Sunday, May 7, 2017

:::شعبان سے غافل لوگ :::


:::::::شعبان سے غافل لوگ :::::::
بِسمِ اللَّہ و الصَّلاہُ و السَّلام علیٰ رسولِ اللَّہ
السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ،
شعبان ایسا مہینہ ہے جِس میں عموماً لوگ عِبادات سے غافل ہو جاتے ہیں ،
غالباً دو عظیم المرتبہ مہینوں کے درمیان آ جانے کی وجہ سے ، اور ان دو مہینوں میں لوگوں کی عِبادات کے ساتھ مشغولیات کی وجہ سے لوگ اس شعبان کے مہینے سے غافل ہو جاتے ہیں ،
جی ہاں ، شعبان سے پہلے رجب کا مہینہ ہوتا ہے ، جو حُرمت والے چار مہینوں میں سے ایک ہے ، جس میں اُس کی  حُرمت کے باوجود کوئی خاص عِبادت کرنے کی کوئی دلیل نہیں ملتی ،  لیکن لوگ کچھ جھوٹی ، کچھ ناقابل اعتماد روایات اور کچھ اپنے خیالات کی بنا پر اِس رجب کے مہینے میں عِبادات بنائے ہوئے ہیں ، جِن سے فارغ ہو کر وہ کافی مطمئن ہو جاتے ہیں کہ انہوں نے کافی عِبادت کر لی اور بہت نیکیاں کما لیں ،
اور پھر اگلے موقع یعنی رمضان المبارک سے فائدے اُٹھانے کی ذہنی اور عملی تیاریوں میں مشغول ہوتے ہیں ، اور اس کیفیت میں  شعبان سے غافل رہتے ہیں ،
یا خصوصی طور  شعبان میں کی جانی والی عِبادات کے بارے میں دی گئی نبوی تعلیم سے بے خبری کی وجہ سے اُن عِبادات کی ادائیگی سے غافل رہتے ہیں ،
جب کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کا یہ معمول نہ تھا ،
اُنہوں نے ہی ہمیں یہ بتایا کہ اِس ماہء شعبان سے لوگوں کی اکثریت غافل رہتی ہے ،
اُسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے کا کہنا ہے کہ """ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم سے عرض کیا """ يا رَسُولَ اللَّهِ لم أَرَكَ تَصُومُ شَهْرًا مِن الشُّهُورِ ما تَصُومُ مِن شَعْبَانَ ::: اے اللہ کے رسول میں نے آپ کو کسی اور مہینے میں شعبان سے زیادہ روزے رکھتے ہوئے نہیں دیکھا """
تو انہوں نے اِرشاد فرمایا (((((ذلك شَهْرٌ يَغْفُلُ الناس عنه بين رَجَبٍ وَرَمَضَانَ وهو شَهْرٌ تُرْفَعُ فيه الْأَعْمَالُ إلى رَبِّ الْعَالَمِينَ فَأُحِبُّ أَنْ يُرْفَعَ عَمَلِي وأنا صَائِمٌ ::: یہ  وہ مہینہ  ہے  جس سے لوگ رجب اور رمضان کے درمیان (مشغول رہنے کی وجہ سے )غافل رہتے ہیں اور (جبکہ )یہ وہ مہینہ ہے جس میں( لوگوں کے ) اعمال رب العالمین کی طرف بُلند کیے  جاتے ہیں ، اور مجھے یہ محبوب ہے کہ میرا عمل (اللہ کی طرف )بُلند  کیا جائے تو میں روزے میں ہوں)))))سنن النسائی /حدیث2357/ کتاب الصیام /باب70، حدیث حسن  ہے ، صحیح الترغیب و الترھیب / حدیث 1022،
((( ہمارے رواں موضوع کے علاوہ یہ حدیث اللہ تبارک و تعالیٰ کے اپنی مخلوق سے الگ اور بُلند ہونے کے دلائل میں سے ایک ہے ، اس موضوع کی تفصیل میری  کتاب """ اللہ کہاں ہے ؟ """ میں موجود ہے )))
اس حدیث مبارک کی روشنی میں لوگ دو قِسموں میں تقسیم ہوتے ہیں ،
:::  (1)  :::   وہ لوگ جو رجب کی تعظیم میں اس مہینے میں  دیگر مروج عِبادات میں اضافہ کیے رکھتے ہیں ،یا غلو کرتے ہیں ، اور طرح طرح کی خود ساختہ عِبادات رجب سے منسوب کر کے کرتے ہیں ، اور طرح طرح کے عقائد اپنائے رکھتے ہیں اور شعبان کے بارے میں غفلت کا شکار ہوتے ہیں ،  
:::  (2) :::  وہ لوگ جو عِبادت کو صرف رمضان المبارک کے لیے ہی خاص رکھتے ہیں ، اور اللہ کی اطاعت کی طرف صرف رمضان میں ہی توجہ کرتے ہیں ، اور یُوں یہ لوگ بھی شعبان سے غافل رہتے ہیں ،
تو اجمالی طور پر لوگ شعبان کے مہینے سے غافل ہی رہتے ہیں ، جبکہ اس حدیث میں ہمیں یہ سبق دیا گیا ہے کہ ہم لوگ رجب اور رمضان کی مشغولیات میں ، درمیان والے شعبان کو مت بھولیں اور اُس کے بارے میں  اپنی غفلت کو ختم کریں ،
اس کے عِلاوہ اس حدیث مبارک میں یہ سبق بھی ہے کہ ہم لوگ  اللہ سُبحانہ ُو تعالیٰ کی عِبادات سے غافل نہ رہیں  کہ یہ  غفلت شدید نقصان کا باعث ہے ، جیسا  کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اِرشاد فرمایا (((وَلَقَدْ ذَرَأْنَا لِجَهَنَّمَ كَثِيراً مِّنَ الْجِنِّ وَالإِنْسِ لَهُمْ قُلُوبٌ لاَّ يَفْقَهُونَ بِهَا وَلَهُمْ أَعْيُنٌ لاَّ يُبْصِرُونَ بِهَا وَلَهُمْ آذَانٌ لاَّ يَسْمَعُونَ بِهَآ أُوْلَـئِكَ كَالأَنْعَامِ بَلْ هُمْ أَضَلُّ أُوْلَـئِكَ هُمُ الْغَافِلُونَ ::: اور ہم نےجِنات اور انسانوں میں سے بہت سارے جہنم کے لیے  تخلیق کیے ہیں ،(یہ سب  ایسے ہیں ) جِن کے دِل تو ہیں لیکن اُن دِلوں سے یہ (حق بات ) سمجھتے نہیں ،اور  اُن کی آنکھیں تو ہیں لیکن یہ (سب ایسے ہیں کہ) اُن آنکھوں سے (حق )دیکھتے نہیں ، اور اُن کے کان تو ہیں لیکن یہ(سب ایسے ہیں ) کہ اُن کانوں سے(حق بات) سنتے نہیں ،(جِنّات اور انسانوں میں سے ) ایسے  سب ہی لوگ چوپایوں کی طرح ہیں بلکہ اُن سے بھی زیادہ بھٹکے ہوئے ہیں ، یہی ہیں وہ لوگ جو غفلت میں پڑے ہوئے ہیں))) سورت أعراف /آیت 179،
اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہ بتایا دیا کہ غفلت کا شکار ہو جانے والوں کے دِلوں ، آنکھوں ، اور کانوں پر پردے پڑ جاتے ہیں اور وہ اللہ کے ہاں جانوروں سے بھی گمراہ قرار پاتے ہیں ، خواہ وہ لوگ دُنیاوی عُلوم اور دُنیاوی معیار کے مطابق کتنے ہی تعلیم یافتہ یا اعلیٰ عقل و دانش والے معروف ہوں ، لیکن اگر اپنے رب کی دعوت اور اس کی  اطاعت کی طرف سے غافل رہیں گے تو وہ اللہ کے ہاں یہ جانوروں سے بھی بدتر ہیں ،
اس غفلت سے محفوظ رہنے کا حُکم تو اللہ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کو بھی دِیا جِن کے دِل و دماغ کی طہارت، ایمان اور عِبادات کی بُلندی اور اعلیٰ و مکمل ترین ہونے  کا اندازہ بھی عام سوچ و ادارک کی حدود سے باہر ہے ، انہیں اللہ نے یہ حُکم فرمایا (((وَاصْبِرْ نَفْسَكَ مَعَ الَّذِينَ يَدْعُونَ رَبَّهُم بِالْغَدَاةِ وَالْعَشِيِّ يُرِيدُونَ وَجْهَهُ وَلاَ تَعْدُ عَيْنَاكَ عَنْهُمْ تُرِيدُ زِينَةَ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَلاَ تُطِعْ مَنْ أَغْفَلْنَا قَلْبَهُ عَن ذِكْرِنَا وَاتَّبَعَ هَوَاهُ وَكَانَ أَمْرُهُ فُرُطاً ::: اے محمد آپ صبر کرتے ہوئے اُن لوگوں کے ساتھ رہیے جو صُبح و شام اپنے رب کو پُکارتے رہتے ہیں ، اور اُسکی ہی خوشنودی کے خواہش مند ہوتے ہیں، اور آپکی نگاہ اُن پر سے گذر  کر ( کسی اور طرف ) نہ جائے کہ کہیں  آپ (اِن اللہ کی رضا کے طلب گاروں کی بجائے )دُنیا  کی زندگی کی سجاوٹ و آسائش کے خواہش مند ہو جائیں اور آپ  اُس کی بات مت مانیے گا کہ جِس کا دِل ہم نے اپنی یاد سے غافل کر دِیا ہے، اور وہ اپنی خواہش کی پیروی کرتا ہے ،  اور اُس کا معاملہ تو حد سے گذر چکا ہے ))) سورت الکہف /آیت 28،
پس ہمیں یہ بات اچھی طرح سے جان لینا چاہیے کہ اللہ کی عِبادات سے غافل ہو جانا ، اللہ کے ذِکر سے غافل ہوجانا ایسا معاملہ جو اللہ کے انتہائی غصے کا سبب ہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ ایسے غافل لوگوں کو جانوروں سے بھی بدتر قرار دیتا ہے اور ان کا معاملہ حد سے گذرا ہوا قرار دیتا ہے، لہذا ہمیں اپنی زندگی کے سارے ہی اوقات کو اس طرح استعمال کرنا چاہیے کہ اللہ کی عِبادت اور اطاعت میں صَرف ہوں ، اور  ہم غافلین میں شامل نہ ہوں،
ہماری بات کا آغاز شعبان کے مہینے میں اضافی عملی عِبادات سے غافل رہنے سے ہوا تھا ، اِس ساری تفصیل کے بعد  یہ کہہ کر اِس موضوع کو ختم کرتا ہوں کہ ہمیں شعبان میں اپنی اضافی نفلی عِبادات کو بڑھانے کی طرف توجہ رکھنی چاہیے خاص طور پر روزے رکھنے کی طرف ، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے مذکورہ بالا بیان مبارک میں ہے ،
اللہ تعالیٰ ہم سب کو اُن میں سے نہ بنائے جو رجب اور رمضان المبارک کی مصروفیات کے درمیان شعبان سے غافل ہو جاتے ہیں ، اور نہ ہی کسی اور طور اُن میں سے بنائے جو اُس کے ذِکر ، اُس کی عِبادات اور اُس کی اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی مکمل ،بلا مشروط اور بلا حیل و حجت اطاعت سےغافل ہوتے ہیں ۔
والسلام علیکم ،
طلب گارء دُعاء ،
عادِل سُہیل ظفر ،
تاریخ کتابت : 17/07/1431ہجری، بمُطابق، 29/06/2010عیسوئی ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مضمون کا برقی نسخہ درج ذیل ربط پر مُیسر ہے :
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اور کچھ مختصر انداز میں یہ مضمون درج ذیل ربط پر بھی نشر کیا گیا ہے :
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


Saturday, April 29, 2017

::: ماہء شعبان کی فضیلت میں ضعیف ، کمزور ، ناقابل حُجت روایات :::


::: ماہء شعبان کی فضیلت میں ضعیف ، کمزور ، ناقابل حُجت روایات :::
بِسمِ اللَّہِ و الصَّلاۃُ و السَّلامُ علیٰ رسولِ اللَّہِ
السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ،
شعبان کے مہینے کے بارے میں  کئی ایسی روایات ہمارے درمیان گردش کرتی ہیں جو  رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے قول مُبارک کے طور پر ثابت شدہ نہیں ہیں ،اُن میں سے عام طور پر پھیلائی جانے والی روایات اور اُن کی تحقیق پیش خدمت ہے ،  
:::(1):::   ''' یا علی من صلی لیلۃ النصف من شعبان مئۃ رکعۃ بالف قل ہو اللہ احد قضی اللہ لہ کل حاجۃ طلبہا تلک اللیلۃ وساق جزافات کثیرۃ واعطی سبعین الف حوراء لکل حوراء سبعون الف غلام وسبعون الف ولدان ،،،،،، ::: اے علی جس نے شعبان کی درمیانی رات میں سو رکعت نماز ، ہزار دفعہ قل ھو اللہ احد کے ساتھ پڑہی تو وہ اللہ سے جس ضرورت کا بھی سوال کرے گا اللہ وہ دے گا ، اور اللہ بہت سے انعامات دے گا اور ستر ہزار حوریں دی جائیں گی اور ستر ہزار درمیانی عمر کے بچے اور ستر ہزار چھوٹی عمر کے بچے ،،،،،،،،، ''' ،
⇇ درجہ ء صحت  ⇇ اِمام ابن القیم رحمہُ اللہ نے ''' المنار المنیف فی صحیح و الضعیف ''' میں اِس حدیث کے بارے لکھا """ حیرت ہے کہ کوئی سُنّت کے عِلم کی خوشبو پاتا ہو اور پھر بھی اِس قِسم کی فضول باتوں سے دھوکہ کھائے ، یہ نماز اِسلام میں چار سو سال کے بعد بیت المقدس کے علاقے میں بنائی گئی اور پھر اِسکے بارے میں بہت سی احادیث بنائی گئیں """
 :::(2):::  ''' من صلی لیلۃ النصف من شعبان ثنتی عشرۃ رکعۃ یقرا فی کل رکعۃ ثلاثین مرۃ قل ہو اللہ احد شفع فی عشرۃ من اہل بیتہ قد استوجبوا النار ::: جِس نے شعبان کی درمیانی رات میں بارہ رکعت نماز پڑہی اور ہر رکعت میں تیس دفعہ قل ھو اللہ احد پڑہی تو وہ اپنے گھر والوں میں سے ایسے دس کی شفاعت کر سکے گا جِن پر جہنم میں جانا واجب ہو چکا ہو گا'''،،،
 ⇇ درجہ ء صحت  ⇇ سابقہ حوالہ /جلد 1 /صفحہ 98 (ناشر کے فرق سے صفحات کے نمبر مختلف ہو سکتے ہیں)
:::(3):::  ''' خمس لیال لا ترد فیہن الدعوۃ اول لیلۃ من رجب ولیلۃ النصف من شعبان ولیلۃ الجمعۃ ولیلۃ الفطر ولیلۃ النحر ::: پانچ راتیں(ایسی) ہیں جن میں دُعا رد نہیں کی جاتی (قُبُول کی جاتی ہے )رجب کی پہلی رات ، شعبان کی درمیانی رات ،  جمعہ کی رات اور عید ِفطر کی رات '''،،،
⇇ درجہ ء صحت  ⇇ حدیث مَن گِھڑت جھوٹی ہے ، اِس کی سند میں ابو سعید بندار بن عمر بن محمد بن الرویانی نامی راوی ہے جسے محدثین نے جھوٹا اور حدیثیں گَھڑنے  والا قرار دِیا ہے ،
✽✽✽ ایک تنبیہ ::: خیال رہے کہ اسلامی قمری نظام میں رات دِن سے پہلے آتی ہے جبکہ عیسوی نظامِ تاریخ میں دِن رات سے پہلے آتے ہیں ، عیدِ فِطر کی رات وہ رات جو عید کے دِن سے پہلے ہے ، جِسے عام طور پر چاند رات کہا جاتا ہے اور جو اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا کرتے ہوئے اور شکر کی ادائیگی کی تیاری کرنے کی بجائے نافرمانی کرتے ہوئے اور مزید نافرمانی کی تیاری کرتے ہوئے گذاری جاتی ہے ، اِص موضوع پر اِنشاء اللہ رمضان کے آخر میں بات ہو گی، اسی طرح جمعہ کی رات وہ رات جو جمعرات کے دِن اور جمعہ کے دِن کے درمیان ہوتی ہے اور اسی طرح ساری راتیں دِنوں سے پہلے شمار کی جاتی ہیں اور اسی لیے ہماری اسلامی قمری تاریخ سورج غروب ہونے سے شروع ہوتی ہے نہ کہ آدھی رات گذرنے پر✽✽✽
:::(4):::  ''' من احیا اللیالی الخمس وجبت لہ الجنۃ لیلۃ الترویۃ ولیلۃ عرفۃ ولیلۃ النحر ولیلۃ الفطرولیلۃ النصف من شعبان ::: جِس نے پانچ راتیں زندہ کِیں (یعنی عِبادت کرتے ہوئے گُزارِیں ) تو اُس کے لیے جنّت واجب ہو گئی ، ترویہ (یعنی آٹھ ذی الحج) کی رات ، اور عرفہ ( نو ذی الحج) کی رات ، اور نحر (قربانی کے دِن یعنی دس ذی الحج ) کی رات ، اور( عیدِ ) فِطر کی رات ، اور شعبان کی درمیانی رات '''،،،
⇇ درجہ ء صحت  ⇇ مَن گَھڑت جھوٹی حدیث ، ضعیف الترغیب والترھیب /کتاب العیدین و الاضحیۃ / پہلے باب کی دوسری حدیث۔
:::(5):::  ''' ،،،،،،اِن اللہ تعالی ینزل لیلۃ النصف من شعبان اِلی السماء الدنیا فیغفر لاکثر من عدد شعر غنم کلب::: اللہ تعالیٰ شعبان کی درمیانی رات میں دُنیا کے آسمان کی طرف اُترتاہے اور بنی کلب کی بکریوں کے بالوں کی تعداد سے زیادہ لوگوں کی بخشش کرتا ہے '''،،،
⇇ درجہ ء صحت  ⇇ سنن النسائی / کتاب الصوم / باب 39،میں امام النسائی نے یہ روایت نقل کرنے کے بعد لکھا کہ ''' میں نے محمد (یعنی امام البخاری )کو سنا کہ وہ اِس حدیث کو کمزور (نا قابل حُجت ) قرار دیتے تھے'''
:::(6):::   ''''  اِذا کانت لیلۃ النصف من شعبان فقوموا لیلہا وصوموا نہارہا فاِن اللہ ینزل فیہا لغروب الشمس اِلی سماء الدنیا فیقول الا من مستغفر لی فاغفر لہ الا مسترزق فارزقہ الا مبتلی فاعافیہ الا کذا الا کذا حتی یطلع الفجر ::: جب شعبان کی درمیانی رات ہو تو اُس رات قیام (یعنی نماز پڑھا) کرو ، اور اُس رات کے دِن کو روزہ رکھا کرو کیونکہ اِس رات میں سورج غروب ہوتے ہی(یعنی رات کے آغاز میں ہی)اللہ تعالیٰ دُنیا کے آسمان پر اُتر آتا ہے اور کہتا ہے ، ہے کوئی مجھ سے بخشش مانگنے والا کہ میں اُسکی بخشش کر دوں ، ہے کوئی رزق مانگنے والا کہ میں اُسے رزق دوں ، ہے کوئی مصیبت زدہ کہ میں اُس عافیت دوں ، ہے کوئی ایسا ، ہے کوئی ایسا ، یہاں تک فجر کا وقت ہو جاتا ہے ''''،،،
⇇ درجہ ء صحت  ⇇ حدیث سنن ابن ماجہ میں ہےاور اِسکی سند میں ابن ابی سبرہ نامی راوی کو حدیثیں گھڑنے والا کہا گیا ہے (بحوالہ التقریب التھذیب اور الزوائد للبوصیری)اس حدیث کے بعض حصے دوسری صحیح روایات میں ملتے ہیں لیکن ہمارے اِس موضوع سے متعلق حصہ مَن گَھڑت ہی ہے ۔
:::(7):::   '''' رجب شهر الله، وشعبان شهري، ورمضان شهر أمتي :::  رجب اللہ کا مہینہ ہے ، اور شعبان میرا مہینہ ہے ، اور رمضان میری اُمت کا مہینہ ہے '''' ،
⇇ درجہ ء صحت  ⇇ یہ روایت بھی ضعیف ، یعنی کمزور ناقابل حجت ہے ، تفصیل کے لیے دیکھیے سلسلۃ الاحادیث الضعیفہ/حدیث رقم 4400،
:::(8):::   ''''  ،،،،،،،،، و شعبان شهري، فمن عظم شعبان؛ فقد عظم أمري، ومن عظم
أمري؛ كنت له فرطاً وذخراً يوم القيامة::: ،،،،،،،،، اور شعبان میرا مہینہ ہے ، پس جس کِسی نے شعبان کی تعظیم کی ، اُس نے میرے معاملے کی تعظیم کی ، اور جِس نے میرے معاملے کی تعظیم کی میں قیامت والے دِن اُس کے لیے  جنت کی طرف لے  جانے والا ، اور  مشکل میں کام آنے والا ہوں گا   '''' ،
⇇ درجہ ء صحت  ⇇ امام ابن حجر العسقلانی رحمہُ اللہ نے  اسے " تبیین العجب بما ورد فی فضل رجب " میں  خود ساختہ جھوٹی روایت قرار دِیا ہے ، اور اِمام البانی رحمہُ اللہ نے "سلسلہ الاحادیث الضعیفہ /حدیث 6188" میں اِس کی مکمل تخریج و تحقیق پیش کی ہے ، جو امام ابن حجر رحمہُ اللہ کی بات کو بالکل درست ثابت کرتی ہے ،
:::(9):::   ''''  اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي رَجَبٍ وَشَعْبَانَ وَبَلِّغْنَا رَمَضَانَ::: اللہ ہمیں ر جب و شعبان میں برکت دے اور رمضان تک پہنچا دے'''' ،
⇇ درجہ ء صحت  ⇇ منکر ، اِس  روایت  کو محدثین نے "منکر" قرار دِیا ہے ، اِس کی تمام تر اسناد میں  ، زائدہ بن ابی الرقاد نے زیاد النمیری کے ذریعے یہ روایت بیان کی ہے ،
اور زائدہ بن ابی  الرقاد کو امام بخاری او رامام النسائی رحمہما اللہ نے "منکر الحدیث" قرار دِیا ہے ،  یعنی ، ایسا راوی  جو ناقابل یقین اور نا قابل قبول قِسم کی احادیث  روایات کرتا ہو ،
اور جِس سے اِس  زائدہ نے روایت کیا ہے ، یعنی، زیاد النمیری تو اِسے امام ابن معین اور امام ابو داؤد رحمہما اللہ نے ضعیف یعنی کمزور  ناقابل قبول روایات والا  قرار دِیا ہے ، اور امام ابن حبان  رحمہُ اللہ جو کہ راویوں  پر گرفت کرنے میں نرمی کرنے والے معروف ہیں ، اُنہوں نے بھی اِسے "منکر الحدیث" قرار دِیا ہے ، 
:::(10):::   ''''  كان رسول الله صلى الله عليه و سلم يصوم ثلاثة أيام من كل شهر فربما أخر ذلك حتى يجتمع عليه صوم السنة فيصوم شعبان::: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر مہینے میں تین دِن روزے رکھا کرتے تھے ، کبھی ایسا بھی ہوتا تھا کہ اُن روزوں کے رکھنے میں تاخیر کرتے یہاں تک ایک پورے سال کے روزے جمع ہوجاتے اور پھر انہیں شعبان میں رکھتے '''' ،
⇇ درجہ ء صحت  ⇇ یہ روایت بھی  ضعیف ہے ، یعنی ناقابل حجت، کیونکہ  اِس کی سند میں "ابن ابی لیلی" نامی ضعیف راوی ہے ،
گو کہ شعبان میں اضافی نفلی  روزے رکھنے کی فضیلت صحیح حدیث  میں موجود ہے ، جِس کا ذکر الگ مضمون میں کیا جا چکا ہے ،  لیکن اِس کیفیت کے ساتھ جو کہ اِس مذکورہ بالا روایت میں ہے ، صحیح نہیں ہے ،
شعبان کے مہینے ، اور نِصف  شعبان کی رات کی فضیلت کے بارے میں کمزور ، ناقابل حُجت روایات صِرف یہی نہیں ہیں ، میں نے  صِرف اُن روایات کا ذِکر کیا ہے جو عام طور پر گردِش میں رہتی ہیں ،  
محترم قارئین ،،،،،،  اب میں آپ کے سوچنے کے لیے کچھ سوالات پیش کرتا ہوں ، لیکن میں اِن کے جوابات کا طلب گار نہیں ہوں ، یہ سوالات صِرف آپ کے لیے ہیں ، جوابات بھی آپ اپنے لیے تلاش کیجیے :::
:::::     اِن مندرجہ بالا احادیث اور اِن جیسی کچھ اور کی بنیاد پر یا محض سنی سنائی کہانیوں ، قصوں ، خوابوں اور نام نہاد الہامات اور کشوفات  کی بنیاد پر یہ مذکورہ بالا  اور ان جیسے  جو کام اور عقائد جِن کا قُران اور سُنّت میں کوئی صحیح ثبوت نہیں بنا لیے گئے ، اپنا لیے گئے ، وہ کیا  مغفرت کا سبب ہیں یا عذاب کا ؟؟؟
::::: شعبان  کی فضیلت کے بارے  صحیح احادیث  کی روشنی میں سوچیے تو کہ آپ کِن میں سے ہیں ؟؟؟
کِسی سے بُغض و عناد رکھنے والوں میں سے ؟؟؟
  یا معاف اور درگذر کر کے اللہ کی بخشش پانے والوں میں سے ؟؟؟
::::: کیا آپ کِسی مَن گھڑت ، نئی عِبادت کو ادا کر کے یا کوئی بے بُنیاد عقیدہ اپنا کر کِسی بدعت یا شرک کا شکار تو نہیں ہو رہے؟؟؟
اللہ نہ کرے کہ ایسا ہو ، کیونکہ اگر ایسا ہے تو پھر آغاز میں نقل کی گئی حدیث شریف کے مطابق پندرہ شعبان کی رات میں آپ کے لیے خیر کی کوئی اُمید نہیں اور اگر ایسا نہیں تو اِن شاء اللہ آپ کی مغفرت کر دی جائے گی ۔ والسلام علیکم۔
طلب گارء دُعاء ،
عادِل سُہیل ظفر ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تاریخ کتابت:01/08/1421ہجری، بمُطابق،28/10/2000عیسوئی،
تاریخ تجدید و تحدیث :22/07/1436ہجری،بُمطابق،11/05/2015عیسوئی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مضمون کا برقی نسخہ درج ذیل ربط سے نازل کیا جا سکتا ہے :
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس مضمون کے ساتھ درج ذیل مضامین کا مطالعہ بھی فرمایے ، اِن شاء اللہ خیر کا سبب ہو گا ،
:::::::شعبان سے غافل لوگ :::::::
 
 ::::::: ماہ شعبان ، سب برأٔت ، حقیقت ، قصے اور کہانیاں :::::::
 
 ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔