Saturday, November 22, 2014

::::::: خلیفہ أول بلا فصل ابو بکر الصدیق رضی اللہ عنہ ُ کے ایک قول پر اعتراضات کا جواب :::::::



::::::: خلیفہ أول بلا فصل ابو بکر الصدیق رضی اللہ عنہ ُ کے ایک قول پر اعتراضات کا جواب :::::::
أَعُوذُ بِاللَّهِ السَّمِيعِ الْعَلِيمِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ مِنْ هَمْزِهِ وَنَفْخِهِ وَنَفْثِهِ
بِسمِ اللَّہ ،و السَّلامُ عَلیَ مَن اتبع َالھُدیٰ و سَلکَ عَلیَ مَسلکِ النَّبیِّ الھُدیٰ مُحمدٍ صَلی اللہُ علیہِ وعَلیَ آلہِ وسلَّمَ ، و قَد خَابَ مَن یُشقاقِ الرَّسُولَ بَعدَ أَن تَبینَ لہُ الھُدیٰ ، و اتبِعَ ھَواء نفسہُ فوقعَ فی ضَلالاٍ بعیدا۔
شروع اللہ کے نام سے ، اورسلامتی ہو اُس شخص  پر جس نے ہدایت کی پیروی کی ، اور ہدایت لانے والے نبی محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی راہ پر چلا ، اور یقینا وہ شخص تباہ ہوا جس نے رسول کو الگ کیا ، بعد اس کے کہ اُس کے لیے ہدایت واضح کر دی گئ اور(لیکن اُس شخص نے) اپنے نفس  کی خواہشات کی پیروی کی پس بہت دور کی گمراہی میں جا پڑا ۔
السلامُ علیکُم و رحمۃُ اللہ و برکاتہُ ،
اللہ جلّ ثناوہُ نے فرما رکھا ہے کہ ﴿وَكَذَلِكَ جَعَلْنَا لِكُلِّ نَبِيٍّ عَدُوًّا شَيَاطِينَ الْإِنْسِ وَالْجِنِّ يُوحِي بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ زُخْرُفَ الْقَوْلِ غُرُورًا وَلَوْ شَاءَ رَبُّكَ مَا فَعَلُوهُ فَذَرْهُمْ وَمَا يَفْتَرُونَ:::اور اِسی طرح ہم نے ہر نبی کے لیے اِنسانوں اور جِنّوں میں سے شیطانوں(کافروں ، شریروں) کو  دُشمن بنایا ، جو دھوکہ دینے کے لیے ،ایک دوسرے کی طرف سجا سنوار کر  وحی کرتے ہیں (یعنی بڑی سجی سنوری ، دِل فریب باتیں اور سوچیں ایک دُوسرے کے دِل و دِماغ میں ڈالتے ہیں) اور اگر آپ کا رب چاہتا تو وہ لوگ ایسا نہ کر تے ،پس آپ اُن کو اور اُن کی جھوٹ بازی کو (اُن کے حال پر) چھوڑ دیجیے(اللہ خود ہی اِن سے انتقام لے گا) ﴾سُورت الانعام(6)/آیت112،
ہم اپنے اِرد گِرد اکثر ایسے لوگوں کو پاتے ہیں جو اللہ تبارک و تعالیٰ کے اِس مذکورہ بالا فرمان میں بتائے گئےکام ، یعنی ، نبی اللہ محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی دُشمنی میں مشغول دِکھائی دیتے ہیں ، اور طرح طرح کے خوب صورت اِلفاظ میں دِلچسپ فلسفوں ، سوچوں اور باتوں کے ذریعے اپنے آپ کو بھی اور دُوسروں کو بھی دھوکہ دیتے ہیں ، کہ وہ لوگ حق پر ہیں ،
ایسے لوگوں میں کچھ وہ بھی ہیں جو اپنی عقل ، اپنی سوچ ، اپنی سمجھ کو حرف آخر سمجھتے ہیں ، اپنے بنائے ہوئے یا اپنے اختیار کردہ انداز و اطوار کو ہر کسی کے قول اور فعل کی جانچ کی کسوٹی سمجھتے ہیں ،
اگر یہ معاملہ اُن ہی کے جیسے دیگر عام اِنسانوں کے ساتھ کیا جا رہا  ہو ، تو کافی حد تک اِس کو برداشت کیا جا سکتا ہے ، اور اِس سے صَرفء نظر کیا جا سکتا ہے ،
لیکن یہ لوگ تو اپنی اندھیر عقل ، گمراہ سوچ ، اور نام نہاد سمجھ ، اور بلا حدود و قیود قِسم کے انداز و اطوار پر اللہ کے رسول محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے ، اور اُن کے اصحاب رضی اللہ عنہم اجمعین کے اقوال و افعال  کو جانچتے ہیں اور بلا لحاظ و تمیز اُن  پر اعتراضات کرتے ہیں ، اور بسا اوقات تو اُن کا اِنکار ہی کردیتے ہیں ، اور  بے ادبی ، بلکہ بدتمیزی کا اظہار کرتے ہیں اور ساتھ ہی  مؤدب و  مہذب ہونے کے دعویٰ دار بھی رہتے ہیں ،
لہذا اِن لوگوں کی یہ حرکات اِس قابل نہیں ہوتیں کہ اِن پر خاموش رہا جائے ، یا اِن سے صَرف نظر کر لیا جائے ،
الحمد للہ ، اللہ جلّ جلالہُ کی عطاء کردہ توفیق سے ، میں ایسے ہی کچھ لوگوں کے بہت سے  جہالت ،گمراہی ،اور دھوکہ دہی پر مبنی اعتراضات  کے جوابات پیش کر چکے ہوں ، ایک دو روز پہلے ایک محترم بھتیجے نے فیس بک پر ہونے والی ایک بحث کی طرف توجہ مبذول کروائی ،
اُس بحث میں اِسی قِسم کے لوگوں نے اللہ کے رسول محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی سیرت مُبارکہ کے ایک واقعے  میں ، انبیاء اور رُسولوں کے بعد سب سے اعلیٰ اور بُلند رُتبےو الی ہستی ، پہلے بلا فصل خلیفہ أمیر المؤمنین ابو بکر الصدیق رضی اللہ عنہ ُ و أرضاہُ کے ایک قول پر اعتراض پر اعتراضات کیے گئے ، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی ذات پاک پر وارد ہوتے ہیں کیونکہ یہ قول اُن صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے سامنے کہا گیا ،
اُن سب اعتراضات کے اسباب وہی ہیں جِن کا ابھی ابھی ذِکر کیا گیا ہے ،
آیے دیکھتے ہیں کہ پہلے بلا فصل خلیفہ أمیر المؤمنین ابو بکر الصدیق رضی اللہ عنہ ُ و أرضاہُ  نے وہ قول کب  کہا ؟ اور کس وجہ سے کہا؟ اور کِس سے کہا ،
اور اِس کے ساتھ ساتھ یہ بھی یاد کر لیجیے کہ أمیر المؤمنین ابو بکر الصدیق رضی اللہ عنہ ُ و أرضاہُ  نے کِسی مُسلمان کے ساتھ ، حتیٰ کہ کِسی کافر کے ساتھ بھی کبھی اس قِسم کے اِلفاظ اِستعمال کرتے ہوئے بات نہ کی نہ قبل از اِسلام اور نہ اِسلام قُبُول کرنے کے بعد ،  جو اِس بات کا ایک ناقابل رد ثبوت ہے کہ اِس ایک موقع پر ، صِرف ایک ہی دفعہ ، اِس قِسم کے شدید  اِلفاظ خاص سبب کی وجہ سے اِستعمال کیے گئے ، اور خاص حِکمت کی وجہ سے اِستعمال کیے گئے ،
یہ اُس وقت کا  واقعہ ہے جب اللہ کے رسول کریم محمد صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسم اپنے ساتھیوں کےعُمرہ کے لیے مکہ المکرمہ تشریف لائے اور مکہ میں داخل ہو نے سے پہلے اہل مکہ کے ساتھ مذاکرات فرما رہے تھے ،
جِن مذاکرات کے نتیجے میں صلح حدیبیہ واقع ہوئی ،
 اُن مذاکرات میں  مکہ کے کافر مُشرکوں میں سے ایک کافر مُشرک جس کا نام عُروہ تھا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم سے بات کرتا ہے ، اور اُن صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی بے ادبی کرتا ہے کہ بات کرتے ہوئے بار بار اُن داڑھی مُبارک کو پکڑتا ہے،اور یہ بھی کہہ دِیا کہ """:::اے محمد کیا تم نے سنا ہے کہ عربوں میں  تم سے پہلے کسی نے اپنے ہی خاندان کو تباہ کیا ہو؟(یعنی اگر تم جیتتے ہو تو اپنی ہی قوم قریش کو مار کر جیتتے ہو)"""،
اور پھر کہا کہ """ وَإِنْ تَكُنِ الأُخْرَى ،  فَإِنِّى وَاللَّهِ لأَرَى وُجُوهًا ، وَإِنِّى لأَرَى أَوْشَابًا مِنَ النَّاسِ خَلِيقًا أَنْ يَفِرُّوا وَيَدَعُوكَ:::اور اگر معاملہ دُوسرا ہوا (یعنی قریش جیت گئے تو) اللہ کی قسم میں تو،تُمہارے اِرد گِرد مختلف قوموں اور قبلیوں کے  ایسے چہرے دیکھ رہا ہوں جو تمہیں چھوڑ دیں گے اور فرار ہو جائیں گے"""،
جب عُروہ نے یہ بات کہی ، جو کہ اُس وقت کےتمام مُسلمانوں کے اِیمان پر ایک بڑا بہتان تھا ، توأمیر المؤمنین  ابو بکر الصدیق رضی اللہ عنہ ُ و أرضاہُ نے اُس کافر کو اُس کے عقیدے ،اِیمان اور اِخلاق کی حقیقت یاد دلانے کے لیے ایک محاورہ بولا ، جو اُس وقت عربوں میں اِستعمال کیا جاتا تھا، جب کسی کو اُس کی بات یا کام کی شدید برائی کا احساس دلوایا جانا مقصود ہوتا تھا ، کہ اِس کام یا بات سے اچھا تو یہ ہے کہ تُم یہ کام کر لو (جس کا محاورے میں ذِکر ہے)،
اب یہاں سے آگے بات کرنے سے پہلے لا محالہ مجھے وہ محاورہ اورمختصراً، اُس کا معنی  ٰ و مفہوم بتانا پڑے گا ، لہذا براہ مہربانی اِسے بھی فحش گوئی پر محمول نہ کیا جائے ، کہ بسا اوقات کسی بات کو سمجھانے کے لیے کچھ ایسے اِلفاظ بولنا ہی پڑتے ہیں جو عام طور پر نہیں بولے جاتے ،کیونکہ اُنہیں اچھا نہیں سمجھا جاتا ،
وہ محاورہ تھا """امصُص بظر أُمک ::: اپنی ماں کی شرمگاہ چوس لو"""،
 میں نے """بظر"""کا ترجمہ """شرمگاہ""" لکھا ہے ، جب کہ یہ لفظ شرمگاہ کے لیے نہیں ہے ، تفصیل میں جائے بغیر یہ بتاتا چلوں کہ بظر عورت کی شرمگاہ  کے ایک خاص حصے کو کہا جاتا ہے ،
جی ، تو ،،، نبیوں اور رُسُولوں کے بعد سب سے بڑھ کر مکمل ترین اِیمان والے ، اور سب سے بُلند اور ارفع رُتبے والے اِنسان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے پہلے بلا فصل خلیفہ  أمیر المؤمنین ابو بکر الصدیق رضی اللہ عنہ ُ و أرضاہُ نے اِس موقع پرإِیمان والوں کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم سے محبت اور وفا داری کا اقرار کرتے ہوئے اور  اُس کافر عُروہ کو اُس کی باتوں کی غلاظت اور برائی کا احساس دِلوانے لے لیے وہ محاورہ بولا ، لیکن اُس کی ماں کا ذِکر نہیں کیا ، بلکہ اُس بت کا ذِکر کیا جسے مکہ اور عرب کے دیگر کافر مُشرک اللہ کی بیٹی کہتے تھے ،( وہ بُت یا پتھر کا ٹکڑا طائف میں تھا)،  
اور یہ کہا کہ """ امْصُصْ بَظْرَ اللاَّتِ ، أَنَحْنُ نَفِرُّ عَنْهُ وَنَدَعُهُ:::لات کی شرمگاہ چُوس لو ، کیا ہم لوگ محمد (صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم)سے فرار ہو جائیں گے اور اِنہیں چھوڑ دیں گے ؟"""،
اور ابو بکر الصدیق رضی اللہ عنہ ُ کا محاورے کو بدل کر یہ جواب  دینا ، اِس بات کی دلیل ہے کہ اُنہوں نے اپنی طرف سےبنا کر کوئی فحش گوئی نہیں کی ، بلکہ اُس محاورے کو بدل کر اُس کافر شخص  کو یہ سمجھایا کہ ہم لوگ  سچے اور اکیلے معبود اللہ اور اُس کے رسول محمد پر إِیمان لا کر اپنا سب کچھ قُربان کرنے نکلے ہیں ،تمہاری طرح جھوٹے معبودوں کے پُجاری نہیں ہیں ،
ایسے معبود جنہیں تُم اللہ کی بیٹیاں قرار دیتے ہو،ہم کِسی صُورت میں بھی محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کو چھوڑ کر جانے والے  نہیں ، ایسی بے تکی بکواس کرنے سے بہتر ہے کہ تُم اپنی اُس جھوٹی معبودہ کی شرمگاہ چُوسو ،  جسے تم اللہ کی بیٹی سمجھتے ہو ،
پس ہمیں بڑی آسانی سے یہ سمجھ آتا ہے کہ أمیر المؤمنین ابو بکر الصدیق رضی اللہ عنہ ُ کی طرف سے ایسا شدید جواب اُس کافر عُروہ  کو اُس  کے عقیدے ،اِیمان اور اِخلاق کی حقیقت یاد دلانے کے لیے تھا، اور اُس لب ولہجے میں تھا جو لب و لہجہ اُس جیسے شخص سمجھ سکتے تھے ، اگر وہ اچھی صاف ستھری بات سمجھ سکنے والوں میں سے ہوتا تو اللہ کے رسول کریم محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی دعوت کو سمجھ چکا ہوتا ، اُن صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی باتوں کو سمجھ چکا ہوتا ،اُن صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے تحمل ، عفو و درگذر کو سمجھ چکا ہوتا ، اور اپنی بے ہودگی اور بد تمیزی سے باز آ چکا ہوتا ،
صحیح ثابت شدہ احادیث مُبارکہ ، اور صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین کے اقوال و افعال پر طعن کرنے والے ، اور محدثین کرام ، رحمہم اللہ جمعیاً پر طعن و تشنیع کرنے والے ، اور اُن کا مذاق اُڑانے والے لوگ ، اللہ جلّ جلالہُ  کا یہ فرمان مُبارک پڑھیں اور خوب غور سے پڑھیں  ﴿  لَّا يُحِبُّ اللَّهُ الْجَهْرَ بِالسُّوءِ مِنَ الْقَوْلِ إِلَّا مَن ظُلِمَ وَكَانَ اللَّهُ سَمِيعًا عَلِيمًا ::: اللہ اِس بات کو پسند نہیں کرتا کہ بدکلامی کی جائے ، سوائے اِس کے کسی پر ظُلم کیا جائے ، اور اللہ (سب ہی کچھ) سننےوالا،اور(ہر ایک)عِلم رکھنے والا ہے ﴾سُورت النِساء (4)/آیت 148،
وہ شخص، یعنی عُروہ ،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی شان مُبارک میں جو بد تمیزی کر رہا تھا ، اور إِیمان والوں پر جو جھوٹ باندھ رہا تھا ، وہ سب کچھ اُن کے حق میں ظلم تھا ،
اور اللہ تبارک و تعالیٰ کے اِس مذکورہ بالا فرمان شریف کی روشنی میں  کسی ظالم کے بارے میں ، کسی ظالم کے ظلم کے جواب میں ایسی بات کہی جا سکتی ہے جو بری باتوں میں شُمار ہوتی ہے ،
پس ، پہلے بلا فصل خلیفہ أمیر المؤمنین ابو بکر الصدیق ، رضی اللہ عنہ ُ کا اُس کافر کو کچھ ایسے الفاظ میں جواب دینا کسی طور قابل گرفت ، اور قابل مذمت نہیں ،
یہاں آغاز میں کہی ہوئی ایک بات دہراتاچلوں کہ """أمیر المؤمنین ابو بکر الصدیق رضی اللہ عنہ ُ و أرضاہُ  نے کِسی مُسلمان کے ساتھ ، حتیٰ کہ کِسی کافر کے ساتھ بھی کبھی اس قِسم کے اِلفاظ اِستعمال کرتے ہوئے بات نہ کی نہ قبل از اِسلام اور نہ اِسلام قُبُول کرنے کے بعد ،  جو اِس بات کا ایک ناقابل رد ثبوت ہے کہ اِس ایک موقع پر ، صِرف ایک ہی دفعہ ، اِس قِسم کے شدید  اِلفاظ خاص سبب کی وجہ سے اِستعمال کیے گئے ، اور خاص حِکمت کی وجہ سے اِستعمال کیے گئے"""،
اللہ تبارک و تعالیٰ کی ہم مُسلمانوں پر بے پناہ رحمتوں میں سے ایک رحمت یہ بھی ہے کہ اللہ کے رسول کریم صلی اللہ  علیہ وعلی آلہ وسلم کی سُنّت شریفہ کے ذریعے ہمیں بہت سے احکام کی تفسیر ، شرح اور تفصیل سِکھا دِی جو احکام کسی تفصیل کے بغیر قران کریم میں نازل فرمائے ، اور  بے شمار ایسےمسائل اور حقائق سمجھا دیے جِن کا ذِکر اللہ جلّ شأنہُ نے اپنی کتاب کریم میں نہیں فرمایا ،
اِس واقعہ سے ہم مُسلمانوں کے إِماموں اور عُلماء نے یہ مسائل اخذ کیے :::
::::::: اگر مصلحت عامہ اور ضرورت کا تقاضا ہو تو اپنی گفتگو میں واضح طور پر شرمگاہ کا ( یا اُس کے مختلف حصوں کا) نام لیا جا سکتا ہے (جیسا کہ عِلم طب والے اپنے شاگردوں کو پڑھاتے اور سمجھاتے ہوئے لیتے ہیں ، اور جیسا کہ پاکیزگی اور طہارت کے مسائل سمجھنے سمجھانے کے لیے اِس کی ضرورت ہوتی ہے )،
::::::: اس بات کی دلیل ہے ، کہ لات نامی بُت یا پتھر ٹکڑا مؤنث سمجھا جاتا تھا،
::::::: جب بات کرنے والا ظلم و جُور پر مصر رہے تو پھر ہم اُسے نرمی اور اچھے الفاظ میں جواب دینے کے پابند نہیں رہتے ،
لہذا ، کسی بھی دُرُست عقل رکھنے والے کو خلیفہ اول بلا فصل أمیر المؤمنین ابو بکر الصدیق  رضی اللہ عنہ ُ و أرضاہُ کے اِس قول  پر کوئی اعتراض کرنے کی گنجائش نہیں رہتی ،
رہا معاملہ اُن لوگوں کا جو خود تو بنیادی پاکیزگی اور طہارت کے معاملات تک نہیں جانتے اور باتیں کرتے ہیں صحیح احادیث شریفہ کے خِلاف ، اور جنہیں اِسلامی عُلوم کی الف ب کا بھی پتہ نہیں اور بولتے ہیں محدثین کرام رحمہم اللہ کے خِلاف ، توایسے لوگوں کے لیے میں یہ ہی دُعاء کرتا ہوں کہ اللہ تبارک وتعالیٰ اُن لوگوں کو ہدایت دے ، اور اگر اُس کی مشیئت میں اُن لوگوں کے ہدایت نہیں ہے تو پھر اپنی تمام تر مخلوق کو اُن کے شر سے محفوظ فرما دے ۔
والسلام علیکم۔
طلب گارء دُعاء ، عادل سُہیل ظفر ۔
تاریخ کتابت : 29/01/1436ہجری، بمُطابق،22/11/2014عیسوئی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اِس مضمون کا برقی نُسخہ درج ذیل ربط پر میسر ہے :
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Monday, November 17, 2014

::: نو مولود ، یعنی نئے پیدا ہونے والے بچے کے کانوں میں اذان اور اقامت کہا جانا خِلاف سُنّت ہے :::




::: نو مولود ، یعنی نئے پیدا ہونے والے بچے کے کانوں میں اذان اور اقامت کہا جانا خِلاف سُنّت ہے :::
أَعُوذُ بِاللَّهِ السَّمِيعِ الْعَلِيمِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ مِنْ هَمْزِهِ وَنَفْخِهِ وَنَفْثِهِ
بِسمِ اللَّہ ،و السَّلامُ عَلیَ مَن اتبع َالھُدیٰ و سَلکَ عَلیَ مَسلکِ النَّبیِّ الھُدیٰ مُحمدٍ صَلی اللہُ علیہِ وعَلیَ آلہِ وسلَّمَ ، و قَد خَابَ مَن یُشقاقِ الرَّسُولَ بَعدَ أَن تَبینَ لہُ الھُدیٰ ، و اتبِعَ ھَواء نفسہُ فوقعَ فی ضَلالاٍ بعیدا:::شروع اللہ کے نام سے ، اورسلامتی ہو اُس شخص  پر جس نے ہدایت کی پیروی کی ، اور ہدایت لانے والے نبی محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی راہ پر چلا ، اور یقینا وہ شخص تباہ ہوا جس نے رسول کو الگ کیا ، بعد اس کے کہ اُس کے لیے ہدایت واضح کر دی گئ اور(لیکن اُس شخص نے) اپنے نفس  کی خواہشات کی پیروی کی پس بہت دور کی گمراہی میں جا پڑا ۔
السلامُ علیکُم و رحمۃُ اللہ و برکاتہُ ،
عنوان میں مذکور موضوع پر بات کرنے سے پہلے ہر ایک محترم قاری سے گذارش ہے کہ ، کوئی جواب ، کوئی کمنٹ ، کوئی ریمارکس ارسال کرنے سے پہلے ، اِس مضمون کو بہت توجہ ، تحمل اور تدبر سے مطالعہ فرمایے ، اور اگر آپ کے پاس موضوع سے متلعق کوئی ایسی بات ہو جس کا جواب اِس مضمون میں نہ ہو تو اسے سامنے لایے ، اِن شاء اللہ اِس طرح زیادہ  خیر ہو گی ،آپ کے تعاون پر میں آپ کا پیشگی شکریہ ادا کرتا ہوں ، اور دعا گو ہوں کہ جزاک اللہ خیراًٍ ،
ہمارے ہاں یہ بات بہت معروف ہے ، کہ جب کسی مُسلمان کے ہاں بچہ پیدا ہو ، تو اُس بچے کے دائیں کان میں اذان کہی جانی چاہیے ، اور بائیں کان میں اقامت ،
اور  افسوس ، صد افسوس کہ اِس کام کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی سُنّت سمجھا جاتا ہے ،  جبکہ یہ کام نہ تو رسول اللہ محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی سُنّت مُبارکہ سے ثابت ہیں ،ا ور نہ ہی اُن کے صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین سے ، پھر بھی کچھ غیر ثابت شدہ روایات کی بِناء پر ، اُن روایات کی تحقیق جانے بغیر ، اِن کاموں کو سُنّت مانا جاتا ہے ، اور لوگوں کو بھی بطور سُنّت اِس پر عمل کروایا جاتا ہے ،
اور کچھ فلسفے بھی بیان کیے جاتے ہیں جیسا کہ کہا جاتا ہے کہ""" اس میں ایک سبق یہ ہے کہ اِنسان کی زندگی کی طوالت کی مثال ایسے ہی ہے جیسے کہ اذان اور اقامت کے درمیان کا تھوڑا سا وقت ہے""" ،
اور کہا جاتا ہے کہ""" اذان  کی آواز سے ، اذان کے الفاظ سن کر شیطان دُور بھاگتا ہے ، لہذا بچہ شیطان کے شر اور وساوس سے بچ جاتا ہے """،
اور کہا جاتا ہے کہ """ اِس کی حِکمت یہ ہے کہ بچہ اپنی زندگی میں پہلی آواز  اللہ کے نام کی سنتا ہے ، اور اللہ کا ذِکر سنتا ہے ، اپنے خالق کو پہچانتا ہے""" ،  وغیرہ  وغیرہ ،
اِن شاء اللہ ،اِن فلسفوں ، یا ، خود فِکری کی بنا پر کہی گئی نام نہاد خود ساختہ حِکمتوں کے بارے میں آخر میں کچھ گذارشات پھر کسی وقت  ، فی الحال اِن کے  جواب میں  اتنا ہی کہتا ہوں  کہ کسی معاملے ، کسی بات ، کسی کام کے بارے میں، یا اُس کی بِناء پر  کوئی فلسفہ، یا کوئی حِکمت  ایجاد کرنے اور اُسے ماننے سے یقینی طور پر یہ جاننا چاہیے کہ اُس معاملے ، اُس بات یا اُس کام کی اصلیت کیا ہے ؟؟؟
اُس کی حقیقت کیا ہے ؟؟؟
خاص طور پر جب وہ معاملہ ، وہ بات ، یا وہ کام اللہ تبارک وتعالیٰ کے دِین سے متعلق سمجھا جاتا ہو تو پھر تو  اُس کے بارے میں  یقین دہانی سے پہلے کوئی بھی فلسفہ ، یا حِکمت قُبُول کرنا سوائے آخرت کے نُقصان کے اور کچھ نہیں اور بسا اوقات آخرت سے پہلے دُنیا کے نقصانات بھی ہوجاتے ہیں ،
:::::: نو مولود ، یعنی نئے پیدا ہونے والے بچے کے کانوں میں اذان اور اقامت کہے جانے کی روایات ، اور اُن کی تحقیق  ::::::
::: (1) ::: ابی رافع رضی اللہ عنہ ُکی روایت کے طور پر :::
(((رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَذَّنَ فِي أُذُنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ بِالصَّلَاةِ حِينَ وَلَدَتْهُ فَاطِمَةُ::: جب فاطمہ (رضی اللہ عنہا )نے حسن بن علی(رضی اللہ عنہما) کو پیدائش دی تو میں نےرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ اُنہوں نے حسن کے کان میں اذان کہی ، نماز کے ساتھ (یعنی اقامت بھی کہی)۔)))،
یہ روایت کئی کتابوں میں مروی ہے ،اِن شاء اللہ ،  آپ کی خدمت میں کتابوں کے حوالہ جات ذِکر کرتا ہوں ، اورپھر اِس روایت کی سند کا حال بھی ،
سُنن ابو داؤد /اول کتاب الادب/باب115 في الصبيّ يُولد فَيُوَذَّنُ في أُذُنِه،
سُنن الترمذی /حدیث/1436کتاب الاضاحی عن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم/باب17الْأَذَانِ فِي أُذُنِ الْمَوْلُودِ،
سُنن البیہقی الکبریٰ/حدیث/19781کتاب الضحایا/باب52،
الآداب للبیہقی /حدیث/374باب  الْمَوْلُودِ يُؤَذَّنُ فِي أُذُنِهِ،
شعب الاِیمان، البیہقی/حدیث/8618السِتُونَ مِن شُعب الإيمان ،
المستدرک للحاکم /کتاب معرفۃ الصحابہ رضی اللہ عنہم/باب 23،
الدُعاء للطبرانی /حدیث/944باب الْقَوْلِ عِنْدَ الْمَوْلُودِ إِذَا وُلِدَ،
المعجم الکبیر للطبرانی /حدیث/931باب الالف/ عُبید اللہ بن ابی رافع ، عن ابیہ،اور ، باب الحاء/پہلا باب،
مُسند الروایانی/حدیث /682حدیث ابی رافع کی پہلی روایت،
مُسند احمد/حدیث /23869حدیث ابی رافع میں 14ویں روایت،
مُصنف عبدالرزاق/حدیث /7986کتاب العقیقہ/باب4،
اِن سب روایات کی سند میں """عاصم بن عبید اللہ """ نامی راوی ایسا ہے جسے أئمہ محدثین رحمہم اللہ نے ضعیف ، یعنی ، نا قابل اعتماد قرار دے رکھا ،
امیر المؤمنین فی الحدیث ، إِمام محمد بن إِسماعیل البخاری رحمہُ اللہ نے اس کے بارے میں کہا """ مُنکر الحدیث ،،، یعنی اِس کی روایت کردہ حدیث منکر ہوتی ہے"""،تاریخ الکبیر /ترجمہ رقم 3088،
إِمام المدینہ ، إِمام مالک نےأنس رحمہُ اللہ نے """ضعیف ، یعنی ، ناقابل اعتماد """قرار دِیا ، دیکھیےإِمام ابن عدی الجرجانی  رحمہُ اللہ کی"""الکامل فی الضعفاء الرجال/ترجمہ رقم 1381"""، اور ،  إِمام شمس الدِین محمد بن احمد الذھبی رحمہُ اللہ کی """تاريخ الإسلام وَوَفيات المشاهير وَالأعلام/ترجمہ رقم125 """،
علامہ مغلطاي بن قليج البكجري الحنفي رحمہُ اللہ نے """إكمال تهذيب الكمال في أسماء الرجال/ترجمہ رقم2628"""، میں لکھا کہ """مُضطرَب الحَديث تُنكَر عليه أحاديث::: یعنی (إِمام) ابن القطان( رحمہُ اللہ )نے کہا کہ اِس کی روایات میں اضطراب ہوتا ہے ، اِس کی روایات کا اِنکار کیا جاتا ہے(اور کیا جائے گا)"""،
إِمام محمد ابن سعد نے الطبقات الکبریٰ /الطبقۃ الرابعۃ  من التابعین من اھل المدینہ/ترجمہ رقم 102 میں کہا """ لَا يُحْتَجُّ بِهِ::: اِس کی بات کو حُجت نہیں بنایا جاسکتا """،
إِمام ابن حبان رحمہُ اللہ نے کہا """فَاحِشُ الْخَطَأِ:::بےہودہ قسم کی غلطیاں کرنے والا """،دیکھیے ،  إِمام شمس الدِین محمد بن احمد الذھبی رحمہُ اللہ کی """تاريخ الإسلام وَوَفيات المشاهير وَالأعلام/ترجمہ رقم125 """،اور إِمام ابن عدی الجرجانی  رحمہُ اللہ کی"""الکامل فی الضعفاء الرجال/ترجمہ رقم 1381"""،
اِن کے عِلاوہ إِمام احمد ابن حنبل، إِمام النسائی، إِمام الدارقطنی ، إِمام شعبہ رحمہم اللہ جمعیاً نے بھی اِس راوی کو """ضعیف ، یعنی ناقابل اعتماد """قرار دِیا ہے ، مذکورہ بالا حوالہ جات میں ہی یہ بھی مذکور ہے ، خاص طور پر آخری مُقام میں ،
::: (2) ::: عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کی روایت کے طور پر :::
(((أَذَّنَ في أُذُنِ الحسنِ بنِ عليّ يومَ وُلِدَ ، فَأَذَّنَ فِي أُذُنِهِ الْيُمْنَى وَأَقَامَ فِي أُذُنِهِ الْيُسْرَى::: جِس دِن حسن بن علی (رضی اللہ عنہ ُ ) پیدا ہوئے ، اُس دِن(رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے )حسن(رضی اللہ عنہ ُ) کے کان میں اذان کہی ،پس حسن (رضی اللہ عنہ ُ)کے دائیں کان میں اذان کہی ، اور بائیں کان میں اقامت کہی)))
یہ روایت امام البیہقی رحمہُ اللہ نے """ شعب الاِیمان/حدیث/8620السِتُونَ مِن شُعب الإيمان """ میں روایت کی ، اِس کی سند میں"""الحسن بن عَمرو (کہیں عُمر بھی لکھا جاتا ہے)بن السیف السدوسی """ نامی راوی کو """متروک، یعنی جِس کی روایت ترک کی جاتی ہیں """ قرار دِیا گیا ہے ، اور ،امام ابن المدینی رحمہُ اللہ ،  اور امام بخاری رحمہُ اللہ نے اسے""" جھوٹا""" قرار دِیا ہے ،
 اور دوسرے راوی """محمد بن یُونُس الکدیمی"""، کوجھوٹا اور روایات گھڑنے والا قرار دِیا گیا ہے ، لہذا یہ روایت موضوع یعنی خود ساختہ ہے ،  تفصیل کے لیے دیکھیے إِمام الالبانی رحمہُ اللہ کی سلسلۃ الاحادیث الضعیفہ و الموضوعۃ /حدیث 6121،
::: (3) ::: حُسین بن علی  رضی اللہ عنہما کی روایت کے طور پر :::
(((مَنْ وُلِدَ لَهُ مَوْلُودٌ، فَأَذَّنَ فِي أُذُنِهِ الْيُمْنَى، وَأَقَامَ فِي أُذُنِهِ الْيُسْرَى، لَمْ يَضُرَّهُ أُمُّ الصِّبْيَانِ:::جِس کے ہاں بچہ پیدا ہوا ، اور اُس نے اُس بچے کے دائیں کان میں اذان کہی ، اور بائیں کان میں اقامت کہی ، تو اُس بچے کو آسیب نقصان نہیں پہنچا سکتا )))
یہ روایت درج ذیل کتب میں مروی ہے :::
مُسند ابی یعلی الموصلی/حدیث/6747مُسند الحُسین بن علی میں سے نویں روایت9 ،
اِسی کے حوالے سے إِمام ابن السُنّی نے """عمل الیوم واللیلۃ /حدیث 623،باب مَا يَعْمَلُ بِالْوَلَدِ إِذَا وُلِدَ""" میں نقل کیا ،
شعب الاِیمان/حدیث/8619السِتُونَ مِن شُعب الإيمان ، اِن کی روایت کا آخری لفظ """ الصِّبْيَانِ""" کی بجائے """ الصِّبْيَات"""ہے،
امالی ابن بشران /حدیث 488، الْمَجْلِسُ التَّاسِعُ وَالسِّتُّونَ وَالسِّتُّمِائَةِ فِي الْمُحَرَّمِ مِنَ السَّنَةِ میں سے آٹھویں روایت 8، اِس روایت کا آخری حصہ """ لَمْ يَضُرَّهُ أُمُّ الصِّبْيَانِ"""کی بجائے """نَفَعْتَ عِنْدَ لَقِيِّ الْحِسَابِ"""ہے،
اِن تمام تر روایات کی سند میں دو ایسے مشترک راوی ہیں ، جن کی روایت قبول نہیں کی جا سکتی ، اور وہ ہیں :::
"""مروان بن سالم الغِفاری"""، اور """یحیی بن العلا ء(البُجلی) الرازی """، اور """"""،
اِن میں سے پہلے راوی"""مروان بن سالم الغِفاری""" کے بارے میں ، اُس کی یہی روایت بیان کرنے کے بعدإِمام الھیثمی رحمہُ اللہ نے """مجمع الزوائد و منبع الفوائد/حدیث6206،کتاب الصید والذبائح/بابان فی المولود/ الأذان في أذن المولود """ میں """متروک، یعنی جِس کی روایت ترک کی جاتی ہیں """ قرار دِیا ،
اور دُوسرے راوی"""یحیی بن العلا ء(البُجلی) الرازی"""کے بارے میں  إِمام احمد رحمہُ اللہ نے بتایا کہ یہ جھوٹا تھا اور روایات بنایا کرتا تھا ،
محترم بھائیو ، اور بہنوں ، یہ ہیں وہ روایات جن کی بنا پر  نومولود ، یعنی نئے پیدا ہونے والے بچے یا بچی کے دائیں کان میں اذان اور بائیں کان میں اقامت کہے جانے کی بدعت مروج کی گئی،
آپ کے سامنے یہ تحقیق پیش ہو چکی ہے کہ یہ سب کی سب روایات ناقابل یقین اور ناقابل اعتماد ہیں ، لہذا، اِن  روایات کو کسی طور کسی عقیدے یا عمل کی دلیل نہیں بنایا جا سکتا ۔
کچھ لوگ اِن معلومات کا ، یا اِن میں سے کچھ معلومات کا عِلم رکھنے کے باوجود ،اپنے مسلک ، مذھب ، گروہ ، جماعت ، یا پسندیدہ شخصیت کی تائید کرنے کے اندھیرے سے نکل نہیں پاتے اور کچھ اِس قِسم کی تاویلات کرتے ہیں کہ """ گو کہ کچھ محدثین نے اِن روایت کو ضعیف کہا ہے لیکن چونکہ اُمت کی اکثریت کا اِس کام پر تواتر سے عمل ہے لہذا اِن روایات  کی سند کا ضعیف ہونا اِن روایت کو مسترد کرنے کی دلیل نہیں بنے گا """،
لا حول ولا قوۃ الا باللہ ، کِس قدر بودی بات ہے ، محترم قارئین ، خود ہی سوچیے کہ  اگر اُمت میں کوئی نا دُرُست بات منتشر ہو جائے اور اُمت کی اکثریت اُس پر عمل کرنے لگے اور مسلسل عمل کرنے لگے ، تو کیا اُمت کی غلط فہمی ، کم علمی، بھیڑ چال، اور لوگوں کے بارے میں بے جا حُسن ظن اُس غلط بات کو دُرست بنا دیں گی ؟؟؟
اگر کوئی بد بخت ، اپنے طور پر کوئی جھوٹ بنا کر اُس جھوٹ کو اللہ کے رسول کریم محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی ذات پاک سے  منسوب کر دے اور امت اُس کو مان لے ، اور اس پر مسلسل یعنی تواتر کے ساتھ عمل کرنے لگے تو کیا وہ جھوٹ اللہ کے خلیل محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی ذات مُبارک سے منسوب ہو جائے گا ؟؟؟
محترم قارئین ، بات کو مختصر رکھتے ہوئے ختم کرتے ہوئے کہتا ہوں کہ   ، یہ کام ،  یعنی نو مولود کے کان میں اذان کہنا ، یا ایک کان میں اذان اور دوسرے میں اقامت کہنا، نبی اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی قولی یا عملی سُنّت مبارکہ سے ثابت نہیں ہوتا ، اور نہ ہی صحابہ رضی اللہ عنہم سے ، اور ایسا ہو بھی نہیں سکتا تھا کیونکہ جب یہ عمل  اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی زندگی مبارک میں تھا ہی نہیں تو صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین کہاں سے کرتے ، معاذ اللہ وہ بدعات بنانے والے تو نہیں تھے ،
اور نہ ہی تابعین رحمہُم اللہ کی زندگیوں میں اِس کا کوئی ثبوت میسر ہے ،
لہذا کِسی شک اور شبہے کے بغیر یہ کام بدعت ہے ، اور ہر بِدعت گمراہی ہے ، اور ہر گمراہی جہنم میں ہے ،
یہ کام کب سے اُمت میں ظاہر ہوا؟ اِس کے بارے میں اِن شاء اللہ پھر کسی وقت معلومات مہیا کروں گا ،   
جو معلومات مہیا کی گئی ہیں ، اور جن روایات یا فلسفوں کی حقیقت بیان کر دی گئی ہے ، اگر کسی بھائی یا بہن  کے پاس اُن کے علاوہ کوئی اور دلیل ہو ، یا اُن کے دل و دماغ میں اِن کے علاوہ  کوئی اور اشکال ہو تو سامنے لائے ، اِن شاء اللہ اُن کا جائزہ بھی پیش کیا جائے گا  ،
لیکن سب سے گذارش ہے کہ کسی شک میں مبتلا ہونے سے پہلے یہ سوچ لیا جائے کہ ہماری اس گفتگو میں زیر مطالعہ  نومولود کے کانوں میں اذان اور اقامت وغیرہ کہنے والے یہ کام قران و سنت کی کوئی صحیح دلیل نہیں رکھتے ، لہذا ان کا دِین اسلام میں کوئی حصہ نہیں خواہ یہ بظاہر بالکل اسلامی کام نظرآتے ہیں ،
رہا معاملہ بزرگوں کا ان  غیر ثابت شدہ باتوں کے بارے میں کچھ کہنے لکھنے کا تو اس کے بارے گذارش یہ ہے کہ جو عقیدہ یا کام  اللہ کی کتاب ، اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی  سُنّت مبارکہ سے ثابت ہی نہیں  ہوتا ، اس کے درستگی ، حِکمت یا فضائل کے بارے میں کسی نے کیا کچھ ہی کیوں نہ  کہا ہو ،اُس کا کہا ہوا  دِین میں کوئی دلیل نہیں ہوتا ،
ہمیں ہمت کر کے یہ کڑوی کسیلی لیکن سچی باتیں  قبول کر ہی لینا چاہیے کہ """ جو عبادت اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی سُنّت مُبارکہ سے سرٹیفائیڈ نہ ہو گی وہ ثواب کی حامل نہیں ہو سکتی ، اور سُنّت مُبارکہ کی پیروی ہی اہل سُنّت کا مسلک ہے ،
اور ،اگر ہم کسی شخصیت کے بارے میں، اس کے علم و فضل، زُھد و تقویٰ  کے بارے میں حسنء ظن رکھتے ہیں تو وہ حسنء ظن اس شخصیت کے کہے یا لکھے ہوئے کو دینی اعمال کی درستگی کی دلیل نہیں بنا سکتا، کسی بزرگ کا کچھ کہنا ، لکھنا اس وقت زیر توجہ ہو گا جب اُن کی دلیل ثابت شدہ ہو گی،"""،
ان باتوں کی مثال ایسی ہی ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں فرمایا ہے (((((بَابٌ بَاطِنُهُ فِيهِ الرَّحْمَةُ وَظَاهِرُهُ مِنْ قِبَلِهِ الْعَذَابُ ::: ایسا دروازہ جِس دروازے کے اندر کی طرف تو رحمت ہو گی اور اس کے سامنے کی طرف سے ظاہری طور پر عذاب ہو گا)))))سُورت الحدید(57)/آیت13،
اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس کا دِین اس طرح سمجھنے ، ماننے ، اپنانے اور اس پر عمل پیرا رہنے کی توفیق دے جِس طرح اس نے وہ دِین اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم پر نازل فرمایا ، اور جِس طرح ان صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے اپنی اُمت تک پہنچایا ،  و السلام علیکم۔
طلبگار دُعاء ، آپ کا بھائی عادِل سُہیل ظفر ،
تاریخ کتابت : 11/10/1432ہجری، بمُطابق،09/09/2011عیسوئی،
تاریخ تجدید و تحدیث : 24/01/1436ہجری،  بمُطابق،17/11/2014عیسوئی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
:::: ایک وضاحت :::
 اِس مضمون کا موضوع  علم الرجال ، اور جرح و تعدیل کے قوانین یا اصطلاحات نہیں ، لیکن ، ایک بھائی کی طرف سے کیے گئےایک اعتراض کے جواب میں یہ معلومات  شامل کر رہا ہوں کہ :::
 ضعیف ، کا لفظی معنی کمزور ہوتا ہے ، میں نا قابل اعتماد اِس لیے لکھتا ہوں کہ جس راوی کو ضعیف قرار دیا گیا ہے اُس کی بات ، اُس کی روایت قابل اعتماد نہیں ہوتی ، اگر کسی راوی کو کمزور قرار دینے کا سبب اُس  کے حفظ کی کمزوری  ہو تو ہمیں أئمہ کرام کی جرح میں اِس کا ذِکر مل جاتا ہے ، اور اگر ایسا کوئی سبب بیان نہ ہو تو اِس کا مفہوم یہی ہوتا ہے کہ وہ شخص روایت بیان کرنے میں کمزور تھا ، لہذا اِس معاملے میں ناقابل اعتماد ہے ، اُس کی روایات کو دلیل اور حُجت نہیں بنایا جا سکتا ، رہا معاملہ حافظے کی کمزوری کی وجہ سے ضعیف یعنی ناقابل اعتماد قرار دیے جانے کا تو بھی ایسے راوی کی وہی روایات قبول کی جاتی ہیں جو اُس نے سنتے وقت لکھ کر محفوظ کر لی ہوں ، یا تو اُس جن روایات کی گواہی دیگر بااعتماد راویوں کی روایات سے ملتی ہو۔
تاریخ اضافہ :26/01/1436ہجری،بمُطابق،19/11/2014عیسوئی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مضمون کا برقی نسخہ درج ذیل ربط پر میسر ہے :
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔