Thursday, August 17, 2017

::: مِلاوٹ ، خیانت ، بددیانتی، اور دھوکہ دہی وغیرہ کا انجام :::




::: مِلاوٹ ، خیانت ، بددیانتی، اور دھوکہ دہی وغیرہ کا انجام :::

::: مِلاوٹ، خیانت  ، بد دیانتی اور دھوکہ دہی وغیرہ  کا انجام :::

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

و الصَّلاۃُ والسَّلامُ عَلیٰ رَسولہ ِ الکریم مُحمدٍ و عَلیَ آلہِ وَأصحابہِ وَأزواجِہِ وَ مَن تَبِعَھُم بِاِحسانٍ إِلٰی یَومِ الدِین ، أما بَعد :::

السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ،

ہمارے مُسلم مُعاشرے میں عمومی طور پر اور پاکستانی مُعاشرے میں خصوصی طور پر  کھانے پینے کی چیزوں میں مِلاوٹ اور خرید وفروخت میں خیانت اور  بد دیانتی معمول سا بن گئی ہیں ،

اور  یہ کام کرنے والے دُنیا میں کچھ مال  تو کما لیتے ہیں لیکن اُنہیں  اِس  بات کا شاید احساس تک بھی نہیں ہوتا کہ اُس مال کے بدلے میں وہ اپنی آخرت میں  سے کیا گنوا رہے ہیں ؟

اپنی اُس زندگی کو ، جِس کی کوئی انتہا ء نہیں ، کوئی خاتمہ نہیں ، اُس زندگی کو گذارنے کے لیے کیا کما رہے ہیں ؟

الحمد للہ ، کہنے کو تو ہم سب مُسلمان ہیں ، اور تقریباً سب ہی کو قیامت ، حساب ، جنّت و جہنم ، انعام و سزا،  ثواب و عذاب کی خبر ہوتی ہے ،  لیکن  بس خبر ہی ہوتی ہے ، اُس پر اِیمان نام کی کوئی چیز عملی طور پر  اب ہماری زندگیوں میں شاذ شاذ ہی دِکھائی دیتی ہے  ز ُبانی اقرار بہت کرتے ہیں ، لیکن عمل کرتے ہوئے گویا سب کچھ بھول جاتے ہیں ، ولا حول ولا قوۃَ اِلا باللَّہِ ،

اللہ تعالیٰ کے فرمان (((فَذَكِّرْ إِن نَّفَعَتِ الذِّكْرَىٰ  O  سَيَذَّكَّرُ مَنْ يَخْشَى  :::  پس آپ نصیحت کیجیے   کہ( شاید) نصیحت کرنا  فائدہ مند ہو  O    تو جو (اللہ سے ) ڈرتا ہے وہ  نصیحت پا لے گا ))) سُورت الاعلیٰ (87)/آیات 9،10،  کے مُطابق اپنے مُسلمان بھائی بہنوں کی خدمت میں کچھ نصیحت پیش کر رہا ہوں، اور اپنی کِسی سوچ و فِکر کی بنیاد پر نہیں ، بلکہ اللہ عزّ و جلّ کےآخری رسول اور نبی  کریم محمد  صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے فرامین  مُبارکہ کے ساتھ اور اُن  فرامین شریفہ کی بنیاد پر پیش کر رہا ہوں ،

توجہ فرمایے ، محترم قارئین ، کہ مِلاوٹ ، خیانت اور بددیانتی کرنے کا کیا انجام ہے :::

::::::: أبو ھریرہ رضی اللہ عنہ ُ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے اِرشادفرمایا :::

﴿مَن حَمَلَ عَلِینَا السِّلَاحَ فَلیسَ مِنَّا،و مَن غَشّنَا فَلیسَ مِنَّا:::جِس نے ہم پر ہتھیار اُٹھایا وہ ہم میں سے نہیں،اور جِس نے ہمارے ساتھ دھوکہ بازی کی وہ ہم میں سے نہیں﴾   *(1)، (2)،

::::::: ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم ایک کھانا بیچنے والے کے پاس سے گذرے تو اُنہوں نے کھانے کے برتن میں ہاتھ داخل فرمایا تو اُنکے ہاتھ مُبارک کو کھانے کا نیچے والا حصہ نرم محسوس ہوا ، تو اُنہوں نے دریافت فرمایا﴿ مَا هَذَا يَا صَاحِبَ الطَّعَامِ:::اے کھانے(کا سامان بیچنے)والے یہ کیا ہے ؟ ﴾

اُس نے کہا """اے اللہ کےرسول ، بارش کا پانی اِس میں پڑ گیا ہے """،

تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے اِرشادفرمایا ﴿ أَفَلاَ جَعَلْتَهُ فَوْقَ الطَّعَامِ كَىْ يَرَاهُ النَّاسُ:::تم نے اِسے کھانےکے اُوپر کیوں نہیں رکھا تاکہ لوگ اِسے دیکھ سکیں ، مَن غَشَّ فَلیسَ مِنیِّ ، جِس نے دھوکہ بازی کی وہ مجھ میں سے نہیں﴾ * (3 )

::::::: عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ ُ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے اِرشادفرمایا ﴿مَن غَشّنَا فَلیسَ مِنَّا و المَکرُ و الخِدَاعُ فی النَّارِ:::جِس نے ہمارے ساتھ بد دیانتی کی وہ ہم میں سے نہیں اور دھوکہ اور فریب جہنم میں ہیں﴾یعنی یہ کام کرنے والے کا ٹھکانہ جہنم ہے،* (4) ،

::::: فقہ الحدیث ::: مذکورہ بالا تین احادیث شریفہ کی تشریح اور أحکام :::::

"""غِشٌ ،،،یعنی ،،،خیانت ، بد دیانتی """،

اور"""خَدعٌ ،،، یعنی ،،،دھوکہ ، دِل کی سیاہی ، اور مکر """،

یہ صِفات قول اور فعل دونوں میں پائی جاتی ہیں ، لہذا اِس سے مُراد یہ نہیں ، کہ چونکہ رسول اللہ محمد  صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے یہ بات سودا بیچنے والے کو کہی تھی لہذا یہ ممانعت صرف خرید و فروخت کے معاملات میں ہے ، بلکہ زندگی کے ہر معاملہ میں ، خیانت و بد دیانتی ،دھوکہ دہی ، مکر و فریب ، سب حرام کام ہیں ، اور کسی بھی قِسم کی دھوکہ دہی ، خیانت اور فریب وغیرہ کرنے والا شخص  رسول اللہ محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے اِن مذکورہ بالا فرامین شریفہ کے مُطابق، قیامت والے دِن اُن میں شمار نہیں ہو گا جن کا حشر اُن کے اُمتی کی حیثیت سے ہونا ہے، یعنی ، اُس  شخص  کو قیامت والے دِن محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی اُس شفاعتءِ عام میں کوئی حصہ نہیں ملے گا جو شفاعت ساری  اُمت کے لیے ہوگی ،

ذرا سوچیے ، کہ ، مِلاوٹ ، دھوکہ بازی،  خیانت بد دیانتی وغیرہ کا انجام کِس قدر خوفناک ہے ، کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی  آلہ وسلم کا اُمتی ہونے کی حیثیت میں ، آخرت کی جو کوئی بھی رعایت یا خیر ملنے کی اُمید ہے وہ اُمید تک نہ رہے گی، اور فقط تباہی اور عذاب ہی نصیب ہو گا ،

کیونکہ اللہ تعالیٰ کے آخری نبی اور رسول کریم محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے مِلاوٹ ، خیانت ، بددیانتی اور دھوکہ بازی کرنے کرنے والے کو اپنی اُمت میں شُمار نہیں فرمایا ،

دُنیاوی زندگی میں تو ایسا شخص مُسلمان ہی مانا جائے گا ، اور اُس کے ساتھ مُسلمانوں جیسے مُعاملات ہی کیے جائیں گے ،  لیکن آخرت میں اُس کا معاملہ اُلٹ ہو گا ،

قارئین کرام ، ذرا یہ بھی سمجھ لیجیے کہ ، فقط یہ مِلاوٹ ، خیانت ، بددیانتی، دھوکہ بازی ہی ایسے کام نہیں جِن کی  وجہ سے ، روز محشر رسول اللہ محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم سے ناتہ ٹوٹ جائے گا ، بلکہ ایسے اور بھی کئی کام ہیں ،

تقریباً ڈھائی سال پہلے  اِس موضوع پر ، الحمد للہ ، میری ایک کتاب بعنوان ’’’ وہ ہم میں سے نہیں ‘‘‘ ،  ’’’ کتاب و سُنّت لائبریری ‘‘‘ میں شائع ہو چکی ہے،

آپ سب سے گذارش ہے کہ اِس موضوع ، اِس مسئلے کے بارے میں کِسی غلط فہمی، کِسی خوش فہمی ، یا کِسی قِسم کے فیصلے پر پہنچنے سے پہلے اُس کتاب کا مطالعہ ضرور فرمایے، اِن شاء اللہ خیر کا سبب ہو گا ،

وہ کتاب درج ذیل ربط پر مُیسر ہے :

http://bit.ly/1JgaCOH

اللہ عزّ و جلّ ہم سب کو  واقعتا ہی  یہ حقیقت  مان لینے ، اور اِس پر اِیمان لانے  کی ہمت دے ، اور اِسی کے مُطابق عمل کرنے کی توفیق دے ،

  کہ دُنیا کی زندگی چند روزہ ہے ، اور اِس میں کیے گئے ہر عمل اور کہے لکھے گئے ہر قول کے مُطابق ہی ہماری ہمیشہ والی ابدی زندگی  بننی ہے ۔ والسلام علیکم ۔

طلب گارء دُعاء ، آپ کا بھائی ،

عادِل سُہیل ظفر۔

تاریخ کتابت:25/11/1438 ہجری ، بمُطابق،  17/08/2017 عیسوئی ،

تحدیث و تجدید : 01/02/1442 ہجری ، بمُطابق ، 18/09/2020عیسوئی ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

برقی کتابی  نُسخہ (PDF) : http://bit.ly/2fO1ezP

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

یوٹیوب (MP4) : https://youtu.be/wCRG_A-ea8o 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

* ( 1 ) * ( 2 ) صحیح مُسلم/حدیث101،102/کتاب الاِیمان/باب43،کی پہلی اور دوسری حدیث ( 2 ) صحیح ابن حبان/حدیث 4885/کتاب البیوع کی تیسری حدیث،

* (3 ) المُستدرک الحاکم/حدیث2154،سُنن الدارمی/حدیث2541/کتاب البیوع باب10، صحیح ابن حبان،المُستدرک الحاکم اور سُنن الدارمی کی روایات میں﴿جِس نے دھوکہ بازی کی وہ مجھ میں سے نہیں﴾کی بجائے﴿جِس نے ہمارے ساتھ دھوکہ بازی کی وہ ہم میں سے نہیں﴾کے اِلفاظ ہیں ،

* (4)    تعلیقات الحسان علیٰ صحیح ابن حِبان/حدیث5533، کتاب الحضروالإِباحۃ کی پانچویں حدیث إِمام الالبانی رحمہُ اللہ نے حسن قرار دِیا ۔


Tuesday, August 15, 2017

::: اللہ تعالیٰ کی اور مخلُوق کی صِفات کے بارے میں وضاحت :::


:::   اللہ تعالیٰ کی اور مخلُوق کی  صِفات کے بارے میں  وضاحت  :::
بِسمِ اللَّہ ، والصّلاۃُ و السّلامُ علیٰ رسولِ اللَّہ مُحمدٍ و علیٰ آلہِ و أصحابہِ و أزواجہِ أجمعین
 السلامُ علیکم ورحمۃ  ُ  اللہ و برکاتہُ ،
صِفات کے ناموں کی "  لفظی مُشابہت" کے ز ُمرے میں بھی کِسی اور سے منسوب نہیں کی جا سکتیں ، یا یوں کہہ لیجیے " لفظی مُشابہت" کے باب میں سے بھی اللہ کے عِلاوہ  کِسی اور کو اِس صِفات سے متصف نہیں کہا ، لکھا ، سمجھا جاسکتا ،
کچھ صاحبان ، اللہ عزّ و جلّ کی صِفات ، اور مخلوق میں کچھ صِفات کے ناموں کی مُشابہت کی وجہ سے یہ سمجھتے ہیں کہ گویا ، معاذ اللہ ، دونوں  کی ، یعنی خالق اور مخلوق کی صِفات بھی ایک ہی جیسی ہیں ،  
یا ، خالق کی صِفات مخلوق بھی اپنا سکتی ہے ،
اور اِس طرح  وہ  اللہ تبارک و تعالیٰ کی کِسی مخلوق کو ، کِسی یا کچھ صِفات میں  اُس کے خالق جیسا ہی سمجھنے لگتے ہیں ،  
اور کچھ لوگ ،  کچھ صِفات کے ناموں کی مُشابہت  کہ وجہ سے   خیال کرتے ہیں کہ ،  اللہ جلّ و عُلا کی جِن صِفات کا کِسی اور مخلوق میں ہونے کا ذِکر کیا گیا ہے ، اور  وہ ذِکر اِس بات کی دلیل ہے کہ  اللہ تعالیٰ  کی کِسی   بھی دُوسری صِفت  کِسی  مخلوق میں مانا جا سکتا ہے ، اور ایسا ماننا شرک نہیں ہے ،
یہ خیال ، محض خیال ہی ہے ، اِس کا حقیقت سے سوائے مخالفت کے کوئی اور تعلق نہیں ،
کیونکہ ، اللہ جلّ ثناوہُ ، و تبارک اسماؤہُ کی صِفات کی کیفیت اُس کی ذات پاک کی شان کے مُطابق ہے ، اور مخلوق میں اُسی نام کی کِسی صِفت کا موجود ہونا ، اُس مخلوق کے شخصیت کے مُطابق ، دونوں میں سوائے ناموں کے کوئی مشابہت نہیں ،
خالق کی صِفات "  لفظی مُشابہت" کے ز ُمرے میں بھی کِسی اور سے منسوب نہیں کی جا سکتیں ، یا یوں کہہ لیجیے " لفظی مُشابہت" کے باب میں سے بھی اللہ  تبارک  وتعالیٰ کے عِلاوہ  کِسی اور کو اُن صِفات سے مُتصف نہیں کہا ، لکھا ، سمجھا جاسکتا ،
سوائے کِسی ایسی صِفت کے نام کی حد تک جِس صِفت کا مخلوق میں ہونے کا ذِکر خُود خالق اللہ عزّ و جلّ نے فرمایا ہو، یا اپنے خلیل محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی ز ُبان مُبارک سے اُس کی خبر ادا کروائی ہو،
غور فرمایے :::
"""اللہ  تعالیٰ بھی سمیع ہے بندہ بھی سمیع ہے، اللہ تعالیٰ  بھی رؤف ہے، اللہ  تعالیٰ کے بندوں میں  بھی رؤف ہیں، اللہ  تعالیٰ بھی رحیم ہے ، اور اللہ کے بندوں میں بھی رحیم ہیں ،
لیکن ،  اللہ  تعالیٰ کا سمیع ہونا  اُس کی ذات پاک کی شان ، اور اُس کی اپنی صِفات کے مُطابق ہے اور بندے کا سمیع ہونا اُس کو دِی گئی صِفات کے اعتبار سے"""
مزید غور فرمایے ، کہ :::
 اِن صِفات کی نِسبت اللہ  تعالیٰ کی طرف ہو گی تو اُن صِفات  کی کیفیت  اللہ عزّ و جلّ  کی شان کے مُطابق ہو گی ، جسے  اللہ تعالٰی ہی  بیان فرما  سکتا ہے ، اور اگر کِسی صِفت کی نِسبت  مخلوق میں سے کسی کی طرف ہو گی تو کوئی بھی ناطق مخلوق  اپنے مُشاھدے کے مُطابق اُس کی کیفیت بیان کر سکتی ہے  ،
یہ "مُشابہت لفظی "ہے ، اور اِن  صِفات میں اور کئی دیگر  صِفات میں یہ" مُشابہت لفظی" قران و حدیث میں وارد ہے ،
اِس مُعاملے میں خوب اچھی طرح سے سمجھنے کی بات یہ ہے کہ ،
اللہ عزّ و جلّ کی صِفات مُبارکہ ، اور معاملات  کو  مخلوق کی صِفات  اور معاملات سے نام کی مُشابہت سے بڑھ کر کوئی اور مُشابہت دینا ناجائز ہے ،  با الفاظ دیگر ، نام کی مُشابہت کی وجہ سے کیفیات کو  مُشابہہ سمجھنا ناجائز ہے ،  
جی ہاں ، ناجائز ہے ،
اگر کوئی یہ سمجھے کہ جِس طرح اللہ تعالٰی نے خود کو روؤف اور رحیم فرمایا ہے ، اور  رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی صِفات میں بھی ، روؤف اور رحیم  ہونے کی صِفات کا ذِکر فرمایا ہے ، لہذا  رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم میں  اللہ سُبحانہ ُ و تعالٰی کی صِفات کے جیسی دیگر صِفات بھی  تھیں ، یا ہیں ،
جیسا کہ کچھ لوگ ، معاذ اللہ ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کو ہر جگہ حاضر وناضر سمجھتے ہیں ، دُنیا میں تشریف لا کر لوگوں  کی مُشکلات دُور کرنے والا سمجھتے ہیں ،
اللہ تعالیٰ کے عِلم ء غیب کا مکمل عِلم رکھنے والا سمجھتے ہیں ،  اور ،،، اور ،،، اور ،،،
جب کہ ، اللہ تبارک و تعالیٰ نے  اُس کی ذات پاک ، صِفات مُبارکہ  کے بارے میں  ایک قانون مقرر فرما رکھا ہے کہ ﴿لَیسَ کَمِثلِہِ شيئٌ و ھُوَ السِّمِیعُ البَصِیرُ::: اُس(اللہ)کے جیسی کوئی چیز نہیں اور وہ سننے اور دیکھنے والا ہے﴾سُورت الشوریٰ(42)/آیت11،
اور  یہ بھی فرما رکھا ہے کہ ﴿ وَلَهُ الْمَثَلُ الْأَعْلَى فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ:::اور اللہ کے لیے تو آسمانوں اور زمین میں بہت ہی بُلند و برتر مثال ہے، اور وہ بہت زبردست اور حِکمت والا ہے﴾سُورت الروم(30)/آیت27،
پس اللہ جلّ صفاتہُ و تبارک أسماوہُ کی کِسی صِفت کے لیے ، اُس کی مخلوق کی صِفات کی مُشابہت والی بات کرنا ، مثا ل دینا قطعاً دُرست نہیں ،
یاد رکھیے ، اور خوب اچھی طرح سے یاد رکھیے کہ  اللہ سُبحانہ ُ و تعالیٰ کی ذات پاک ، صِفات مُبارکہ اور ناموں سے متعلق  صِرف وہی بات کرنا دُرُست ہے جِس بات کو اللہ تعالیٰ یا اُس کے رسول کریم محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی تائید مُیسر ہو،
اللہ تعالیٰ کی کِسی صِفت کو، کِسی معاملے کو ، کِسی کام کو  سمجھنے ، یا ، سمجھانے کے لیے کِسی مخلوق کی کِسی صِفت ، کِسی معاملے، کِسی کام سے مثابہت دینا، اُسے مثا ل بنانا دُرُست نہیں،
اور اِسی طرح اللہ تبارک و تعالیٰ  کی صِفات کے ناموں کی مُشابہت کی وجہ سے  کِسی مخلوق کو اُنہی صِفات سے مُتصف سمجھنا بھی قطعاً نا دُرُست ہے ، یا کِسی بھی مخلوق کو اللہ کی صِفات میں سے کوئی صِفت اپنا لینے کے قابل سمجھنا بھی قعطاً   نا دُرُست ہے ،   بلکہ کِسی بھی مخلوق میں ، اللہ کی صِفات جیسی کوئی صِفت ماننا ، شرک ہے ، خواہ کوئی اِس شرک کو عطائی کہہ کر چھپانے کی کوشش کرے ،
 لیکن حقیقت یہی ہے کہ""" اللہ جلّ شانہ ُ  کی صِفات، اور مخلوق کی صِفات  کے ناموں کی مُشابہت  سے اُن صِفات کی کیفیات کا ایک جیسا ہونا قطعا مراد نہیں ہوتا ، اور نہ ہی کِسی طور لازم ہے ، اللہ عزّ و جلّ کی صِفات اُس کی ذات پاک اور اُس کی شان کی مُطابق ہیں ، اور مخلوق کو دِی گئی  صِفات اُس کی شخصیت کے مُطابق """
﴿سُبْحَانَ اللَّهِ عَمَّا يَصِفُونَ:::پاک ہے اللہ اُن صِفات (اور باتوں سے)جو یہ (اللہ کے بارے میں )کہتے ہیں﴾سُورت الصافات(37)/آیت159،
لہذا ،اِس مسئلے میں بات کرنے والے  ہر ایک شخص کو یہ چاہیے کہ اللہ عزّ و جلّ کے بارے میں کوئی بھی بات کرنے سے پہلے خوب اچھی طرح سے سوچے ،  اللہ تعالیٰ اور اُس کے خلیل محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم ، اور صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین کی دِی ہوئی تعلیمات کے مُطابق سمجھے ، اور پھر بات کرے ،
نصیحت  کو  مؤثر بنانے ، یا اپنی بات کو  سمجھانے کے لیے ایسا کوئی انداز ، کوئی اسلو ب اختیار نہیں کیا جانا چاہیے جو اللہ تبارک و تعالٰی یا اُس کے خلیل محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے کِسی فرمان کے خِلاف ہو،
اللہ عزّ و جلّ نے اپنی ذات پاک ، اور اپنی صِفات مُبارکہ کے میں جو کچھ ، اور کتنا کچھ اور جِس طرح  براہ راست اپنے کلام شریف میں بتا یا ہے ، یا ، اپنے رسول کریم محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی ز ُبان مُبارک سے اُن صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی حدیث شریف کے ذریعے بیان کروایا ہے، اُس تک رکنا چاہیے، اُن کی طرف سے کوئی مثال بیان کرنے سے کِسی اور کے لیے ، اللہ تعالیٰ کی ذات و صِفات کے لیے اپنی مرضی سے مثالیں دینے کا کوئی جواز نہیں بنتا ،
اور نہ ہی اللہ تعالٰی کی طرف سے کِسی مخلوق کو دِی گئی کِسی صِفت کی کوئی ایسی کیفیت مقرر کرنا جائز ہے جِس کیفیت کی کوئی تائید اللہ تعالیٰ ، یا ، اُس کے رسول کریم محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی طرف مُیسر نہ ہو،
میں نے"""اللہ کہاں ہے ؟""" میں لکھا تھا کہ :::
::: تیسرے شک کا جواب :::
::::::: تیسرا شک جِس کا عام طور پر لوگ شکار ہوتے ہیں وہ یہ ہے کہ :::
""" اِس طرح اللہ کی مخلوق سے مُشابہت ہو جاتی ہے اور یہ  جائز نہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ﴿ لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٌ:::اللہ کےجیسی کوئی چیز نہیں﴾سُورت الشُوریٰ(42)/آیت11"""۔
::::::: اس شبہے کا ابتدائی ذِکر کرتے ہوئے چند صفحات قبل میں نے لکھا تھا """ اس آیت مبارکہ کو بھی اپنی ذاتی فِکر کے مُطابق سجھنے والوں نے اس کے دُوسرے حصےکی طرف کوئی توجہ کیے بغیر اپنی ذاتی سوچوں اور جہالت زدہ قران فہمی کی بنا پر سمجھا اور حقیقت کے بر عکس مفہوم لے کر اس کی ضد کرنے لگے """
اور اب اِن شاء اللہ اس کی  تفصیل بیان کرتے ہوئے کہتا ہوں کہ ، 
::::::: اگر یہ بات کہنے والے اپنی دلیل کے طور پر پیش کیے جانے والے آیت مبارکہ کے اِس حصے کے بعد آیت شریفہ کو آخر تک پورا پڑھ کر اللہ اور اُس کے رسول صلی اللہ  علیہ و علی آلہ وسلم کی بیان کردہ تفسیر کو سمجھ لیتے تو وہ فلسفہ اُن کو شکار نہ کرپاتا جِس کا یہ شِکار ہوئے ،
 اللہ سُبحانہُ و تعالی  نے فرمایا ہے ﴿ لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٌ وَهُوَ السَّمِيعُ الْبَصِيرُ:::اللہ کےجیسی کوئی چیز نہیں، اور وہ سنتا ہے اور دیکھتا ہے﴾سُورت الشُوریٰ(42)/ آیت11،
محترم قارئین غور فرمایے  کہ  اللہ تبارک وتعالیٰ خود یہ بتا رہا ہے کہ اُس کے جیسی کوئی چیز نہیں اور سنتا بھی ہے اور  دیکھتا بھی ہے ،یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ اُس کی ایسی صِفات کا ذِکر بھی کر رہا ہے جو نام کی مشابہت کے ساتھ اُس کی مخلوق میں بھی ہیں ، اور اس بات کی وضاحت اپنی صِفات کے ذِکر سے پہلے فرما دی ہے کہ اُس کے جیسی کوئی چیز نہیں ہے ، یعنی صِفات میں ناموں کی مُشابہت صِفات کی کیفیت کی مُشابہت کی دلیل ہر گِز نہیں ،
 اِس کے عِلاوہ بھی  اللہ تعالیٰ نے اپنے بارے میں اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے اپنے رب کے بارے میں جِس جِس صفت کا ذِکر کیا ہے  فلسفہ زدہ ذہنوں نے آیت کے صِرف ایک حصے کو اپنی منطق کے مطابق سمجھ کر اُن  سب صفات کا اِنکار کر دِیا اور اُلٹی سیدھی باطل  تأویلیں کیں ، اِن کو اور اِن کے پیرو  کاروں کو اُمت کے اِماموں نے """معطلۃ """  یعنی """ اللہ کی صِفات کو ختم  کرنے والی جماعت """ کا نام دِیا ، 
اگر اللہ تعالیٰ کی صفات کا اِنکار یا تأویل کرنے والے یہ سوچ لیتے کہ اللہ  تعالیٰ اِس آیت میں پہلے یہ بتا رہا کہ اُس کے جیسی کوئی چیز نہیں اور پھر یہ بتایا کہ  وہ سنتا بھی اور دیکھتا بھی ہے ، تو اِس کا معنیٰ یقینا ًیہ ہے کہ اُس کا سننا اور دیکھنا  کِسی مخلوق کے جیسا نہیں ، اِسی طرح اُس کا ہنسنا ، ناراض ہونا ، خوش ہونا ، نیچے  اُترنا ، اُس کا چہرہ ، اُس کے ہاتھ ، اُس کی پنڈلی ، اُس کا پاؤں ، سب جو کچھ اُس  نے اپنے بارے میں بتایا ہے یا اُس کے رسول صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے بتایا ہے حق  ہے اور اُسکی شان کے مطابق ہے یہ ہی مفہوم ہے اللہ کے فرمان مبارک ﴿ لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٌ وَهُوَ السَّمِيعُ الْبَصِيرُ:::اللہ کےجیسی کوئی چیز نہیں، اور وہ سنتا ہے اور دیکھتا ہے﴾ کا ،
یہ ہی ہے  وہ مفہوم جو ہمیں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی تعلیمات میں ملتا  ہے اور صحابہ رضی اللہ عنہم اور اُمت کے اِماموں رحمہم اللہ و حفظہم  کی تعلیمات میں ملتا ہے ، 
مزید اور مکرر وضاحت کے لیے کہتا ہوں :::
ذرا عقل سے سوچا جائے تو صاف سمجھ میں آتا ہے کہ غصہ ، محبت ، ہنسنا ،  سننا ، دیکھنا ، وغیرہ یہ تمام صفات خالق نے اپنی مخلوق میں بھی رکھی ہیں ، اور کِسی  ایک مخلوق  کی صفت کی کیفیت دوسری مخلوق سے نہیں ملتی ،حتیٰ کہ ایک ہی جِنس کی مخلوق کے دو افراد کی ایک ہی صِفت کی کیفیت مختلف ہوتی ہے ،
 میرا غصہ ، مُحبت ، ہنسنا ، سُننا ، دیکھنا ،  وغیرہ ، آپ کے غُصے ، مُحبت ، ہنسنے ، سُننے ، دیکھنے وغیرہ جیسا نہیں ، اور آپکی یہ صِفات میری صِفات جیسی نہیں ،
اور اِسی طرح ہر  ایک اِنسان میں فرق ہے حتیٰ کہ حیوانات میں بھی یہ فرق موجود ہے ، یہ تو بات  ہوئی کِسی ایک مخلوق کا دوسری مخلوق سے موازنہ کرنے کی ، اب اگر ایک شخص کی ایک  ہی صفت کو دو مختلف حالتوں میں، دو مخلتف نسبتوں سے  دیکھا جائے تو وہ بھی ایک جیسی نظر نہیں آتی جیسا  کہ ماں سے مُحبت اور بیوی سے مُحبت ایک جیسی نہیں ،بیوی سے مُحبت اور بیٹی اور بہن سے مُحبت ایک جیسی نہیں ہوتی ،
لہذا یہ بات ہر أچھی عقل قبول کرتی ہے کہ ، کوئی سی دو مخلوق میں کِسی ایک  صِفت کے ہم نام ہونے کی وجہ سے اُن دوصِفات کا صِفات والی شخصیات  کا جزوی یا کُلّی طور پر ایک دُوسرے جیسا ہونا یا مشابہہ ہونا  کسی بھی طور واقع  نہیں ہو تا ،
 اِنسانوں اور حیوانات کی بہت سی صِفات کے نام ایک ہی  جیسے ہیں ، جیسا کہ دیکھنا ، سننا ، چلنا ، بھاگنا ، کھانا ، مُحبت ، غصہ ، غیرت اور بے غیرتی  وغیرہ ، 
لیکن کوئی بھی یہ نہیں کہتا کہ چونکہ اِنسانوں اور حیوانات میں یہ صفات ایک  جیسی ہیں لہذا وہ ایک دوسرے کے مشابہہ ہو گئے ، اور پھر اِس مشابہت کو دور  کرنے کے لیے کوئی بھی اِن دونوں مخلوقات میں سے کِسی کی کِسی صفت کا اِنکار  نہیں کرتا ،
جب یہ معاملہ مخلوق کا ہے تو خالق کا معاملہ اُس کی شان کے مطابق ہے اور  ویسا ہی ہے جیسا کہ اُس نے اُوپر ذِکر کی گئی آیت میں بتایا ہے ،
تو یہ بات بڑی وضاحت سے سمجھ میں آتی ہے کہ دو مختلف چیزوں کا نام ایک جیسا ہونے سے اُن چیزوں کا ایک جیسا ہونا ہر گِز ضروری نہیں ہوتا ، اور دو مختلف صِفات دو مختلف چیزیں ہی ہیں جو ہر صاحبِ صِفت کے مطابق مختلف کیفیت کی حامل ہو جاتی ہیں گو کہ نام ایک ہی جیسا ہوتا ہے ، پس یہ ہی مفہوم ہے اللہ پاک کے فرمان﴿ لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٌ وَهُوَ السَّمِيعُ الْبَصِيرُ:::اللہ کےجیسی کوئی چیز نہیں، اور وہ سنتا ہے اور دیکھتا ہے﴾کا ،
لہذا اللہ تعالیٰ کی تمام صِفات جو اُس نے خود اور جو اُس کے رسول صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے بتائی ہیں اُن پر بلا چُوں و چَراں اِیمان لانا فرض  ہے اور اُن کی کِسی طور کوئی باطل تأویل کرنا ، یا  تعطیل کرنا کفر  تک لے جانے کے اسباب میں سےہے ،
جیسا کہ کوئی یہ کہے اللہ کے ہاتھ سے مُراد اُس کی قدرت ہے ، یا اللہ کی پنڈلی سے مُراد اُسکی زبردستی ہے ، وغیرہ ، وغیرہ ،
اس قِسم کی باطل تاویلات اکثر کتابوں، بلکہ عام کتابوں میں تو کیا تفسیر اور شرح کی کتابوں میں لکھی ہوئی دِکھائی دیتی ہیں ،ولا حَولَ و لا قُوۃَ  اِلا باللَّہ و اِلیہِ اشتکی وھُوَ المُستعان  ۔ 
اُمید ہے کہ ہمارے زیر بحث موضوع پر اتنی بات اِن شاء اللہ کافی ہو گی ،  لکھنے کو اور بھی بہت کچھ ہے لیکن بات کو مختصر رکھنے کی غرض سے یہیں رُکتا ہوں ، اللہ  تعالیٰ ہم سب کے اور تمام مُسلمانوں کےدِلوں میں سے ضِد اور تعصب دُور کرے اور حق جاننے ، اُس کے قبول کر کے ہمیشہ اُس پر عمل کرنے،اور اُس کو نشر کرنے کی توفیق عطاء  فرمائے ۔   """،
والسلامُ علیکم ورحمۃ  ُ   اللہ و برکاتہُ  ،
 طلب گارء دُعا ،
عادِل سُہیل ظفر ۔
تاریخ کتابت : 13/04/1436ہجری، بمُطابق، 02/02/2015عیسوئی ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مضمون کا برقی نسخہ درج ذیل ربط سے نازل کیا جا سکتا ہے :
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔