Thursday, April 2, 2020

:::اقامت نماز کے بعد کوئی دُوسری نماز پڑھنا جائز نہیں خواہ فجر سے پہلے والی دو سُنّت ہی ہوں :::

:::اقامت نماز کے بعد کوئی دُوسری نماز پڑھنا جائز نہیں خواہ فجر سے پہلے والی دو سُنّت  ہی ہوں :::
 

بِسمِ اللَّہِ الرِّحمٰنِ الرِّحیم
الحَمدُ لِلّہِ وَحدہُ الذی لا اِلہَ اِلاَّ ھُو ،  و الَّذی لَیس أصدق منہ ُ قِیلا ،  و الَّذی أَرسلَ رَسولہُ بالھُدیٰ و تبیّن مَا ارادَ ، و الصَّلاۃُ و السَّلام عَلیَ مُحمدٍ عبد اللَّہ و رسولِ اللَّہ ، الَّذی لَم یَنطِق عَن الھَویٰ و الَّذی أمانۃ ربہِ قد اَدیٰ :::شروع اللہ کے نام سے جو بہت ہی مہربان اور بہت رحم کرنے والا ہے ،سچی اور خالص تعریف کا حق دار اللہ ہی ہے ، جس کے عِلاوہ کوئی بھی اور سچا اور حقیقی معبود نہیں ، اور جس سے بڑھ کر سچ کہنے والا کوئی نہیں ، اور جس نے اپنے رسول کو ہدایت کے ساتھ بھیجا اور وہ سب کچھ واضح فرما دیا جسے واضح کرنے کا اللہ نے ارداہ کیا ، اور سلامتی ہو اللہ کے بندے اور اللہ کے رسول محمد(صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم ) پر ، جو کہ اپنی خواھش کے مطابق نہیں بات نہیں فرماتے تھے  ، اور جنہوں نے اپنے رب کی امانت مکمل طو رپر  دی،
السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ،
کِسی بھی نماز کی اقامت ہوجانے کے بعد ، کوئی بھی دُوسری نماز شروع کرنا جائز نہیں ، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے اِس سے منع فرمایا ہے ،
ابو ہُریرہ رضی اللہ عنہ ُ سے روایت ہے کہ ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے اِرشاد فرمایا (((إِذَا أُقِيمَتِ الصَّلاَةُ فَلاَ صَلاَةَ إِلاَّ الْمَكْتُوبَةُ  :::  جب فرض نماز کھڑی  کر دی جائے (یعنی جب فرض نماز کی اقامت کہہ دی جائے) تو پھر سوائے (اُسی ) فرض نماز کے کوئی دُوسری نماز نہیں ہے )))[1]،
اِس حدیث شریف میں بڑی ہی وضاحت سے یہ فرما دِیا گیا ہے کہ جب کِسی فرض نماز کی اقامت ہو جائے تو پھر اُس فرض نماز کے عِلاوہ کوئی بھی دُوسری نماز  شروع کرنا جائز نہیں ،
ہمارے جو بھائی فجر سے پہلے والی دو سنتوں کو اِس ممانعت سے مُبراء سمجھتے ہیں ، اُن کے  پاس فلسفیانہ دلائل کے عِلاوہ ، روایات ء حدیث میں سے صِرف ایک دلیل ہے، جِس کو بنیاد بنا کر وہ فجر کی اقامت ہو جانے کے بعد بھی پہلے والی دو سُنّت شروع کرنا نہ صِرف جائز قرار دیتے ہیں ، بلکہ لوگوں کو سختی سے اِس پر  عمل کرنے کی طرف مائل کرتے ہیں ،
فلسفیانہ دلائل کی تو دِینی معاملات میں کوئی وقعت ہی نہیں ، لہذا میں اُن دلائل کے بارے میں کوئی بات کرنے کی بجائے اُس اکلوتی روایتء حدیث کی طرف آتا ہوں جِسے فجر کی اقامت کے بعد بھی ، پہلے والی دو رکعت سُنّت شروع اور مکمل کرنے کی دلیل بنایا جاتا ہے ،
یہ روایت بھی ابو ہُریرہ رضی اللہ عنہ ُ سے ہی مروی ہے  کہ (((إِذَا أُقِيمَتِ الصَّلاَةُ فَلاَ صَلاَةَ إِلاَّ الْمَكْتُوبَةُ ، إِلاَّ رَكْعَتَىِ الصُّبْحِ::: جب فرض نماز کھڑی  کر دی جائے (یعنی جب فرض نماز کی اقامت کہہ دی جائے) تو پھر سوائے (اُسی ) فرض نماز کے کوئی دُوسری نماز نہیں ہے، سوائے فجر کی دو رکعت کے ))) [2]،
امام البیھقی رحمہُ اللہ نے اِس روایت کو نقل کرنے کے بعد خود ہی یہ بھی بتا دِیا ہے کہ """ وَهَذِهِ الزِّيَادَةُ لَا أَصْلَ لَهَا وَحَجَّاجُ بْنُ نُصَيْرٍ، وَعَبَّادُ بْنُ كَثِيرٍ ضَعِيفَانِ::: اور یہ زیادہ (یعنی سوائے فجر کی  دو رکعت  ) ایسی بات ہے جِس کی کوئی اصل ہی نہیں ہے ، اور حجاج بن نصیر، اور عباد بن کثیر دونوں (راوی) ضعیف ہیں  """،
اور میں کہتا ہوں کہ صِر ف یہ دونوں راوی ہی نہیں ، بلکہ جس سے عباد بن کثیر نے روایت کیا ہے یعنی ، اللیث بن  ابی سلیم بھی ضعیف ہے ،   اسے بھی محدثین نے  مضطرب الحدیث  اور  ضعیف الحدیث  قرار دِیا ہے ،
پس ، اِس ضعیف ، ناقابل حُجت  روایت کی بِناء پر پہلے والی صحیح حدیث شریف  میں سے کوئی استثناء  نہیں ملتا ، حدیث شریف میں دیا گیا حکم  جُوں کا تُوں برقرار ہے کہ  (((  جب فرض نماز کھڑی  کر دی جائے (یعنی جب فرض نماز کی اقامت کہہ دی جائے) تو پھر سوائے (اُسی ) فرض نماز کے کوئی دُوسری نماز نہیں ہے )))،
پس یہ مسئلہ بالکل واضح ہے کہ جب کِسی بھی نماز کی اقامت کہہ دی جائے تو پھر کوئی بھی دُوسری نماز شروع نہیں کی جائے گی، خواہ وہ فجر سے پہلے والی دو سنتیں ہی ہوں ،
جو شخص مسجد میں ایسے وقت میں داخل ہو کہ اقامت کہی جا چکی ہو ، یا کہی جا رہی ہو، تو اُسے فرض جماعت کے ساتھ شامل ہونا ہو گا ، فجر سے پہلے والی دو سنتیں وہ فرض کے فوراً بعد پڑھ سکتا ہے ، یا پھر سورج پوری طرح سے طُلوع ہونے کے بعد،
رہا معاملہ اُس شخص کا جِس نے اقامت کہے جانے سے پہلے کوئی نفل یا سُنّت نماز شروع کر رکھی ہو ، تو اُس کے بارے میں عُلماء کرام کے مختلف اقوال ہیں ،
جِن سب کے مختلف دلائل بھی ہیں ، اُن سب کا مطالعہ کرنے کے بعد ایسے شخص کے لیے دُرست یہ لگتا  ہے کہ اگر وہ اپنی اِس شروع کردہ نماز کا حق ادا کرتے ہوئے اِسے مکمل کر کے ،  امام صاحب کے پہلے رکوع میں سے سر اُٹھانے سے پہلے ،  جماعت میں   شامل ہو سکتا ہو تو اپنی یہ نماز پوری کر ے اور پھر جماعت میں شامل ہو جائے ، اور اگر ایسا نہیں تو پھر اپنی یہ نماز چھوڑ کر جماعت میں شامل ہو جائے ،
اِس طرح چھوڑے جانے والی نفلی نماز کی کوئی قضاء نہیں ہوتی، اور نہ ہی نما زسے نکلنے کے لیے سلام پھیرنے کی ضرورت ہوتی ہے ،
آخر میں ایک دفعہ پھر گوش گذار کرتا چلوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے فیصلے  کے مُطابق کسی بھی نماز کی اقامت کہے جانے کے بعد وہاں کوئی بھی دُوسری نماز شروع نہیں کیا جا سکتی، بلا شک یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی نافرمانی ہے، جو کِسی اجر و ثواب کا سبب تو ہر گِز ہر گِز نہیں ہو سکتی ،
اللہ تعالیٰ ہم سب کو ہر قِسم کی ضِد سے محفوظ رہتے ہوئے حق جاننے ، ماننے ، اپنانے اور اُسی پر عمل پیرا رہتے ہوئے اُس کے سامنے حاضر ہو کر اُس کی بخشش پانے والوں میں بنائے ۔ والسلام علیکم۔
طلب گارء دُعا، عادِل سہیل ظفر ۔
تاریخ کتابت : 12/09/1438ہجری،بمُطابق،07/06/2017عیسوئی،
تاریخ تحدیث و تجدید : 09/08/1441ہجری ، بمُطابق،02/04/2020عیسوئی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مضمون کا برقی نسخہ درج ذیل ربط سے نازل کیا جا سکتا ہے :
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔



[1]  صحیح مُسلم /حدیث /1678کتاب صلاۃ   المُسافرین /باب 9 كَرَاهَةِ الشُّرُوعِ فِى نَافِلَةٍ بَعْدَ شُرُوعِ الْمُؤَذِّنِ ، سُنن ابو داؤد /حدیث /1268کتاب صلاۃ   التطوع /باب 5 إِذَا أَدْرَكَ الإِمَامَ وَلَمْ يُصَلِّ رَكْعَتَىِ الْفَجْرِ ، سُنن ابن ماجہ  /حدیث /1151کتاب  إقامة الصَّلاة والسُّنة فيها/باب 103 ما جاء في إِذَا أُقِيمَتِ الصَّلاَةُ فَلاَ صَلاَةَ إِلاَّ الْمَكْتُوبَةُ  ،سُنن الترمذی /حدیث /423کتاب صلاۃ   الصلاۃ    /باب 200 مَا جَاءَ إِذَا أُقِيمَتِ الصَّلاَةُ فَلاَ صَلاَةَ إِلاَّ الْمَكْتُوبَةُ  ،سُنن النسائی /حدیث /873/866کتاب الاِمامۃ    /باب 60 مَا يُكْرَهُ مِنَ الصَّلاَةِ عِنْدَ الإِقَامَةِ ، سُنن الدارمی، صحیح ابن حبان ، مُسند احمد،


[2]  سُنن البیھقی الکبریٰ /حدیث  /4226 كِتَابُ الصَّلَاةِ /جُمَّاعُ أَبْوَابِ صَلَاةِ التَّطَوُّعِ، وَقِيَامِ شَهْرِ رَمَضَانَ /باب كَرَاهِيَةِ الِاشْتِغَالِ بِهِمَا بَعْدَمَا أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ

Thursday, March 26, 2020

::: کرونا وائرس اور فراغت ، موقع غنیمت جانیے :::


:::  کرونا وائرس اور فراغت ، موقع غنیمت جانیے :::
بِسمِ اللَّہِ الرِّحمٰنِ الرِّحیم
الحَمدُ لِلّہِ وَحدہُ الذی لا اِلہَ اِلاَّ ھُو ،  و لا أصدق مِنہ ُ قِیلا ،  و الَّذی أَرسلَ رَسولہُ بالھُدیٰ و تبیّن مَا ارادَ ، و الصَّلاۃُ و السَّلام عَلیَ مُحمدٍ عبد اللَّہ و رسولِ اللَّہ ، الَّذی لَم یَنطِق عَن الھَویٰ و الَّذی أمانۃ ربہِ قد اَدیٰ ،
شروع اللہ کے نام سے جو بہت ہی مہربان اور بہت رحم کرنے والا ہے ،
سچی اور خالص تعریف کا حق دار اللہ ہی ہے ، جس کے عِلاوہ کوئی بھی دُوسراسچا اور حقیقی معبود نہیں ، اور جس سے بڑھ کر سچ کہنے والا کوئی نہیں ، اور جس نے اپنے رسول کو ہدایت کے ساتھ بھیجا اور اُنہوں  وہ سب کچھ واضح فرما دیا جسے واضح کرنے کا اللہ نے اِرداہ کیا ، اور سلامتی ہو اللہ کے بندے اور اللہ کے رسول محمد(صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم ) پر ، جو کہ اپنی خواہش کے مُطابق نہیں بات نہیں فرماتے تھے  ، اور جنہوں نے اپنے رب کی امانت مکمل طو رپر  دِی،
السلامُ علیکُم و رحمۃُ اللہ و برکاتہُ ،
کرونا وائرس کی حملہ آوری کے مثبت نتائج  میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اچھے خاصے مصروف لوگوں کو بھی کافی فراغت مُیسر ہو گئی ہے، لیکن،،،،،،،، وہ اپنی اِس فراغت کو کِس طرح استعمال کر رہے ہیں ، یہ ہم سب ہی جانتے ہیں ،
اپنے ایسے ہی مُسلمان بھائی بہنوں کو ، جنہیں اللہ تبارک و تعالیٰ نے  اِس وقت صحت بھی  عطاء فرما رکھی ہے، اور اِس کرونا وائرس کو سبب بنا کر فراغت بھی مہیا کر دی ہے ،  لیکن وہ اِن دونوں ہی نعمتوں کا کوئی خاطر خواہ فائدہ نہیں اُٹھا رہے،
اللہ عزّ و جلّ کی طرف رجوع کر کے، اللہ تعالیٰ اور اُس کے رسول کریم صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی تابع فرمانی اختیار کر کے ، اللہ پاک کی مدد طلب کرنے کی بجائے ، نافرمانی والے کاموں میں مشغول ہیں ،
میں اپنے ایسے ہی مُسلمان بھائی بہنوں کو خصوصاً اور سب ہی مُسلمانوں کو عمومی طور پر ، رسول اللہ  محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے چند فرامین سُنانا ، پڑھانا چاہتا ہوں ، اِس اُمید کے ساتھ کہ جِس دِل میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی تھوڑی سی بھی محبت ہو گی وہ اُن صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے اِرشادت پر عمل کرے گا ،
اور جو نہ کر پائے وہ اپنے بارے میں خود ہی فیصلہ کر لے  کہ وہ کتنا صاحبء اِیمان ہے اور کِس قدر  محبتء رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم ہے اُس کے دِل میں ،
تو سنیے ، پڑھیے ،
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے بتایا کہ    ﴿ نِعْمَتَانِ مَغْبُونٌ فِيهِمَا كَثِيرٌ مِن النَّاس  الصِّحَّةُ وَالْفَرَاغُ ::: دو نعمتوں کے بارے میں لوگوں کی اکثریت غلط کاری کا شکار رہتی ہے (1)صحت اور (2) فراغت﴾صحیح البخاری/کتاب الرقاق کی پہلی حدیث ،
کہیں آپ بھی تو اِنہی لوگوں میں نہیں ؟
ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے ہمیں یہ تعلیم بھی دِی کہ  ﴿ اغْتَنِمْ خَمْسًا قَبْلَ خَمْسٍ : شَبَابَكَ قَبْلَ هَرَمِكَ ، وَصِحَّتَكَ قَبْلَ سَقَمِكَ ، وَغِنَاكَ قَبْلَ فَقْرِكَ ، وَفَرَاغَكَ قَبْلَ شُغْلِكَ ، وَحَيَاتَكَ قَبْلَ مَوْتِكَ :::پانچ چیزوں سے پہلے پانچ چیزوں سے فائدہ اُٹھا لو (1) تُمارے بڑھاپے سے پہلے تُمہاری جوانی (کا فائدہ اُٹھا لو)اور (2) تُمہاری بیماری سے پہلے تُمہاری صحت (کا فائدہ اُٹھا لو)اور (3)تُماری غُربت سے پہلے تُمہاری مالداری(کا فائدہ اُٹھا لو)اور(4) تُمہاری مشغولیت سے پہلے تُمہاری فراغت(کا فائدہ اُٹھا لو)اور (5) تُمہاری موت سے پہلے تُمہاری زندگی(کا فائدہ اُٹھا لو) ﴾المستدرک الحاکم /حدیث 7846،صحیح الجامع الصغیر  1077،
کیا ہم ایسا کر رہے ہیں ؟  یا ہمارے کام  اِ س تعلیم کے  خِلاف  ہیں ؟
صاحب القران صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم سے سیکھ سیکھ کر جو  اہل الذکر ہوئے ، حقیقی معنوں میں اہل القران ہوئے وہ ایک دُوسرے کو یہ سمجھاتے رہے اور ہمارے لیے بھی یہ پیغام چھوڑ گئے کہ """"" إذا أمسيتَ فلا تَنتَظِر الصباحَ وإذا أصبحتَ فلا تنتظر المساءَ ، وخُذ مِن صحتكَ لِمرضك ومِن حياتكَ لِموتك :::تُم پر اگر شام آجائے تو صُبح کا انتظار مت رکھو اور اگر صبح ہو جائے تو اگلی شام کا انتظار مت رکھو ، اور اپنی صحت میں سے اپنی بیماری کے لیے حصہ لے لو ، اور اپنی زندگی میں سے اپنی موت کے لیے حصہ لے لو """""صحیح البخاری /کتاب الرقاق /باب3،
کیا ہمارے صُبح و شام ایسے ہیں ، کہ ہم آنے والے وقت میں ممکنہ مصیبت سے نمٹنے کی  تیاری کرتے ہوں ؟
کیا ہم اللہ تبارک و تعالیٰ اور اس کے خلیل محمد صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی تابع فرمانی اختیار کر کے اللہ کی رضا اور مدد پانے والے کام کر رہے ہیں ؟
یا خود ساختہ اورغیر ثابت شدہ   عقائد و عبادات اپنا کر اپنے رب تعالیٰ کی ناراضگی کو دعوت دے رہے ہیں ؟
یا محض مادی وسائل اور خود اعتمادی  وغیرہ  پر  بھروسہ کر کے زندگی انجوائے کر رہے ہیں ؟
کِسی مُصیبت اور پریشانی وغیرہ  کے آنے کی صُورت میں ، عموماً   اِنسانوں میں تین رویے ظاہر ہوتے ہیں ،
:::(1) ::: مادی وسائل یا اپنی خود اعتمادی وغیرہ کے گُمان میں رہتے ہوئے، بزعم خود  اُس مُصیبت  سے مقابلہ کرنا ،
::: (2) ::: مادی وسائل کو قابل توجہ نہ سمجھتے ہوئے ، اپنے عقیدے کے مُطابق اپنے خداؤں ، معبودوں ، اور مشکل کشاؤں وغیرہ  کی طرف رجوع کرنا ، اپنی بنائی یا اختیار کردہ عبادات میں  مصروف ہونا ،
::: (3) :::  اصل بھروسہ اور توکل صِرف اپنے اکیلے سچے اور حقیقی معبود اللہ جلّ جلالہُ پر رکھتے ہوئے، اُسی کی اطاعت کرتے ہوئے  ، روحانی اور مادی وسائل اِستعمال کرتے ہوئے اُس مُصیبت سے نجات پانے کی کوشش کرنا ،
پہلی دو قسم کے رویے تو مُسلم غیر مُسلم سب ہی میں ظاہر ہوتے ہیں ، لیکن تیسرا رویہ فقظ سچے  اِیمان والوں میں ظاہر ہوتا ہے ،
آیے ہم سب اپنے اپنے اعمال کا جائزہ لیں اور سوچیں کہ ہمارے رویے کِس گروہ والے ہیں ؟ اور ہم اللہ تعالیٰ کی رحمت و مدد کی طرف بڑھ رہے ہیں ، یا، اُس کے عذاب اور اُس کی طرف سے دُھتکارے جانے کی طرف ؟
و السلام علیکم۔ طلب گارء دُعاء ، عادِل سُہیل ظفر۔
تاریخ کتابت : 02/18/1441 ہجری ، بمطابق ، 25/03/2020عیسوئی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مضمون کا برقی نسخہ درج ذیل ربط پر مُیسر ہے :