Wednesday, February 8, 2017

::::: برقی میڈیا (الیکٹرونک میڈیا ) میں قُرآنی آیات نشر کرنا :::::





:::::     برقی میڈیا (الیکٹرونک میڈیا ) میں قُرآنی آیات نشر کرنا    :::::

بِسمِ اللَّہ ،و الصَّلاۃُ و السَّلامُ عَلیَ  رسولِ اللَّہِ محمدً و علیٰ آلہِ و أصحابہِ و أزواجہِ أجمعین ،

شروع اللہ کے نام سے ، اور اللہ کی رحمتیں اور سلامتی ہو اللہ کے رسول محمد پر ، اور اُن کی آل پر، اور اُن کے صحابہ پر، اور اُن کی بیگمات پر،

 السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ،

آج کل برقی ذرائع ابلاغ (الیکٹرونک میڈیا) پر ایک عجیب و غریب پیغام  پھیلایا جا رہا ہے ،

اُس  پیغام میں  لوگوں کو اپنے پیغامات میں قران کریم کی آیات مُبارکہ اِرسال کرنے سے منع کیا گیاہے ، اور  اسباب میں کہا گیا ہے کہ :::

:::  اِس سے قران کی بے حرمتی ہوتی ہے ، کیونکہ لوگ اپنی ڈیوائسز  (برقی و برقیاتی آلات )لے کر ٹوائلٹس وغیرہ میں بھی جاتے ہیں ،

::: اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ، یہ ڈیوائسز  (برقی و برقیاتی آلات )نا پاک ہیں ، اِس لیے اِن میں قران کریم کی آیات رکھنا جائز نہیں ،

:::  اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ، اِنسان ہر وقت وضو اور طہارت کی حالت میں نہیں ہوتا ، لہذا جب ایسی حالت میں  وہ اپنی ڈیوائس میں قران کریم کی آیات کو کھولتا اور چُھوتا ہے تو گناہ گار ہوتا ہے ،

:::  اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ، پیغامات حذف کر دیے جاتے ہیں تو قران کریم کی آیات بھی حذف ہو جاتی ہیں ،  اور قران کریم کو مٹانا ، آیات کو مٹانا ، حذف کرنا ، قیامت کی نشانیوں میں سے ہے ،  اور یہ بتایا  گیا ہے کہ مُسلمان اپنے ہاتھوں سے یہ کام کریں گے ، لہذا  جو کوئی ایسا کام کرے گا وہ گناہ گار ہو گا، ،،،،،،،،،،،،اور مزید کچھ ایسی ہی بے بنیاد باتیں ہیں ،،،،،،،،،

اِس پیغام کا مختصر جواب تو یہ ہے کہ اِن  سب باتوں کو  ہمارے دِین اِسلام میں  کوئی تائید نہیں ملتی ، بلکہ اِن کے خِلاف دلائل میسر ہیں ،

اور کچھ مُختصر تفصیل کے  طور پر کہتا ہوں کہ :

لگتا تو یہ ہے کہ یہ پیغام کِسی اِسلام دُشمن کا بنایا ہوا ہے، یا ، کِسی ایسے شخص کا جِسے دِین کا کچھ عِلم نہیں ، بس اپنی ہی کِسی سوچ کی بنا پر یہ سب کچھ نشر کر دِیا ،

بہرحال پیغام بنانے والا کوئی بھی رہا ہو، اِس پیغام کا اصل مقصد بڑا واضح ہے کہ مسلمانوں کو  قران کریم کی تبلیغ اور قران کریم کے ذریعے ایک دُوسرے کو نصیحت کرنے سے روکا جائے ،  کیونکہ  جن کے دِلوں میں اللہ تعالیٰ ، اور اُس کے عذاب کا ڈر ہوتا ہے ، قران کریم کے ذریعے  نصیحت اُن کے لیے راہ راست پر آنے کا  ایک یقینی سبب ہوتی ہے، لہذا وہ لوگ جو مُسلمانوں میں خیر  پھیلتے ہوئے نہیں دیکھ سکتے، یہ وہ لوگ ہیں جو یہ نہیں چاہتے کہ بھولے بھٹکے ، گناہوں اور کوتاہیوں کے شِکار مُسلمان اپنے اللہ کے  نا فرمان مُسلمان ، اپنے رب اللہ عزّ و جلّ  کی طرف واپس ہو جائیں اور اُس کے فرمان برادر بن جائیں ، ایسے  ہی  لوگ ہیں جو ہدایت کے اِس یقینی ذریعے ، یعنی قُران کریم کے اِستعمال سے روکتے ہیں ،  

اللہ عزّ و جلّ نے تو اپنے  آخری نبی اور رسول کریم محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کو یہ حکم فرما ہے ، اور اُن کے لیے اور اُن کی اُمت کے لیے یہ منھج و مسلک مقرر فرمایا ہے کہ (((فَذَكِّرْ بِالْقُرْآنِ مَنْ يَخَافُ وَعِيدِ::: لہذا ،  (اے محمد ) آپ قران کے ذریعے  ہر اُس شخص کو نصیحت کیجیے جو (میری دی گئی ) تنبیہ (اور میرے عذاب)سے ڈرے )))سُورت ق (50)/آیت 45،

اللہ سُبحانہ ُ و تعالیٰ کے اِس فرمان کی روشنی میں اگر یہ کہا جائے کہ قران کریم کے ذریعے نصیحت کرنا تو واجب ہے ، تو غلط نہ ہوگا، پس جو لوگ قران کریم کی آیات کو نشر کرنے سے منع کرتے ہیں ، وہ یقیناً گمراہی کا شِکار ہیں ،

رہا معاملہ   مختلف ڈیوائسز (برقی و برقیاتی آلات ) میں قران کریم کی آیات کا موجود ہونا اور اُن ڈیوائسز کے ساتھ ٹوائلٹس وغیرہ میں جانے کا تو ، اِن ڈیوائسز میں قران کریم اپنے الفاظ کی اصل ماہیئت کے ساتھ تو نہیں ہوتا ،

 بلکہ برقی اشارات(Electric Signals) کی صُورت میں ہوتا ہے جو کچھ مخلتف احکام کے مُطابق دیگر معالجے (Process Programmed ) کے بعد ہی اِلفاظ کی صُورت میں دِکھائی دیتے ہیں ،

 لہذا یہ سمجھنا کہ کِسی ڈیوائس میں قران کریم طاہر کرنے والے  پروگرام ، ایپلی کیشن کا  وجود اُس ڈیوائس میں  قران کریم کا موجود ہونا ہے ،  محض ایک شک ہے ، جِس کی کوئی شرعی حیثیت نہیں ،

بلکہ ایسا سمجھنا  مَردُود ہے ، کیونکہ قران کے نزول سے لے کر آج تک الحمد للہ لاکھوں حافظء قران دُنیا میں رہتے چلے آ رہے ہیں، اُن کے سینوں میں بھی تو قران ہوتا ہے ،اِس بے تکی منطق  کے مُطابق تو اُنہیں بھی ٹوائلٹس میں نہیں جانا چاہیے ، یہ ایسی بات ہے جو آج تک اُمت کے کسی عالِم کی طرف سے نہیں  سنی  گئی ،

اِس کے بعد ، بات تھی ، ڈیوائسز کے  ناپاک ہونے کی ،

تو ، سب سے  پہلے تو یہ بات کہنے والے کو  خُود اِن ڈیوائسز کو چُھونا ہی نہیں چاہیے ، چہ جائیکہ وہ اِنہیں اِستعمال کرتا ہے ،

اور دُوسری بات  یہ کہ اُسے اپنی یہ بات اِسلامی تعلیمات کی روشنی میں ثابت کرنا چاہیے کہ یہ ڈیوائسز ناپاک ہوتی ہیں ،

اور اِن شاء اللہ وہ کبھی ایسا نہیں کر سکتا ، کیونکہ اِس کی کوئی ادنی ٰ سی ، ضعیف سی بھی دلیل وہ پا نہیں سکتا ،

اِس کے بعد ، بات تھی ،   بغیر وضوء اور طہارت کے ، اِن ڈیوائسز میں ظاھر ہونے والی قران کریم کی آیا ت مُبارکہ کو پڑھنے اور چُھونے کی ، تو ،

پہلا مسئلہ  تو یہ کہ اِن ڈیوائسز میں ظاہر ہونے والی آیات شریفہ ، یا پورے کے پورے قران کریم پر مشتمل کوئی سافٹ ویر ، وغیرہ ، مصحف شریف کا حکم ، اور درجہ نہیں رکھتے ،

اور دُوسرا یہ کہ قران کریم کو بغیر وضوء پڑھنا  بھی جائز ہے، اور چُھونا بھی جائز ہے، سوائے حالت جنابت کے،اور حالتء حیض کے ، 

حیض اور جنابت کی حالت میں قران کریم کو چھونا جائز نہیں ، مگر حیض کی حالت میں قران کریم کو چھوئے بغیر اِس کی تلاوت کی جا سکتی ہے ،  اور جنابت کی حالت میں اس کی تلاوت بھی جائز نہیں ،

جنابت کی حالت میں قران  کریم کی تلاوت نہ کرنے کے بارے میں جمہور عُلماء کا اتفاق بیان کیا جاتا ہے،

کچھ عُلماء نے اِس سے اِختلاف بھی کیا ہے، دونوں  طرف کے عُلماء کرام رحمہم اللہ کے اقوال پڑھنے، سمجھنے کے بعد زیادہ مُناسب یہی معلوم ہوتا  ہے کہ حالتء جنابت میں قران کریم کی تلاوت نہ کی جائے،

رہا مسئلہ ،  بلا وضوء قران کریم کو چھونے کا تو اِس  کے بارے میں دُرُست یہی ہے کہ اگر کوئی  مُسلمان صِرف بغیر وضوء ہو، جنابت یا حیض و نفاس کی حالت میں نہ ہو تو وہ قران کو چُھو سکتا ہے،

اور اِن ڈیوائسز میں تو قران شریف موجود ہی نہیں ہوتا ، جو کچھ ہم دیکھتے ہیں ، وہ برقی اشارات کے معالجے کے ذریعے بنا ہوا عکس ہوتا ہے ، جِس پر مصحف شریف ، یعنی قران کریم  ہونے کا حکم لاگو نہیں ہوتا،

اب آتے ہیں ، قران کریم کی آیات پر مشتمل پیغامات کے حذف کر دیے جانے ، یعنی اُنہیں مٹا دیے جانے کے بارے میں کی گئی بات کی طرف ،

تو یہ بات بھی غلط انداز میں کی گئی ہے ، صحیح احادیث میں یہ تو مذکور ہے کہ قران اُٹھا لیا جائے گا ، مُصاحف میں سے بھی اور مُسلمانوں کے سینوں میں سے بھی ، اور یہ ایک دم سے ہو گا، 

میں نے یہ کہیں نہیں پڑھا ، سُنا کہ مُسلمان ، یا دُوسرے لوگ  اپنے  ہاتھوں سے قران مٹائیں گے ،  واللہ اعلم ،

ہمارے اِس دَور کے تقریباً سب ہی  عُلماء کرام نے تو قرانی آیات کو برقی پیغامات میں ارسال کرنے سے منع نہیں  کیا ،

یُوں بھی قران کریم صرف انہی پیغامات تک محدود نہیں ہے ، جو اِن پیغامات کے حذف کر دینے سے قران کریم اٹھا لیے جانے کا اندیشہ ہو، یا اِن پیغامات کا حذف کیا جانا قران کریم کے اُٹھا لیے جانے کا سبب محسوس ہو،

آخر میں ایک دفعہ پھر کہتا ہوں کہ یہ پیغام قران کریم کے ذریعے نصیحت کو روکنے کی مذموم کوشش  ہے، مُسلمانوں میں قران کریم کی آیات شریفہ کی وجہ سے آنے والی تبدیلی جو کہ اللہ کی طرف پلٹنا ہے ، اور اللہ اور اُس کے آخری رسول اور نبی کریم محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم  کی تابع فرمانی اختیار کرنا ہے اُس تبدیلی کو روکنے کی  بے ہودہ کوشش ہے ،

لہذ  اِس پیغام اور اِس جیسے دُوسرے پیغامات کی بنا پر اللہ تعالیٰ کے کلام پاک کو نشر کرنے سے روکیے  گا نہیں ،

اللہ تعالیٰ ہم سب کو ، اور ہمارے ہر مُسلمان بھائی اور بہن کو   ہر شر اور فتنے سے محفوظ رکھے ، حق جاننے ، ماننے ، اپنانے اور اُسی پر عمل پیرا رہنے والوں میں سے بنائے،  والسلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ۔

طلبگارء دُعاء ، آپ کا بھائی ، عادل سُہیل ظفر ۔

تاریخ کتابت : 10/05/1438ہجری، بمُطابق ، 07/02/2017عیسوئی ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کتابی برقی نُسخہ (PDF) :   http://bit.ly/2kscpyg

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

یوٹیوب ، ویڈیو فائل (MP4): https://youtu.be/cc0zv-XSCrM

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Sunday, February 5, 2017

::: پانسے والا کھیل (لوڈو Ludoوغیرہ )نرد شِیر کھیلنا حرام ہے :::

 
 

::::: پانسے والا کھیل (لوڈو Ludoوغیرہ )کھیلنا حرام ہے :::::::

بِسمِ اللَّہ ،و الصَّلاۃُ و السَّلامُ عَلَی مُحمدٍ الذّی لَم یَکُن مَعہ ُ نبیاً و لا رَسولاً  ولا مَعصُوماً مِن اللَّہِ  و لَن یَکُون  بَعدہُ ، و علی َ أزواجہِ الطَّاھِرات و ذُریتہِ و أصحابہِ و مَن تَبِعھُم بِإِحسانٍ إِلیٰ یِوم الدِین ،

شروع اللہ کے نام سے ، اور اللہ کی رحمتیں اور سلامتی ہواُس محمد پر ، کہ جن کے ساتھ  اللہ کی طرف سے نہ تو کوئی نبی تھا ، نہ رسول تھا، نہ کوئی معصوم تھا ، اور اُن کے بعد بھی ہر گِز کوئی ایسا ہونے والا نہیں ، اوراللہ کی رحمتیں اور سلامتی ہو محمد رسول اللہ  کی  پاکیزہ بیگمات پر، اور اُن کی اولاد پر ،اور اُن کے صحابہ پر ، اور جو کوئی بھی ٹھیک طرح سے ان سب کی پیروی کرے اُس پر ۔

السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ،

ممکن ہے اِس مضمون کا عنوان پڑھ کر کئی قارئین کرام حیران ہوئے ہوں ، اور ممکن ہے کچھ کو غُصہ بھی آیا ہو، اور اگر ایسا نہیں ہوا ، تو اگلے جملے پڑھنے کے بعد ایسا ہونے کا امکان کافی قوی ہے ،

جی ہاں ،  ہر وہ کھیل جِس میں پانسہ**1**(Dice) اِستعمال ہوتا ہے ، وہ کھیل کھیلنا حرام ہے ، جیسا کہ ، لوڈو ، جو کہ ہمارے ہاں بہت عام ہے، اور چھوٹے تو چھوٹے اچھی خاصے عُمر رسیدہ لوگ بھی اُس میں  مشغول ہوتے ہیں ، اور دو دو گناہ کماتے ہیں ،

ایک تو وقت ضائع کرنے کا ، اور دُوسرا یہ حرام کھیل کھیلنے کا،

حیرت زدہ مت ہوں، اور نہ ہی غُصہ کیجیے ، کہ یہ قِسم کی بات کی جا رہی ہے ،

اپنے حبیب محمدر سول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے  درج ذیل  فرامین شریفہ پڑھیے :::

::: (1) ::: (((((مَنْ لَعِبَ بِالنَّرْدَشِيرِ فَكَأَنَّمَا صَبَغَ يَدَهُ فِى لَحْمِ خِنْزِيرٍ وَدَمِهِ :::جِس نے نرد شِیر کھیلا تو گویا اُس نے اپنے ہاتھ کو سُور کے گوشت اور خُون میں رنگ لیا )))))صحیح مُسلم،حدیث/2260 کتاب الشعر/ پہلا باب، سُنن ابو داؤد/حدیث /4941کتاب الادب/باب64 فِى النَّهْىِ عَنِ اللَّعِبِ بِالنَّرْدِ،

::: (2) ::: (((مَنْ لَعِبَ بِالنَّرْدِ فَقَدْ عَصَى اللَّهَ وَرَسُولَهُ:::جِس نے نرد کھیلا تو اُس نے اللہ اور اُس کے رسول کی نافرمانی کی )))سُنن ابو داؤد/حدیث /4940کتاب الادب/باب64 فِى النَّهْىِ عَنِ اللَّعِبِ بِالنَّرْدِ، إِمام البانی رحمہُ اللہ نے "حَسن " قرار دِیا ،

::: (3) ::: (((لَا يُقَلِّبُ كَعَبَاتِهَا أَحَدٌ يَنْتَظِرُ مَا تَأْتِي بِهِ , إِلَّا عَصَى اللهَ وَرَسُولَهُ::: جو کوئی (نرد شِیر  کھیلتے ہوئے)اُس کی گوٹیوں کو پلٹاتا ہے اور انتظار کرتا ہے کہ اُس میں کیا آتا ہے تو اللہ اور اُس کے رسول کی نافرمانی کرتا ہے ))) سُنن الکبریٰ للبیہقی/حدیث /20952 جُمَّاعُ أَبْوَابِ مَنْ تَجُوزُ شَهَادَتُهُ / كَرَاهِيَةُ اللَّعِبِ بِالنَّرْدِ أَكْثَرَ مِنْ كَرَاهِيَةِ اللَّعِبِ بِالشَّيْءِ مِنَ الْمَلَاهِي لِثُبُوتِ الْخَبَرِ فِيهِ وَكَثْرَتِهِ ، مُسند احمد /حدیث /19649حدیث ابو موسیٰ الاسعری رضی اللہ عنہ ُ میں سے حدیث رقم 164، مُسند ابی یعلی /حدیث7289 / حدیث ابو موسیٰ الاسعری رضی اللہ عنہ ُ میں سے حدیث رقم 68، إِمام البانی رحمہُ اللہ نے "إرواء الغلیل /حدیث 2670" کی تحقیق میں اِس روایت کی تحقیق بھی پیش کی ہے اور اِس کے  بارے میں کہا ہےکہ """ وبالجملة , فالإسناد لا بأس به فى الشواهد والمتابعات:::  اور خلاصہ کلام یہ ہوا کہ ، اِس روایت( کو اِس ) کی (اِن )اسناد  کو (صحیح روایات کی ) متابعت میں ، اور  گواہ روایت کے طور پر استعمال کرنے میں کوئی حرج نہیں   ، واللہ اعلم """،

رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے یہ فرامین مُبارکہ پڑھنے کے بعد ، اب ، ہم یہ سمجھتے ہیں کہ نرد شِیر کیا ہے ؟؟؟

جِسے کھیلنے کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے سُور کے گوشت اور خُون میں ہاتھ رنگنے کے برابر قرار دِیا ہے ، اور یہ بات مُسلمانوں کےہر  مذھب میں معروف ہے کہ سُور سارے کا سارا حرام اور پلید ہے ، اور کِسی پلید چیز کو کِسی شرعی عُذر کے بغیر چُھونا حرام ہے ،

جی ، تو ، نرد شِیر فارسی  کے دو اِلفاظ  پر مشتمل ہے ، اور یہ  اُس کھیل کو کہا جاتا ہے ، جِس میں کوئی پانسہ یعنی کوئی ڈبہ نما چھ پہلو والا  مُربع ، مکعب ، چوکور پتھر ، یا  گوٹی، وغیرہ  اِستعمال کی جاتی ہے جِس کے  ہر پہلو پر  کچھ  نشان ہوں ، جو ارقام کا کام دیں ، یا ارقام ہی لکھی ہوں ،

 اور پانسہ پھینکنے کے بعد  جو نمبر یا نشان اوپر آئے اُس کے مُطابق پانسہ پھینکنے والا اپنی چال چلے ،

نردشِیر کی  یہ تعریف میں اپنی طرف سے پیش نہیں کر رہا ہوں ، بلکہ لُغت کی معروف کتابوں میں مذکور تعریفات  پر مبنی ہے ،

:::::: ’’’ المعجم الوسیط  /  باب النون  میں  اس کی تعریف یہ مذکور ہے کہ  :::

 """ النرد: لعبة ذات صندوق وحجارة وفصين، تعتمد على الحظ، وتنقل فيها الحجارة على حسب ما يأتي به الفص، وتعرف عند العامة (فی مصر ) بالطاولة،(و)  یقال لعب بالنرد،   فارسي معرب::: نرد ، وہ کھیل ہے جس میں ایک صندوق ہوتا ہے ، اور ایک پتھر ، اور دو گوٹیاں ، (یہ کھیل کھیلتے ہوئے کھلاڑی کی) قسمت پر اعتماد  کیا جاتا ہے ، اور جو گوٹی پر آتا ہے اُس کے مُطابق پتھر کو چلایا جاتا ہے ، اور (مصر  میں) اس کھیل کو میز کہا جاتا ہے ،  (اور) نرد کے ساتھ کھیلے جانے والا کھیل بھی کہا جاتا ہے ،  (یہ نام نرد) فارسی (الاصل  )ہے ،اورعربی میں داخل ہوا ہے """،

::::::: محمد بن محمد الزبیدی (متوفی 1205 ہجری) نے "نرد شِیر " کے نام کی تفصیل بیان کرتے ہوئے لکھا  "تاج العروس  من جواھر القاموس" میں لکھا :::

""" فقيل : ( وضَعَه أَرْدَشِيرُ بنُ بَابَكَ ) من مُلوكِ الفُرْسِ ، ( ولهاذا يُقَالُ له النَّرْدَ شير ) إِضافةً له إِلى واضِعِه ::: لہذا ،  کہا گیا  کہ اِسے (یعنی نرد کو ) فارسیوں کے بادشاہوں میں سے ایک بادشاہ  (ارد شِیر بن بالک  )بنایا ، (اور اِسی لیے) اِس کے بنانے والے کی طرف منسوب کر کے( اِسے نرد شِیر کہا جاتا ہے )  """،

لُغوی تعریف  سے زیادہ اہم   صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین کا فہم اور فتاویٰ جات ، اور اُمت کے اماموں رحمہم اللہ کے فتاوی جات  بھی اُسی کے مُطابق  ہیں ،

وہ بھی سنتے چلیے:

::: (1) :::  إمام محمد بن أحمد القرطبی رحمہُ اللہ نے اپنی تفسیر ’’’ الجامع لاحکام القران ‘‘‘ جو کہ تفسیر القرطبی کے نام سے معروف و مشہور ہے، اُس میں ، اللہ تعالیٰ کے  فرمان پاک ((( يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنْصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ O إِنَّمَا يُرِيدُ الشَّيْطَانُ أَنْ يُوقِعَ بَيْنَكُمُ الْعَدَاوَةَ وَالْبَغْضَاءَ فِي الْخَمْرِ وَالْمَيْسِرِ وَيَصُدَّكُمْ عَنْ ذِكْرِ اللَّهِ وَعَنِ الصَّلَاةِ فَهَلْ أَنْتُمْ مُنْتَهُونَ :::       اے اِیمان لے آنے والو، بے شک شراب ، اور جُوا ، اور نصب کی ہوئی چیزیں ( بُت  وغیرہ) اور  شگون لینے والی چیزیں   پلید ہیں  شیطان کے کاموں میں سے ہیں ، لہذا اِن سے باز رہو    O     شیطان تو تم لوگوں کے درمیان اِ س شراب اور جُوے کے ذریعے دُشمنی اور نفرت ڈالنا چاہتا ہے، اور تم لوگوں کو اللہ  کے ذِکر اور نماز سے روکنا چاہتا ہے ، تو کیا تم لوگ (اِن کاموں کو ) ختم نہیں کرو گے ))))  سُورت المائدۃ   / آیت 90،91،

کی تفسیر میں لکھا کہ ’’’’’   هذه الآية تُدل على تحريمِ اللعب بالنردِ والشطرنج ، قماراً أو غير قمار :::  یہ آیت  نرد (پانسے  کے ساتھ کھیلنے) اور شطرنج  کے حرام ہونے کی دلیل ہے، خواہ وہ جُوئے کی صُورت میں کھیلے جائیں یا بغیر جُوئے کے (یعنی خواہ اُس کھیل پر کوئی پیسہ یا مال داؤ پر  لگا کر کھیلا جائے یا بغیر مال کے ، بہر صُورت یہ کھیل حرام ہیں )  ‘‘‘‘‘ ،

::: (2) ::: سب سے پہلی حدیث جو صحیح مُسلم کی روایت ہے ، اُس کی شرح میں اِمام النووی رحمہُ اللہ نے لکھا :

’’’ وَهَذَا الْحَدِيث حُجَّة لِلشَّافِعِيِّ وَالْجُمْهُور فِي تَحْرِيم اللَّعِب بِالنَّرْدِ ،،،،،،،  وَمَعْنَى (صَبَغَ يَدَهُ فِى لَحْمِ خِنْزِيرٍ وَدَمِهِ) أي: فِي حَال أَكْلهِ مِنْهُمَا ، وَهُوَ تَشْبِيه لِتَحْرِيمِهِ بِتَحْرِيمِ أَكْلهمَا  ::: یہ حدیث (امام) الشافعی (رحمہُ اللہ ) اور جمہور عُلماء کے ہاں نرد (شِیر ) کے ساتھ کھیلنے کے حرام ہونے کی حجت (یعنی دلیل) ہے، ،،،،،،، اور (حدیث  میں سے صَبَغَ يَدَهُ فِى لَحْمِ خِنْزِيرٍ وَدَمِهِ  )   کا مفہوم یہ ہے کہ (نرد شِیر سے کھیلنے کا  معاملہ ایسا ہی جیسا کہ) سُور کا گوشت کھانے والا گوشت کھاتے ہوئے(جِس طرح )  اپنے ہاتھوں کو اُس گوشت اور خون سے رنگ لیتا ہے، (جو کہ پلید اور حرام چیزیں ہیں ) اور یہ سُور کا گوشت کھانے کے حرام ہونے کے برابر ہونے کی تشبیہ ہے  ‘‘‘ ،

::: (3)  :::  عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ ُ     کا کہنا ہے کہ ’’’  إيَّاكُم وهاتين الكعبتين المَوسومتين اللتين تُزجرانِ زجرا ؛ فإنهما مِن الميسر    :::  تم لوگ اِن دو چوکور گوٹیوں سے خبردار رہنا  (یعنی باز رہنا دُور رہنا ) جن پر نشانیاں لگی ہوتی ہیں ،  جنہیں خوب ھلایا جاتا ہے  ،  یہ گوٹیاں جُوا ہیں   ‘‘‘   صحیح الادب المفرد /    روایت 1270 ،

::: (4)  :::   نافع  رحمہُ اللہ سے روایت ہے کہ عبداللہ ابن عُمر رضی اللہ  عنہما اگر اپنے گھر والوں میں سے کسی کو نرد کے ساتھ کھیلتے ہوئے پاتے تو اُس کی پٹائی کر دیتے ، صحیح الادب المفرد /  روایت 1273،

::: (5)  :::  اِسی کتاب الادب المفرد میں ہی اِیمان والوں کی والدہ محترمہ عائشہ رضی اللہ عنہا  کے بارے میں یہ مروی  ہے کہ  ’’’  اُم المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کو اُن  کی ملکیت والے کِسی    گھر میں رہنے والے ایک خاندان کے بارے میں پتہ چلا کہ اُن لوگوں کے پاس نرد (شِیر ) ہے تو عائشہ رضی اللہ عنہا نے اُن لوگو ں کو یہ پیغام اِرسال  کیا کہ [[[  لئَن لم تُخرجوها لأَخرجنكم مِن داري ::: اگر تم لوگوں نے اِسے  (یعنی نرد شِیر ، پانسے  اور اُس  کے ذریعے کھیلے جانے والی کھیل  ) کو گھر سے نہیں نکالا تو  ہم تمہیں میرے گھر سے ضرور نکال ہی دیں گے ]]] ‘‘‘ ، صحیح الادب المفرد / روایت 1274 ،

::: (6)  :::  اِسی کتاب  کلثوم بن جبیر رحمہُ اللہ کا کہنا ہے کہ ’’’ عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما  نے ہم سے خطاب کیا ، اور کہا يا أهل مكة! بلغني عن رجال مِن قريش يلعبون بلعبة يقال لها: النردشير ، وإني أحلف بالله : لا أوتى برجل لعب بها إلا عاقبته في شعره وبشره ، وأعطيت سلبه لمن أتاني به   :::   اے مکہ والو، مجھے خبر ملی ہے کہ مکہ کے لوگوں میں سے کچھ لوگ  وہ کھیل کھیلتے ہیں جس کا نام نرد شِیر ہے ، اور میں اللہ کی قسم اُٹھا کر کہتا ہوں  میرے سامنے جو کوئی بھی اُس کھیل کو کھیلنے والا لایا جائے گا تو  میں ضرور اُس کے بالوں اور کھال میں اُسے سزا دوں گا ،  اور جو کوئی مجھے ایسا شخص لا کر دے گا تو اُسے اُس کھلاڑی  (کی  مالی و معاشرتی ) کا  مال و متاع دے دوں گا  ‘‘‘ ‘‘‘ ، صحیح الادب المفرد / روایت 1275 ،

::: (7)  :::   عبداللہ بن العاص رضی اللہ عنہ ُ کے بارے میں روایت ہے کہ اُن کا کہنا ہے کہ ’’’  اللاعب بالفصّين قماراً كآكل لحم الخنزير، واللاعب بهما غير قمار كالغامس يده في دم خنزير::: دو گوٹیوں کے ساتھ مال داؤ پر لگا کر کھیلنے والا   خنزیر ( سُور ) کا گوشت کھانے والے کے جیسے ہیں ،    اور بغیر داؤ کے کھیلنے والا  خنزیر کے خون میں اپنے ہاتھ ڈبونے والے کے جیسا ہے    ‘‘‘ ، صحیح الادب المفرد / روایت 1277 ،

آخر میں یہ  وضاحت بھی بہت ضروری سمجھتا ہوں کہ ، پانسے کو قرعہ اندازی  پر قیاس کر کے جائز کرنا سوائے غلط فہمی کے اور کچھ نہیں ،

اس مسئلے میں  جتنی بھی بحث کی جائے اُس  کا دُرُست نتیجہ یہی نکلتا ہے کہ

دو چیزوں یا معاملات میں کِسی ایک کو اختیار کرنے کے لیے  قرعہ اندازی کرنے کی اجاز ت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی طرف سے عطاء کی گئی ہے،

اور پانسے کو اِستعمال کرنے کو حرام قرار دیا گیا ہے،

لہذا  پانسے والے کھیل کو قرعہ اندازی پر قیاس کر کے حلال و جائز نہیں سمجھا جا سکتا ۔

اُمید  ہے کہ اِن شاء اللہ یہ سب معلومات حاصل کرنے کے بعد کسی کے دِل و دِماغ میں ایسے کِسی کھیل کو  جائز  سمجھنے کی گنجائش نہیں رہے گی ، جِس میں پانسہ بازی کی جاتی ہے ،   جیسا کہ ہمارے معاشرے میں عام  طور پر لوڈو (Ludo)نامی کھیل میں ہوتا ہے ،

اللہ تعالٰی ہم سب کو حق سمجھنے ، ماننے ، اپنانے اور اُسی پر عمل پیرا رہنے کی توفیق عطاء فرمائے ، اور جن غلطیوں کی خبر  ملے اُن کا دفاع کرنے کی بجائے ،  کسِی ضِد اور تعصب کے بغیر  اُن کی اِصلاح کرنے کی ہمت عطاء فرمائے ،

و السلام علیکم ، طلب گارء دُعاء ، آپ کا بھائی ، عادِل سُہیل ظفر ۔

تایخ کتابت : 03/08/1430ہجری، بمُطابق، 25/07/2009عیسوئی،

تاریخ تجدید و تحدیث  : 07/05/1438ہجری، بمُطابق، 04/02/2017۔

============================

**1**   پانسہ، کوئی مُربع ، مکعب،   چوکور ،چھ پہلو والی، یا اُس سے زیادہ پہلوؤں والی ،   گوٹی، ڈبہ نُما چیز ،  مربع ، مستطیل ، یا گول شکل میں ،   جس کے پر پہلو پر کوئی عدد ہو خواہ نقاط کی صورت میں یا خطوط کی صورت میں یا ارقام (نمبرز) کی صورت میں،  یہ فارسی الاصل ہے ، فارسی میں اسے نرد کہا جاتا ہے اور عربی میں بھی وہیں سے آیا اور نرد ہی کہلایا،

 الحمد للہ ، میں نے مذکورہ بالا تعریفات کی روشنی میں (Dice) کا یہ ترجمہ گوگل ٹرانسلیٹر میں بھی شامل کرنے کے لیے اِرسال کر دِیا ہے ۔   

**1**      ازلام :  بغیر  نوک اور انّی والے تِیر  جِن پر ہاں یا نہ وغیرہ لکھ کر عرب کسی برتن میں ڈال  دیتے تھے، اور جب کسی کام کے بارے میں تردد ہوتا ،  یا سفر پر جانا ہوتا ، تو  برتن میں  ہاتھ  ڈال کر کوئی ایک تِیر نکالتے اور جو کچھ تِیر پر لکھا ہوتا تو اُس کے مطابق کام کرتے یا نہ کرتے ۔

 ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مضمون کا  برقی نسخہ درج ذیل ربط پر مُیسر ہے :
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔