Friday, June 5, 2020

:::: یہ ذریعہ رزق حلال نہیں (2) ::: سگریٹ ، تمباکو ، وغیرہ کی خرید و فروخت :::

::::::: یہ ذریعہ رزق حلال نہیں (2)::::::: سگریٹ ، تمباکو ، وغیرہ کی خرید و فروخت :::::::
بِسمِ اللَّہِ الرِّحمٰنِ الرِّحیم

الحَمدُ لِلّہِ وَحدہُ الذی لا اِلہَ اِلاَّ ھُو ،  و لا أصدق مِنہ ُ قِیلا ،  و الَّذی أَرسلَ رَسولہُ بالھُدیٰ و تبیّن مَا ارادَ ، و الصَّلاۃُ و السَّلام عَلیَ مُحمدٍ عبد اللَّہ و رسولِ اللَّہ ، الَّذی لَم یَنطِق عَن الھَویٰ و الَّذی أمانۃ ربہِ قد اَدیٰ ،

شروع اللہ کے نام سے جو بہت ہی مہربان اور بہت رحم کرنے والا ہے ،

سچی اور خالص تعریف کا حق دار اللہ ہی ہے ، جس کے عِلاوہ کوئی بھی اور سچا اور حقیقی معبود نہیں ، اور جس سے بڑھ کر سچ کہنے والا کوئی نہیں ، اور جس نے اپنے رسول کو ہدایت کے ساتھ بھیجا اور وہ سب کچھ واضح فرما دیا جسے واضح کرنے کا اللہ نے ارداہ کیا ، اور سلامتی ہو اللہ کے بندے اور اللہ کے رسول محمد(صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم ) پر ، جو کہ اپنی خواہش کے مُطابق نہیں بات نہیں فرماتے تھے  ، اور جنہوں نے اپنے رب کی امانت مکمل طو رپر  دی،

السلامُ علیکم و رحمۃُ اللہ و برکاتہُ ،

اللہ سُبحانہ و تعالیٰ اِیمان والوں کو پُکار کر حُکم دیتا ہے ،

﴿ یَا اَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا کُلُوا مِن طَیِّبَاتِ مَا رَزَقنَاکُم وَاشکُرُوا لِلّہِ اِن کُنتُم اِیَّاہُ تَعبُدُونَ::: اے اِیمان لانے والو ہم نے جو پاک (حلال )رزق تُمہیں دِیا ہے اُس میں سے کھاؤ اور اللہ کا شُکر ادا کرو اگر واقعتا تُم لوگ صرف اُسی کی عِبادت کرتے ہو ( تو تب ہی ایسا کرو گے  سورت البقرۃ(2) / آیت 172 ،

::: سگریٹ ، تمباکو ، وغیرہ کی خرید و فروخت ::: اِن میں سے خاص طور پر سگریٹاور تمباکو نوشی والی دیگر اشیاء  تو ایسی چیز ہے جِن کے اِستعمال میں مندرجہ ذیل چار  حرام کام اکھٹے ہوتے ہیں:::

سگریٹ اور تمباکو کی خرید و فروخت ، تمباکو نوشی ،  کی کئی صُورتیں ہیں ، جِن میں سے سب سے زیادہ عام سگریٹ نوشی ہے ، سگریٹ ایسی چیز ہے جِس کے اِستعمال میں  چار حرام کام اکھٹے ہوتے ہیں ،

::: (1)  ::: اپنی  جان کو ہلاکت میں ڈالنا :::

جبکہ  اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے ﴿ وَأَنفِقُوا فِی سَبِیلِ اللّہِ وَلاَ تُلقُوا بِأَیْدِیکُم إِلَی التَّہلُکَۃِ وَأَحسِنُوَا إِنَّ اللّہَ یُحِبُّ المُحسِنِینَ:::  اور اللہ کی راہ میں خرچ کرو اورخود کو ہلاکت میں مت ڈالو اور اچھے کام کرو بے شک اللہ تعالیٰ اچھائی کرنے والوں کو پسند کرتا ہے سورت البقرۃ (2)  /آیت 195 ،

پس اِس مذکورہ بالا آیت شریفہ کی روشنی میں سگریٹ نوشی کرنے والے ایک  حرام کام، یعنی اپنی جان کو ھلاکت میں ڈالنے کا  شکار ہوتے ہیں ،

::: (2)  ::: فضول خرچی  :::

یہ بات تو تقریبا ہر شخص ہی جانتا ہے کہ سگریٹ نوشی میں اِنسان کی جان اور مال  کی ہلاکت ہی ہلاکت ہے ایک معمولی سا بھی فائدہ یا صحت مندی نہیں ، اور ایسے کام میں خرچ کرنا جِس میں کوئی فائدہ نہیں ، نہ دِینی نہ دُنیاوی ، اللہ کی راہ میں خرچ کرنا ہر گِز نہیں ، بلکہ اللہ کے حُکم میں کے خِلاف خرچ کرنا اللہ اور اِیمان والوں کے دُشمن شیطان کی راہ میں خرچ کرنا ہے ، اور ہر وہ کام جو اللہ تبارک و تعالیٰ کے  حُکم کے خِلاف ہے حرام ہے ،

اللہ سُبحانہُ و تعالیٰ کا فرمان ہے ﴿ إِنَّ المُبَذِّرِینَ کَانُوا إِخوَانَ الشَّیَاطِینِ وَکَانَ الشَّیطَانُ لِرَبِّہِ کَفُوراً  :::  بے شک فضول خرچی کرنے والے شیطان کے بھائی ہیں اور بے شک شیطان اپنے رب کا کفر کرنے والا ہے سُورت بنی اِسرائیل (الاِسراء17 ) /آیت 27،

یعنی فضول کرچی کرنا شیطان کے سیکھائے ہوئے کاموں میں سے ہے اور ایسا کرنے والے اُس کے بھائی ہیں کیونکہ وہ اُس کی بات پر عمل کرتے ہیں ، اور جِس طرح شیطان اپنے رب کا کفر کرتا ہے یعنی نافرمانی کرتا ہے اُسی طرح اُس کی بات پر عمل کرنے والے بھی اپنے رب کی نافرمانی کرتے ہیں ، اور سگریٹ نوشی، یا کِسی اور طریقے سے تمباکو نوشی یا تمباکو اِستعمال کرنے میں اپنا مال خرچ کرنا ، سراسر فضول خرچی ہے کیونکہ یہ ایسا کام ہے جِسکی اِنسان کو قطعاً کوئی ضرورت نہیں ، صدیوں سے اِنسان اِس کے بغیر رہتے چلے آئے ہیں ، اور اب بھی کڑوڑوں اِنسان اِس کے بغیر اپنی زندگی بغیر کِسی کمی اور نقص کے مکمل طور پر بسر کر رہے ہیں ، لیکن جِن پر شیطان کا داؤ چل جاتا ہے وہ اُس کے وساوس کا شِکار ہو جاتے ہیں اور یہ فضول خرچی کرنے لگتے ہیں ، اللہ کی نافرمانی جو سراسر حرام کام ہے ،اُس  کا شکار ہو کر اللہ کے ہاں شیطان کے بھائی ہو جاتے ہیں ،

::: (3)  ::: اپنے اِرد گِرد مُسلمانوں ، اور دیگر اِنسانوں کوجانی نقصان ، اور،

::: (4)  ::: ذہنی و نفسیاتی اذیت اور دُکھ پہنچانا ،

جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ ُ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے ﴿ مَن أَکَلَ ثُومًا أو بَصَلًا فَلیَعتَزِلنَا أو قَالَ فَلیَعتَزِل مَسجِدَنَا وَلیَقعُد فی بَیتِہِ ::: جِس نے ثوم (لہسن) یا پیاز کھایا ہو وہ ہم سے دُور رہے یا فرمایا وہ ہماری مسجد سے دُور رہے اور اپنے گھر میں ہی بیٹھا رہے صحیح البُخاری /حدیث 817 /کتاب صفۃ الصلاۃ /باب 76 ، صحیح مسلم /حدیث 567/ کتاب المساجد و مواضعیھا /باب 17،

دیکھیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ  و علی آلہ وسلم ، دُوسروں کو تکلیف و اذیت سے بچانے کیلیے حلال چیز کھا کر بھی  دُوسروں سے اور خاص طور پر ایسی جگہ سے دُور رہنے کا حُکم دے رہے ہیں جہاں زیادہ لوگوں کا اجتماع ہوتا ہے ، تو پھر ایسی چیز کا کیا حال ہے جو بذاتِ خود حرام ہو ، کیونکہ وہ ہلاکت کا سبب ہے ، اور دُوسروں کو اُس کی بدبو اور اُس کے دیگر خطرناک اثرات پینے والے کی طرح ہی نُقصان پہنچاتے ہیں ، ڈاکٹرز کی تحقیق میں یہ ثابت ہوچکا کہ سگریٹ، تمباکو  نوش کے اِرد گِرد والے اُس کی سگریٹ نوشی کی وجہ سے اُس کی نسبت زیادہ نُقصان اُٹھاتے ہیں، اِس طرح یہ سگریٹ نوش اپنی جان کو ہلاکت میں ڈالنے کے ساتھ دُوسروں کی جان کو بھی نقصان پہنچاتا ہے اوراُس کی  بدبو کی وجہ سےذہنی و نفسیاتی اذیت کا باعث بھی بنتا ہے ، اور یُوں مزید  دو  حرام کاموں کا شکار ہوتا ہے ،

یہاں تک کی بات سے یہ واضح ہوا کہ سگریٹ، تمباکو نوشی ایک ایسا کام ہے جِس کو کرنے والا  چار حرام کاموں کا شکار ہو جاتا ہے ، اور تمباکو اور اُس کی مصنوعات بنانے والے ، اُن کی خرید و فروخت کرنے والے ، تمباکو اِستعمال کرنے والوں کے لیے اِن حرام کاموں کا شکار ہونے کا بنیادی سبب ہوتے ہیں ، کیونکہ تمباکو اور اُس سے تیار شُدہ مصنوعات مُہیا کرنے والے ہی وہ ہیں جو پینے والوں کو اِن حرام کاموں کا شکار بننے کا ذریعہ بنتے ہیں،

 اب ذرا غور کیجیے ، تو پتہ چل جاتا ہے کہ جو کچھ وہ اِس تجارت میں کماتے ہیں حرام ہوتا ہے ، جب کمائی اور اُس کمائی پر پرورش شدہ جِسم و جان حرام ہو گی تو پھر اللہ کی رحمت  کیسے حاصل ہو گی، اللہ کے ہاں  دُعائیں  کیسے قُبُول ہو ں گی ؟؟؟

 اللہ تعالیٰ ہمارے دِل و دِماغ کی اصلاح فرمائے اور ہمیں توفیق دے کہ ہم اُس کے اور اُس کے رسول صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے احکامات کو ٹھیک اور مکمل طور پر سمجھیں اور اُن پر عمل کرتے ہوئے ہمارے خاتمے ہوں ۔

والسلام علیکم و رحمۃُ‌اللہ و برکاتہُ،

طلب گارء دُعاء ،

آپ کا بھائی ،

عادِل سُہیل ظفر ۔

تاریخ کتابت :23-09-1429 ہجری، بمُطابق ،  23-09-2008 عیسوئی ۔

تاریخ تحدیث و تجدید : 12-10-1441 ہجری، بمُطابق، 04-06-2020 عیسوئی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مضمون کا برقی نسخہ درج ذیل ربط سے نازل کیا جا سکتا ہے :

https://bit.ly/3cA2ajk

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔




Saturday, July 21, 2018

::: طِب کے اِستعمال کے لیے ربانی ہدایات :::


::: طِب کے اِستعمال کے لیے ربانی ہدایات :::
بِسّمِ اللَّہِ الرَّحمٰن ِ الرِّحیم،  و الصِّلاۃُ و السِّلامُ علیٰ رِسولہِ الکریم
السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ،
قران کریم تمام تر  ظاہری اور باطنی ، قلبی ، روحانی ، جسمانی ، دُنیاوی اور اُخروی بیماریوں کا مکمل شِفاء والا علاج ہے ، اللہ سُبحانہ ُ و تعالیٰ کے  فرامین مبارکہ ہیں :::
﴿ وَنُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْآنِ مَا هُوَ شِفَاءٌ وَرَحْمَةٌ لِلْمُؤْمِنِينَ ::: اور ہم قران میں سے وہ کچھ نازل فرماتے ہیں جو اِیمان والوں کے لیے رحمت اور شِفاء ہے سُورت الاِسراء(بنی اِسرائیل 17)  / آیت 82،
﴿ يَا أَيُّهَا النَّاسُ قَدْ جَاءَتْكُمْ مَوْعِظَةٌ مِنْ رَبِّكُمْ وَشِفَاءٌ لِمَا فِي الصُّدُورِ وَهُدًى وَرَحْمَةٌ لِلْمُؤْمِنِينَ ::: اے لوگوں یقینا ً  تُم لوگوں کے پاس تُمہارے رب کی طرف سے نصیحت اور  سینوں میں جو(کچھ  بھی بیماریاں )ہیں اُن سب کے لیے شِفاء ہے اور اِیمان والوں کے لیے رحمت ہے   سُورت یُونس(10) / آیت 57،
﴿ قُلْ هُوَ لِلَّذِينَ آمَنُوا هُدًى وَشِفَاءٌ ::: (اے محمد )فرمایے وہ(قُران تو)اِیمان لانے والوں کے لیے شِفاء اور ہدایت ہے سُورت فُصلت(41) /آیت 44،
اگر کوئی مریض  دُرست طریقے سے قُران کے ذریعے اپنا  علاج کرے ، اور صدق ، اِیمان اور قلبی قبولیت اور غیر متزلزل اعتقاد کے ساتھ اِس دواء کو  اِستعمال کرے تو بلا شک کوئی اور دواء اِس سے بڑھ کر اچھی اور مؤثر نہیں ہو سکتی ،
بھلا یہ کیسے ممکن ہے کہ کوئی بیماری اللہ  کے کلام کے سامنے مزاحمت کر سکے اور قائم رہ سکے ، وہ اللہ جو زمینوں اور آسمانوں کا خالق و مالک اور رب ہے ، اور یہ قُران اُس کا وہ کلام ہے جو اگر پہاڑوں پر نازل کیا جاتا تو پہاڑ پاش پاش ہو جاتے ، اگر زمین پر نازل کیا جاتا تو زمین  کٹ پھٹ کر رہ جاتی ،
پس قلبی ، روحانی یا  جسمانی  بیماریوں میں سے کوئی بیماری ایسی نہیں جس کے علاج کے بارے میں قران کریم میں راہنمائی نہ ہو ، اس بیماری کے اسباب کے بارے میں نشاندہی نہ ہو ، اور اس سے بچاؤ کے بارے میں ہدایت نہ ہو ،
لیکن یہ سب اسے سجھائی دیتا ہے جِسے اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی اس مقدس ترین کتاب کا درست فہم عطاء فرمایا ہو ، اپنی اپنی عقل و سوچ ، لغت و ادب ، اور بے پر اڑنے والے فلسفوں کے مطابق اللہ کے کلام سجھنے کے دعویٰ داروں کو یہ فہم نصیب نہیں ہوتا ، اگر نصیب ہوا ہوتا تو  اُن کی قران فہمی اِسی قُران پاک  میں مذکور احکام کے مُطابق ہوتی ،  اِسی قُران کریم  میں مقرر کردہ حُدود میں ہوتی ، لیکن ،،،،، قدر اللَّہ ما شاء و فعل ، و اللَّہ المُستعان و علیہ التُکلان ::: اللہ نے جو چاہا مقرر فرمایا اور کِیا ، اور صِرف اللہ ہی حقیقی مدد کرنے والا ہے اور صَرف اللہ ہی پر توکل ہے ،
تو جِسے اللہ نے اپنی کتاب مبارک کے دُرُست فہم سے دُور کر دیا اُسے اُس کتاب کے وہ فوائد کبھی حاصل نہیں ہو سکتے  جِن سے اُس کے دِین دُنیا اور آخرت سب ہی کامیابی اوراس کی زندگی کے اِن تینوں پہلوؤں اور مراحل میں پائی جانی والی  سب  ہی بیماریوں اور کمزوریوں کا علاج  میسر ہو سکے ،
اللہ تبارک و تعالیٰ نے قُران العظیم میں جسمانی امراض کی طِب کے بارے میں اِس طرف ہدایت فرمائی ہے کہ یہ تین طرح سے ہے ،
::::::: (1) صحت و جاں کی حفاظت ::::::: 
اللہ تبارک و تعالیٰ نے روزوں کے احکام بیان فرماتے ہوئے اِرشاد فرمایا﴿ ،،،،،، فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَرِيضًا أَوْ عَلَى سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِنْ أَيَّامٍ أُخَرَ ،،،،،، :::لہذا تُم لوگوں میں سے جو کوئی بیمار ہو یا سفر کی حالت میں ہو تو(روزے چھوڑ  دے اور پھر )بعد میں  دوسرے دِنوں میں(چھوڑے ہوئے روزوں کے برابر )اتنی ہی گنتی میں(روزے رکھے) سُورت البقرہ(2) /آیت 184 ، اور آیت  185  میں  ابتدائی"""فَ """کی جگہ""" وَ """کے ساتھ یہی  ارشاد مکرر ہے ،
اس  اِرشاد میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے  سفر اور  بیماری کی حالت میں  وقتی طور پر فرض روزہ تک چھوڑ دینے کی اجازت ہی نہیں بلکہ حکم دِیا ہے ، جِس  میں ایک بڑی واضح حِکمت  صحت و جاں کی حفاظت کرنا ہے ،
اور اِرشاد فرمایا ﴿ وَلا تُلْقُوا بِأَيْدِيكُمْ إِلَى التَّهْلُكَةِ::: اور تُم لوگ خود کو اپنے ہی ہاتھوں ہلاکت کی طرف مت لے جاؤ   سُورت البقرہ(2) /آیت 195 ،
اس  مذکورہ بالا آیت  کریمہ  میں اِیمان والوں  کو  جسمانی ، رُوحانی ، دُنیاوی اور اُخروی ہر قِسم کی ہلاکت اور تباہی میں خود کو ڈالنے سے  منع کیا گیا ہے ،  جِس میں اس بات کی تعلیم ہے کہ اپنی جان کی حفاظت کرنا ہی چاہیے ،
::::::: (2) نقصان دہ چیزوں سے  محفوظ  رکھنا  :::::::
اللہ تبارک و تعالیٰ نے وضوء اور طہارت   کے احکام بیان فرماتے ہوئے اِرشاد فرمایا :::
﴿ وَإِنْ كُنْتُمْ جُنُبًا فَاطَّهَّرُوا وَإِنْ كُنْتُمْ مَرْضَى أَوْ عَلَى سَفَرٍ أَوْ جَاءَ أَحَدٌ مِنْكُمْ مِنَ الْغَائِطِ أَوْ لامَسْتُمُ النِّسَاءَ فَلَمْ تَجِدُوا مَاءً فَتَيَمَّمُوا صَعِيدًا طَيِّبًا::: اور  اگرتُم  جنابت کی حالت میں ہو تو پاکیزگی اختیار کرو ، اور اگر تُم لوگ بیمار ہو یا سفر کی حالت میں ہو ، یا تُم لوگوں میں سے کوئی رفع ءحاجت سے فارغ ہو کر آیا ہو، یا (جنسی ملاپ کی صورت میں)عورتوں کو ہاتھ لگایا ہو اور تُم لوگوں کو پانی میسر نہ ہو تو پاک مٹی سے تیمم کر لیا کرو سُورت المائدہ(5) /آیت 6 ،
اِس مذکورہ بالا آیت مُبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے ایسے بیمار کو جسے  اپنے جِسم پر پانی  اِستعمال کرنے سے بیماری یا تکلیف  میں اِضافہ ہونے یا کوئی اور تکلیف واقع ہونے کا اندیشہ ہو ، اُس کی صحت کی حفاظت کے لیے پانی اِستعمال نہ کرنے کی اجازت ہی نہیں بلکہ حکم فرمایا کہ  پاکیزگی اختیار کرنے کے لیے پانی  کی بجائے پاکیزہ مٹی استعمال کرو ، 
اس حکم میں  سے یہ حِکمت  بھی سمجھ میں  آتی ہے اور یہ تعلیم بھی ملتی ہے جِسم کے لیے خارجی اور داخلی طور پر جو کچھ بھی نقصان پہنچانے والی چیز ہو اپنے جِسم کو اُس سے بچانا چاہیے ،
::::::: (3) بیماری اور تکلیف کے اسباب  اور معاون مواد کو خارج کرنا  :::::::
حج کے احکام بیان فرماتے ہوئے اللہ سُبحانہ ُ و تعالیٰ نے اِرشاد فرمایا ہے﴿ وَأَتِمُّوا الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ لِلَّهِ  فَإِنْ أُحْصِرْتُمْ فَمَا اسْتَيْسَرَ مِنَ الْهَدْيِ وَلَا تَحْلِقُوا رُءُوسَكُمْ حَتَّىٰ يَبْلُغَ الْهَدْيُ مَحِلَّهُ  فَمَن كَانَ مِنكُم مَّرِيضًا أَوْ بِهِ أَذًى مِّن رَّأْسِهِ فَفِدْيَةٌ مِّن صِيَامٍ أَوْ صَدَقَةٍ أَوْ نُسُكٍ   ::: اور حج اور عمرہ اللہ کے لیے مکمل کرو ، اور اگر تُم لوگوں کو کہیں روک دیا جائے تو(قربانی کے لیے جانوروں میں سے )جو کچھ میسر ہو اس میں سے قربانی کرو ، اور جب تک قربانی اپنی جگہ تک نہ پہنچ جائے اُس وقت تک اپنے سر مت منڈواؤ ، لیکن تُم لوگوں میں سے جو کوئی مریض ہو یا اُس کے سر میں کوئی تکلیف ہو (جِس کی وجہ سے اسے سر منڈوانا ضروری ہو یا بہتر ہو) تو وہ  (سر منڈوا لے لیکن) اُس کے فدیے کے طور پر روزہ رکھے یا صدقہ ادا کرے یا قربانی کرےسُورت البقرہ(2) /آیت 196،
اِس آیت مُبارکہ میں ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ جس چیز  کی جِسم میں بیرونی یا اندرونی طور پر  مُوجودگی کسی  بیماری یا تکلیف کا سبب ہو ، یا بیماری یا تکلیف وغیرہ میں اِضافے کا سبب  ہو یا بیماری یا تکلیف وغیرہ کی شِفاء میں روکاٹ کا سبب ہو ، اُس چیز کو ختم کرنا ، اُسے جِسم پر سے ، یا جِسم میں سے خارج کرنا ، اس سے نجات حاصل کرنا ضروری ہے ، خواہ اُس کے لیے کوئی محدود ترین وقت میں ادا کرنے والی خالص عِبادت کے بدلے میں فدیہ وغیرہ ہی  دینا پڑے ، لیکن اپنے جِسم اور صحت کی حفاظت کے لیے  ایسا کرنے کی بھی اجازت ہے۔
جن   چیزوں  کو  جِسم  میں یا جِسم پر ، اللہ  تعالیٰ کے مقرر کردہ فطری نظام کے خِلاف ، یا اُن چیزوں کے خراب اور فاسد ہو جانے کے باوجود  اُنہیں روکے رکھنا بیماریوں کا سبب بنتا ہے وہ درج ذیل ہیں :::
::: (1) فاسد خون ،
::: (2) پیشاب،
::: (3) پاخانہ،
::: (4) ہوا ،
::: (5)قے (اُلٹی)،
::: (6)چھینک، 
::: (7) مَنِی،
::: (8) نیند ،
::: (9) بھوک ،
::: (10) پیاس ،
اِن میں سے کسی بھی چیز کو بلا ضرورت اور غیر مناسب طور پر روکے رکھنا کسی نہ کسی مرض کا سبب بنتا ہے ، اللہ سبحانہ ُ و تعالیٰ نے ہمیں اس مذکورہ بالا حج اور عمرے کے احکام والی آیت مبارکہ میں  ان سب سے کم تر نقصان والی چیز کو خارج کرنے اور حالت احرام میں بھی اس سے چھٹکارا حاصل کرنے کی تعلیم دی ہے ، یعنی سر میں پائی جانے والی گرمی یا سر کے اوپر پائی جانے والی کوئی نقصان دہ چیز  جس سے چھٹکارے کے لیے سر مونڈنا پڑے ،
یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کے کلام پاک کے اسلوب میں سے ہے(نہ کہ یہی اسلوب ہے) کہ وہ کم تر چیز کا ذِکر فرما کر اعلیٰ کی طرف متوجہ کرتا ہے، پس اللہ سُبحانہ ُ و تعالیٰ نے ہمیں طِب کے ان تین قوانین اور اِن سے  ماخوذ دیگر قواعد کی طرف ہدایت دی ہے (جس سے ہمیں یہ تعلیم ملتی ہے کہ  اِنسان کی خیر و بھلائی کے لیے طب ، یا کوئی بھی دُوسرا عِلم سیکھنا چاہیے اور اُس  میں اللہ تعا لیٰ نے جو خیر اور فوائد رکھے ہیں اُنہیں اپنے اور دُوسروں تک پہنچانے کی کوشش کی جانی چاہیے ) ۔   
امام ابن القیم الجوزیہ رحمہُ اللہ کی """ زاد المعاد فی ھدی خیر العباد/فصل الطِب النبوی""" سے ماخوذ۔
تاریخ کتابت :  02/12/1432 ہجری، بمُطابق ،28/10/2011عیسوئی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مضمون کا برقی نسخہ درج ذیل ربط پر مُیسر ہے :
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔