Monday, April 3, 2017

::::::: اُمت کی بیماریوں کا عِلاج :::::::


::::::: اُمت  کی بیماریوں کا عِلاج   :::::::
بسَّم اللَّہ و الحمد  للَّہ وحدہُ و الصَّلاۃ و السَّلامُ عَلیٰ مَن لا نبیَّ بعدہ ُ
اللہ کے نام سے آغاز ہے اور تمام سچی تعریف صرف  اللہ کے لیے ہے اور اللہ کی رحمت اور سلامتی ہو اُس پر جس کے بعد کوئی نبی نہیں
السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ،
اِس مضمون کا عنوان شاید آپ کو عجیب سا لگے ، کہ ، یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ہماری مُسلم اُمت جو عقیدے اور عمل میں طرح طرح کی بیماریوں کا شِکار ہو چکی ہے ،  اُن سب  ہی بیماریوں کا عِلاج ایک ہی ہو ،
لیکن حقیقت یہی ہے ،
جی ہاں ، اور وہ عِلاج یہ ہے کہ ہم اپنی اپنی ضِدیں ، تعصب ، جماعت بندیاں ، گروہ بازیاں ، فقہ سازیاں ،مناھج ،مذاھب اور مسالک کو ایک طرف رکھتے ہوئے ، اُمت کے   سلف الصالح یعنی صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین اور اُن کے منھج پر چلنے والے عُلماء کرام رحمہم اللہ و حفظہم اللہ کی پیروی کریں کیونکہ ان کا منھج نبی کریم صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کا منھج تھا اور ہے ، اور یہ منھج، یہ مذھب ، یہ مسلک  ہی وہ   منھج و مذھب ومسلک ہے جو اُمت کواللہ  تعالیٰ کے حُکم سے  اُس عذاب سے نجات تک دِلوانے والا ہے جِس عذاب میں اُمت گرفتار ہے ،  
اللہ سُبحانہُ و تعالیٰ نے اپنی کتاب میں سلف صالح  یعنی صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین کے منھج پر چلنے کا حُکم دِیا ہے اور کئی بار دِیا ہے ، اِس کا ذکر پہلے کئی جگہوں پر کیا جا چکا ہے ،  وللہ الحمد والمنۃ ،
مثال کے طور پر درج ذیل مضمون میں :
"""اللہ کی نازل کردہ حِکمت :::صحابہ رضی اللہ عنہم کے فہم کی حجت"""
یہ مضمون درج ذیل ربط پر موجود ہے :
اِس کا مطالعہ بھی ضرور فرمایے ، اِن شاء اللہ خیر کا سبب ہو گا ،
جِس طرح اللہ عزّ و جلّ نے صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین کی پیروی کا حکم دِیا ہے ، اور اُن کے فہم کو دِین کا معیار قرار دِیا ہے ، اِسی  طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے بھیِ اس کا حکم دیا ہے ، جنہوں نے خود اپنی پاک ذات کے ذریعے اپنے  صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین کی تربیت فرمائی ، صحابہ رضی اللہ عنہم جو کہ سلف صالح کی ہدایت یافتہ اور ہدایت کے سبب کی مضبوط روشن چمکدار خوشبودار  زنجیر  کی پہلی ابتدائی کڑی ہیں ، وہ کڑی جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ  کی گواہی ہے کہ اللہ جلّ و عُلا  اُن سب پر راضی ہو چکا ، اور اُن کو دیے ہوئے منھج اِسلام  پر راضی ہو چکا ، اور اُن پر اِیمان و ہدایت کی  نعمت تمام کر چکا ،
تو بھلا لوگوں کو کیا ہو گیا کہ دِین کو ، دِین سے متعلقہ معاملات کو سمجھنے کے لیے ،  اِس اِیمان و ہدایت سے لبریز ، اللہ پاک کی طرف سے رضامندی اوراُن پر اللہ تعالیٰ  کی طرف سے ہی  اِیمان و ہدایت  کی نعمت کی تکمیل ہوجانے کی گواہی پانے والوں ، اور اُن کے بعد آنے والے دو خیر والے زمانوں کے عُلماء اور صالحین رحمہم اللہ جمیعاً کو چھوڑ کر اپنی اپنی عقلوں اور اپنی اپنی آراء اور اپنی اپنی سوچوں پر بھروسہ کرتے ہیں   ،  اور پوری اُمت کے لیے افتراق اور تعصب کی دردناک بیماری کا سبب بنتے ہیں خود بھی  اِس بیماری کا شکار ہوتے ہیں اور باقی سب کو بھی اس کا شکار ہونے کی وجہ بنتے  ہیں ، اور اِس کے نتیجے میں  ایک دُوسرے کے سامنے بھی رُسوا ہوتے ہیں ، اور  اللہ کے دِین کے دُشمنوں کے سامنے بھی ،
 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے دُوسرے بلا فصل خلیفہ عمر رضی اللہ عنہ ُ نے گویا اِسی بیماری  کا ذِکر کرتے ہوئے اِسی نتیجے کا ذِکر کرتے ہوئے ، اِس کا عِلاج بھی ذِکر فرمایا دِیا """"" إِنَّا كُنَّا أَذَلَّ قَوْمٍ فَأَعَزَّنَا اللَّهُ بِالْاِسلام فَمَهْمَا نَطْلُبُ الْعِزَّةَ بِغَيْرِ مَا أَعَزَّنَا اللَّهُ بِهِ أَذَلَّنَا اللَّهُ:::ہم ایک رُسوا قوم تھے تو اللہ نے ہمیں اِسلام کے ذریعے عزت عطاء فرمائی ، پس جس چیز کے ذریعے اللہ نے ہمیں عِزت عطاء فرمائی اُس چیز کے بغیر ہم کسی بھی چیز کے ذریعے عِزت حاصل کرنا چاہیں تو اللہ ہمیں ذلیل ہی کرے گا """"" المستدرک الحاکم /حدیث 208/کتاب الایمان، السلسلہ الاحادیث الصحیحۃ  /حدیث 51،
امام  المدینہ المنورہ ، امام مالک ابن انس رحمہُ اللہ کا ایک فرمان جو سونے کے پانی سے نہیں، بلکہ ،  سونے سے لکھے جانے کے قابل ہے ، یہ قول بھی ہر مُسلمان کے لیے انتہائی روشن مشعل ء راہ ہے ، فرمایا """""و لَن  يَصلحَ آخر هذه الأُمة إلَّا بِما صَلحَ بهِ أوَّلها فما لم يَكُن يَومئذٍ دِيناً لا يَكون اليوم دِينا::: اِس اُمت کا آخری حصہ اُس  کے بغیر  اِصلاح نہیں پا سکتا جِس  سے اُمت کے پہلے حصے نے اِصلاح پائی ، لہذا جو اُس دِن دِین نہ تھا وہ آج دِین نہیں ہو سکتا    """""،
امام مکحول الشامی رحمہُ اللہ نے بھی بہت پیاری بات فرمائی کہ “““““أنَّ القرآن أحوجُ إلى السُّنَّة مِن السُّنَّة إلى القرآن :::قران کو سُنّت کی ضرورت اُس سے زیادہ ہے جتنی کہ سُنّت کو قُران کی”””””
یعنی قُران پاک کی شرح اور تفسیر کے لیے سُنّت مُبارکہ کا ہونا لازم ہے جبکہ سُنّت مُبارکہ کی شرح و تفیسر کے لیے قُران پاک  کی ضرورت نہیں ، پس قران پاک کو دُرُست طور پر سمجھنے کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی سُنّت مُبارکہ بالکل لازم ہے اس کے بغیر گمراہی ہے اور وہی کچھ ہے جس کے عِلاج کی ہم بات کر رہے ہیں ،
قران پاک کو  ٹھیک طور پر سمجھنے کے لیے سُنّت مُبارکہ ہی واحد ذریعہ ہے جیسا کہ خود اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا ہے ((((( وَأَنزَلْنَا إِلَيْكَ الذِّكْرَ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ إِلَيْهِمْ :::اور (اے محمد ) ہم نے آپ کی طرف ذِکر (اس لیے )نازل فرمایا ہے تا کہ آپ لوگوں پر واضح فرمائیں کہ اُن کی طرف کیا نازل کیا گیا ہے   )))))
سلف صالح سب ہی اس پر انتہائی سختی سے عمل پیرا تھے ،
آئیے آپ کو ان میں سے کچھ کے کچھ فرامین سناتا ہوں ، جو کہ سمندر میں  سے چند ایک قطروں کی مانند ہیں ، 
عظیم المرتبہ تابعی أیوب سختیانی رحمہُ اللہ کا فرمان ہے""""" اِذا حدثتَ الرجلَ بسّنّۃِ ، فقال ، دعنا مِن ھذا و أنبئنا عن القرآن فأعلم أنہ ُ ضال ::: اگر تُم کسی کو سُنّت کی بات سناؤ اور وہ کہے اُسے چھوڑو ہمیں قران کے بارے میں سناؤ ، تو جان لو کہ وہ شخص گمراہ ہے """""،
اِمام الاوزاعی رحمہ ُ اللہ  جو  شام کے عظیم محدث اور فقیہ اپنے وقت کے جلیل القدر بے مثال علامہ تھے ، اُنہوں نے اپنے شاگردوں اور ساتھیوں کو فرمایا """""  إذا بلغك عن رسول الله حديث فإياك أن تقول بغيره فإن رسول الله ـ صلى الله عليه وسلم ـ كان مبلغاً عن الله تعالى ::: اگر تُم تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی حدیث پہنچے تو خبردار کہ اُس کے عِلاوہ تم کوئی اور بات  کرو ،کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم اللہ کی طرف سے تبلیغ  کرنے والے تھے"""""، یعنی اپنی مرضی سے بات نہیں کرتے تھے،  بلکہ اللہ تعالیٰ کی وحی کے مُطابق ، اللہ کے فرامین کی تفیسر و شرح بیان فرمائی ،   اخرجہ البیھقی ،  
امام الازواعی رحمہ اللہ نے اللہ تعالیٰ کے فرمان (((((وَ مَا یَنطِقُ عَنِ الھَویٰٓ O اِن ھُوَاِلاَّ وحیٌ یُوحَیٰ:::اور وہ (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم )اپنی مرضی سے بات نہیں فرماتےOوہ(یعنی اُن کی بات )تو صِرف(اللہ کی طرف ) سے کی گئی وحی ہوتی ہے )))))) سورت النجم ،آیات 3 ، 4 ،
امام ابن شہاب الزھری رحمہ ُاللہ کا فرمان ہے """کان مَن مَضیٰ مِن عُلماءونا یقولون ، الأعتصام بالسُنّۃِ نجاۃٌ :::ہمارے عُلماء جو  گذر گئے یہ کہا کرتے تھے کہ سُنّت پر پابند رہنا ہی نجات ہے""" اخرجہ البیھقی ،
تابعین میں سے ہی امام مجاھد بن جبیر رحمہُ اللہ ، قران پاک کی اِس آیت ((((( فَإِنْ تَنَازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ فَرُدُّوهُ إِلَى اللَّهِ وَالرَّسُولِ :::اگر تُم لوگ کسی (کام یا چیز  یا معاملے  کے) بارے میں تنازع کا شکار ہو جاؤ تو اُس اللہ کی طرف پلٹاؤ اور رسول کی طرف پلٹاؤ   ))))) کی تفیسر میں فرماتے تھے """ الرد إلى الله الرد إلى كتابه ، والرد إلى الرسول الرد إلى السُّنة ::: اللہ کی طرف پلٹانے کا مطلب اللہ کی کتاب کی طرف پلٹنا ہے ، اور رسول صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی طرف پلٹنا اُن صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی سنّت کی طرف پلٹانا ہے"""اخرجہ البیھقی ،.
اُمت کے عظیم الشان عُلماء اور أئمہ میں سے سر فہرست امام ابن کثیر رحمہُ اللہ نے اپنی تفیسر جسے کہ ساری ہی امت کے ہاں متفقہ طور پر بہترین تفاسیر میں سے سب سے آگے والی صف میں مانا جاتاہے ، یعنی""" تفسیر القران الکریم ، المعروف تفیسر ابن کثیر""" میں سورت نور کی آیت 63  ((((( لاَّ تَجْعَلُواْ دُعَآءَ الرَّسُولِ بَيْنَكُمْ كَدُعَآءِ بَعْضِكُمْ بَعْضاً قَدْ يَعْلَمُ اللَّهُ الَّذِينَ يَتَسَلَّلُونَ مِنكُمْ لِوَاذاً فَلْيَحْذَرِ الَّذِينَ يُخَالِفُونَ عَنْ أَمْرِهِ أَن تُصِيبَهُمْ فِتْنَةٌ أَوْ يُصِيبَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ:::تُم رسول کے بلانے کو ایسا بلانا مت بناؤ جیسا کہ تُم لوگوں کا ایک دوسرے کو بلانا ہوتا ہے ، تُم میں سے اللہ اُنہیں خوب جانتا ہے جو ( رسول کی طرف سے بلاوے پر ) نظر بچا کر چُپکے سے کِھسک جاتے ہیں لہذا جو لوگ اُس ( یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم ) کے حکم کی مخالفت کرتے ہیں وہ خبردار رہیں کہ ( کہیں ) اُن پر کوئی آفت نہ آ پڑے یا ( کہیں ) اُنہیں کوئی عذاب نہ آ پکڑے   ))))) کی تفیسرمیں   فرمایا :::
"""  أي  ،،   عن أمر سول الله ـ صلى الله عليه وسلم ـ وهو سبيله ومنهاجه ، وطريقته ، وسنته ، وشريعته ، فتوزن الأقوال والأعمال بأقواله وأعماله ، فما وافق ذلك قبل ، وما خالفه فهو مردود على قائله وفاعله كائناً من كان ، كما ثبت في "الصحيحين"، وغيرهما ، عن رسول الله ـ صلى الله عليه وسلم ـ أنه قال: "من عمل عملاً ليس عليه أمرنا فهو رد"
 أي  ،،   فليخشى وليحذر من خالف شريعة الرسول باطناً أو ظاهرا ً: (أَنْ تُصِيبَهُمْ فِتْنَةٌ) أي في قلوبهم ، من كفر ، أو نفاق ، أو بدعة ، أو (يُصِيبَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ) أي : في الدنيا بقتل أو حد ، أو حبس أو نحو ذلك ::: یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کا امر (احکام اور معاملات) اُن کا راستہ ہے اور ان کے مناھج ہیں ، اور اُن کا طریقہ ہے اور اُن کی سُنّت ہے اور اُن کی شریعت ہے ، پس تمام تر باتیں اور تمام تر کام اُن صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی باتوں اور کاموں کے مطابق پرکھے جائیں گے ، جو موافق ہوں گے قبول کیے جائیں گے اور جو مخالف ہوں گے وہ کہنے والے اور کرنے والے پر رد کر دیے جائیں گے ، خواہ کہنے والا اور کرنے والا کوئی بھی ہو ، جیسا کہ ” صحیحین “ اور احادیث کی دیگر کتابوں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے بارے میں روایت ہے کہ انہوں نے اِرشاد فرمایا::: (((((مَن عَمِلَ عَمِلاً لیس علیہِ أمرُنا فھو ردٌ  :::  جِس نے ایسا کام کیا جو ہمارے طریقے کے مطابق نہیں تو وہ کام مردود ہے)))))یعنی ( اس کا مطلوب یہ ہوا کہ ) جس کسی نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی شریعت کی مخالفت کی ظاہری طور پر یا باطنی طور پر ،  وہ اِس بات سے ڈرے اور خبردار رہے کہ (أَنْ تُصِيبَهُمْ فِتْنَةٌ)یعنی اُن کے دِلوں میں کفر ، یا منافقت یا بدعت کا فتنہ گھر نہ کر لے یا(يُصِيبَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ) یعنی ، دُنیا میں بھی قتل ، یا شرعی حد ، یا قید یا اِسی قِسم کا کوئی عذاب نہ آن پکڑے ،،،  """ ،
 امام محمد ناصر الدین الالبانی رحمہُ اللہ و رفع درجاتہُ  نے فرمایا """  عِلاج وہی عِلاج ہے ، دواء وہی دواء ہے ، پس جِس دواء سے  نبی صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے اُس قبل از اِسلام والی جاہلیت کا عِلاج فرمایا تھا اُسی دواء کے ذریعےہی (اب بعد از اِسلام اور مُسلمانوں میں پائی جانے والی جاہلیت کا )عِلاج ہو گا ،  پس اِسلام کی دعوت دینے والے ہر ایک شخص پر لازم ہے کہ """ لا اِلہَ اِلَّا اللہ """ کے معنی ٰ (کے بارے) میں (اُمت میں پائی جانے والی  )غلطی کا عِلاج کریں ، اور اس دردناک (مسلسل رُونما )واقعہ کا اُسی دواء سے عِلاج کریں ،
 اگر ہم اللہ تعالیٰ کے اس فرمان پر غور کریں کہ ((((( لَقَدْ كَانَ لَكُمْ   فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِمَنْ كَانَ يَرْجُو اللَّهَ وَالْيَوْمَ الآخِرَ وَذَكَرَ اللَّهَ كَثِيرًا :::بے شک تُم لوگوں کے لیے رسول اللہ میں بہترین نمونہ ہے (لیکن یہ)اُس کے لیے (ہے)جو اللہ اور آخرت کے دِن پر یقین رکھتا ہے اور اللہ کا بہت زیادہ ذِکر کرتا ہے))))) سورت الأحزاب /آیت 21،
تو میری بات کا معنی   ٰ بہت واضح ہو جاتا ہے ، کہ ہمارے رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم ہی آج کے مُسلمانوں کی مشکلوں کے حل کے لیے بہترین نمونہ ہیں ، اور ہمیشہ تھے اور ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے،پس یہ حقیقت ہم سے یہ تقاضا کرتی ہے کہ ہم بھی اُسی چیز سے ابتداء کریں جِس چیز سے ہمارے رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے ابتداء فرمائی
اِس میں سب پہلے  ہے عقائد کی اِصلاح ، مُسلمانوں کے عقائد میں جہاں جہاں اور جو جو بگاڑ پیدا ہو چکا ہے  اُس کی اِصلاح کی جائے ،
دُوسرا ہے مُسلمانوں کی عِبادات کی اِصلاح ،اور،
تیسرا ہے مُسلمانوں کے معاملات کی اِصلاح ،  
میں یہی چاہتا ہوں کہ مُسلمان اِس معاملے کے لیے شدید ترین اہتمام کریں """ ،
اِن تمام دلائل اور أئمہ رحمہم اللہ کے اقوال کی روشنی میں یہ ثابت ہوتا ہےکہ مُسلمان پر واجب ہے کہ اللہ کا عطاء کردہ منھج  جو  بلا شک و شبہ نبی کریم محمد  صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کا منھج تھا  اور اُن صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی اِتباع میں ہی  سلف صالح کا منھج  رہا ، اور اُن سب کی اِتباع میں اُمت کے عُلماء ربانین کا منھج و مذھب و مسلک رہا اور ہے ، کہ یہی منھج ، یہی مذھب ، یہی مسلک اللہ  جلّ و عُلا کی رحمت کا ذریعہ ہے ،  اِسی میں خیر ہے اِسی میں دُنیا اور آخرت کی عِزت ہے اِسی میں برکت ہے، 
اور وہ منھج ، وہ مذھب ، وہ مسلک ہے اللہ تعالیٰ کی کتاب ، رسول اللہ محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی صحیح ثابت شُدہ سُنّت شریفہ اور اِن دونوں کو صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین ، اور صحابہ رضی اللہ عنہم کے شاگردوں کے فہم کے مُطابق سمجھ کر اُن پر عمل کرنا ، یہی ہے حقیقی اور یقینی عِلاج اُمت کی تمام تر بیماریوں کا ،
اللہ تعالیٰ ہم سب کو ہر بے جا ، ناجائز ، ضِد اور تعصب سے نجات دے ، حق جاننے ، ماننے ، اپنانے اور اُسی پر عمل پیرا رہتے ہوئے اُس کے سامنے حاضر ہونے کی توفیق عطاء فرمائے ۔
وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ والسلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ،
طلب گارء دُعاء آپ کا بھائی ،
عادِل سُہیل ظفر ،
تاریخ کتابت : 22/08/1431، ہجری، بمُطابق ، 03/08/2010عیسوئی ،
تاریخ تحدیث و تجدید: 27/05/1433، ہجری، بمُطابق ، 19/04/2012عیسوئی ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مضمون کا برقی نسخہ درج ذیل ربط پر مسیر ہے :