Tuesday, August 8, 2017

:::کسوف (سُورج گرھن) اور خسوف (چاند گرھن) کی تاثیر ، ایسے میں کیا کیا جانا چاہیے ؟ :::


:::کسوف (سُورج گرھن) اور خسوف (چاند گرھن) کی تاثیر ، ایسے میں کیا کیا جانا چاہیے ؟  :::
بِسمِ اللَّہِ الرِّحمٰنِ الرِّحیم
الحَمدُ لِلّہِ وَحدہُ الذی لا اِلہَ اِلاَّ ھُو ،  و الَّذی لَیس أصدق منہ ُ قِیلا ،  و الَّذی أَرسلَ رَسولہُ بالھُدیٰ و تبیّن مَا ارادَ ، و الصَّلاۃُ و السَّلام عَلیَ مُحمدٍ عبد اللَّہ و رسولِ اللَّہ ، الَّذی لَم یَنطِق عَن الھَویٰ و الَّذی أمانۃ ربہِ قد اَدیٰ،
سچی اور خالص تعریف کا حق دار اللہ ہی ہے ، جس کے عِلاوہ کوئی بھی اور سچا اور حقیقی معبود نہیں ، اور جس سے بڑھ کر سچ کہنے والا کوئی نہیں ، اور جس نے اپنے رسول کو ہدایت کے ساتھ بھیجا اور وہ سب کچھ واضح فرما دیا جسے واضح کرنے کا اللہ نے ارداہ کیا ، اور سلامتی ہو اللہ کے بندے اور اللہ کے رسول محمد(صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم ) پر ، جو کہ اپنی خواھش کے مُطابق نہیں بات نہیں فرماتے تھے  ، اور جنہوں نے اپنے رب کی امانت مکمل طو رپر  دی۔
السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ،
ہمارے دِین اِسلام میں ہمیں ہماری زندگی میں ہونے والے ہر کام کے متعلق ایسی تعلیمات مہیا کر دی گئی ہیں جو ہمارے لیے دِین ، دُنیا اور آخرت کی خیر کا سبب ہے ،
حتیٰ کہ ایسے کام بھی جو بظاہر ہماری زندگیوں کے معاملات سے بہت دور دِکھائی دیتے ہیں ،
ایسے ہی کاموں میں سے دو کام ، سُورج گرھن اور چاند گرھن بھی ہیں ،
اِن دونوں کاموں کے بارے میں ، ہمارے محبوب رسول اللہ محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے نے اپنے اللہ جلّ جلالہُ کی وحی کے مُطابق ، قولی اور عملی طور پر ہمیں یہ سِکھایا کہ،
اِس کا سبب کیا ہے ؟
اور ،  اگر ہماری زندگیوں میں یہ کام ظاہر ہوں تو ہمیں کیا کرنا چاہیے ؟
::::::: اِیمان والوں کی امی جان ، عائشہ رضی اللہ عنہا و أرضاھا کا کہنا ہے کہ ﴿ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے زمانے میں سُورج گرھن لگا ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے لوگوں کے ساتھ باجماعت نمازپڑھائی ، اور قیام کو کافی طویل فرمایا ، اور پھر رُکوع فرمایا تو رُکوع بھی کافی طویل فرمایا ، پھر (دُوسرا )قیام فرمایا جو پہلے والے قیام سے کچھ تھوڑا کم تھا،اور پھر پہلے والے رُکوع سے کچھ کم طویل رُکوع فرمایا ،  پھر سجدہ فرمایا ، اور سجدہ میں کافی دیر رہے ،پھر دُوسری رکعت پڑھی اور اُس میں بھی ویسا ہی کیا جیسا کہ پہلی رکعت میں کیا تھا ، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے نماز مکمل فرما دِی ، اُس وقت تک سُورج گرھن سے نکل چکا تھا ، پھر(نماز سے فراغت کےبعد)رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے لوگوں سے خطاب فرمایا ، اور  ( اُس کی ابتداء) اللہ کا شکر ادا کیا اور  تعریف کی ، اور پھر اِرشاد فرمایا :::
إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ ، لاَ يَنْخَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلاَ لِحَيَاتِهِ ، فَإِذَا رَأَيْتُمْ ذَلِكَ فَادْعُوا اللَّهَ وَكَبِّرُوا ، وَصَلُّوا وَتَصَدَّقُوا » . ثُمَّ قَالَ « يَا أُمَّةَ مُحَمَّدٍ ، وَاللَّهِ مَا مِنْ أَحَدٍ أَغْيَرُ مِنَ اللَّهِ أَنْ يَزْنِىَ عَبْدُهُ أَوْ تَزْنِىَ أَمَتُهُ ، يَا أُمَّةَ مُحَمَّدٍ ، وَاللَّهِ لَوْ تَعْلَمُونَ مَا أَعْلَمُ لَضَحِكْتُمْ قَلِيلاً وَلَبَكَيْتُمْ كَثِيرًا :::یقیناً سُورج اور چاند اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں ،جنہیں کسی کی موت یاپیدائش کی وجہ سے گرھن نہیں لگتا ، لہذا اگر تُم لوگ گرھن دیکھو تو اللہ سے (بخشش اور رحم کی )دُعاء کرو ، اور (اللہ کی)بڑائی بیان کرو ، اور نماز پڑھو اور صدقہ کرو، اے محمد کی اُمت ، اللہ کی قسم اللہ سے بڑھ کو کوئی بھی اِس سے زیادہ اِس بات پر غیرت نہیں کھاتا کہ اُس کا کوئی بندہ یا بندی زِنا کرے ، اے محمد کی اُمت ، اللہ کی قسم  اگر تُم لوگ وہ کچھ جانتے ہو جو میں جانتا ہوں تو تُم لوگ بہت کم ہنسو اور بہت زیادہ رؤ﴾صحیح بخاری/حدیث/1044کتاب الکسوف/باب2،صحیح مُسلم/ حدیث/2127کتاب الکسوف/پہلا باب """،
::::::: مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ ُ کا کہنا ہے کہ""" رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے زمانہ میں ، جب اُن کے بیٹے إِبراہیم فوت ہوئے تو سورج گرھن لگا ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے اِرشاد فرمایا ﴿إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ لاَ يَنْكَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلاَ لِحَيَاتِهِ فَإِذَا رَأَيْتُمُوهُمَا فَادْعُوا اللَّهَ وَصَلُّوا حَتَّى يَنْكَشِفَ  ::: بے شک سُورج اور چاند اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں ، کِسی کی موت یا زندگی کی وجہ سے اُنہیں گرھن نہیں لگتا ، لہذا جب تُم لوگ اُنہیں (گرھن لگا ہوا ) دیکھو تو اللہ سے (بخشش اور رحم کی) دُعاء کرو اور نماز پڑھو حتیٰ کہ گرھن ختم ہو جائے﴾صحیح مُسلم/ حدیث/2161کتاب الکسوف/ باب5"""، ابی مسعود الانصاری رضی اللہ عنہ ُ سے بھی، بیٹے کی موت کے ذِکر کے بغیر  روایت ہے ، صحیح مُسلم/ حدیث/2153کتاب الکسوف/ باب5،
::::::: فقہ الحدیث :::::::
اِس حدیث شریف میں سے ہمیں درج ذیل مسائل اور تعلیمات ملتی ہیں ،
::::::: (1) ::::::: سُورج گرھن اور چاند گرھن دونوں اللہ تبارک و تعالیٰ  کی نشانیوں میں سے ہیں ،
::::::: (2) ::::::: سُورج اور چاند کو گرھن کی حالت میں لا کر اللہ عزّ و جلّ اپنے بندوں کو اُس کی قدرت و قوت کا خوف دِلاتا ہے ،
::::::: (3) ::::::: سُورج اور چاند کو کسی کی موت ، کسی کی پیدائش ، یا کسی کی زندگی کی وجہ سے گرھن نہیں لگتا ، خواہ وہ کوئی بھی شخصیت ہو ،
::::::: (4) :::::::  سُورج گرھن کِسی کی زندگی یا موت ،  کِسی  پیدا شُدہ اِنسان  ، یا پیدا ہونے والے  جنین پر ،  کِسی بھی طور کوئی تاثیر نہیں رکھتے ،
::::::: (5) ::::::: عام طور پر سُورج  گرھن کو کسوف کہا جاتا ہے ، اور چاند گرھن کو خسوف ، اگر دونوں کا، یعنی سُورج اور چاند کا  اکٹھا ذِکر ہو تو  بھی ، اور اگر الگ الگ ذِکر ہو تو بھی کسوف اور خسوف دونوں اِلفاظ کا اِستعمال لغوی طور پر دُرُست ہے ،
::::::: (6) ::::::: جب سُورج یا چاند کو گرھن لگے تو مُسلمانوں کو نماز پڑھنی چاہیے ، اللہ سے بخشش اور رحم کی دُعائیں کرنا چاہیں ، اللہ کی تکبیر  اور ذِکر کرتے رہنا چاہیے، اور صدقہ کرنا چاہیے ،  نہ کہ خود ساختہ ، یا ، کفار کی بنائی ہوئی حرکات ،
::::::: (6) ::::::: اللہ تبارک وتعالیٰ کی طرف سے اُس کے خلیل محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کو اُس کے غیب میں سے عطاء کی  گئی خبروں میں سے ایک خبر سے اِنسانوں کو آگاہ کرنا ۔
::::::: نماز کسوف ، نماز خسوف کی شرعی حیثیت :::::::
عُلماء کرام کا اِس مسئلے میں اِتفاق نہیں ہے کہ سُورج گرھن یا چاند گرھن کے وقت میں پڑھی جانے والی نماز سُنّت ہے یا واجب ،
اِس نماز کے واجب ہونے کا فتویٰ دینےو الے عُلماء کرام کی بات زیادہ دُرُست اوربہتر ہے ، کیونکہ اگر یہ نماز واجب نہ ہوتی تو رسول اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم""" نماز با جماعت """ کی آواز لگوا اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین کو مسجد میں جمع نہ فرماتے ، اور نہ اُنہیں یہ نماز پڑھاتے ، بلکہ اُنہیں صِرف ترغیب فرما دیتے اور خود الگ سے اپنی نماز ادا فرما دیتے ،
::::::: نماز کسوف ، نماز خسوف کا طریقہ  :::::::
اِن دونوں نمازوں کی ادائیگی کا طریقہ نماز  کے عام طریقے سے مُختلف ہے ،
سُورج گرھن (کسوف الشمس) یا چاند گرھن (خسوف القمر) کی نماز کی دو رکعتیں ہوتی ہیں ، جن میں چار رُکوع ہوتے ہیں ، اور چار ہی سجدے ہوتے ہیں ، یعنی ایک رکعت میں دو رُکوع ،اور دود سجدے ،
تکبیر تحریمہ  کے بعد تسبیح ، تحمید اور تمجید کے بعد ، سُورت فاتحہ پڑھی جائے گی ، اور پھر کافی دیر تک قرأت کی جائے گی ، پھر کافی دیر تک رُکوع کی حالت میں تسبیحات کی جائیں گی ، پھر رُکوع سے کھڑے ہو کر سُورت فاتحہ پڑھی جائے گی ، اور پہلے کی گئی قرأت سے کچھ کم قرأت کی جائے گی ، پھر  پہلے دُوسرا رُکوع  سے کچھ کم طویل رُکوع کیا جائے گا ،
پھر رُکوع سے کھڑے ہونے کے بعد دو سجدے کیے جائیں گے جن کی طوالت تقریباً قرأت کےبرابر ہو نا چاہیے، لیکن دُوسرا سجدہ پہلے سے کچھ کم طویل ہو ،
پھر اِسی طرح دُوسری رکعت ادا کی جائے ، لیکن اِس قرأت ، رُکوع و سجود کی طوالت پہلی رکعت سے کچھ کم رکھی جائے گی ،
اِنسانوں کی معمول کے مُطابق فِطری عادات و حالت کے مُطابق ، دُوسری رکعت کی طوالت پہلی سے کم رکھنے کی حِکمت یہ سمجھ میں آتی ہے ، کہ چونکہ ابتداء میں لوگوں کی ہمت زیادہ ہوتی ہے جو وقت  گذرنے کے ساتھ ساتھ کم ہوتی جاتی ہے ، اور اُنکی توجہ نماز کی بجائے اپنی تھکاوٹ کی طرف ہونے لگتی ہے ، لہذا اُس سے پہلے ہی نماز مکمل کر لی جانی چاہیے ،واللہ أعلم ،
::::::: نماز کسوف ، نماز خسوف سے متعلقہ کچھ دیگر مسائل  :::::::
::::::: سُورج گرھن کی نماز کے بعد خطبہ سُنّت ہے ، لہذا اِس سُنّت پر عمل کیا جانا چاہیے ،
::::::: نماز کی ابتداء گرھن کے شروع ہوتے ہی  کر دی جانی چاہیے ، اور گرھن کے ختم ہونے تک نماز کی حالت میں رہنا چاہیے،
::::::: سُورج گرھن، اور چاند گرھن  کی نماز اُن اوقات میں بھی ادا کی جاسکتی ہے جِن اوقات میں عام طور پر نماز پڑھنے سے منع کیا گیا ہے ، کیونکہ اِس نماز کا ایک خاص سبب ہے جو جِس وقت ظاہر ہو گا اُسی وقت یہ نماز پڑھی جائے گی ،
::::::: سُورج گرھن،ا ور چاند گرھن  کی نمازمیں ، ہر رکعت میں دو رُکوع ، تین رُکوع، چار رُکوع اور پانچ رُکوع کرنا بھی صحابہ رضی اللہ عنہم سے ثابت ہے ، لیکن کسی شک کے بغیر بہتر اور افضل وہی طریقہ ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم سے ثابت ہے ، یعنی ، ایک رکعت میں دو رُکوع ، جِس کا بیان ابھی کیا گیا ہے ،
::::::: سُورج گرھن،ا ور چاند گرھن  کی نمازمیں دیر سے پہنچنے والوں کے لیے رکعت میں شمولیت پہلے رُکوع میں شامل ہونے کے حساب سے مانی جائے گی ، نہ کہ دُوسرے رُکوع میں شامل ہونے کے اعتبار سے ، کیونکہ پہلا رُکوع ، وہ ہے جو نماز کا رُکن ہے ، اور دُوسرا رُکوع سُنّت ،
یعنی اگر کوئی شخص پہلی یا دُوسری رکعت کے دُوسرے رُکوع میں شامل ہوا تو  اُسے وہ رکعت نہیں ملی ، پس پہلی رکعت کے دُوسرے رُکوع میں شامل ہونے والے کو إِمام کے سلام کہنے کے بعد اپنی رکعت ادا کرنا ہوگی ،
اور دُوسری رکعت کے دُوسرے رُکوع میں شامل ہونے والے کو دونوں رکعتیں ادا کرنا ہوں گی،
::::::: سُورج گرھن،ا ور چاند گرھن  کی نمازمیں رُکوع چونکہ کافی طویل ہوتے ہیں ، لہذا عموماً یہ سوال ذہن میں آتا ہے کہ رُکوع و سجود کی حالت میں قران کریم کی تلاوت تو نہیں کی جاسکتی تو پھر کیا پڑھا جائے ؟؟؟ کیا کہا جائے؟؟؟
تو اِس کا جواب بھی ہمیں ہمارے حبیب محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے عطاء فرما رکھا ہے کہ ﴿فَأَمَّا الرُّكُوعُ فَعَظِّمُوا فِيهِ الرَّبَّ عَزَّ وَجَلَّ ::: تو جو رُکوع ہے اُس میں رب عزّ و جلّ کی عظمت و پاکیزگی بیان کرو﴾صحیح مُسلم/ حدیث1102/کتاب الکسوف/ باب41،
لہذا رُکوع کی حالت میں ہمیں اللہ کی بڑائی اور پاکیزگی بیان کرتے رہنا چاہیے ، اور یقیناً وہ اِلفاظ سب سے بہتر ، اعلیٰ و أرفع اور اللہ کے ہاں محبوب ہیں جو اللہ کے رسول محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے اِرشاد فرمائے ، پس ہمیں رُکوع کی وہ تسبیحات یاد رکھنا چاہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم سے ثابت ہیں ، صِرف کسوف یا خسوف کی نماز کے لیے ہی نہیں ، بلکہ ہر ایک نماز کے لیے ، کہ اُن الفاظ کو ادا کرنے سے نہ صِرف نماز کا حسن اور اُس میں راحت کا اضافہ ہوتا ہے ، بلکہ اللہ کے ہاں اُس کے قُبُولیت کے امکانات بھی بڑھ جاتے ہیں،
::::::: رُکوعوں کی طرح اِس نماز میں سجدے بھی کافی لمبے ہوتے ہیں ، لہذا سجدوں میں بھی اللہ کے رسول کریم محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی تعلیم کے مُطابق ہی عمل کرنا چاہیے ،اُن صلی اللہ علیہ علی آلہ وسلم کا فرمان شریف ہے کہ ﴿ وَأَمَّا السُّجُودُ فَاجْتَهِدُوا فِى الدُّعَاءِ فَقَمِنٌ أَنْ يُسْتَجَابَ لَكُمْ::: اور جو رُکوع ہے اُس میں دُعاء کرنے میں خُوب دُعاء کرو، کہ (اِس سجدے  میں)اِس بات کی بہت قوی اُمید ہے کہ تُم لوگوں کی دُعاء قُبُول کر لی جائے﴾صحیح مُسلم/ حدیث1102/کتاب الکسوف/ باب41،
اِس کے ساتھ یہ بھی یاد رکھیے کہ سجدے کی حالت میں بندہ اپنے رب کے سب سے زیادہ قریب ہو جاتا ہے ، لہذا اپنی نمازوں کے سجدوں میں کثرت سے دُعاء کیا کیجیے ،
اللہ تعالیٰ ہمارے نیک اعمال قبول فرمائے اور غلطیوں ، کوتاہیوں اور گناہوں سے درگذر  فرمائے۔ والسلام علیکم۔
تاریخ کتابت : 21/07/1435 ہجری ، بمُطابق ، 20/05/2014عیسوئی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مضمون کا برقی نسخہ درج ذیل ربط سے نازل کیا جا سکتا  ہے :
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Saturday, August 5, 2017

::: اللہ سے ڈرو بھی اور اُس کی رحمت کی اُمید بھی رکھو:::


::: اللہ سے ڈرو بھی اور اُس کی رحمت کی اُمید بھی رکھو:::
بِسّمِ اللَّہ الرّ حمٰنِ الرَّحیم
الحَمدُ لِلّہ ِ وحدہُ و الصَّلاۃُ و السَّلامُ عَلیٰ مَن لا نبیَّ   و لا مَعصُومَ بَعدَہ ُ   مُحمدٌ  صَلَّی اللَّہُ عَلیہ ِوعَلیٰ آلہِ وسلّمَ ، و مَن  أَھتداء بِھدیہِ و سلک َ  عَلیٰ  مَسلکہِ  ، و قد خِسَرَ مَن أَبتدعَ و أَحدثَ فی دِینِ اللَّہ ِ بِدعۃ، و قد خاب مَن عدھا حَسنۃ ،
شروع اللہ کے نام سے جو بہت ہی مہربان اور بہت رحم کرنے والا ہے ،
اکیلے اللہ کے لیے ہی ساری خاص تعریف ہے اور رحمت اور سلامتی اس پر جِس کے بعد کوئی بنی نہیں اور کوئی معصوم نہیں وہ ہیں محمد  صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم، اور رحمت اور سلامتی اُس پر جِس نے اُن صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی ہدایت کے ذریعے راہ  اپنائی اور اُن صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی  راہ پر چلا، اور یقیناً وہ نقصان پانے والا ہو گیا جِس نے اللہ کے دِین میں کوئی نیا کام داخل کیا ، اور یقیناً وہ تباہ ہو گیا جِس نے اُس بدعت کو اچھا جانا ،
السلامُ علیکُم و رحمۃُ اللہ و برکاتہُ ،
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے ((((( وَ ادعُوہُ خَوفاً و طَعماً ::: اور اُس کو  خوف اور لالچ کے ساتھ پُکارو )))))
عُلماء میں سے کچھ کا کہنا ہے کہ (((((ادعُوہُ ))))) کا معنی ہے """ اعبُدُوہُ ::: اُس کی عبادت کرو """ ،
اور کچھ کا کہنا ہے کہ اِس کا معنی ٰ ہے """ اُس سے دُعاء کرو """ اِس مفہوم میں کہ اُس سے ہی خیر طلب کرو اور اُسی سے ہی نقصان کی دُوری طلب کرو ،
حقیقتادونوں باتوں میں کوئی اختلاف نہیں ، کیونکہ اِس میں کوئی شک نہیں  کہ دُعاءء کرنا عِبادات کی بڑی اور أہم اِقسام میں سے ایک ہے ، جیسا کہ نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ ُ کا کہنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے اِرشاد فرمایا (((((الدُعاءءُ هو الْعِبَادَةُ ::: دُعاء عِبادت ہے  اور تُمہارے رب کا کہنا ہے )))))
اور پھر قرأت فرمایا ((((( وقال رَبُّكُمْ ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ ::: اور تُمہارے رب کا کہنا ہے کہ مجھ سے دُعاء کرو  میں ہی تُم لوگوں کی قبول کروں گا ))))) سُنن الترمذی /حدیث 3372/کتاب الدعوات /باب اول ،سنن ابو داود /حدیث1479 /کتاب الصلاۃ /باب359 ،  امام الالبانی  رحمہُ اللہ نے صحیح قرار دیا ،
یہاں اِس بات کا ذِکر بھی مُناسب معلوم ہوتا ہے کہ (((الدُّعَاءُ مُخُّ الْعِبَادَةِ::: دُعاء عِبادت کا مغز ہے ))) ایک ضعیف روایت ہے ،
اللہ سے دُعاء کرتے ہوئے ہمیں یہ خُوب یاد رکھنا چاہیے کہ ہمیں  اللہ تعالیٰ سے دُعاء کرتے ہوئے ، اُس کی عِبادت کرتے ہوئے ، ہر وقت ، ہر عمل میں اللہ سے خوف کرتے رہنا چاہیے اور اُس سے رحمت اور قُبولیت کا لالچ بھی رکھنا ہی چاہیے ، کہ اللہ تعالیٰ جس پر غُصہ کرے اُس کے لیے انتہائی شدید گرفت کرنے والا، سخت ترین عذاب دینے والا والا ہے ، اور جو اُس کی خوشی حاصل کر سکے اُس کے لیے انتہائی رحم کرنے والا اور آسانیاں عطاء فرمانے والا ہے ،
اللہ تعالیٰ نے خود ہی یہ خبر ہمیں عطاء فرمائی ، اپنے رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کو حکم دیا کہ یہ خبر دیجیے کہ (((((نَبِّىءْ عِبَادِي أَنِّي أَنَا الْغَفُورُ الرَّحِيمُ O وَأَنَّ عَذَابِي هُوَ الْعَذَابُ الْأَلِيمُ ::: (اے محمد آپ ) میرے بندوں کو خبر کر دیجیے( کہ) بے شک میں  بہت بخشش والا اور رحم کرنے والا ہوں O اور بے شک میرا عذاب ہی وہ (ہے جو کہ) انتہائی دردناک عذاب ہے ))))) سورت الحجر(15) /آیات 49,50،
پس دُعاء کرنے والے کو ، اللہ تعالیٰ کی عِبادت کرنے والے کو یہ جاننا چاہیے کہ اُسے اللہ کی بخشش اور رحمت کا یقین رکھتے ہوئے دُعاء کرنا ہے کہ اللہ تعالیٰ غفور و رحیم ہے ،
اور اِس کے ساتھ ہی ساتھ بالکل اُسی یقین کی طرح اللہ سے خوف بھی کرنا ہے اور  یہ بھی یقین رکھنا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا عذاب انتہائی شدید ہے ،
لہذا ، صِرف بخشش اور رحمت کا یقین فائدہ دینے والا نہیں ، اور نہ ہی صرف عذاب کا خوف فائدہ دینے والا ہے، بلکہ اللہ کا خوف اور اللہ کی بخشش کی اُمید دونوں کا ساتھ ہونا لازم ہے ،
دُعاء کرتے ہوئے ، اللہ تعالیٰ  کی عِبادت کرتے ہوئے ، نیک اعمال کرتے ہوئے بندے کے دِل و دِماغ پر یہ خوف بھی رہنا چاہیے کہ کہیں اُس کا یہ عمل اللہ کے ہاں مردُود نہ ہو جائے ، اگر ایسا ہو گا تو بندہ اپنے ہر عمل  کو ادا کرنے سے پہلے اُس عمل کی قُبولیت کی تمام شرائط پوری کرنے کا عِلم حاصل کرے گا اور اُن شرائط کو پوری کرنے کی بھر پور کوشش کرے گا ،
اور اِس کے ساتھ اُسے اللہ تعالیٰ سے یہ اُمید ہو جائے گی کہ اللہ پاک اپنی رحمت سے اُس کے عمل کو قُبول فرما لے گا اور اُس پر راضی ہو جائے گا ،
پس دُعاءء کرنے والے کو ، کوئی بھی اور عِبادت کرنے والے کو اپنے اندر یہ دونوں کیفیات برقرار رکھنا لازم ہے ،
جو لوگ اِس قِسم کی باتیں کرتے ہیں کہ """ جِس نے اللہ کی عِبادت اللہ کے خوف سے کی ، یا اللہ کی رحمت کے لالچ میں کی تو اُس کی عِبادت ناقص ہے ، کیونکہ اُس نے تو عِبادت اللہ کے خوف کو دُور کرنے کے لالچ میں  ، اللہ کے عذاب کو دُور کرنے کے لالچ میں  ، یا اللہ کی رحمت حاصل کرنے کے لالچ میں، اللہ کی جنت حاصل کرنے کے لالچ میں کی، تو اُس نے گویا اپنی عِبادت کے ذریعے تجارت کی ، ادلے بدلے کا سودا کیا ، لہذا یہ عِبادت ناقص ہے ، مکمل عِبادت وہ ہے جو اللہ کی عظمت اور اس کے جلال کی وجہ سے کی جائے کسی اور لالچ یا غرض سے نہیں ، وغیرہ وغیرہ """
اس قِسم کی باتیں کرنے والے اللہ تعالیٰ کے فرامین اور اُس کے رسول کریم صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے فرامین کا اِنکار کرتے ہیں ،
جی ہاں ،  ہمیں کثرت سے ایسی آیات مُبارکہ اور صحیح ثابت شُدہ احادیث مُبارکہ مُیسر ہیں جِن میں اللہ  تعالیٰ کی عبادت اُس کے خوف کی وجہ سے ، اُس کے عذاب سے بچنے کے لیے ، اُس کی رحمت  اور  اُس کی جنت کے حصول کے لیے کیے جانے کا سبق دیا گیا ہے ،
اور سب اعلیٰ اور اکمل بات اور ہدایت وہ ہے جو اللہ کی کتاب اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی صحیح ثابت شدہ سُنّت مُبارکہ میں ہے ، اور اِن دونوں میں ہمیں یہ ہی سبق ملتا ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ  سے ڈرتے ہوئے اُس کے عذاب سے بچنے کے لیے ، اور اُس سے رحمت اور بخشش کی امید رکھتے ہوئے اُس سے دُعاءء کریں ، اُس کی عِبادت کریں ،
صحت مند اور صحیح عقل رکھنے والوں کی دُعاءئیں ، خواہشات اور اعمال دو ھدف رکھتے ہیں :
::: (1) :::   نقصان دہ چیزوں سے بچنا،
:::  (2)  :::   فائدہ مند چیزوں کو حاصل کرنا،
کوئی صحت مند اور ٹھیک عقل رکھنے والا کِسی ایسی چیز کے لیے دُعاءء نہیں کرتا، نہ ہی کوئی ایسا عمل کرتا ہے جِس کے نتیجے میں  نہ تو کِسی نُقصان سے محفوظ ہونے کی توقع  ہو اور نہ ہی کوئی فائدہ حاصل ہونے کی اُمید ہو،
پس جب کوئی بندہ اللہ کے خوف کا مکمل شعور رکھتا ہو اور اُس کے خوف میں اُس کے عذاب سے بچنے  کی خواہش رکھتے ہوئے ،  اور اُس کی بخشش اور رحمت کی وسعت پر یقین رکھتے ہوئے اور اُس بخشش اور رحمت کے حصول کا خواہش مند ہوتے ہوئے اللہ کی عِبادت کرے گا تو  یہ دونوں کیفیات یعنی اللہ کا خوف اور اللہ کی بخشش و رحمت کی  اُمید اُس بندے کے لیے دو ایسے پر ہو جاتے ہیں جو اُسے قوتء اِیمان کے ساتھ اِستقامت کی راہ پر محو پرواز کرتے ہیں اور وہ اللہ کی رحمت اور بخشش کو حاصل کرنے والوں میں بن جاتا ہے ،
لہذابندے کو چاہیے کو جب وہ اللہ سے دُعاء کرتے ہوئے اُس کی عِبادت کرے ، یا کِسی اور عمل کے ذریعے اُس کی عِبادت کرے ، بلکہ ہونا تو یہ چاہیے کہ بندہ  اپنی زندگی کے ہر عمل کو اللہ کے لیے خالص کر لے تا کہ اِس ہر وہ عمل جو وہ اللہ کے لیے کر رہا ہے ، اُس کی طرف سے اللہ کی عِبادت بن جائے ، اور اپنے اللہ کی اُس عِبادت کو اپنے لیے زیادہ سے زیادہ فائدہ مند بنانے کے لیے اللہ سے خوف اور اللہ کی بخشش اور رحمت کے حصول کی اُمید ، دونوں ہی کیفیات کو جمع کیے رکھے ،
پس نہ تو اللہ کے خوف سے لا پرواہ ہو  کیونکہ  ایسا کرنے سے وہ اُن میں سے ہو جائے گا جو اللہ کے داؤ سے خود کو محفوظ سمجھ رہے ہوتے ہیں اور یوں اللہ تعالیٰ  کے ہی ایک داؤ میں پھنسے ہوتے ہیں ،
اِس بات کو سمجھنے کے لیے اللہ تعالیٰ کے اِس  فرمان پاک میں تدبر کیجیے (((((أَفَأَمِنُواْ مَكْرَ اللَّهِ فَلاَ يَأْمَنُ مَكْرَ اللَّهِ إِلاَّ الْقَوْمُ الْخَاسِرُونَ::: کیا یہ لوگ اللہ کے داؤ سے ڈرتے نہیں (جان رکھو کہ) اللہ کے ڈر سے صِرف نُقصان پانے والے ہی نہیں ڈرتے)))))سورت الأعراف /آیت 99،
اور نہ ہی صِرف خوف ہی رکھے اور خوف میں اِس قدر گم ہوجائے کہ اللہ تعالیٰ  کی بخشش اور رحمت کی اُمید تک کھو دے اللہ کا فرمان ہے (((((إِنَّهُ لَا يَيْأَسُ مِنْ رَوْحِ اللَّهِ إِلَّا الْقَوْمُ الْكَافِرُونَ :::بے شک کہ اللہ کی رحمت سے بےایمان لوگ ہی ناامید ہوا کرتے ہیں))))) سورت یوسف /آیت 87،
اللہ  پر سچا اِیمان رکھنے والے بندے  اپنی   صحت و تندرستی اور خوش حالی کے ایام میں اللہ کی بخشش اور رحمت کے پانے پر صِرف خُوش ہی نہیں ہوتے ، اور نہ ہی صِرف شُکر گذاری کرتے ہیں ، بلکہ اُن  پر اللہ  کا خوف بھی طاری رہتا ہے کہ کہیں اُن کی کِسی غلطی ، کِسی کوتاہی ، کِسی گناہ کی وجہ سے اُن کی عطاء کردہ نعمتیں واپس نہ لے لی جائیں ، لہذا وہ اللہ کے خوف سے غافل ہو کر اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی نافرمانی کا شکار نہ ہوتے ،
اور جب کِسی اِیمان والے بندے پر  بیماری یا سختی والے حالات ہوں تو اُس پر اللہ کی رحمت اور بخشش کی کیفیت غالب ہونا چاہیے کہ اُس کا رب بڑی رحمت والا اور بہت ہی رحم کرنے والا ہے اُس کی مشکلیں دُور کرے گا ، تا کہ مایوسی کا شکار ہو کر اللہ اور اُس کے رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی نافرمانی کا شکار نہ ہو جائے ، 
اِسی طرح  جب اُس کی موت کا وقت آجائے تو اُس پر  اللہ کی رحمت اور بخشش کی اُمید کی  کیفیت غالب ہونی چاہیے ،  کیونکہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے یہی حکم فرمایا ہے، توجہ سے پڑھیے  (((((لَا يَمُوتَنَّ أحدكم إلا وهو يُحْسِنُ بِاللَّهِ الظَّنَّ :::تُم میں سے کوئی نہ مرے یہاں تک کہ وہ اللہ کے بارے میں حُسنء ظن رکھتا ہو ))))) صحیح مُسلم /حدیث 2877/کتاب الجنۃ و صفۃ نعیمھا و اھلھا /باب 19،
پس جب بندہ جان لے کہ اب وہ دُنیا اور اُس کی بہاریں ، ماں باپ ، بیوی بچے ، یار دوست ، مال و دولت ، عیش و آرام ، وہ مزے وہ راحتیں جِن کے لیے وہ دِن رات ایک کرتا رہا ہے چھوڑنے والا ہے اور اپنے رب کے سامنے حاضر ہونے والا ہے تو اُسے چاہیے کہ وہ یہ اُمید رکھے کہ وہ جِس کے سامنے حاضر ہونے والا ہے وہ بخشش کرنے والا اور رحم کرنے والا ہے ، اور یاد رکھے کہ اُس کے رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے بتایا تھا کہ (((((يَقُولُ الله تَعَالَى أنا عِندَ ظَنِّ عَبدِي بِي ::: اللہ تعالیٰ کا کہنا ہے کہ میں اپنے بندے کے میرے بارے میں گُمان کے مُطابق ہی اُس کے پاس ہوتا ہوں ))))) متفقٌ علیہ ،
پس ایک اِیمان والے کی ساری زندگی اللہ کے خوف میں ، اللہ کے عذاب کے خوف میں اُس سے بچنے کے کوشش میں اور اُس کی بخشش اور رحمت کی اُمید میں اُس کے حصول کی کوشش میں گذرنا چاہیے ، اور موت کے وقت زندگی کے آخری ترین لمحے تک میں اُس پر اللہ کے لیے حسنء ظن کا غلبہ ہونا چاہیے ، 
اِس موضوع کو الحمد للہ ، مزید تفصیل کے ساتھ """ اِیمان والا اُمید اور خوف کے درمیان رہتا ہے""" میں بیان کیا گیا ہے ، اِس کا ربط http://bit.ly/1nvQa6p    ہے ،
اِن دونوں مضامین کے ساتھ درج ذیل مضمون کا مطالعہ بھی ضرور فرمایے گا ، اِن شاء اللہ مزید خیر کا سبب ہو گا ،
::: قران کریم میں خوف کے معانی و مفاہیم :::
اللہ عزّ و جلّ ہم سب کو اُس کی رحمت اور بخشش کی اُمید  کے ساتھ ساتھ اُس کی ناراضگی اور عذاب کا خوف رکھنے والوں میں سے بنائے ، اور ہمیں اِن دونوں صِفات میں سے صِرف کِسی ایک کا حامل ہو کر غلط کاریوں کا شِکار ہونے سے بچائے ،والسلام علیکم ورحمۃ ُاللہ و برکاتہ،     طلب گارء دُعاء، عادِل سُہیل ظفر ،
تاریخ کتابت : 10/07/1432ہجری، بمُطابق،12/06/2011۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مضمون کا برقی نسخہ درج ذیل ربط پر مُیسر ہے :
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔