Friday, January 19, 2018

::::::: ابُو کہہ رہے ہیں میں گھر میں نہیں ہوں :::::::

::::::: ابُو کہہ رہے ہیں میں  گھر میں نہیں ہوں :::::::
بِسّمِ اللَّہِ الرّ حمٰنِ الرَّحیم
اِن اَلحَمدَ لِلِّہِ نَحمَدہ، وَ نَستَعِینہ، وَ نَستَغفِرہ، وَ نَعَوذ بَاللَّہِ مِن شرورِ أنفسِنَا وَ مِن سِیَّأتِ أعمَالِنَا ، مَن یَھدِ ہ اللَّہُ فَلا مُضِلَّ لَہ ُ وَ مَن یُضلِل ؛ فَلا ھَاديَ لَہ ُ، وَ أشھَد أن لا إِلٰہَ إِلَّا اللَّہ وَحدَہ لا شَرِیکَ لَہ ، وَ أشھَد أن مُحمَداً عَبدہ، وَ رَسو لہ ::: بے شک خالص تعریف اللہ کے لیے ہے ، ہم اُس کی ہی تعریف کرتے ہیں اور اُس سے ہی مدد طلب کرتے ہیں اور اُس سے ہی مغفرت طلب کرتے ہیں اور اللہ کی پناہ طلب کرتے ہیں اپنی جانوں کی بُرائی سے اور اپنے گندے کاموں سے ، جِسے اللہ ہدایت دیتا ہے اُسے کوئی گمراہ نہیں کر سکتا ، اور جِسے اللہ گُمراہ کرتا ہے اُسے کوئی ہدایت دینے والا نہیں ، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ بے شک اللہ کے عِلاوہ کوئی سچا اور حقیقی معبود نہیں اور وہ اکیلا ہے اُس کا کوئی شریک نہیں ، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ بے شک محمد اللہ کے بندے اور اُس کے رسول ہیں :  
السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ،
اولاد کی تربیت کے مُعاملات میں ، والدین یعنی ماں باپ کو بہت ہی زیادہ ہوشمندی اور احساس کی ضرورت ہے اور شدید احتیاط کی ، اور اِس سوچ سے بچنے کی کہ بچے خاص طورپر چھوٹے بچے اپنے اِرد گِرد کی باتوں اور کاموں کو  سمجھتے نہیں یا مکمل طور پر اور ٹھیک سے نہیں سمجھ پاتے ،
بچوں کی نفسیات کے ماہرین کا کہنا ہے کہ بچے اپنے اِرد گِرد ہونے والے کاموں اور باتوں  کو بہت اچھی طرح سے اپنے دِل میں محفوظ کرتے ہیں اور اُن کاموں کے ذریعے بہت کچھ سیکھتے ہیں ، حتیٰ کہ اگر والدین یہ خیال کرتے ہوں کہ بچہ تو اپنے کھیل میں مگن ہے تب بھی بچہ اپنے والدین کی طرف سے واقع ہونے والے امور کو جذب کر رہا ہوتا ہے ، بالخصوص اُن کی باتوں کو ،
مجھے ایک دوست نے اپنا واقعہ سنایا کہ اُس کا بیٹا جب کچھ ٹھیک طور سے بولنے لگا تو وہ اُس کی اور اُس کی بیوی کی گفتگو میں بعض اوقات اِس طرح شامل ہو جاتا گویا کہ وہ تمام مُعاملہ جانتا ہے اور اُس مُعاملے میں ایک فریق کی حیثیت رکھتا ہے ،
یہ ایک واقعہ تو میرے سامنے آیا اللہ ہی جانتا ہے کہ ایسے کتنے واقعات روزمرہ زندگی میں رونُما ہوتے ہوں گے جو ماہرین کے مذکورہ بالا مُشاہدے کو دُرُست ثابت کرتے ہیں ،
ہم سب کو اچھی طرح سے سمجھ لینا چاہیے کہ اولاد ، اور خاص طور پر چھوٹے بچوں کے  سامنے غلطیوں اور کوتاہیوں کا ظاہر ہونایقیناً انتہائی خطر ناک  کام ہے ،اور بچوں کی پاکیزہ شخصیات  کی حق تلفی اور اُن پر ظُلم ہے ،  جِس کا تدارک کرنا بہت ہی مُشکل اور اکثر أوقات نا ممکن ہوتا ہے ،
اور اِن غلطیوں  میں سے سب سے زیادہ خوفناک غلطی جو ایک گھناونا اور کبیرہ گناہ بھی ہے ، وہ ہے جُھوٹ ،  جی ہاں ،
کسی مُعاملہ شناس نے بچوں کے سامنے جُھوٹ بولنے کے جُرم کےنتیجے کی تصویر کَشی کرتے ہوئے کہا """بچے کے نفس میں یعنی اُس کے دِل ودماغ میں سچ کی قدر و قیمت اور اہمیت تباہ کرنے کے لیے صِرف ایک ہی دفعہ اور اتنا ہی کافی ہے کہ بچہ یہ دیکھ اورجان لے کہ اُس کے باپ نے اُس کی ماں سے جُھوٹ بولا ، یا اُس کی ماں نے اُس کے باپ سے جُھوٹ بولا یا اُن دونوں میں سے کِسی نے اپنے پڑوسی ، کِسی رشتہ دار ، کِسی ملنے والے سے جُھوٹ بولا ،
 جی ہاں ایک ہی دفعہ ایسا ہونا کافی ہے ، پھر اُس کے بعد خواہ وہ ماں باپ اُس بچے کو ہر گھڑی ہر پل جُھوٹ کے نُقصانات اور سچ کے فوائد ، جُھوٹ کا کبیرہ  گناہ ہونے اور سچ کاعظیم ثواب ہونے کے سبق پڑھاتے رہیں ، نصحیتیں کرتے رہیں ، عمومی طور پر کوئی مثبت فائدہ ہونے والا نہیں سوائے اِس کے کہ اللہ تعالیٰ کِسی پر اپنی رحمت کرے اور اُسے والدین کی دو  رَنگی  سے مُتاثر ہو کر سچ سے باغی ہونےسے بچنے کی ہمت دے دے """،
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے اِرشاد فرمایا ہے کہ (((((مَا مِن  مَوْلُودٍ إلا يُولَدُ على الْفِطْرَةِ فَأَبَوَاهُ يُهَوِّدَانِهِ أو يُنَصِّرَانِهِ أو يُمَجِّسَانِهِ   ::: کوئی پیدا ہونے والا ایسا نہیں جو فطرت پر پیدا نہ ہو یہ تو اس کے ماں باپ ہوتے ہیں جو اُسے یہودی بناتے ہیں ، یا عیسائی بناتے ہیں یا بت پرست بناتے ہیں ))))) متفقٌ علیہ، صحیح البُخاری/کتاب الجنائز  ، باب  78 اور 91، صحیح مُسلم /کتاب القدر ، باب 6 ،
پس یہ بات وحی سے ثابت ہوئی کہ بچے اللہ کی مُقرر کردہ فِطرت پر پیدا ہوتے ہیں اور جب تک اُنہیں گناہ  دِکھائے اور سِکھائے نہیں جاتے وہ اُسی فطرت پر رہتے ہیں اور سچے ہوتے ہیں ،
 اِس کی مثال ایک یہ واقعہ بھی ہے جسے لوگ اکثر لطیفے کے طور پر سُن کر یا سُنا کر محظوظ ہوتے  جبکہ یہ واقعہ انتہائی سبق آموز ہے اور والدین ، بڑوں ،اور معاشرے کے سارے ہی افراد کے لیے ہی دعوتءِ فِکر والا ہے ،
کہا جاتا ہے کہ ایک دفعہ کِسی نے ایک گھر کا دروازہ کھٹکھٹایا ، تو گھر والے نے اپنے بچے سے کہا کہ دروازے پر جو کوئی بھی اسے کہو کہ میں گھر میں نہیں ہوں ،
بچہ دروازے پر گیا اور دستک دینے والے سے کہا کہ """ میرے ابو کہہ رہے  ہیں کہ  میں گھر میں نہیں """ ،  
چکنے چمکدار پُھسلا دینے والے اور عقل کو حیراں کر کے گمراہ کرنے والے  راستوں میں سے ایک ، بچوں کے سامنے ذو معنی بات کرنا بھی ہے ،  ایسی ذو معنی بات جس بچہ یہ سمجھے کہ جُھوٹ بولا گیا ہے ، اور جب بچہ اُس کے بارے میں کچھ پوچھے تو اُسے طرح طرح کے فلسفوں اور تاویلات کے ذریعے مطمئن کیے جانے کی کوشش کی جائے  ،
 بسا اوقات تو لوگ اپنی  ایسی غلطیوں کو ، غلط بیانیوں  کو دِینی طور پر کِسی جائز مُعاملے کی آڑ میں دُرُست ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہوئے بھی  دِکھائی دیتے ہیں ،
میری مُراد کوئی سچی بات کچھ ایسے اِلفاظ میں کہنا ہے جِس سے سُننے والا حقیقت نہ سمجھ سکے بلکہ کچھ اور سمجھے ،
 اِسے شرعی ناموں میں  """ توریہ""" کہا جاتا ہے ،  (اس کی  تفصیل """ صِدق """ میں بیان کر چکا ہوں )، ہمارے کچھ مُسلمان بھائی بہن اِس توریہ  ، دِکھاوے والی بات  کے جواز کواپنے جُھوٹ بولنے کے لیے دلیل بنانے کی کوشش کرتے ہیں،
اور یہ سمجھتے ہیں اُن کا ہر جُھوٹ اِس طرح جائز جُھوٹ کی حد میں داخل ہو جاتا ہے ، اور اپنے عمل اور اپنی تاویلات سے اپنے بچوں کو بھی تقریبا ً یہی کچھ سمجھاتے ہیں ،
حق تو یہ ہے کہ حقیقی مُسلمان ،سچا ہوتا ہے ، جُھوٹ کو اپنانے یا اِستعمال کرنے کے لیےبہانوں کی تلاش میں نہیں رہتا اور نہ ہی جُھوٹ بولنے کے بعد  حیل و حجت کے ذریعے اُس کو جائز کرنے کی کوشش کرتا ہے ، اور نہ ہی  توریہ ، یعنی دِکھاوے کی ذومعنی بات کر سکنے کے  جواز کی حُدود کو  وسیع کرنے کی سعی کرتا ہے ،
صِرف یاد رکھنے کی ہی نہیں ، بلکہ بہت اچھی طرح سے سمجھ کر یاد رکھنےکی بات ہے کہ بچے یہ نہیں جانتے کہ کِس حد تک اور کِس صُورت میں جُھوٹ بولنا جائز ہے ؟یا کس صُورت میں جُھوٹ نُما بات کرنا جائز ہے ؟ ایسی باتیں تو وہ اُس وقت جا کر سمجھتے ہیں جب اِن مسائل کا عِلم حاصل کر لیتے ہیں ، بچوں کو تو صِرف یہ پتہ ہوتا ہے کہ یہ جُھوٹ ہے اور یہ سچ ، لہذا جب اُن کے سامنے کسی بھی طور کوئی ایسی بات کی جاتی ہے جس کے بارے میں وہ جانتے ہیں کہ یہ جُھوٹ ہے تو وہ اُسے صِرف جُھوٹ ہی جانتے ہیں اور اُن کے نُفوس میں سچ کی اہمیت ختم ہونے لگتی ہے ،
کِسی نے کیا خوب کہا ہے کہ :::    
ومُعظم النَّار مِن مُستصغرِ الشَّرر::: اور آگ کے بڑے بڑے ألاؤ چھوٹی سی چنگاری کے سبب ہوتے ہیں
پس جو بچوں کے سامنے اِس قِسم کے کاموں کو معمولی سمجھ کر کرتے ہیں وہ در حقیقت اُن بچوں کی شخصیات میں چنگاریاں ڈال رہے ہوتے ہیں ، جو کِسی نہ کِسی وقت کِسی ألاؤ کے بھڑک اُٹھنے کا سبب بن جاتی ہیں اور پھر وہ ألاؤ بُجھائے بُجھتا نہیں ، اور وہ بچے جُھوٹ ، دھوکہ بازی ، اور مُنافقت کی آگ میں خود بھی جلتے ہیں اور اپنے اِرد گِرد والوں کو بھی جلاتے ہیں ،
افسوس اُن لمحات پر جن لمحات میں ہم اپنے بچوں کی شخصیات میں یہ چنگاریاں چُھپاتے ہیں ، اور افسوس اُن لمحات پر جن لمحات میں ہم اپنے بچوں کی رگوں میں جُھوٹ اور منافقت کا زہر گھولتے ہیں ، اور اُس سے کہیں زیادہ افسوس خود ہم پر جو اپنے ہی دِینی ، دُنیاوی ، اور اُخروی مُستقبل میں ممکنہ نیکیوں کے خزانوں کو گناہوں کے انبار میں بدل لیتے ہیں ،  کیا ہی بھلا ہو کہ ہم اپنی اولاد ، اپنے مُسلمان بھائیوں بہنوں کی اولاد کو  اپنے لیے دِین دُنیا اور آخرت میں عِزت ، کامیابی ، اور نیکیوں کا ذریعہ بنائیں ،
اللہ تعالیٰ ہمیں یہ توفیق عطاء فرمائے کہ ہم دُنیا کے چند فائدے اور لذتیں حاصل کرنے کے لیے ، لوگوں میں خود کو پسندیدہ بنانے کے لیے ، پریشانیاں دور کرنے اور نام نہاد خوشی حاصل کرنے کے لیے بھی جُھوٹ کا سہارا نہ لیں اور اپنی اولاد کو بھی اُس سے دُور ہی  رکھیں ۔
و السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ ،
طلبگار دُعا ، عادل سہیل ظفر ۔
تاریخ کتابت : 08/05/1431 ہجری، بمُطابق، 22/04/2010عیسوئی ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مضمون کا برقی نسخہ درج ذیل ربط پر مُیسر ہے :
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Sunday, January 14, 2018

::: جہیز لعنت ، سُنّت یا عادت ؟ :::

::: جہیز لعنت، سُنّت یا عادت ؟ :::
بِسّمِ اللَّہِ الرّ حمٰنِ الرَّحیم
الحَمدُ لِلّہ ِ وحدہُ و الصَّلاۃُ و السَّلامُ عَلیٰ مَن لا نبیَّ   و لا مَعصُومَ بَعدَہ ُمُحمد ا ً  صَلَّی اللَّہُ عَلیہ ِوعَلیٰ آلہِ وسلّمَ ، و مَن  أَھتداء بِھدیہِ و سلک َ  عَلیٰ     مَسلکہِ  ، و قد خسَر مَن أَبتداعَ و أَحدثَ فی دِینِ اللَّہ ِ بِدعۃ، و قد خاب مَن عدھا حَسنۃ :::  اکیلے اللہ کے لیے ہی ساری خاص تعریف ہے اور رحمت اور سلامتی اس پر جِس کے بعد کوئی بنی نہیں اور کوئی معصوم نہیں وہ ہیں محمد  صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم، اور رحمت اور سلامتی اُس پر جِس نے اُن صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی ہدایت کے ذریعے راہ  اپنائی اور اُن صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی  راہ پر چلا، اور یقیناً وہ نُقصان پانے والا ہو گیا جِس نے اللہ کے دِین میں کوئی نیا کام داخل کیا ، اور یقیناً وہ تباہ ہو گیا جِس نے اُس بدعت کو اچھا جانا ۔
السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ،
ہمارے مُعاشرے میں بہت سے کام ، اور بہت سی باتیں ایسی مروج ہو چکی ہیں جو حقیقت سے دُور  ہیں ،
اور ایک ہی کام یا مُعاملے سے متعلق ہونے کے باوجود تقریباً  ایک دُوسرے کی ضِد ہوتی ہیں ،  مختلف ہی نہیں ہوتِیں ، بلکہ مختلف انتہاؤں تک پہنچی ہوتی ہیں ،
ایسے ہی مُعاملات میں ایک مُعاملہ شادی کے وقت  بیٹی کو کچھ دینا ہے ، جِسے عام طور پر""" جہیز""" کہا جاتا ہے ،
کچھ لوگ اِس مُعاملے کو کاروبار بنائے ہوئے ہیں ، اور بیٹیوں والوں کی زندگی اجیرن کیے رکھتے ہیں ،  مُعاشرے میں بہت ہی زیادہ فساد کا سبب بنتے ہیں ،
ایسے لوگوں کے اِس یقینی ناجائز رویے کو دیکھتے ہوئے کچھ لوگوں نے """جہیز"""  دینے کو ہی ناجائز ، حرام ، اور لعنت وغیرہ قرار دے رکھا ہے ،
اور دُوسری طرف کچھ لوگ ایسے ہیں جو """جہیز""" دینے اور لینے  میں موجود اور مروج  غیر اِسلامی ، غیر اِخلاقی، حتیٰ کہ غیر اِنسانی رویوں اور مُعاملات  کے باوجود اِسے سُنّت قرار دیے ہوئے ہیں ،
اور کچھ لوگ اِسے محض ایک مُقامی مُعاشرتی عادت قرار دیے ہوئے ہیں ، جبکہ یہ کام محض ہماری ، یا کِسی بھی اور مُعاشرے کی محض مُعاشرتی عادت نہیں ،
اِن سب مختلف انتہاؤں پر جا ٹکنے کا سبب یہی محسوس ہوتا ہے کہ ہم لوگ کِسی مُعاملے کے بارے میں اُس کی حقیقت جاننے کی بجائے محض چند اِدھر اُدھر کے فلسفوں اور یک طرف قِسم کی خبروں سے متاثر ہو کر دِینی، دُنیاوی ، مُعاشرتی  اور ا ُخروی مُعاملات میں فرق رَوا نہیں رکھتے ، اللہ سُبحانہ ُ وتعالیٰ  ہم سب پر حق واضح کرے اور اُسے قبول کرنے کی ہمت عطا ءفرمائے ،
اِن شاء اللہ  ، اِس مضمون میں ہم  """جہیز دینے  """ کو دِین کی روشنی میں سمجھتے ہیں ،
قارئین کرام ، توجہ فرمایے ،  کسی بھی عمل کو جائز یا نا جائز قرار دِینے کے لیے ہمیں اللہ عزّو جلّ ، یا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کا کوئی حکم درکار  ہوتا ہے ،  فقط کِسی کے کِسی کام کو جائز یا ناجائز سمجھنے یا قرار دینے سے کوئی کام جائز ناجائز نہیں ہوجاتا ہے ،
اِنسان کے مُعاشرتی مُعاملات میں عموماً دو قِسم کے مُعاملات ہوتے ہیں ،
::: (1) ::: عقائد پر مبنی ، جِن میں عِبادات شامل ہوتی ہیں ، ہر وہ کام جو  کوئی مُسلمان  نیکی سمجھ کر کرتاہو، اللہ کی رضا کا سبب سمجھ کر کرتا ہو، آخرت کی خیر کا سبب سمجھ کر کرتا ہو، اور اِسی قِبیل کے دیگر کام  جوکِسی عقیدے پر مبنی ہوں ،
ایسے تمام کاموں کا اصل بنیادی حکم مُمانعت ہے ، یعنی، ایسا کوئی بھی کام کرنا منع ہے  جب تک کہ اُس کے کرنے کی اجازت اللہ جلّ و عُلا ، یا ، اُس کے رسول کریم محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم ، یا دونوں سے ہی مُیسر نہ ہو ،
اِسی لیے  اُمت کے اِماموں اور عُلماء کرام رحمہم اللہ اجمعین نے یہ قاعدہ  ، یہ قانون مُقرر فرما رکھا ہے کہ """الاصل فی العِبادات الحظر :::عِبادات کی اصل یعنی اُن کا بنیادی حُکم ممانعت ہے"""،
::: (2) ::: عادات پر مبنی ، جِن میں لین دَین ، شادی بیاہ   میں سے نکاح  کے عِلاوہ رسومات وغیرہ ، لِباس ، کھانے پینے کے انداز و اطوار، ایک دُوسرے سے مُلاقات کے انداز و اطورا وغیرہ سے متعلق  سب ہی کام  شامل ہوتے ہیں ،
اور ، میرے محترم قارئین ، عادات  پر مبنی مُعاملات کے بارے  میں  اُمت کے اِماموں اور علُماء  کرام رحمہم اللہ جمعیاً    کا یہ قانون ہے کہ""" الأصل فی العادات الاباحیۃ ، اِلا ما نَھیٰ عنھا اللَّہُ و رسولہ ُصلی اللَّہ علیہ و علی آلہ وسلم ::: عادات کا بنیادی حکم جائز ہونا ہے سوائے اُس کے جس سے اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے منع فرمایا ہو """،
قارئین کرام یہاں یہ بات بھی یاد رکھنے کی ہے کہ کِسی کام سے مُمانعت کا حکم کئی صیغوں، یعنی مختلف اِلفاظ  اور انداز کلام  میں پایا جاتا ہے ، ضروری نہیں کہ صِرف باز آ جاؤ، مت کرو، وغیرہ جیسے اِلفاظ ہی مُمانعت کے لیے اِستعمال کیے جائیں ،
لہذا ، مُمانعت کا مفہوم رکھنے والے تمام تر اِلفاظ کا خیال رکھتے ہوئے یہ دیکھا جاتا ہے کہ  وہ عادات جن پر مُمانعت وارد نہیں  ہوئی ، وہ عادات اپنی انفرادی حیثیت میں  جائز ہیں،
جی انفرادی حیثیت میں ، اِس کے ساتھ ساتھ اُن عادات کی تکمیل میں ادا کیے گئے ہر ایک فعل کو دیکھا اور شرعی طور پر اُس کی حیثیت کو سمجھا جاتا ہے ، جہاں تک کوئی کام کسی شرعی مُمانعت میں داخل نہیں ہوتا اُسے ناجائز نہیں کہا جائے گا ،
یہ قانون سمجھنے کے بعد آیے  دیکھتے ہیں کہ بیٹی کو اُس کی شادی کے وقت  کچھ دِیے جانے کی شرعاً کیا حیثیت ہے ؟؟؟
میرا حُسنءِ ظن  ہے کہ یہ بات تقریباً  ہر وہ مُسلمان جانتا ہی ہوگا جِس نے اپنے محبوب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی سیرت مُبارکہ کا مطالعہ کیا ہو گا کہ ، محمد  رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے اپنی سب سے چھوٹی اور لاڈلی بیٹی فاطمہ رضی اللہ عنہا کو جہیز میں چار چیزیں عنایت فرمائیں ،
جیسا کہ  امیر المؤمنین علی رضی اللہ عنہ ُ و أرضاہُ نے اپنی شادی کے بارے میں بتایا  ہے کہ ((( أَنَّ رَسُولَ صلى اللَّهِ عليه وسلم لَمَّا زَوَّجَهُ فَاطِمَةَ بَعَثَ مَعَهَا بِخَمِيلَةٍ وَوِسَادَةٍ من آدم حَشْوُهَا لِيفٌ وَرَحَيَيْنِ وَسِقَاءٍ وَجَرَّتَيْنِ ::: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جب اِن کے ساتھ  فاطمہ( رضی اللہ عنہا )کا نکاح کیا  تو فاطمہ (رضی اللہ عنہا ) کے ساتھ ایک مخملی کپڑا (چادر یا پہننے والا کوئی کپڑا  )اور تکیہ جس پر پتوں کی رگوں کا غلاف تھا اور دو چکییاں (یعنی دو پاٹ والی چکی ) اور دو چھوٹے مشکیزے بھیجے )))مُسند احمد ، الاحادیث المختارہ ،
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے اِس عمل مُبارک کی روشنی میں جہیز دِینا کوئی """ مُقامی کلچر """ نہیں رہتا ،  اور نہ ہی کِسی مُعاشرے کی کوئی اپنی ہی رسم ،  بلکہ دُنیا کے تمام مُسلمانوں کے لیے اُن کی  اِسلامی شریعت میں ایک جائز کام قرار پاتا ہے ،
 اسے """ کِسی مُعاشرے کا مُقامی کلچر""" قرار دِینا یا کہنا دُرُست نہیں ،
 اور نہ ہی اسے یکسر ناجائز کہا جا سکتا ،
جب تک کہ اِس کام کی کیفیت میں کوئی اور ناجائز یا حرام کام شامل نہ ہو جائے ، مثلا جہیز ، اگر حرام مال سے دِیا جائے ،
یا ، اپنی اولاد میں سے کِسی کا  حق مار کر دِیا جائے ، یا ،
 مُعاملہ فضول خرچی کی حُدود میں داخل ہو جائے ،
 یا ، بلا ضرورت دِیا جائے ،
 تو یقینا ایسی صُورت میں نا جائز ہو گا ،
:::::: رہا مُعاملہ  جہیز دینے کو سُنّت قرار دینے کا تو ، یہ کہنا کئی طور پر دُرُست نہیں کہ یہ سُنّت ہے ،
کیونکہ ہمیں ایسی کوئی خبر نہیں ملتی کہ  رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے فاطمہ رضی اللہ عنہا سے پہلے اُن کی دو بڑی  بہنوں کو جن دونوں کا نکاح یکے بعددیگرے   امیر المؤمنین ذی النورین  عثمان رضی اللہ عنہ ُ و أرضاہ ُ  کے ساتھ کیا تھا ،اپنی  اُن دونوں بیٹیوں کو  بھی  اُن کی شادی پر کچھ دِیا ہو ،
 فاطمہ رضی اللہ عنھا کو دِینا ضرورت تھی کیونکہ علی رضی اللہ عنہ ُ کے پاس گھر کے سامان میں سے  کچھ نہ تھا جیسا کہ خود علی رضی اللہ عنہ ُ  کا ہی  فرمان ہے جو عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہ ُ  سے روایت ہے کہ ((( جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے میرے ساتھ فاطمہ رضی اللہ عنہا کا نکاح فرمایا تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم سےعرض کیا """ یا رسول اللَّہ أِبتنی ::: اے اللہ کے رسول مجھے میری بیوی کے پاس جانے کی اجازت دیجیے """،
 تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے اِرشاد فرمایا ((( عِندك شيء تُعطِيها ::: تمہارے پاس اسے (مہر میں ) دِینے کے لیے کچھ ہے ؟ )))،
میں نے عرض کیا """ لا ::: جی نہیں """ ،
تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے اِرشاد  فرمایا (((  أين دِرْعَكَ الْحُطَمِيَّةَ::: تمہاری حطمیہ درع کہاں ہے ؟)))،
میں نے عرض کیا """ میرے پاس ہے """،
 تو اِرشاد  فرمایا ((( وہ اُسے (مہر میں )دے دو)))،
یہ مندرجہ بالا حدیث ، الاحادیث المختارہ /حدیث 610 /جلد 2 / صفحہ 231 ، مطبوعہ مکتبہ النھضہ الحدیثہ ، میں ہے ،
 اور مختلف اِلفاظ اور صحیح اَسناد کے ساتھ مندرجہ ذیل کتب میں بھی ہے ،
 التعلیقات الحِسان علی صحیح ابن حبان بترتیب ابن بلبان/حدیث 6906 /کتاب 60 أخبارہ صلی اللہ علی وعلی آلہ وسلم عن مناقب الصحابہ / ذکر ما أعطی علی رضی اللہ عنہ فی صداق فاطمہ رضی اللہ عنھا ، مطبوعہ دار باوزیر /جدہ /السعودیہ ، سنن النسائی / حدیث 3375 کتاب النکاح / باب 60 ، جز 6 داخل جلد 3 ، مطبوعہ دار المعرفہ ، بیروت ، لبنان ، عون المعبود شرح سنن ابی داود / حدیث 2126 / کتاب النکاح / باب 36 ، مطبوعہ مطبوعہ دار الکتب العلمیہ ، بیروت ، لبنان ، سنن البیہقی الکبریٰ / مسند ابی یعلی / حدیث 2433 / مسند ابن عباس کی روایت 110 ، جلد 3 ، صفحہ 43 ، مطبوعہ دار القبلہ ، جدہ ، السعودیہ ، مسند احمد / حدیث 603 / مسند علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی حدیث 41 ،جلد اول ، مطبوعہ عالم الکتب ، بیروت ، لبنان ، اور دیگر کتب احادیث میں صحیح اسناد کے ساتھ موجود ہے ،
 اِس حدیث سے یہ بھی پتہ چلا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے فاطمہ رضی اللہ عنھا کو ضرورت کی جو چار چیزیں دی تھیں اُسکی وجہ  نہ تو  کوئی """مُعاشرتی عادت """ تھی ، اور نہ ہی  """ کسی مُقامی کلچر """ کی وجہ سے تھا ،بلکہ ضرورت تھی ، پس اِسے سُنّت کا درجہ نہیں دِیا جا سکتا ،
اور یہ بھی پتہ چلا کہ ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی عملی اجازت کی بنا پر جہیز دِینے کو یکسر ناجائز بھی نہیں کہا جا سکتا ،
اور یہ بھی پتہ چلا کہ ، أمیر المؤمنین علی رضی اللہ عنہ ُ کی اپنی دِرع شادی کی تیاری کے لیے نہیں فروخت کی تھی بلکہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے حکم کے مُطابق بطور مہر دی تھی ،
اور یہ بھی پتہ چلا کہ ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے اُس دِرع کی قیمت سے سامان خرید کر فاطمہ رضی اللہ عنہا کو نہیں دِیا تھا ،بلکہ اپنے پاس سے دِیا تھا ،
فاطمہ رضی اللہ عنھا کو جو سامان دِیا گیا اُس کے اِنتظام یا مہیا کرنے کے بارے میں اِمام ابن سعد کی طبقات الکبریٰ میں ایک روایت ہے جس میں علی رضی اللہ کی سواری کا جانور فروخت کرنے کا ذکر ہے اور اُس کی قیمت کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی طرف سےاِس طرح  تقسیم کیا گیا کہ دوتہائی ولیمے کے اِستعمال ہو اور ایک تہائی سامانء ضرورت کے لیے ، لیکن فی الوقت مجھے  اُس روایت کی صحت کا اندازہ نہیں اِس لیے میں اُس روایت کو اپنی بات کا حصہ نہیں بنا رہا ، صِرف معلومات کے لیے ذکر کر رہا ہوں ،
اِسی طرح کی ایک روایت صحیح ابن حبان /کتاب 60 كِتَابُ إِخْبَارِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ مَنَاقِبِ الصَّحَابَةِ / باب ذِكْرُ وَصْفِ تَزْوِيجِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ فَاطِمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا وَقَدْ فَعَلَ،  اِس روایت کو امام البانی رحمہُ اللہ نے "ضعیف الاسناد ، منکر المتن "، دیکھیے التعلیقات الحسان علی صحیح ابن حبان ،
اگر یہ روایت صحیح ہوتی  تو مُعاملہ مرد حضرات کے لیے اور زیادہ سخت ہو جاتا ہے کہ وہ لڑکی والوں کو سامان کی تیاری کے لیے مال فراہم کریں نہ کہ اُن سے مانگیں ،
یہ مُعاملہ تو جہیز دِینے والے کے لیے ہوا ، اور لینے والے کے لیے خود سے سوال کر کے یا فرمائش کر کے جیسا کہ اب ہمارے مُعاشرے میں ہوتا ہے ، ایسا کرنا قعطاً  جائز نہیں ،
 کیونکہ یہ اکثر اوقات ظلم میں شامل ہوتا ہے ، اور دُوسری طرف اِسلام میں عورت کو اُس کی طلب کے ُمطابق مہر ادا کرنے کا حکم ہے نہ کہ عورت یا وارثین سے مال لینے کا ،
 یہ غیر اِسلامی طریقہ ہے اور غیر مُسلموں کی نقالی جائز نہیں ، خاص طور پر اُن کی ایسی عادات اپنانے کی اجازت نہیں جو کِسی بھی طور اِسلامی تعلیمات کے خِلاف ہوں  ، غیر مُسلموں کی نقالی کے بارے میں کچھ دیگر مضامین میں تفصیلی گفتگو ہو چکی ہے ، لہذا یہاں اُسے پھر سے دہرا کر میں اِس مضمون کے موضوع کو بھاری نہیں کرنا چاہتا ،
حاصل کلام یہ ہوا، کہ اگر کوئی خود سے اپنی بہن یا بیٹی یا کسی بھی اور کو اُس کی شادی و رخصتی پر جائز حُدود میں رہتے ہوئے کچھ دیتا ہے تو  لڑکی ، اور اُس کے سسرال والوں کے لیے وہ لینا جائز ہے ،
لیکن یہ نہ توکوئی مُعاشرتی عادت ہے ، نہ سُنّت ، اور نہ ہی  مُطلقاً   ناجائز یا حرام ،  نہ ہی لعنت کا سبب ،
قارئین کرام،   یہ بہت اچھی طرح سے سمجھنے اور یاد رکھنے والا مُعاملہ ہے کہ """ جس کام کے غلط ، ناجائز ،لعنت والا یا کسی اور سبب سے حرام ہونے کی کوئی شہادت اللہ جلّ و عزّ یا اُس کے خلیل محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی طرف سے میسر نہ ہو ، یا صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین کی جماعت کے اتفاق کی دلیل کے ذریعے سے نہ ہو ،تو ایسے کسی کام کو لوگوں کی طرف سے غلط ، یا ناجائز ، یا مقررہ حد سے خارج ہو کر کیے جانے کی وجہ سے جو نُقصانات ہوتے ہیں ، ان نُقصانات کی وجہ سے ہم اُس کام کو شرعی طور پر حرام یا لعنت قرار نہیں دے سکتے ،
خیال رہے "سد ذرائع" والا  قانون  اِستعمال کرنا ہم جیسوں عام لوگوں اور چند ایک اِکا دُکا علماء کے اختیارات میں سے نہیں ،
جی ہاں ،اُس کام کی شرعی حیثیت برقرار رکھتے ہوئے ، اُس کے غلط اور بے جا اور حُدود سے خارج ہو کر ، ظلم اور زیادتی پر مبنی اِستعمال میں سے حرام کی خبر ضرور کی جا نی چاہیے ،اور اُس پر غیر حقیقی شرعی حکم صادر کرنے سے دُور رہتے ہوئے اُس کے دِینی ، دُنیاوی اور اُخروی نُقصانات کے بارے میں سب کو آگاہ کرتے ہوئے ان سے بچانے کی کوشش کی جاتی رہنی چاہیے، حتیٰ کہ اللہ تبارک وتعالیٰ اُس کی اصلاح فرما دے """ ،
ہم میں سے کوئی بھی اِس حقیقت سے اِنکار نہیں کر سکتا کہ جہیز لینے اور دینے کی رسم ہمارے مُعاشرے میں ظُلم و زیادتی کی بہت سے حدود تجاوز کیے ہوئے ہے ، اور اگر کہیں کوئی اِس کی اِصلاح کی کوشش میں جہیز نہیں لیتا تو بھی ایسا کرنے والوں میں سے اکثر  کے اہل خاندان شادی کے بعد لڑکی کا جینا دوبھر کیے رکھتے ہیں ، لہذا ہم یہ دیکھتے ہیں کہ کسی لڑکے یا مرد کی طرف سے جہیز نہ لینے کے اصرار کے باجود لڑکی والے جہیز دیتے ہیں ، اور اکثر اوقات اپنی مالی و مُعاشی قُوت سے بہت بڑھ کر خود کو مصیبتوں میں ڈال دیتے ہیں ،
جہیز لینے اور دینے میں واقع ہونےو الی زیادتی بھی دیگر بہت سے غلط اور ناجائز کاموں کی طرح ہمارے ُمعاشرے میں ایک معمول بن چکی ہے ، جِس کی اِصلاح سختی ترشی سے ہونا تقریباً نا ممکن ہے ، پس یہ مُعاملہ آہستگی ، نرمی اور مُستقل تبلیغ کے ذریعے دِلوں اور احساسات کی اِصلاح کے ذریعے ہی سُدھارا جا سکتا ہے اِن شاء اللہ ، نہ کہ جہیز کو حرام یا لعنت قرار دے کر ، کیونکہ جب کسی کام کو اُس کی اصل شرعی حیثیت کی بجائے کسی اور حیثیت میں کر دیا جاتا ہے تو ِاس کاروائی کے نتیجے میں اللہ کی طرف سے کوئی خیر نہیں ہوتی ، لہذا جس کام کی جو شرعی حیثیت ہے اُسے وہیں رکھتے ہوئے، اُس کام کو غلط ، ناجائز اور حرام طریقوں سے پورا کرنے کے لیے جو کچھ کیا یا کروایا جاتا ہے اُس کی اِصلاح کی کوشش کی جانی چاہیے ، اللہ تبارک وتعالیٰ ہم سب کی اور سب ہی مسلمانوں کی اصلاح فرمائے ،اور  ہم سب کو حق جاننے ، ماننے ، اپنانے ، اور اُسی پر عمل پیرا رہنے کی توفیق عطاء فرمائے ۔
والسلام علیکم،طلب گارء دُعا ء ، عادِل سہیل ظفر ،
تاریخ کتابت : 26/11/1431ہجری، بمُطابق، 03/11/2010عیسوئی ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مضمون کا برقی نسخہ درج ذیل ربط سے نازل کیا جا سکتا ہے :
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔