Sunday, January 14, 2018

::: جہیز لعنت ، سُنّت یا عادت ؟ :::



::: جہیز  لعنت ، سُنّت یا عادت  ؟ :::

بِسّمِ اللَّہِ الرّ حمٰنِ الرَّحیم

الحَمدُ لِلّہ ِ وحدہُ و الصَّلاۃُ و السَّلامُ عَلیٰ مَن لا نبیَّ   و لا مَعصُومَ بَعدَہ ُمُحمد ا ً  صَلَّی اللَّہُ عَلیہ ِوعَلیٰ آلہِ وسلّمَ ، و مَن  أَھتداء بِھدیہِ و سلک َ  عَلیٰ     مَسلکہِ  ، و قد خسَر مَن أَبتداعَ و أَحدثَ فی دِینِ اللَّہ ِ بِدعۃ، و قد خاب مَن عدھا حَسنۃ :::  اکیلے اللہ کے لیے ہی ساری خاص تعریف ہے اور رحمت اور سلامتی اس پر جِس کے بعد کوئی بنی نہیں اور کوئی معصوم نہیں وہ ہیں محمد  صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم، اور رحمت اور سلامتی اُس پر جِس نے اُن صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی ہدایت کے ذریعے راہ  اپنائی اور اُن صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی  راہ پر چلا، اور یقیناً وہ نُقصان پانے والا ہو گیا جِس نے اللہ کے دِین میں کوئی نیا کام داخل کیا ، اور یقیناً وہ تباہ ہو گیا جِس نے اُس بدعت کو اچھا جانا ۔

السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ،

ہمارے مُعاشرے میں بہت سے کام ، اور بہت سی باتیں ایسی مروج ہو چکی ہیں جو حقیقت سے دُور  ہیں ،

اور ایک ہی کام یا مُعاملے سے متعلق ہونے کے باوجود تقریباً  ایک دُوسرے کی ضِد ہوتی ہیں ،  مختلف ہی نہیں ہوتِیں ، بلکہ مختلف انتہاؤں تک پہنچی ہوتی ہیں ،

ایسے ہی مُعاملات میں ایک مُعاملہ شادی کے وقت  بیٹی کو کچھ دینا ہے ، جِسے عام طور پر""" جہیز""" کہا جاتا ہے ،

کچھ لوگ اِس مُعاملے کو کاروبار بنائے ہوئے ہیں ، اور بیٹیوں والوں کی زندگی اجیرن کیے رکھتے ہیں ،  مُعاشرے میں بہت ہی زیادہ فساد کا سبب بنتے ہیں ،

ایسے لوگوں کے اِس یقینی ناجائز رویے کو دیکھتے ہوئے کچھ لوگوں نے """جہیز"""  دینے کو ہی ناجائز ، حرام ، اور لعنت وغیرہ قرار دے رکھا ہے ،

اور دُوسری طرف کچھ لوگ ایسے ہیں جو """جہیز""" دینے اور لینے  میں موجود اور مروج  غیر اِسلامی ، غیر اِخلاقی، حتیٰ کہ غیر اِنسانی رویوں اور مُعاملات  کے باوجود اِسے سُنّت قرار دیے ہوئے ہیں ،

اور کچھ لوگ اِسے محض ایک مُقامی مُعاشرتی عادت قرار دیے ہوئے ہیں ، جبکہ یہ کام محض ہماری ، یا کِسی بھی اور مُعاشرے کی محض مُعاشرتی عادت نہیں ،

اِن سب مختلف انتہاؤں پر جا ٹکنے کا سبب یہی محسوس ہوتا ہے کہ ہم لوگ کِسی مُعاملے کے بارے میں اُس کی حقیقت جاننے کی بجائے محض چند اِدھر اُدھر کے فلسفوں اور یک طرف قِسم کی خبروں سے مُتاثر ہو کر دِینی، دُنیاوی ، مُعاشرتی  اور ا ُخروی مُعاملات میں فرق رَوا نہیں رکھتے ، اللہ سُبحانہ ُ وتعالیٰ  ہم سب پر حق واضح کرے اور اُسے قبول کرنے کی ہمت عطا ءفرمائے ،

اِن شاء اللہ  ، اِس مضمون میں ہم  """جہیز دینے  """ کے معاملے کو اللہ تبارک  و تعالیٰ کے  دِین کی روشنی میں سمجھتے ہیں ،

قارئین کرام ، توجہ فرمایے ،  کسی بھی عمل کو جائز یا نا جائز قرار دِینے کے لیے ہمیں اللہ عزّو جلّ ، یا ،  اللہ کے آخری نبی اور رسول محمد  صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کا کوئی حکم درکار  ہوتا ہے ،  فقط کِسی کے کِسی کام کو جائز یا ناجائز سمجھنے یا قرار دینے سے کوئی کام جائز ناجائز نہیں ہوجاتا ہے ،

اِنسان کے مُعاشرتی مُعاملات میں عموماً دو قِسم کے مُعاملات ہوتے ہیں ،

::: (1) ::: عقائد پر مبنی ، جِن میں عِبادات شامل ہوتی ہیں ، ہر وہ کام جو  کوئی مُسلمان  نیکی سمجھ کر کرتاہو، اللہ کی رضا کا سبب سمجھ کر کرتا ہو، آخرت کی خیر کا سبب سمجھ کر کرتا ہو، اور اِسی قِبیل کے دیگر کام  جوکِسی عقیدے پر مبنی ہوں ،

ایسے تمام کاموں کا اصل بنیادی حکم مُمانعت ہے ، یعنی، ایسا کوئی بھی کام کرنا منع ہے  جب تک کہ اُس کے کرنے کی اجازت اللہ جلّ و عُلا  سے ، یا ، اُس کےآخری نبی اور  رسول کریم محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم سے ، یا دونوں سے ہی مُیسر نہ ہو ،

اِسی لیے  اُمت کے اِماموں اور عُلماء کرام رحمہم اللہ اجمعین نے یہ قاعدہ  ، یہ قانون مُقرر فرما رکھا ہے کہ """الأصلُ فی العِباداتِ الحَظر :::عِبادات کی اصل یعنی اُن کا بنیادی حُکم ممانعت ہے"""،

::: (2) ::: عادات پر مبنی ، جِن میں لین دَین ، شادی بیاہ   میں سے نکاح  کے عِلاوہ رسومات وغیرہ ، لِباس ، کھانے پینے کے انداز و اطوار، ایک دُوسرے سے مُلاقات کے انداز و اطورا وغیرہ سے متعلق  سب ہی کام  شامل ہوتے ہیں ،

اور ، میرے محترم قارئین ، عادات  پر مبنی مُعاملات کے بارے  میں  اُمت کے اِماموں اور علُماء  کرام رحمہم اللہ جمعیاً    کا یہ قانون ہے کہ""" الأصلُ فی العاداتِ الإباحیۃ ، إِلا ما نَھیٰ عنھا اللَّہُ و رسولہ ُصلی اللَّہ علیہ و علی آلہ وسلم ::: عادات کا بنیادی حکم جائز ہونا ہے سوائے اُس کے جس سے اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے منع فرمایا ہو """،

قارئین کرام یہاں یہ بات بھی یاد رکھنے کی ہے کہ کِسی کام سے مُمانعت کا حکم کئی صیغوں، یعنی مختلف اِلفاظ  اور انداز کلام  میں پایا جاتا ہے ، ضروری نہیں کہ صِرف باز آ جاؤ، مت کرو، وغیرہ جیسے اِلفاظ ہی مُمانعت کے لیے اِستعمال کیے جائیں ،

لہذا ، مُمانعت کا مفہوم رکھنے والے تمام تر اِلفاظ کا خیال رکھتے ہوئے یہ دیکھا جاتا ہے کہ  وہ عادات جن پر مُمانعت وارد نہیں  ہوئی ، وہ عادات اپنی انفرادی حیثیت میں  جائز ہیں،

جی انفرادی حیثیت میں ، اِس کے ساتھ ساتھ اُن عادات کی تکمیل میں ادا کیے گئے ہر ایک فعل کو دیکھا اور شرعی طور پر اُس کی حیثیت کو سمجھا جاتا ہے ، جہاں تک کوئی کام کسی شرعی مُمانعت میں داخل نہیں ہوتا اُسے ناجائز نہیں کہا جائے گا ،

یہ قانون سمجھنے کے بعد آیے  دیکھتے ہیں کہ بیٹی کو اُس کی شادی کے وقت  کچھ دِیے جانے کی شرعاً      کیا حیثیت ہے ؟؟؟

میرا حُسنءِ ظن  ہے کہ یہ بات تقریباً  ہر وہ مُسلمان جانتا ہی ہوگا جِس نے اپنے محبوب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی سیرت مُبارکہ کا مُطالعہ کیا ہو گا کہ ، محمد  رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے اپنی سب سے چھوٹی اور لاڈلی بیٹی فاطمہ رضی اللہ عنہا کو جہیز میں چار چیزیں عنایت فرمائیں ،

جیسا کہ چوتھے بلا فصل خلیفہ   امیر المؤمنین علی رضی اللہ عنہ ُ و أرضاہُ نے اپنی شادی کے بارے میں بتایا  ہے کہ ((( أَنَّ رَسُولَ صلى اللَّهِ عليه وسلم لَمَّا زَوَّجَهُ فَاطِمَةَ بَعَثَ مَعَهَا بِخَمِيلَةٍ وَوِسَادَةٍ مِن آدم حَشْوُهَا لِيفٌ وَرَحَيَيْنِ وَسِقَاءٍ وَجَرَّتَيْنِ ::: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جب اِن کے ساتھ  فاطمہ( رضی اللہ عنہا )کا نکاح کیا  تو فاطمہ (رضی اللہ عنہا ) کے ساتھ ایک مخملی کپڑا (چادر یا پہننے والا کوئی کپڑا  )اور تکیہ جس پر پتوں کی رگوں کا غِلاف تھا اور دو چکییاں (یعنی دو پاٹ والی چکی ) اور دو چھوٹے مشکیزے بھیجے )))مُسند احمد ، الاحادیث المختارہ ،

غور سے سمجھ لیجیے ، قارئین کرام ، کہ ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے اِس عمل مُبارک کی روشنی میں جہیز دِینا کوئی """ مُقامی کلچر """ نہیں رہتا ،  اور نہ ہی کِسی مُعاشرے کی کوئی اپنی ہی رسم ،  بلکہ دُنیا کے تمام مُسلمانوں کے لیے اُن کی  اِسلامی شریعت میں ایک جائز کام قرار پاتا ہے ،

 اسے """ کِسی مُعاشرے کا مُقامی کلچر""" قرار دِینا یا کہنا دُرُست نہیں ،   اور نہ ہی اسے یکسر ناجائز کہا جا سکتا ،

جب تک کہ اِس کام کی کیفیت میں کوئی اور ناجائز یا حرام کام شامل نہ ہو جائے ، مثلا جہیز ، اگر حرام مال سے دِیا جائے ،

یا ، اپنی اولاد میں سے کِسی کا  حق مار کر دِیا جائے ، یا ،  مُعاملہ فضول خرچی کی حُدود میں داخل ہو جائے ،

 یا ، بلا ضرورت دِیا جائے ، تو یقینا ایسی صُورت میں نا جائز ہو گا ،

:::::: رہا مُعاملہ  جہیز دینے کو سُنّت قرار دینے کا تو ، یہ کہنا قطعا   دُرُست نہیں کہ یہ سُنّت ہے ،

کیونکہ ہمیں ایسی کوئی خبر نہیں ملتی کہ  رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے فاطمہ رضی اللہ عنہا سے پہلے اُن کی دو بڑی  بہنوں کو، اپنی  اُن دونوں بیٹیوں کو  بھی  اُن کی شادی پر کچھ دِیا ہو ،  جن دونوں کا نکاح یکے بعددیگرے  تیسرے بلا فصل  امیر المؤمنین ذی النورین  عثمان رضی اللہ عنہ ُ و أرضاہ ُ  کے ساتھ کیا تھا ،

 فاطمہ رضی اللہ عنھا کو دینا ضرورت تھی کیونکہ علی رضی اللہ عنہ ُ کے پاس گھر کے سامان میں سے  کچھ نہ تھا جیسا کہ خود علی رضی اللہ عنہ ُ  کا ہی  فرمان ہے جو عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہ ُ  سے روایت ہے کہ ((( جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے میرے ساتھ فاطمہ رضی اللہ عنہا کا نکاح فرمایا تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم سےعرض کیا """ یا رسول اللَّہ أِبتنی ::: اے اللہ کے رسول مجھے میری بیوی کے پاس جانے کی اجازت دیجیے """،

 تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے اِرشاد فرمایا ((( عِندك شيء تُعطِيها ::: تمہارے پاس اُسے (مہر میں ) دِینے کے لیے کچھ ہے ؟ )))،

میں نے عرض کیا """ لا ::: جی نہیں """ ،

تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے اِرشاد  فرمایا (((  أين دِرْعَكَ الْحُطَمِيَّةَ::: تمہاری حُطمیہ  (والی )درع(ذِرع) کہاں ہے ؟)))،

 میں نے عرض کیا """ میرے پاس ہے """،

 تو اِرشاد  فرمایا ((( وہ(درع)  اُسے (مہر میں )دے دو)))،

یہ مندرجہ بالا حدیث ، الاحادیث المختارہ /حدیث 610 /جلد 2 / صفحہ 231 ، مطبوعہ مکتبہ النھضہ الحدیثہ ، میں ہے ،

 اور مختلف اِلفاظ اور صحیح اَسناد کے ساتھ مندرجہ ذیل کتب میں بھی ہے ،

 التعلیقات الحِسان علی صحیح ابن حبان بترتیب ابن بلبان/حدیث 6906 /کتاب 60 أخبارہ صلی اللہ علی وعلی آلہ وسلم عن مناقب الصحابہ / ذکر ما أعطی علی رضی اللہ عنہ فی صداق فاطمہ رضی اللہ عنھا ، مطبوعہ دار باوزیر /جدہ /السعودیہ ، سنن النسائی / حدیث 3375 کتاب النکاح / باب 60 ، جز 6 داخل جلد 3 ، مطبوعہ دار المعرفہ ، بیروت ، لبنان ، عون المعبود شرح سنن ابی داود / حدیث 2126 / کتاب النکاح / باب 36 ، مطبوعہ مطبوعہ دار الکتب العلمیہ ، بیروت ، لبنان ، سنن البیہقی الکبریٰ / مسند ابی یعلی / حدیث 2433 / مسند ابن عباس کی روایت 110 ، جلد 3 ، صفحہ 43 ، مطبوعہ دار القبلہ ، جدہ ، السعودیہ ، مسند احمد / حدیث 603 / مسند علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی حدیث 41 ،جلد اول ، مطبوعہ عالم الکتب ، بیروت ، لبنان ، اور دیگر کتب احادیث میں صحیح اسناد کے ساتھ موجود ہے ،

 اِس حدیث سے یہ بھی پتہ چلا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے فاطمہ رضی اللہ عنھا کو ضرورت کی جو چار چیزیں دی تھیں اُسکی وجہ  نہ تو  کوئی """مُعاشرتی عادت """ تھی ، اور نہ ہی  """ کسی مُقامی کلچر """ کی وجہ سے تھا ،بلکہ ضرورت تھی ، پس اِسے سُنّت کا درجہ نہیں دِیا جا سکتا ،

اور یہ بھی پتہ چلا کہ ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی عملی اجازت کی بنا پر جہیز دِینے کو یکسر ناجائز بھی نہیں کہا جا سکتا ،

اور یہ بھی پتہ چلا کہ ، أمیر المؤمنین علی رضی اللہ عنہ ُ کی اپنی دِرع شادی کی تیاری کے لیے نہیں فروخت کی تھی بلکہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے حکم کے مُطابق بطور مہر دی تھی ،

اور یہ بھی پتہ چلا کہ ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے اُس دِرع کی قیمت سے سامان خرید کر فاطمہ رضی اللہ عنہا کو نہیں دِیا تھا ،بلکہ اپنے پاس سے دِیا تھا ،

فاطمہ رضی اللہ عنھا کو جو سامان دِیا گیا اُس کے اِنتظام یا مہیا کرنے کے بارے میں اِمام ابن سعد کی طبقات الکبریٰ میں ایک روایت ہے جس میں علی رضی اللہ کی سواری کا جانور فروخت کرنے کا ذکر ہے اور اُس کی قیمت کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی طرف سےاِس طرح  تقسیم کیا گیا کہ دوتہائی ولیمے کے اِستعمال ہو اور ایک تہائی سامانء ضرورت کے لیے ، لیکن فی الوقت مجھے  اُس روایت کی صحت کا اندازہ نہیں اِس لیے میں اُس روایت کو اپنی بات کا حصہ نہیں بنا رہا ، صِرف معلومات کے لیے ذکر کر رہا ہوں ،

اِسی طرح کی ایک روایت صحیح ابن حبان /کتاب 60 كِتَابُ إِخْبَارِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ مَنَاقِبِ الصَّحَابَةِ / باب ذِكْرُ وَصْفِ تَزْوِيجِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ فَاطِمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا وَقَدْ فَعَلَ،  اِس روایت کو امام البانی رحمہُ اللہ نے "ضعیف الاسناد ، منکر المتن "، دیکھیے التعلیقات الحسان علی صحیح ابن حبان ،

اگر یہ روایت صحیح ہوتی  تو مُعاملہ مرد حضرات کے لیے اور زیادہ سخت ہو جاتا ہے کہ وہ لڑکی والوں کو سامان کی تیاری کے لیے مال فراہم کریں نہ کہ اُن سے مانگیں ،

یہ مُعاملہ تو جہیز دِینے والے کے لیے ہوا ، اور لینے والے کے لیے خود سے سوال کر کے یا فرمائش کر کے جیسا کہ اب ہمارے مُعاشرے میں ہوتا ہے ، ایسا کرنا قعطاً  جائز نہیں ،

 کیونکہ یہ اکثر اوقات ظلم میں شامل ہوتا ہے ، اور دُوسری طرف اِسلام میں عورت کو اُس کی طلب کے مُطابق اُسے مہر ادا کرنے کا حکم ہے نہ کہ عورت  سے یا اُس کے ورثاء (وارثوں) سے مال لینے کا ،

 یہ غیر اِسلامی طریقہ ہے اور غیر مُسلموں کی نقالی جائز نہیں ، خاص طور پر اُن کی ایسی عادات اپنانے کی اجازت نہیں جو کِسی بھی طور اِسلامی تعلیمات کے خِلاف ہوں  ، غیر مُسلموں کی نقالی کے بارے میں کچھ دیگر مضامین میں تفصیلی گفتگو ہو چکی ہے ، لہذا یہاں اُسے پھر سے دُہرا کر میں اِس مضمون کے موضوع کو بھاری نہیں کرنا چاہتا ،

حاصل کلام یہ ہوا، کہ اگر کوئی خود سے اپنی بہن یا بیٹی یا کسی بھی اور کو اُس کی شادی و رخصتی پر جائز حُدود میں رہتے ہوئے کچھ دیتا ہے تو  لڑکی ، اور اُس کے سسرال والوں کے لیے وہ لینا جائز ہے ،

لیکن یہ نہ توکوئی مُعاشرتی عادت ہے ، نہ سُنّت ، اور نہ ہی  مُطلقاً   ناجائز یا حرام ،  نہ ہی لعنت کا سبب ،  جب تک کہ اِسے پُورا کرنے کے لیے کوئی ایسا کام نہ کیا جائے جو حرام ہو ، لعنت کا مُستحق ہو ،

قارئین کرام،   یہ بہت اچھی طرح سے سمجھنے اور یاد رکھنے والا مُعاملہ ہے کہ """ جس کام کے غلط ، ناجائز ،لعنت والا یا کسی اور سبب سے حرام ہونے کی کوئی شہادت اللہ جلّ و عزّ یا اُس کے خلیل محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی طرف سے میسر نہ ہو ، یا صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین کی جماعت کے اتفاق کی دلیل کے ذریعے سے نہ ہو ،تو ایسے کسی کام کو لوگوں کی طرف سے غلط ، یا ناجائز ، یا مقررہ حد سے خارج ہو کر کیے جانے کی وجہ سے جو نُقصانات ہوتے ہیں ، ان نُقصانات کی وجہ سے ہم اُس کام کو شرعی طور پر حرام یا لعنت قرار نہیں دے سکتے ،

خیال رہے "سد ذرائع" والا  قانون  اِستعمال کرنا ہم جیسوں عام لوگوں اور چند ایک اِکا دُکا علماء کے اختیارات میں سے نہیں ،

جی ہاں ،اُس کام کی شرعی حیثیت برقرار رکھتے ہوئے ، اُس کے غلط اور بے جا اور حُدود سے خارج ہو کر ، ظلم اور زیادتی پر مبنی اِستعمال میں سے حرام کی خبر ضرور کی جا نی چاہیے ،اور اُس پر غیر حقیقی شرعی حکم صادر کرنے سے دُور رہتے ہوئے اُس کے دِینی ، دُنیاوی اور اُخروی نُقصانات کے بارے میں سب کو آگاہ کرتے ہوئے اُن سے بچانے کی کوشش کی جاتی رہنی چاہیے، حتیٰ کہ اللہ تبارک وتعالیٰ اُس کی اِصلاح فرما دے """ ،

ہم میں سے کوئی بھی اِس حقیقت سے اِنکار نہیں کر سکتا کہ جہیز لینے اور دینے کی رسم ہمارے مُعاشرے میں ظُلم و زیادتی کی بہت سے حدود تجاوز کیے ہوئے ہے ، اور اگر کہیں کوئی اِس کی اِصلاح کی کوشش میں جہیز نہیں لیتا تو بھی ایسا کرنے والوں میں سے اکثر  کے اہل خاندان شادی کے بعد لڑکی کا جینا دوبھر کیے رکھتے ہیں ، لہذا ہم یہ دیکھتے ہیں کہ کسی لڑکے یا مرد کی طرف سے جہیز نہ لینے کے اصرار کے باجود لڑکی والے جہیز دیتے ہیں ، اور اکثر اوقات اپنی مالی و مُعاشی قُوت سے بہت بڑھ کر خود کو مصیبتوں میں ڈال دیتے ہیں ،

جہیز لینے اور دینے میں واقع ہونےو الی زیادتی بھی دیگر بہت سے غلط اور ناجائز کاموں کی طرح ہمارے ُمعاشرے میں ایک معمول بن چکی ہے ، جِس کی اِصلاح سختی ترشی سے ہونا تقریباً نا ممکن ہے ، پس یہ مُعاملہ آہستگی ، نرمی اور مُستقل تبلیغ کے ذریعے دِلوں اور احساسات کی اِصلاح کے ذریعے ہی سُدھارا جا سکتا ہے اِن شاء اللہ ، نہ کہ جہیز کو حرام یا لعنت قرار دے کر ، کیونکہ جب کسی کام کو اُس کی اصل شرعی حیثیت کی بجائے کِسی اور حیثیت میں کر دیا جاتا ہے تو ِاس کاروائی کے نتیجے میں اللہ کی طرف سے کوئی خیر نہیں ہوتی ، لہذا جس کام کی جو شرعی حیثیت ہے اُسے وہیں رکھتے ہوئے، اُس کام کو غلط ، ناجائز اور حرام طریقوں سے پورا کرنے کے لیے جو کچھ کیا یا کروایا جاتا ہے اُس کی اِصلاح کی کوشش کی جانی چاہیے ، اللہ تبارک وتعالیٰ ہم سب کی اور سب ہی مسلمانوں کی اصلاح فرمائے ،اور  ہم سب کو حق جاننے ، ماننے ، اپنانے ، اور اُسی پر عمل پیرا رہنے کی توفیق عطاء فرمائے ۔

والسلام علیکم،

طلب گارء دُعا ء ،

آپ کا بھائی ،  عادِل سہیل ظفر ،

تاریخ کتابت : 26/11/1431ہجری، بمُطابق، 03/11/2010عیسوئی ۔

تاریخ تحدیث و تجدید : 01/02/1442 ہجری ، بمُطابق ، 18/09/2020 عیسوئی ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کتابی برقی نُسخہ (PDF) :

   http://bit.ly/2DaBeK0  

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

یوٹیوب (MP4) پہلا حصہ  :

         https://youtu.be/C2Mqt77bY-o 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

یو ٹیوب  (MP4)  دُوسرا ( آخری ) حصہ :

         https://youtu.be/O6jsqIyhBjA  

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پلے لسٹ :          

https://www.youtube.com/playlist?list=PLT-bSUcB8DXrS7Iadu8SlCHFmw576y-7d

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

 

Thursday, April 27, 2017

::::::: ازدواجی زندگی کی کامیابی کے راز :::::::



::::::: ازدواجی زندگی کی کامیابی کے راز  :::::::
بِسمِ اللَّہ ،و الصَّلاۃُ و السَّلامُ عَلَی مُحمدٍ الذّی لَم یَکُن مَعہ ُ نبیاً و لا رَسولاً  ولا مَعصُوماً مِن اللَّہِ  و لَن یَکُون  بَعدہُ ، و علی َ أزواجہِ الطَّاھِرات و ذُریتہِ و أصحابہِ و مَن تَبِعھُم بِإِحسانٍ إِلیٰ یِوم الدِین
شروع اللہ کے نام سے ، اور اللہ کی رحمتیں اور سلامتی ہواُس محمد پر ، کہ جن کے ساتھ  اللہ کی طرف سے نہ تو کوئی نبی تھا ، نہ رسول تھا، نہ کوئی معصوم تھا ، اور اُن کے بعد بھی ہر گِز کوئی ایسا ہونے والا نہیں ، اوراللہ کی رحمتیں اور سلامتی ہو محمد رسول اللہ  کی  پاکیزہ بیگمات پر، اور اُن کی اولاد پر ،اور اُن کے صحابہ پر ، اور جو کوئی بھی ٹھیک طرح سے ان سب کی پیروی کرے اُس پر ۔
السلامُ علیکُم و رحمۃُ اللہ و برکاتہُ ،
ازدواجی یعنی شادی شدہ زندگی کی کامیابی کے راز میاں بیوی کے ایک دُوسرے کے احساسات کو ذہانت کے ساتھ سمجھ کر اُن کے مُطابق ایک دُوسرے کے ساتھ پیش آنے میں پوشیدہ ہیں ،
اِنسانی زندگی کے کسی بھی اور پہلو کی طرح اِنسانوں کے مابین ہونے والے اِختلافات کی طرح میاں بیوی کے تعلقات میں بھی کہیں نہ کہیں اِختلاف کا ہونا عین فطری سی بات ہے ، لیکن ذہین اور سمجھ دار میاں بیوی وہ ہوتے ہیں جو اپنے درمیان موجود اِختلافات کو سمجھ لیں اور اُنہیں اِس طرح ختم کریں یا اِس طرح ایک دُوسرے کو سمجھا لیں  کہ اُن کی ازدواجی زندگی میں اِن اِختلافات کا کوئی منفی اثر مرتب نہ ہونے پائے ،     
لیکن ، ہم اپنی معاشرتی زندگی میں دو قِسم کے جوڑے پاتے ہیں ،
ایک تو وہ جو اپنے اِختلافات کو غلط طور پر ختم کرنے والے طریقے اپناتے ہیں ،
اور ، دُوسرے وہ جو اپنے اِختلافات کو ختم کرنے کے لیے اچھے اور دُرُست طریقے اپناتے ہیں ،
اور ہر کوئی اپنے اپنائے ہوئے طریقے کے مُطابق نتیجہ پاتا ہے ،
اِن شاء اللہ ، ہم یہاں  اِس مضمون میں اُن غلط طریقوں کو سمجھنے کی کوشش کریں گے  ،
::::::: تین غلط طریقے :::::::
عام طور پر میاں بیوی اپنے اپنے احساسات اور جذبات کے اِظہار کے لیے تین ایسے طریقے اپناتے ہیں جو اُن کے درمیان پائے جانے والے اِختلافات کو ختم کرنے کی بجائے مزید ہوا دیتے ہیں ، اور کبھی تو اُن کی ازدواجی زندگی کے خاتمے کا سبب بن جاتے ہیں اور کبھی اُن کی ازدواجی زندگی کو مسلسل عذاب بنائے رکھتے ہیں ، دونوں ہی صورتوں میں نُقصانات صِرف اُن دونوں یعنی میاں بیوی کی زندگیوں تک ہی محدود نہیں رہتے بلکہ کم از کم ایک پورے خاندان کو اپنی لپیٹ میں لیتے ہیں ،
آیے دیکھتے ہیں کہ وہ تین غلط طریقے کون سے ہیں ،
::::: (1) کسی غلط کام کو غلط کہنے کی بجائے کام کرنے والے کی شخصیت پر حملہ آور ہونا :::::
ہم میں سے کوئی بھی یہ پسند نہیں کرتا کہ اُس کی ذات کو عیب دار کہا جائے خواہ واقعتاٍ وہ غلطی پر ہی ہو ، یہ ایک فِطری عمل ہے کہ جب کسی شخص کی ذات کو نشانہ بنایا جاتا ہے تو اُس کے اندر منفی جذبات متحرک ہو جاتے ہیں اور اُس شخص کے خلاف متحرک ہوتے ہیں جو اُس کی ذات کو تنقید  کا نشانہ بنا رہا ہو ، اور عموماً وہ ، جسے نشانہ بنایا جاتا ہے اپنے مقابل کی ذات پربالکل اُسی طرح بلکہ اُس سے بھی زیادہ شدت سے حملہ آور ہونا چاہتا ہے ، اور جہاں جب جیسا موقع ملے وہ اپنی یہ خواہش پوری کرتا ہے ،   
مثلاً اگر کوئی بیوی اپنے خاوند سے یہ کہے کہ """ تُم لا پرواہ ہو ، کبھی اپنے بچوں کو سیر وغیرہ کروانے کے لیے باہر لے جانے کی سوچتے ہی نہیں""" تو اُس بیوی کو ننانوے فیصد یہ اُمید نہیں رکھنی چاہیے کہ  اُس کا خاوند اُس کی یہ بات مان  لے گا اور اُسے کہنے گا کہ """ چلو بیگم بچوں کو تیار کرو  میں تُم لوگوں کو سیر کروا لاؤں""" اور پھر اُسے اور بچوں کو سیر سپاٹے کے لیے  لے جائے  گا یا مُستقبل میں اِس بات کا خیال رکھنے لگے گا ،
بلکہ خاوند  اُس بیوی سے بڑھ کرسخت اور ترش طور پر ذاتی شخصیت پر حملہ آور ہوتا ہوا جواب دے گا کہ """ تُم ہو ہی کم عقل اور نا شُکری ،تُم میری  اُس محنت کو جو میں تمہاری اور بچوں کی ذمہ داریاں پوری کرنے کے لیے کرتا ہوں ، اُس محنت کو سمجھتی نہیں یا اُس کی قدر نہیں کرتی""" اور یُوں بات بننے کی بجائے بگڑ جائے گی ، اور اِختلاف دُور ہونے کی بجائے مزید بڑھ جائے گا ،
بیوی کے اِس غلط رویے  کا نتیجہ صرف میاں بیوی کی حد تک ہی نہیں رہے گا بلکہ اولاد بھی اپنی ماں کی اِس طرح کی باتیں سُن کر اپنے ہی باپ کو بُرا جاننےلگے گی ، اور باپ اُن کے لیے کچھ پسندیدہ شخصیت نہ رہے گا ،
اور جواباً خاوند کی تُرش گوئی کا نتیجہ بھی کچھ اِسی قسم کا رہے گا اور غیر محسوس طور پر یہ خاندان گروہ بندی کا شکار ہو جائے گا ، کہ اولاد میں  کچھ ماں کے حق میں ہوں گے اور کچھ باپ کے ، یا سب ہی دونوں سے بیزار ہوں گے ،
اب اِسی مسئلے  کو دُوسری طرح سے حل کرنے کی کوشش کی مثال دیکھیے ،
اگر بیوی اپنے خاوند سے یہی بات کچھ اس طرح کہے کہ """ میں اور بچے آپ کے ساتھ باہر جانا پسند کرتے ہیں """ اور صِرف بات ہی نرم نہ ہو بلکہ بات کرنے کا انداز بھی نرمی والا ہو ، تو اِن شاء اللہ خاوند اِس خوبصورت اندازء شکایت پر شرمندہ ہوگا اور اسے اپنی غلطی کا ، اپنی طرف سے واقع ہونے والی کوتاہی کا ، یا بیوی بچوں کی پریشانی کا کچھ احساس تو ہو گا ،  اور وہ اپنی اس غلطی یا اپنی طرف سے واقع ہونے والی کوتاہی کی درستگی کی کوشش کرے گا ، اپنے وقت میں سے کچھ وقت بیوی بچوں کی تفریح کے لیے بھی نکالنے لگے گا ، اس طرح میاں بیوی کے درمیان پائی جانے والی ایک مشکل کا خاتمہ ہو جائے گا اورکوئی نئی بدمزگی پیدا نہ ہو گی،
لہذا میاں بیوی کو ایسے کسی بھی انداز ، طریقے ، اور کوشش سے مکمل گریز کرنا چاہیے جو براہ راست ، یا بلواسطہ دُوسرے کی شخصیت اور ذات پر اِلزام کی صُورت میں ہو ،صِرف  کیے جانے والے غلط کام کو غلط کہا جائے اور وہ بھی ادب اور مُحبت کو ملحوظءِ خاطر رکھتے ہوئے ،نہ کہ کام کرنے والے کو غلط کہا جائے ۔       
::::::: (2)   اپنے دفاع کی  بے جاکوشش کرنا  :::::::
کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ میاں بیوی کے درمیان ہونے والی شکایات کی صورت میں ہر ایک خود کو ہی بے قصور ثابت کرنے کی کوشش میں کچھ اِس طرح اپنا دفاع کرتا ہے جو مزید مُشکلات کو جنم دیتا ہے ،
اِس بات کو سمجھنے کے لیے  ہم اوپر بیان کی گئی مثال والے معاملے کو ہی لے کر آگے چلتے ہیں ، میاں بیوی میں کچھ اِس طرح کی گفتگو ہوتی  ہے :::
بیوی ::: ایک مدت سے آپ ہمارے ساتھ باہر نہیں گئے ،
خاوند ::: کیا تُم دیکھتی نہیں ہو کہ میں کس قدر مشغول رہتا ہوں ، اور کسی غلط یا وقت ضائع کرنے والے کام میں مشغول نہیں ہوتا ،
بیوی ::: مشغول ، مشغول ، مشغول ، آپ ہر وقت مشغول ہی رہتے ہیں ، گویا کہ میں اور بچے تو آپ کی زندگی میں موجود ہی نہیں ،
خاوند ::: تُم بات کو سمجھنے کی کوشش نہیں کرتی یا سمجھ کر بھی انجان بنتی ہو ، میری مجبوری کیا تُمہیں دِکھائی نہیں دیتی ؟
اِس قسم کی گتفگو جس میں میاں بیوی دونوں ہی اپنی اپنی جگہ پر اپنا دفاع کرتے ہوئے خود کو بے قصور ثابت کرنا چاہیں ،باوجود اِس کے کِسی وقت یہ کوشش صحیح اور سچ بھی ہوتی ہے پھر بھی یہ رویہ دُوسرے ساتھی کے دِل میں یہ احساس پیدا کرتا ہے ، یا اُبھارتا ہے کہ میرا ساتھی ہمیشہ خود کو ہی دُرُست ثابت کرنے کی کوشش میں رہتا ہے اور  اپنی غلطی کوتسلیم کرنےکی طرف یا خاموشی سے ہی سہی اِس کی درستگی کی طرف نہیں آتا ، 
جب کہ ایسی شکایت کی صُورت میں ہونا یہ چاہیے کہ خاوند اپنی صفائی پیش کرنے کی بجائے ، اپنا دفاع کرنے کی بجائے اپنی شریک ء حیات اور اپنے بچوں کے جذبات کا احساس کرے اور اچھے طریقے سے اور سچی نیت سے اُن کی دُرُست اور جائز شکایت کو دُور کرنے کا وعدہ کرے اور اُس کی عملی طور پر کوشش بھی کرے ،
اِسی طرح اگرخاوند کو  بیوی سے کوئی ایسی شکایت ہو جائے تو بیوی کو بھی خوامخواہ کی صفائیاں پیش کرنے کی بجائے خاوند کی ضروریات اور جذبات کا لحاظ رکھتے ہوئےایسی ہی بات اورکوشش کرنا چاہیے جو اُس کی اپنی صفائی اور دفاع  کی اورخود کو دُرُست ثابت کرنے کی کوشش نہ ہو بلکہ خود کو دُرُست کرنے کی کوشش ہو ۔
::::::: (3)  دُوسرے ساتھی کی بات بے پروائی سے سُننا :::::::
کبھی یوں بھی ہوتا ہے کہ میاں بیوی ایک دُوسرے کی شکایت یا ترش روئی  پر خاموش رہتے ہیں لیکن وہ خاموشی کسی مثبت جذبے کی آئینہ دار نہیں ہوتی بلکہ وہ دُوسرے کو یہ باور کرواتی ہے کہ """ مجھے تُمہاری اور تُمہاری کسی بات کی کوئی پرواہ نہیں لہذا مجھ پر اس کا کوئی اثر ہونے والا نہیں """
یہ رویہ اکثر اوقات جواب دینے سے زیادہ  خطرناک نتائج کا سبب بنتا ہے ،
مثال کے طور ایک بیوی  خاوند سے بالکل ٹھیک اور جائز شکایت کرتی ہے اور بار ہا کرتی ہے اور کسی بدتمیزی اور بدتہذیبی کے بغیر کرتی ہے ، لیکن خاوند اُس کو لا پرواہی والاخاموش جواب دیے جاتا ہے ، یا اِسی قِسم کا معاملہ بیوی کی طرف سے خاوند کے ساتھ پیش آتا ہے تو ایک وقت ایسا آتا ہے کہ شکایت کرنے والا ساتھی ، اپنے دُوسرے ساتھی کے بارے میں اِس منفی احساس کا شکار ہو جاتا ہے کہ اِس کے ساتھ بات کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ، اِسے میری پرواہ نہیں پس مجھے بھی اِس کی فکر میں نہیں رہنا چاہیے ، اور دونوں کے دِلوں کی راہ الگ الگ ہو جاتی ہے جس کا عمومی نتیجہ زندگی کی راہیں بھی الگ ہوجانے کی صورت میں نکلتا ہے ۔
:::::::  (4)  دُوسرے ساتھی کے ساتھ سرد مہری اور جمود کے ساتھ پیش آنا :::::::   
یہ انداز لاپرواہی کے مُظاہرے سے اگلا مرحلہ ہوتا ہے ، اِس میں کوئی ایک کسی دُوسرے کے ساتھ کسی قِسم کی کوئی تلخ کلامی بھی نہیں کرتا ، بظاہر کوئی جھگڑا نہیں ہوتا ، کوئی لڑائی نہیں ہوتی ، لیکن میاں بیوی کا رشتہ کچھ اِس طرح سے نبھایا جا رہا ہوتا ہے گویا کہ وہ ایک گھر میں رہنے والے میاں بیوی نہیں بلکہ کسی دفتر میں کام کرنے والے ساتھی ہیں جنہوں نے چند کاموں کو مل جل کر کرنا ہے اور اُس کے بعد ،،،،، وہ کسی گھر میں رہنے والے میاں بیوی نہیں بلکہ کسی ہوٹل میں رہنے والے دو پڑوسی ہیں جنہیں اپنی مشترکہ ذمہ داریاں پوری کرنے کے بعد کچھ وقت اُس ہوٹل میں ایک دُوسرے کے سامنے گذارنا ہوتا ہے اور بس ،
بظاہر نظر آنے والا یہ پر سکون ماحول در حقیقت  پہلے بیان کیے  گئے تین غلط طریقوں کا خاموش شور ہوتا ہے جسے صِرف وہ میاں بیوی ہی سن رہے ہوتے ہیں ، اور اِس خاموش شور کی بنا پر اُن کے درمیان نظر آنے والا یہ سکون ایک سرد جنگ ہوتی ہے جواُن کے اندر ایک ایسا آتش فِشاں تیار کر رہی ہوتی ہے جس کے اندر اُکتاہٹ اور نفرت کالاوا پکتا رہتا ہے  اور جب یہ آتش فِشاں پھٹتا ہے ، لاوا پھوٹتا ہے تو تقریباً نا ممکن ہی ہوتا ہے کہ جس گھر میں وہ نکلے اُس گھر کی گرہستی برقرار رہ جائے ۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کو یہ معاملات سمجھنے کی توفیق عطاء فرمائے ، اور ہم یہ یاد رکھیں کہ اللہ تبارک و تعالٰی نے میاں بیوی کا رشتہ اس لیے بنایا ہے کہ وہ دونوں ایک دُوسرے میں سے سکون حاصل کریں(((وَمِنْ آيَاتِهِ أَنْ خَلَقَ لَكُم مِّنْ أَنفُسِكُمْ أَزْوَاجاً لِّتَسْكُنُوا إِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُم مَّوَدَّةً وَرَحْمَةً إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَاتٍ لِّقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ ::: اور اللہ کی نشانیوں میں سے (یہ بھی ) ہے کہ اُس نے تُم لوگوں کو جوڑا جورا بنایا تا کہ تُم لوگ اُس (یعنی اپنے جوڑے کے ساتھی ) کی طرف سکون حاصل کرو اور اللہ نے تُم لوگوں کے (جوڑوں کے) درمیان مودت اور رحمت بنائی ہے بے شک اِس میں غور کرنے والے لوگوں کے لیے بڑی نشانیاں ہیں)))سورت الروم /آیت 21 ،
اور اللہ تعالیٰ  کے اِس فرمان کی روشنی میں یہ بھی سمجھ سکیں ہمارے جوڑوں یعنی میاں بیوی کے درمیان مؤدت اور رحمت کو نفرت اور زحمت میں تبدیل کرنے والا کوئی بھی کام اللہ کے ہاں پسندیدہ نہیں ،کیونکہ میاں بیوی کے درمیان اِختلاف پیدا کرنے والے کام ، اور لوگ  شیطان کو پسند ہوتے ہیں جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے اس کی خبر دیتے ہوئے اِرشاد  فرمایا  (((  إِنَّ إِبْلِيسَ يَضَعُ عَرْشَهُ على الْمَاءِ ثُمَّ يَبْعَثُ سَرَايَاهُ فَأَدْنَاهُمْ منه مَنْزِلَةً أَعْظَمُهُمْ فِتْنَةً يَجِيءُ أَحَدُهُمْ فيقول فَعَلْتُ كَذَا وَكَذَا فيقول ما صَنَعْتَ شيئا ::: ابلیس (شیطان)اپنا تخت پانی کے اوپر رکھتا ہے  اور پھر  اپنے کارندے اِدھر اُدھر بھیجتا ہے جب وہ واپس آتے ہیں تو اُس کے قریبی ترین رتبے والا وہ ہوتا ہے جو سب سے زیادہ فتنہ پھیلا کر آئے ، (جب )اُن میں سے کوئی ایک (واپس)  آتا ہے اور کہتا ہے کہ میں نے یہ یہ کام کیا تو ابلیس کہتا ہے تُم نے کچھ نہیں کِیا )))
پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے اِرشاد فرمایا (((  ثُمَّ يَجِيءُ أَحَدُهُمْ فيقول ما تَرَكْتُهُ حتى فَرَّقْتُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ امْرَأَتِهِ ::: اس کے بعد ایک اور آتا ہے اور کہتا ہے میں نے اُس (آدمی) کو اُس وقت تک نہیں چھوڑا جب تک اُس کے اور اُس کی بیوی کے درمیان جدائی نہیں کروادی )))
پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے اِرشاد فرمایا ((( فَيُدْنِيهِ مِنهُ وَيَقُولُ نِعْمَ أنت::: پس ابلیس اُسے(یعنی میاں بیوی میں جدائی کروانے والے کو)اپنے قریب کرتا ہے اور کہتاہے  تُم سب سے بہتر ہو )))،
 أعمش رحمہ اللہ کا کہنا ہے کہ میرا خیال ہے کہ انہوں نے یعنی (ابی سفیان یا جابر نے) کہا  (((فَيَلْتَزِمُهُ  :::تو وہ ابلیس اپنے اُس شیطان کو گلے لگا لیتا ہے ))) صحیح مُسلم حدیث2813 /کتاب الصفۃ الجنۃو النار /باب 16 ،
اللہ تعالیٰ کے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کےمذکورہ بالا فرمان کی روشنی میں ہمیں یہ خیال رکھنا چاہیے کہ میاں بیوی کا رشتہ ایک دُوسرے کے سکون کے لیے بنایا گیا ہے ، اور ان میں تفرقہ  ڈالنا ابلیس کا کام ہے پس ہم کسی ایسے کام کا نہ خود شکار ہوں نہ کسی اور کے لیے اُس کا سبب بنیں ، اللہ تعالیٰ ہر مسلمان کی ازدواجی زندگی اس کے دین دنیا اور آخرت کے لیے با برکت بنائے ۔
تاریخ کتابت :17/03/1431ہجری، بمُطابق،    03/03/2010عیسوئی،
تاریخ تجدید و تحدیث : 20/07/1438ہجری ، بمُطابق، 17/04/2017عیسوئی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مضمون کا برقی نسخہ درج ذیل ربط سے نازل کیا جا سکتا ہے :
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔