Tuesday, June 19, 2018

::::::: دار چینی کے فوائد ، شہد کے ساتھ :::::::

بِسمِ اللَّہِ الرَّحمٰنِ الرَّحِیمِ
::::::: دار چینی کے فوائد ، شہد کے ساتھ :::::::
دار چینی کے فوائد کا ذِکر انسانی تاریخ میں بہت قدیم سے ملتا ہے ، چینی طب کی 2700قبل از مسیح کی کتابوں میں بھی اِس کا ذِکر ہے ، اور مصر کے فرعنوں کے دور میں بھی اِس کے اِستعمال کا ذِکر ہے ،
طب اِسلامی میں بھی اِس کے بہت سے فوائد مذکور ہیں ،
اِس مضمون میں ، میں آپ کے سامنے چند ایسے فوائد کا ذِکر کروں گا جو جدید سائنس کی تحقیق اور تجربوں کی کسوٹیوں پر بھی پورے اترے ہیں ، جن کے بارے میں خاصی مستند معلومات آپ انٹر نیٹ کے ذریعے بھی حاصل کر سکتے ہیں ،
::::::: دِل کے امراض  ، اور ہائی بلڈ پریشر کے لیے  :::::::
شہد اور دارچینی کے سفوف(پاؤڈر) کو ملا کر مرہم نما مربہ بنایا جائے اور ناشتے میں اُسے روٹی ، ٹوسٹ ،بن یا کسی بھی ایسی اور چیز پر لگا کر ،مستقل اور لمبے عرصہ تک کھاتے رہنے سے  سے دِل کے امراض سے بچاؤ کی قوت میں اضافہ ہوتا ہے ، اور اگر کوئی مرض پہلے سے موجود ہو تو اُس میں کمی ہوتی ہے ، اِ ن شاء اللہ ،
 دارچینی  اور شہد کا یہ مغلوبہ اللہ کے حکم سے یہ تاثیر پاتا ہے کہ شریانوں میں  موجود کولسٹرول اور دیگر چربیوں کو کم کرے ، لہذا
یہ مغلوبہ ہائی بلڈ پریشر کے مریضوں کے لیے بھی فائدہ مند ہوتا ہے اور جنہیں اللہ نے اِس مرض سے بچا رکھا ہے اُن کے بچے رہنے کی اُمید بڑھ جاتی ہے ۔
::::::: دانت دردکے لیے  :::::::
دار چینی کے سفوف  کا ایک چمچ اور ویسے ہی پانچ چمچ شہد کے لیجیے اور ان کا مرہم بنا لیجیے ، اور اس درد کرنے والے دانت پر مل لیجیے ، دِن بھر میں تین چار دفعہ اِس  مغلوبہ کو اِستعمال کرتے رہیے یہاں تک کہ اللہ کے حکم سے دانت درد بالکل ختم ہو جائے ،
::::::: سردی سے ہونے والے نزلہ زکام کے لیے  :::::::
جو لوگ عموماً کسی بھی ٹھنڈک کے سبب نزلے زکام وغیرہ کا شکار ہوتے رہتے ہیں اُن کے یہ نُسخہ بہت کار آمد ہے ، باذن اللہ ،
چوتھا حصہ چمچ، دار چینی پاؤڈر اور ایک چمچ نیم گرم سا شہد لے کر اُن کا مغلوبہ بنایا جائے ، یہ ایک خوراک ہے ، اس طرح کی تین خوراکیں ایک دِن میں کھائی جائیں ، اِن شاء اللہ اِس نسخے کے اِستعمال سے ٹھنڈک کی وجہ سے ہونے والا نزلہ زکام دور ہو جائے گاا ور بند ناک وغیرہ کھل جائے گا ۔
::::::: معدے کی درد ،سُوجن  اور زخم(السر) کے لیے :::::::
ایک حصہ داری چینی پاؤڈر اور تین حصے شہد کا ملا لیا جائے اور پھر تھوڑا سا پانی ملا کر اسے پتلا کیا جائے اور دِن بھر میں تین دفعہ پیا جائے تو اِن شاء اللہ معدے کی درد، سُوجن اور زخم (السر ) سے مکمل نجات مل سکتی ہے ،
اِس بات کا خیال رکھا جائے کہ معدے کے السر ز کے شدید ہونے کی صُورت میں دار چینی کا اِستعمال تکلیف میں اضافے کا سبب بھی بن سکتا ہے ، لہذا ایسا مریض اِسے بہت احتیاط کے ساتھ استعمال کرے ،
::::::: معدے سےبننےوالی گیس کے لیے :::::::
یہی مذکور بالا نُسخہ پانی کی مقدار کچھ تھوڑی سی زیادہ کر کے اِستعمال کرنے سے اِن شاء اللہ معدے سے بنے والی گیسز کو جلد خارج کرنے اور مستقل اِستعمال سے اُن گیسز کے بننے کو روکنے  کے لیے فائدہ مند ہے۔
::::::: ہاضمہ میں مددگاری  کے لیے :::::::
اگر ناشتے سے پہلے ، کھانے سے پہلے ، دو چمچ شہد پر دارچینی کا سفوف چھڑکاؤ کر کے کھا لیا جائے تو اِن شاء اللہ ہاضمے میں کافی مددگار رہتا ہے ۔
::::::: مدافعتی نظام (Immune System) کی قوت میں اضافے کے لیے :::::::
ایک تہائی  چمچ دار چینی پاؤڈر اورڈیڑھ چمچ  شہد ،کسی بھی صورت میں ، یعنی شربت کے طور پر ، یا قہوے کے طور پر ، یا معجون کے طور پر ، براہ راست کھا کر ، یا کسی کھانے میں شامل کر کے کھانے سے جسم کے مدافعتی نطام کو مضبوط  بناتا ہے او ربہت سے جراثیم کے خاتمے کا سبب بنتا ہے ۔
::::::: جلد کی سوزش کے لیے :::::::
دار چینی اور شہد کے مرہم کو جلد کی سوزش کی صُورت میں سوزش والے حصے پر لگاتے رہنے سے اِن شاء اللہ سوزش ختم ہو جاتی ہے ، خواہ سوزش کی وجہ کچھ بھی رہی ہو ۔
::::::: وزن میں کمی  کے لیے :::::::
روزانہ ناشتے سے پہلے اور رات کو سونے سے پہلے ، چوتھا حصہ چمچ دار چینی کا پاؤڈر اور ایک یا ڈیڑھ چمچ شہد ، ایک کپ پانی میں ملا کر اسے ابالا جائے اور پھر نیم گرم حال میں اس مشروب کو  قہوے کی طرح باقاعدگی سے پیتے رہنے سے اِن شاء اللہ جِسم میں موجود اضافی چربیاں ختم ہونا شروع ہو جاتی ہیں ،اور جِسم موٹاپے سے نجات پاجاتا ہے ۔
::::::: حمل سے متعلق :::::::
حاملہ عورت کو دار چینی استعمال نہیں کرنا چاہیے، اِس کے اِستعمال سے زچہ و بچہ دونوں کے لیے مشکلیں پیدا ہو سکتی ہیں ، لیکن ولادت کے فوراً بعد سے ایک مہینہ تک رات کو سوتے وقت تھوڑا سا دار چینی پاؤڈر (تقریباً ایک چوتھائی چھوٹا چمچ) کھانے سے اِن شاء اللہ کافی لمبی مدت تک حیض میں روکاٹ ہو جاتی ہے اور یوں اگلے حمل کے دوران  وقفہ بڑھ جاتا ہے ۔
دار چینی اور شہد کے اکٹھے استعمال کے یہ نسخے چند ایسے نسخے ہیں جو عام معروف ہیں ، اِس کے علاوہ طِب کی کتب میں اور بھی بہت سے نسخہ جات میسر ہیں ، اپنی ضرورت کے مطابق طِب کی اچھی اور مستند کتب کا مطالعہ اِن شاء اللہ فائدہ مند ہو سکتا ہے ۔
والسلام علیکم ، طلب گارء دُعاء ،
 عادِل سُہیل ظفر ،
تاریخ کتابت : 17/01/1434 ہجری ، بمطابق ، 01/12/2012عیسوئی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مضمون کا برقی نسخہ درج ذیل ربط پر مُسیر ہے :
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Thursday, June 14, 2018

::: نمازء عید اور نمازء جمعہ ایک ہی دِن :::


:::  نمازء عید اور نمازء جمعہ ایک ہی دِن  :::
بِسّمِ اللَّہِ الرّ حمٰنِ الرَّحیم ، والصَّلاۃُ و السَّلامُ علیٰ رسولہِ الکریم ، أما بعد :::
السلام علیکم ورحمۃُ اللہ و برکاتہ ،
کئی سال بعد ایک دفعہ پھر  سعودی عرب اور دیگر کئی ممالک میں  میں عید الاضحیٰ جمعہ کے روز آ رہی ہے لہذا یہ  مسئلہ پھر سے  سمجھنے کی ضرورت ہوئی کہ نماز ء عید اورنمازء جمعہ کی ادائیگی کا کیا سلسلہ ہو گا ؟
اس مسئلےکا بیان ::: دونوں عید کے دِن اور نماز کے اہم مسائل:::میں پیش کر چکا ہوں ، اور وہیں سے نقل کر رہا ہوں کہ :::
*** اگر عید جمعہ کے دِن ہو عید کی نماز پڑہنے کے بعدجمعہ کی نماز چھوڑی جا سکتی ہے *** 
::: دلائل :::
::::: (1) ::::: ابو ہُریرہ رضی اللہ عنہُ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا((((( قَد اجتَمَعَ فی یَومِکُم ہذا عِیدَانِ فَمَن شَاء َ اَجزَاَہُ مِن الجُمُعَۃِ وَاِنَّا مُجَمِّعُونَ ::: تُم لوگوں کے آج کے دِن میں دو عیدیں اکٹھی ہو گئی ہیں تو جو چاہے (عید کی نماز کے ذریعے ) جمعہ کو چھوڑے لیکن ہم دونوں نمازیں پڑہیں گے )))))سنن ابو داؤد ، حدیث 1069 / کتاب الصلاۃ / تفریع ابواب الجمعہ / باب 215، اِمام الالبانی نے کہا حدیث صحیح ہے ۔
::::: (2) ::::: اِیاس بن ابی رملۃ رحمۃ اللہ علیہ کا کہنا ہے ''''''' میں معاویہ بن ابی سُفیان رضی اللہ عنہما کے پاس تھا ، اُنہوں نے زید بن الاَرقم رضی اللہ عنہُ سے پوچھا ::: کیا تُم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ  وسلمکے ساتھ  ایک ہی دِن میں دو عیدیں دیکھی ہیں؟ (((یعنی جمعہ کے دِن عید الفِطر یا عید الاَضحی ))) 
زید رضی اللہ عنہُ نے کہا ‘‘‘ جی ہاں ’’’
معاویہ بن ابی سُفیان رضی اللہ عنہ نے پوچھا ‘‘‘ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا کِیا تھا ؟ ’’’،
 زید رضی اللہ عنہُ نے کہا‘‘‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عید کی نماز پڑہی اور پھر جمعہ کی نماز میں رُخصت ( نہ پڑہنے کی اجازت) دیتے ہوئے فرمایا ((((( مَن شَاءَ اَن یُصَلِّی فَلیُصَلِّ::: جو (جمعہ کی نماز) پڑہنا چاہے وہ پڑھ لے ( یعنی جو نہ چاہے وہ نہ پڑہے))))) '''''''،سنن ابو داؤد / حدیث 1066 / کتاب الصلاۃ / تفریع ابواب الجمعہ / باب 215 ، سنن ابن ماجہ / حدیث 1310 /کتاب اِقامۃ الصلاۃ/ باب166، اِمام علی بن المدینی رحمہُ اللہ نے صحیح قرار دِیا ، بحوالہ ''' التلخیص الحبیر ''' اور اِمام الالبانی  رحمہُ اللہ نے بھی صحیح قرار دِیا ، 
::::: (3) ::::: ایک دفعہ عید جمعہ کے دِن ہو گئی تو  امیر المؤمنین علی رضی اللہ عنہُ نے فرمایا((((( مَن اَرادَ اَن یُجَمِّعَ فَلیُجَمِّع ، ومَن اَرادَ اَن یَجلِسَ فَلیَجلِس::: جو دونوں نمازیں پڑہنا چاہے تو پڑہے اور جو بیٹھنا چاہے تو بیٹھے)))))اِمام سفیان الثوری  رحمہُ اللہ نے کہا اِس کا مطلب ہے کہ'''''''جو( جمعہ نہ پڑھنا چاہے اور) اپنے گھر میں بیٹھنا چاہے تو بیٹھے'''''''،  مصنف عبدالرزاق ،حدیث 5731 / کتاب صلاۃ العیدین /باب 118جتماع العیدین ، مُصنف ابن ابی شیبہ / حدیث 5839 / کتاب الصلوات /باب 433 فی العِیدانِ یَجتَمِعانِ یَجزِیءُ اِحدُھما مِن الآخر ، حدیث صحیح ہے ۔
::::: (4) ::::: عبداللہ ابن زبیر رضی اللہ عنہما کے دور میں عید جمعہ کے دِن ہوئی تو اُنہوں نے صرف عید کی نماز اور جمعہ کی نماز کو جمع کر لیا اور جمعہ کی نماز نہیں پڑہی بلکہ عید کی نماز پڑہنے کے بعد (عصرکے وقت ) عصرکی نماز پڑہی ::::: سنن ابو داؤد / حدیث 1068 / کتاب الصلاۃ / تفریع ابواب الجمعہ / باب 215 ، اِمام الالبانی  رحمہُ اللہ نے کہا حدیث صحیح ہے ۔
عید کی نماز کا طریقہ  صحیح سُنّت مبارکہ کے مطابق ، اور دیگر مسائل جاننے کے لیے ::: دونوں عید کے دِن اور نماز کے اہم مسائل::: کا مطالعہ اِن شاء اللہ مُفید ہو گا ، والسلام علیکم۔