براہ راست اللہ تعالیٰ سے ہی کی جائے ،  کیونکہ جو دُعاء براہ راست اللہ تبارک و تعالیٰ سے کی جا تی ہے ، اللہ جلّ  جلالہُ، وہ  دُعاء قُبول فرماتا ہے ،
یہاں سے آگے چلنے سے پہلے ، اور اِس عظیم قاعدے ، قانون کو سمجھنے کے لیے ، اللہ سُبحانہُ و تعالیٰ کے اِس فرمان میں تدبر کرنے کے لیے ہمیں قران کریم میں اللہ تعالیٰ کے کلام کے اسلوب میں سے ایک اہم انداز کو سمجھنا ضروری ہے ،
اور وہ یہ ہے کہ قران کریم میں چودہ(14)آیات مُبارکہ میں ، لوگوں کے اُن پندرہ(15)سوالات کے جوابات نازل فرمائے گئے ہیں جو سوالات لوگوں نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم سے کیے ، تو اللہ تعالیٰ نے ہر سوال کا جواب عطاء فرماتے ہوئے اپنے خلیل محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کو ہی یہ حکم فرمایا کہ """قُل""" یعنی """آپ فرما دیجیے """، یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ کا نازل فرمودہ جواب لوگوں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم بطور جواب سنائیں ،
اِن  پندرہ(15) میں سے صِرف ایک مُقام ایسا ہے جِس میں لفظ """ قُل """ کی بجائے """ فقُل """اِرشاد فرمایا گیا ہے ،
اور ایک مُقام ایسا ہے جس میں صِرف سوال کا ذِکر فرمایا گیا ہے ، لیکن جواب عنایت نہیں فرمایا گیا ،  
اور  سب ہی سوالات میں سے ،  صِرف یہ ، آج کے درس میں زیر مطالعہ آیت شریفہ میں ذِکر کیا گیا سوال ، ہی ایک ایسا سوال ہے ، جِس  کے کیے جانے کی صُورت میں ، اُس کا جواب عطاء فرماتےہوئے ، اللہ تبارک وتعالیٰ نے اپنے رسول کریم محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی ذات شریف کو بھی اپنے اور اپنی مخلوق کے درمیان بطور واسطہ ، اور وسیلہ نہیں رکھا ، اور براہ راست""" آپ فرما دیجیے """ کا حکم دیے بغیر خود ہی جواب اِرشاد فرمایا ،
غور فرمایے ، اور اچھی طرح سے سمجھیے محترم قارئین ، کہ ہمارے رب اللہ جلّ جلالہُ کے اِس فرمان شریف میں ، اِس انداز ءکلام میں یہ عظیم قاعدہ اور قانون  بیان ہے کہ""" دُعاء صِرف اور صِرف  براہ راست اللہ تبارک و تعالیٰ سے ہی کیے جانا ،  جائز ہے ، اُس کے عِلاوہ کسی اور سے دُعاء کرنا ،اپنے اللہ سے  دُعاءکرنے کے لیے اپنے اور اپنے اللہ کے درمیان ، کسی واسطے یا وسیلےکو شامل کرنا جائز نہیں """،
جی ہاں ، اپنے کسی نیک عمل کو ، اللہ تبارک و تعالیٰ کی کسی صِفت کو ، اُس کے کسی نام کو ، دُعاء میں واسطہ بنانا اِس قاعدے سے مشتثنیٰ ہے اور اِسی طرح کسی نیک اور صالح لیکن زندہ مُسلمان سے اپنے لیے دُعاء کروانا ایک الگ معاملہ ہے ،
مذکورہ بالا آیت شریفہ میں بیان فرمودہ قاعدے قانون کو سمجھتے ہوئے اِن دو معاملات کو اُس کے ساتھ گڈ مڈ نہ ہونےدِیا جائے ، ورنہ بات سمجھ آنے کی بجائے الجھ جاتی ہے ،
:::::: (2) ::::::    
اللہ جلّ و عُلا نے صِرف اُسی سے دُعاء کرنے والوں کے لیے اپنی بے پناہ شفقت اور توجہ کی خوشخبری عطاء فرمائی ، اور اُنہیں     ﴿ عِبَادِي ::: میرے بندےقرار دے کر اُن کا ذِکر فرمایا ،
سُبحان اللہ، اپنے رب اللہ تبارک و تعالیٰ سے دُعاء کرنے والوں ، اور اُس کی رحمت کے در پر گڑگڑانے والوں کے لیے اِس   انداز ء فرمان ﴿  عِبَادِي میں کس قدر عظیم دعوت اور خوشخبری ہے ،  
:::::: (3) ::::::   
پھر اللہ سُبحانہ ُ و تعالیٰ نے اپنے اُن بندوں کے لیے جو کہ صِرف اور براہ راست اُسی سے دُعا کرتے ہیں ، کسی دوسرے کو واسطہ وسیلہ نہیں بناتے ، اپنے اُن بندوں کے لیے خوش خبریوں میں اضافہ فرماتے ہوئے ایک اور عالی شان ، دِل و رُوح کو سرشار کر دینے والی یہ خوش خبری عطاء فرمائی کہ﴿  فَإِنِّي قَرِيبٌ  ::: تو یقیناً میں قریب ہوں ،
یہ ایسی خوش خبری جِس سے ملنے والے احساسات و جذبات کو سچے إِیمان والا دِل ہی سمجھ سکتا ہے ، اِنہیں اِلفاظ کے جامے پہنانا ممکن نہیں ، یا یہ کہنا چاہیے کہ میرے لیے اُن احساسات و جذبات کو اِلفاظ میں بیان کرنا ممکن نہیں ،
:::::: (4) ::::::   
اِس کے بعد اللہ مولا عزّ و جلّ نے صِرف اور براہ راست اُسی سے دُعا سے کرنے والے اپنے بندوں کے لیے خوش خبریوں میں مزید اضافہ فرماتے ہوئے  اِرشاد فرمایا ﴿ أُجِيبُ:::تو میں پکار کا جواب دیتا ہوں (یعنی قبول کرتا ہوں)،
اللہ تعالیٰ کے اِس فرمان مُبارک میں ہمیں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ کسی کی دُعاء قُبُول کرنا صِرف اللہ تبارک و تعالیٰ کی ہی شان ہے ،
اللہ تعالیٰ نے کسی کو کتنی ہی قوت اور قُدرت عطاء کی ہو وہ اِس قابل نہیں ہوتا کہ وہ کسی کی دُعاء قُبول کر سکے ، یا اللہ کے ہاں کسی کی دُعاء قُبول کروا سکے ، کیونکہ وہ کچھ بھی ہو ، ایک عاجز مخلوق ہے ، اُس کو ملی ہوئی قوت اور قُدرت محدود ہے ، بلکہ اکثر تو  وہ خود اپنے اوپر آئی مُصیبت کو بھی نہیں ٹال سکتا ، چہ جائیکہ وہ کسی دوسرے کی دُعا ء قُبُول کر سکے ، یا کروا سکے ،
یہ صِرف اور صِرف اللہ ہی ہے جو اُسے پکارنے والوں کی ، اُس سے دُعاء کرنےو الوں کی دُعاء قُبُول فرماتا ہے ، کیونکہ وہ ہی اکیلا اور لا شریک خالق  ہے جِس کی قوت اور قُدرت کسی حدود کی پابند نہیں ، وہ  ہی ہے ، اور صِرف وہی ہے جو جِس کام کا اِرداہ فرماتا ہے، جِس کام کے ہونے کا فیصلہ فرماتا ہے ، تو  اُس کام کے ہو جانے کا حکم فرماتا ہے اور وہ کام ہو جاتا ہے ﴿إِنَّمَا أَمْرُهُ إِذَا أَرَادَ شَيْئًا أَنْ يَقُولَ لَهُ كُنْ فَيَكُونُ:::اللہ کا معاملہ تو یہ ہے کہ جب وہ کسی کام کا اِرداہ فرماتا ہے تواُس کام کے لیے فرماتا  ہے کہ ہو جا ، تو وہ کام ہو جاتا ہےسُورت  یٰس(36)/آیت 82،
﴿بَدِيعُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَإِذَا قَضَى أَمْرًا فَإِنَّمَا يَقُولُ لَهُ كُنْ فَيَكُونُ::: آسمانوں اور زمین کو بالکل آغاز سے تخلیق کرنے والا (اللہ ہی)ہے ،  اور وہ جب کسی کام کا فیصلہ فرما لیتاہے تو اُس کام کے لیے فرماتا  ہے کہ ہو جا ، تو وہ کام ہو جاتا ہےسُورت البقرہ(2)/آیت 117،
:::::: (5) ::::::   
اِس کے بعد اللہ سُبحانہ ُ و تعالیٰ نے ہمیں یہ سمجھایا ہے کہ وہ کِس کی دُعاء قُبُول فرماتا ہے ، پس اِرشاد فرمایا ﴿ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ:::جب کوئی پکارنے والا(صِرف ) مجھے پکارتا ہے ،
اللہ جلّ و عُلا کے اِس فرمان شریف میں بڑی وضاحت سے یہ بیان ہوا ہے کہ اللہ کے ہاں صِرف اُسی کی دُعاء کی قُبُولیت ہوتی ہے جو صِرف اللہ ہی کو پکارتا ہے ، اور اپنے دِل و دِماغ و رُوح کی یکسوئی کے ساتھ ، براہ راست اپنے اللہ کو پُکارتا ہے ،
خیال رہے کہ اگر کہیں ہمیں ایسے لوگوں کی دُعاء پوری ہوتی ہوئی نظر آتی ہے جِن کے احوال میں مخالف شریعت ، اور خلافءِ توحید اعمال و اقوال شامل ہوتے ہیں تو یہ اللہ تبارک وتعالیٰ کی طرف سے إِیمان والوں کے لیے  امتحان ہے ،نہ کہ اُن لوگوں کے """ولی اللہ """ہونے کی علامت ،
:::::: (6) ::::::  
اللہ تبارک وتعالیٰ کے بیان فرمودہ اِس  قاعدے ، اِس قانون میں ہمیں یہ بھی سمجھایا گیا ہے کہ اللہ عزّ و جلّ اپنے ہر اُس بندے کی  پکار کا جواب دیتا ہے ، اُس کی دُعاء قُبُول فرماتا ہے جو صِرف اور براہ راست اللہ ہی کو پکارتا ہے ، صِرف اور براہ راست اللہ ہی سے دُعاء کرتا ہے ،
پس اِس فرمان میں بندوں کے لیے یہ پیغام بھی ہے کہ سچے إِیمان کے ساتھ ، قُبولیت کی شرائط پوری کرتے ہوئے ، زیادہ سے زیادہ عملی اور قولی بندگی کا ثبوت دیتے ہوئے ، خوب آہ و زاری ، عجز و انکساری کے ساتھ اپنے رب کو پکارتے رہا کریں ،
ایسی پکار کا جواب ، ایسی دُعا کی قُبُولیت یقینی ہے لیکن اُس قبولیت کا طریقہ اللہ اپنی حِکمت کے مطابق مقرر فرماتا ہے ،
لہذا کبھی تو ایسا ہوتا ہے کہ اللہ سُبحانہ ُ و تعالیٰ اپنے اُس بندے کو بالکل وہی کچھ عطاء فرما دیتا ہے جِس کا سوال بندہ نے کیا ہوتا ہے ،
یا کبھی اُس مانگی ہوئی چیز کے بدلے میں دُنیا میں کچھ بھی نہیں دیتا ، بلکہ اُس دُعاء کو اُس بندے کی  آخرت کے لیے محفوظ فرما دیتا ہے ، تا کہ اُس بندے کی  آخرت میں کام آ سکے ،
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کا اِرشاد ہے کہ ﴿ مَا مِنْ رَجُلٍ يَدْعُو اللَّهَ بِدُعَاءٍ إِلاَّ اسْتُجِيبَ لَهُ فَإِمَّا أَنْ يُعَجَّلَ لَهُ فِى الدُّنْيَا وَإِمَّا أَنْ يُدَّخَرَ لَهُ فِى الآخِرَةِ وَإِمَّا أَنْ يُكَفَّرَ عَنْهُ مِنْ ذُنُوبِهِ بِقَدْرِ مَا دَعَا مَا لَمْ يَدْعُ بِإِثْمٍ أَوْ قَطِيعَةِ رَحِمٍ أَوْ يَسْتَعْجِل::: کوئی(مُسلمان) بندہ ایسا  نہیں کہ جب وہ (صِرف اور براہ راست اور یقین کے ساتھ) اللہ سے دُعاء کرے ، سوائے اِس کے کہ اُس کی دُعا ء قُبُول کر لی جاتی ہے ، تو کبھی تو اُس کے لیے دُنیا میں ہی پوری کر دی جاتی ہے، یا کبھی اُس کے لیے آخرت میں محفوظ کر دی جاتی ہے ، یا کبھی اُس کی دُعاء کی مقدار کے برابر اُس کے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں ، بشرطیکہ اُس کی دُعاء گناہ والی نہ ہو ، رشتہ داریوں کو توڑنے والی نہ ہو ، یا بشرطیکہ وہ جلدی نہ کرے،
صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین نے عرض کی """اے اللہ کے رسول ، جلدی کیسے کرےگا؟ """،
تو اِرشاد فرمایا﴿ يَقُولُ دَعَوْتُ رَبِّى فَمَا اسْتَجَابَ لِى:::(جلدی کرنا یہ ہے کہ)دُعاء کرنے والا یہ کہنے لگے کہ میں نے اپنے رب سے دُعاء کی لیکن اُس نے قُبول نہیں کی ،
سنن الترمذی /حدیث /3957کتاب الدعوات/باب153، إِمام الالبانی رحمہُ اللہ نے سرخ کشیدہ جملے کے عِلاوہ باقی روایت کو صحیح قرار دِیا ہے ، تفصیل کے لیے دیکھیے سلسلہ الاحادیث الضعیفہ /حدیث 4483،
غور فرمایے ، محترم قارئین ، ہم میں سے کتنے ایسے ہیں جو چند مرتبہ ، کچھ دِن کوئی دُعا کرتے ہیں ، اور پھر اپنی دُعا کی قبولیت سے مایوس ہو کر دُعاء کرنا چھوڑ دیتے ہیں ،
اور معاذ اللہ بہت سے تو ایسے ہیں جو یہ کفریہ بات کرتے سنائی دیتے ہیں کہ """ کہ اللہ ہمارے تو سُنتا نہیں """ یا """ اللہ غریبوں کی سُنتا نہیں """ ، وغیرہ ،
اللہ کی قسم کسی مُسلمان کے منہ سے ایسی بات سن کر دِل و رُوح کانپ کر رہ جاتے ہیں کہ وہ مُسلمان اپنا عقیدہ ، اور اپنے عمل جانچنے کی بجائے اللہ تبارک وتعالیٰ کی سماعت کا ہی انکار کر دیتا ہے ، جبکہ اللہ سُبحانہُ و تعالیٰ تو زمین کی اتھاہ گہرائیوں میں ہونےو الی ہلکی سی حرکت کی سرسراہٹ بھی سنتا ہے ،  اور وہ مُسلمان کہتا ہے کہ اللہ فلاں کی نہیں سُنتا ، و لا حول ولا قوۃ إلا باللہ ، و  ھو المستعان ،
:::::: (7) ::::::  
ہمارے اِس درس میں زیر مطالعہ اور زیر تفہیم آیت شریفہ میں ذِکر کردہ قاعدے میں بیان کیا گیاہر ایک مسئلہ اللہ کے اِس آخری دِین میں أہم مسئلہ ہے ،اور سب ہی مسائل سب سے أہم ترین مسئلے اور حقیقت سے مربوط ہیں ، اور وہ حقیقت ہے اللہ جلّ و عُلا کی توحید ، اور اُس کے بندوں کے لیے اُس کی رحمت کی ہمہ وقت موجودگی ،
جی ہاں ، محترم قارئین ، غور فرمایے ، اِس قاعدے ، اِس قانون میں  اللہ سُبحانہ ُ و تعالیٰ کے دِین حق کی عظمت کےرازوں میں سے ایک راز کا بیان ہے ،
اور وہ یہ کہ اللہ جلّ  جلالہُ جو کہ سب بادشاہوں کا ایسا بادشاہ ہے کہ جِس کی بادشاہی کی ادنی ٰ سے ادنی ٰ حد بھی کسی بڑے سے بڑے سے بادشاہ  کی کُل بادشاہی سے بے انداز حد تک بڑی ، اعلٰی و ارفع ہے ،
اللہ تبارک و تعالیٰ ایسا سُلطان ہے جِسکی سلطنت کے انتہائی چھوٹے سے ذرے میں سارے ہی سلطانوں کی سلطنتیں کھو جاتی ہیں ،
لیکن اِس کے باوجود اُس کے بندوں کو ، اُس تک رسائی کے لیے کسی واسطے ، کسی وسیلے ، کسی پیشگی وعدے (Appointment)کی ضرورت نہیں ، کسی خاص وقت کی پابندی نہیں ، بلکہ جب اُس کا بندے چاہے اپنے دِل ، دِماغ اور رُوح کی حاضری کے ساتھ اپنے دونوں ہاتھ اپنے رب کی طرف بُلند کرے اور اپنی حاجتیں پیش کر دے ، وہ سنتا ہے ، قبول کرتا ہے ،
اور یہ خوش خبری بھی بھیجی کہ ﴿  إِنَّ رَبَّكُمْ تَبَارَكَ وَتَعَالَى حَيِىٌّ كَرِيمٌ يَسْتَحْيِى مِنْ عَبْدِهِ إِذَا رَفَعَ يَدَيْهِ إِلَيْهِ أَنْ يَرُدَّهُمَا صِفْرًا ::: بے شک تُم لوگ کا رب تبارک وتعالیٰ ہمیشہ زندہ رہنے والا (اور)حیاء کرنے والا ، بہت عطاء فرمانے والا ہے ، جب اُس کا کوئی بندہ(دُعاء کرتے ہوئے)اپنے دونوں ہاتھ اللہ کی طرف اُٹھاتا ہے تو اللہ اپنے بندے سے حیاء کرتا ہے کہ اُس بندے کے ہاتھوں کو خالی پلٹا دےسُنن ابو داؤد/حدیث/1490کتاب الوِتر/باب23،صحیح ابن حبان /حدیث/876کتاب الرقائق/بابالأدعیۃ، ایک دو لفظ کے فرق کےساتھ سنن الترمذی/حدیث/3904کتاب الوِتر/باب121،إِمام الالبانی رحمہُ اللہ نے صحیح قرا دِیا ،
تو پھر کِس قدر جہالت اور نقصان والا کام ہے کہ کوئی بندہ اپنے اور اپنے رب کے درمیان لوگوں اور چیزوں کو واسطے اور وسیلے بنائے، اور کسی کے بارے میں یہ سوچے وہ اُس کے اور اللہ کے درمیان واسطہ ہے ، وسیلہ ہے ،
اور یہ سوچے کہ واسطے اور وسیلے کے بغیر اُس کی دُعاء اللہ تک نہیں پہنچ سکتی ، یا یہ کہ واسطے اور وسیلے کے بغیر دُعاء قُبُول نہیں ہو سکتی ہے ،
ایسی سوچ رکھنے والا بے چارہ یہ نہیں سمجھ پاتا کہ وہ اللہ تبارک وتعالیٰ کے بیان فرمودہ اِس قاعدے ، اِس قانون کا انکار کر رہا ہے کہ ﴿فَإِنِّي قَرِيبٌ أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ:::تویقیناً میں قریب ہوں ،جب کوئی پکارنے والا(صِرف ) مجھے پکارتا ہے تو میں اُس کی پکار کا جواب دیتا ہوں (یعنی قبول کرتا ہوں)،
اور کفر و شرک پر مبنی سوچوں اور افکار کا شکار ہو رہا ہے ، ولا حول ولا قوۃ إِلا باللہ ،
 اللہ تبارک وتعالیٰ ہم سب کو حق پہچاننے ، ماننے ، اپنانے اور اُسی پر عمل پیرا رہتے ہوئے اُس کے سامنے حاضر ہونے والوں میں سے بنائے ،
محترم قارئین ، ذرا یہ بھی سوچیے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ کے بیان فرمودہ اِس قاعدے سے لا علمی  بندے کے لیے کس قدر بڑے نقصانات کا سبب ہے ، کہ وہ اپنے ہمیشہ سننے اور قُبُول کرنے والے خالق اور مالک کو چھوڑ کر اُس کی مخلوق کا سوالی بنا رہتا ہے ،اپنے اور اپنے رب تعالیٰ کے درمیان اپنے نفس ، اپنی گمراہی ، اپنی جہالتوں کو لا کھڑا کرتا ہے ،  اور اپنی آخرت تباہ کرتا رہتا ہے ، بلکہ بسا اوقات تو آخرت سے پہلے دُنیا کی رسوائی بھی پاتا ہے ،
إِمام ابن قیم رحمہُ اللہ کا فرمان ہے :::
""" وقد أجمع العارفون على أن كل خير فأصله بتوفيق الله للعبد وكل شر فأصله خذلانه لعبده وأجمعوا أن التوفيق أن لا يكلك الله نفسك وان الخذلان أن يخلي بينك وبين نفسك فاذا كان كل خير فأصله التوفيق وهو بيد الله إلى نفسك وأن لا بيد العبد فمفتاحه الدعاء والافتقار وصدق اللجأ والرغبة والرهبة اليه فمتي أعطى العبد هذا المفتاح فقد أراد أن يفتح له ومتي أضله عن المفتاح بقى باب الخير مرتجا دونه  ::: عارفین کا اِس بات پر اجماع ہے کہ تما تر خیر کی بنیاد اللہ کی طرف سے بندے کو توفیق عطاء ہونا ہے ، اور تمام تر شر کی بنیاد اللہ کی طرف سے بندے کے لیے بے رُخی ہے ،اور(اللہ کی عطاء کردہ)توفیق یہ ہوتی ہے کہ اللہ تمہیں تمہارے نفس کے حوالے نہ کرے ،اور بے رُخی یہ ہے کہ اللہ اُس کے اور تُمہارے درمیان تمہارے نفس کو داخل کر دے ، پس ہر خیر کی بنیاد (اللہ کی عطاء کردہ) توفیق ہے ، اور یہ(توفیق عطاء کرنا) صِرف اللہ کے ہاتھ میں ہے ، کسی بندے کے ہاتھ میں نہیں ،اور اِس (توفیق کو حاصل کرنے) کی چابیاں (اللہ سے) دُعاء کرنا ، (اللہ کے سامنے  اپنی) کمزوری اور عجز و اِنکسار کا اقرار ، اور اللہ طرف پناہ طلب کرنے میں سچائی ، اُس کی طرف رغبت ، اور اُس سے ڈرنا ہیں ،لہذا جب کسی بندے کو یہ چابیاں دے دی جاتی ہیں تو اِس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اللہ نے اُس بندے کو توفیق عطاء کرنے کا فیصلہ فرما لیا ہے ، اور جب اللہ کسی بندے کو اِن چابیوں سے دُور کر دیتا ہے تو اِس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ خیر کا دروازے اُس بندے سے دُور ہو گیا ہے"""، الفوائد/ قاعدة أساس كل خير أن تعلم أن ما شاء الله كان وما لم
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے دوسرے بلا فصل خلیفہ عُمر رضی اللہ عنہ ُ و أرضاہُ فرمایا کرتے تھے کہ"""  إِنِّي لَا أَحْمِلُ هَمَّ الْإِجَابَةِ، وَإِنَّمَا أَحْمِلُ هَمَّ الدُّعَاءِ، وَلَكِنْ إِذَا أُلْهِمْتُ الدُّعَاءَ فَإِنَّ الْإِجَابَةَ مَعَهُ::: مجھے قُبولیت کی فِکر نہیں ہوتی ،بلکہ مجھے دُعاء کرنے کی توفیق ملنے کی فِکر ہوتی ہے ،  کیونکہ اگر مجھے دُعاء کرنے کی توفیق عطاء ہوئی تو یقیناً قُبولیت اُس کے ساتھ ہوتی ہے"""،
أمیر المؤمنین عُمر رضی اللہ عنہ ُ و أرضاہُ کی یہ بات اُن کے اِیمان کامل اور اللہ تبارک و تعالیٰ کی ذات و صِفات کی پہچان کے بہت سے دلائل میں سے ایک دلیل ہے اور ہم سب کے لیے یہ سبق رکھتی ہے کہ اگر ہم میں سے کسی کو اللہ سُبحانہ ُ وتعالیٰ اُس سے دُعاء کرنے کی توفیق عطاء فرماتا ہے تو اُس بندے کو یہ یقین رکھنا چاہیے کہ دُعاء کرنے کی اِس توفیق کے ساتھ اِس دُعاء کی قُبولیت بھی ہے ، اور وہ قُبولیت کسی صُورت میں ہو گی وہ اللہ کے عِلاوہ اور کوئی نہیں جانتا ،
اللہ جلّ و عُلا ہم سب کو صِرف اور صِرف اُس سے ، اور اُس کے اور اُس کے رسول کریم محمد صلی اللہ علیہ  وعلی آلہ وسلم کے مقرر کردہ طریقوں کے مطابق ، دُعاء کرنے کی توفیق عطاء فرمائے ، اوراُس کے ماسوا سے دُعاء کرنے کے شر سے محفوظ رکھے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
::: أہم وضاحت ::: ::: أہم وضاحت ::: خیال رہے کہ یہ مضامین محترم شیخ ، عُمر المقبل حفظہُ اللہ کے دروس سے ماخوذ ہیں ، نہ کہ اُن کے دروس کے تراجم ، بلکہ ان مضامین میں کم و بیش ساٹھ ستر فیصد مواد میری طرف سے اضافہ ہے، اس لیے اِن مضامین کو حرف بحرف محترم شیخ صاحب حفظہ ُ اللہ سے منسوب نہ سمجھا جائے  ۔اور مضامین کا تسلسل بھی میں نے محترم شیخ صاحب کے دروس کے تسلسل کے مطابق نہیں رکھا ، بلکہ مصحف شریف میں آیات کے تسلسل کے مطابق رکھا ہے ۔
 عادل سہیل ظفر ۔
 والسلام علیکم۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تاریخ کتابت : 13/07/1435ہجری ، بمطابق ،12/05/2014عیسوئی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اِس مضمون کا برقی نسخہ درج ذیل ربط سے نازل کیا جا سکتا ہے :
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Tuesday, November 25, 2014

::::: سُنن الفِطرۃ ::: فِطرت کی سُنتیں :::::

۹ ۹      ۹ سُنن الفِطرۃ ::: فِطرت کی سُنتیں  ۹۹۹

أَعُوذُ بِاللَّهِ السَّمِيعِ الْعَلِيمِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ مِنْ هَمْزِهِ وَنَفْخِهِ وَنَفْثِهِ
بِسمِ اللَّہ ،و السَّلامُ عَلیَ مَن اتبع َالھُدیٰ و سَلکَ عَلیَ مَسلکِ النَّبیِّ الھُدیٰ مُحمدٍ صَلی اللہُ علیہِ وعَلیَ آلہِ وسلَّمَ ، و قَد خَابَ مَن یُشقاقِ الرَّسُولَ بَعدَ أَن تَبینَ لہُ الھُدیٰ ، و اتبِعَ ھَواء نفسہُ فوقعَ فی ضَلالاٍ بعیدا :::شروع اللہ کے نام سے ، اورسلامتی ہو اُس شخص  پر جس نے ہدایت کی پیروی کی ، اور ہدایت لانے والے نبی محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی راہ پر چلا ، اور یقینا وہ شخص تباہ ہوا جس نے رسول کو الگ کیا ، بعد اس کے کہ اُس کے لیے ہدایت واضح کر دی گئ اور(لیکن اُس شخص نے) اپنے نفس  کی خواہشات کی پیروی کی پس بہت دور کی گمراہی میں جا پڑا ۔
السلامُ علیکُم و رحمۃُ اللہ و برکاتہُ ،
ابو ہُریرہ رضی اللہ عنہ ُ کا کہنا ہے کہ ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم  نے فرمایا﴿ الْفِطْرَةُ خَمْسٌ - أَوْ خَمْسٌ مِنَ الْفِطْرَةِ (1)- الْخِتَانُ  وَ(2)الاِسْتِحْدَادُ ، وَ(3)نَتْفُ الإِبْطِ ، وَ(4) تَقْلِيمُ الأَظْفَارِ ، وَ(5)قَصُّ الشَّارِب:::فِطرت پانچ (کام )ہیں،یا فرمایا ، پانچ کام فطرت میں سے ہیں (1)شرم گاہ کے بال اُتارنا ،اور(2)ختنہ کرنا، اور(3)مُونچھیں کُترنا، اور(4)اور بغلوں کے بال اُکھیڑنا،اور(5)اور ناخُن کاٹناصحیح البُخاری/حدیث/5889کتاب اللباس/باب63،صحیح مُسلم /حدیث/620کتاب الطہارۃ /باب16، اور باقی چار سُنن ، مؤطا مالک،صحیح ابن حبان ، مُسند احمد ،اور دیگر کتب میں بھی روایت کی گئی ہے ،
اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے خلیل محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے اِس فرمان مُبارک کے ذریعے ہمیں جو کچھ سمجھایا ہے ، اِن شاء اللہ اِس مضمون میں اِختصار کے ساتھ اُسے بیان کیا جائے گا ،

:::::: فِطرت کی سُنّت کا کیا معنی  ٰ ہے ؟  :::::: 

إِمام محمد بن علی الشوکانی رحمہ ُ اللہ نے نیل الأوطار /کتاب الطہارۃ /باب سُنن الفطرۃ ، میں لکھا """فِطرت کی سُنّت سے مُراد ہے کہ یہ پانچ کام ایسے ہیں جِن کو کرنے والے کے بارے میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ وہ اُس فِطرت پر ہے جِس پر اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو بنایا ، اور اِسی لیے اللہ نے (اپنے رسول کریم محمدصلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی  زُبان شریف سے یہ باتیں ادا کروا کر لوگوں کو)اِن کاموں کے کرنے کی ترغیب دِلائی اور اِن کاموں کو کرنا اُن کےلیے پسند فرمایا،تا کہ وہ مکمل(فِطرتی)صِفات اورصُورت والے بنیں"""،
اور مزید لکھا کہ """(إِمام )البیضاوی(رحمہُ اللہ)نے اِس حدیث میں بیان کیے گئے کاموں کو فطرت کہنے کی شرح میں کہا،کہ ،  اِن کاموں کو فطرت کہنے سے مُراد یہ ہے کہ یہ کام کرنا تمام تر نبیوں کی ہمیشہ سے سنّت رہی ہے ، اور اِن کاموں کا کرنا تمام شریعتوں میں مُقرر رہا ہے ، گویا کہ یہ ایسے کام ہیں جو اِنسان کی جبلت (فِطرت ،گُھٹی )میں ہیں"""،

::: (1) ختنہ کروانا ::: یہ کام بھی مردوں اور عورتوں کے لیے مشترکہ ہے ، گو کہ ہمارے مُعاشرے میں بچیوں کاختنہ تقریباً بالکل غیر معروف چیز ہے لیکن عرب مُعاشرے میں یہ کام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم  کے زمانے سے پہلے بھی تھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم  نے اِسے فِطرت کی سُنّتوں میں شامل قرار دے کر بر قرار رکھا ، اور آج تک عرب مُعاشرے میں اِس پر عمل کیا جاتا ہے ، میں یہاں  اِس کی تفصیل کا ذِکرنہیں کر رہا ، صِرف ایک حدیث ذِکر کرتا ہوں جو اِس بات کی دلیل ہے  کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے بچیوں کے ختنے کرنے کی منظوری عطاء فرمائی تھی ، اور اُن صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے زمانہ مُبارک میں یہ کام کیا جاتا تھا ،

:::::  أنس ابن مالک رضی اللہ  عنہ ُ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم  نے اُم عطیہ رضی اللہ عنہا سے  اِرشادفرمایا ﴿ إِذا خَفَضتِ فَأَشِمَّی ، و لا تَنھِکِی ، فَإِنَّہ ُ أسرَی لِلوجہِ و أحظَیٰ للزوج:::جب تُم ختنہ کرو تو جِلد تھوڑی سی چھیل دو بالکل کاٹو نہیں، ایسا کرنا (یعنی چھیلنا ، لڑکی کے )چہرے کے لیے رونق اور اُسکے خاوند کے لیے لُطف کاسبب ہے تفصیل کے متمنی حضرات سلسلہ الأحادیث الصحیحہ / حدیث 722، کا مطالعہ فرماسکتے ہیں ۔

::: (2)  الأستحداد ،  شرم گاہ کے بال اُتارنا :::

  الأستحداد کا لفظی معنی  ٰ ہے ، لوہے کی دھاری دار چیز، چُھری، چاقو ، خنجر ،تلوار، اُسترے وغیرہ کی دھار کو تیز کروانا ،
اور اِسی مفہوم میں سے بال مونڈھنے کے عمل کو""" استحداد""" کا نام اِس لیے دِیا گیا ہے کہ اِس کام کرنے کے لیے اُسترہ اِستعمال کیا جاتا تھا ، اور میں نے ترجمہ میں""" شرم گاہ کے بال اُتارنا""" اِس لیے لکھا ہے کہ یہ بات بھی دوسری أحادیث سے معلوم ہوتی ہے کہ جِسم کی کونسی جگہ سے بال مونڈھنے کا حُکم دِیا گیا ہے ، جیسا کہ درج ذیل احادیث شریفہ میں ہے ،
::::: اِیمان والوں کی والدہ محترمہ ، امی جان عائشہ رضی اللہ عنہا و أرضاھا کا کہنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم  نےاِرشاد فرمایا﴿عَشرٌ مَن الفِطرۃِ (1)قَصُّ الشَارِبِ ،و(2) إِعفاءُ اللحِیۃِ ،و(3) السِّواکُ ، و(4) اِستَنشَاق ُ الماءُ ،و(5) قَصُّ الأظَافرِ ، و (6)غَسلُ البَراجِمِ ،و (7) نَتف ُ الإِبطِ ، و(8) حَلق ُ العَانۃِ ،، و (9)اِنتقاصُ الماءِ ::: دس(کام)فطرت میں سے ہیں (1)مونچھیں کُترنا،اور(2)داڑھی کو (کاٹنے کُترنے سے )معاف رکھنا،اور(3)مسواک کرنا،اور (4)ناک صاف کرنے کے لیے ناک میں پانی چڑھا کر اُسے واپس نکالنا٭،اور(5)ناخُن کاٹنا،اور(6)انگلیوں کے جوڑوں کو دھونا٭ اور(7)بغلوں کے بال اُکھیڑنا،اور(8)العانہ (ناف کے نیچے شرم گاہ کے اِرد گرد والے حصے )کے بال مُونڈھنا،اور(9)شرم گاہ کو دھونا٭٭،
و قال زِکریا ، قال مصعب ، نسیتُ العاشرہ إِلا أن تکون﴿المضمضۃِ،
زکریا (حدیث کے ایک راوی)کا کہنا ہے کہ ، مُصعب(ایک دوسرے راوی) کا کہنا ہے کہ وہ دسویں چیز بھول گئے ہیں لیکن اُمید کرتے ہیں کہ وہ دسویں چیز﴿خوب اچھی طرح سے کُلی کرناہو گی ۔ صحیح مُسلم/حدیث 261/کتاب الطہارۃ /باب 16خصال الفطرۃ ،
٭یہ کام وضوء کے درمیان کرنے کے ہیں ، خواہ وہ عام وضوء ہو ، یا طہارت اختیار کرنے کے لیے کیے جانے والے غُسل کے آغاز میں کیا جانے والا وضوء ہو ۔
٭٭ یعنی پانی سے استنجاء کرنا، اورایک دوسری روایت جو کہ سُنن ابن ماجہ میں ہے ، اور اِمام الالبانی رحمہُ اللہ نے صحیح الجامع الصغیر / حدیث 4695 میں صحیح قرار دِیا ہے کی بُنیاد پر کہا گیا کہ اِس سے مُراد وضوء کے بعد شرم گاہ کو پانی سے دھونا ہے تا کہ پلیدگی کا کوئی وسوسہ نہ رہے ۔

::: ایک خاص وضاحت  :::  کسی راوی کا اپنے کچھ بھول جانے کا ذِکر کرتے ہوئے کسی بات یا کام یا چیز کے بارے میں اندازے کے مطابق خبر دینا ، اُس راوی کا عیب یا کمزوری نہیں ، بلکہ اُس کی امانت داری ، صداقت اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم سے کچھ غلط منسوب کرنے سے خوف کی عِلامت ہے ، لہذا اِس میں صحیح احادیث شریفہ پر طعن کرنے والے ، یا اُن کا اِنکار کرنے والے کسی مریض کے لیے کوئی حُجت نہیں ۔

::::: دُوسری روایت عبداللہ ابن عُمر رضی اللہ عنہما سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم  نے فرمایا ﴿مِن الفِطرۃِ حَلق ُ العَانَۃِ ، و تَقلیِمُ الأظفارِ ، و قَصُّ الشَّارِبِ:::شرم گاہ کے اِرد گِرد سے بال مونڈھنا ، اور ناخُن کاٹنا ، اور مونچھیں کاٹنا فِطرت میں سے ہیںصحیح البُخاری /حدیث 5790/کتاب اللباس /باب24،
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے ساتھ تبوک کے جِہادی سفر سے واپسی کا واقعہ سُناتے ہوئے بتاتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے اِرشاد فرمایا (((أمْلُهوا حتَّى تَدْخُلُوا لَيْلاً أيْ: عِشاءً لِكَي تَمْتَشِطَ الشَّعَثةُ، وتَسْتَحِدَّ المُغِيبَةُ:::آہستہ چلو، یہاں تک کہ تُم لوگ رات کے وقت(اپنے گھروں میں) اپنے گھروں میں داخل ہو، رات یعنی عِشاء کی نماز کے بعد،تا کہ جن عورتوں کے بال بگڑے ہوئے ہیں وہ کنگھی کر لیں ، اور جِس کا خاوند اُس سے دُور تھا وہ( اپنی شرمگاہ وغیرہ کےبال) تیز دھار چیز سے صاف کر لے صحیح بخاری/حدیث/5075کتاب النکاح/باب10 تَزْوِيجِ الثَّيِّباتِ،
إِمام بدرالدِین محمد محمود العینی الحنفی رحمہُ اللہ نے """عُمدۃ القاری شرح صحیح بخاری"""میں اس حدیث شریف  کی شرح میں لکھا کہ """ قَوْله: (وتَسْتَحِدَّ المُغِيبَةُ) أَي: تسْتَعْمل الحديدة فِي إِزَالَة الشّعْر::: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے فرمان(وتستحد المغيبة) کا معنی ہے کہ وہ عورت اپنے بال اتارنے کے لیے لوہا اِستعمال کرلے"""،
اور صحیح مُسلم کی روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ (((إِذَا قَدِمَ أَحَدُكُمْ لَيْلاً فَلاَ يَأْتِيَنَّ أَهْلَهُ طُرُوقًا حَتَّى تَسْتَحِدَّ الْمُغِيبَةُ وَتَمْتَشِطَ الشَّعِثَةُ ::: اگر تُم لوگوں میں سے کوئی رات کے وقت کہیں سے واپس آئے تو یک دم اچانک اپنے گھر والوں کے پاس نہ داخل ہو، یہاں تک کہ جِس عورت کا خاوند غائب ہو وہ( اپنی شرمگاہ وغیرہ کےبال) تیز دھار چیز سے صاف کر لے، اور جس عورت کے بال بگڑے ہوں وہ کنگھی کر لےصحیح مُسلم/حدیث/5075کتاب النکاح/باب10 تَزْوِيجِ الثَّيِّباتِ،
إِمام النووی رحمہُ اللہ نے """شرح صحیح مُسلم/کتاب الاِمارۃ /کے آخری باب السَّفَرُ قِطْعَةٌ مِنْ الْعَذَابِ وَاسْتِحْبَابِ تَعْجِيلِ الْمُسَافِرِ إِلَى أَهْلِهِ بَعْدَ قَضَاءِ شُغْلِهِ،کی پہلی حدیث شریف""" کی شرح میں اِس مذکورہ بالا حدیث کو ذِکر کیا اور کہا """ وَمَعْنَى تَسْتَحِدُّ الْمُغِيبَةُ أَيْ تُزِيلُ شَعْرَ عَانَتِهَا وَالْمَغِيبَةُ الَّتِي غَابَ زَوْجُهَاوَالِاسْتِحْدَادُ اسْتِفْعَالٌ مِنَ اسْتِعْمَالِ الْحَدِيدَةِ وَهِيَ الْمُوسَى وَالْمُرَادُ إِزَالَتُهُ كَيْفَ كَانَ:::اور(تَسْتَحِدَّ المُغِيبَةُ)کامعنی ہے کہ اپنے زیر ناف حصے کے بال اتار لے،اور ()وہ عورت ہے جِس کا خاوند اُس سے غائب ہوا ہو،اوراِستحداد لوہا اِستعمال کرنا ہے ، جو کہ اُسترہ ہوتا ہے ، اور اِس حکم سے مُراد (زیرناف حصے کے)بال اُتارنا ہے خواہ کیسے بھی اُتارے جائیں"""،،
:::::: غلط بے بنیاد فتوے :::::: یہاں اِس بات کا ذِکر کرنا انتہائی مُناسب لگتا ہے کہ ہمارے ماحول میں عام طور پر بڑے عجیب و غریب فتوے پائے جاتے ہیں ، اور اُن فتووں کی سچائی کے ثبوت پر اُن سے بڑھ کر عجیب و غریب واقعات سُنائے جاتے ہیں ،  اور ایسے فتوؤں میں سے چند اِس موضوع سے متعلق بھی ہیں، جِن کا لُبِ لُباب یہ ہے کہ عورت اپنے جِسم سے کوئی بال کاٹنے کے لیے لوہا اِستعمال نہیں کرے گی اور اگر ایسا کیا تو اُس پر اتنا اتنا گُناہ ہے ،ا ور اُس کی یہ یہ سزا ہے ، جب کہ اوپر بیان کی گئی حدیث میں صاف طور پرتیز دھار أوزار اِستعمال کرنے کا ذِکر ہے اور عورت اور مرد کے لیے کوئی فرق نہیں،
 یوں بھی شاید ہی کوئی ایسا ہو گا جو یہ نہ سمجھتا ہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم  اور صحابہ  رضی اللہ عنہم اجمعین کے زمانے میں اور اُن کے مُعاشرے میں بال صاف کرنے کے لیے آج جیسی چیزیں نہ تِھیں ،اور خواتین اور مرد سب ہی اپنے بال صاف کرنے کے لیے لوہے کے بنے ہوئے اوزار اِستعمال کرتے تھے ، پلاسٹک بلیڈز یا ریزرز (پلاسٹک کے چاقو یا اُسترے )میسر تھے ، اور نہ ہی ہیر ریمونگ کریمز یا لیکوڈز (بال اُتارنے والے معجون یا محلول ،تیل وغیرہ )،لہذا اِس قِسم کے فتوؤں اور قصے کہانیوں کی کوئی شرعی حقیقت نہیں ۔
اوپر بیان کی گئی احادیث شریفہ کی روشنی میں یہ بالکل ثابت شدہ معاملہ ہے کہ"""استحداد """ سے مُراد """ناف کے نیچے والے حصے کے بال ، لوہے کی دھار دار چیز سے صاف کرنا"""ہے، اور یہ کام مَرد اور عورت دونوں کے لیے ایک ہی جیسا ہے ، عورت کو بال اتارنے کے لیے لوہے کی چیز اِستعمال کرنے کی کوئی ممانعت نہیں ۔

::: (3) بغلوں کے بال اُکھیڑنا :::  اِس مضمون کے پہلے صفحے میں نقل کی گئی پہلی اور دوسری حدیث شریف  میں بغلوں کے بال اُکھیڑنے کا ذِکر ہے ، إِمام النووی رحمہُ اللہ نے پہلی حدیث مُبارکہ کی شرح میں لکھا :::

"""بغلوں کے بال اُکھیڑنا گو کہ تکلیف دہ ہوتا ہے لیکن یہ ہی سُنّت ہے ، اگر کِسی سے برداشت نہ ہو سکے تو وہ اُسترے سے بغلوں کے بال مُونڈھ سکتا ہے یا سفوف اِستعمال کر کے اُنہیں اُتار سکتا ہے"""، شرح النووی علیٰ صحیح مُسلم ، کتاب الطہارۃ /باب ۱۶خصال الفطرۃ ۔

::: (4) ناخُن کاٹنا ::: ناخُن کاٹنے کو بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم  نے فطرت کی سُنّتوں میں شُمار فرمایا ۔

::: (5) مونچھیں کاٹنا یا کُترنا ::: بڑی اور لمبی مونچھیں جِنہیں کافروں اور مشرکوں کے نقالی کرتے ہوئے اور اُن کے فلسفوں کا شِکار بن کر""" مردانگی کی عِلامت"""سمجھا جاتا ہے ، فِطرت کی بھی خِلاف ورزی ہیں ، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم  کے اِس حُکم شریف کی بھی کہ ﴿أحفُوا الشَّوَارِبَ و أعفُو اللَّحَی:::مُونچھوں کو ہلکا کرو اور داڑھیوں کو (مُونڈھنے ، کُترنے سے ) معاف رکھو کی بھی ،٭٭

اِسی طرح مونچھوں کوبالکل مونڈھ دینا بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم  کے اِس حُکم کی ، اور راویِ حدیث صحابی کی سُنّت کی ، اور سُنّتِ فطرت کی خِلاف ورزی ہے ۔
٭٭ عبداللہ ابن عُمر رضی اللہ عنہما اِس حدیث کے راوی ہیں اور حدیث صحیح مُسلم /کتاب الطہارۃ /باب ۱۶خصال الفطرۃ میں ہے ، اور صحیح البُخاری/ کتاب اللباس/باب63 قُص الشارب ، میں اِمام البُخاری رحمہ ُ اللہ نے تعلیقاً روایت کیا کہ""" ابن عُمراپنی مونچھیں اتنی ہلکی کرتے تھے کہ نیچے سے جِلد کی سُفیدی دِکھائی دیتی تھی اور مونچھوں اور داڑھی کے درمیانی حصے سے بھی بال اُتارتے تھے"""،
 اور اِمام الالبانی نے """سلسلہ الأحادیث الموضوعہ و الضعیفہ/حدیث 4056"""کی تخریج کے آخر میں لکھا """(إِمام)الطحاوی(رحمہُ اللہ) نے (شرح المعانی میں )اِس أثر (یعنی عبداللہ ابن عُمر رضی اللہ عنہما کے اِس فعل )کو مُختلف سندوں سے روایت کیا ، جِن میں سے کچھ صحیح ہیں"""۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم  کے کِسی حُکم کی سب سے بہترین شرح خُود اُن کے اپنے عمل یا فعل سے ملتی ہے اُس کے بعدصحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین کے اقوال وا فعال سے،
 اور کِسی حدیث کو روایت کرنے والے صحابی رضی اللہ عنہ ُ کا قول و فعل اُس مسئلے ، یا اُس کام ، یا اُس بات کے بارے میں سب سے زیادہ بہترین شرح ہوتی ہے جو اُنہوں نے روایت کیا ہو ،
لہذا عبداللہ ابن عُمر رضی اللہ عنہما کا یہ فعل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے حُکم کی سب سے بہترین عملی تشریح ہے ۔
مُونچھیں کاٹنے اور کُترنے کے بارے میں کچھ مزید تفصیل میری زیر تیاری کتاب """وہ ہم میں سے نہیں""" میں میسر ہے ، وللہ الحمد۔

::::: اِن کاموں کوزیادہ سے زیادہ کتنی دیر بعد کرلینا چاہیے ؟:::::

أنس بن مالک رضی اللہ عنہ ُ کا کہنا ہے﴿وُقِّت َ لنَا فِی  قَصُّ الشَّارِبِ ،  و تَقلِیمُ الأظفارِ ، و نَتف ُ الإِبطِ ، و حَلق العانَۃِ أن لا نترُکَ أکثر مِن أربعینَ لیلۃً ::: ہمارے لیے مُقرر کر دِیا گیا کہ ہم مونچھیں کُترنے ، اور ناخن کاٹنے  اور بغلوں کے بال اُکھیڑنے اور زیر ناف بال مُونڈھنے میں چالیس راتوں سے زیادہ دیر نہ کریں صحیح مُسلم / کتاب الطہارۃ/باب16 خصال الفطرۃ ،مُسند أحمد ، سُنن ابن ماجہ ، سُنن الترمذی ، سُنن النسائی ، سُنن أبو داؤد ،
اِس حدیث شریف سے پتہ چلتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے جِن کاموں کو فِطرت کی سُنّتوں میں شُمار فرمایا ہے اُن میں سے یہ پانچ کام ایسے ہیں جِن کو کرنے میں زیادہ سے زیادہ چالیس دِن کی مُدت کی چُھوٹ دِی گئی ہے ، یعنی اِن کاموں کو چالیس دِن سے زیادہ دیر تک نہ کرنا ناجائز ہے ، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے حُکم کی خِلاف ورزی ہے ۔
اور یہ بات بھی سمجھنے کی ہے جو کوئی بھی اپنے ناخن ، بغلوں کے بال اور زیر ناف بال چالیس دِن سے زیادہ جتنی دیر تک بھی نہیں کاٹے گا اُتنی دیر تک وہ شخص مسلسل رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے حکم کی نافرمانی کے گناہ میں ملوث رہے گا ،
رہا معاملہ نماز کے ہونے یا نہ ہونے کا تو یہ اُس کے ناخنوں اور بالوں کی کیفیت پر منحصر ہے کہ اگر  وہ ناخن اور بال میلے ہوں ، اور طہارت کے لیے اِستعمال کیے جانے والے پانی کو جِلد تک نہ پہنچنے دیں تو اُس کی طہارت نہ ہو گی ، اور وہ پلیدگی کی حالت میں رہے گا پس نماز بھی نہ ہو گی، 
آخر میں قارئین کی توجہ ایک بات کی طرف مبذول کرنا چاہتا ہوں کہ ابھی بیان کئی گئی احادیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم  نے جو کام بتائے ہیں اُنہیں""" فِطرت کی سُنّتوں میں سے """ قرار فرمایا ہے ،
جِسکا مطلب ہے کہ صِرف یہ ہی فطرت کی سُنّتیں نہیں ہیں ، لیکن یہ وہ ہیں جِن کو ہمارے لیے برقرار رکھا گیا ہے ، اور جو کوئی اِن کے عِلاوہ ہیں اُن کا ہمیں بتایا نہیں گیا ، پس کِسی کام کو اپنے طور پر فِطرت کی سُنّت سمجھ لینا اور اُس پر عمل کرنے کی کوئی گُنجائش نہیں ،
اور اِس سے بڑھ کر یہ کہ کِسی ممنوع کام کو کھینچ تان کر سُنّتِ فِطرت بنا کر اُسکو کرنے کا جواز بنایا جائے گویا کہ اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم  سے بڑھ کر عِلم اور دانائی والا ہونے کا عملی دعویٰ کیا جاناہے ،
یہ بات کہنے کا سبب کُچھ لوگوں کی ایک فلسفیانہ دلیل ہے جو وہ اپنے چہرے کا حُلیہ بگاڑنے یعنی داڑھی مونڈھنے یا کترنے کے لیے پیش کرتے ہیں ، اور وہ یہ کہ ، اللہ تعالیٰ نے ہر اِنسان کو فطرت پر بنایا ہے اور پیدائش کے وقت اِنسان کے چہرے پر بال نہیں ہوتے ، لہذا اِن بالوں کوصاف کرنا عین فطرتی معاملہ ہے بلکہ فطرت کی سُنّت پر عمل ہے ،
اِسی قِسم کے گمراہ فلسفے کے شِکار ایک صاحب ایک عالِم کے سامنے اپنے فلسفے کا اِظہار فرما رہے تھے ، عالِم خاموشی سے اُن کی لاف و گزاف سُنتے رہے ، اور وہ صاحب سمجھے کہ اُن کے فلسفے نے عالِم کو خاموش کر دِیا ہے اور وہ جواب دینے کے قابل نہیں ، تو بڑے فخر اور تکبر کے ساتھ اُس عالِم کو مخاطب کر کے کہا """ جی ، حضرت آپ ہماری اِس فِطری بات کا کوئی جواب آپ دے سکتے ہیں ؟"""،
عالِم صاحب یہ جان چُکے تھے کہ یہ بیوقوف شخص اور اِس کے فلسفے سے مُتاثر دوسرے اِس جیسے لوگ قُران اور سُنّت کی بات کو اپنی گمراہ عقل اوراندھیرے فلسفے پر پرکھنے والے ہیں ،
 لہذا پہلےاِن  کے فلسفے کا جادُو توڑا جائے اور پھر قُران و سُنّت کا بیان ہو ،
 تو عالِم صاحب نے جواب دِیا """میں آپ کی بات سے فی الحال اِتفاق کرتا ہوں کہ چونکہ اللہ کے حُکم سے جب اِنسان کی پیدائش ہوتی ہے تو وہ فِطرت کی حالت پر ہوتا ہے ، قطع نظر اِس کے کہ فِطرت سے کیا مُراد ہے ، آپ کی بات کے مُطابق مان لیتے ہیں کہ چونکہ اُس فِطری حالت میں اِنسان کے چہرے پر داڑھی نہیں ہوتی لہذا داڑھی مُونڈھنا فِطری عمل ہے ، اور اب اُس پیدائش کے وقت کو سامنے رکھتے ہوئے میں یہ کہتا ہوں کہ مجھے اجازت دی جائے کہ میں آپ کے فلسفے زدہ سر پر اتنے جوتے برساؤں کہ آپ کے بال اُسی طرح بہت تھوڑے اور ہلکے ہو جائیں جیسا کہ پیدائش کے وقت تھے ، کیونکہ اگر اُسترے سے مُونڈھے جائیں گے تو پھر فطری حالت میں تو نہیں آ سکیں گے ،
  اور صِرف اِس وقت نہیں بلکہ وقتاً فوقتاً جب بھی آپ کے بال آپ کے فلسفے کی مقرر کردہ فِطری حالت سے خارج ہونے لگیں ،میں آپ کی یہ خدمت کرنے کے لیے تیار ہوں ، 
اور پیدائش کے وقت اِنسان کے دانت بھی نہیں ہوتے ، لہذا آپ کے فلسفے کے پر عمل کرتے ہوئے میں آپ کے دانت توڑنا بھی خوش نصیبی سمجھوں گا ، اور پیدائش کے وقت اِنسان بات کرنے کی صلاحیت بھی نہیں رکھتا لہذا آپ کے فلسفے پر عمل کرتے ہوئے ، میں اپنے خرچے پر آپ کے لیے کِسی ایسے جراح طبیب (سرجن)کا اِنتظام بھی کروا سکتا ہوں جو آپ کی زُبان کے وہ پٹھے (مسلز )بے حس کر دے جو بات کرنے کے لیے ز ُبان کو حرکت میں لاتے ہیں ، اور پیدائش کے وقت چونکہ اِنسان ،،،،
 ابھی عالِم صاحب کی بات جاری تھی کہ وہ صاحب چیخ اُٹھے """ بس بس جناب ، میں سمجھ گیا کہ میری سوچ ٹھیک نہیں تھی ، آپ ہمیں تفصیل سے سمجھائیے کہ ہمیں ایک سچے اور  اچھے مُسلمان کی حیثیت سے کیا کرنا چاہیے؟"""،
عالِم صاحب اللہ کا شکر ادا کرتے ہوئے مجلس میں مُوجود سب صاحبان کو اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم  کی بلا مَشروط اور عقل و فلسفے کی زد میں لائے بغیر اطاعت اور تابع فرمانی کا درس دینے لگے ۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کو بھی یہ توفیق عطاء فرمائے کہ ہم حق کو پہچان سکیں اور کِسی شرم ، بُزدِلی ، مجبوری کا شِکار ہوئے بغیر اُس کو مانیں اور اُس پر عمل کریں اور اُس کی دعوت ہر ایک تک پہنچائیں، اور اللہ تعالیٰ ہمارے نیک عملوں کو قُبُول فرمائے اور گناہوں ، غلطیوں اور کوتاہیوں سے درگُزر فرمائے اور ہمارے خاتمے اِیمان پر فرمائے ۔
السلامُ علیکُم و رحمۃ ُ اللہ و برکاتہ ُ ، طلباگارِ دُعا ، آپ کا بھائی، عادِل سُہیل ظفر۔
پہلی دفعہ نشر کرنے کی تاریخ :13/07/1428ہجری،بمُطابق،27/07/2007عیسوئی،
تجدید و تحدیث : 02/02/1436ہجری،بمُطابق،24/11/2014عیسوئی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مضمون کا برقی نسخہ درج ذیل ربط سے نازل کیا جا سکتا ہے :
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔