Thursday, June 14, 2018

::: نمازء عید اور نمازء جمعہ ایک ہی دِن :::


:::  نمازء عید اور نمازء جمعہ ایک ہی دِن  :::
بِسّمِ اللَّہِ الرّ حمٰنِ الرَّحیم ، والصَّلاۃُ و السَّلامُ علیٰ رسولہِ الکریم ، أما بعد :::
السلام علیکم ورحمۃُ اللہ و برکاتہ ،
کئی سال بعد ایک دفعہ پھر  سعودی عرب اور دیگر کئی ممالک میں  میں عید الاضحیٰ جمعہ کے روز آ رہی ہے لہذا یہ  مسئلہ پھر سے  سمجھنے کی ضرورت ہوئی کہ نماز ء عید اورنمازء جمعہ کی ادائیگی کا کیا سلسلہ ہو گا ؟
اس مسئلےکا بیان ::: دونوں عید کے دِن اور نماز کے اہم مسائل:::میں پیش کر چکا ہوں ، اور وہیں سے نقل کر رہا ہوں کہ :::
*** اگر عید جمعہ کے دِن ہو عید کی نماز پڑہنے کے بعدجمعہ کی نماز چھوڑی جا سکتی ہے *** 
::: دلائل :::
::::: (1) ::::: ابو ہُریرہ رضی اللہ عنہُ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا((((( قَد اجتَمَعَ فی یَومِکُم ہذا عِیدَانِ فَمَن شَاء َ اَجزَاَہُ مِن الجُمُعَۃِ وَاِنَّا مُجَمِّعُونَ ::: تُم لوگوں کے آج کے دِن میں دو عیدیں اکٹھی ہو گئی ہیں تو جو چاہے (عید کی نماز کے ذریعے ) جمعہ کو چھوڑے لیکن ہم دونوں نمازیں پڑہیں گے )))))سنن ابو داؤد ، حدیث 1069 / کتاب الصلاۃ / تفریع ابواب الجمعہ / باب 215، اِمام الالبانی نے کہا حدیث صحیح ہے ۔
::::: (2) ::::: اِیاس بن ابی رملۃ رحمۃ اللہ علیہ کا کہنا ہے ''''''' میں معاویہ بن ابی سُفیان رضی اللہ عنہما کے پاس تھا ، اُنہوں نے زید بن الاَرقم رضی اللہ عنہُ سے پوچھا ::: کیا تُم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ  وسلمکے ساتھ  ایک ہی دِن میں دو عیدیں دیکھی ہیں؟ (((یعنی جمعہ کے دِن عید الفِطر یا عید الاَضحی ))) 
زید رضی اللہ عنہُ نے کہا ‘‘‘ جی ہاں ’’’
معاویہ بن ابی سُفیان رضی اللہ عنہ نے پوچھا ‘‘‘ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا کِیا تھا ؟ ’’’،
 زید رضی اللہ عنہُ نے کہا‘‘‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عید کی نماز پڑہی اور پھر جمعہ کی نماز میں رُخصت ( نہ پڑہنے کی اجازت) دیتے ہوئے فرمایا ((((( مَن شَاءَ اَن یُصَلِّی فَلیُصَلِّ::: جو (جمعہ کی نماز) پڑہنا چاہے وہ پڑھ لے ( یعنی جو نہ چاہے وہ نہ پڑہے))))) '''''''،سنن ابو داؤد / حدیث 1066 / کتاب الصلاۃ / تفریع ابواب الجمعہ / باب 215 ، سنن ابن ماجہ / حدیث 1310 /کتاب اِقامۃ الصلاۃ/ باب166، اِمام علی بن المدینی رحمہُ اللہ نے صحیح قرار دِیا ، بحوالہ ''' التلخیص الحبیر ''' اور اِمام الالبانی  رحمہُ اللہ نے بھی صحیح قرار دِیا ، 
::::: (3) ::::: ایک دفعہ عید جمعہ کے دِن ہو گئی تو  امیر المؤمنین علی رضی اللہ عنہُ نے فرمایا((((( مَن اَرادَ اَن یُجَمِّعَ فَلیُجَمِّع ، ومَن اَرادَ اَن یَجلِسَ فَلیَجلِس::: جو دونوں نمازیں پڑہنا چاہے تو پڑہے اور جو بیٹھنا چاہے تو بیٹھے)))))اِمام سفیان الثوری  رحمہُ اللہ نے کہا اِس کا مطلب ہے کہ'''''''جو( جمعہ نہ پڑھنا چاہے اور) اپنے گھر میں بیٹھنا چاہے تو بیٹھے'''''''،  مصنف عبدالرزاق ،حدیث 5731 / کتاب صلاۃ العیدین /باب 118جتماع العیدین ، مُصنف ابن ابی شیبہ / حدیث 5839 / کتاب الصلوات /باب 433 فی العِیدانِ یَجتَمِعانِ یَجزِیءُ اِحدُھما مِن الآخر ، حدیث صحیح ہے ۔
::::: (4) ::::: عبداللہ ابن زبیر رضی اللہ عنہما کے دور میں عید جمعہ کے دِن ہوئی تو اُنہوں نے صرف عید کی نماز اور جمعہ کی نماز کو جمع کر لیا اور جمعہ کی نماز نہیں پڑہی بلکہ عید کی نماز پڑہنے کے بعد (عصرکے وقت ) عصرکی نماز پڑہی ::::: سنن ابو داؤد / حدیث 1068 / کتاب الصلاۃ / تفریع ابواب الجمعہ / باب 215 ، اِمام الالبانی  رحمہُ اللہ نے کہا حدیث صحیح ہے ۔
عید کی نماز کا طریقہ  صحیح سُنّت مبارکہ کے مطابق ، اور دیگر مسائل جاننے کے لیے ::: دونوں عید کے دِن اور نماز کے اہم مسائل::: کا مطالعہ اِن شاء اللہ مُفید ہو گا ، والسلام علیکم۔

Tuesday, May 8, 2018

:::::: زیتون کے تیل کے فوائد :::::::

:::::: زیتون کے تیل کے فوائد :::::::
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ         
أَعُوذُ بِاللَّهِ السَّمِيعِ الْعَلِيمِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ مِنْ هَمْزِهِ وَنَفْخِهِ وَنَفْثِهِ
و الصَّلاۃُ والسَّلامُ عَلیٰ رَسولہ ِ الکریم مُحمدٍ و عَلیَ آلہِ وَأصحابہِ وَأزواجِہِ وَ مَن تَبِعَھُم بِاِحسانٍ إِلٰی یَومِ الدِین ، أما بَعد :::السلام علیکم ورحمۃُ اللہ و برکاتہ ،
اللہ سُبحانہ و تعالی کا فرمان مُبارک ہے﴿ شَجَرَةٍ مُبَارَكَةٍ زَيْتُونَةٍ لَا شَرْقِيَّةٍ وَلَا غَرْبِيَّةٍ يَكَادُ زَيْتُهَا يُضِيءُ وَلَوْ لَمْ تَمْسَسْهُ نَارٌ::: مُبارک درخت جو کہ نہ مشرقی جانب میں ہو ، نہ مغربی جانب میں (بلکہ وسط میں نمایاں رہتا ہے)اُس کے تیل کو خواہ آگ چھوئے بھی نہیں وہ تیل اپنے آپ میں  خود ہی چمکتا ہے   سُورت النُور (24)/آیت35 ، 
اور اِرشاد فرمایا ہے﴿ وَشَجَرَةً تَخْرُجُ مِن طُورِ سَيْنَاء تَنبُتُ بِالدهْنِ وَصِبْغٍ للآكِلِينَ ::: اور (وہ زیتون کا)درخت جو سیناء کے پہاڑ  سے ملنے والا تیل اور کھانے والوں کے لیے سالن لیے ہوئے  نکلتا ہے سُورت المؤمنون(23)/آیت 20،
جس چیز کے بارے میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے با برکت ہونے کی خبر دی ہو ، اور اس کے ایسے مذکورہ بالا  اوصاف بیان فرمائے ہوں اُس چیز کے فوائد میں کسی قِسم کا شک نہیں رہ جاتا ،
یہ اللہ تبارک و تعالیٰ  کی حِکمت ہے کہ وہ اُسی وقت اِنسان کو کسی چیز کا عِلم دیتا ہے جب اُس عِلم کا  اِنسان کو ملنا مُناسب ہو ، اور جب مُناسب ہوتا ہے اُسی وقت ہی اِنسان کو دیے ہوئے عِلم میں اضافہ دیتا ہے ، زیتون اور زیتون کے تیل کے بارے میں اللہ سُبحانہ ُ و تعالیٰ کی یہ سُنّت جاری ہے کہ انسان کو وقتاً فوقتاً اُس کے فوائد اور اس میں اللہ کی طرف سے  دی گئی برکت کے بارے میں عِلم ملتا رہتا ہے ، جو کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اِن مذکورہ بالا فرامین مُبارکہ کی ، اور اللہ کے رسول کریم محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے فرمان مُبارک کی حقانیت کی دِلیل بنتا ہے ، اور اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے فرامین کا اِنکار کرنے والوں  کے خلاف حُجت بنتا ہے ، اللہ ہم سب کو اور ہر کلمہ گو کو ہر شر سے محفوظ رکھے ،
زیتون کا تیل بلا مبالغہ دیگر تمام تیلوں سے افضل ہے ، کیونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اُس پودے کو ہی با برکت قرار دیا ہے جِس کے پھل سے یہ تیل نکالا جاتا ہے، ہم مُسلمان تو اس پر اِیمان رکھتے ہیں ، جس کے لیے ہمیں کسی قِسم کے دیگر علوم کی گواہیاں درکار نہیں ،
لیکن چونکہ ہماری صفوں میں ایسے لوگ بھی ہیں جنہیں دِین کے مُعاملات بھی مادی معایر پر پرکھ کر  ہی سمجھ میں آتے ہیں ، اور وہ مادی علوم کی روشنی میں ہی اللہ اور اُس کے رسول کریم محمد  صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے فرامین کو مانتے یا رد کرتے ہیں ،  اور دونوں ہی صورتوں میں اپنی آخرت کا نقصان کرتے ہیں ، کیونکہ اگر  وہ لوگ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی کسی بات کو کسی مادی عِلم ، کسی مادی معیار کی کسوٹی پر  پر کھنے کے بعد مانیں اور مادی فوائد حاصل کرنے کے لیے اُس پر عمل کریں تو اُن کے ماننے اور اُن کے عمل کرنے میں اُن کے لیے آخرت میں کوئی خیر نہیں کیونکہ  ﴿ إِنَّمَا الأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ ، وَإِنَّمَا لِكُلِّ امْرِئٍ مَا نَوَى ::: یقیناً عملوں کا دارومدار نیتوں پر ہے ، اور ہر اِنسان کے وہی(نتیجہ) ہے جِس کے لیے اُس نے نیت کیصحیح البخاری / پہلی حدیث،
اور اگر وہ لوگ  کسی بات کو اللہ اور اُس کے رسول کریم محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی طرف سے ثابت ہونے کی صورت میں نہ مانیں تو اُن کی آخرت کی تباہی میں شک کی کوئی گنجائش ہی  نہیں رہتی، ولا حول ولا قوۃ الا باللہ ،
میں اِس مضمون میں زیتون کے تیل میں بارے جدید علوم کی تحقیقات میں مُیسر کچھ معلومات ایسے کسی بیمار  دِل والے کے لیے نہیں پیش کر رہا جو اللہ اور اس کے رسول  کریم محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے فرامین کو مادی کسوٹیوں پر  پرکھتا ہو، اور نہ ہی یہ معلومات اِس لیے پیش کر رہا ہوں کہ پڑھنے والوں میں سے میرے مُسلمان بھائی یا بہن اِن معلومات کی بنا پر زیتون کا تیل اِستعمال کریں ،
بلکہ یہ معلومات اللہ تبارک و تعالیٰ کے مذکورہ بالا دو فرامین اور اُس کے رسول کریم محمد  صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے فرمان کی حقانیت کی گواہی کے طور پر پیش کر رہا ہوں ، تا کہ اللہ تعالیٰ انہیں  اِیمان والوں کے اِیمان میں اضافے کا سبب بنائے ، اور بیمار دِلوں اور ذہنوں کی شفاء کا سبب بنائے ،
::: خصوصی گذارش ::: اِن معلومات کو پڑھنے کے بعد جو مسلمان بھائی یا بہن اِن معلومات میں مذکور کسی فائدے کو حاصل کرنے کے لیے زیتون کا تیل استعمال کرے تو نیت کی درستگی کے ساتھ اِستعمال کرے کہ اللہ تعالیٰ نے اِسے با برکت قرار دیا ہے، اِس کی ذاتی صِفت کچھ نہیں ، اور اللہ سے دُعاء  کرے کہ اللہ تعالیٰ اِس تیل کو اُس کے لیے بھی با برکت کرے اور اُس کا مطلوب مہیا فرما دے ،
عقیدے کی صفائی ، درستگی اور مضبوطی کے لیے کچھ باتیں عرض کرنے کے بعد اب میں آتا ہوں زیتون کے تیل کے بارے میں ملنے والی معلومات کی طرف،   
دور حاضر کےمحققین(ریسرچرزResearchers )یہ جان کر حیران رہ گئے کہ بحیرہ  روم (البحر الابیض المتوسط ، Mediterranean Sea) میں پائے جانے والے یونانی جزیروں میں سے ایک جزیرے کریٹ(Crete) کے رہنے والے پوری دُنیا میں سب سے کم دِل کے امراض ، اور سرطان (کینسر)کا شِکار ہوتے ہیں ، اِس حیرت انگیز انکشاف کے بعد اُن محققین (ریسرچرزResearchers )نے تحقیق کا دائرہ کار وسیع کیا تو انہیں مزید حیرت کا شِکار ہونا پڑا ، جب اُنہیں یہ پتہ چلا کہ پُوری دُنیا میں  اِس جزیرے کے باسی اپنے کھانے پینے میں سب سے زیادہ زیتوں کا تیل استعمال کرتے ہیں ،
اُن لوگوں کے جسموں میں روزانہ  داخل ہونے والے  حرارے (کیلوریز ،Calories) میں سے 33% فیصدحرارے (کیلوریز ،Calories)  زیتون کے تیل کے ذریعے مہیا ہوتے ہیں ،
ڈاکٹر ولیم  کاسٹللی (Willam Castelli)جو کہ(Framingham Heart Study)کے ڈائریکٹر رہے ہیں  ، کا کہنا ہے کہ  """ باوجود اِس کے کہ بحیرہ روم کے درمیانی علاقے میں رہنے والے لوگ بَھیڑوں ، گھی ، بالائی اور پنیر وغیرہ میں پائی جانے  والی  کافی  ناقص اور نقصان دہ قسم کی چکنائیاں (روغنیات ،Fats) بھی کھاتے ہیں ، لیکن چونکہ وہ لوگ اپنے کھانے زیتون کے تیل میں تیار کرتے ہیں اِسی لیے اُن لوگوں کے ہاں دِل کی شریانوں کے امراض بہت ہی کم ہوتے ہیں """،
اور یہ بھی کہا گیا  ہے کہ """ہمیں اِس بات کا پوری طرح سے پتہ چل گیا ہے کہ بحیرہ روم کے درمیانی علاقے میں رہنے والے لوگوں کی خوراک میں زیتون کے تیل کا اِستعمال ہی  اُن لوگوں میں دِل اور شریانوں کی بیماریوں سے بچے رہنے کا سبب ہے """،
اور یہ بھی کہا کہ ’’’ کھانے  پکانے اور  کھانے کی چیزوں کو تیار کرنےکا سب سے بہترین طریقہ زیتوں کے تیل ذریعے تیار کرنا ہے ‘‘‘،
نیویارک یونیورسٹی کے ڈاکٹر ٹرایوسان  کی طرف سے جاما (Journal of the American Medical Association)میں نشر کیا گیا کہ """ نئی تحقیقات سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ زیتوں کے تیل کا دِل کی شریانوں کے امراض پر گہرے مفید اثرات مرتب ہوتے ہیں ، گو کہ ہماری اِن تحقیقات کا ھدف خون میں پائے جانے والی چکنائیاں (روغنیات ،Fats) تھیں ، لیکن اُن کے بارے میں تحقیق کے دوران عِلمی مطالعہ و مشاھدہ کے ذریعے یہ حقیقت ہمارے سامنے آئی کہ زیتون کاتیل  شوگر اور ہائی بلڈ پریشر کے مریضوں کے لیے بھی بہت سے مثبت نتائج مہیا کرتا ہے"""،
سابقہ تحقیقات کے نتائج میں یہ تھا کہ """ زیتوں کا تیل کولسٹرول پر کوئی اثر نہیں کرتا ، نہ اُس میں اضافے کا سبب ہوتا ہے اور نہ کمی کا """ لیکن اب جدید تحقیقات میں یہ ظاہر ہوا ہے کہ """ زیتوں کا تیل خون میں کولسٹرول کو کم کرتا ہے، اور حیرت کی بات یہ ہے کہ یہ کمی بہت ہی مثبت انداز میں ہوتی ہے  کیونکہ زیتوں کا تیل خون میں سے صرف نقصان دہ کولسٹرول(LDL) کو ہی کم کرتا ہے مُفید کولسٹرول (HDL)کو نہیں ،  اور یہ معاملہ تجربات و مشاھدات کے ذریعے یقینی ہو چکا ہے کہ خون میں جِس قدر مُفید کولسٹرول کا اضافہ ہو گا اُسی قدر ہارٹ اٹیک کے اندیشے میں کمی ہوتی جائے گی ، اور ہائی بلڈ پریشر نارمل رہنے لگے گا، اور جو لوگ اپنے کھانے پینے میں زیتوں کے تیل کا اِستعمال  جس قدر زیادہ رکھتے ہیں اُسی نسبت سے اُن کے خون میں مفید   کولسٹرول زیادہ اور نقصان دہ کولسٹرول کم رہتا ہے ، اور شوگر اور بلڈ پریشر  معتدِل رہتے ہیں"""،  فسُبحان اللَّہ أحسن الخالقین ،
سٹانفورڈ یونیورسٹی(Stanford university) امریکہ کے ڈاکٹر ولیم (William)نے 76  ایسے لوگوں پر کچھ تجربات کیے ،جو لوگ دِل کی کسی بیماری کا شکار نہ تھے ،تو نتیجہ یہ ظاہر ہوا کہ جو لوگ اپنے روزانہ کے کھانے پینے میں  زیتوں کا تیل اِستعمال کرتے رہے اُن کے بلڈ پریشر میں واضح طور پر کمی ہوئی ، اور خاص طور پر جو لوگ روزنہ 40 گرام تیل استعمال کرتے رہے اُن کے بلڈ پریشر میں تو بہت نُمایاں طور پر کمی واقع ہوئی ،
امریکہ کے شوگر کے مریضوں کی انجمن (American Federation for diabetics) نے نصیحت کی کہ """شوگر کے مریضوں کو  حفاظتی طور پر اپنے کھانوں میں 30%تیس فیصد سے زیادہ چکنائیاں (روغنیات ،Fats)استعمال نہیں کرنا چاہیے ، اور جِس میں زیادہ سے زیادہ چکنائیاں (روغنیات ،Fats) زیتوں کے تیل کے ذریعے حاصل کی جانی چاہیں ، یا سورج مُکھی کے تیل سے """،
2009 کے "European Journal of Clinical Nutrition "میں  لکھا گیا ’’’سورج مُکھی کے تیل میں تیار شدہ کھانے کھانے والے لوگ ، زیتون کے تیل میں تیار شدہ کھانے کھانے والے لوگوں کی نسبت موٹاپے کا زیادہ شکار ہوتے ہیں ‘‘‘ ،
مارچ 2011کے ماہنامہ " Journal of Medicinal Food" میں لکھا گیا """ زیتون کے تیل میں تیار شدہ کھانے خصوصی طور پر موٹی خواتین میں کھانے کے بعد انسولین  کی مِقدار کو دُرُست کرنے میں بہت زیادہ مددگار ہوتے ہیں """،
اپریل 2011 کے"International Journal of Cancer"  میں لکھا گیا """ تیراکی کی بعد ، یا سورج کی شعاعوں کا سامنا کرنے کے بعد زیتون کے تیل کی مالش جلد کے کینسر (Melanoma)سے بچاؤ کا بہترین ذریعہ ہے """،
فروری 2011 کے "Osteoporosis Int." میں، اور "Institute of Physiology and Human Nutrition, Faculty of Pharmacy, University of Palermo " کی تیار کردہ ایک رپورٹ میں  لکھا گیا """چونکہ زیتون کے تیل میں کافی اچھے فینولک کمپاونڈ (phenolic compounds) ہڈیوں کے کمزور ہونے  کی بیماری اوسٹیو پراسس (Osteoporosis)سے بچاؤ اور اِس کی کاروائی میں کمی کے لیے زیتون کا تیل بہترین تاثیر رکھتا ہے"""،
سن 2010کے" Nutrition Metabolism and Cardiovascular Disease" میں کچھ تحقیقات پیش کی گئیں ، جن کا خلاصہ یہ ہے کہ """ ترکیز شدہ زیتون کا تیل ٹیریزویل  ہیڈروکسی تیزابی مادے (Terozul hydroxy acid) کی کافی زیادہ مقدار کا حامل ہوتا ہے اور یہ مادہ انسانی دماغ   کے عصبی خلیوں (Neurons) میں  عمر کے ساتھ ساتھ ظاہر ظاہر ہونے والی کمزوری (Deterioration)سے بچانے کا بڑا سبب ہے ، لہذا زیتون کا تیل قریبی وقت سے متعلقہ باتیں اور کام وغیرہ بھولنے کی بیماری (Alzheimer's disease)کی اصلاح کے لیے بھی بہت مفید چیز ہے """،
:::::: زیتون کے تیل کے دیگر فوائد ::::::
زیتون کے تیل کے بہت سے فوائد ہیں ، جس کا اِقرار قدیم زمانوں سے آج تک  کیا جاتا ہے ،  میں اُن میں سے کچھ عام اور أہم فوائد کا ذِکر کرتا ہوں ،
:::::: زیتوں کا تیل  نرم کرنے والا  لیکن معدے اور انتڑیوں پر ہلکا رہنے والا ہے ، جِس کے نتیجے میں قبض کشا ہوتا ہے ، اور معدے اور نظام انہضام اور فضلہ جات کے خروج کے نظام کو  فعال اوررواں رکھنے کا سبب ہوتا ہے ،  
::::::: زیتون کا تیل معدے اور اس سے نیچے کی انتڑیوں کے زخموں اور سرطان سے بچائے رکھنے کا سبب ہوتا ہے اور اگر یہ تکلیفیں واقع ہو چکی ہوں تو اُن سے  نجات دینے کا سبب ہوتا ہے ،
::::::: زیتون کا تیل پٹھوں اور اعصاب کی تقویت اور نرمی کا سبب بھی ہوتا ہے ،
::::::: زیتون کا تیل  وٹامن اے (Vitamin A)، وٹامن ای (Vitamin E)، بہت سے معدنیات(Minerals) اور  بہت سے اینٹی اوکسیڈینٹس(Antioxidants) کا بہترین متوازن مجموعہ ہے ، لہذا بڑھاپے کی راہ میں روکاٹ کا سبب ہے ،اور بڑھاپے کے نتیجے میں ظاہر ہونے والی کمزوریوں اور بیماریوں کو دیر تک دُور رکھنے کا سبب ہوتا ہے ،
:::::: زیتون کا تیل جلد کی اوپر والی سطح  اور نیچے والے سطح میں سےہلکی سوزش اور جلن وغیرہ کو دور کرتاہے ، جلد کے لیےمدافعتی غِلاف کا کام کرتا ہے ،یعنی جلد کے لیے اینٹی بیکٹریل(Antibacterial) اور پروٹیکٹیو لیر (Protective layer)کا کام کرتا ہے ،
اسی لیے اکثر اِسے پھٹی ہوئی جلد ، یا جلدی بیماری اکزیما(Eczema) وغیرہ کے علاج کے طور پر بھی استعمال کروا جاتا ہے ،
:::::: ہم اِن سب باتوں پر اور اِس جیسی دیگر تحقیقات پر تو یقیناً یقین کر لیں گے اور فوراً ہی کر لیں گے ،  لیکن اگر ایسی ہی کچھ معلومات ہمیں حدیث شریف میں میسر  ہو جائیں تو ہم ناک بھوں چڑھاتے ہوئے دائیں بائیں دیکھنے لگتے ہیں ، اللہ پاک  اور اُس کے رسول کریم محمد  صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی بات سمجھتے اور مانتے ہوئے ہمیں کافی خشکی ہونےلگتی ہے کہ وہ باتیں ہمارے کانوں سے آگے نہیں ہو پاتیں ،  بہرحال ،،،،، اللہ ہی ہدایت دینے والا ہے ، 
اِن ساری معلومات کے بعد میں آپ صاحبان کو اپنے رسول محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی ایک حدیث شریف سُناتا ہوں ، جِس کا ذِکر میں نے آغاز میں کیا  ،  لیکن قصداً    اُسے بیان نہیں کیا بلکہ اُس کی طرف فقط  اِشارہ کُناں رہا ہوں ،
یہ ساری ہی مذکورہ بالا "جدید تحقیقات" اِس ایک حدیث مُبارکہ میں مُقید ملتے ہیں ، لیکن برُا ہو ہماری عقلوں کا کہ ہمیں سُنّت مُبارکہ  پر عمل گوارا نہیں ، پس اللہ ہی جانے کہ سُنّت شریفہ کے کتنے فائدوں اور کتنی برکتوں سے ہم نے خود ہی اپنی بدعقلی اور گمراہ سوچوں کی بنا پ اپنے آپ کومحروم کر رکھا ہے ، والا حول و لا قوۃ الا باللہ ،  و اللہ المستعان،
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کا اِرشاد گرامی ہے ﴿ كُلُوا الزَّيْتَ وَادَّهِنُوا بِهِ فَإِنَّهُ مِنْ شَجَرَةٍ مُبَارَكَةٍ ::: (زیتوں کا ) تیل کھاؤ اور اُس سے مالش کرو ، کیونکہ بے شک وہ برکت والے درخت میں سے ہے   سُنن الترمذی /حدیث1969/کتاب الاطعمہ/باب43،
دُوسری روایت میں ہے کہ﴿اِئْتَدِمُوا بِالزَّيْتِ وَادَّهِنُوا بِهِ فَإِنَّهُ مِنْ شَجَرَةٍ مُبَارَكَةٍ::: (زیتون کے تیل )کو سالن بناؤ اوراس تیل سے مالش کرو، کیونکہ بے شک وہ برکت والے درخت میں سے ہے سُنن ابن ماجہ/ کتاب الاطعمہ/باب34، امام الالبانی رحمہُ اللہ نے دونوں روایات کو  صحیح قرار دیا ،
::::::: آخر میں زیتون کے تیل کی حفاظت ، اور اِس کے اِستعمال کے بارے میں چند ضروری احتیاطی معلومات پیش کرتا ہوں ،
:::::::  زیتون کے تیل کے بارے میں چند ضروری احتیاطی معلومات اور ہدایات:::::::
::::::: زیتون کے تیل کو  اگر ہوا، سورج کی روشنی ، 15ڈگری سنٹی گریڈ سے زیادہ حرارت ، اور 10ڈگری سنٹی گریڈ سے کم درجہ حرارت سے بچا کر نہ رکھا جائے تو اس کے خواص میں تبدیلیاں ہو جاتی ہیں جو بجائے فائدے کے نقصانات کا سبب بنتی ہیں ، لہذا اسے ایسے برتنوں اور ایسی جگہوں میں رکھا جانا چاہیے جہاں یہ ٹھیک طرح سے محفوظ رہے،
:::::::مصنوعی رشنیوں میں سے بھی تیز روشنیاں زیتون کے تیل کی تاثیر میں کمی ، فساد ، یا خاتمے کا سبب بنتی ہیں ، لہذا بہتر یہی ہے کہ اسے کم سے کم روشنی میں رکھا جائے ،
::::::: زیتوں کے تیل کو کھانا پکانے کے لیے استعمال کیا جانا تو درست ہے ، لیکن وہ بھی اس احتیاط کے ساتھ کہ اسے جس قدر کم ہو سکے اسی قدر کم قوت کے لیے گرمایا جائے ، لیکن اس تیل کو تلائی (فرائی کرنے )کے لیے اِستعمال نہیں کیا جانا چاہیے کہ اِس طرح اِس کے مثبت فوائد ختم ہو جاتے ہیں ، بلکہ ایک دفعہ سے زیادہ اِستعمال کرنے کی صُورت میں اِس میں منفی اثرات کے ظاہر ہونے کا قوی اندیشہ ہوتا ہے ۔
خیال رہے کہ یہ مضمون زیتون کے تیل کے چند أہم فوائد اور کچھ دیگر ضروری معلومات تک محدود ہے ، اِس میں زیتون کے تیل کے بارے میں ساری ہی معلومات درج نہیں ہیں ،والسلام علیکم،
طلب گارء دُعاء ، عادِل سُہیل ظفر ۔
تاریخ کتابت : 20/06/1433ہجری ، بمُطابق، 11/05/2011عیسوئی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مضمون کا برقی نسخہ درج ذیل ربط پر مُیسر ہے :
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔