Sunday, July 7, 2013

::::: ماہِ رمضان اورہم ::: (6) ::: قیام اللیل فضیلت اور أہم مسائل :::::Virtues and Issues of Qiyam-Al-Layial

::::: ماہِ رمضان اورہم ::: (6) ::::
::::: قیام اللیل فضیلت اور أہم مسائل :::::
::: قیام اللیل  ::: فضیلت اور أہم مسائل :::
قیام اللیل یعنی رات کی نماز رمضان میں ہو یا کِسی اور ماہ میں ، شبِ قدر کے حصول کے لیے ہو یا اِس کے عِلاوہ بِلا شک و شبہ اللہ سُبحانہ ُ و تعالیٰ کی عِبادت ہے اور عِبادت کی قبولیت کی اُمید کےلیے عِبادت کو دو شرطیں کے مُطابق کیا جانا ضروری ہے ،
 عِبادت اِن دو شرطوں کے بغیر ہو تو مقبول ہونے کا یقین تو دُور ٹھہرا ، اِس کی اُمید بھی نہیں رکھی جا سکتی ،
اِس لیے ہے کہ یہ دو شرطیں اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے مقر رکی گئی ہیں ،  اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے (((((وَ مَن کَانَ یَرجُو لَقاءَ رَبِّہِ فَلیَعمَل عَمَلاًصَالحاً وَ لایُشرِک بِعِبَادَۃِ رَبِہِ اَحَداً::: اور جو اللہ سے مِلنے کا یقین رکھتا ہے اُسے چاہیے کہ وہ صالح ( نیک )عمل کرے اور اپنے رب کی عِبادت میں کِسی کو شریک نہ کرے ))))) سُورت الکھف(18) / آیت 110،
اِمام ابنِ کثیر رحمہُ اللہ نے اِس آیت کی تفسیر میں کہا کہ عملِ صالح وہ ہے جو کہ شریعت کے موافق ہو ،
پس اللہ تبارک و تعالیٰ کے ہاں کِسی کام کی قبولیت کی اُمید کے لیے بھی اِن دو شرطوں کا ہونا ضُروری ہے ، ایک یہ کہ وہ کام صِرف اور صِرف اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کےلیے کیا جائے اور دوسری یہ کہ وہ کام نبی علیہ الصلاۃُو السلام کے طریقے کے مُطابق ہو ، اگر یہ دونوں شرطیں یا اِن دونوں میں سے کوئی ایک شرط کِسی کام میں مُوجُود نہیں تو اُس کام کے قبول ہونے کی اُمید بھی نہیں کی جا سکتی اُس کام کے دُھتکارے جانے کا یقین رکھنا چاہیے کیونکہ اُس کے دھتکارے جانے ، اُسکے مردُود ہونے کی خبر ہمیں اُس ہستی نے کی ہے جِس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے گواہی دی ہے کہ(((((وَ مَا یَنطِق ُ عَنِ الھَوا O اِن ھُوَ اِلَّا وَحِيٌ یُوحیٰ ::: اوروہ ( ہمارا رَسُول)اپنی مرضی سے نہیں بولتا O (اِسکا بولنا )سِوائے وحی کے اور کُچھ نہیں))))) سُورت النجم(53) / آیت 3،4،
***** رَسُول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فیصلہ ہے کہ((((( مَن عَمِلَ عَملاً لیسَ علِیہِ اَمرُنَا فَھُوَ رَدٌ ::: ہر وہ کام مردود ہے ، جو کام ہمارے معاملے کے مُطابق نہیں ہے)))))صحیح مُسلم / حدیث 1718(یعنی جِس کام کو کرنے کا ہماری طرف سے کوئی ثبوت نہیں ہے وہ کام  اللہ کے ہاںمقبول نہیں بلکہ کرنے والے کی طرف پلٹا یا ہوا ہے)،
محترم قارئین ، یاد رکھیے ، اور خُوب اچھی طرح سے یاد رکھیے کہ رَسُولُ اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے طریقے سے ہٹ کر کیے گئے کاموں کو رَسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم  نے بدعت قرار دیا اور ہر بِدعت کو گُمراہی ، اور ہر گُمراہی کا انجام آگ (جہنم ) قرار دیا ہے ،
 کِسی بدعتِ حسنہ یعنی اَچھی بدعت یا بدعتِ سیئیہ یعنی بری بدعت کی تقسیم نہیں فرمائی ،
لہذا اگر میں یہ کہوں کہ یہ تقسیم بذاتءِ خود ایک بدعت ہے ، تو ایسا کہنا غلط نہ ہوگا،(اِس موضوع پر بات چیت ایک الگ مجلس میں کی جا چکی ہے)
آئیے دیکھتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی رات کی عِبادت کیا تھی ؟ کتنی تھی ؟ کیسی تھی ؟ رمضان اور رمضان کے عِلاوہ اِس عبادت میں کیا فرق تھا ؟
:::: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی رات کی نماز کیا اور کتنی تھی  ؟ :::
 *****اِیمان والوں کی والدہ محترمہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا کہنا ہے کہ(((((مَا کان رسولُ اللَّہ صلی اللَّہ عَلیہ وَسلم یَزیدُ فی رمضان و لا فی غیرہِ علیٰ اَحدی عَشرۃ رَکعۃ، یُصلّی اَربعاً فلا تسئَل عَن حُسنِہنَّ و طُولِہنَّ ، ثُمَّ یُصلّی اَربعاً فلا تسئَل عَن حُسنِہن َ و طُولِہنَّ ، ثُمَّ یُصلّی ثلاثا ً ::: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان یا رمضان کے عِلاوہ کبھی بھی گیارہ رکعت سے زیادہ نہیں پڑہتے تھے ، چار رکعت پڑہتے اُن چار رکعتوں کی لمبائی اور حُسن کے بارے میں مت پوچھو ، پھر چار رکعت پڑہتے ، اُن چار رکعتوں کی لمبائی اور حُسن کے بارے میں مت پوچھو ، پھر تین رکعت پڑہتے)))))صحیح البُخاری / حدیث 1147، صحیح مُسلم /حدیث 738 ،
::: اِس  مذکورہ بالا حدیث شریف میں بڑی وضاحت اور صراحت سے اِس بات کا پتہ چلتا ہے کہ :::
***** رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی رات کی عِبادت نماز تھی کوئی اور چلّہ کشی یا تسبیحاں پھیرنا نہیں،
*****
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رات کی نماز ، جِسے قیام اللیل ، تہجد ، یا رمضان میں تراویح کہا جاتا ہے اِس نماز کی رکعتوں کی تعداد گیارہ سے زیادہ کبھی نہیں ہوئی ، اِس سے زیادہ رکعت ادا کرنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے کی مُخالفت ہے ، بیس رکعت تراویح کے بارے میں بہت کُچھ کہا اور سُنا جاتا ہے مگر تحقیقی مواد کے ساتھ اور حق کے اَظہار سے اکثر یت کی بات خالی ہوتی ہے ، تسلی بخش تفصیلات کے خواہش مند بھائی اور بہنیں ،  اِمام الاَلبانی  رحمہُ اللہ کی کتاب """ صلاۃُ التراویح """ کا مطالعہ کر سکتے ہیں ، اُردُو میں ، میں نے اِس کتاب کا اِختصار"""قیامِ رمضان """ نامی کتابچہ میں تیار کیا ہے ،
:::::رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رات کی عِبادت کیسی تھی ؟ :::::
***** اُم المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کا کہنا ہے کہ((((( کان النبيُّ صلی اللہ علیہ وسلم اِذا دخل العِشرُ شدَّ مِئزرَہُ ، واَحیاءَ لیلہُ ، واَیقظَ اہلَہُ ::: جب آخری عشرہ (یعنی رمضان کے آخری دس دِن اور راتیں )داخل ہوتا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کمر بستہ ہو جاتے اور اپنی رات کو زندہ کرتے ، اور اپنے گھر والوں کو جگاتے)))))صحیح البُخاری/حدیث 2024/کتاب الصلاۃ التراویح / باب 6 ،
یعنی اللہ تعالیٰ کی عِبادت کے لیے اپنے آپ کو خوب تیار کرتے ، اور اپنے معمول سے کہیں زیادہ اللہ تعالیٰ کی عِبادت کر کے اپنی رات گُذارتے اور اپنے ساتھ ساتھ اپنے گھر والوں کو عِبادت کے لیے جگاتے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کی عِبادت یعنی قیام اللیل کِس طرح کیا کرتے تھے مُلاحظہ فرمائیے ،
اِیمان والوں کی والدہ محترمہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں :::
کان رسولُ اللَّہ صلی اللہ علیہ وسلم اِذا صلَّی قام حَتیٰ تَفطر رجلیہ ،
 قالت عائشہ : یا رسول اللَّہ ! اَ تَصنَعُ ھذا و قد غُفِرَ لکَ ما تقدَّمَ مِن ذِنبِکَ و ما تاَخَّرَ ؟
 فقال صَلی اللَّہ عَلِیہ وَسلم ((((( یا عائشۃُ ! اَفلا اَکون ُ عَبداً شکُوراً )))))
رسول اللہ صلی اللہ علیہ  وعلی آلہ وسلم جب نماز پڑہتے تو اتنی دیر کھڑے رہتے کہ اُن کے پاؤں مُبارک سُوج جاتے ، عائشہ(رضی اللہ عنہا )نے (رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ  وسلم سے) عرض کیا ،
اے اللہ کے رسول ، آپ یہ (یعنی اتنی زیادہ مُشقت )کرتے ہیں جبکہ آپ کے اگلے پچھلے تمام گُناہ معاف کیے جا چُکے ہیں (یعنی آپ کے ذمے تو کوئی بھی گُناہ نہیں پھر بھی آپ اتنی مُشقت کیوں کرتے ہیں )،
 تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا (((((اے عائشہ کیا میں شُکر گُزار بندہ نہ بنوں))))صحیح البُخاری /حدیث 4837/کتاب التفسیر /سورت الفتح48/باب 2 ، صحیح مُسلم /حدیث 2820 /کتاب الصفۃ القیامۃ و الجنۃ و النار ،
***** یہ کیفیت تھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ علی آلہ وسلم کی رات کی نماز کی ، جبکہ اُنکے ذمے کوئی گُناہ نہیں اور ہم اہل سنت کا یہ عقیدہ ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ کے بعد سب سے بُلند رُتبے والی ہستی رسول اللہ صلی اللہ علیہ  و علی آلہ وسلم ہیں کوئی اور نہیں ، دیکھیے ، یہ رُتبہ اور یہ محنت ، اِ س لیے کہ اللہ کا شُکر ادا کیا جائے ،
 یہ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ  و علی آلہ وسلم کا عمل تھا ، جو اللہ تعالیٰ کی سب سے زیادہ اور سب سے مُکمل ترین عِبادت کرنے والے تھے ، نہ کوئی پہلے ویسا ہوا اور نہ کوئی بعد میں ہو سکتا ہے ، تو پھر یہ کون ہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ  و علی آلہ وسلم کے طریقے کو چھوڑ کر من گھڑت یا جھوٹی اور کمزور حدیثوں اور قصے کہانیوں کو بُنیاد بنا کر عِبادات کرتے ہیں ؟؟؟
***** کیا اِنکی نظر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عِبادت ناقص تھی ؟؟؟ یا غیر معیاری تھی جو یہ اپنے الگ طریقوں سے عِبادات کرتے ہیں ؟؟؟
***** ذرا سُنت کی مُخالفت والے طریقے پر تراویح پڑھنے اور پڑھانے والوں کو کِسی دِن کہیے کہ حضرت آج ذرا سُنت کے مُطابق قیام اللیل فرمایے ،  اور رات کے تین حصے نماز پڑہایے ،
اُن کے  عِشق ومحبت کی گہرائی و سچائی کا اندازہ ہو جائے گا،
***** کبھی عِشق و محبت کے کسی  دعویٰ دار سے کہیے کہ اِس رمضان میں اتنی دیر قیام کیجیے کہ آپ کے پاؤں پر بھی سُوجن ہو جائے ، تا کہ آپ کے عِشق کا پتہ چلے ،
***** کبھی اِن سے پوچھیے تو کہ عِبادات کی تعداد زیادہ ہونا سُنت ہے یا اُن کا معیار بُلند ہونا ؟؟؟
***** کبھی اِن سے پوچھیے کہ جلد بازی کے ہزار سجدے اچھے ،یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی ہدایت سُنت کے مُطابق کیا گیا ایک سجدہ؟؟؟
***** کبھی اِن سے پوچھیے کہ اِلفاط کی غلط ادائیگی کے ساتھ زیادہ قُرآن پڑہنا بہتر ہے یا ترتیل کے ساتھ تھوڑا پڑہنا  ؟؟؟
***** کبھی اِن سے معلوم کیجیے کہ دِل و دِماغ کی غیر حاضری کے ساتھ ہزار رکعت پڑہنا فائدہ مند ہے یا دِل و یا دِماغ کی حاضری کے ساتھ دو رکعت ؟؟؟
 شاید ایسے ہی سجدہ ریزوں اور نمازیوں کے بارے میں اقبال نے کہا تھا :::
میں جو ہوا سر بسجود کبھی تو زمیں سے آنے لگی یہ صدا
تیرا دِل تو ہے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں
اور بھی کتنے ہی ایسے سوال ہیں جِن کا جواب اِن کے اعمال اور عِبادات کو غلط قرار دیتا ہے ، مگر ایسے سوال کوئی اِن سے نہیں پوچھتا، لہذا جیسا اِن کا نفس چاہتا ہے ویسی عِبادات یہ کرتے اور کرواتے چلے آ رہے ہیں ، اللہ تعالیٰ ہمیں حق اور سچ کو جاننے اور اُس پر عمل کرنے کی توفیق عطاء فرمائے ،
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی اطاعت کے بارے میں اللہ سُبحانہُ و تعالیٰ کے ارشادات میں سے چند ارشادات مُلاحظہ فرمائیے ((((( وَ مَا اتاکُم الرَّسُولُ فَخُذُوہُ وَ مَا نَھا کُم عَنہ ُ فَانتَھُوا ::: جو کُچھ (حُکم) ر سول تُمہیں دیتا ہے وہ لے لو اور جِس( کام ) سے منع کرتا ہے اُس سے باز آ جاؤ ))))) سورت الحشر(59) /آیت 7،
((((( یٰۤاَ اَیُّھَا الذَّینَ اَمَنُوا اَطِیعُوا اللّٰہَ وَ اَطِیعُوا الرَّسُولَ وَ لَا تُبطِلُوا اَعمَالَکُم ::: اے لوگوں جو اِیمان لائے ہو ، اللہ کی تابع فرمانی کرو اور رسول کی تابع فرمانی کرو اور اپنے اعمال تباہ نہ کرو )))))یعنی اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کرنے کا نتیجہ اعمال کی تباہی ہے ۔ سورت محمد(47) / آیت33،
((((( فَلیَحذَر الَّذِینَ یُخالِفُونَ عَن اَمرِہِ اَن تُصِیبَھُم فَتنَۃٌ اَو یُصِیبَھُم عَذَابٌ اَلِیم :::وہ جو اُس ( یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ) کے حُکم کی مُخالفت کرتے ہیں ، اِس بات سے ڈریں کہ کہیں اُنہیں کوئی مُصیبت یا شدید عذاب نہ آن پکڑے)))))سورت النُور(24) / آیت 63 ،
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فیصلہ ہے ((((( کل اُمتی یَدخُلُ الجَنَّۃ اِلَّا مَن اَبیٰ :::میرا ہر اُمتی جنت میں داخل ہو گا سوائے انکار کرنے والوں کے )))))،
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا """ کون انکار کرے گا اے اللہ کے رسول ؟"""،
 تو اُنہوں نے  اِرشاد فرمایا(((((مَن اَطاعنی دخل الجنۃ و مَن عصانی فقد اَبیٰ :::جو میری تابع فرمانی کرے گا جنت میں داخل ہو گا اور جو نا فرمانی گا یقیناً وہ انکار کرنے والا ہے)))))صحیح البُخاری / حدیث 80،
اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اِن فرامین کو سامنے رکھتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ حُکم بھی سُنیے(((((صَلُّوا کما راَیتموُنی اُصلَّی:::جِس طرح مُجھے نماز پڑہتے دیکھا ہے اُسی طرح نماز پڑہو))))) صحیح البُخاری /حدیث7247 ،
گو کہ مندرجہ بالا مواد موضوع کی اہمیت کے مُطابق کافی نہیں ہے لیکن وقت اور جگہ کی کمی کی وجہ سے اِسی پر اِکتفاء کر رہا ہوں اور اُمید کرتا ہوں کہ آپ میں سے کِسی کےلیے یہ فیصلہ کرنا اِن شاءَ اللہ مُشکل نہ ہوگا کہ قیام اللیل کیسے کرنا چاہیے ؟؟؟
 اگر کِسی کے ذہن میں کوئی سوال کوئی شک کوئی شبہ ہو تو بلا تکلف اُسکو سامنے لائے ، اِمام بُخاری  رحمہ ُ اللہ نے اپنی صحیح میں اِمام مجاہدرحمہُ اللہ  کا  یہ قول نقل کیا ہے کہ"""لاَ يَتَعَلَّمُ الْعِلْمَ مُسْتَحْىٍ وَلاَ مُسْتَكْبِرٌ  ::: دو قِسم کے آدمی سیکھ نہیں سکتے ہیں شرم کرنے والا اور تکبر کرنے والا """،کتاب العِلم /باب 50 الحیاء فی العِلم،
لہذا جو کوئی بھی واقعتا حق بات کو جاننا اور سیکھنا چاہتا ہے اُسے چاہیے کہ اِن دو صفات سے اپنے آپ کو صاف رکھے ،
 اللہ تعالیٰ ہماری غلطیاں اور کوتاہیاں معاف فرمائے ، ہمارے دِلوں سے مُسلمانوں کے لیے غُصہ اور تعصب دور کرے ، اور ہمیں اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سُنّت کے مُطابق زندگی بسر کرنے کی توفیق عطاء فرمائے اور اِسی پر ہمارا خاتمہ فرمائے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
الحمد ُ للہ ، """ ماہِ رمضان اورہم  ::: (6) ::: قیام اللیل فضیلت اور أہم مسائل """مکمل ہوا ،
اِس مضمون کا برقی نسخہ درج ذیل ربط پر میسر ہے :
 اِن شاء اللہ اگلا مضمون بعنوان """ ماہِ رمضان اورہم ::: (7) ::::فضیلت، نشانیاں """والسلام علیکم۔

::::: ماہِ رمضان اورہم ::: (5) :::: افطاری ، فضیلت ، احکام اور أہم مسائل :::::

::::: ماہِ رمضان اورہم ::: (5) ::::
::::: افطاری ، فضیلت ، احکام اور أہم  مسائل  :::::
::: افطاری ::: فضیلت اور أہم مسائل :::
::::
افطاری کب کی جانی  چاہیے ؟ :::
*** اللہ سُبحانہ ُ و تعالیٰ کا اِرشاد گرامی ہے (((((وَ کُلُوا وَ اشرَبُوا حَتَی یَتَبَیَّنَ لَکُم خَیطُ الابیضُ مِن الخَیطِ الاسودِ مِنَ الفَجرِ ؛ ثُمّ اَتّمُوا الصَّیامَ اِلیٰ اللَیلِ::: اور کھاؤ اور پیو یہاں تک کہ فجر میں سے تمہارے لیے سفید دھاگہ کالے دھاگے میں سے واضح ہو جائے ؛ پھر رات تک روزہ مُکمل کرو)))))سورت البقرۃ (2)/آیت 187،
*** دوسرے بلا فصل خلیفہ أمیر المؤمنین عُمر رضی اللہ عنہ ُ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے اِرشاد فرمایا (((((اِذَا اَقبَلَ اللَیلُ مِن ھٰھُنَا وَ اَدبَرَ النَّھَارُ مِن ھٰھُنَا وَ غَرَبَت الشَّمسُ فَاَفطَرَ الصَّائِمُ  ::: جب رات وہاں ( یعنی سورج نکلنے والی جگہ )سے آجائے اور دِن وہاں (یعنی سورج غرُوب ہونے والی جگہ )سے چلا جائے اور سورج غرُوب ہو جائے تو روزہ دار روزہ کھول لے)))))صحیح البُخاری / حدیث 1954 ، صحیح مُسلم / حدیث 1100،
*** سہل بن سعد رضی اللہ عنہ ُ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم  نے اِرشاد  فرمایا (((((لَا یُزالُوا النَّاسُ بِخَیرٍ مَا عَجَّلُوا الفِطرَ ::: جب تک لوگ افطار میں جلدی کرتے رہیں گے خیر سے رہیں گے)))))صحیح البُخاری / حدیث 1916 ، صحیح مُسلم / حدیث1098،
****** جو لوگ افطار میں جلدی کرنے کی بجائے دیر کرتے ہیں اور تمام مُسلمانوں کی مخالفت کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم  کے اِس ارشاد کی روشنی میں اُن لوگوں کے بارے میں کم از کم یہ بات تو یقینی ہو جاتی ہے کہ وہ ہر گِز خیر پر نہیں ہیں ، اور یہاں بھی معاملہ فقہ کے اِختلاف کا نہیں بلکہ عقیدہ کے فساد کا ہے ، لہذا اِس سے بڑھ کر کہنے کی بھی اجازت ہے کیونکہ ،
***** ابو ہُریرہ رضی اللہ عنہ ُ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم  نے اِرشاد فرمایا ((((( لَا یَزالُ الدِّینُ ظَاہِراً مَا عَجَّلُ النَّاسُ الفِطرَ لِانَّ الیَھُودُ وَ النَّصَارَی یُؤَخِّرُونَ ::: جب تک لوگ افطاری میں جلدی کرتے رہیں گے دِین واضح اور غالب رہے گا ،کیونکہ یہودی اور عیسائی افطار میں دیر کرتے ہیں)))))سُنن ابو داؤد /حدیث 2350/کتاب الصیام/باب 20، حدیث صحیح ہے ،
***** اس مذکورہ بالا حدیث میں بیان فرمودہ  وضاحت کے مُطابق پتہ چل جاتا ہے کہ افطار دیر سے کرنا کِن کی لوگوں عادت تھی ،  اور اب مُسلمانوں میں وہ کون لوگ ہیں جو اپنے روحانی بڑوں کی عادات کو پورا کر رہے ہیں مگر اُن کا نام لینے کی جُرات نہیں ہے اِس لیے اپنی اس تابع فرمانی کو  چُھپانے کے لیے اور انجان لوگوں کو گمراہ کرنے کے لیئے کہیں باطنی شریعت کا نام لیتے ہیں ،  کہیں کسی کی شعیت کا دعوی کرتے ہیں ، کہیں کِسی خاص فقہ کا  پردہ کرتے ہیں ، کہیں کِسی خاص طریق کا لبادہ اوڑھا جاتا ہے، مگر حقیقت یہی ہے کہ اِفطار میں تاخیر کرنا یہودیوں اور عیسائیوں کی عادت تھی اورہے ، جو اِس عادت کو اپنائے ہوئے ہیں وہ دانستہ طور پر یا نادانستہ طور پر اُن یہودیوں اور عیسائیوں کی پیروکاری کر رہے ہیں ، خواہ اپنے آپ کو کُچھ بھی سمجھتے یا کہتے رہیں ، خود بھی دھوکے کا شکار ہو رہے ہیں اور لوگوں کے سامنے اپنے لیے طرح طرح کے نام اور القاب بنا بنا کر دھوکہ دے رہے ہیں ،
یہ معاملہ کِسی ایک شخص کا نہیں بلکہ اَن گنت اشخاص کا ہے اور یہ عِبادت مُسلمانوں میں سے کوئی چند ایک نہیں بلکہ بہت بڑی تعداد کر رہی ہے ، اور یہ ایسی حقیقت ہے جِس کا انکار ممکن نہیں ، گو کہ عام طور پر انسان کا ازلی دشمن ایسی باتوں سے توجہ ہٹانے کے لیے فرقہ واریت کا نام دے اِس قِسم کی منافقت کو چھپانے کی کوشش کرواتا ہے ، لیکن ہمیں ہر ایسی چیز ،ایسے عقائد اور عِبادات جو قُران اور ثابت شدہ سُنّت کے مُطابق نہیں ، اُن کا واضح طور پر اظہار کرنا ہوتا ہے تا کہ ہمارا جو مُسلمان بھائی یا بہن ایسی چیزوں کا شکار ہے تو اللہ تعالیٰ ہماری بات کو اُس کی ہدایت کا ذریعہ بنا دے اور وہ مُسلمان اپنی جو صلاحیات ایسی بلا دلیل یا بغیر صحیح دلیل کی باتوں پر عمل کرنے اور اُنکو نشر کرنے میں خرچ کر رہا ہے وہ اللہ کے سچے دِین کی خدمت میں خرچ ہوں ، ایسی چیزوں (کاموں ، باتوں ، عقائد )کے اظہار کے لیے بسا اوقات ضروری ہو جاتا ہے کہ نام بنام نشاندہی کی جائے ، اور اِس کا مقصد لوگوں کو حق و ناحق کی پہچان کروانا ہوتا ہے ،اور یہ کہ ، اگر اللہ چاہے تو ،سننے پڑھنے والوں کی غلط فہمیاں دُور ہوں اور وہ جان سکیں کہ جِسے وہ دِین سمجھ کر اپنائے ہوئے ہیں ، اور جِسے وہ دِین سمجھ کر اُس کی خدمت کر رہے اور اُس کی نشر و اشاعت و تبلیغ کرتے ہیں وہ دِین ہے بھی کہ نہیں؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
::::: اِفطار کروانے کا اجر :::::
*** زید بن خالد الجہنی رضی اللہ عنہ ُ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم  نے اِرشاد فرمایا ((((( مَن فَطَّرَ صائِماً کانَ لہُ مَثلُ اَجرِہِ غَیرَ اَنَّہُ لا یَنقُصُ مِن اَجرِ الصائِم شَیئًا  :::  جو روزہ دار کو افطار کرواتا ہے اُسکے لیے روزہ دار کے اجر کے برابر اجر ہے اور روزہ دار کے اجر میں بھی کوئی کمی نہیں ہوتی)))))سُنن الترمذی /حدیث 807 ، سُنن ابن ماجہ /حد یث 1746 ،
***** اگر کِسی کے پاس اِفطار کیا جائے یا کھانا کھایاجائے تو ، صحیح ثابت شدہ  سُنّت شریفہ کے مُطابق ، اُس افطار کروانے کے لیے دُعا کے الفاظ یہ ہیں:::
انس رضی اللہ عنہ ُ    کا کہنا ہے کہ رسول اللہ جب صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم  کِسی کے پاس اِفطار فرماتےتو اِرشاد فرمایا کرتے ((((( اَفطَرَ عِندَکُم الصَّائِمُونََ وَ اَکَلَ طَعَامَکُم الاَبرارُ و صَلَّت عَلِیکُم الملائِکَۃُ::: روزے دار تمہارے پاس افطار کریں اور تمہارا کھانا نیک لوگ کھائیں ، اور فرشتے تمہارے ہاں اُترتے رہیں )))))سُنن ابو داود / حدیث 3848 ، سُنن ابن ماجہ / حدیث 1747 ،
اِمام ا لالبانی  رحمۃُ اللہ علیہ نے """ آداب الزفاف / ص171 """کے حاشیے میں لکھا کہ """ یہ دُعا روزہ دار کے افطار کے لیے خاص نہیں ہے اور نہ ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم  کا یہ فرمانا کہ ( افطر عندکم الصائمون )خبر ہے بلکہ یہ کھانا کِھلانے والے کے لیے دُعا ہے کہ اُس کے پاس روزہ دار افطار  کیا کریں تا کہ وہ اُن کا اجر حاصل کر سکے"""،
یہ اندازء کلام تقریباً عربی کے ہر دُعائیہ فقرے میں اسی طرح ہوتا ہے ، کہ لغوی اعتبار سے ظاہری معنیٰ تو ماضی یعنی گذرے ہوئے زمانے کی خبر ہوتا ہے ، لیکن اُس کا مفہوم مستقبل یعنی آنے والے زمانے میں خواہش ہوتا ہے ، اور اپنی نوعیت کے اعتبار سے اُسے ، دُعا ، بد دُعا یا محض خواہش کہا جاتا ہے ،
 مثلاً ، عام طور پر مر چکے مسلمانوں کے لیے"""رحمۃ اللہ علیہ"""::: لغوی معنیٰ :::اُس پر اللہ کی رحمت ہوئی ::: اور """ رحمہُ اللہ """ ::: لغوی معنیٰ ::: اللہ نے اُس پر رحم کِیا ::: اور """ مرحوم، یعنی جِس پر رحم کیا گیا """ یا """ مغفور ، یعنی جِس کی بخشش کی گئی""" وغیرہ کہا جاتا ہے ، یہ تمام فقرے بظاہر ایسے کاموں کی خبرہیں جو واقع ہو چکے لیکن حقیقتاً ایسا نہیں ، کیونکہ مر چکے لوگوں میں سے کِس کی مغفرت ہوئی اور کِس پر رحم ہوا یہ اللہ ہی جانتا ہے ، اور اللہ کی طرف سے دیے گئے علم کے مطابق سوائے اللہ کے رسولوں کے کوئی بھی اور شخص اس  امر کی خبر نہیں دے سکتا،
اگر اللہ کی طرف سے کِسی کے بارے میں ایسی  کوئی خبر آئی ہو تو اُس کو صِرف اُسی شخص  کی ذات کے لیے خبر ماننا ہو گا جِس کے بارے میں وہ خبر میسر ہو ، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم  کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے خبر دِی کہ اللہ تعالیٰ اور اُس کے فرشتے رسول  اللہ پر صلاۃ کرتے ہیں ، (صلاۃ کی تشریح ایک دوسرے مضمون ''' رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم  پر صلاۃ و سلام ''' میں کی جا چکی ہے ) اور صبرکرنے والے اِیمان والوں پر اللہ تعالیٰ کی """صلاۃ """ ہونے کی اللہ نے خبر دی ، اور صحابہ  رضی اللہ عنہم اجمعین کے بارے میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے خبر دی ہے کہ اللہ اُن سے اور وہ اللہ سے راضی ہو گئے ہیں ،
لہذا اگر اب کسی مسلمان کو """ صلی اللہ علیہ """ یا """ رضی اللہ عنہ ُ """کہا جائے گا تو ایسا کہنا اُس کے لیے دُعا ہو گی ، نہ کہ ایسا ہو جانے کی خبر ، چونکہ خبر اور دُعا کے استعمال  میں غلط فہمی اور غلطی کا امکان تھا بھی اور کچھ اس امکان کو قصداً استعمال بھی کیا جانے لگا تو مُسلمانوں نے عام طور پر اس بات کو اپنا لیا کہ """ علیہ السلام """ کے الفاظ بطور خبر  انبیاء اور رُسل کے لیے خاص کر دیے گئے ، اور """ رضی اللہ عنہ ُ """ کے الفاظ بطور خبر صحابی کے لیے خاص کر دیے گئے ، پس اب جب کوئی ان الفاظ کو کسی غیر نبی یا غیر صحابی کے لیے استعمال کرتا ہے تو ہم حسنء ظن کے مطابق یہ سمجھیں گے کہ وہ دعا کر رہا ہے ،
 عرب ہمیشہ سے فعل ماضی کے ایسے فقرے دُعا کے طور پر اِستعمال کرتے چلے آ رہے ہیں ، اور اِسلام میں بھی اِس اِستعمال کو برقرار رکھا گیا ہے ، کیونکہ مشرکین عرب اپنے تمام تر شرک کے باوجود اپنی لغت کو جانتے تھے اور ایسی غلط فہمیوں کا شکار نہیں تھے جِن کا شکار غیر عرب ہو تے ہیں ، لیکن ،،،، ہم ماضی کے فعل میں صادر ہونے والے فقروں کو خبر سمجھ کر اپنے مرنے والوں کے بارے میں بڑے عجیب عقیدے بنا لیتے ہیں ، اور اُنہیں کچھ کا کچھ بنا کر کہیں سے کہیں جا پہنچتے ہیں ، اللہ تعالیٰ ہم سب پر رحم کرے اور ہماری اِصلاح فرمائے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
:::::  افطار کس چیز سے کرنا چاہیے ؟؟؟ :::::
*** أنس رضی اللہ عنہ ُ    کا فرمانا ہے کہ((((( کان رسولُ اللَّہُّ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم  یُفطِرُ عَلَی رُطَباتٍ قبل ان یُصّلِّیَ فَاِن لَم تَکُن رُطَباتٍ فَعَلیَ تَمَرَاتٍ فَاِن لَم تَکُن حَسا حَسَوَاتٍ مِن مَاءٍ ::: نبی صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم  نماز سے پہلے تازہ پکی رسیلی کھجوروں سے افطار کیا کرتے تھے ، اگر یہ کھجوریں مُیسر نہ ہوتِیں تو کِسی بھی کھجور سے ، اور اگر وہ بھی مُیسر نہ ہوتیں تو پانی کے چند گھونٹ پی لیتے)))))سُنن ابو داؤد /حدیث 2353 /کتاب الصوم /باب21 ، سُنن الترمذی/حدیث696 ، سلسلہ الصحیحہ/حدیث 2840،
***** اِس کے عِلاوہ کِسی اور چیز سے افطار کرنا اپنی ذاتی پسند یا عادت تو ہو سکتی ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم  کی سُنّت نہیں جیسا کہ کُچھ لوگ نمک سے افطار کرنے کے بارے میں اِس غلط فہمی کا شِکار ہیں کہ یہ سُنّت ہے ،تفصیل پھر کبھی اِن شاء اللہ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
::::: افطاری کی دُعاء ؛؛؛ کب اور کیا ؟؟؟ :::::
****** ابن عمر رضی اللہ عنھُما سے روایت ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم  افطار کیا کرتے تھے تو فرمایا کرتےتھے (((((ذھب الظماءُ وَ اَبتَلت العَرُوق وَ ثَبَتَ الاجر اِن شَاءَ اللَّہ:::پیاس چلی گئی اور رگیں تر ہو گئیں اور اللہ نے چاہا تو اجر پکا ہوگیا)))))سُنن ابو داؤد /حدیث 2354 ، اِمام الالبانی رحمۃ اللہ  علیہ نے اِس حدیث کو حسن قرار دِیا ، اِروا الغلیل / حدیث 920،
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم  کے اِن الفاط سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ یہ افطار کے بعد ادا کیے جانے والے ہیں نہ کہ پہلے ، کیونکہ افطار سے پہلے نہ تو پیاس جاتی ہے ، نہ ہی رگیں تر ہوتی ہیں اور نہ ہی روزہ مُکمل ہوتا ہے کہ جِس کا اجر پکا ہو جائے ، پس یہ دُعا نہیں ، بلکہ اللہ تعالیٰ کی عطاء کردہ نعمتوں کا اقرار کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے شکر کا انتہائی خوبصورت انداز ہے ، اور اپنے اِیمان اور نیک عمل کے مطابق اللہ کی رحمت سے ثواب مل جانے کے یقین کا اظہار ہے ، کہیں کوئی دُعا نہیں ،لیکن ہم نے اِن اِلفاظ کو دُعا بنا کر بے وقت اور بے سمجھ اِستعمال کرنے کا ڈھنگ اپنا رکھا ہے ، کہ ہم لوگ اِسے روزہ کھولنے سے پہلے پڑھتے ہیں اور جو کچھ اِس میں ہے اُس کو عملی طور پر جھوٹ بناتے ہیں ،
اِس کے عِلاوہ ایک دو احادیث ایسی ہیں جِن سے یہ دلیل لی جاتی ہے کہ روزہ دار کی حالتِ روزہ میں یا افطاری کے وقت دُعا قبول ہوتی ہے وہ احادیث صحیح نہیں ہیں ، سحری اور افطاری کی دُعاؤں کے موضوع پر حاصلِ کلام یہ ہے کہ اِن اوقات کے لیے کوئی خاص دُعا نہیں ہے ،چلتے چلتے ذرا اُن دو جملوں کا جائزہ لے لیا جائے ، جو افطاری کی دُعا کے طور پر مشہور ہیں ،
***** (1)***** اللَّھُم لک صُمنَا ،و علیٰ رزقِکَ اَفطرنَا ، اللَّھُمَ تَقبل مِنا اِنَّکَ اَنت َ السَّمِیعُ العلِیم ،
اِمام ا لالبانی رحمہُ اللہ نے اِس حدیث کو ضعیف یعنی کمزور قرار دِیا ہے ،""" اِرواءَ الغلیل / حدیث 919"""،
*****
(2)***** """ بِسّمِ اللَّہ اللَّھُم لک صُمت ُ و علیٰ رزقِکَ اَفطرت """ حدیث ضعیف ، یعنی کمزور نا قابل حُجت ہے ، ''' الکلم الطیب للالبانی /حدیث 166 ،
یہ  مذکورہ بالا دو جملے عام طور پر افطاری کی دُعا کے طور پر مشہور ہیں ، اور دونوں ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم  سے ثابت نہیں ہیں ،اب یہ فیصلہ کرنا تو قطعاً مشکل نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم  کے عِلاوہ کِسی اور کی سُنّت پر چلنے والے کہاں جائیں اور اُن کے اعمال کہاں جائیں گے؟؟؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
الحمد ُ للہ ، """ ماہ رمضان اور ہم ::: 5 ::: افطاری ، فضیلت ، احکام اور أہم مسائل """ مکمل ہوا ،اِس مضمون کا برقی نسخہ درج ذیل ربط پر میسر ہے :
 اِن شاء اللہ اگلا مضمون بعنوان """ ماہِ رمضان اورہم ::: (6) ::::قیام اللیل ،فضیلت اور أہم مسائل  """والسلام علیکم۔