صفحات

Friday, August 15, 2014

::::::: علم الاعداد ( علم اعداد) ، علم جفر اور786 کی حقیقت :::::::


::::::: علم الاعداد ( علم اعداد) ، علم جفر اور786 کی حقیقت :::::::
بِسّمِ اللَّہِ الرّ حمٰنِ الرَّحیم
الحَمدُ لِلّہ ِ وحدہُ و الصَّلاۃُ و السَّلامُ عَلیٰ مَن لا نبیَّ   و لا مَعصُومَ بَعدَہ ُمُحمد ا ً  صَلی اللہ عَلیہ ِوعَلیٰ آلہِ وسلّم و مَن  أَھتداء بِھدیہِ و سلک َ  عَلیٰ   مَسلکہِ  ::: اکیلے اللہ کے لیے ہی ساری خاص تعریف ہے اور رحمت اور سلامتی اس پر جِس کے بعد کوئی بنی نہیں اور کوئی معصوم نہیں وہ ہیں محمد  صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم، اور رحمت اور سلامتی اُس پر جِس نے اُن صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی ہدایت کے ذریعے راہ  اپنائی اور اُن صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی  راہ پر چلا:
السلامُ علیکُم و رحمۃُ اللہ و برکاتہُ ،
ہر قوم کا اپنا معاشرہ ہوتا ہے جو اُس کے اِخلاقی اور مذہبی قواعد کے مُطابق بنتا ہے ، اِسی طرح مُسلمانوں کا بھی اِسلامی معاشرہ تھا ، جی ہاں ، تھا ، اب نہیں ہے ، ہے تو صِرف کِتابوں میں ہی ہے ، دُنیاءِ رنگ و بُو میں اب اِس وقت ایسا کوئی معاشرہ  نہیں جِسے اِسلامی معاشرہ کہا جا سکے ، جِسکے بارے میں یہ کہا جا سکے کہ یہ ہی وہ مُسلم معاشرہ ہے جِس کی تشکیل رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے فرمائی تھی جِسکے عقائد قواعد اور ضوابط کی تشریح صحابہ رضی اللہ عنھُم نے اپنے اقوال و افعال سے کی ، اب تو غیروں کی رسمیں اور نام ہے اِسلام کا ، کُفریہ عقائد ہیں اور نام ہے عِلم الکلام کا ، مُخالفت ہے سُنّت کی اور نام لیا جاتا ہے خیر الأنام کا ،شرکیہ کام ہیں اور نام لیا جاتا ہے توحید کا ، جہاں یہ سب کُچھ ہو وہ اور تو کچھ بھی ہو سکتا ہے اِسلامی معاشرہ ہر گِز نہیں ،
اِنسان کی زندگی میں بہت سی عادات اور بہت سے عقائد وقتاً فوقتاً داخل ہوتے رہتے ہیں ، سمجھ دار اِنسان کِسی عادت یا عقیدے کو اپنانے سے پہلے اُس کی چھان پھٹک کر لیتا ہے کہ یہ کہاں سے آرہا ہے اور اِسے اپنانا چاہیے کہ نہیں ، اور بسا  اوقات یہ ہوتا ہے کہ کِسی کے عقیدے کو خراب کرنے کے لیے ایسی باتیں یا کام اُس کی زندگی میں داخل کیے جاتے ہیں جو اُس کو اپنے راستے سے ہٹا دیتے ہیں ، یہ سب کُچھ عام طور پر ہر معاشرے میں اِنفرادی طور پر بھی ہوتا نظر آتا ہےاور اجتماعی طور پر بھی ،
ہمارا اِسلامی معاشرہ اِس فتنہ انگیزی کا شکار ہوا ہے ، کافروں اور مُنافقوں نے مُسلمانوں کو اُن کے اصل حق والے راستے سے ہٹا کر شرک اور بدعات کی راہوں پر گامزن کر دِیا ،
 ایسے ایسے عقائد اُن کے دِلوں اور دِماغوں میں ڈال دیے جِن کی وجہ سے وہ اپنے ربِ واحد اللہ عزّ و جلّ کو بُھول بیٹھے ، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کو  اور  اُن صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم  کی  تعلیمات کو فراموش کر بیٹھے ،
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین ، جِن کی صداقت ، امانت ، تقوے ، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی تابع فرمانی کی گو اہیاں اِنسان تو اِنسان ، اِنسانوں کے مالک و خالق اللہ تعالیٰ نے دی ہیں ، اِن صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین کی تعلیمات کو بھول بیٹھے ،
آیے ذرا غور کرتے ہیں کہ اِن تعلیمات کو بُھلانے کے کتنے بھیانک نتائج نکلے ہیں ::: 
کہیں حُبِ آلِ رسول صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے نام سے بگاڑ پیدا کیا جا رہا ہے،
 کہیں تصوف کے نام سے اِسلامی عقائد کو تباہ کیا جا رہا ہے،
 کہیں حقِ اہلِ بیت کے نام پہ فساد بپا کیا جاتا ہے،
کبھی باطنی علوم کے نام پر شریعت کو قُربان کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے،
تو کبھی فلسفہ اور عِلمِ کلام کے پردے میں سیدھے سادھے دِین اور اُس کے پیروکاروں کو الفاظ کے چکروں میں گُھما پِھرا کر گمراہ کیا جاتا ہے،
کبھی عِلمِ أعداد کے نام سے شیطانیت پھیلائی جاتی ہے  تو کبھی عِلمِ جفر کے نام پر اللہ جلّ شانہُ اور اُس کی کِتاب قران کریم کی توہین کی جاتی ہے،
افسوس اِس بات کا نہیں کہ کافر اور مُنافق یہ کاروائیاں کیوں کرتے ہیں ، دُکھ تو اِس بات کا ہے کہ مُسلمان کِس بے پروائی اور غفلت سے اِن بد بختوں کا شکار ہوئے جاتے ہیں، اِن سب چوروں نے مُسلمانوں کا اِیمان لُوٹا ، اور اِسلام کے نام پر لُوٹا ، اِسلام کا لِبادہ اوڑھ کر اِیمان کا نقاب لگا کر لُوٹا ، اِن چوروں کی نشاندہی کرنا ، اِنہیں پکڑکر اِسلام اور مُسلمانوں میں سے خارج کرنا بہت ضروری ہے ،
میں اِس وقت اِن چوروں میں سے ایک چور کی نشاندہی کر رہا ہوں اور وہ چور ہے:::: 
"""""  عِلمِ أعداد اور عِلمِ جُفر  """""
اِس چورکو پیدا کرنے اور پالنے والوں نے اِسے مُسلمانوں کے بزرگوں میں سے ایک دو جلیل القدر ہستیوں سے منسُوب کر کے مُسلمانوں کی صفوں میں گُھسا دِیا ، اور یہ لُٹیرا اُس وقت سے اب تک مُسلمانوں کا اِیمان لُوٹ رہا ہے اور اُن سے اللہ تبارک و تعالیٰ اور اُس کی کتابِ عظیم قُرآن کریم کی توہین کروا رہا ہے،
اِس کی شر أنگیزیوں میں سے سب سے بڑا شر یہ ہے کہ مُسلمانوں کو اللہ کی ذات پاک سے کُچھ اِس طرح لا تعلق اور بے عِلم کر دِیا گیا کہ اُن میں کچھ تو اپنے آپ کو """عارف باللہ"""سمجھتے ہیں، لیکن در حقیقت اُن کی اللہ تبارک وتعالیٰ سے معرفت ،  اللہ جلّ و عُلا  کی ذات و صِفات سے دُور جھوٹے فلسفوں اور شیطانی وحیوں پر مبنی باتوں کے اندھیروں میں مقید ہے ،
اور اُن میں سے کچھ لوگ خود کو موحد سمجھتے ہیں ، اور اللہ کی توحید کا نام لیتے ہیں مگر اللہ کا نام نہیں ، بلکہ اللہ کے نام کو ارقام (نمبرز، ڈیجٹس،  Numbers,Digits) میں بدل ڈالتے ہیں ،
اللہ تعالیٰ ہمیں، اور ہمارے کلمہ گو بھائیوں بہنوں کو  ہر بد عقیدگی سے محفوظ فرمائے ۔ 
"""عِلمِ أعداد"""جیسا کہ نام سے ظاہر کہ أعداد یعنی ہندسوں"""ایک دو تین 1 ، 2 ، 3 ،"""وغیرہ کے متعلق کوئی عِلم ہے ، 
پڑہنے سُننے والوں کے دِلوں میں یقیناً یہ سوال آئے گا یا آ چُکا ہو گا کہ دُنیا میں نئے اور پُرانے بہت سے عُلوم ہیں ،  اُن میں سے،میں اِس"""علمِ أعداد"""کو ا ِیمان لوٹنے والوں،اور قُرآن اور رحمن کی توہین کرنے والے عُلوم میں کیوں شُمارکر رہا ہوں ؟؟؟
جواب جاننے کے لیے اِس عِلم کی تاریخ پر نظر کرنا بہت ضروری ہے، آیے دیکھتے ہیں کہ تاریخ میں ہمیں کیا ملتا ہے ،    
پُرانے زمانے کی آرئین،مصری،یونانی اورعبرانی قوموں میں اِس عِلم کا بہت رواج تھا ، جِس طرح عِلمِ نجوم کا تعلق ستاروں اور سیاروں کی فرضی چالوں اور خیالی اثرات سے ہے ، اِسی طرح عِلمِ أعداد کا تعلق بھی شیطان کے دئیے ہوئے خیالی آسمانی دیوتاؤں کی کہانیوں سے ہے ،[1]
بابل کے بادشاہ نمرود کا ایک مُقّرب،اھل بابل کا ایک ولی،ایک نجومی تارخ بن ناحور بن ساروغ تھا،جو نمرود کی بادشاہت میں پُوجے جانے والے بُتوں میں سے سب سے بڑے بُت"بعل"کا مجاور تھا تاریخ کی اکثر کتابوں مثلاً، "تاریخ طبری،البدایہ و النھایہ،التدوین فی اَخبار قزوین،تاریخ الیعقوبی،تاریخ الکامل"""میں یہ بات صراحت کے ساتھ موجود ہے کہ یہ وہ آذرہے جِسے قُرآن میں خلیل اللہ اِبراہیم علیہ السّلام کا باپ کہا گیا ہے(سورت الانعام(6)/آیت 74)،
یہ آذر،یا تارخ مرکزی عِبادت خانے کا گدّی نشین تھا اور"""بعل"""بُت کا خلیفہ تھا اور نمرود کی بادشاہت میں اُس کے مذہب کا اعلیٰ حضرت تھا،اور یہ ا علیٰ حضرت اپنے وقت کا بہت بڑے نجومی اور، عِلمِ أعداد کا ماہر تھا اور اِسی نے ہی اپنے نو (9)دیوی دیوتاؤں کے نام سے نو (9)ابتدائی ہندسے یا أعداد کو منسُوب کیا، 
مُسلمانوں کی فتوحات بڑھنے کے ساتھ ساتھ جب دیگر بیرونی عُلوم مُسلمانوں تک پُہنچے تو یہ عِلم بھی آیا ، مُنافقوں اور اِسلام کے درپردہ دشمنوں نے دیگر بہت سے پردوں کی طرح اپنی غلیظ ذہینت اور شیطانی عزائم پر ایک پردہ  عِلمِ أعداد کا بھی ڈالا،
اور مُسلمانوں میں اِسے داخل کرنے کے لیے اِس میں اِضافہ بھی کیا ، اور اِس اِضافے کا نام"""عِلمِ جفر"""رکھا ، اور عِلم أعداد میں اِستعمال ہونے والے رومن اِلفاظ کی ترتیب پر ہی عربی حروف کی ترتیب بنائی گئی ، اِن حروف کو حروفِ أبجد کہا جاتا ہے ، اور  اِس نہادِ"""عِلمِ جفر"""کو بعض لوگ أمیر المؤمنین علی رضی اللہ عنہ ُ سے منسُوب کرتے ہیں اور بعض لوگ شرک کی اِس پَوٹ کو جناب جعفر(صادق)بن محمد بن الباقر(رحمہم اللہ جمعیاً) کی اِیجاد اور ملکیت قرار دیتے ہیں ،
 کُچھ کا کہنا ہے کہ یہ عربی حروف کے مؤجد مُرہ بن مُرّہ کے آٹھ بیٹوں کے نام ہیں،
الحمد للہ ،یہاں تک تو عِلم أعداد،عِلمِ جُفر،عِلمِ ہندسہ(عربی کا ہندسہ نہیں)،اور حروفِ أبجد کی تاریخ کا سرسری جائزہ ہوا،
اب اِن شاء اللہ ، یہ دیکھتے ہیں کہ عربی حروفِ تہجی کو رومن ترتیب کے مُطابق حروفِ أبجد کیوں بنایا گیا؟؟؟ 
جی ہاں ، یہ واقعتاً ایک خلاف ِعادت اورخلافِ حقیقت کام تھا ،  جو اِس لیے کیا گیا کہ عربی کے حروف تہجی کو رومن کے حروف تہجی کی ترتیب میں لا کر ، انہیں وہی عددی قدر ، value of word  دی جا سکے جو  عددی قدر ، رومن حروف کے لیے  عِلمِ أعداد میں مقرر کی گئی تھی،،،اور یوں اُس عددی قدر کو عربی حروف پر بھی اُسی طرح برقرار رکھا جا سکے ، تا کہ ناموں اور دیگر اِلفاظ کے أعداد جاننے ، یا کِسی بھی نام یا لفظ کی أعدادی قیمت یا حیثیت جاننے میں آسانی ہو،،،اور اِس کے ساتھ ساتھ بلکہ اصل میں اِس کے پسِ پردہ وہ غلط عقیدہ بھی کار فرما رہے جِس کی بنا پر یہ أعداد مقرر کیے گئے ، 
کیونکہ اگر حروفِ تہجی کو محض علامات أرقام ( نمبرز ) ہی دینا مقصود ہوتا تو اِن کی ترتیب بدلنے کی قطعاً کوئی ضرورت نہیں تھی ، اِس بات کو ذیل میں دیے گئے نقشے کی مدد سے با آسانی سمجھا جا سکتا ہے :::
جب عربی کے حروف تہجی   کو رومن حروف کی عددی قدر  دینے کی کاروائی کی گئی تو عربی کے حروف تہجی کی ترتیب بدل کر نئی ترتیب کو کچھ الفاظ کی صُورت دی گئی ، وہ الفاظ درج ذیل ہیں  :::
عربی  حروف
Arabic Alphabet
عددی  قدر
Numbered Value
خود ساختہ ابجد کے مجموعات رومن حروف کی موافقت میں
عربی  حروف
اِس خاکے کو بغور دیکھنے سے پتہ چلتا ہے کہ عربی حروف تہجی کی اس ترتیب کو  ،صوتی طور پر  بھی (فونیٹکلی) رومن حروف  کے ساتھ ملا نے کی کوشش کی گئی ہے تا کہ دھوکہ دہی مضبوط ہو سکے ، جیسا کہ  ABCD کو ابجد ، KLMN کو کلمن، QRST کو قرشت ۔
Arabic Alphabet
عددی  قدر
Numbered Value
ا (اَلِف )
1


س
60
ب
أبجد
2


ع
سعفص
70
ج
3


ف
80
د
4


ص
90






ھ
ھوز
5


ق
100
و
6


ر
قرشت
200
ز
7


ش
300




ت
400
ح
حطی
8




ط
9


ث
ثخذ
500
ی
10


خ
600




ذ
700
ک
20




ل
کلمن
30


ض
ضظخ
   800
م
40


ظ
900
ن
50


خ
1000







مندرجہ بالا نقشے کو دیکھ کر بہت واضح طور پر سمجھ آتا ہے کہ یہ"""عِلمِ جفر"""کے"""حروفِ أبجد"""اصل میں عربی کے حروفِ تہجی کی بگاڑی ہوئی ترتیب ہیں ، تا کہ رومن حروفِ تہجی کی ترتیب کے زیادہ سے زیادہ قریب ہو جائیں کیونکہ اِس ’’’عَلمِ أعداد‘‘‘ کی اصل اُن رومن حروف پر قائم تھی ، لہذا ،
A B C D  کا"""أبجد"""اور KLMN کا"""کلمن"""اور QRST کا""" قرشت """وغیرہ کو قائم مقام بنایا گیا ،
کچھ دیر پہلے ذِکر کیا گیا ہے کہ اگر عربی حروفِ تہجی کو ارقام(نمبرز )دینا ہی مقصد ہوتا تو اُنکی ترتیب بگاڑنے کی ضرورت نہیں تھی لیکن جِن عقائد کی بُنیاد پر یہ نمبر سسٹم بنا تھا اُنکی ترویج اُسی صورت میں ہو سکتی تھی کہ اُن کواُن اپنے حروف کے نمبرز کے مطابق رکھا جائے ورنہ دیوی دیوتاؤں کے نمبر غلط ہو جاتے ، وَلاحَولَ وَلا قُوَّۃَ  اِلّابِا للَّہ ۔
بعض کتابوں میں عدد کو صرف (9)تک محدود رکھا گیا ہے ، اور ہر(9)حروف کے بعد اگلے حروف کو پھر ایک سے (9) تک گنا گیا ہے ، اِس طرح بھی عددی رقم میں کوئی فرق نہیں آتا کیونکہ صفر کی کوئی قوت نہیں رکھی گئی اور عددی رقم بناتے ہوئےاُس کی موجودگی اور غیر موجودگی کوئی اثر نہیں رکھتی، 
اِسلام کے حقیقی عِلم یعنی قرآن و سُنّت اور صحابہ رضی اللہ عنہم أجمعین کے أقوال و أفعال سے مُسلمانوں کو دُور رکھنے  کے لیے لوگوں نے نام نہاد"""باطنی علوم"""اور"""علومِ اھلِ بیت"""اور علمِ کلام اور فلسفہ اور علمِ منطق کے نام سے مختلف گمرا ہ کرنے والے أفکار اور عقائد مسلمانوں میں داخل کیے ، جبکہ اہلِ بیت رضی اللہ عنہم اِن سب خُرافات سے پاک ہیں،
اِن"""شیطانی عُلوم"""کی گمراہی سب سے زیادہ پہلے دو دروازوں سے داخل کی گئی:
(1)نام نہاد"""باطنی علوم"""اور، (2)"""علومِ أھلِ بیت"""کے دروازوں سے،
[[["""علمِ أعداد"""یا """علمِ جفر"""کی مختصر سی تاریخ اوپر بیان کر چکا ہوں]]]
"""علمِ أعداد"""اور خاص طور پر"""علمِ جفر"""کو بے أصل اور بے حقیقت"""علومِ أھلِ بیت"""میں شمار کیا گیا اور مُسلمانوں کے اِیمان پر ڈاکہ ڈالا گیا ، اور لُٹ جانے والے مُسلمان ، جو اللہ کا نام لے کر اپنے ہر کام کا آغاز کیا کرتے تھے ، یا اُنہیں ایسا کرنا چاہیے تھا ،"""علومِ باطنیہ"""یا"""علومِ أھلِ بیت"""کے جھانسے میں آ کر اللہ کا نام فراموش کرنے لگے اور اللہ کے ناموں کو ، پیارے پیارے ناموں کو أعداد کی شکل میں لکھنے لگے ، جی ہاں ، ایسا ہی ہوا اور ہو رہا ہے،[2]
اللہ نہ کرے کہ آپ اُن میں سے ہوں جو کچھ لکھتے ہوئے آغاز میں"""بِسمِ اللَّہ الرَّحمٰن الرَّحیم"""لکھنے کی بجائے"""786 ، ۷۸۶"""لکھتے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ یہ أعداد """ بِسمِ اللَّہ الرَّحمٰن الرَّحیم"""کا  بدل ہیں اور جو عقیدت اِن پاک اِلفاظ یعنی"""بِسمِ اللَّہ الرَّحمٰن الرَّحیم"""سے ہونی چاہیے وہ اُن بے وقعت أعداد سے رکھتے ہیں ،
اگر کوئی یہ کہے کہ ہمیں اِن سے کوئی عقیدت نہیں تو یہ بات خود کہنے والے کے لیے بھی قابلِ قبول نہیں ہو گی اگر وہ غور کرے کہ اگر عقیدت نہیں تو پھر اللہ اور اُسکے دو دوسرے ناموں یعنی"""الرحمٰن"""اور"""الرحیم"""کی جگہ یہ عدد کیوں لکھتے ہو  ؟؟؟
کچھ لوگ اپنی اِس غلطی کو  ایک اور غلط فلسفے میں چھپانے کی کوشش میں کہتے ہیں کہ ، اللہ کے ناموں کی بے ادبی ہونے سے بچانے کے لیے ایسا کرتے ہیں ،
کوئی اِن سے پوچھے کہ جناب ، کسی کتابت کی ابتداء میں""" بِسمِ اللَّہ الرَّحمٰن الرَّحیم""" لکھنا فرض نہیں ، بلکہ  کسی بھی اچھے اور نیک کام کی ابتداء میں """ بِسمِ اللَّہ الرَّحمٰن الرَّحیم"""پڑھنا اور کہنا لازم ہے ،
تو پھر آپ کو کیا مُصیبت ہے کہ آپ  اللہ تبارک وتعالیٰ کے ناموں کو اعداد میں تبدیل کرتے ہیں ،
ذرا سوچیے کہ اِس شیطانی عمل کی وجہ سے آپ نے تو """ بِسمِ اللَّہ الرَّحمٰن الرَّحیم""" لکھا اور نہ ہی پڑھا ، اور شیطان کے اِس دھوکے کا شِکار رہے کہ آپ نے اپنی کتابت کی ابتداء اللہ کے نام سے کی ہے ،  
جی ہاں ، حقیقت یہ ہی  ہے کہ""" بِسمِ اللَّہ الرَّحمٰن الرَّحیم""" کی جگہ اعداد لکھنے والے یہ ہی سمجھ رہے ہوتے ہیں کہ وہ اپنی تحریر کا آغاز"""اللہ"""کے نام سے """الرحمٰن"""کے نام سے """الرحیم """کے نام سے کر رہے ہیں، جبکہ وہ اپنی تحریر کاآغاز شیطان کے راستے پر چلتے ہوئے کر رہے ہوتے ہیں،مگر سمجھتے نہیں،اور سمجھیں بھی کیسے اِنسانی شیطانوں نے اُنہیں اللہ اور اُسکے ناموں سے دُور کرنے کے لیے بڑے خوش رنگ پردے اُنکی عقلوں پر ڈال رکھے ہیں،
مُسلمانوں کے عظیم قدر و منزلت والے بزرگوں پر جھوٹ باندھ باندھ کر مسلمان کو کُفریہ اور شرکیہ عقائد کا خُوگر بنا دِیا ہے اور مُسلمان کو اللہ اور اُس کے رسول صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی اطاعت سے ہٹا کر بزرگوں کی اندھی تقلید پر لگا دِیا ہے، اور وہ لوگ اللہ جلّ جلالہُ کے اِس فرمان مُبارک کی عملی تصویر دکھائی دیتے ہیں کہ :
﴿ وَإِذَا قِیلَ لَہُمُ اتَّبِعُوا مَا أَنزَلَ اللّہُ قَالُوا بَل نَتَّبِعُ مَا أَلفَینَا عَلَیہِ آبَاء نَا أَوَلَو کَانَ آبَاؤُھُم لاَ یَعقِلُونَ شَیئاً  وَلاَ یَہتَدُونَ ::: اور جب اُن سے کہا جاتا ہے کہ جو اللہ نے نازل فرمایا اُس کی پیروی کرو ، تو کہتے ہیں ، (نہیں) بلکہ ہم تو اُس کی پیروی کریں گے جِس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے ، اور خواہ اُن کے باپ دادا نہ ہی کِسی چیز عقل رکھنے والے رہے ہوں اور نہ ہی ہدایت پائے ہوئے لہذا مکھی پر مکھی مارنا اب مسلمانی ہو گئی ہے اور جو حق بات کرے اُسے طرح طرح القابات دے کر مردود قرار دیا جانا إِیمان کا تقاضا ٹھہرا،
اللہ کے بندو ، اللہ اور اُس کے کلام ، اور اُس کے رسول محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم پر إِیمان رکھنے والو، سوچیے ، تحمل اور بردباری سے تدبر فرمائیے ،،،،، کہ ،،،،،
 اِن اعداد کی آخرت میں کوئی اہمیت ہوتی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے اپنے خطوط کے آغاز میں یہ اعداد کبھی تو لکھوائے ہوتے ،
اللہ کے ناموں کی بے ادبی کا اندیشہ تو اُس وقت بھی تھا ،   لہذا  رسول اللہ صلی علیہ وعلی آلہ وسلم نے اللہ کے نام لکھوانے کی بجائے یہ اعداد لکھوائے ہوتے ، یا کوئی اور اشاراتی الفاظ لکھوائے ہوتے ، خاص طور پر اُن خطوط پر جو کافروں کو اِرسال کیے گئے ،
اور پھر اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین کو بھی ضرور بتایا ہوتا، کہ اپنے خطوط یا کتابت کی ابتداء میں اللہ کے نام مت لکھنا کیونکہ بے ادبی کا اندیشہ ہے ، لہذا فُلاں فُلاں عدد لکھا کرو یا یا فُلاں فُلاں اشاراتی الفاظ لکھا کرو،
لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے ایسی کوئی تعلیم اشارۃً بھی نہیں فرمائی ،
ہم اِس حق پر إِیمان رکھتے ہیں کہ رسول اللہ محمد صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلمساری مخلوق کے لیے رحمت اور خاص طور پر اپنی اُمت کے لیے﴿رَؤُ وفٌ رَّحِیمٌتھے ،
اور دِین کو آسانی اور نرمی قرار فرماتے تھے ﴿الدِّینُ  یُسرٌ:::دِین آسانی ہےصحیح الجامع الصغیر/حدیث 3420،
اور اپنی اُمت کو نرمی اور آسانی کی تعلیم فرمایا کرتے تھے ،کہ ﴿بَشِّرُوا وَ لا تُنفِّرُوا، وَ یَسِّرُوا وَ لا تُعَسِّرُوا:::خوش خبری سناؤ اورنفرت نہ پھیلاؤ،اور نرمی کرو سختی نہ کروصحیح مُسلم/حدیث 1733(4622)/کتاب الجھاد و السِیر/باب3،
دوسری روایت میں فرمایا﴿یَسِّرُوا وَ لا تُعَسِّرُوا  وَ سَکِّنُوا وَلا تُنفِّرُوا ::: آسانی کرو اور سختی نہ کرو اور سکون پہنچاؤ نفرت نہ پھیلاؤ صحیح مُسلم/حدیث 1734(4626)/کتاب الجھاد و السِیر/باب3،
بظاہر آسانی اور نرمی تو یہ دکھائی دیتی ہے کہ قرآن پڑھنے،نماز پڑھنے ، ذِکر اذکار کرنے،جیسی با مشقت نیکیاں کمانے کی بجائے، اتنی با مشقت نماز سِکھانے کی بجائے، جِس میں حمد و ثناء،تسبیحات،قرأتِ قُران،کرنی ہوتی ہیں،اوروہ تسبیحات اورقُرانی سورتیں یاد کرنا پڑتی ہیں، آسانی والا تو یہ تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم ، اپنی اُمت کو اِن کی عددی قدر بتا دیتے کہ جِس نے یہ عدد کہا پورے قرآن کا ثواب ہو گیا، اور جِس نے یہ عدد کہا اُس لیے دو رکعات نماز کا ثواب ہوگا ، جِس نے یہ عدد کہا اُس کے لیے چار رکعات نماز کا ثواب ہو گیا ، جِس نے یہ عدد کہا اُس کے لیے اتنا اتنا ثواب ہے وغیرہ وغیرہ ،
لیکن ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی تعلیمات میں کہیں بھی ایسا کچھ نہیں ملتا،
"""عَلمِ أعداد"""اور"""عَلمِ جفر"""کے مطابق تو اتنی محنت کی ضرورت نہیں تھی ، سورتیں یاد کرنے اور کروانے کی بجائے ہر سورت کا ایک نمبر نکال لیتے ، اور اُس پر عمل فرماتے اور اپنی اُمت کو بھی سِکھاتے ،پوری نماز کے دو چار نمبر ہی بنتے ، پھر دن اور رات میں خواہ کروڑں رکعت پڑھ لیتے ، اِن علوم کے ماننے والوں کے"""پیرانِ طریقت"""ایک ایک دِن اورایک ایک رات میں، غالباً اِسی طرح کی ہزاروں رکعتیں پڑھتے ہوں گے،
اِنسانی شیطانوں نے اپنے پیر و مرشد ابلیس کی ہدایات کے مطابق حروف کی جو عددی قدر مقرر کی ہے اگر اُس کے مُطابق"""بِسمِ اللَّہ الرَّحمٰن الرَّحیم"""کا عددی مجموعہ بنایا جائے تو بھی یہ 786 ۷۸۶ نہیں بنتا ؛؛؛ ملاحظہ فرمائیے :::: 
ب
2
ا
1
۱
1
ا
1
س
60
ل
30
ل
30
ل
30
م
40
ا
1
ر
200
ر
200

Total=102
ل
30
ح
8
ح
8


ہ
5
م
40
ی
10



Total=67
ا
1
م
40




ن
50

Total=289





Total=330


کلی مجموعہ  =  Grand Total = 788
اور اگر بسم کو باسم  کے طور پر عدد نکالے جائیں  تو سب چار حروف (اکیس الفاظ ) کا مجموعہ778 ہوا،
Total of all four words, (21letters)102+67+330+279=778
جو کہ اَس"""عِلمِ أعداد"""کے قانون کے مُطابق مزید جمع کیا جانا چاہیے یہاں تک کہ ایک عدد بن جائے پس 778 کا عدد 22 ہوا،
and as per the rules of this system it should be added till one single number appears, in this case fruther addition will be 7+7+8=22
اور مزید جمع کرنے پر22 کا عدد 4 ہوا،
and more to get a single number, 2+2 =4
اور اگر ہر ایک حرف یعنی ب، س، م ، وغیرہ کا عدد الگ الگ رکھتے ہوئے اُنہیں جمع کیا جائے، اور تین عدد والی رقم  پر رکا جائے تو 788 بنتا ہے ، اور اگر آخر تک ایک عدد بنانے تک چلا جائے تو 5 بنتا ہے ،
اور اگر ہر لفظ کا ایک عدد بنا کر اُنہیں جمع کیا جائے یعنی ، بسم کے 102 کا 10+2 ہوا 12 اور پھر 1+2 ہوا 3 ، تواِس طرح سب کے سب چاروں لفظوں کا ایک عدد 4 بنتا ہے ،
اور اگر ہر حرف کا عدد الگ الگ رکھتے ہوئے ، لیکن ، ہر (9) کے بعد پھر سے (9) تک عدد لگا کر اِن حروف کا عدد نکالا جائے تو بھی 4 ہی بنتا ہے ،
اور اگر ہر لفظ کا ایک عدد بنا کر اُنہیں جمع کیا جائے ، لیکن ہر حرف کو ہر (9) کے بعد پھر سے (9) تک عدد لگا کر حساب کیا جائے تو پھر چاروں لفظوں کا ایک عدد  12+13+24+18 = 67 اور پھر  4 ہی بنتا ہے ،
اِس مضمون کو پڑھنے والوں میں سے اگر کوئی خود حساب کر کے دیکھنا چاہے تو خیال رکھے کہ، لفظ """اللہ"""میں ایک"""اَلِف"""جو کہ دوسری لام کے اوپر کھڑے زبر کی صورت میں لکھا جاتا ہے ، بھی گنا جائے گا اور لفظ"""الرحمٰن"""میں میم  کے اوپر بھی اِسی طرح کھڑی زبر ہے اور یہ دونوں زبریں """ اَلِف """کی قائم مقائم ہیں لہذا اِن کی عددی قدر بھی جمع کی  جائے گی ، تو اسطرح"""بِسمِ  اللَّہ  الرَّحمٰن  الرَّحیم"""کا عدد کِسی بھی طور"""786 ،  ۷۸۶"""ہر گِز نہیں، 
یہاں ایک دو باتیں اور بھی قابل غور ہیں :::   
::::::: عِلمِ أعداد والے جب کِسی لفظ کا عدد نکالتے ہیں تو اُس وقت تک جمع کرتے ہیں جب تک کہ ہر لفظ کا ایک  عدد (Single Digit Number) نہ بن جائے جیسے کہ ’’’ بِسمِ ‘‘‘ ایک لفظ ہے اور اِس کے حروف کے أعداد کو اُن کے   قانون کے مُطابق 40+60+2=102 اور پھر 102 کو دوبار جمع کر کے 10+2=12 اور پھر 12کو جمع کیا جائے،
 1+2=3 یا براہ راست دس میں سے صفر کو نکال کر جمع کیا جائے تو بھی 1+2=3 بنتا ہے ۔ 
::::::: اِسی طرح لفظ"""اللہ"""کا عدد 4 ، لفظ"""الرحمٰن"""کا  6 ، اور"""الرحیم"""کا  9 بنتا ہے ، لہذا پوری  عِبارت"""بِسمِ اللَّہ الرَّحمٰن الرَّحیم"""کا عددی مجموعہ 9643 ہونا چاہیے ، لیکن جھوٹ کے پاؤں تو ہوتے نہیں لہذا  جہاں جو من میں آیا کر لیا ، جو پیر و مُرشد نے سِکھایا سیکھ لیا اور کرتے ہی چلے گئے۔
::::::: ہلکی پھلکی عقلی بحث :::::::
:::::::  کوئی اِن سے پوچھے کہ چار اِلفاظ کا عددی مجموعہ چار ہندسی (ٖFour digit number ) ہونا چاہیے تین ہندسی (Three digit number ) کیوں ؟؟؟
 اگر یہ کہیں کہ ، تین ہی بنانا ہوتا ہے تو پھر کچھ سوال اُٹھتے ہیں :::
::::::: (1) ایک طرف تو یہ لوگ یہ کہتےہیں کہ""" کِسی لفظ کے حروف کی عددی قیمت کو ایک ہندسہ، ایک عدد (A Single digit number)حاصل ہونے تک جمع کیا جائے،اور اگر بہت سے اِلفاظ کا مجموعہ(کوئی فقرہ ،جُملہ،عِبارت وغیرہ)ہو تو اُس کے ہر لفظ کا ایک ایک ہندسہ بننے کے بعد اُن سب ہندسوں کو جمع کرتے جائیے یہاں تک کہ ساری عِبارت کا ایک اکیلا ہندسہ نکل آئے"""
اور دوسری طرف """ بِسمِ اللَّہ الرَّحمٰن الرَّحیم""" کا عددی مجموعہ بناتے ہیں تو تین عدد والی رقم (Three digit number )پر رُک جاتے ہیں ، تو اِن کی کون سی منطق دُرست ہے ، اور کون سا جھوٹ سچ ہے؟؟؟ 
::::::: (2) اگر تین ہندسی رقم ہی بنانی ہوتی ہے تو پھر اِس چار لفظی عِبارت میں سے کونسے لفظ کی عددی قیمت کو چھوڑتے ہو، اور کیوں چھوڑتے ہو ؟؟؟
::::::: (3) اور اگر کِسی بھی لفظ کو چھوڑتے نہیں ہو ، لیکن کوئی سے بھی دو اِلفاظ کی عددی قیمت کو جمع کر کے ایک عدد بنا لیتے ہو تو یہ بتاؤ کہ"""بِسمِ"""اور"""اللہ"""کے أعداد کو جمع کر کے ایک کیوں بنایا گیا ہے ؟؟؟
"""اللہ """اور"""الرحمٰن"""کے أعداد کو جمع کیوں نہیں کیا گیا ؟؟؟
یا"""اللہ"""اور"""الرحیم"""کے أعداد کو جمع کیوں نہیں کیا گیا ؟؟؟
یا"""الرحمٰن"""اور"""الرحیم"""کے أعداد کو جمع کیوں نہیں کیا گیا ؟؟؟
اِس طرح کے کئی اور سوال کیے جا سکتے ہیں ، جِن کا کوئی جواب اُن کے فلسفے میں نہیں ، اور نہ ہی کہیں اور ہے،
::::::: اگر"""عِلمِ أعداد """ ،"""عِلمِ جفر"""وغیرہ والے ، راہِ فرار اختیار کرتے ہوئے یہ کہیں کہ جتنے الفاظ کی عِبارت ہے اُتنے ہی عدد کا مجوعہ بنایا جائے گا ، یعنی ہر لفظ کا ایک عدد حاصل کر لیا جائے اور پھر مزید جمع نہ کیا جائے ، تو اُن کی اور اُن کے"""شیطانی عِلم"""کی حالت پہلے سے بھی زیادہ خوفناک نظر  آتی ہے کیونکہ ،"""بِسمِ اللَّہ الرَّحمٰن الرَّحیم"""میں چار لفظ ہیں،لہذا اِس کے عددی مجموعے کوجب چار ہندسی رکھا جائے گا ، تو"""9643""" بنتا ہے ،
و الحَمدُ لِلَّہِ الذِّی بِنَعمَتِہِ تَتَمُّ الصَّالحَات ، اور تمام تر خالص اور سچی تعریف اللہ کے لیے ہے جِس کی نعمت سے ہی کوئی اچھا کام پورا ہوتا ہے ،
﴿     فَاعْتَبِرُوا يَا أُولِي الْأَبْصَارِ ::: پس عِبرت حاصل، اے بصیرت والو
::::::: اگر بالفرض یہ مان بھی لیا جائے کہ"""بِسمِ اللَّہ الرَّحمٰن الرَّحیم"""کا عددی مجموعہ یا عددی قدر و قیمت  """786"""ہی بنتی ہے تو بھی سوچنے کی بات ہے کہ اللہ پاک کے پاکیزہ ناموں کو أعداد میں پکارنا یا لکھا جانا چاہیے یا اُن حروف اور اِلفاظ میں جِن میں اللہ تعالیٰ نے یا اُس کے رسول صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے ہمیں بتایا ہے ؟؟؟ 
اِن خُرافات کو دُرُست ماننے والوں کو اگر کہا جائے کہ اللہ کے ناموں کو أعداد میں بدلنے سے پہلے آپ اپنے نام  أعداد میں رکھیے اور اپنے آباء و أجداد،أزواج و أولاد،پیروں،مرشدوں،حضرتوں وغیرہ کے نام أعداد میں رکھیے،
دیکھیں تو سہی کیسا لگے گا جب آپ  یہ کہیں یا لکھیں گے کہ حضرت 201 ولد 420  یا 302 ولد 608 وغیرہ وغیرہ ،
 جب نکاح پڑھوائیں تو پھر ایسا ہوا کرے کہ مسمی 258 ولد 763نے مسمات 457 بنت 967 کو اپنے نکاح میں قبول کر لیا ، اور اِس طرح جتنا بھی سوچتے جائیے ، خُرافات کا لامتناہی سلسلہ ہے ، واللَّہ  المستعان،
اللہ کی واحدانیت میں سے ایک اُس کے ناموں اور صِفات کی واحدانیت ہے ، جِسے توحید فی الأسماءِ و الصِّفات یعنی ناموں اور صِفات کی توحید کہا جاتا ہے ، منافقوں نے اِس توحید سے مسلمانوں کو دور کرنے کے لیے یہ نام نہاد"""شیطانی علوم """مسلمانوں میں داخل کیے اور اُنہیں اپنے رب کی پہچان سے بہت دور کر دِیا ، اُس کو باطل معبودوں کے نام سے پکارا جانے لگا ، اور اُس سے بڑھ کر یہ کہ اُس کے نام اعداد یعنی نمبرز میں لکھے جانے لگے ، تو کیسا تعلق رہا بندے کا اپنے رب سے ، عِزت ومحبت و اطاعت کا ، یا بے عِزتی و عداوت و نافرمانی کا،
﴿     فَاعْتَبِرُوا يَا أُولِي الْأَبْصَارِ ::: پس عِبرت حاصل، اے بصیرت والو
اللہ سُبحانہ ُ و تعالیٰ ، ہمیں حق پہچاننے ،جاننے،سمجھنے اور کِسی ہچکچاہٹ،ضِد اور تعصب کے بغیر اُس پر عمل کرنے کی توفیق عطاء فرمائے،


الحمد للہ ، اِس موضوع سے بالکل جُڑا ہوا موضوع"""اللہ نہیں ہے خُدا """ کے عنوان سے بیان کر چکا ہوں، اور الحمد للہ ، اِس ربط پر مطالعہ کے لیے میسر ہے : http://bit.ly/1pRDuWN،
  و الحَمدُ  لِلَّہِ  رَبِّ العَا لَمِین الذی تتم بعونہ الصالحات  :::اور بے شک خالص تعریف اللہ رب العالمین کی ہے، جس کی مدد سے ہی نیکیاں مکمل ہو پاتی ہیں ۔
والسلام علیکم،
طلبگارِ دُعا ، عادِل سہیل ظفر۔
تاریخ کتابت  ::: 21/12/1424ہجری ،بمطابق،12/02/2004 عیسوئی ۔
تاریخ  تجدید و تحدیث :::  27/02/1435ہجری ،بمطابق،31/12/2013 عیسوئی ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اِس مضمون کا برقی نسخہ درج ذیل ربط سے نازل کیا جا سکتا ہے :
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عین ممکن ہے مضمون میں بنے ہوئے ٹیبلز یہاں ، یا کسی ویب برؤزر میں ٹھیک سے دکھائی نہ دے سکیں ، لہذا اُنہیں سمجھنے کے لیے برقی نسخے کا حصول اِن شاء اللہ مدد گار ہو گا ۔


[1] الحمد للہ ، علم نُجُوم کے بارے میں ایک درس الگ سے ہو چُکا ہے جِس کو مضمون کی صورت میں بعنوان """ ستارے سیارے اور اُن کی چال"""نشر کر چکا ہوں، جو درج ذیل ربط پر میسر ہے  :
http://bit.ly/181q9Bn   ،،،   اور اِس کے علاوہ بھی کئی فورمز میں نشر کیا جا چکا ہے]]] ، 
[2]   اِن عُلوم کو شیطانی کہنے پراگر کِسی قاری کو اعتراض ہو ، تو وہ"""ستارے اور اُن کی چال """کا مطالعہ فرمائے ، اِن شا اللہ اعتراض رفع ہو جائے گا ، یہ مضمون اِس ربط پر میسر ہے :        
    http://bit.ly/181q9Bn

8 comments:

  1. السلام وعلیکم ورحمۃ اللہ
    نوٹ: اس سے پہلے پوسٹ کئے کمینٹ کو ڈیلیٹ کر دیا جائے کیونکہ ان کے ریپلائی مجھے موصول نہیں ہوسکتے۔

    یہ دراصل وہ موضوع ہے جس پر میں ایک مدت سے واضح دلائل اور قرآن و حدیث کے حوالہ جات کی تلاش میں ہوں۔۔۔ اس چیز سے قطع نظر کہ آپ نے ذاتی طور پر اس میں اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے اور جتنی بلاحوالہ برائیاں ان علوم کے متعلق کی ہیں، واضح طور پر یہاں مستقبل کےاندازے لگانے سے متعلق علوم دو بڑے گروپس میں بانٹے جاسکتے ہیں:
    Knowledge based upon calculations and observations
    Knowledge which involves contact with Jins/Shaitans etc.
    آخر الذکر کے بارے میں قرآن و حدیث میں واضح احکام موجود ہیں کہ یہ کفر ہیں اور شرک میں مبتلا کر دیتے ہیں لہٰذا ان کی حرمت میں کوئی شک نہیں
    مگراول الذکر جن میں علم النجوم،، علم الاعداد وغیر آتے ہیں جن کی بنیاد میں تحقیق بھی ہے اور وقت کے ساتھ ساتھ جائزہ لے کر سیکھنا بھی ہے، اور خود قرآن میں جگہ اللہ کی تخلیقات کی مثالیں بھی ہیں ، ان میں سوچنے اور تحقیق کرنے والوں کے لئے نشانیاں بھی ہیں اور یہ بھی ہے کہ تم کائنا ت میں کہیں بے ترتیبی نہیں پاؤ گے ۔۔۔
    آپ سے درخواست ہے کہ صرف وہ آیات یا احادیث اپنے حوالے کے ساتھ فراہم کیجئے جن میں اول الذکر علوم کی حرمت واضح طور پر موجود ہو۔۔۔ یاد رہے کہ یہاں علماء اکرام کی تفاسیر اور آپ کی ان باتوں کی قطعاً اھمیت نہیں ہوگی جن میں واضح قرآن وسنت کا حوالہ موجود نہ ہو۔۔۔۔۔

    جزاک اللہ خیرا و کثیرا۔۔۔۔

    ReplyDelete
  2. و علیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ
    جزاک اللہ خیراً بھائی فرُخ وحید ،
    آپ کی خواہش کے مطابق آپ کے پہلے والے تبصرے کو حذف کر دِیا ہے ، اور دوسرے تبصرے کے جواب میں گذارش ہے کہ :::
    محترم بھائی علم الاعداد اور علم جفر کے بارے میں جو تاریخ بیان کی گئی ہے اُس کے حوالہ جات کے لیے آپ ان علوم سے متعلق کتابیں ملاحظہ فرما لیجیے ، میں نے قصداً اُن کے نام ذِکر نہیں کیے ،
    اعداد و شمار اور مشاھدات کی بنا پر کوئی معلومات یا علم حاصل کرنا جائز یا نا جائز اللہ تبارک و تعالیٰ اور اس کے رسول کریم محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے احکام اور اُن کی مقرر کردہ حدود کے مطابق ہی قرار پاتا ہے ،
    ہمیں کفریہ ، شرکیہ اور باطل عقائدپر مبنی اعداد و شمار اور مشاھدات اِستعمال کرنے کی اجازت نہیں ،
    دُنیا میں بہت سے علوم ہیں جن میں اعداد و شمار اور مشاھدات استعمال ہوتے ہیں ، لیکن سب ہی علوم اور اُن میں اِستعمال ہونے والے اعداد و شمار اور مشاھدات اور اُن اعداد و شمار اور مشاھدات کےتمام ہی طریقوں اور وسائل پر ممانعت کا حکم نہیں لگایا جاتا ،
    علم النجوم ، علم الاعداد ، علم الارقام ، وغیرہ سب کے سب قبل از اسلام کی کافر قوموں کے کفریہ عقائد پر مبنی ہیں ، سوائے علم الرمل کے ، لیکن وہ ایک نبی علیہ السلام کو دیا گیا تھا ، کسی اور پاس اُس کے ہونے کی کوئی خبر کوئی تصدیق نہیں ملتی ، بلکہ نہ ہونے کی تصدیق ملتی ہے ،
    اِن میں سے اگر کوئی بات حق ہوتی ، مُسلمانوں کے لیے ، اِنسانوں کے لیے خیر والی ہوتی تو اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی کتاب میں یا اپنے رسول کریم محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی سُنّت شریفہ میں اُس کی خبر ضرور کروا دیتا ،
    اللہ اور اس کے رسول محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی طرف سے الفاظ ، یا حروف ، یا ارقام وغیرہ کی عددی قوت نام کی کسی چیز کی ہمیں کوئی خبر نہیں دی گئی ،
    تاریخ سے ثابت ہے کہ یہ سابقہ کافر امتوں کے علوم میں سے تھا جس کی بنیاد اُن کے کفریہ عقائد تھے ، مسلمانوں میں اسے کچھ نیک لوگوں کے ناموں کے پردے میں برامد کیا گیا ہے ،
    اگر آپ اس کے علاوہ کوئی اور تاریخ ثابت کر سکتے ہیں تو خوش آمدید پیارے بھائی ،
    رہا معاملہ اللہ تبارک وتعالیٰ کی مخلوقات میں غور فکر کرنے کا ، تو میرے بھائی اُس غور و فکر کا بنیادی مقصد اللہ جلّ جلالہُ کی ذات شریف کو پہچاننا اُس کی قوت و قدرت کو جاننا اور اُس پر إِیمان کو پختہ کرنا ہے ، نہ کہ مستقبل کے قیافہ لگانا ، اور نہ ہی انسانوں کو مختلف اقسام میں تقسیم کر کے اُن کی شخصیات کے بارے میں فیصلے صادر کرنا ،
    میرے اس مضمون میں ایک اور مضمون کا حوالہ اور ربط بھی ہے """ستارے سیارے اور ان کی چال """ کچھ وقت نکال کر اُس کا مطالعہ فرمایے ، اِن شاء اللہ اشکال دُور ہو جائیں گے ،
    اگر برقرار رہیں تو خوش آمدید ، و السلام علیکم۔

    ReplyDelete
  3. This comment has been removed by a blog administrator.

    ReplyDelete
  4. السلام علیکم ایک سوال لے کر حاضر ہوی ہوں خاوند کا نام عبدالقدیر ہے اور بی وی کا نام انیلہ ہے ان کے درمیان اختلاف چل رہا ہے ، حساب کیا کہہ رہا ہے کیا یہ بہتر میاں بیوی بن سکتے ہیں

    ReplyDelete
  5. و علیکم السلام ورحمۃ اللہ و برکاتہ
    محترمہ بہن ، ناموں کا اِنسان کی زندگی اور اُس سے متعلق معاملات پر کوئی اثر نہیں ہوتا ، اور نہ ہی انسان کی شخصیت پر، آج مسلمانوں میں ، محمد ، ابو بکر ، عمر ،عثمان ، علی، زید، اسامہ ،فاطمہ ، عائشہ ، خدیجہ ، رقیہ جیسے ناموں والے بے شمار ایسے افراد ہیں جن کی شخصیات اسلام تو کیا ، انسانیت کے لیے بھی شرمندگی کا باعث ہیں ، اگر نام شخصیت اور اُس کی زندگی کے معاملات پر اثر انداز کرنے والے ہوتے تو ایسا ہر گز نہ ہوتا ،
    جن میاں بیوی میں نااتفاقی و نا چاقی وغیرہ رہتی ہے اُن کے مزاج و حالات سمجھے جانے کی ضرورت ہوتی ہے ، میری بہن نہ کہ اُن کے ناموں کی تاثیر سمجھ کر غیر اسلامی عقائد و خیالات پر عمل ہونے کی ،
    اللہ تبارک و تعالیٰ پر توکل کرتے ہوئے ، حقائق کو جاننے اور اُن میں پائے جانے والے مسائل کو جائز طور پر حل کرنے کی کوشش کیجیے ، اللہ پاک خیر عطاء فرمائے گا ، والسلام علیکم۔

    ReplyDelete
  6. ماشااللہ. آپ نے بہت اچھی کوشش کی ہے کہ کسی بھی طرح کے علوم کی غلط پرچھائی ہمارے بنیادی عقائد پہ نہ پڑے یہ بہت اچھی بات ہے. اللہ کے بابرکت ناموں میں تحریف نہ ہو جیسا کہ ظاہر ہے اگر علوم الاعداد کا چلن زیادہ ہوجائے تو یقیناً تحریف ہی نہیں بلکہ مکمل تبدل ہونے کا قوی امکان ہے. تو ظاہر ہے جن علوم کی مجال اللہ اور رسول کے ناموں کو مٹانے جیسی ہو ان علوم کا مسلمانوں سے کوئی تعلق نہیں ہے. بلجہ یہ خدا اور رسول کے وہی دشمن ہیں جنہوں نے انہیں قتل کرنے کی سعی کی. الغرض تحلقیق کوئی بھی ہو. اس کی تخلیق ایجاد اور دریافت کو دیکھا جاتا ہے. آپ کی تحقیق کا اگر اور کچھ نہین تو کم از کم مجھ ایسے کم مایہ مسلمان کے لئیے علم الاعداد کے تعیں ایک الجھن اور شک ہی بہت ہے. اللہ پاک سچ کہنے لکھنے اور ماننے کی سب کو توفیق دے. آمین ہ

    ReplyDelete
  7. ماشااللہ. آپ نے بہت اچھی کوشش کی ہے کہ کسی بھی طرح کے علوم کی غلط پرچھائی ہمارے بنیادی عقائد پہ نہ پڑے یہ بہت اچھی بات ہے. اللہ کے بابرکت ناموں میں تحریف نہ ہو جیسا کہ ظاہر ہے اگر علوم الاعداد کا چلن زیادہ ہوجائے تو یقیناً تحریف ہی نہیں بلکہ مکمل تبدل ہونے کا قوی امکان ہے. تو ظاہر ہے جن علوم کی مجال اللہ اور رسول کے ناموں کو مٹانے جیسی ہو ان علوم کا مسلمانوں سے کوئی تعلق نہیں ہے. بلجہ یہ خدا اور رسول کے وہی دشمن ہیں جنہوں نے انہیں قتل کرنے کی سعی کی. الغرض تحلقیق کوئی بھی ہو. اس کی تخلیق ایجاد اور دریافت کو دیکھا جاتا ہے. آپ کی تحقیق کا اگر اور کچھ نہین تو کم از کم مجھ ایسے کم مایہ مسلمان کے لئیے علم الاعداد کے تعیں ایک الجھن اور شک ہی بہت ہے. اللہ پاک سچ کہنے لکھنے اور ماننے کی سب کو توفیق دے. آمین ہ

    ReplyDelete
  8. ماشااللہ. آپ نے بہت اچھی کوشش کی ہے کہ کسی بھی طرح کے علوم کی غلط پرچھائی ہمارے بنیادی عقائد پہ نہ پڑے یہ بہت اچھی بات ہے. اللہ کے بابرکت ناموں میں تحریف نہ ہو جیسا کہ ظاہر ہے اگر علوم الاعداد کا چلن زیادہ ہوجائے تو یقیناً تحریف ہی نہیں بلکہ مکمل تبدل ہونے کا قوی امکان ہے. تو ظاہر ہے جن علوم کی مجال اللہ اور رسول کے ناموں کو مٹانے جیسی ہو ان علوم کا مسلمانوں سے کوئی تعلق نہیں ہے. بلجہ یہ خدا اور رسول کے وہی دشمن ہیں جنہوں نے انہیں قتل کرنے کی سعی کی. الغرض تحلقیق کوئی بھی ہو. اس کی تخلیق ایجاد اور دریافت کو دیکھا جاتا ہے. آپ کی تحقیق کا اگر اور کچھ نہین تو کم از کم مجھ ایسے کم مایہ مسلمان کے لئیے علم الاعداد کے تعیں ایک الجھن اور شک ہی بہت ہے. اللہ پاک سچ کہنے لکھنے اور ماننے کی سب کو توفیق دے. آمین ہ

    ReplyDelete