Sunday, April 20, 2014

::::::: میاں بیوی کا ایک دوسرے کی جھوٹی تعریف کرنا :::::::

::::::: میاں بیوی کا ایک دوسرے کی جھوٹی تعریف کرنا :::::::

بِسمِ اللَّہِ الرِّحمٰنِ الرِّحیم
الحَمدُ لِلّہِ وَحدہُ الذی لا اِلہَ اِلاَّ ھُو ،  و الَّذی لَیس أصدق منہ ُ قِیلا ،  و الَّذی أَرسلَ رَسولہُ بالھُدیٰ و تبیّن مَا ارادَ ، و الصَّلاۃُ و السَّلام عَلیَ مُحمدٍ عبد اللَّہ و رسولِ اللَّہ ، الَّذی لَم یَنطِق عَن الھَویٰ و الَّذی أمانۃ ربہِ قد اَدیٰ ،
سچی اور خالص تعریف کا حق دار اللہ ہی ہے ، جس کے عِلاوہ کوئی بھی اور سچا اور حقیقی معبود نہیں ، اور جس سے بڑھ کر سچ کہنے والا کوئی نہیں ، اور جس نے اپنے رسول کو ہدایت کے ساتھ بھیجا اور وہ سب کچھ واضح فرما دیا جسے واضح کرنے کا اللہ نے ارداہ کیا ، اور رحمتیں اور سلامتی ہو اللہ کے بندے اور اللہ کے رسول محمد پر ، جو کہ اپنی خواھش کے مطابق نہیں تھا بولتا  ، اور جنہوں نے اپنے رب کی امانت مکمل طو رپر  دی،
السلامُ علیکُم و رحمۃُ اللہ و برکاتہُ ،
اللہ تبارک وتعالیٰ کی انسان پر رحمتوں میں سے ایک  رحمت یہ بھی ہے کہ اُس نے اِنسان کی زندگی کو ایک ہی جیسے حالات میں بند رکھنے کی بجائے ، تبدیلیاں مہیا کر رکھی ہیں ، جِن کی وجہ سے اِنسان اپنی زندگی میں تنوع پاتا ہے اور اگر وہ مثبت سوچ رکھنے والا ، با حوصلہ انسان ہو ، اور سونے پر سہاگہ یہ کہ ایک صحیح  اِیمان والا مُسلمان بھی ہو تو حالات زندگی کا تنوع اُس کے لیے دُنیا اور آخرت کی  راحت و سکوں ، خیر اور عافیت کمانے کا سبب ہو جاتا ہے ،
اِنسان کی زندگی کے مختلف پہلوؤں کی طرح ازدواجی زندگی بھی مد و جزر کا شِکار رہتی ہے، جِسے پر سکون بنانے کے امکانات بھی ساتھ میسر ہوتے ہیں ، بس کچھ حوصلہ مندی ، مثبت سوچ و فِکر اور اللہ جلّ و عُلا کے فیصلوں پر رضا مندی کے ساتھ اُن امکانات کو پہچاننے اور اِستعمال کرنے کی ضرورت ہوتی ہے ، تو اللہ تبارک و تعالیٰ کے حکم سے وہ مدو جزر خوفناک طوفان کی بجائے خوش دِل جھولوں کی صُورت اختیار کر جاتے ہیں ،
ازدواجی زندگی میں پیش آنے والے مدوجزر کو پر سکون جھولے بنانے کا ایک طریقہ میاں و بیوی کا ایک دوسرے کی مدح سرائی ، یعنی تعریف کرتے رہنا اور اپنے لگاؤ اور محبت کا اظہار کرتے رہنا بھی ہے ، [[[الحمد اللہ ،  اِس موضوع کو ایک الگ مضمون بعنوان """محبت ہے تو اِقرا و اِظہار کرو """ میں بہت  عرصہ پہلے نشر کر چکا ہوں]]]،
 یہاں اِس مضمون میں اِن شاء اللہ أول الذِکر معاملے کے بارے میں کچھ بات چیت کروں گا ،
اِس میں تو کوئی شک نہیں کہ تقریباً ہر ایک اِنسان اپنی تعریف سن کر خوش ہوتا ہے اور تعریف کرنے والے کے لیے اپنے دِل و دِماغ میں اچھے احساسات پاتا ہے ،  اِنسانی نفسیات کے اِس فطری عمل کو اگر شریعت کی حُدود میں رہتے ہوئے ، اور صِرف خیر کے لیے اِستعمال کیا جائے تو اِس کے بہت سے مثبت نتائج ملتے ہیں ، باذن اللہ ،
لہذا ،  اگر میاں بیوی ایک دوسرے کی ناراضگی دور کرنے کے لیے ، اپنے درمیان محبت و مؤدت میں اضافے کے لیے اور خیر اور اصلاح کے لیے ایک دوسرے کی سچی تعریف کرتے رہا کریں تو اِن شاء اللہ اِس بات کی قوی اُمید ہوتی ہے کہ اُن کے درمیان آن پڑنے والے تلخ اوقات بہت مختصر رہا کریں گے ، یا شاید ہوا ہی نہ کریں ،
لیکن بحیثیت مُسلمان ہمیں یہ جاننا بھی لازم ہے کہ  کسی کی تعریف کرنے کے بارے میں ہمیں کیا حکم دِیا گیا ہے ؟؟؟ [[[ الحمد للہ ، اِس موضوع کو بھی ایک الگ مضمون""" کسی کی تعریف کرنے کا شرعی حکم """  میں بیان کیا جا چکا ہے ]]]، یہ معاملہ تو ہے کسی کی سچی تعریف کرنے کا ،
لیکن ،،،، اگر میاں بیوی کے درمیان خیر و اصلاح کے لیے ، اور محبت و مؤدت میں اضافے کے لیے صِرف  سچی تعریف سے مطلوب حاصل نہ ہو سکتا ہو، تو پھر کیا جھوٹی تعریف کی جا سکتی ہے ؟؟؟
الحمد للہ ، ہمیں اور اِن شاء اللہ ، تقریباً ہمارے  پر ایک مُسلمان بھائی اور بہن کو یہ بات اچھی طرح سے معلوم ہے کہ جھوٹ بہت بڑا گناہ ہے ، جِس کا انجام جہنم ہے ، جیسا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسول کریم محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی ز ُبان مُبارک سے یہ خبر ادا کروائی کہ ﴿وَإِنَّ الْكَذِبَ يَهْدِى إِلَى الْفُجُورِ ، وَإِنَّ الْفُجُورَ يَهْدِى إِلَى النَّارِ ، وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيَكْذِبُ ، حَتَّى يُكْتَبَ عِنْدَ اللَّهِ كَذَّابًا  ::: اور یقینا ً جھوٹ  فساد کی طرف لے جاتا ہے اور یقینا ً فساد جہنم کی طرف لے جاتا ہے ، اور بے شک ایسا ہوتا ہے کہ کوئی شخص جھوٹ بولتا ہی رہتا ہے یہاں تک کہ اللہ کے ہاں اُس پر جھوٹا ہو جانے کا حکم صادر ہو جاتا ہے﴾صحیح بخاری /حدیث/6094کتاب الادب/باب 69، صحیح مُسلم/حدیث/6803کتاب البِر والصلۃ و الادب/باب 29،
اور جھوٹ بولنا منافقین کی نشانیوں میں سے بتایا گیا﴿ آيَةُ الْمُنَافِقِ ثَلاَثٌ إِذَا حَدَّثَ كَذَبَ ، وَإِذَا وَعَدَ أَخْلَفَ ، وَإِذَا اؤْتُمِنَ خَانَ :::منافق کی (یہ )تین نشانیاں (بھی)ہیں، (1)جب وہ بات کرتا ہے تو جھوٹ بولتا ہے ، اور (2) جب وعدہ کرتا ہے تو اُس سے پِھر جاتا ہے ، اور (3) جب اُس کے پاس کوئی امانت رکھوائی جائے تو خیانت کرتا ہے﴾صحیح بخاری /حدیث/33کتاب الاِیمان/باب 24،صحیح مُسلم/حدیث/220کتاب الاِیمان/باب 27،  
پس یہ بات خُوب اچھی طرح سے معلوم ہے جھوٹ بہت بڑا گناہ ہے ، لیکن اللہ تبارک وتعالیٰ نے اپنی آخری شریعت میں اِنسانوں کی عمومی اور مسلمانوں کے مابین خصوصی خیر اور اِصلاح کے لیے کچھ مقامات اور حالات میں حقیقت کے خِلاف بات کرنے کی گنجائش رکھی ہے ،
[[[ الحمد للہ ،"""صِدق""' نامی مضمون میں جھوٹ اور دِکھاوے کی بات کے جائز  مقامات اور اسباب کا تفصیلی ذِکر کیا جا چکا ہے ، اِس مسئلے کو اچھی طرح سے سمجھنے کے لیے اُس مضمون کا مطالعہ اِن شاء اللہ مُفید ہو گا ]]]،
اُن مقامات اور حالات میں سے ایک مقام اور ایک حالت میاں بیوی کے درمیان خیر ، اِصلاح اور محبت و مؤدت میں اضافہ بھی ہے ، جیسا کہ ام کلثوم بنت عُقبہ رضی اللہ عنہا کا کہنا ہے کہ :::
 میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کو اِرشاد فرماتے ہوئے سُنا کہ ﴿ لَیس الکَذَّابُ الذی یُصلِحُ بَینَ النَّاس فَیَنمِی خَیرًا أو یقول خَیرًا ::: وہ جھوٹا نہیں جو لوگوں  میں اِصلاح (دُرستگی، صلح صفائی وغیرہ) کے لیے (جھوٹ بولے تا کہ اس طرح ) خیر میں اضافہ کرے یا خیر کی بات کرتا ہو ﴾صحیح البخاری / کتاب الصُلح / باب 2، صحیح مُسلم /حدیث 2605/کتاب البر والصلہ و الآداب/باب 27،
کچھ اور روایات میں اس کے ساتھ کچھ اور مواقع کا بھی ذکر ہے ﴿ولم أَسمَع یُرَخَّصُ فی شَیء ٍ مِمَّا یقول الناس کَذِبٌ إلا فِی ثَلَاثٍ (1)  الحَربُ وَ (2)الإِصلَاحُ بَینَ النَّاس وَ (3) حَدِیثُ الرَّجُلِ امرَأَتَہُ وَحَدِیثُ المَرأَۃِ زَوجَہَا ::: لوگ جو جھوٹ بولتے ہیں اُن جھوٹ میں سے میں نے رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کو سوائے تین معاملات میں جھوٹ کی اجازت دینے کے لیے علاوہ (کسی اور معاملہ میں اجازت دیتے ہوئے ) نہیں دیکھا (1) جنگ (2) لوگوں کے درمیان  اصلاح کرنے میں (3) خاوند کی اپنی بیوی سے بات کرنے میں اور بیوی کی اپنے خاوند سے بات کرنے میں (یعنی ایک دوسرے کی ناراضگی دُور کرنے کے لیے﴾صحیح مُسلم /کتاب البر و الصلۃ و لاآداب / با ب 27 ،
اِن احادیث شریفہ کی بنا پر اکثر یہ سمجھا جاتا ہے کہ میاں بیوی کے درمیان خیر ، اِصلاح اور محبت و مؤدت میں اِضافے کے لیے کسی بھی قِسم کا جھوٹ بولا جا سکتا ہے ، اور میاں بیوی ایک دوسرے کی جھوٹی تعریف بھی کر سکتے ہیں ، جبکہ ایسا سمجھنا دُرُست نہیں ،
میاں بیوی کے درمیان خیر و اِصلاح کی کوشش میں کسی تیسرے کی طرف سے کوئی جھوٹ بولا جانا اور معاملہ ہے اور خود میاں بیوی میں سے کسی ایک  کی طرف سے  دوسرے کی جھوٹی تعریف کرنا الگ معاملہ ہے ،
ایک دوسرے کی جھوٹی تعریف ، اُس غیر حقیقی بات کے ز ُمرے میں نہیں آتی جسے خیر اور اِصلاح کے لیے اِستعمال کرنے کی اجازت دی گئی ،
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے اِس فرمان مُبارک پر غور فرمایے ﴿ أَهْلَكْتُمْ۔ أَوْ ۔ قَطَعْتُمْ  ظَهْرَ الرَّجُلِ:::  تُم لوگوں نے اس (یعنی جس کی تعریف کی جا رہی ہے اُس )کو ھلاک کر دیا ۔۔۔ یا فرمایا ۔۔۔ اُس کی کمر توڑ دی﴾،صحیح البخاری/حدیث6060/کتاب الادب/باب 54،صحیح مُسلم/حدیث 7696/کتاب الزھد والرقائق/باب 15،
یہ فرمان مُبارک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے اُس وقت اِرشاد فرمایا جب اُن صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے سامنے ایک شخص نے دوسرے شخص کی تعریف کی ،
آپ یہ دیکھیے کہ کسی کی سچی تعریف میں بھی مبالغہ آرائی کرنا اور اُس کے سامنے اُس کی تعریف کرنا ، ممنوع قرار دیا گیا ہے [[[ اِس کی تفصیل""" کسی کی تعریف کرنے کا شرعی حکم """ میں ملاحظہ فرمایے]]]
تو کسی کی جھوٹی تعریف کرنا تو بدرجہ أولیٰ ممنوع ہوا ، لہذا میاں بیوی کو اپنے درمیان خیر اور اِصلاح کے لیے ایک دوسرے کی جھوٹی تعریف کرنے کی اجازت نہیں ،
یہاں یہ بات خُوب اچھی طرح سے یاد رکھنے کی ہے کہ ایک دوسرے کی جھوٹی تعریف کرنا ،  اور ایک دوسرے کے بارے میں اپنے غصے  وغیرہ والے جذبات یا احساسات کے خِلاف،  اچھے جذبات و احساسات کا اظہار کرنا ، دونوں معاملات الگ الگ ہیں ،
پہلے معاملے کی شریعت میں اجازت میسر نہیں ،لیکن دوسرے معاملے کی میسر ہے ،
ایک دوسرے کی جھوٹی تعریف کرنے  میں گناہ کما کر آخرت کا نقصان اٹھانے کے ساتھ ساتھ ، اُس سے پہلے دُنیا میں نقصان پانے کے امکانات کافی روشن اور مضبوط ہوتے ہیں ،
اور وہ اِس طرح کہ ہر شخص اپنے بارے میں کافی اچھی طرح سے جانتا ہے ، پس جب آپ کسی جھوٹی تعریف کریں گے تو وہ جان جائے گا کہ آپ اُس سے جھوٹ بول رہے ہیں ، پس آپ اُس کے محبوب ہستیوں میں شامل نہیں ہو سکیں گے ، آپ کی جھوتی تعریف کے دھوکے میں وہی  بیوقوف شخص آ سکے گا جو خود اپنے بارے میں حقائق سے چشم پوشی کرنے والا ہو ،  یا اپنے بارے میں حقائق جانتا ہی نہ ہو ،
پس جب کوئی خاوند اپنی بیوی کی ، یا کوئی بیوی اپنے خاوند کی جھوٹی تعریف کرے گا تو وہ ایک دوسرے کی طرف سے اِس دھوکہ دہی کو جان لیں گے اور بجائے خیر اور اِصلاح کے شر اور فساد کے امکانات زیادہ رہیں گے ،
لہذا یہ مسئلہ صاف اور واضح طور پر سمجھ آتا ہے کہ آپس میں خیر ، اِصلاح اور ایک دوسرے کی محبت اور مؤدت میں اضافے  کے لیے میاں بیوی کو ایک دوسرے کی جھوٹی تعریف کرنے کی اجازت نہیں ،
جی اپنی ازداوجی زندگی کو خوشگوار رکھنے کے لیے وہ یہ ضرور کر سکتے ہیں کہ ایک دوسرے کے بارے میں نا پسندیدگی والے  خیالات کے اظہار سے باز رہیں ، اور جو کچھ ایک دوسرے میں دیکھنا پسند نہیں کرتے ، کچھ ایسی  حِکمت عملی کے ساتھ اُس کی خبر ایک دوسرے کو  کرتے رہا کریں کہ اُن کے درمیان شر اور فساد کو جگہ نہ ملے یا اگر پہلے سے ہی کوئی شر یا فساد موجود ہے تو اُس میں اضافہ نہ ہو ۔
اللہ جلّ و عُلا ہم سب کو اور ہمارے تمام کلمہ گو بھائیوں اور بہنوں کو ہر شر سے محفوظ رکھے ، والسلام علیکم۔
تاریخ کتابت : ہجری15/04/1435 ، بمطابق ، 15/02/2014عیسوئی ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس مضمون کے ساتھ ز ُبان کے اِستعمال اور بات چیت کے نتائج کے بارے میں دیگر ، درج ذیل مضامین کا مطالعہ بھی اِن شاء اللہ مفید ہو گا ،
(1)بات ہی تو ہے                (2)ھنڈیا اور چمچ            (3) اِلفاظ معانی اور مفاہیم کے سانچے ہوتے ہیں ،،،
(4) دوسروں کی کمزوریاں ،اوراپنی خوبیاں  بیان کرنے سے پہلے سوچیے،
(5) کسی کی تعریف کرنے  کا شرعی حکم   (6) خاموشی نجات ہے      (7) صِدق ، سچائی ،
الحمد للہ یہ سب مضامین میرے بلاگ پر بھی موجود ہیں :
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اِس مضمون کا برقی نسخہ درج ذیل ربط پر سےنازل کیا جا سکتا ہے :
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

::::: سچے اور پکے اِیمان والوں کی دو صِفات اور اُن کا نتیجہ :::::

٦٦ ٦  قران کے سایے میں  ٥ ٥ ٥
::::: سچے اور پکے اِیمان والوں کی دو صِفات اور اُن کا نتیجہ   :::::
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ
أَعُوذُ بِاللَّهِ السَّمِيعِ الْعَلِيمِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ مِنْ هَمْزِهِ وَنَفْخِهِ وَنَفْثِهِ ۔
و الصَّلاۃُ والسَّلامُ عَلیٰ رَسولہ ِ الکریم مُحمدٍ و عَلیَ آلہِ وَأصحابہِ وَأزواجِہِ وَ مَن تَبِعَھُم بِاِحسانٍ إِلٰی یَومِ الدِین ، أما بَعد:::
السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ،
قران کریم میں چار آیات مُبارکہ ایسی ہیں جن کا اختتام اللہ تبارک و تعالیٰ نے ایک ہی فرمان مُبارک سے فرمایا ہے ، وہ چار آیات مُبارکہ درج ذیل ہیں :::
﴿ وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا مُوسَىٰ بِآيَاتِنَا أَنْ أَخْرِجْ قَوْمَكَ مِنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ وَذَكِّرْهُم بِأَيَّامِ اللَّهِ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَاتٍ لِّكُلِّ صَبَّارٍ شَكُورٍ:::ہم اِس سے پہلے موسیٰؑ کو( بھی) اپنی نشانیوں کے ساتھ بھیجا تھا (اور اُنہیں یہ حکم دِیا تھا)کہ اپنی قوم کو (کفر و شرک اور دیگر گناہوں کی) تاریکیوں سے نکال کر(توحید اور نیکیوں کی ) روشنی میں لاؤ اور اپنی قوم کو اللہ کے دِن  یاد کروا کر (یعنی اللہ  کی قوت و قدرت کے سبق آموز واقعات سنا کر) نصیحت کرو(کیونکہ )بے شک  اُن واقعات میں  ہر اُس شخص کے لیے(بہت بڑی) نشانیاں ہیں،جو شخص بہت زیادہ صبر اور بہت زیادہ شُکر کرنے والا ہو﴾سُورت إِبراھِیم (14)/آیت 5،
﴿ أَلَمْ تَرَ أَنَّ الْفُلْكَ تَجْرِي فِي الْبَحْرِ بِنِعْمَتِ اللَّهِ لِيُرِيَكُم مِّنْ آيَاتِهِ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَاتٍ لِّكُلِّ صَبَّارٍ شَكُورٍ:::کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ کشتی سمندر میں اللہ کے فضل سے چلتی ہے تاکہ اللہ تُم لوگوں کو اپنی نشانیاں میں سے کچھ نشانیاں دِکھائے؟ بے شک  اِس  میں  ہر اُس شخص کے لیے(بہت بڑی) نشانیاں ہیں، جو شخص بہت زیادہ صبر اور بہت زیادہ شُکر کرنے والا ہو ﴾سُورت لُقمان (31)/آیت 31،
﴿ فَقَالُوا رَبَّنَا بَاعِدْ بَيْنَ أَسْفَارِنَا وَظَلَمُوا أَنفُسَهُمْ فَجَعَلْنَاهُمْ أَحَادِيثَ وَمَزَّقْنَاهُمْ كُلَّ مُمَزَّقٍ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَاتٍ لِّكُلِّ صَبَّارٍ شَكُورٍ:::مگر انہوں نے کہا "اے ہمارے رب، ہمارے سفر کی مسافتیں لمبی کر دے" اُنہوں نے اپنے اوپر آپ ظلم کیا آخرکار ہم نے انہیں افسانہ بنا کر رکھ دیا اور انہیں بالکل تتربتر کر ڈالا بے شک  اِس  میں  ہر اُس شخص کے لیے(بہت بڑی) نشانیاں ہیں، جو شخص بہت زیادہ صبر اور بہت زیادہ شُکر کرنے والا ہو ﴾سُورت سباء (34)/آیت 19،
﴿ إِن يَشَأْ يُسْكِنِ الرِّيحَ فَيَظْلَلْنَ رَوَاكِدَ عَلَىٰ ظَهْرِهِ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَاتٍ لِّكُلِّ صَبَّارٍ شَكُورٍ:::  اللہ جب چاہے ہوا کو ساکن کر دے اور یہ (لوگ)سمندر کی سطح  پر کھڑے کے کھڑے رہ جائیں اِس میں بڑی نشانیاں ہیں بے شک  اُن واقعات میں  ہر اُس شخص کے لیے(بہت بڑی) نشانیاں ہیں، جو شخص بہت زیادہ صبر اور بہت زیادہ شُکر کرنے والا ہو ﴾سُورت  الشُوریٰ (42)/آیت 33،
توجہ فرمایے قارئین کرام ، کہ اِن مذکورہ بالا آیات شریفہ کا اختتام بالکل ایک ہی فرمان مُبارک پر ہوتا  ہے کہ ﴿إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَاتٍ لِّكُلِّ صَبَّارٍ شَكُورٍ::: بے شک اِس میں ہر اُس شخص کے لیے(بہت بڑی) نشانیاں ہیں، جو شخص بہت زیادہ صبر اور بہت زیادہ شُکر کرنے والا ہو ﴾،
اور یہ بھی غور فرمایے کہ اِن مذکورہ بالا چار آیات شریفہ میں سے تین آیات ، اللہ تبارک وتعالیٰ کی نعمتوں کا ذِکر لیے ہوئے ہیں جو نعمتیں اللہ جلّ و عُلا نے اپنے بندوں کو عطاء فرمائِیں ،
اور ایک آیت شریفہ جو کہ سورت سباء کی ہے ، اُس میں بھی اللہ کی عطاء کردہ نعمت کا ذِکر ہے لیکن اُس کے ساتھ ایسے اُن بندوں کی طرف سے اللہ کی عطاء کردہ نعمت پر اللہ کی نا شکری کرتے ہوئے اُس نعمت سے کفر کا ذِکر بھی ہے ،
اور اِن چاروں آیات شریفہ میں اللہ کی عطاء کردہ نعمتوں کو اللہ کی نشانیوں میں سے نشانیاں بیان فرمایا گیا ہے ، اور یہ بتایا گیا ہے کہ اللہ کی یہ  نشانیاں صِرف انہیں ہی دِکھائی اور سُجھائی دیتی ہیں جو بہت زیادہ صبر کرنے والے اور بہت زیادہ شُکر کرنے والے ہوتے ہیں ،
صَبَّارٌ اور  شَكُورٌ  دونوں ہی مبالغے کا صیغہ ہیں ،  یعنی کسی کام کے بہت زیادہ شدت کے ہونے کا مفہوم لیے ہوئے ہیں
پس  صَبَّارٌ بہت زیادہ صبر کرنے والا ، اور  شَكُورٌ بہت زیادہ شُکر کرنے والا ، مفسرین کے اقوال کے مطابق یہ دونوں صِفات یعنی صبر اور شُکر  ایک دوسرے سے قریب ہیں ،بلکہ تقریباً ایک دوسرے سے جُڑی ہوئی ہیں ، کہ ایک کی موجودگی میں دوسری کا ہونا تقریباً لازم نظر آتا ہے ،
اللہ تبارک وتعالیٰ نے اپنے اِن فرامین میں  اِن دو صِفات کے ذِکر کے ذریعے سچے اور پکےاِیمان والوں کا ذِکر فرمایا ہے کہ یہ دونوں صِفات یعنی صبر کرنا اور شُکر کرنا ، اِیمان والوں کی ہی ہوتی ہیں ،
لیکن یہاں یہ جان لینا بہت ضروری ہے کہ صبر کرنے سے مُراد کسی دُکھ تکلیف پریشانی وغیرہ کو اللہ کا حکم جان کر اللہ کی رضا کے لیے اُس پر صبر کرنا ہے ،
اور اللہ اور اُس کے رسول کریم محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی اطاعت کرنے میں اپنے نفس اور اِرد گِرد سے ملنے والی مشقتوں پر صبر کرنا ہے ، اور یہ سب صِرف اِیمان والوں کا خاصہ ہے ، کیونکہ کوئی غیر مُسلم ، اور کوئی کم  اور کمزور اِیمان والا کسی دُکھ ، تکلیف اور پریشانی وغیرہ کو اللہ کا حکم جان کر ، اللہ کی رضا کے لیے اُس پر صبر نہیں کرتا بلکہ  کسی دُنیاوی کمزوری یا کسی وقت دُنیا والوں کو دِکھانے کے لیے صبر کرتا ہے ،  اور نہ ہی وہ اللہ اور اُس کی رسول کریم محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی اطاعت کرنے والا ہوتا ہے ،
[[[ الحمد للہ ، """صبر"""کے بارے میں تفصیل دو الگ مضامین کافی عرصہ پہلے نشر کی جا چکی ہے ]]]
اور اِسی طرح شُکر بھی ، اللہ تبارک وتعالیٰ کی طرف سے کوئی نعمت ملنے پر ، اُسے اللہ کی ہی عطاء جان کر ، اللہ کا شُکر ادا کرنا ہے،اور صبر و شُکر دونوں ہی کام  ظاہری اور باطنی اعمال کے ذریعے مکمل ہوتے ہیں ،
ممکن ہے آپ صاحبان کے ذہن میں یہ سوال آئے کہ ، اللہ جلّ جلالہُ نے اِن آیات شریفہ میں صبر کرنے اور شُکر کرنے کی صِفات کا ذِکر مبالغے کے صیغے میں کیوں فرمایا ہے ؟؟؟
تو ، اِس کا جواب یہ ہے کہ ، چونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے اِیمان والے بندوں کو وہی کچھ دیتا ہے ، اور اُن کے لیے وہی کچھ کرتا ہے جو اُن کے لیے خیر ہوتا ہے ، خواہ اُن بندوں کو اُس کی سمجھ آ سکے یا نہ آ سکے ،
لہذا اللہ ، الحکیم الروؤف الرحیم کی مشیئت اور قضاء پر ، اُس کی رضا کے لیے ہی بہت زیادہ صبر کرتے رہنا ہی سچے اور پکے اِیمان کا خاصہ ہے ،  
اور چونکہ اللہ سُبحانہ ُ و تعالیٰ  کی عطاء کردہ نعمتوں میں سے کوئی بھی نعمت ہلکی ، چھوٹی یا کمتر نہیں ، حتیٰ کہ ہمارے جِسم میں داخل ہو کر خارج ہونے والا ایک سانس تک بھی ،
لہذا ، اُللہ پاک  کی دِی ہوئی ہر نعمت پر ، اللہ کا بہت زیادہ اور مُستقل شُکر ادا کیا جانا ہی چاہیے ، اور ایسا کرنا صِرف سچے اور پکے اِیمان والوں کا ہی کام ہے ،
پس اللہ تعالیٰ نے ہمیں اِن چار آیات شریفہ میں یہ بتایا اور سمجھایا ہے کہ بہت زیادہ صبر کرنے والے اور بہت زیادہ شُکر کرنے والے سچے اور پکے اِیمان  والے ہی  اُس کی نشانیوں کو پہچاننے ، جاننے ، اور سمجھنے والے ہوتے ہیں ،
اللہ پاک ہم سب کو اور ہمارے سب ہی مُسلمان بھائیوں اور بہنوں کو سچا اور پکا اِیمان والا بننے کی جرأت عطاء فرمائے ۔ والسلام علیکم۔
تاریخ کتابت : 16/04/1435 ہجری ، بمطابق ، 17/02/2014عیسوئی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اِس مضمون کا برقی نسخہ درج ذیل ربط سے اتارا جا سکتا ہے ؛
صبر سے متعلق  مضامین درج ذیل لنکس پر پڑھے جا سکتے ہیں ، اور  برقی نسخہ جات کے  ڈاون لوڈ لنکس بھی وہاں میسر ہیں :::
::: صبر ، انتہائی میٹھے اور لذیذ پھلوں والا کڑوا کام ::: http://bit.ly/193xP6q
::: شکوہ اور صبر ::: http://bit.ly/15iXDZ6
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔