Friday, January 27, 2017

::::::: جِنّات ، قُران کریم اور صحیح احادیث مُبارکہ کی روشنی میں :::::::



::::::: جِنّات ، قُران کریم اور صحیح احادیث مُبارکہ کی روشنی میں  :::::::
أَعُوذُ بِاللَّهِ السَّمِيعِ الْعَلِيمِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ مِنْ هَمْزِهِ وَنَفْخِهِ وَنَفْثِهِ
بِسمِ اللَّہ ،و السَّلامُ عَلیَ مَن اتبع َالھُدیٰ و سَلکَ عَلیَ مَسلکِ النَّبیِّ الھُدیٰ مُحمدٍ صَلی اللہُ علیہِ وعَلیَ آلہِ وسلَّمَ ، و قَد خَابَ مَن یُشقاقِ الرَّسُولَ بَعدَ أَن تَبینَ لہُ الھُدیٰ ، و اتبِعَ ھَواء نفسہُ فوقعَ فی ضَلالاٍ بعیدا۔
شروع اللہ کے نام سے ، اورسلامتی ہو اُس شخص  پر جس نے ہدایت کی پیروی کی ، اور ہدایت لانے والے نبی محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی راہ پر چلا ، اور یقینا وہ شخص تباہ ہوا جس نے رسول کو الگ کیا ، بعد اس کے کہ اُس کے لیے ہدایت واضح کر دی گئ اور(لیکن اُس شخص نے) اپنے نفس  کی خواہشات کی پیروی کی پس بہت دور کی گمراہی میں جا پڑا ۔
السلامُ علیکُم و رحمۃُ اللہ و برکاتہُ ،
::::: پیش لفظ  ::::::
اللہ سُبحانہ ُ و تعالیٰ کی مخلوقات کے بارے میں اللہ ہی کے علاوہ کوئی بھی یقینی عِلم نہیں رکھتا کہ وہ کتنی ہیں ؟ اور کیسی ہیں ؟ اور کِس مخلوق کو اللہ نے کیا کیا صِفات یا قوات عطاء فرمائی  ہیں ؟
اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی مخلوقات کے بارے میں جِس مخلوق کو جتنا چاہا اُتنا عِلم عطاء فرمایا ، اور سب سے زیادہ یقینی اور سچا عِلم وہ ہے جو خود اللہ تبارک و تعالیٰ کے کلام پاک یعنی قران کریم میں نازل فرمایا گیا اور جو اللہ تعالیٰ نے اپنے آخری رسول محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کو عطاء فرمایا اور اُن صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی ز ُبان مُبارک سے ادا کروایا ،
اِنسانی تاریخ میں ہمیشہ سے ایک ایسی مخلوق کا ذِکر ملتا ہے جس کے بارے میں دُرُسُت اور نا دُرُسُت دونوں کی قِسم کی بہت سی باتیں سُننے پڑھنے میں آتی ہیں ، اِنسانی مُعاشرت میں سے کوئی مُعاشرہ ایسا نہیں جِس میں قدیم ترین اوقات سے لے کر آج تک اُ س مخلوق کے بارے میں باتیں نہ ہو رہی ہوں ، قدیم ترین عُلوم اور جدید ترین عُلوم دونوں میں ہی اُس مخلوق کے بارے میں باتیں اور تحقیقات جاری و ساری چلتی آ رہی ہیں ،
اُس مخلوق کو ہم """جِن """ کے نام سے جانتے ہیں ،
کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ """جِن """ اور """ فرشتے """ کوئی مخلوق ہیں ہی نہیں ، جبکہ یہ خیال  صریح کُفر ہے کیونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ کے بہت سے فرامین مُبارکہ کا،اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی بہت سی صحیح ثابت شُدہ احادیث شریفہ کا اِنکار ہے،
یہاں میں اُن  لوگوں کے اس باطل خیال کی تردید کرنے کے لیے بات نہیں کروں گا ، صرف اتنا کہوں گا کہ جِنّات کے بارے میں مختلف احوال و صِفات کی خبروں پر مشتمل آیات کریمہ اور صحیح ثابت شدہ احادیث شریفہ  کی باطل تاویلات کرنے والے ، یا اُن کا اِنکار کرنے والے ، اُن کا تمسخر اُڑانے والے ، اُن احادیث شریفہ پر اپنی عقل کی خامی کی وجہ سے اعتراض کرنے والے غور کریں اور اُن احادیث شریفہ کو خِلاف قران کہنے والے بھی غور کریں کہ نہ تو اُن احادیث شریفہ میں کوئی خامی ہے اور نہ ہی وہ خِلاف قران ہیں بلکہ خودد  اُن لوگوں کا معاملہ یہ ہے کہ ﴿ مَا لَهُمْ بِهِ مِنْ عِلْمٍ وَلَا لِآبَائِهِمْ كَبُرَتْ كَلِمَةً تَخْرُجُ مِنْ أَفْوَاهِهِمْ إِنْ يَقُولُونَ إِلَّا كَذِبًا ::: اُن لوگوں کو اِس بات کا کوئی عِلم نہیں اور نہ ہی اُن کے باپ دادؤں کو تھا ، یہ جو بات اِن کے منہوں سے نکلتی ہے بہت بڑی ہے کہ وہ صِرف جھوٹ ہی بولتے ہیں سُورت الکھف(18)/آیت5، اور،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،

 اِس وقت بات کرنے کا مقصد صِرف یہ ہے کہ ہم اللہ کی اِس مخلوق یعنی """جِنّات """کے وجود اور اُن کو دِی گئی صِفات اور قوات کی سچی خبریں جان سکیں ،
جیسا کہ پہلے کہا ہے کہ سب سے زیادہ سچی خبر وہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی پاک صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی ز ُبان مُبارک کے ذریعے اپنے  کلام پاک یعنی قران کریم  کی صُورت میں بیان فرمائی اور جو اللہ نے اپنے رسول کریم محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی ز ُبان مُبارک سے قُران کریم کے عِلاوہ  ادا کروائی ، یعنی حدیث شریف ،  
لہذا ہم اللہ تعالٰی   کی اِس مخلوق کے بارے میں ملنے والی اُن خبروں کا مطالعہ کریں گے جو اللہ سُبحانہ ُ و تعالیٰ کے کلام قران کریم میں اور اللہ کی وحی کے مُطابق اللہ کے رسول کریم صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی صحیح ثابت شدہ  احادیث شریفہ میں موجود ہیں اور بلا شک و شبہ حق ہیں ، کِسی کی ذاتی عقل ، سوچ ، منطق یا فسلفے کی دُھندلاہٹ اِن خبروں کی حقانیت  کی آب وتاب کو متاثر نہ کر سکی ہے اور نہ ہی اِن شاء اللہ کبھی کر سکے گی،
یاد رکھیے اور خُوب اچھی طرح سے یاد رکھیے کہ جِنّوں کا وجود اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے ثابت شدہ ایک اٹل حقیقت ہے ، اوراللہ جلّ و عزّ نے اپنی  اِس مخلوق کی چند ایک صِفات اپنی کتاب قران حکیم میں ذِکر فرمائی ہیں اورپھر اپنی سُنّت شریفہ کے مُطابق اپنی اِس مخلوق کے بارے میں بہت سی تفصیلات اپنے رسول کریم محمد صلی اللہ علیہ علی آلہ وسلم کی سُنّت مُبارکہ کے ذریعے بیان فرمائی ہیں ،  لہذا  اِس مخلوق کے بارے میں کِسی خبر پر مشتمل کوئی بھی صحیح ثابت شدہ حدیث شریف کِسی بھی طور قران کریم کے خلاف نہیں ، اور نہ ہی کوئی بھی اور صحیح ثابت شدہ حدیث شریف قران حکیم کے خلاف ہے ، خِلاف صِرف اور صِرف اور سمجھنے والوں کی اپنی ذاتی سمجھ میں ہے ، پس جِس کِسی کو کِسی صحیح ثابت شدہ حدیث کے سمجھنے میں کوئی اشکال پیش آتا ہو تو اُسے چاہیے کہ وہ ایک مؤدب مُسلمان کی طرح قرانی اخلاق کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک طالب عِلم کی حیثیت سے اپنا اشکال پیش کرے نہ کہ حدیث شریف ، روایان ء حدیث ، ائمہ کرام ، عُلما اور اُمت کے دیگر افراد کا مذاق اڑا کر اپنی آخرت کا خسارہ جمع کرے ،
اللہ ہی ہے جو  کِسی کو جِنّاتی اور اِنسانی شیاطین کے شر سے محفوظ رکھ سکتا ہے ، 
اِن شاء اللہ میں اِس مضمون میں جِنّات کی تخلیق ، تخلیق کے مواد ، تخلیق کی حِکمت ، اُن کا شریعتء الہی کی پابندی کے مُکلف ہونے ،  جِنّوں کی اِقسام ، اُن کے موجود ہونے کے مُقامات کی نشاندہی ،  اور اُنہیں دی گئی  صِفات اور قوتوں کو، اور اُنہیں اپنے گھروں اور اپنے آپ سے دُور  رکھنے کے کچھ طریقوں کو  اللہ تعالیٰ  اور اُس کے رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی صحیح ثابت شدہ احادیث مُبارکہ کی روشنی میں ، لیکن مختصراً ، اور درج ذیل عناوین کے تحت پیش کروں گا ،
:::::: جِنّات کی تخلیق ، مواد ، اور حِکمت ::::::
:::::: جِنّات بھی اِنسانوں کی طرح ہی اللہ کے دِین کی پیروی کرنےکےمُکلّف ہیں :::::::
:::::: جِنّات کی اِقسام  ::::::
:::::: جِنّوں کے موجود رہنے والی  جگہیں:::::::
:::::: جِنّات کی  دس عمومی صِفات :::::::
:::::: جِنّات کو دُور رکھنے ، اور دُور کرنے کے چند طریقے :::::::

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مکمل کتاب کے مطالعہ اور  برقی نسخہ کے حصول کے لیے درج ذیل ربط کی زیارت فرمایے :
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

0 comments:

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔