Sunday, March 24, 2013

حواریء رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم ،أبو عبداللہ ،ز ُبیر رضی اللہ عنہ ُ بن العوام


اللہ کے اِس سچے ولی ، ز ُبیر رضی اللہ عنہ ُ بن العوام کا شمار اُن عظیم  صحابہ رضی اللہ عنہم  میں سے ہوتا ہے جنہیں اللہ پاک نے اپنے حبیب محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی ز ُبان مُبارک سے اُن لوگوں کے جیتے جی دُنیا میں ہی جنتی ہونے کی خوش خبری عطاء فرما دی  تھی ،

دوسرے خلیفہ بلا فصل أمیر المؤمنین عُمر الفاروق رضی اللہ عنہ ُ و أرضاہُ نے اپنی شہادت سے پہلے ، اپنے بھائیوں میں سے جن چھ افراد کو  اپنے بعد خِلافت  کے لیے تجویز فرمایا تھا ،  ز ُ بیر بن العوام رضی اللہ عنہ ُ بھی اُن میں شامل تھے ،

ز ُبیر رضی اللہ عنہ ُ کو اللہ تبارک و تعالیٰ نےاِیمان میں بلندی کے علاوہ  دُنیاوی رشتہ داریوں میں بھی ہر طرف سے عظیم المرتبہ شخصیات سے جوڑا ہوا تھا ،

ز ُبیر رضی اللہ عنہ ُ کا تعلق  قریش سے تھا ، اِن کی والدہ محترمہ صفیہ رضی اللہ عنھا  بنت عبد المطلب تِھیں، یعنی ، ز ُبیر رضی اللہ عنہ ُرسولُ اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کے پھوپھی زاد بھائی تھے ،

ز ُبیر رضی اللہ عنہ ُکے والد کا نام العوام اور دادا  خویلد تھے ، جو کہ اِیمان والوں کی پہلی ماں خدیجہ رضی اللہ عنہا و أرضاھا کے والد تھے ، اِس طرح ز ُبیر رضی اللہ عنہ ُ اُم المؤمنین خدیجہ رضی اللہ عنھا کے سگے بھتیجے تھے ،

ز ُبیر رضی اللہ عنہ ُ کی شادی أسماء رضی اللہ عنہا سے ہوئی تھی جو انبیاء اور رُسولوں کے بعد سب سے زیادہ بلند رتبے والے ہستی ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے ہمیشہ کے ساتھی ، اور پہلے بلا فصل خلیفہ أمیر المؤمنین أبو بکر الصدیق رضی اللہ عنہ ُ کی بیٹی تِھیں،وہ أسماء رضی اللہ عنھا جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ علی آلہ وسلم اور اپنے والد کی ہجرت کے وقت اُن کے ابتدائی وقت میں اپنی جان جوکھوں میں ڈال کر خدمت کی اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے انہیں """ ذات النطاقتین """ لقب عطاء فرمایا ،

اللہ تعالیٰ نے ان دونوں میاں بیوی کو ایک اور بڑا شرف عطاء فرمایا کہ انہیں کفار کے طعنے کے منہ ُ توڑ جواب  کا ذریعہ بنایا ، اور وہ یوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی مدینہ ہجرت کے بعد ، کافی عرصہ تک مہاجر اور انصار سب ہی  مسلمانوں میں سے کسی  کے ہاں بھی بیٹاپیدا نہیں ہوا ، تو وہاں کفار اور بالخصوص یہودیوں نے یہ مشہور کر دِیا کہ ہم نے اِن لوگوں پر جادو کر دِیا ہے اب ان کے ہاں کوئی بیٹا نہ ہوگا ، ان کی نسلیں کٹ جائیں گی اور یہ ہمیشہ کے لیے بے نام و نشان ہوجائیں گے ،

لیکن اللہ تبارک و تعالیٰ نے اُن کے اس جھوٹے دعوے کو باطل کر دیا اور ز ُبیر رضی اللہ عنہ ُ کو اُن کی بیوی أسماء بنت ابو بکر الصدیق رضی اللہ عنہما میں بیٹا عطاء فرمایا جو کہ ہجرت کے بعد مسلمانوں کے گھروں میں پیدا ہونے والا پہلے بیٹا تھے ، ز ُبیر رضی اللہ عنہ ُ نے یہ خوش خبری سُن کر  پوری قوت سے بلند کی گئی آواز میں  نعرہ تکبیر کہا ، اس بچے کی پیدائش اُس وقت  مسُلمانوں کی خوشیوں اور کفار کی رسوائی کا  بڑا سبب بنی ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے اُن کا نام """ عبداللہ """ رکھا ،اور انہی کی کُنیت پر ز ُبیر رضی اللہ عنہ ُکو"" أبو عبداللہ"" کہا جانے لگا ،

ز ُبیر رضی اللہ عنہ ُان خوش قسمت لوگوں میں سے تھے  جنہیں اللہ سُبحانہُ و تعالیٰ نے اِسلام کی دعوت کے ابتدائی دِنوں  میں ہی اپنا دِین حق قُبُول کرنے کی سعادت عطاء فرمائی اور یُوں ز ُبیر رضی اللہ عنہ ُ سابقین الاولین میں بھی شُمار ہوتے ہیں ،

اِسلام قبول کرنے کی وجہ سے ز ُبیر رضی اللہ عنہ ُ  کا  چچا اُنہیں  بہت سزائیں دیتا ،وہ ز ُبیر رضی اللہ عنہ ُکو لٹکا کر کہتا کہ اس دِین کو چھو ڑ دو، اور  اپنے باپ دادا کے دِین پر واپس آجاؤ لیکن ز ُبیر رضی اللہ عنہ ُ کا جوا ب یہی  ہوتا کہ میں کفر کی طرف واپس نہیں آؤں  گا،

اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم  نے دعوتِ حق کے آغاز میں دار أرقم کو اپنا مرکز بنایاتھا، ز ُبیر رضی اللہ عنہ ُبھی اُن خوش نصیبوں میں سے تھے جو دار أرقم میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی محفل میں حاضر ہو کر اُن صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی پاکیزہ ز ُبان سے اللہ کے دِین کی تعلیمات حاسل کرنے کی سعادت پاتے ،  

دیگر صحابہ رضی اللہ عنہم کی طرح ز ُبیر رضی اللہ عنہ ُ کو بھی اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی محبت سے سرشار رکھا تھا ، ایک دفعہ مکہ المکرمہ میں یہ افواہ پھیلی کے (معاذاللہ) رسول اللہ   صلی اللہ علیہ وعلی آلہ  وسلم   کو کسی نے قتل کر دیا ہے، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین غم و غصہ کی شدید حالت سے دوچار ہو گئے ، اور سب سے زیادہ غصہ ز ُبیر رضی اللہ عنہ ُکو آیا ، اِس سے پہلے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین اس خبر کےمطابق کچھ کرنے کا متفقہ فیصلہ کرتے ، ز ُبیر رضی اللہ عنہ ُ اپنی تلوار لے کر مکہ کی وادیوں میں نکل پڑے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کو تلاش کریں ، اور اگر اللہ نہ کرے یہ خبر سچی ہے تو اُس مردود کو بھی جہنم واصل کریں جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی ذات مبارک کو نقصان پہنچایا،

ز ُبیر رضی اللہ عنہ ُ اس وقت کم عُمر تھے مکہ کے لوگوں نے اُنہیں اس حال میں دیکھا تو ایک دوسرے کو دیکھ کر اُن پر طنز کرتے ہوئے کہا " اس لڑکے کو دیکھو تلوار لیے پھرتا ہے" ،

اس دوران نبی اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم جو کہ وادیوں کے بالائی حصے میں تشریف لے گئے تھے ، واپس تشریف لے آئے ، اور ز ُبیر رضی اللہ عنہ ُکو دیکھ کر اِرشاد فرمایا ﴿مَا لکَ یا زُبیر ؟ :::ز ُبیر تُمہارے ساتھ کیا معاملہ ہے ؟﴾،

ز ُبیر رضی اللہ عنہ ُ نے عرض کی """ اے اللہ کے رسول میں اُس کی گردن اتارنے نکلا ہوں جس نے آپ کو تکلیف پہنچانے کی کوشش کی ہے """،

تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے اُن کے لیے دُعاء فرمائی،

اس واقعہ کے مطابق اِسلامی تاریخ میں اللہ کی رضا کے حصول کے لیے ، رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی محبت اور دفاع میں سب سے پہلے تلوار نکالنے کا شرف بھی ز ُبیر رضی اللہ عنہ ُ کو ہی عطاء ہوا ،

ز ُبیر رضی اللہ عنہ ُنے تین دفعہ ہجرت کی ، دو دفعہ حبشہ کی طرف اور ایک دفعہ مدینہ المنورہ کی طرف ، اس طرح ہجرت کی فضلیت میں بھی ز ُبیر رضی اللہ عنہ ُ بلند رتبے والے ہوئے ،

ز ُبیر رضی اللہ عنہ ُ کو اللہ تعالیٰ نے لمبے قد والا ایک بہت طاقتور انسان بنایا تھا ،اِن کی والدہ محترمہ ، رسول ا للہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی سگی پُھوپُھو صفیہ بنت عبدالمطلب رضی اللہ عنہا نے اپنے بیٹے کی تربیت کچھ اس طرح کی تھی کہ وہ کافی سخت جاں اور ہمت والے بن گئے ،

تاریخ کی کتابوں میں لکھا کہ ز ُبیر رضی اللہ عنہ ُکی والدہ ماجدہ اُنہیں رات کے اندھیرے میں اکیلا چھوڑ دیتیں اور اُن کے جسم پر کچھ اس طرح ضرب لگاتی رہتیں کہ اُن کا جسم مضبوط اور تکلیفیں برداشت کرنے والا بن جائے ،

ایک دفعہ کسی نے ز ُبیر رضی اللہ عنہ ُ کی والدہ محترمہ سے پوچھ ہی لیا کہ "آپ اپنے بیٹے کے ساتھ اتنا سخت رویہ کیوں رکھتی ہیں ؟ اسے اس طرح جسمانی اذیت کیوں دیتی ہیں ؟ "،

 توصفیہ رضی اللہ عنہا  بنت عبدالمطلب نے فرمایا "میں اس لیے مارتی ہوں کہ یہ  مضبوط بن جائے ،اور پھر یہ پر کشش اسلامی لشکر کی سربراہی کرے "،

ز ُبیر رضی اللہ عنہ ُ کو اللہ تبارک و تعالیٰ نے جِسمانی قوت کے ساتھ ساتھ بہت مضبوط ذہن اور حافظہ بھی عطاء فرمایا تھا ، اِنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے یہودیوں کی ز ُبان سیکھنے کا حُکم فرمایا تا کہ یہودیوں کی طرف سے آنے والے خطوط پڑھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کو سنا یا کریں تو اللہ کی مہربانی سے ز ُبیر رضی اللہ عنہ ُ نے صرف پندرہ دِن میں یہودیوں کی ز ُبان لکھنا پڑھنا سیکھ لی ،  

ز ُبیر رضی اللہ عنہ ُ نے سترہ سال کی عُمر سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی سربراہی میں ہر معرکہ جِہاد میں شرکت کی ، اور کسی بھی جِہاد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کا ساتھ نہ چھوڑا ،

 جِہادء اُحد میں ز ُبیر رضی اللہ عنہ ُرسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے دائیں بائیں ہی رہے، تاریخی روایات میں مذکور ہے کہ جِہادء بدر کے میں ز ُبیر رضی اللہ عنہ ُ نے زرد (پیلے)رنگ کا عمامہ زیب ء سر کیا ہو اتھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے بھی اِ س دِن زرد عمامہ زیبء سر فرمایا ، اور  اللہ کی طرف سے مدد کے لیے آنے والے فرشتوں نے بھی زرد رنگ کے عمامے ہی زیب ء سر کیے ہوئے تھے ،

ز ُبیر رضی اللہ عنہ ُ اُن عظیم جنگجو صحابہ رضی اللہ عنہم میں سے تھے جوبیک وقت  دونوں ہاتھوں سےتلوار چلا کر  اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم ، اور اللہ کے دِین کے  دُشمنوں پر عذاب ڈھایا  کرتے تھے،

پہلی دفعہ ز ُبیر رضی اللہ عنہ ُ کی بُہادری اورطاقت کا اندازہ ،اور اُن کی والدہ کی دی ہوئی تربیت کے کا نتیجہ جِہادء اُحد میں ظاہر ہوا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے میمنہ پر مُنذر بن عمرو رضی اللہ عنہ ُ کو اور مَیسرہ پر ز ُبیر رضی اللہ عنہ ُ کو سپہ سالار مقرر فرمایا اور ان کا معاون مقداد بن أسود رضی اللہ عنہ ُ کو مقرر فرمایا،

جب میدان جِہاد سج گیا ، تو اللہ کے دُشمنوں کی صٖفوں میں سے سب سے پہلے ایک ایسا بہادر اور مضبوط شخص لڑائی کے لیے للکارتا ہوا مسلمانوں کے سامنے آیا جسے مُسلمان بھی "لشکر کا مینڈھا" کہتے تھے، اِس بد بخت کا نام تھا طلحہ بن ابی طلحہ ،ابلیس کا یہ پیروکاراپنے  اونٹ پر سوار ہو کر باہر نکلا تھا اور بڑے تکبر سے مسلمانوں کو لڑنے کے لیے للکارنے  لگا ، صحابہ کی اکثریت اس کی طاقت اور بہادری کی وجہ سے اس کا سامنا کرنے کے بارے میں ابھی تردد میں ہی تھے کہ ز ُبیر رضی اللہ عنہ ُ نے اللہ کے دُشمنوں میں سے ایک طاقتور ترین دُشمن سے لڑنے کے موقع سے فائدہ اُٹھا لیا اور تیز و تُند طوفان کی طرح آگے بڑھے اور ایک پر قوت چھلانگ لگا کر اُس ابلیسی لشکر کے رُستم  کے اُونٹ پر چڑھ گئے اور کفر کی طاقت سے بھرے ہوئے اُس  مینڈھے کو ذبح کر ڈالا ، رسول صلی اللہ علیہ و علی آلہ  وسلم نے یہ منظر دیکھا کے اپنے رب کی عظمت و کبریائی کا نعرہ بلند فرمایا ، اور سارا میدان جِہاد اللہ کی تکبیروں سے گونج اُٹھا ،

اور یُوں ز ُبیر رضی اللہ عنہ ُ کو اللہ تعالیٰ نے دِین حق کے دُشمنوں کو قتل کرنے والوں میں سے پہلا ہونے کا شرف بھی عطاء فرمایا ،

جِہادء اُحد کے اختتام پر جب قریشی  اور مکی کافر  مکہ کی طرف واپس فرار ہوئے تو اُن کے پلٹ کر حملہ کر دینے کے ممکنہ اندیشے کے پیش نظر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے مناسب خیال فرمایا کہ اُن کی خبر گیری رکھی جائے ،

تو ابو بکر الصدیق اور ز ُبیر رضی اللہ عنہ ُ ستر مجاھدین کا ایک لشکر لے کر اُن کافروں کے پیچھے گئے ، جب کافروں کو اس بات کا پتہ چلا تو اُنہیں مدینہ المنورہ کی طرف  واپس پلٹنے کی ہمت ہی نہ ہوئی ،

اسی طرح کا واقعہ جِہادء احزاب کے موقع پر بھی پیش آیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے دُشمن کے لشکر کی خبر گیری کے بارے میں پوچھا ﴿مَنْ يَأْتِينِى بِخَبَرِ الْقَوْمِ يَوْمَ الأَحْزَابِ؟:::کون ہے جو مجھے احزاب والے دِن دُشمن کی خبر لا کر دے گا ؟﴾،

تو ز ُبیر رضی اللہ عنہ ُ نے فوراً  آگے بڑھ کر اِس خوفناک کام کو سر انجام دینے کے لیے خود کو پیش کیا ،

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے ایک دفعہ پھر وہی اِرشاد فرمایا ، اور ز ُبیر رضی اللہ عنہ ُ نے ایک دفعہ پھر خود کو پیش کیا، جب تیسری دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے وہی سوال فرمایا اور ز ُبیر رضی اللہ عنہ ُ نے خود کو پیش کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے اِرشاد فرمایا  ﴿إِنَّ لِكُلِّ نَبِىٍّ حَوَارِيًّا ، وَحَوَارِىَّ الزُّبَيْرُ:::یقیناً ہر نبی کے خاص مددگار ہوتے ہیں ، اور میرا خاص مددگار ز ُبیر ہے﴾،

بنی قریظہ پر جِہاد کے معرکے کے لیے بھی جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے یہ خواہش فرمائی کہ کوئی دُشمن کی خبر لے کر آئے تو ز ُبیر رضی اللہ عنہ ُ ہی تشریف لے گئے اور جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ علی وآلہ وسلم کی حکم کی تعمیل کر کے اُن کی خدمت اقدس میں واپس پہنچے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے اِرشاد فرمایا    ﴿فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي:::میرے ماں باپ تُم پر قربان ہوں ﴾، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی اتنی زیادہ خوشی اور اُن صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی طرف سے ایسی عظیم سعادت والی دُعا ء ہے صحابہ رضی اللہ عنہم میں سے چند ہی لوگوں کو  نصیب ہوئی ،

جِہادء  بدر میں  اللہ تعالیٰ نے ز ُبیر رضی اللہ عنہ ُ کی قوت و جانبازی کا ایک اور منظر دِکھایا کہ کفار و مشرکین کا ایک طاقتور جنگجو عبیدہ بن سعید بن عاص جو کہ سر تا پا لوہے کا لباس پہن کر میدان میں آیا، اِس لباس میں سے سِرف اُس کی آنکھیں ہی دِکھائی دے رہی تھیں ، اُن نے بڑی نخوت سے مُسلمانوں کو للکار کر کہا "میں ہوں  ابو ذات الکرش "،

ز ُبیر رضی اللہ عنہ ُ کسی شعلے کی طرح اُس کی طرف بڑھے کہ اُسے کچھ سنبھلنے کا موقع بھی نہ دِیا اور اُس کی آنکھوں برچھی ماری جو سیدھی اُس بد بخت کے کفر بھرے دماغ میں گھس گئی ، اور وہ مردء مؤمن کی ایک ہی یہ ضرب سے جہنم واصل ہو گیا ، ز ُبیر رضی اللہ عنہ ُ کا وار اس قدر طاقت سے کیا گیا تھا کہ جب اُنہوں نے اُس کافر کی لاش پر پاؤں رکھ کر برچھی نکالی تو اس کے دونوں سرے ٹیڑھے ہو گئے،ابو الکرش کے قتل سے فارغ ہو کر ز ُبیر رضی اللہ عنہ ُ دشمنوں میں جا گھسے اور اس بہادری سے لڑے کہ تلوار میں دندانے پڑھ  گئے اور وہ خود بھی زخموں سے چُور ہوگئے لیکن معرکے کے اختتام تک کسی کمزوری کے بغیر کافروں پر اللہ کا عذاب بن کر مُسلط ہی رہے ،

ز ُبیر رضی اللہ عنہ ُ کی یہ برچھی اُن سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے لے لی ، اُن صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے دُنیا سے رُخصت ہونے کے بعد ز ُبیر رضی اللہ عنہ ُنے وہ برچھی واپس لے لی تو خلیفہ اول بلا فصل ابو بکر الصدیق رضی اللہ عنہ ُ نے وہ برچھی ز ُبیر رضی اللہ عنہ ُ سے مانگ لی ، اُن کی وفات کے بعد وہ برچھی پھر ز ُبیر رضی اللہ عنہ ُنے واپس لے لی ، تو خلیفہ دوئم بلا فصل عُمر الفاروق رضی اللہ عنہ ُ نے وہ برچھی اُن سے مانگ لی ، اُن کی شہادت  کے بعد وہ برچھی پھر ز ُبیر رضی اللہ عنہ ُنے واپس لے لی ، تو خلیفہ سوئم بلا فصل عثمان ذوالنورین رضی اللہ عنہ ُ نے وہ برچھی اُن سے مانگ لی ، اُن کی شہادت کے بعد وہ برچھی خلیفہ چہارم بلا فصل علی رضی اللہ عنہ ُ کے خاندان کے پاس پہنچی تو ز ُبیر رضی اللہ عنہ ُ نے اُن سے واپس لے لی اور پھر ز ُبیر رضی اللہ عنہ ُکی موت تک وہ برچھی انہی کے پاس رہی ،

فتح مکہ کے موقع اللہ تبارک و تعالیٰ نے ز ُبیر رضی اللہ عنہ ُ کو ایک اور فضلیت عطاء فرمائی کہرسول اللہ صلی اللہ علیہ ولعی آلہ وسلم نے فتح مکہ والے دِن ز ُبیر رضی اللہ عنہ ُ کو سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ ُ کا انصار کی سرداری والا جھنڈا بھی عطاء فرمایا اور ز ُبیر رضی اللہ عنہ ُ اسلامی لشکر کے دو جھنڈے ہاتھوں میں بلند کیے فاتح کے حیثیت سے اپنے رسول کریم صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے ساتھ مکہ میں داخل ہوئے ، اور دونوں جھنڈے کعبہ شریف کے پاس  گاڑے ، اور کچھ روایات میں ہے کعبہ میں لٹکا دیے گئے ،

ز ُبیر رضی اللہ عنہ ُ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہر غزوہ میں شریک رہے ،اللہ کی راہ میں اپنی جان پیش کرتے کرتے اِن کے جسم پر بہت سے تمغے زخموں کی صورت میں ثبت ہوئے ، جِن میں سے تین تو بہت بڑے تھے ، جن کے بارے میں عروہ بن ھشام رحمہُ اللہ کا کہنا ہے کہ """ میرے دادا کہ جسم پر تین نشان بہت نمایا ں تھے ۔دو تو اُن زخموں کے  نشان تھے جو جِہادء بدر میں لگے تھے ، اور ایک اُس زخم کا نشان تھا جو جِہادء یرموک میں لگا تھا ، اور وہ زخم اتنے گہرے تھے کہ میں اُن میں اپنی انگلیاں پھیرا کرتا تھا ، اور میں اُس وقت دس سال کا تھا """،

جِہادء یرموک میں ز ُبیر رضی اللہ عنہ ُ کی اللہ کی راہ میں جانبازی اور بہادری بہت ہی نمایاں نظر آتی ہے ، کہ جب شام کے علاقے میں رومیوں سے لڑائی شروع ہونے والی تھی تو ز ُبیر رضی اللہ عنہ ُ نے کافروں کے ٹڈی دل لشکر کو دیکھ کر مجاھدین سے مخاطب ہو کرکہا """ یہ فوج !ارے یہ تو بہت کمزور ہے ۔ یہ دیکھو میں تمہیں بتاتا ہوں کہ یہ کتنی حقیر ہے """ اور یک یکا کُفر کے اندھیروں میں ڈوبے ہوئے بُزدِلوں کے لشکر میں اللہ کا قہر بن کر ٹوٹ پڑے اور اُن کے لاشے گِراتے ہوئے دوسری طرف نکل گئے ، اور پھر اِسی طرح اُن کی صفوں کو کاٹ گِراتے ہوئے واپس اپنی فوج میں تشریف لے آئے ، ز ُبیر رضی اللہ عنہ ُ کی اِس فِدائی کاروائی کو دیکھ کر سب ہی مجاھدین کے حوصلے بڑھ گئے ، مضبوط تر ہو گئے ، اور وہ اللہ کے دُشمنوں کے لیے ناقابل تسخیر بن گئے اور اللہ کے لطف و کرم سے اپنے وقت کی سُپر پاور کو شکست کی ذلت سے دوچار کر دِیا ،

سن چھتیس 36 ہجری ، جمادی الثانی کے آخری حصے میں ، جب چوتھے بلا فصل خلیفہ أمیر المؤمنین علی رضی اللہ عنہ ُ کے خِلاف جنگ جمل کا میدان تیار ہوا ، تو ز ُبیر رضی اللہ عنہ ُ،  علی رضی اللہ عنہ ُ کے مخالفین میں تھے ، میدان میں پہنچ کر علی رضی اللہ عنہ ُ نے دریافت کیا کہ """ ز ُبیر ابن العوام کہاں ہیں ؟ """ ،

ز ُبیر رضی اللہ عنہ ُ  ، علی رضی اللہ عنہ ُ کے سامنے آئے ، دونوں ایک دوسرے کے اتنے قریب ہوئے کہ اُن کی سواریوں کے جانوروں کی گردنیں ایک دوسرے سے مل گِئیں ، تو امیر المؤمنین علی رضی اللہ عنہ ُ نے ز ُبیر رضی اللہ عنہ ُ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی ایک حدیث شریف یاد کروائی ، جِسے سُن کر ز ُبیر رضی اللہ عنہ ُ نے فرمایا """ اے کی قسم میں آپ سے نہیں لڑوں گا """ ، اور صفوف میں سے نکلتے ہوئے مدینہ المنورہ کی طرف واپس روانہ ہوگئے ،

یہ منظر دیکھ کر امیر المؤمنین علی رضی اللہ عنہ ُ کے اِرد گِرد جمع منافقین جو کہ خود کو  شعیان علی و اھل بیت کہہ کر مسلمانوں میں فساد کروا رہے تھے ، اُن منافقین میں سے عمرو بن جرموز نامی ایک شخص ز ُبیر رضی اللہ عنہ ُ کے پیچھے ہو لیا ، اور اپنے ساتھ دو اور منافقوں فضالہ بن حابس اور نفیع کوبھی شامل کیا ، جنہوں نے ز ُبیر رضی اللہ عنہ ُ  کو کوفہ سے چند میل کے فاصلے پر وادی السباع کے مُقام پر پا لیا ، اور ملاقات کا شوق ظاہر کیا، ز ُبیر رضی اللہ عنہ ُ کے ایک ساتھی نے کہا کہ یہ شخص اسلحے کے ساتھ کسی تیاری میں لگتا ہے ، ز ُبیر رضی اللہ عنہ ُ نے فرمایا "کوئی بات نہیں ، ملنے دو "،  اور کچھ روایات میں ہے کہ نماز کا وقت تھا ، پس ان لوگوں نے نماز کے وقت ہونے کا ذِکر کر کے ز ُبیر رضی اللہ عنہ ُ کو روکا ، اور جب وہ اپنی سواری روک کر اترنے والے تھے تو بد بخت منافق عمرو بن جرموز نے پیچھے سے دو وار کر کے ز ُبیر رضی اللہ عنہ ُ کو زخمی کیا اور اس سے پہلے کہ وہ سنبھلتے اُس کے دو جہنمی ساتھیوں نے بھی حمل کر دیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے حواری ،جیتے جی دُنیا میں ہی جنتی ہونے کی ضمانت حاصل کرنے والے ز ُبیر رضی اللہ عنہ ُ کو شہید کر کے اپنے لیے جہنم پکی کر لی ،

البدایہ و النھایہ میں اِمام ابن کثیر رحمہُ اللہ نے لکھا کہ زیادہ مشہور یہ ہے کہ ز ُبیر رضی اللہ عنہ ُ کو وادی السباع میں سوتے ہوئے شہید کیا گیا ،

عمرو بن جرموز نے ز ُبیر رضی اللہ عنہ ُ کی تلوار ، انگوٹھی اور سر تن سے جدا کیے ، اور لے کر أمیر المؤمنین علی رضی اللہ عنہ ُ کی خدمت میں حاضر ہوا کہ اس طرح وہ مقربین میں سے ہو سکے اور اُن کا اعتماد حاصل کر کے مسلمانوں کے درمیان فتنے اور فساد کو مزید ہوا دے سکے ، لیکن جب وہ أمیر المؤمنین علی رضی اللہ عنہ ُ کی خدمت میں پہنچا ، اور ز ُبیر رضی اللہ عنہ ُ کی تلوار اُن کی خدمت میں بھجوائی ، اور ملاقات کی اجازت طلب کی ، تو  أمیر المؤمنین علی رضی اللہ عنہ ُ نےز ُبیر رضی اللہ عنہ ُکی تلوار دیکھ کر  فرمایا  """ اِس تلوار نے ہمیشہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم سے پریشانیوں کو دُور کیا ہے """ ، اور اُس بد بخت جہنمی کو ملاقات کی اجازت نہ فرمائی ، بلکہ  اجازت طلب کرنے کا پیغام لانے والے سے کہا  """ جاؤ ، صفیہ کے بیٹے کے قاتل کو جہنمی ہونے کی خبر سنا دو""" ،

ز ُبیر رضی اللہ عنہ ُ کی لاش کو وہیں وادی السباع میں ہی دفن کیا گیا تھا ۔

ز ُبیر رضی اللہ عنہ ُ کی شہادت کی خوش خبری  بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی ز ُبان مبارک سے ادا ہو چکی تھی جب ایک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم ، ابو بکر الصدیق، عُمر الفاروق، عُثمان الغنی ذوالنورَین ، علی بن ابی طالب ، طلحہ ،زبیر بن العوام، اور سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہم اجمعین  کے ساتھ حِراء پہاڑ پر  کھڑے تھے کہ اچانک پہاڑ لرزنے لگا  تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم  نے اِرشاد فرمایا ﴿اسْكُنْ حِرَاءُ فَمَا عَلَيْكَ إِلاَّ نَبِىٌّ أَوْ صِدِّيقٌ أَوْ شَهِيدٌ:::سُکون پکڑو (اے)حِراء ، تُمہارے اُوپر سوائے نبی ، یا صدیق ، یا شہید کے علاوہ کوئی اور نہیں ہے﴾، صحیح مُسلم /حدیث6401/کتاب فضائل الصحابہ/باب2،حدیث کی تقریبا  ً سب ہی معروف کتابوں میں الفاظ کے کچھ فرق سے یہ حدیث شریف مذکور ہے ،   

اللہ کے یہ سچے والی ، اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی سچے عملی محب اپنی ساری زندگی اللہ کی راہ میں اپنا سب کچھ نچھاور کرتے ہوئے تاریخ دانوں کے محتاط اندازے کے مطابق چھیاسٹھ 66 سال  کی عُمر میں اللہ کے رسول کریم صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے فرمان کے مطابق شہادت کے عظیم رُتبے پر فایز کر اپنے رب کے سامنے حاضر ہونے چل پڑے ، فانی دُنیا کی امتحانوں سے نجات دی گئی اور اللہ کی رضا اور جنت کی طرف بلا لیا گیا ۔ رضی اللہ عنہ ُ و أرضاہ ،

اللہ تبارک  و تعالیٰ ہم سب کو اور ہر ایک کلمہ گو کو یہ ہمت عطاء فرمائے کہ ہم اللہ کے اِن سچے اولیاء اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے اِن سچے محبان ، یعنی صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین کو اپنے لیے مثالی شخصیات بنا کر ان کے نقش قدم پر چل سکیں ۔ و آخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین ، والصلاۃ و السلام علی رسولہ الامین ۔

مصادر ومراجع ::: صحیح البخاری ،صحیح مُسلم ، صحیح ابن حبان ، سُنن ابو داؤد ، سُنن الترمذی ، سُنن ابن ماجہ ، سُنن النَسائی ،المُستدرک للحاکم ، مُسند أحمد ، سُنن الدارقُطنی ،   تاریخ مدینہ دمشق،الاستعیاب فی معرفۃ الاصحاب ، سيرة أمير المؤمنين علي بن أبي طالب - رضي الله عنه – أسد الغابہ ، الإصابة في تمييز الصحابة، سير أعلام النبلاء ، سمط النجوم العوالي في أنباء الأوائل والتوالي ، السيرة النبوية لابن كثير ، الرياض النضرة في مناقب العشرة ، شذرات الذهب في أخبار من ذهب، الفتنة ووقعة الجمل ، الكامل في التاريخ ، تاريخ الرسل والملوك ۔

موت کا وہ شرارہ ایک پردہ نشین نگینہ تھی

 

پچھلے تمام ایڈیشنز میں ہم نے مرد مثالی شخصیات کا ذِکر کِیا ، اِس دفعہ اِن شاء اللہ ہم خواتین میں سے ایک مثالی خاتون کا ذِکر کریں گے ، مرد ہو یا عورت ہمارے لیے یہی  حقیقی ہیروز ہیں ، کِسی مرد یا عورت کے ذِکر کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ وہ صرف اپنی ہی جنس کے لیئے مثالی شخصیت ہے ، بلکہ ان میں سے ہر مرد ایک سچی مُسلمان عورت کے لیئے مثالی شخصیت ہے کہ وہ اپنے باپ ، بھائی ، خاوند ، بیٹے اور اگلی اولاد کو اِس مثالی شخصیت جیسا بنانے کی تگ و دو کرے اور جو کچھ اُس مثالی شخصیت کے مثالی کِردار میں سے وہ خود اپنا سکتی ہے اپنائے ، اور اِسی طرح خواتین کا ذِکر محض خواتین کے لیئے ہی نہیں بلکہ ہر سچے مُسلمان کے لیئے ہے کہ وہ اِس مثالی خاتون کی شخصیت کا پَرتو اپنی ماں ، بہن ، بیوی ، بیٹی اور اگلی اولاد میں سے جو مؤنث ہیں اُن میں اُجاگر کرنے کی کوشش کرے اور جو کچھ خوداپنا سکتا ہے اپنائے ۔
    آئیے آپ کو اللہ کی ایک نیک بندی اور ایک حقیقی ولیہ خاتون کا واقعہ سُناتے ہیں ،،،

     مُسلمانوں کا روم کے کافروں پر جہاد زور و شور سے جاری تھا ، امیرجہاد ، اللہ کی تلوار خالد ابن الولید رضی اللہ عنہ ُ اپنی تما تر بہادری اور مؤمنانہ فراست کے ساتھ اللہ اور اُس کے دِین اور اُس کے رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے دشمنوں پر اللہ کا قہر بن کر مسلط تھے ، اور اِن معرکوں میں جو بات اُن کے لیے بلکہ تمام مسلمان لشکر کے لیے حیرانگی کا باعث تھی ،،،،،

 وہ ایک گُھڑ سوار تھا جو بھرپور معرکے کے درمیان کہیں سے اچانک ظاہر ہوتا ، اُس نے سارے جِسم کو ایک سیاہ چادر میں لیپیٹا ہوتا اور ایک سبز چادر کی چوڑی پٹی اُس کی کمر پر اِس طرح بندھی ہوتی کہ اُس کا سینہ، گردن اور کمر کا پچھلے حصہ اُس میں چھپا ہوتا ، اور جب وہ نمودار ہوتا تو ایک چنگاری کی طرح دشمن کی طرف لپکتا اور اُس کے وار کِسی بڑی آگ کی لِپٹ کی طرح پھرتیلے ہوتے کہ جِس طرف جاتا دشمن گرتے ہی نظر آتے اور اُسکی پھرتی اور شجاعت کے سامنے کہیں کوئی کھڑا نہ رہتا ، وہ شرارہ صفت  گھڑ سوار دُشمن کی لاشیں گِرا کر  اُن کی صفیں کاٹتا ہوا اُن کے اندر تک گُھستا چلاجاتا اور جب واپس آتا تو اُسکے کپڑوں کا رنگ صِرف دُشمن کا خون ہوتا ، اور پھر ایک چکر لگا کر دُشمن پر ٹوٹ پڑتا ، جب تک میدانِ جہاد گرم رہتا اُس کی یہ ہی کاروائی رہتی ،
    امیرِجہاد  سیف اللہ خالد ابن الولید رضی اللہ عنہ ُ اُسکی بہادری دیکھ کراُسے ملنے اور اُسکی شخصیت جاننے کی شدید خواہش کا اِظہار کرتے لیکن جِہاد کی کاروائی کی طرف سے کِسی اور طرف دھیان نہیں کر پاتے ،اُن کے عِلاوہ باقی لشکرِ اِسلام بھی اِس خواہش میں رہتا کہ اِس شخصیت کو جانے جِس نے رومیوں کے بڑے بڑے وار وریرز (زبردست جنگجولڑاکے) ٹکڑوں میں تقسیم کر دیے اور بڑے بڑے جنگجو ماہرین کو کُوٹ کر پھینک دِیا ،

 رافع بن عُمیرہ  رضی اللہ عنہ ُ  نے جب اُس سپر ویرر کے بارے میں جاننے کے لیے مجاھدین کا یہ شوق دیکھا تو کہا """ میں نہیں سمجھتا کہ یہ شہسوار امیرء جِہاد سیف اللہ خالد ابن الولید رضی اللہ عنہ ُ کے عِلاوہ کوئی اور ہو سکتا ہے """

 ابھی وہ یہ بات کر ہی رہے تھے کہ سامنے امیرء جِہاد سیف اللہ خالد ابن الولید رضی اللہ عنہ ُ    آ گئے ، تو رافع نے کہا """ اے أمیر ، یہ شہسوار کون ہے جو اِس طرح اپنی جان کو شدید خطرے ڈال کر دشمنوں کابُھرکس نکال رہا ہے """

امیرء جِہاد سیف اللہ خالد ابن الولید رضی اللہ عنہ ُنے کہا  """  میں موجودہ حالت میں اِس کی اِن فدائی کاروائیوں کو مُناسب نہیں سمجھتا ، لیکن مجھے اِس شہسوار کی بُہادری اور عقل مندی بہت پسند آئی ہے ، اے اِسلام کے بہادرو ، سب جمع ہو کر اللہ کے دِین کی حفاظت کےلیے اِس دلیرکی مدد کرو اور اللہ کے دِین کی حفاظت میں اُس سے پیچھے نہ رہنا """

 پھر سب اکٹھے ہو کر صف بندی کر کے امیرء جِہاد سیف اللہ خالد ابن الولید رضی اللہ عنہ ُ کے پیچھے پیچھے دُشمن پر ٹوٹ پڑے ، جب وہ لوگ اُس شرارہ صفت  شہسوار کے قریب پہنچے تو امیرء جِہاد سیف اللہ خالد ابن الولید رضی اللہ عنہ ُ نے با آوازء بلندکہا  """  اے اللہ کی راہ میں اپنی جان کو داؤ پر لگانے والے اور اللہ کے دشمنوں کو برباد کرنے والے بھائی ، اپنے چہرے کو بے نقاب کرو کہ ہم تمہیں دیکھ کر اپنی آنکھیں اور دِل ٹھنڈے کر سکیں """

 وہ شہسوار کوئی جواب دیے بغیر پھر دُشمن کی صفوں پر پَل پڑا اور پھر ویسا ہی ہوا کہ جِدھر وہ جاتا رومی خوف زدہ ہو کر اُس کے سامنے بھاگتے اور وہ اپنے دائیں بائیں اور سامنے سے اُن کو کِسی خوفناک آندھی کی پُھرتی سے اپنی تلوار کی لپیٹ میں لے لیتا اور کِسی خوفناک زلزلے کی طرح اُنہیں زمین بوس کرتا چلا جاتا ،

 ایک اور حملے سے فارغ ہو کر جب وہ پلٹا تو پھر کچھ مجاھد  اُسکے قریب پہنچے اور کہا """ تُم عجیب آدمی ہو ، تُمہار أمیر تُمہیں کوئی حُکم دے رہا ہے اور تُم اُسکی بات نہیں مانتے """ کوئی جواب دئیے بغیر وہ پھر دُشمن پر ٹُوٹ پڑا ،
    جب رومیوں کی لاشوں کے انبار لگ گئے اور وہ پیچھے ہٹ گئے ، تو امیرء جِہاد سیف اللہ خالد ابن الولید رضی اللہ عنہ ُ اُس شہسوار کے قریب پہنچے اور کہا """  اے اللہ کے بندے تُم نے اپنے تمام مُسلمان بھائیوں کے اور میرے دِل میں بڑی محترم جگہ بنا لی ہے کیا تُم اِس سے زیادہ احترام چاہتے ہو ، جو اپنے آپ کو ظاہر نہیں کرتے ، اپنا نام تک بتانے سے بھی گُریز کر رہے ہو """

 تو اُس شہسوار نے جواب دِیا """ اے أمیر میں آپکی بات جواب اِس لیے نہیں دے پا رہی کہ میں ایک پردے میں رہنے والی لڑکی ہوں اور چُھپائی جانے والی چیز ہوں میری حیا مُجھے روکتی ہے کہ آپ سے بات کروں """
امیرء جِہاد سیف اللہ خالد ابن الولید رضی اللہ عنہ ُ نے کہا """ تُم ہو کون ؟  """

 تو اُس نے جواب دِیا """میں خولہ ہوں الأزور کی بیٹی مجھے خبر ملی کہ میرا بھائی ضرار دُشمن کی قید میں ہے تو میں میدانِ جہاد میں آ گئی کہ اب میں اپنے بھائی کی جگہ اللہ کے دشمنوں سے جہاد کروں اور شاید اِس دوران اللہ تعالیٰ مجھے میرے بھائی کو آزاد کروانے کا موقع عطاء فرما دے """

امیرء جِہاد سیف اللہ خالد ابن الولید رضی اللہ عنہ ُ نے کہا """ اِن شاء اللہ ہم سب مل کر تمہارے بھائی کو آزاد کروانے کی کوشش کریں گے """
عامر بن طفیل رضی اللہ عنہ ُ  کا کہنا ہے کہ """میں اُس وقت امیرء جِہاد سیف اللہ خالد ابن الولید رضی اللہ عنہ ُ کے دائیں طرف تھا ، اُنہوں نے سب کو اکٹھے ہو کر پھر دُشمن پر حملہ آور ہونے کا حُکم دِیا اور ہمیشہ کی طرح سب سے آگے وہ خود ہوئے اور اُن کے بائیں طرف خولہ بنت الأزور ہو گئیں ، جب رومیوں نے ہماری تیاری دیکھی اور خولہ کو بھی امیرء جِہاد سیف اللہ خالد ابن الولید رضی اللہ عنہ ُ کے پہلو میں دیکھا تو خوف سے چیخ کر پکارے """ اگر یہ قوم اِس شہسوار جیسی ہے تو اِس سے جنگ ہمارے بس کا روگ نہیں""" اور اپنے ٹھکانے کی طرف واپس ہو لیے ،

 اِس کے بعد خولہ اپنے بھائی کو تلاش کرتے ہوئے مُسلمان مجاھدوں سے پوچھ گچھ کرنے لگیں جب اُنہیں کوئی خبر نہ ملی تو اُنہوں نے بڑے رنجیدہ لہجے میں کہا """ اے میرے ماں جائے ، تیری جدائی کا انگارہ تیری بہن کے دِل  میں ہے لیکن تیرا کچھ پتہ نہیں چل رہا ، کیا پتہ تُم ہمارے باپ سے جا ملے ہو جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ علی آلہ وسلم کے سامنے شہید ہوئے تھے ، اللہ تُم پر اپنی رحمت کرے  """

 مجاھدین اور امیرء جِہاد سیف اللہ خالد ابن الولید رضی اللہ عنہ ُ اُن کی یہ بات سُن کربہت دلگیر ہوئے اور کچھ پر تو اتنی رقت طاری ہوئی کہ ان کی آنکھیں اشکبار ہو گئیں ،  پھر امیرء جِہاد سیف اللہ خالد ابن الولید رضی اللہ عنہ ُ اکیلے ہی دُشمن کی طرف پلٹے ، خولہ رضی اللہ عنہا  بھی اُن کے ساتھ ہو گئیں ، جب دُشمن نے اُن کو اپنی طرف آتے دیکھا تو اپنے ہتھیار پھینک دیئے اور امان طلب کی ،

امیرء جِہاد سیف اللہ خالد ابن الولید رضی اللہ عنہ ُ نے اپنے ساتھیوں سے کہا انہیں پکڑ کر میرے پاس لے آؤ ، جب اُن کو لایا گیا تو اُنہوں نے بتایا کہ وہ وردان کے فوجی ہیں اور حُمص کے رہنے والے ہیں وردان تو بھاگ گیا ہے اوریہ لوگ صلح کرنا چاہتے ہیں اور مُسلمان جو اور جتنا جزیہ کہیں یہ لوگ دینے کو تیار ہیں ،

امیرء جِہاد سیف اللہ خالد ابن الولید رضی اللہ عنہ ُ نے کہا """ اگر میں تُم لوگوں کے علاقے تک پہنچا تو پھر اِن شاء اللہ صُلح ہو گی، فی الحال یہ بتاؤ کہ کیا تُم لوگ ہمارے اُس ساتھی (ضرار بن الأزور )کے بارے میں کچھ جانتے ہو جِس نے تمہارے سردار کے بیٹے کو قتل کیا """

 تو اُنہوں نے کہا '"" کیا آپ اُس کے بارے میں پوچھ رہے ہیں جِس نے اِس شہسوار سے بڑھ کر ہمارے ساتھیوں کو قتل کیا اور جو اپنے دھڑ سے کپڑے اُتار کر لڑتا ہے """

امیرء جِہاد سیف اللہ خالد ابن الولید رضی اللہ عنہ ُ اُن کی یہ بات سُن کر مُسکرائے اور کہا """ ہاں وہی """

 اُنہوں نے کہا '' اُسے تو وردان نے ایک سو فوجیوں کی نگرانی میں باندھ کر بغل ( ایک علاقے کا نام ) کی طرف بھیج دِیا ہے تا کہ اپنے بادشاہ کے پاس بھیجے کہ یہ وہ جِن ہے جو زِرہ پہن کر لڑنے کی بجائے ننگے دھڑ لڑتا ہے اور جِس نے ہمارے اَن گِنت بہترین لڑاکے جنگجو (سپر فائٹنگ وریرز) قتل کیے اور تُمہارا بیٹا بھی """
امیرء جِہاد سیف اللہ خالد ابن الولید رضی اللہ عنہ ُ نے رافع بن عُمیرہ  رضی اللہ عنہ ُ کو بُلایا اور کہا """ اللہ نے تُمہیں اِس علاقے اور یہاں کے راستوں کا سب سے زیادہ عِلم دِیا ہے ، اور تمہیں تدبیر (پلاننگ پاور)بھی وافر عطاء فرمائی ہے ، اپنے ساتھیوں میں سے جِس کو چاہو ساتھ لے جاؤ اور ہمارے بھائی (ضرار بن الأزور ) کو رہا کروانے کی بھر پور کوشش کرو ، اللہ کرے کہ وہ تُم سے یہ کام لے لے """

رافع بن عُمیرہ  رضی اللہ عنہ ُ نے کہا """ جو آپ کا حُکم اے أمیر ، اگر اللہ نے مجھے کامیاب کر دِیا تو یہ میرے لیے بڑی خوش نصیبی ہو گی """

 اُنہوں نے اپنے ساتھ لے جانے کے لیئے بہادر ترین مجاھدین میں سے سو گُھڑ سوار مُنتخب کیئے ، خولہ رضی اللہ عنہانے اُن سے درخواست کی کہ وہ بھی ساتھ جائیں گی ، تو اُنہوں نے کہا """ میں أمیر کے حُکم کے بغیر آپ کو ساتھ نہیں لے جا سکتا """

 خولہ رضی اللہ عنہاجلدی سے أمیر کے پاس پہنچیں ، اور اُس لشکر کے ساتھ جانے کی درخواست کرتے ہو ئے کہا """ اے أمیر ، آپ دیکھ چُکے ہیں کہ اللہ نے مُجھے اپنی حفاظت کا حوصلہ اور سلیقہ دے رکھا ہے ، مجھے ساتھ جانے کی اجازت دیجیئے ، اِن شاء اللہ میں اپنے مجاھد بھائیوں پر بوجھ نہیں بنوں گی بلکہ اُن کی مدد کروں گی """

امیرء جِہاد سیف اللہ خالد ابن الولید رضی اللہ عنہ ُ نے اجازت دے دی تو عُمیرہ بن رافع  رضی اللہ عنہ ُ نے خولہ رضی اللہ عنہا کوساتھ لے لیا اور دُشمن کے قافلے کے نشانات دیکھتے ہوئے روانہ ہو گئے ،
رافع بن عُمیرہ رضی اللہ عنہ ُ  اپنے قافلے کو لے کر دُشمن سے پہلے ہی اُس کی منزل کے قریب پہنچ گئے اور ''الحیات '' نامی ایک وادی میں رُکے اور اپنے ساتھیوں سے کہا """ الحمد للہ خوشخبری ہے کہ دشمن ابھی تک یہاں نہیں پہنچا ، بس اب ہم سب لوگ اِس وادی میں پھیل کر چُھپ جاتے ہیں اور دُشمن کا انتظار کرتے ہیں """

 اُن لوگوں کے چُھپنے کے تھوڑی ہی دیر کے بعد دُشمن کے قافلے کا گَرد و غبار نظر آنے لگا ، جوں ہی دُشمن کا قافلہ پورے کا پورے وادی میں داخل ہوا ، مجاھدین نے تکبیر بُلند کرتے ہوئے چاروں طرف سے حملہ کر دِیا اور ایک گھنٹے سے کم وقت میں اپنے بھائی ضرار بن الأزور رضی اللہ عنہ ُ کو بھی آزاد کروا لیا اور تمام کافروں کو قتل کر کے اُنکا اسلحہ اور سواریاں قابو کر کے واپس پلٹ گئے
دیکھیئے اللہ کے وہ بندے اور بندیاں جو اللہ کی رضا کے طلب گار ہوتے ہیں کِس طرح اللہ اور رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی مُقرر کردہ حدُود اور پابندیوں میں رہتے ہوئے اللہ کے دِین کے عین مُطابق اپنی زندگیاں بسر کرتے ہیں، اِن حقیقی أولیاء  اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے سچے اور عملی محبان کی زندگیاں کوئی قصے کہانیاں نہیں واقعات ہیں ، اور نہ ہی یہ کہنا دُرُست ہے کہ وہ زمانہ اور تھا اور اب حالات بدل چُکے ہیں اُنکے وقت کے مُطابق وہاں بھی بہت جدت پسندی اور آزاد روی کا واویلا رہتا تھا ، اِسی لیے تو کافر اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم  کے احکام سُن کر کہتے تھے ، (((((
إِن ھذا إِلَّا أساطیر الأولین ::: یہ سب تو پہلے لوگوں کی کہانیاں ہیں ))))) سورت الانعام / آیت25، یعنی ہمارا زمانہ تو نیا ہے ، نئے دور کی نئے تقاضے ہیں یہ مُحمد اور اُس کی باتوں کا زمانہ تھوڑی ہے کہ اب اِن پُرانی کہانیوں کو سُنا جائے اور اُن پر عمل کِیا جائے ، اور آج بھی اُن کے رُوحانی پیروکار کچھ اِسی قِسم کا فلسفہ بیان کرتے ہیں ،
خولہ بنت الأزور رضی اللہ عنہا کی بہادری اور اللہ کی راہ میں اپنی جان داؤ پر لگانے کا یہ ایک ہی واقعہ نہیں بلکہ اور بھی واقعات ہیں ، لیکن طوالت کے خوف سے اُنہیں بیان نہیں کِیا جارہا ، اِس واقعہ میں خاص غورکرنے کی چند باتیں ہیں ،
ا
اللہ تعالیٰ نے اپنے دِین میں عورت کو ڈربے کی مُرغی نہیں بنایا ، اور نہ ہی عورت کو پردے اور چاردیواری کا قیدی بنایا ہے ، صِرف اُس پر چند ایسی پابندیاں لگائی ہیں، جو اُس کی فطری حیا ء کو رونق بخشتی ہیں ، اُسے سِکھاتی ہیں کہ تُم ایک قیمتی نگینہ ہو جِس کی چمک دمک کے کئی رنگ ہیں اور اُن میں سے کوئی بھی بازار کے لیے نہیں صرف اُن کے لیے اور اُس طرح ہے جِن کے لیے اور جِس طرح تمہارے خالق و مالک اللہ تعالیٰ نے اجازت دی ہے ، اوروہ پابندیاں اُسے اپنی عزت کا احساس دِلاتی ہیں ، اُسے یہ سمجھاتی ہیں کہ تُم کِسی کی بیٹی ہو ، بہن ہو ، بیوی ہو ، ماں ہو ، اور اگر اِس کے عِلاوہ کچھ بنو گی تو پھر محض ایک جِنسِ تماشا ہو جاؤ گی ، جِس کےطلب گار تو بہت ہوتے ہیں لیکن اُسکی کوئی عِزت نہیں ہوتی ، جو ہوس پرستی اور نفسانی خواہشات کا ہدف تو ہوتی ہے لیکن اُسے مُحبت نہیں کی جاتی ،
   اللہ تعالیٰ نے عورت کواُس کی اپنی اور اُس کے خاندان کی عِزت اور حیاء کی حفاظت کے لیے مقرر کردہ پردے کی حدود میں رہتے ہوئے زندگی کے کِسی بھی معاملے میں شریک ہونے کا حق دیا ہے ، اِسلام میں عائد کردہ چند پابندیاں عورت کو وہ عِزت اور حفاظت عطاء کرتی ہیں جواُس سے پہلے کِسی معاشرے و مذہب  میں نہیں تھیں اور نہ اُسکے عِلاوہ کِسی معاشرے و مذہب میں ہیں،

اِسلام میں اللہ اور اس  کے رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے ہر حکم اور ہر پابندی پر عمل کرتے ہوئے صحابہ اور صحابیات رضی اللہ عنہم اجعمین نے دُنیا کی سپر پاورز کو اپنے پیروں تلے روند کر بھی دکھایا اوردُنیا کی زندگی میں  اپنی معاشی اور معاشرتی ذمہ داریاں بھی حلال ذرائع سے اور بہترین طور پر پورا کر کے دِکھائیں ،

اللہ تبارک و تعالیٰ ہمیں ان حقیقی  مثالی شخصیات کی محبت رزق فرمائے اور ان کے قدموں  کے یقنیاً جنت تک پہنچانے والے نقوش پر قدم بہ قدم چلنے کی ہمت و جرأت عطا فرمائے ، و آخر کلامنا اَن الحمدَ للہ و الصلاۃ و السلام علی رسول اللہ ، والسلام علیکم۔

ام عمارہ نسیبہ بنت کعب بن عَمرو


سابقہ شُمارے میں ہم نے ’’’ مُصعب الخیر بن عُمیر رضی اللہ عنہ ُ ‘‘‘ کا ذِکر کِیا تھا ، اور یہ بیان کِیا گیا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے حُکم کے مُطابق مُصعب رضی اللہ عنہ ُ مدینہ میں اُنکے ہاتھوں پر اِیمان قُبُول کرنے والے انصاریوں کو حج کے موسم میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے پاس لے کر آئے اور عُقبہ کی بیعت ہوئی ، اور ذِکر کِیا گیا تھا کہ نو مُسلم انصاریوں میں 73 مَرد اور 2 خواتین تِھیں ، ہماری آج کی مثالی شخصیت اُن دو خواتین میں سے ایک ہیں ،

        اللہ اور اللہ کے رسول پر مکمل اِیمان لانے اور سچی محبت کرنے والی حقیقی مؤمنات  میں سے ایک مؤمنہ ، اللہ کی ایک حقیقی ولیہ ، اُم عمارۃ ، نُسیبۃ (اور کہا گیا لُسیبۃ) بنت کعب بن عَمرو بن عوف رضی اللہ عنہا و أرضاھا ، مدینہ المنورہ کے سابقین الاولین ، یعنی پہلے پہلے اِِیمان لانے والوں  میں سے ہیں ،

        جب مُصعب بن عُمیر رضی اللہ عنہ ُمدینہ سے نو مسلم انصاریوں کو لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے پاس مکہ جانے لگے تو اُم عمارہ رضی اللہ عنہا اپنے خاوند غزیۃ بن عَمرو رضی اللہ عنہ ُکے ساتھ ہو لِیں ، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے انصاری صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین سے بیعت لے لی تو مَردوں کے فارغ ہونے کے بعد غزیۃ رضی اللہ عنہ ُنے اُن دو خواتین کو لے کر پھر سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے پاس حاضر ہوئے اورعرض کیا ’’’ اے اللہ کے رسول ، ہمارے ساتھ یہ دو عورتیں بھی آئی ہیں ، کہ آپ اِن سے بھی اُسی طرح بیعت لیں جِسطرح ہم سے لی ہے ‘‘‘ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے فرمایا ((((( قد بایعتہما علی ما بایعتکم علیہ إنی لا أصافح النساء :::  جِس پر میں تُم لوگوں کی بیعت لی اُسی پر اِن دونوں کی بھی بیعت لیتا ہوں ، لیکن میں عورتوں سے ہاتھ نہیں مِلاتا ))))

 اس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے اُم عمارہ اور اُم منیع رضی اللہ عنہما کی بیعت لی ، اور مدینہ المنورہ کی خواتین میں سے اُم عمارہ رضی اللہ عنہا پہلی خاتون ہیں جِن کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی بیعت لی ،

آگے چلنے سے پہلے ایک اہم بات کی طرف توجہ دِلوانا چاہوں گا ، اور وہ ہے غیر محرم مَرد و عورت کا ہاتھ مِلانا ، دیگر صحیح روایات میں بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کا یہ فرمان ملتا ہے اور ساتھ اِیمان والوں کی والدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا یہ فرمان بھی ملتا ہے کہ ((((( واللَّہِ مَا مَسَّت یَدُ رَسُول اللَّہِ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم یَدَ امرَأَۃٍ قَطُّ غیر أَنَّہُ یُبَایِعُہُنَّ بِالکَلَامِ ::: اللہ کی قسم رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے ہاتھ نے کبھی بھی کِسی عورت کا ہاتھ نہیں چھوا ، وہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم عورتوں کی بیعت (صِرف زُبانی ) بات کے ذریعے لیا کرتے تھے ))))) صحیح البُخاری /حدیث 4983/کتاب الطلاق /باب18 ، صحیح مُسلم /حدیث 1866/کتاب الاِمارۃ/باب21 ،

         مزید وضاحت اِس روایت میں ہے کہ ﴿ وما مَسَّت یَدُ رسول اللَّہِ رَسُول اللَّہِ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم یَدَ امرَأَۃٍ إلا امرَأَۃً یَملِکُہَا:::اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے ہاتھ نے کِسی ایسی عورت کے ہاتھ کو نہیں چھویا جو اُن صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی ملیکت (یعنی بیوی یا باندی) نہ ہو﴾صحیح البُخاری / حدیث6787،/کتاب الاحکام/باب 49،

        رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کا تو یہ معاملہ تھا اور بیعت لیتے ہوئے اتنی احتیاط فرماتے تھے تو عام حالات میں اِس سے کہیں زیادہ احتیاط ہو گی کہ کِسی غیر محرم عورت کو نہ چھویا جائے ، اور اُن صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے اُمتیوں میں اب کتنے ایسے ہیں ، جو محبتِ رسول کا دعویٰ بھی کرتے ہیں ، اور اولادِ رسول ہونے کا بھی ، اور ہاتھ تو کیا ، کیا کچھ تھام کر مُرید عورتوں سے بیعت لیتے ہیں اور ’’’ خدمت ‘‘‘ کرواتے ہیں ، پھر بھی وہ ’’’ پہنچے ہوئے ولی ‘‘‘ ہیں، اور جو اُن کے ایسے کاموں کی نشاندہی کرے اور اُن پر اِنکار کرے وہ ’’’ گستاخِ رسول ‘‘‘،

تھا غیرت نام جِس کا گئی وہ مُسلمان کے گھر سے     

        اُم عمارہ رضی اللہ عنہا اپنے خاوند کے ساتھ مدینہ المنورہ واپس آ گِئیں ، کچھ عرصہ بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم بھی وہاں تشریف لے گئے ، اور کفر و اِسلام کا پہلا معرکہ ’’’ اُحد ‘‘‘ میں بپا ہوا ، اور ایک وقت ایسا آیا جب شیطان نے یہ خبر مشہور کی کہ محمد (صلی اللہ علیہ و علی آلہ  وسلم ) قتل کر دیئے گئے ہیں ، مسلمانوں کے وہ لوگ خاص طور پر وہ ، جو میدانِ جہاد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم سے دُور تھے یہ خبر سُن کر دِل برداشتہ ہو گئے اور میدان سے ہٹ کر دُور جا بیٹھے ، اور تقریباً دس صحابی رضی اللہ عنہم ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی حفاظت کے لیے اُن  صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے اِرد گِرد اپنی جانوں کی قُربانی پیش کرتے رہے ، اِن صحابہ رضی اللہ عنہم میں  سے ایک اُم عمارہ رضی اللہ عنہا بھی تِھیں ،

        اپنے دوسرے مسلمان بھائیوں کے دوش بدوش رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم پر حملہ آور ہونے والوں کو بڑی دلیری سے روکتی رہیں اور زخم پہ زخم کھا کھا کر بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے حفاظتی دستے میں ہی رہِیں ،

        اُم سعد رضی اللہ عنہا کا کہنا ہے کہ ، میں نے اُم عمارہ رضی اللہ عنہا کے کندھے پر ایک گہرے زخم کا نشان دیکھا تو پوچھا کہ یہ کیسا نشان ہے ؟

 تو اُنہوں نے بتایا کہ ’’’ اُحد کے جِہاد میں جب لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم سے دُور ہو چکے تھے تو ابن قمیئۃ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کو ڈھونڈتا ہوا چیختا پھر رہا تھا کہ مجھے بتاؤ محمد(صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم) کہاں ہے اگرآج وہ میرے ہاتھوں سے بچ گیا تو میں ناکام ہوں ، تو مُصعب بن عُمیر رضی اللہ عنہ اُس کی طرف بڑھے (کہ وہ اُن کو محمد صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم سمجھے اوررسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم پر حملہ آور نہ ہو ) مُصعب بن عُمیر رضی اللہ عنہ کے ساتھ آگے بڑہنے والوں میں میں بھی تھی اور ابن قمیئۃ کے وار سے مجھے یہ زخم آیا ، لیکن وہ میرے واروں سے زخمی نہ ہوا کیونکہ اللہ کے اُس دُشمن نے دوھری  زِرہ پہن رکھی تھی ،

        ضمرۃ بن سعید المازنی اپنی دادی ماں ہند رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ ’’’ میں بھی جِہادِ اُحد میں شامل تھی اور مجاہدین کو پانی پلانے کے لیے سارے میدان میں پھر رہی تھی ، میں نے دیکھا کہ اُم عمارہ رضی اللہ عنہا انتہائی سختی اور دلیری کے ساتھ لڑ رہی ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے اُن کو دیکھ کر اُن کی تعریف فرمائی ، اور پھر میں نے دیکھا کہ ابن قمیئۃ سے لڑتے ہوئے اُن کے کندھے پر ایسا شدید زخم آیا جِس کا عِلاج ایک سال تک ہوتا رہا ‘‘‘،

عمر رضی اللہ عنہ ُ سے روایت ہے کہ یوم اُحد کے جہاد میں ام عمّارہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے فرمایا ﴿ ما التفتُّ يَوم أحدٌ يمَيناً ولا شِمالاً إلّا وأراها تُقاتِلُ دُوني :::میں نے اُحد کے دِن میں جب بھی اپنے دائیں یا بائیں دیکھا تو مجھے ام عمّارہ میرے دفاع میں لڑتی ہوئی دکھائی دی ﴾

 

        ام عمارہ رضی اللہ عنہا کے پہلے خاوند  زید بن عاصم میں سے ایک بیٹے عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ ُ کا کہنا ہے کہ ’’’ جِہادِ اُحد میں اپنی والدہ کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی حفاظت کرتے ہوئے میرے بائیں بازو پرمشرکین میں سے ایک کھجور کے درخت جیسے لمبے آدمی نے وار کیا اور میرا بازو کافی زخمی ہو گیا جِس میں سے خون رکتا ہی نہ تھا ، تو میری والدہ نے اپنے کمر بند میں سے تیار شدہ پٹیوں میں سے ایک پٹی میرے زخم پر باندھی اور مجھے کہا ::: جاؤ بیٹا دُشمن سے لڑو ::: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم  یہ سب ملاحظہ فرما رہے تھے ، تو فرمایا ﴿  اُم عمارہ تُمہارے جیسی ہمت بھلا کون رکھتا ہے﴾ اور میری والدہ مجھے زخمی حالت میں میدان جِہاد میں بھیجتے ہوئے ہنس رہی تِھیں ‘‘‘

        اور جب میں اور میری والدہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم پر حملہ آور کافروں سے لڑ رہے تھے اور میری والدہ زخمی ہو چکی تِھیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے مجھے پکارتے ہوئے فرمایا ﴿  اے اُم عمارہ کے بیٹے ، (میری فِکر چھوڑو اور)اپنی ماں کی طرف سے لڑو تا کہ وہ اپنے زخم پر پٹی کر لے ، اللہ تُمہارے گھرانے میں سے تُم دونوں پر برکت کرے ، اے اللہ اِنہیں جنّت میں میرے ساتھیوں میں سے بنا ﴾

تو میں نے (اورمیری والدہ) نے کہا """اب اِس کے بعد مجھے کوئی پرواہ نہیں کہ دُنیا میں مجھ پر کوئی بھی مصیبت ٹوٹے """

        سُبحان اللہ ، اُم عمارہ اور اُن کے بیٹے کو یہ پاکیزہ دُعا مبارک ہو اور اللہ اپنے رسول صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی یہ قُبُول دُعا فرمائے ، اور اُم عمارہ اور اُن کے بیٹے کو جنّت میں بھی اپنے رسول صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے ساتھیوں میں سے بنائے ۔

یہ تھے اللہ کے سچے ولی اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے سچے عملی محب ، نہ کہ ہم لوگوں کی طرح محض دعویٰ محبت کرنے والے ، اللہ تعالیٰ ہمیں ان کے نقش قدم پر چلنے کی ہمت عطاء فرمائے۔

         ہم میں سے شاید ہر ایک کا دِل اپنے لیے بھی یہ دُعا کرنے کو دِل تڑپتا ہے ، لیکن ، ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی کتنی تابع فرمانی کرتے ہیں ؟؟؟

 اور اُن صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی بات چھوڑ کر دوسروں کی مان کر اُن صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی کتنی عِزت کرتے ہیں ؟؟؟

 اُن صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی محبت کا دعویٰ کرتے ہیں اور عقائد و عِبادات اُن صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی تعلیمات کے خِلاف اپناتے ہیں ، کوئی اُن کی شان میں گستاخی کرے تو ’’’ حقوق اِنسانی ‘‘‘ اور ’’’ آزادی ء رائے ‘‘‘ کی مالا جپتے ہیں ، تو ایسا کرتے ہوئے کِس منہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی رفاقت کی دُعا کریں ، یا کِس خوش فہمی کی وجہ سے یہ اُمید رکھیں کہ روزِ محشر اُن صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی سفارش و شفاعت نصیب ہو گی ، یا جنّت میں اُن صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھ میسر ہو گا ؟؟؟

::::: مصادر و مراجع  ::::: معجم الصحابۃ للبغوی ،معرفۃ الصحابۃ لابی نعیم،الاستعیاب فی معرفۃ الصحابۃ لابو عمر ابن عبدالبر، المنتظم فی تاریخ الاُمم و الملوک  لابن الجوزی ، البدایۃ و النھایۃ لابن کثیر ، الطبقات الکبریٰ لابن سعد، سیر الاعلام النُبلاء للذھبی ،الاصابۃ فی معرفۃ الصحابۃ لابن حَجر العسقلانی ، الروضۃ الفیحاء فی اعلام النساء للیٰسین خیر اللہ ۔

ابو قتادہ حارث بن ربعی انصاری رضی اللہ عنہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی کسی بھی طور  خدمت کرنا  ایک بے مثال اعزاز ہے ، صحابہ رضی اللہ عنہم کی زندگیاں اِن اعزازات سے مزین و مرصع ہیں ،
اِن اعزازات میں سے ایک اعزاز رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے شہسواروں میں سے ہونا ہے ،آج ہم  انبیاء اور رُسل علیہم الصلاۃ و السلام کے بعد  کائنات کے اِن معزز ترین مؤمنین میں سے ہی ایک مؤمن کامل اور اللہ کے ایک سچے ولی کے بارےبات کریں گے ، اِن شاء اللہ، اللہ کے ایک ایسے حقیقی اور سچے ولی کے بارے میں بات کریں گے جو انصار رضی اللہ عنہم اجمعین میں کے ایسے  جوانوں میں سے تھے جِن کی بہادری ، بلند ہِمت،نیزہ بازی اور تلوار زنی اپنی مثال آپ تھی ، اور وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے شہسواروں میں سے تھے، اِس ولی اللہ نے داستانء مؤمنین میں ، حبء رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم میں ،اور اللہ کے دِین کی خدمت کی تاریخ میں سنہری اور خوشبودار مثال قائم کی ،  جس نے رحمت للعالمین صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کی تاریخ میں سنہری ، خوشبودار اور دیدہ زیب صفحات رقم کیے۔
یہ ایسا جوان  تھا جس کے بارے میں رسولوں اور انبیاء علیہم السلام کے بعد سب سے سچے اور افضل  اِنسان ابو بکر الصدیق نےغزوہ حنین کے میدانء جہاد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی موجودگی میں  فرمایا """
أَسَدٍ مِن أُسْدِ اللَّهِ يُقَاتِلُ عَن اللَّهِ وَرَسُولِهِ ::: اللہ کے شیروں میں سے ایک شیر جو اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم) کی خاطرلڑتا ہے """
اور  رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے ابو بکر الصدیق رضی اللہ عنہ ُ کی  تصدیق فرمائی ،متفقٌ علیہ ،صحیح البُخاری /حدیث 2972/ کتاب الجھاد و السیر / ابواب الخُمس / باب 18، صحیح مُسلم /حدیث1751 /کتاب الجھاد و السیر /باب13 ،
اس واقعہ میں ہمیں صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین کی آپس میں محبت ، ایک دوسرے کی عِزت اور احترام اور ایک دوسرے کی صِفات اور محنت کے اعتراف کرنے کے بارے میں فراخی دلی کی دلیل  بھی ملتی ہے کہ ابو بکر الصدیق  رضی اللہ عنہ ُ نے کسی تردد ، کسی تکبر ، اور کسی بخل کے بغیر اپنے آپ سے ہر لحاط سے چھوٹے اور کم درجے والے کی خوبی کا علی الاعلان اعتراف فرمایا ،  
یہ جوان اللہ کا ایسا سچا محب اور ولی تھا ، جِومحبتء رسول  صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم  میں عقل و خِرد ، دلیری اور جرأٔت مندی کی چوٹیوں پر سرفراز دِکھائی دیتا ہے ،
اِن سب باتوں کی سچائی کے لیے امیر المؤمنین ابو بکر الصدیق رضی اللہ عنہ ُ کے  مذکورہ بالاقول پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی تصدیق کے علاوہ ، اِس جوان کو  ایک اور  دفعہ  ایک معرکہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے اپنی مقدس اور پاکیزہ  ز ُبان مبارک سے یہ تمغہ عطاء فرمایا کہ :::
(((((خَيْرَ فُرْسَانِنَا الْيَوْمَ أبو قَتَادَةَ ::: آج ہمارے شہسواروں میں سب سے زیادہ بہترین ابو قتادہ ہے))))) صحیح مُسلم /حدیث1807 /کتاب الجھاد و السیر /باب45،
دربارء رسالت میں سے  یہ تمغہء جرأت پانے والے ولی اللہ اور محبء رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم ابو قتادہ الحارث بن ربعی بن بلامۃ انصاری خزرجی السِلمی تھے، یہ بھی کہا گیا کہ اِن کا نام """ النعمان """ تھا ،
اِن کی کُنیت """ابو قتادہ """ ان کے نام پر پوری طرح سے غالب آ چکی تھی لہذا اِن کا ذِکر جہاں بھی ملے گا ابو قتادہ کے طور پر ہی ملے گا ،
یہ ابو قتادہ رضی اللہ عنہ ُ بیعت رضوان کرنے والے صحابہ رضی اللہ عنہم میں سے ہیں ،
جب سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم مدینہ منورہ میں رونق افروز ہو چکے اور دربارء رسالت جلوہ پذیر ہوچکا تو یہ فُرسانء رسول صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم اکثروبیشتر جلوہ ء رسالت سے اپنے چمنء اِیمانیات کو مزید پُر بہار  کرتے رہتے ، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی پاکیزہ محفلوں میں حاضر ہو کر اپنے نفس کی پاکیزگی میں اضافہ کرتے رہتے ،فیوض نبوی کی خوشبو دار روشنی سے اپنے قلب و دِماغ  کو روشن اور خوشبو دار کرتے رہتے،
ابو قتادہ رضی اللہ عنہ ُ کو اللہ تعالیٰ نے حافظہ بھی کافی مضبوط عطاء فرمایا تھا ، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے فرامین مبارکہ کو تو بہت اچھی طرح یاد رکھتے تھے ، ابو قتادہ رضی اللہ عنہ ُ نے تقریبا 170 احادیث مبارکہ روایت کی ہیں،
جِہاد کے میدانوں کے بطل (ہیرو)نے ایک دفعہ دیکھا  کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے لوگوں میں کھڑے ہو کر خطاب فرمایا اور سُنا کہ اُنہوں نے لوگوں کو بتایا کہ (((((أَنَّ الْجِهَادَ في سَبِيلِ اللَّهِ وَالْإِيمَانَ بِاللَّهِ أَفْضَلُ الْأَعْمَالِ ::: اللہ کی راہ میں جِہاد کرنا اور اللہ پر اِیمان رکھنا سب ہی کاموں سے برتر و اعلیٰ ہے )))))
 تو ایک شخص نے عرض کی """ يا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ إن قُتِلْتُ في سَبِيلِ اللَّهِ تُكَفَّرُ عَنِّي خَطَايَايَ ؟:::اے اللہ کے رسول آپ کیا فرماتے ہیں اس  بارے میں کہ اگر میں اللہ کی راہ میں قتل کر دیا جاؤں تو کیااِس طرح میرے گناہ معاف کر دیے جائیں گے ؟ """
 
 
رسول اللہ صلی اللہ  علیہ و علی آلہ وسلم نے اُسے جواب  اِرشاد فرمایا (((((نَعم إن قُتِلْتَ في سَبِيلِ اللَّهِ وَأَنْتَ صَابِرٌ مُحْتَسِبٌ مُقْبِلٌ غَيْرُ مُدْبِرٍ:::جی ہاں اگرتُم صبر کرتے ہوئے اور  اجر کا یقین رکھتے ہوئے اور دُشمن  کو پیٹھ دِکھائے بغیر اُس کا سامنا کرتے ہوئےاللہ کی راہ میں قتل کر دیے جاؤ )))))
پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے سوال کرنے والے سے دریافت  فرمایا (((((كَيْفَ قُلْتَ ::: تُم نے کیا کہا تھا ؟)))))
سائل نے عرض کیا """ أَرَأَيْتَ إن قُتِلْتُ في سَبِيلِ اللَّهِ أَتُكَفَّرُ عَنِّي خَطَايَايَ :::اے اللہ کے رسول آپ کیا فرماتے ہیں اس  بارے میں کہ اگر میں اللہ کی راہ میں قتل کر دیا جاؤں تو کیااِس طرح میرے گناہ معاف کر دیے جائیں گے ؟ """
تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے اِرشاد فرمایا (((((نعم وَأَنْتَ صَابِرٌ مُحْتَسِبٌ مُقْبِلٌ غَيْرُ مُدْبِرٍ إلا الدَّيْنَ فإن جِبْرِيلَ عليه السَّلَام قال لي ذَلِك::: جی ہاں اگر تُم صبر کرو اور (اِس ) اجر کا یقین رکھو اور (دُشمن کا)سامنا کیے رہو پیٹھ نہ دکھائی ہو، سوائے قرض کے (یعنی قرض معاف نہ ہوگا)یہ مجھے جبریل نے کہا ہے ))))) صحیح مُسلم/حدیث 1885/کتاب الامارۃ/باب 32،
ابو قتادۃ رضی اللہ عنہ ُ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کا یہ فرمان مبارک گویا کہ اپنے دِل پر نقش کر لیا اور ہر میدانء جِہاد میں شوق شہادت لیے اگلی صفوں میں سے دُشمن کے چیتھڑے اُراتے رہے ،
اللہ کے دِین کی سر بلندی کے لیے ہمیشہ اپنا مال اور جان جِہاد کے میدانوں میں پیش رکھا اور کبھی دُشمن کو پیٹھ نہ دِکھائی ،  غزوات ء رسول صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم میں اُن صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے ساتھ رہے اور بے مثال خدمات پیش کیں ،
ابو قتادہ رضی اللہ عنہ ُ  نے اِن غزوات کے علاوہ اور بھی کئی جہادی مہمات میں خوب حصہ لیا ، صِرف جِہادی مہمات میں ہی نہیں بلکہ فدائی مہموں یعنی کمانڈو ایکشن ٹاسکس میں بھی ،
آپ کو ایک واقعہ سناتا ہوں ،  رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی حقیقی محبت کا حق ادا کرتے ہوئے گستاخان ء رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کو جہنم واصل کرنے کی فدائی کاروائی کا ایک واقعہ سناتا ہوں ،
اللہ اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے ایک دُشمن یہودیوں کے ایک بڑے سردار  کعب بن الاشرف کو بنو اوس کے مجاہدین نے محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ ُ  کے سربراہی میں فدائی کمانڈو ایکشن کر کےجہنم ارسال کیا تو بنی خزرج  کے دِل میں بھی ایسی نیکی کر گذرنے کی خواہش ہوئی ،
اُسی جہنمی کعب بن الاشرف کی طرح ایک اور یہودی سردار ابو رافع سلام بن ابی الحقیق بھی تھا ، جو کعب بن الاشرف کی ہی طرح اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی دُشمنی میں بہت متحرک رہتا تھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے لیے بہت اذیت کا سبب تھا ، بنو خزرج کے ایک مجاھد نے اپنے قبیلے کی نمائیندگی  کرتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم سے اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے اِس مُوذی دُشمن کو جہنم رسید کر دینے کی اجازت طلب فرمائی ، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے اُنہیں اجازت عطاء فرما دی ،
تو  بنی خزرج کے پانچ  کمانڈومجاھد ، (۱)مسعود رضی اللہ عنہ بن سنان (۲) عبداللہ رضی اللہ عنہ بن انیس(۳) خزاعی رضی اللہ عنہ بن اسوداور (۴) ابو قتادہ رضی اللہ عنہ ُ  اور(۵) اِن کے امیر عبداللہ رضی اللہ عنہ بن عتیک ایک ایکشن ٹیم کی صورت میں نکلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے انہیں ہدایت فرمائی کہ یہ مہم سر کرنے کے دوران آپ لوگ کسی بچے یا عورت کو قتل نہیں کریں گے ،
یہ لوگ اپنے رب کی رضا کے لیے ، اپنے رب کے دِین کی سر بلندی کے لیے ، اپنے رب اور رب کے رسول صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے دُشمن ابو رافع سلام بن ابی الحقیق کے علاقے میں پہنچے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی ہدایت کے مطابق اُس بد بخت کو جہنم کے سفر پر روانہ کر کے کامیاب و کامران لوٹے تو  رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم  نے ان کو خوشخبری عطا فرمائی کہ ((((( أفلحت الوجوہ :::(تمہارے) چہرے کامیاب ہو گئے ))))) تو انہوں نے جواباً عرض کیا """أفلح وجھکَ یا رسولَ اللہ ::: آپ کا چہرہ مبارک کامیاب ہے اے اللہ کے رسول """ اور عبداللہ بن عتیک رضی اللہ عنہ ُ کی پنڈلی جو کہ اس مہم میں ٹوٹ گئی تھی اُس پر اپنا ہاتھ مبارک پھیرا تو وہ اللہ کے حکم سے ایسے ہوگئی کہ گویا اُسے کبھی کچھ ہوا نہ تھا ، (البدایۃ و النھایۃ ، طبقات ابن سعد )
غزوہ غابہ ، جسے غزوہ ذی قرد بھی کہا جاتا ہے ، اس غزوہ میں ابو قتادہ رضی اللہ عنہ ُ نے ایسی بہادری کے مظاہرے فرمائے کہ ایک ایسی نعمت سے مالا مال ہوگئے جس کا کوئی بدل نہیں اور جو دُنیا اور آخرت کی راحتوں اور عِزتوں کی بنیاد ہے ، اور وہ نعمت ہے  اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی خوشی ،
جی ہاں اس غزوہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم اللہ کے ایک سچے ولی ،اپنے اِس صحابی ، اپنے اس حقیقی عملی محب سے اتنے خوش ہوئے کہ ان کے لیے اپنے رب کے دربار میں دُعا فرمائی (((((
 ((((( اَللَّھُمَّ بَارِکْ لَہْ فِی شَعْرِہٖ وَ بَشَرِہٖ ::: اے اللہ  اِس کی جِلد اور بالوں میں (یعنی اِس کے جِسم میں )برکت عطا فرما))))))
مزید یہ ارشاد فرمایا (((((
أَفْلَحَ وَجْھَکَ ::: تُمہارا چہرہ کامیاب ہوا))))))
ابو قتادۃ رضی اللہ عنہ ُ نے عرض کی""" یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ کا چہرہ مُبارک بھی"""
تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ  و علی آلہ وسلم نے دریافت فرمایا (((((
قَتلتَ مسعَدۃ ؟::: تُم نے مسعدہ کو قتل کیا ہے ؟ )))))
ابو قتادہ رضی اللہ عنہ ُ  نے عرض کی """ جی ہاں """
تو اِرشاد فرمایا ((((( فَمَا ھَذا الذِی بِوَجھِکَ:::یہ تُمہارے چہرے پر کیا ہے ؟)))))
ابو قتادۃ رضی اللہ عنہ ُ نے عرض کی"""
سَھمٌ رُمِیتُ بِہِ یا رسولَ اللہ ::: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تیر لگا ہے"""
تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ  و علی آلہ وسلم نے اِرشاد فرمایا (((((
 فَادنِ ::: میرے قریب آو)))))
ابو قتادہ رضی اللہ عنہ ُ نے  اس پر فرحت اور پر سُرور حُکم پر کسی تاخیر کے بغیر عمل کیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے قریب ہوئے ،
تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے اُس زخم پر اپنا لُعاب مبارک لگایا ، جس سے نہ زخم رہا ، نہ درد اور نہ ہی کوئی نشان ، (المستدرک الحاکم /حدیث6032 /کتاب معرفۃ الصحابہ/باب 184)
ایک دفعہ ماہ شعبان ، سن آٹھ ہجری میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے اللہ کے شیروں میں سے ایک اِس  شیر  ابو قتادہ رضی اللہ عنہ ُ کو پندرہ مجاہدین کی ایک جماعت کا امیر بنا کر بنو غطفان  پر یلغار کے لیے روانہ فرمایا ،
تعداد میں کم لیکن اِیمان و عزم اور جُرأت و شجاعت سے لبریز یہ لشکر اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے حُکم کی تعمیل میں اپنے جانیں اللہ کی راہ میں لُٹانے نکل پڑا ،
ابو قتادہ رضی اللہ عنہ ُ نے اپنے ساتھیوں کو ہدایات دیں کہ رات میں سفر کریں گے اور دِن کسی جگہ چُھپ کرگذاریں گے ، اسی طرح سفر کرتے کرتے یہ لوگ بنو غطفان کی بڑی آبادی تک جا پہنچے ، تو ابو قتادہ رضی اللہ عنہ ُ نے اپنے ساتھیوں کو اللہ سے تقویٰ کی نصیحت فرمائی اور حکم فرمایا کہ عورتوں اور بچوں کو قتل نہ کیا جایا ، اور دو دو ساتھیوں کی ٹولی بنا کر انہیں سختی سے حکم دِیا کہ سواءے موت کے اور  کسی بھی صورت میں ایک ساتھی اپنے دوسرے ساتھی سے جدا نہ ہو  اور    جب بھی تکبیر کہوں تو تُم لوگ بھی تکبیر کہو اور جب میں حملہ آور  ہوں تو ہی تُم لوگ حملہ آور ہونا ،
اور پھر ابو قتادہ نے تکبیر بلند کی اور اپنے امیر کی اطاعت کرتے ہوئے باقی مجاہدین  نےبھی تکبریں بلند کرتے ہوئے دُشمن پر یلغار کر دی ،
 دُشمن اپنے علاقے میں ، اپنے گھروں میں اپنوں کے درمیان اور اپنوں کے ساتھ ہونے باوجود اللہ ، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم اور یوم آخرت پر سچا اور مکمل اِیمان رکھنے والے گنتی کے  اِن پندرہ آدمیوں کے سامنے بے بس ہوتے گئے ، اِن پندرہ اولیاء اللہ کے فولادء اِیمانی ، اور حِدتء حُبء اللہ و رسولہُ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسسلم کے سامنے نرم پڑتے پڑتے موم کی طرح پگھل گئے ، اور اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے سچے اولیاء ، اپنے رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے سچے عملی مُحبان کو کامیابی و کامرانی اور مالء غنیمت  سے مالا مال فرما کر واپس اپنے رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے پاس واپس پہنچایا ،
جب مجاہدین کا یہ قافلہ مدینہ المنورہ پہنچا تو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی خدمت میں بہت سے مال اور کئی قیدیوں کے عِلاوہ دو سو اونٹ اور ہزار بکریاں بھی مال ءغنیمت پیش کیا ،
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے اُس میں سے خُمس یعنی پانچواں حصہ چھوڑ  کر باقی مال ءغنیمت  مجاھدین میں تقسیم فرما دیا ، اور ہر ایک مجاھد کے حصے میں خوب مال و مویشی آئے ،
اس جِہادی مہم میں ابو قتادہ رضی اللہ عنہ ُ کےحصے ایک حُسین و جمیل باندی آئی جسے انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم  کے حُکم پر اُن کی خدمت میں پیش کر دیا، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے اپنے وعدے کے مطابق وہ باندی محمیہ بن جزء رضی اللہ عنہ ُ کو دے دی  (المغازی ، للواقدی)
یہ صحابہ رضی اللہ عنہم کی عملی محبت اور اطاعتء رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی ہزاروں مثالوں میں سے ایک ہے ، دیکھیے آج ہم سے میں کتنے ایسے ہیں جو محبت ء رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے بلند و بانگ دعوے کرتے ہیں اور اپنے  دعوے کی سچائی کے لیےاتنا بھی نہیں کر تے کہ اپنی نگاہیں ہی غیر محرم سے ہٹائیں رکھیں ، اور ایک یہ مُحبء رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم تھے کہ جِس ہرنی جیسی خوبصورت نوجوان لڑکی کو اپنے لیے پایا ، پسند کر لیا ، اُسے اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے حُکم پر کسی ادنی ٰ سے تاخیر کے بغیر چھوڑ دیا اور دوسرے کی ملکیت بننے پر راضی رہے کہ یہ اُن کے محبوب صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کا حُکم تھا ،
اگر ایسی شخصیات ہماری اور ہماری اولاد کی آئیڈیلز نہ ہوں تو یہ ہماری گمراہی کے اسباب میں سے ایک بڑا سبب ہے۔
لیجیے ، اللہ کے اِس سچے ولی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے سچے محب رضی اللہ عنہ ُ و أرضاہُ کی محبت ء رسول صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی محبت کا ایک اور واقعہ آپ کے اِیمان کی تازگی کے لیے پیش کرتا  ہوں ،
ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم  اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین کے ساتھ ایک سفر میں تھے ، یہ وہی سفر ہے جِس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی ز ُبان مُبارک سے اللہ تعالیٰ نے غیب کی چار خبریں ادا کروائیں اور کئی معجزات ظاہر کروائے ،
اس سفر  میں رات کے وقت بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم اپنی سواری پر سوار تھے تو انہیں اونگھ آگئی دیگر صحابہ رضی اللہ عنہم کچھ دُور تھے ، ابو قتادہ رضی اللہ عنہ ُ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کو اونگھ کی حالت میں دیکھ کر اُن کے قریب تر ہو گئے ، نیند میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم ایک طرف کو جھکے تو ابو قتادہ رضی اللہ عنہ ُ نے جلدی سے اپنا ہاتھ سےرسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کو اِس طرح  ٹیک دی کہ اُنہیں محسوس تک نہ ہوا اور اُن کی نیند خراب نہ ہوئی ،  کچھ دیر بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم اپنی سواری پر پھر سے متوازن ہوئے ، ابو قتادہ رضی اللہ عنہ ُ وہیں موجود رہے ، ایک دفعہ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم اُونگھ میں ایک طرف کو جُھکے تو پھر ابو قتادہ رضی اللہ عنہ ُ نے اِسی طرح انہیں اپنے ہاتھ سے ٹیک دی ، ساری رات ابو قتادہ رضی اللہ عنہ ُ اِسی طرح اپنے محبوب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی خدمت میں کھڑے رہے ، سحر کے قریب تیسری دفعہ ایسا ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نیند میں ایک طرف زیادہ جھکے ، ابو قتادہ رضی اللہ عنہ ُ نے اُسی طرح اپنے ہاتھ سے ٹیک دی لیکن اِس دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی آنکھ مبارک کھل گئی ،کسی کو اپنے قریب دیکھا تو اِرشاد فرمایا ((((( مَن ھَذا  ؟::: یہ کون ہے ؟)))))
ابو قتادہ رضی اللہ عنہ ُ نے عرض کی """ میں ابو قتادہ  ہوں """
تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے اِرشاد فرمایا (((((مَتَى كان هذا مَسِيرَكَ مِنِّي؟ ::: تُم کب سے میرے لیے ایسے کیے ہوئے  ہو ؟ )))))
ابو قتادہ رضی اللہ عنہ ُ نے اِرشاد فرمایا (((((حَفِظَكَ الله بِمَا حَفِظْتَ بِهِ نَبِيَّهُ:::اللہ تمہاری اُسی طرح حفاظت فرمائے جِس طرح تُم نے اُس کے نبی کی حفاطت کی ))))) صحیح مُسلم /حدیث681/ کتاب الصلاۃ و مواضیع المساجد کا آخری باب،
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم سے اُن کی محبت کا ایک اور سرٹیفیکیٹ حاصل ہوا  اور اُن صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی ایک اور محبت بھری دُعا حاصل ہوئی ،  
ابو قتادہ رضی اللہ عنہ ُ بھی دوسرے صحابہ رضی اللہ عنہم کی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی سُنّت مُبارکہ کے مضبوط حافظ تھے لیکن پھر بھی حدیث بیان کرنے سے گریز فرمایا کرتے تھے ، ایک دفعہ کعب بن مالک رحمہ اللہ نے اُن سے کہا """ کوئی حدیث سنایے """ تو  ابو قتادہ رضی اللہ عنہ ُ نے کہا """ مجھے ڈر ہے کہ کہیں میری زبان لڑھک جائے اور کوئی ایسی بات کہہ جائے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے نہ فرمائی ہو ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کو اِرشاد فرماتے ہوئے سُنا کہ (((((إيَّاكُم وَكَثرةَ الحَديث عَني مَن كَذبَ عَليَّ مُتعَمداً فَليَتبَوُأ مَقعَدَهُ مَن النَّارِ:::میرے طرف سے زیادہ احادیث بیان کرنے میں خبردار رہنا  (کیونکہ)جس نے مجھ پر جان بوجھ کر جھوٹ بولا تو اُس نے اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لیا)))))المُستدرک الحاکم /حدیث 380،
اور ہم ہیں کہ ہماری اطاعت اور محبت کا ایک انداز  یہ ہو چکا ہے کہ کسی چھان بین کے بغیر جو بات بھی بطور حدیث ملتی ہے ، اُسے حدیث مان لیتے ہیں اور صرف مان ہی نہیں لیتے بلکہ اسے آگے بڑھاتے ہوئے بھی کوئی پرواہ نہیں کرتے ،
اللہ کے اِس سچے ولی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے اِس سچے محب ابو قتادہ رضی اللہ عنہ ُ نے اپنی ساری ہی زندگی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی اطاعت میں بسر کی ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے بعد اُن کے حکم کے مطابق ہی اُن کے خُلفاء راشدین کی اطاعت کی ،
ابو قتادہ رضی اللہ عنہ ُ جب اپنی عُمر کے ستر ہویں (70th)سال میں پہنچے تو بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی دعُا  کی برکت سے اُن کے جسم پر کہیں اس عُمر کا کوئی اثر دِکھائی نہ دیتا تھا بلکہ بالکل تر وتازہ اور جوان دکھائی دیتے تھے ، اُن کے لیے اِس سے زیادہ عُمر ہونے کے لیے اللہ کا حُکم نہ تھا پس اللہ کے حکم کے مطابق اللہ کا یہ سچا ولی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کا سچا عملی محب سن چوّن 54 ہجری میں اپنے اللہ کے حضور حاضری کے لیے روانہ ہوا ، اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی دائمی رفاقت کے لیے عارضی دُنیا سے رُخصت ہوا ۔رضی اللہ عنہ ُ و أرضاہُ ۔
اللہ تعالیٰ ہمیں بھی یہ ہمت دے کہ ہم اُس کے رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے سچے محب بنیں اور اللہ ہمیں اُس  کی جنّت میں اُس کے رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم اور اُن صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین کے ساتھ ہونے والوں میں سے کر دے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔