Tuesday, November 10, 2015

::::::: غار میں پھنس جانے والوں کا واقعہ اور اُس میں سے ملنے والے سبق ::::::

::::: سُنّت مُبارکہ کے باغ میں سے :::::

::::::: غار میں پھنس جانے والوں کا واقعہ اور اُس میں سے ملنے والے سبق ::::::

أَعُوذُ بِاللَّهِ السَّمِيعِ الْعَلِيمِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ مِنْ هَمْزِهِ وَنَفْخِهِ وَنَفْثِهِ
بِسمِ اللَّہ ،و السَّلامُ عَلیَ مَن اتبع َالھُدیٰ و سَلکَ عَلیَ مَسلکِ النَّبیِّ الھُدیٰ مُحمدٍ صَلی اللہُ علیہِ وعَلیَ آلہِ وسلَّمَ ، و قَد خَابَ مَن یُشقاقِ الرَّسُولَ بَعدَ أَن تَبینَ لہُ الھُدیٰ ، و اتبِعَ ھَواء نفسہُ فوقعَ فی ضَلالاٍ بعیدا۔
میں  شیطان مردُود(یعنی اللہ کی رحمت سے دُھتکارے ہوئے)کے ڈالے ہوئے جنون،اور اُس کے دیے ہوئے تکبر، اور اُس کے (خیالات و افکار پر مبنی)اشعار سے، سب کچھ سننے والے ، اور سب کچھ کا عِلم رکھنے والے اللہ کی پناہ طلب کرتا ہوں،
شروع اللہ کے نام سے ، اورسلامتی ہو اُس شخص  پر جس نے ہدایت کی پیروی کی ، اور ہدایت لانے والے نبی محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی راہ پر چلا ، اور یقینا وہ شخص تباہ ہوا جس نے رسول کو الگ کیا ، بعد اس کے کہ اُس کے لیے ہدایت واضح کر دی گئ اور(لیکن اُس شخص نے) اپنے نفس  کی خواہشات کی پیروی کی پس بہت دور کی گمراہی میں جا پڑا ۔
السلامُ علیکُم و رحمۃُ اللہ و برکاتہُ ،
عبداللہ ابن عُمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے اِرشاد فرمایا ﴿تُم لوگوں سے پہلے والوں میں سےتین لوگ کہیں جا رہے تھے کہ اُنہیں بارش نے آ لیا، تو اُنہوں نے ایک غار میں پناہ لی،(غار کے دھانے پر ایک چٹان آ گئی اور)غار کا دھانہ اُن پر بند ہو گیا،تو اُن میں سے کسی  نے کہا اے ساتھیو، اللہ کی قسم تم لوگوں  کے بچنے (کا سبب ) سِوائے صِدق کے اور کچھ نہیں ہو سکتا،
لہذا تُم سے ہر ایک اُس کام کے ذریعے (یعنی اُسے وسیلہ بنا کر اللہ سے)دُعاء کرے جس کام کے بارے میں اُسے یقین ہو کہ وہ کام اُس نے (اللہ تعالیٰ کے لیے خالص)صِدق سے کیا تھا،
تو اُن میں سے ایک نے(دُعاء کرتے ہوئے یہ)کہاکہ""" اے اللہ، آپ جانتے ہیں کہ ایک دفعہ میرے پاس ایک شخص نے چاولوں کے فَرَق(تین صاع کے برابرا ایک پیمانہ)کے عوض میرے لیے کام کیا ،اور وہ اپنا معاوضہ لیے بغیر چلا گیا، تو میں نے (اُس شخص کے حق کا فَرق)زراعت میں اِستعمال کیا، اور اُس (زراعت سے حاصل کردہ نفع)کے ذریعےمیں کچھ گائے خریدیں
پھر وہ شخص میرے پاس آیا اور اپنے حق کا مُطالبہ کِیا، تو میں نے اُسے کہا کہ اُن گاوؤں کے پاس جاؤ اور اُنہیں لے جاؤ،
اُس نے کہا تمہارے پاس میرے لیے چاولوں کا ایک فَرق ہے ،
تو میں نے کہا کہ اُن گاوؤں کی طرف جاؤ، وہ سب گائے(چاولوں کے)اُسی فَرق میں سے ہیں،
تو اُس نے وہ سب گائے لِیں اور چلا گیا ،
(اے اللہ)اگر تو یہ میں نے تیرے خوف سے کِیا تھا تو ہمارا راستہ کھول دے،
تو (اِس دُعاء کے بعد)وہ چٹان تھوڑا سے ہٹ گئی،
تو (اِس کے بعد)دُوسرے شخص نے (دُعاء)کرتے ہوئے کہا ، اے اللہ ، تُو جانتا ہے کہ میرے والدین بوڑھے تھے ،اور میں ہر رات اُن کے لیے اپنی بکریوں کا  دُودھ لے کر آتا تھا،
ایک رات مجھے اُن کے پاس پہنچنے میں دیر  ہوگئی ، تو وہ دونوں سو چکے تھے ، اور میری بیوی اور بچے بھوک سے بے حال تھے ، (میری طرف آہ و بکا کر رہے تھے)،لیکن میں اپنے بیوی بچوں کو اُس وقت تک دُودھ نہیں پلاتا تھا جب تک میرے ماں باپ نہ پی لیں ، اور اِس وقت مجھے یہ گوارہ نہ ہوا کہ میں (بیوی بچوں کی خاطر)اپنے ماں باپ کی نیند خراب کروں، اور مجھے یہ بھی پسند نہیں تھا کہ  اُنہیں دُودھ (پلائے بغیر)چھوڑ دوں ، کہ کہیں وہ (مزید)کمزوری کا شِکار نہ ہوجائیں(کہ یہ دُودھ ہی تو اُن کے لیے رات کا کھانا ہوتا تھا)،
لہذا میں دُودھ کا برتن لے کر( اُن دونوں کے سرھانے ، اُن کے خود سے جاگنے کا) انتظار کرتا رہاحتیٰ کہ فجر ہو گئی،   (اے اللہ)اگر تو یہ میں نے تیرے خوف سے کِیا تھا تو ہمارا راستہ کھول دے،
تو (اِس دُعاء کے بعد) وہ چٹان تھوڑا سے ہٹ گئی،یہاں تک انہوں نے آسمان دیکھا(لیکن اتنا راستہ نہ کھلا کہ وہ نکل سکتے)،
تو (اِس کے بعد)تیسرے شخص نے (دُعاء)کرتے ہوئے کہا ، اے اللہ ، تُو جانتا ہے کہ مجھے میرےچچا(یا تایا) کی بیٹی سب سے زیادہ محبوب تھی ، اور میں نے اُسے(ناجائز تعلقات بنانے کے لیے) پُھسلانے کی بہت کوشش کی ،لیکن اُس کی یہی شرط رہی کہ میں اُسے سو دینار دوں تو پھر ہی وہ اِس کام پر راضی ہوگی،
پھر میں نے ایک سال کوشش کر کر کے  یہ مال جمع کیا ، اور اُس کو دِیا ،
تو اُس نے اپنا آپ میرے حوالے کر دِیا ، یہاں تک کہ جب میں اُس کے دونوں پیروں کے درمیان بیٹھ گیا ، تو اُس نے کہا کہ ، اللہ (کے غصے اور عذاب )سے بچو،اوربغیر حق کے مہر مت توڑو،
تو میں وہاں سے اُٹھ کھڑا ہوا ،ا ور سو دینار بھی چھوڑ دیے،
(اے اللہ)اگر تو یہ میں نے تیرے خوف سے کِیا تھا تو ہمارا راستہ کھول دے،
تو (اِس دُعاء کے بعد) اللہ تعالیٰ نے اُن کا راستہ کھول دِیا اور وہ لوگ باہر نکل گئے﴾صحیح  البُخاری /  حدیث /3465کتاب احادیث الانبیاء/باب53،صیح  مُسلم  / کتاب الرقاق/ حدیث/7125باب2،
::::: فقہ الحدیث ::: حدیث کی تشریح اور أحکام :::::
اِس حدیث شریف میں ہمیں درج ذیل احکام اور سبق ملتے ہیں ،
::: (1) ::: اِیمان والا اللہ سے دُعاء کرتے ہوئے  اپنے اُن نیک کاموں کو وسیلہ بنا سکتا ہے جو اُس نے خالصتاً اللہ کی رضا کی نیّت سے کیے ہوں،
اور یہ نیک نیتی سے کیے گئے ، اور دُرست طور پر کیے گئے نیک کام ہی وہ وسیلہ ہیں جس کا ذِکر اللہ جلُ و عُلا نے اپنے اِس فرمان میں کیا ہے کہ﴿يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَابْتَغُوا إِلَيْهِ الْوَسِيلَةَ وَجَاهِدُوا فِي سَبِيلِهِ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ::: اے إِیمان لانے والو، اللہ (کی ناراضگی ، غُصے اور عذاب )سے بچو، اور اللہ کی طرف قُرب تلاش کرو، اور اُس کی راہ میں جِہاد کرو، تا کہ تُم لوگ(آخرت کی) کامیابی حاصل کر سکو﴾ سُورت المائدہ(5)/آیت 35،
[[[وسیلے کے بارے میں مکمل تفصیل الگ کتاب کی صُورت میں بیان کی جا چکی ہے ، وللہ الحمد]]]
::: (2) ::: خوشحالی ، یعنی نرمی ، راحت، آسانی ، تونگری، صحت و عافیت اور سکون و اطمینان کی حالت میں ،نیک نیتی سے کیے گئے ، نیک کام اِیمان والوں کی سختی ، پریشانی اورشدت کی حالت میں فائدہ دیتے ہیں ، 
یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے اِن الفاظ میں بھی سمجھائی کہ ﴿تعرَّف إلى الله في الرَّخاء ، يَعرفكَ في الشِّدَّةِ :::تُم اللہ کو (اپنی)خوشحالی میں یاد رکھو وہ تمہیں (تمہاری)سختی والے وقت میں یاد رکھےگا ﴾ صحیح الجامع الصغیر و زیادتہُ/حدیث 2961،
اِنسان پر فرض ہےکہ وہ صِرف اور صِرف اور براہ راست اپنے اکیلے لا شریک خالق ، مالک اور رب اللہ جلّ جلالہُ سے ہی دُعاء کرے ، خاص طور پر جب وہ کسی مصیبت یا پریشانی کا شِکار ہو تو ایسے میں تو اُسے اور زیادہ خالص توحید اختیار کرتے ہوئے صِرف اور صِرف اپنے اللہ تبارک و تعالیٰ سے ہی دُعاء کرنی چاہیے ، مخلوق میں سے کسی بھی زندہ یا مُردہ کو ، یا اُس کی کسی صِفت ، رتبے ، جاہ ، حق ،طفیل ، صدقے ، وغیرہ کو وسیلہ بنا کر اپنی دُعاء کو اللہ کی رحمت کی بجائے اُس کی ناراضگی کا سبب نہ بنائے ،
یادرکھیے، اور خُوب اچھی طرح سے یاد رکھیے محترم قارئین کرام ،  کہ ،اللہ جلّ و عُلا کے ساتھ ، یا اُس کے عِلاوہ کسی بھی اور سے دُعاء کرنا ، یا اللہ سُبحانہ ُ و تعالیٰ سے دُعاء کرتے ہوئے ، اللہ اور اُس کے رسول کریم محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی طرف سے منظوری کے بغیر دُعاء کی منظوری کے بارے میں کوئی ذریعہ کوئی عقیدہ اختیار کرنا ، اور کسی کے بارے میں یہ عقیدہ رکھنا کہ وہ کسی کام  کو آپ کی دُعاء  کے مُطابق کرنے ، یا اللہ سے کروانے کی صِفت یا صلاحیت وغیرہ رکھتا ہے ، شرک میں سے ہے ،
اللہ تبارک و تعالیٰ کا فرمان شریف ہے کہ ﴿وَلَا تَدْعُ مِنْ دُونِ اللَّهِ مَا لَا يَنْفَعُكَ وَلَا يَضُرُّكَ فَإِنْ فَعَلْتَ فَإِنَّكَ إِذًا مِنَ الظَّالِمِينَ ::: اور (اے  میرے رسول محمد آپ )  اللہ کو چھوڑ کر کسی ایسی چیز کو نہ  پکاریے گا جو آپ کو نہ تو کوئی فائدہ دے سکتی ہے اور نہ ہی کوئی نقصان ، اور اگر آپ نے ایسا کیا تو پھر یقیناً آپ ظُلم (شرک) کرنے والوں میں سے ہو جائیں گے﴾سُورت یُونُس(10)/آیت106،
قران کریم میں اللہ عزّ و جلّ کے کلام کے  عمومی اسلوب کے مُطابق اِس آیت شریفہ میں ظالمین کا معنی شرک کرنے والے ہی بنتا ہے ،اِسی لیے میں نے، ظالمین کا ترجمہ شرک کرنے والے لکھا ہے،
::: (3) ::: اللہ کی محبت کسی بھی اور محبت سے بڑھ کر ہونا، اپنے نفس کی خواہشات سے بڑھ کر ہونا، إِیمان والوں کی صِفت ہے ،
::: (4) ::: خوشحالی ، جو کوئی اللہ تبارک و تعالیٰ کی رضا کے لیے زنا کرنے، یا کوئی بھی گناہ کرنے کے تمام تر مواقع موجود ہونے کے باوجود وہ گناہ نہ کرے ، تو اللہ  سُبحانہُ و تعالیٰ اُسے مصیبتوں اور مشکلوں سے نجات دیتا ہے،
::: (5) ::: جو کوئی محنت کاروں ، مزدوروں ، اور حق داروں کے حق محفوظ رکھتا ہے ، اور طلب  کیے جانے پر ادا کرتا ہے ، اللہ تعالیٰ سختی اور پریشانی کے وقت میں اُس کی مدد کرتا ہےا ور اُسے بجات دیتا ہے،
اگر کسی کے حق میں سے کوئی مال آپ کے پاس رہ گیا ہو، اور صاحب حق تک رسائی ممکن نہ ہو ، تو آپ وہ مال کسی تجارت میں لگا سکتے ہیں ، لیکن جب صاحب حق اپنا حق طلب کرے تو اُس کا حق اور اُس کے ذریعے کمایا گیا سب مال ہی اُس کو دینا واجب ہے ، کیونکہ دراصل اُس کے حق کے مال کے ذریعے جو کچھ کمایا گیا وہ اُسی کا حق ہے،
ہم سے پہلی والی امتوں  جو شریعتیں دی گئیں ، اُن میں سے جن احکام اور مسائل کی تعریف کی گئی ، اور اچھائی کے طور پر اُن کی خبر دی گئی ، اور اُن کے منسوخ ہونے کی خبر نہیں دی گئی تو ایسے غیر منسوخ شُدہ احکام و مسائل ہماری شریعت میں بھی  قُبول و منظور ہیں ،
::: (6) ::: ماں باپ کے حق کی ادائیگی  کو بیوی بچوں کے حق ادا کرنے  پر أولیت دینا اللہ کے ہاں محبوب ہے ،  
::: (7) ::: ہر ایک کام کا اللہ کے ہاں مقبول ہونے کے لیے اخلاص  ہونا ضروری ہے ، یعنی ، وہ کام خالصتاً صِرف اللہ کی رضا کے لیے کیا گیا ہو تو ہی وہ  اللہ کے ہاں مقبول ہوتا ہے،جیسا کہ غار میں پھنس جانے والے  تینوں آدمیوں نے کہا تھا کہ ﴿(اے اللہ)اگر تو یہ میں نے تیرے خوف سے کِیا تھا تو ہمارا راستہ کھول دے﴾
لیکن خیال رہے کہکسی نیکی کا اللہ کے ہاں مقبول ہونے کے لیے صِرف اخلاص للہ ہی کافی نہیں ، بلکہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اِس کے لیے دوسری شرط اُس کے رسول کریم صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی اطاعت بھی رکھی ہے،لہذا کسی ایک شرط کی غیر موجودگی کسی بھی نیکی کے قبول ہونے کی اُمید کو ختم کرنے والی ہوتی ہے،
اللہ جلّ و عزّ ہم سب کو حق جاننے،ماننے،اپنانے اور اُسی پر عمل پیرا رہتے ہوئے اپنے حضور حاضر ہونے والوں میں سے بنائے ۔
والسلام علیکم۔
تاریخ کتابت : 17/11/1436ہجری،بمُطابق،01/09/2015عیسوئی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مضمون کا برقی نسخہ درج ذیل ربط پر میسر ہے :
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Monday, August 31, 2015

::::::: گناہ اور إِیمان والے نفس کی جنگ ، کون کیسے جیتتا ہے؟ ::: اللہ کی خشیئت وہ صِفت ہے جو گناہوں کو مات کرتی ہے :::::::

::::::: قران و حدیث کے باغ  میں سے  :::::::
::::::: گناہ اور  إِیمان والے نفس  کی جنگ ، کون کیسے جیتتا ہے؟ :::::::
:::::: اللہ کی خشیئت وہ صِفت ہے جو گناہوں کو مات کرتی ہے :::::::
بِسّمِ اللہ الرّ حمٰنِ الرَّحیم
بِسّم اللہِ و الحَمدُ  لِلَّہِ وحدہُ و الصَّلاۃُ و السَّلامُ عَلٰی مَن لا نَبی بَعدَہُ والذی لَم یَتکلم مِن تِلقاء نَفسہِ و لَم یَکن کَلامُہ اِلَّا مِن وَحی رَبہُ ::: اللہ کے نام سے آغاز ہے اور تمام سچی تعریف صرف  اللہ کے لیے ہے اور اللہ کی رحمت اور سلامتی ہو اُس پر جس کے بعد کوئی نبی نہیں اور جس نے نفس کی خواہش کے مطابق بات نہیں کی اور جس کی بات سوائے اُس کے رب کی وحی کے اور کچھ نہ ہوتی تھی
السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ
گناہ کو ظاہر ہونے کا موقع اُسی وقت ملتا ہے جب سوچیں بے قابو ہوتی ہیں ، اور نفسانی خواھشات اُن پر حاوی ہوجاتی ہیں ، اور شیطان اُن کو خوب سجا سنوار کر رکھ دیتا ہے ، اُس وقت نفس اللہ کے ذِکر ، اللہ اور اُس کے رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی تابع فرمانی  سے غافل ہو جاتاہےاور معاشرتی زندگی میں بحیثیت مُسلمان اور بحیثیت اِنسان اپنی شرم و حیاءاور عِزت کو بھی بھول جاتا ہے ،
ابو عبدالرحمٰن إحمد بن الحسین رحمہ ُ اللہ نے اپنی کتاب ‘‘‘‘‘ عیوب النفس ’’’’’ میں  امام ابو بکر الرازی رحمہ ُ اللہ سے اُن کی سند کے مطابق سن کر  اِبراھیم الخواص رحمہُ اللہ  کا ایک بہت ہی حکمت بھرا قول نقل کیا ہے ، جِس کا مفہوم یہ بنتا ہے کہ‘‘‘‘‘ گناہ کی ابتداء شائبہ کی صُورت میں ہوتی ہے ، جس کی سوچ میں  ایسا کوئی شائبہ  آئے اور وہ (گناہ کے لیے)کراہیت (کے احساس)کے ساتھ اس کو دُور کر دے تو وہ بچ جائے گا ، اور اگر ایسا  نہیں کرے گا تو وہ شائبہ ، مخالف بن کر سامنے آئے گا ، اور اب اگر  وہ شخص اُس مخالف کو (اِیمانی اور عِلمی)رَد کے ذریعے دُور کر دے تو وہ بچ جائے گا ، اور اگر ایسا  نہیں کرے گا تو وہ مخالف ، وسوسہ بن جائے گا ، اور پھر اگر وہ شخص جسے یہ وسوسہ درپیش ہو ، اپنے نفس کو مضبوطی کے ساتھ اللہ اور اُس کے رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی اطاعت پر قائم رہنے  کے مجاھدے کے ساتھ اُس وسوسے کو دُور کر دے تو وہ شخص بچ جائے گا ، اور اگر ایسا نہیں کرے گا تو اُس وسوسے میں سے شہوات اور گمراہیاں اُبل کر باہر نکل پڑیں گی اور اُس شخص کے اپنے پاس موجود ، اور اُس کے اِرد گِرد اُسے دکھائی دینے اور ملنے والے عِلم  ،عقل اورسمجھ داری سب ہی کچھ کو اپنے اندر ڈھانپ لیں گی ( یعنی وہ شخص ایک شائبے کی صُورت میں شروع ہونے والے گناہ کا شِکار ہو ہی جائے گا )’’’’’ ،
اچھے اِنسان کے ضمیر میں برے کاموں کے  لیے اِنکار موجود ہوتا ہے ، اور مُسلمان کے اندر یہ اِنکار اللہ تبارک وتعالیٰ پر اِیمان اور اللہ کے خوف کی بنا پر کسی غیر مُسلم کی نسبت کہیں زیادہ مضبوط اور مستقل ہوتا ہے ، ایسے لوگوں کے اندر گناہوں اور برائیوں کی جاذبیت اور اُن کے لیے اِس اِنکار  کے درمیان ایک مسلسل جنگ ہوتی  رہتی ہے ، دونوں میں سے جس کی طرف دِل و دِماغ کا میلان اور توجہ زیادہ ہوتی ہے وہ دُوسرےپر غالب آجاتا ہے ،  
پس جب کسی مُسلمان کے دِل میں اللہ کی خشیئت کمزور پڑتی ہے گناہوں اور برائیوں کی جاذبیت اُسے لے ڈوبتی ہے اور وہ گناہوں کا شکار ہو جاتا ہے ، جِس سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ گناہوں اور برائیوں کی جاذبیت اور اُن کی طرف توجہ کو کمزور کرتے کرتے اُنہیں بالکل ہی ختم کرنے کے لیے دِل و دِماغ میں اللہ تبارک تعالیٰ کے  خوف کا قوی وجود دائمی طور پر لازم ہے ،کیونکہ اللہ جلّ و عُلا کے خوف کا غائب ہونا ، یا کمزور ہونا شیطان کے لیےبہترین موقع ہوتا ہے پس وہ اِس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اِنسان کے نفس کی بری خواہشات کو خوب مضبوطی کے ساتھ اُبھارتا ہے اور مزید نئی خواہشات بھی داخل کرتا ہے ،اور اُسے گناہ کرنے پر مائل کرتے کرتے اُس سے گناہ کروا ہی لیتا ہے ،   
علامہ محمد عبدالروؤف المناوی رحمہُ اللہ نے ‘‘‘‘‘ فیض القدیر شرح الجامع الصغیر/حدیث رقم 1505 ’’’’’کی شرح میں  لکھا ہے ‘‘‘‘‘(اللہ کے)خوف کی قلت کے مطابق ہی گناہوں کی طرف مائل ہوا جاتا ہے ، اور اگر یہ خوف بالکل ہی کم ہو جائے اور غفلت اِنسان پر حاوی ہوجائے ، تو یہ اُس انسان کی بد بختی کی علامت ہے ، اور اِسی لیے کہا جاتا ہے کہ [ گناہ کفر کی پیش آمد ہوتے ہیں ] ’’’’’،
یاد رکھیے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ سے خوف میں کمی کا نتیجہ صرف یہی نہیں ہوتاکہ اِنسان کا نفس گناہ سے جنگ ہار جاتا  ہے اور گناہ اُس پر غالب آ جاتا ہے اور وہ اِنسان کوئی گناہ کر لیتا ہے ، اور آخرت میں اُس کے کھاتے میں ایک گناہ پڑ جاتا ہے ، جی نہیں ، معاملہ صرف اتنا ہی نہیں رہتا ، بلکہ اُس اِنسان کے سارے ہی اچھے اعمال غارت ہوجانے والے بن جاتے ہیں ،
ثوبان رضی اللہ عنہ ُ  سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے اِرشاد فرمایا ﴿لأَعْلَمَنَّ أَقْوَامًا مِنْ أُمَّتِى يَأْتُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِحَسَنَاتٍ أَمْثَالِ جِبَالِ تِهَامَةَ بِيضًا فَيَجْعَلُهَا اللہُ عَزَّ وَجَلَّ هَبَاءً مَنْثُورًا:::میں اپنی اُمت میں سے یقینی طور پر ایسے لوگوں کو جانتا ہوں جو قیامت والے دِن  اِس حال میں آئیں گے کہ اُن کے ساتھ تہامہ پہاڑ کے برابر نیکیاں ہوں گی ،تو اللہ عزّ و جلّ ان نیکیوں کو (ہوا میں منتشر ہوجانے والا) غُبار بنا(کر غارت کر)دے گا﴾،
تو ثوبان رضی اللہ عنہ ُ نے عرض کیا ‘‘‘‘‘يَا رَسُولَ اللَّهِ صِفْهُمْ لَنَا جَلِّهِمْ لَنَا أَنْ لاَ نَكُونَ مِنْهُمْ وَنَحْنُ لاَ نَعْلَمُ ::: اے اللہ کے رسول ، ہمیں اُن لوگوں کی نشانیاں بتائیے ،ہمارے لیے اُن لوگوں کا حال بیان فرمایے ، تا کہ ایسا نہ ہو کہ ہمیں انہیں جان نہ سکیں اور ان کے ساتھ ہوں جائیں’’’’’
تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے اِرشاد فرمایا ﴿ أَمَا إِنَّهُمْ إِخْوَانُكُمْ وَمِنْ جِلْدَتِكُمْ وَيَأْخُذُونَ مِنَ اللَّيْلِ كَمَا تَأْخُذُونَ وَلَكِنَّهُمْ أَقْوَامٌ إِذَا خَلَوْا بِمَحَارِمِ اللہِ انْتَهَكُوهَا:::وہ لوگ تُم لوگوں کے (دینی)بھائی ہوں گے اور تُم لوگوں کی جِلد (ظاہری پہچان اِسلام )میں سے ہوں گے ، اور رات کی عبادات میں سے اُسی طرح (حصہ)لیں گے جس طرح تم لوگ لیتے ہو(یعنی تُم لوگوں کی ہی طرح قیام اللیل کیا کریں گے)لیکن اُن کا معاملہ یہ ہوگا کہ جب وہ لوگ اللہ کی حرام کردہ چیزوں اور کاموں کو تنہائی  میں پائیں گے تو  اُنہیں اِستعمال کریں گے﴾سُنن ابن ماجہ /حدیث/4386کتاب الزُھد/باب29، امام الالبانی رحمہُ اللہ نے صحیح قرار دِیا ،
لہذا یاد رکھیے کہ اللہ سُبحانہ ُ و تعالیٰ سے خوف کا فقدان صرف ایک یا چند ایک گناہوں کے اِرتکاب اور اُن گناہوں کی سزا کا ہی سبب نہیں ہوتا بلکہ ساری ہی نیکیوں کے ضائع ہوجانے کا سبب بھی بن سکتا ہے ،
اللہ سُبحانہُ و تعالیٰ سے خوف میں کمی یا اُس کا فُقدان یقیناً ایک بیماری ہے جو اِیمان کو خاتمے تک لے جاتی ہے ،
علامہ محمد عبدالروؤف المناوی رحمہُ اللہ نے ‘‘‘‘‘ فیض القدیر شرح الجامع الصغیر/حدیث رقم 1505 ’’’’’کی شرح میں یہ بھی  لکھا ہے کہ  ‘‘‘‘‘اگر دِل (اللہ کے)خوف سے بھر جائے تو جسم کے سارے ہی أعضاء گناہوں کے خِلاف مدافعت کرنے لگتے ہیں ’’’’’،
یعنی اگر اللہ سے خوف میں  کمی یا اُس خوف کے ختم ہو جانے کی بیماری لگ جائے تو مریض کے جسمانی أعضاء گناہوں میں ملوث ہونے لگتے ہیں ، اِس بیماری کی دواء دو چیزوں سے بنتی ہے ،
::::: (1) ::::: اپنے نفس پر مجاہدہ کرتے ہوئے اُسے سختی کے ساتھ اللہ کی ناراضگی اور اللہ کے عذاب کی یاد دہانی کرواتے رہنا ،
::::: (2) ::::: اور اللہ تعالیٰ نے گناہ گاروں کے لیے دُنیا اور آخرت میں جو کچھ عذاب تیار کر رکھے ہیں اور دُنیا میں گناہ گاروں کو اللہ تعالیٰ جو جو عذاب دیتا ہے اُن میں غور فِکر کرتے رہنا ،
اور اُن گناہ گاروں کا حال دیکھ کر ، حال جان کر عبرت حاصل کرتے رہنا ،
جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں ایسے بہت سے گناہ گاروں کا ذِکر اسی لیے فرمایا ہے کہ اللہ کے بندے اُن گناہ گاروں کا حال جان کر عبرت حاصل کریں ، مثلاً ،فرعون کو عذاب دینے کا ذِکر فرمایا ﴿فَأَخَذَهُ اللَّهُ نَكَالَ الْآخِرَةِ وَالْأُولَىٰ :::تو اللہ نے اُسے دُنیا اور آخرت کے عذاب میں پکڑ لیا﴾سُورت النازعات (79)/آیت25،
اور پھر اُس کے بعد یہ بھی فرمایا کہ ﴿إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَعِبْرَةً لِّمَن يَخْشَىٰ ::: بے شک اس واقعے میں (اللہ سے )ڈرنے والے کے لیے بڑی عبرت ہے﴾سُورت النازعات (79)/آیت26،
گناہ گاروں کو اللہ کی طرف سے ملنے والے دُنیاوی اور اُخروی عذاب کی خبر جان کر وہ دِل تو ضرور نصیحت حاصل کرے گا ، جس  دِل میں تقویٰ بچا ہو گا،کیونکہ یہ بھی اللہ سُبحانہ ُ و تعالیٰ کی دی ہوئی خبر ہے ،
یہودیوں کے ایک گروہ کو عذاب کے طور پر بندر بنا دینے کا ذِکر فرمانے کے بعد اِرشاد فرمایا ﴿فَجَعَلْنَاهَا نَكَالًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيْهَا وَمَا خَلْفَهَا وَمَوْعِظَةً لِّلْمُتَّقِينَ:::پس ہم نے اُن لوگوں کے انجام کو اُس وقت کے لوگوں کے لیے اور بعد میں آنے والوں کے لیے عبرت بنا دِیا اور پرہیز گاروں کے لیے نصیحت بنا دیا﴾سُورت البقرہ(2)/آیت66،
اللہ جلّ و علا سے خوف کی کمی یا اُس سے خوف کے فقدان کی دواء کے مذکورہ بالا دو أجزاء کے ساتھ اگر  ایک اور چیز بھی شامل کر لی جائے تو گناہوں کی جاذبیت سے لڑنے ، اور گناہوں سے بچنے کے لیے ناقابل بیان اور نا قابل تسخیر قوت کا حصول عین ممکن ہو جاتا ہے ،
 اور وہ تیسری چیز ہے اللہ سُبحانہُ و تعالیٰ کی ذات اور صِفات کی وہ معرفت جو اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے کلام کے ذریعے ہمارے لیے مہیا فرمائی ، یا اپنے خلیل محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی ز ُبان مُبارک سے اُن کی احادیث مبارکہ کے ذریعے ہمارے لیےمیسر فرمائی ،
کیونکہ جب ہم اللہ تعالیٰ کی صِفات کو اِن دو ذرائع سے جانیں گے تو اِن شاء اللہ ہمارے دِلوں میں اللہ تعالیٰ  سے خوف کے ساتھ ساتھ اُس کی محبت بھی داخل ہو جائے گی ، اوریُوں یہ ممکن ہو جائے گا کہ  کبھی تو ہم اللہ سے خوف  کی وجہ سے گناہوں سے دُور رہیں اور کبھی  اللہ تبارک و تعالیٰ کی محبت کی وجہ سے گناہوں سے دُور رہیں ،
اور یہی ہے ‘‘‘ خشیئت ’’’ ، جسے عام طور پر خوف ہی کہا جاتا ہے ،
لیکن ‘‘‘ خوف ’’’ اور ‘‘‘ خشیئت ’’’ میں ایک لطیف مگر بڑا أہم اور مضبوط فرق ہوتا ہے اور وہ یہ ہے کہ ‘‘‘خوف ’’’ میں ‘‘‘خائف ’’’ اِدھر اُدھر بھاگ کر  اُس سے بچنا چاہتا ہے  جِس سے وہ خوف رکھتا ہو،
اور ‘‘‘ خشیئت ’’’ میں  عِلم کے ذریعے وہ اُس چیز کے تکلیف دہ اثرات سے بچنے کی تدابیر اختیار کرتا ہے جِس چیز سے وہ ڈر رہا ہوتا ہے ، اِس کی مثال یوں سمجھیے جیساکہ کوئی شخص کسی مرض سے بچنے کے لیے اُس جگہ کو ہی چھوڑ نے کی سوچنے لگے جہاں مرض ظاہر ہوا ہو ،  جب کہ طب کاعِلم رکھنے والا کوئی ماہرطبیب ایسا نہیں سوچے گا بلکہ وہ اُس مرض کے علاج کے لیے دوا ء ڈھونڈے گا اور اُس کا علاج کرے گا ،         
غور کیجیے کہ اللہ تعالیٰ نے بھی ہمیں یہ ہی سمجھایا ہے کہ اُس کےجو بندے اللہ تبارک وتعالیٰ کی ذات اور صِفات کا علم اور معرفت رکھتے ہیں ، وہی اُس سے ڈرتے ہیں ، اور یہ بھی ایک معلوم حقیقت ہے کہ جِس قدر اللہ کی ذات اور صِفات کا عِلم زیادہ ہو گا اُسی قدر اُس کی خشیئت میں بڑھے گی ﴿إِنَّمَا يَخْشَى اللہ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمَاءُ إِنَّ اللَّهَ عَزِيزٌ غَفُورٌ:::یقیناً اللہ سے تو  اُس کے عالِم بندے ہی ڈرتے ہیں ، بے شک اللہ بہت زبردست اور بخشش کرنے والا ہے﴾سُورت فاطر (35)/آیت28 ،
امام ابن کثیر رحمہ ُ اللہ اپنی معروف تفسیر ‘‘‘ تفسیر القران العظیم، تفیسر ابن کثیر’’’ میں ، اِسی آیت مبارکہ کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ ‘‘‘‘‘إنما يخشاه حق خشيته العلماء العارفون به؛ لأنه كلما كانت المعرفة للعظيم القدير العليم الموصوف بصفات الكمال المنعوت بالأسماء الحسنى -كلما كانت المعرفة به أتمّ والعلم به أكمل، كانت الخشية له أعظم وأكثر :::اللہ کی معرفت رکھنے والے عالم لوگ ہی اللہ سے ڈرنے کے حق کے مطابق اللہ سے ڈرتے ہیں ، کیونکہ جُوں جُوں (اللہ) العظیم  ، القدیر، العلیم جو کہ کمال والی صفات سے موصوف ہے جن صِفات کی اسماء الحسنیٰ میں تعریف  فرمائی گئی ہے ، جُوں جُوں (اِن صفات کےعلم کے ساتھ )اللہ کی معرفت، اور اللہ کے بارے میں عِلم کی تکمیل ہوتی جائے گی اُسی قدر اللہ سے خوف بھی بڑھتا اور زیادہ ہوتا جائے گا’’’’’،
دِلوں میں اللہ کی خشیئت کا حصول  اور اُس خشیئت کا رہنا اللہ کی اُس  معرفت کے بغیر ممکن نہیں ، جو معرفت اللہ تعالیٰ نے اپنی  نازل کردہ کتابوں میں دی ، اور جو معرفت اللہ تعالیٰ نے اپنے نبیوں اور رسولوں  علیہم السلام کی باتوں کے ذریعے دی، جو کہ ہم مُسلمانوں کے لیے اللہ کی نازل کردہ آخری کتاب قران کریم  ،اور اللہ کے مقرر کردہ  آخری نبی اور رسول  محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی حدیث شریف کے ذریعے دی ،
اِس آیت کریمہ سے یہ بھی پتہ چلا کہ جو کوئی بھی اللہ تبارک و تعالیٰ کی کسی نافرمانی کا شِکار نظر آئے گا ، وہ اللہ کے ہاں عِلم والوں میں شُمار نہیں ہوگا ، خواہ اُس کے نام کے ساتھ کتنے ہی القاب لگے ہوں ، اور خواہ وہ جبہ و دستار میں ہی دکھائی دیتا ہو،مصلیٰ و محراب کا باسی ہی ہو،
اور اِسی طرح یہ بھی پتہ چلا کہ اللہ عزّ و جلّ کی ذات اور صِفات کی معرفت کا حقیقی اور حق ذریعہ خود اللہ کا کلام اور اُس کے نبی محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی سُنّت شریفہ ہی ہیں ،
نام نہاد عارف باللہ اور ولی اللہ وغیرہ کہلانے والے، یا مان لیے جانے والے لوگوں کے خود ساختہ خیالات، دیو مالائی قصے،خواب،کشف وکرامات،الہامات،قلبی توجہ، وغیرہ قسم کی کوئی چیز اللہ کی حقیقی معرفت کا ذریعہ نہیں، اوریقیناً نہیں،    
جی ہاں ، اللہ کی کتاب قران کریم اور اللہ کے رسول کریم محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کےصحیح ثابت شدہ  فرامین اور افعال مبارکہ کے بغیر اللہ جلّ و علا کی ذات اور صِفات کی حق معرفت حاصل نہیں کی جا سکتی ،
کیونکہ اللہ سُبحانہ ُ و تعالیٰ نے یہ سُنت اپنائی کہ اُس نے اپنے بندوں کے لیے  اُس کی ذات اور صِفات کی معرفت حاصل کرنے کے لیے اپنےنبیوں اور رسولوں علیہم السلام کے علاوہ کوئی اور ذریعہ نہیں رکھا ، جیسا کہ موسیٰ علیہ السلام کی فرعون سے گفتگو کا واقعہ بیان فرماتے ہوئے اِرشاد فرمایا ﴿وَأَهْدِيَكَ إِلَىٰ رَبِّكَ فَتَخْشَىٰ:::اور میں تجھے تیرے رب کی طرف راہنمائی کروں تاکہ تو (اُس سے )ڈرنے لگے﴾سُورت النازعات (79)/آیت 19،
جی ہاں ، اللہ عزّ و جلّ کے کلام پاک کو اُس کے رسول کریم محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی صحیح ثابت شدہ سُنّت شریفہ کے مُطابق سمجھنے والے عُلماء اِس راہ کی طرف راہنمائی کرنے والے ہوتے ہیں ، لیکن حقیقی اور حق معرفت صِرف اور صِرف اللہ جلّ جلالہُ کے کلام ، اور اُس کے رسول محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی صحیح ثابت شُدہ سُنّت شریفہ کے ذریعے ہی نصیب ہوتی ہے،
اللہ تبارک وتعالیٰ کی خشیئت ایسی عظیم فائدہ مند صِفت ہے کہ اللہ کے خلیل، اور اللہ کی تمام تر أولین اور آخرین مخلوق میں سے  سب سے بڑھ کر اللہ کی معرفت رکھنے والے اور سب سے بڑھ کراللہ کی خشیئت رکھنے والے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم بھی اپنے رب،اللہ تعالیٰ سے ، اُس  کی خشیئت کے دائمی اور ہر حال میں موجود رہنے کا سوال فرمایا کرتے تھے کہ ﴿اللَّهُمَّ وَأَسْأَلُكَ خَشْيَتَكَ فِى الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ ::: اے اللہ اور میں اپنے ظاہر اور چھپے ہوئے ہر حال کے لیے تُجھ سے تیری خشیئت کا سوال کرتا ہوں﴾سُنن النسائی /حدیث /1313کتاب السھو/باب62،اِمام الالبانی رحمہُ اللہ نے صحیح قرار دِیا ،
ہماری زندگیوں کے معمول میں سے یہ بھی ہے کہ کسی وقت کہیں اللہ کے بندوں  سے ڈھکے چُھپے حال میں ، یا کہیں کسی وقت اللہ کے بندوں کے سامنے ہی ہم سے کوئی گناہ ہو جاتا ہے ، یا ہم کوئی گناہ کرتے ہیں ، تو ایسی صُورت میں ہمیں ابلیس اور اس کے پیروکاروں کے کسی اور دھوکے کا شِکار ہونے کی بجائے سچی ندامت اور پھر سے نہ کرنے کے سچے اِرادے کے ساتھ اللہ تبارک و تعالیٰ سے توبہ کرنی چاہیے ،  اور اِستغفار یعنی اللہ سے اُس کی بخشش کا سوال کرنا چاہیے ،
معاذ ابن جبل رضی اللہ عنہ ُ سے روایت ہے کہ اُنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم سے درخواست کی کہ انہیں کوئی نصیحت فرمائیں ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے اِرشاد فرمایا ﴿ عَلیک  بِتقوی اللہَ ما أستطعتَ ، وَاذْكُرَ اللهَ عِنْدَ كُلِّ حَجَرٍ وَشَجَرٍ،ومَا عملتَ مِن سُوءٍ فأحدث لهُ توبة، السِّرُّ بِالسِّرِّ وَالْعَلاَنِيَةُ بِالْعَلاَنِيَةِ ::: اللہ کی ناراضگی اور عذاب سے بچتے رہنے کو لازم رکھو  ، اور ہر پتھر اور ہر پودے کے پاس اللہ کا ذِکر کرتے رہو ، اور( اگر )کوئی گناہ کربیٹھو تو اس کے لیے (فوراً )توبہ (بھی) کرلو، لوگوں سے چھپے ہوئے(گناہ ) کے بدلے لوگوں سے چُھپ کر(ہی توبہ کرو) اور اعلانیہ(کیے ہوئے گناہ ) کے بدلے(توبہ بھی ) اعلانیہ کرو﴾امام الالبانی رحمہ ُ اللہ نے صحیح قرار دِیا ، السلسلہ الصحیحہ /حدیث 3320،***1***
اِس میں کوئی شک نہیں کہ اللہ تعالیٰ کی خشیئت بہت ہی عظیم اور بہت فائدے والی صِفت ہے ، اور اِس صِفت کا اعلیٰ ترین درجہ یہ ہے کہ بندہ صِرف اور صِرف اللہ سے ڈرتا ہو، جب اُس کے آس پاس اللہ کے بندوں میں سے کوئی نہ ہو اور وہ اللہ کو بن دیکھے ، اس یقین کے ساتھ اپنے اندر  اللہ کی خشیئت پاتا ہو کہ اللہ اُسے دیکھ رہا ہے اللہ تبارک و تعالیٰ نے اِرشاد فرمایا ہے ﴿مَنْ خَشِيَ الرَّحْمَنَ بِالْغَيْبِ وَجَاءَ بِقَلْبٍ مُنِيبٍ :::جو کوئی رحمٰن کو بِن دیکھے اُس ڈرا اور(اللہ کے پاس اللہ ہی کی طرف)رجوع کرنے والا دِل لے کر آیا﴾سُورت ق(50)/آیت 33،
اور اِرشاد فرمایا ﴿إِنَّمَا تُنذِرُ مَنِ اتَّبَعَ الذِّكْرَ وَخَشِيَ الرَّحْمَٰنَ بِالْغَيْبِ فَبَشِّرْهُ بِمَغْفِرَةٍ وَأَجْرٍ كَرِيمٍ ::: آپ تو اُسے ہی ڈرا سکتے ہیں جو نصیحت کی پیروی کرنے والا ہو اور رحمٰن کوبغیر دیکھے ہی اُس سے  ڈرتا ہو، پس آپ ایسے شخص کو بخشش اور عزت والے أجر کی خوشخبری سنا دیجیے﴾سُورت یٰس (36)/آیت11 ،
اور اپنے خلیل محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی مقدس و پاکیزہ ز ُبان مُبارک سے یہ خبر بھی ادا کروائی کہ ﴿ثَلَاثٌ مُهْلِكَاتٌ شُحٌّ مُطَاعٌ وَهَوًى مُتَّبَعٌ وَإِعْجَابُ الْمَرْءِ بِنَفْسِهِ، وَثَلَاثٌ مُنْجِيَاتٌ خَشْيَةُ اللهِ فِي السِّرِّ وَالْعَلَانِيَةِ، وَالْقَصْدَ فِي الْغِنَى وَالْفَقْرِ، وَكَلِمَةُ الْحَقِّ فِي الرِّضَا وَالْغَضَبِ:::تین چیزیں ھلاک کر دینے والی ہیں(1)ایسا لالچ جس کا حکم مانا جائے ، اور (2)ایسی نفسانی(بری)خواہشات جن کی پیروی  کی جائے، اور ، (3)خود پسندی ، اور تین چیزیں نجات دِلوانے والی ہیں(1)سب کے سامنے اور تنہائی میں اللہ کی خشیئت، اور ، (2)تونگری اور غریبی دونوں ہی حالات میں میانہ روی ، اور ، (3)خوشی اور غصے دونوں ہی کیفیات میں حق بات کرنا﴾درجہ صحت ‘‘‘حَسن’’’، السلسلہ الصحیحہ / حدیث 1802،
غور فرمایے کہ اِس مذکورہ بالاحدیث شریف میں بھی اللہ تبارک تعالیٰ نے اپنے رسول  محمدصلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی ز ُبان مُبارک سے جو خبر ادا کروائی اُس میں تنہائی میں پائی جانے والی خشیئت اورسب کے سامنے پائی جانے والی خشیئت کا ذِکرسب سے پہلے فرمایا گیا ہے جو اللہ تعالیٰ کے مذکورہ بالا فرامین مبارکہ کےعین مطابق اِس بات کی ایک اور  دلیل ہے کہ اللہ سےخشیئت کا اعلیٰ ترین درجہ یہ ہے کہ بندہ صِرف اور صِرف اللہ سے ہی ڈرتا ہو، جب اُس کے آس پاس اللہ کے بندوں میں سے کوئی نہ ہو اور وہ اللہ کو بغیر دیکھے ، اِس یقین کے ساتھ اپنے اندر  اللہ کی خشیئت پاتا ہو کہ اللہ اُسے دیکھ رہا ہے،
میں اِس بات کا ذِکر کرنا  بھی بہت ضروری سمجھتا ہوں کہ اپنی زندگی کے ہر حال اور ہر وقت میں  اللہ کی خشیئت کو اپنے اندر موجود اور مہیا رکھنا اور اُسے تقویت کے اسباب بہم پہنچاتے رہنا محض اضافی اعمال نہیں، یا نفلی اعمال میں سے نہیں ، بلکہ اللہ کی خشیئت کو اپنے دِلوں میں موجود رکھنا ہم پر فرض ہے ،
جی ہاں ، ایسا ہی ہے ، کیونکہ ہمارے واحد لاشریک خالق و مالک اللہ عزّ وجلّ نے حکم فرمایا ہے کہ﴿وَلَا تَقْرَبُوا الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ ،،،،،ذَٰلِكُمْ وَصَّاكُم بِهِ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ:::اور بے حیائی والے کاموں کے قریب بھی نہ جاؤ خواہ وہ کام ظاہری ہوں یا خُفیہ ہوں،،،،، اور یہ وہ کام ہیں جِن کا اللہ تُم لوگوں کو حکم دے رہا ہے ، تاکہ تُم لوگ (حق اور تمہاری ہی خیر کو)سمجھ سکو﴾سُورت الانعام (6)/آیت 151،
اور حکم فرمایا ہے کہ ﴿قُلْ إِنَّمَا حَرَّمَ رَبِّيَ الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ وَالْإِثْمَ وَالْبَغْيَ بِغَيْرِ الْحَقِّ وَأَن تُشْرِكُوا بِاللَّهِ مَا لَمْ يُنَزِّلْ بِهِ سُلْطَانًا وَأَن تَقُولُوا عَلَى اللهِ مَا لَا تَعْلَمُونَ::: (اے محمد)آپ فرما دیجیے کہ بلا شک میرے رب نے بے حیائی والے کام حرام قرار دیے ہیں ، خواہ وہ کام ظاہری ہوں یا چُھپے ہوئے ہوں ، اور گناہ اور نا حق زیادتی کرنا (بھی حرام قرار دیے ہیں)اور اللہ کی طرف سے کسی واضح ثبوت کے بغیر  اللہ کے ساتھ کسی کو شریک بنانا (بھی حرام قرار دیا ہے)اور یہ بھی (حرام قرار دِیا ہے) کہ تُم لوگ اللہ سے وہ بات منسوب کرو جو کچھ اللہ نے نہیں فرمائی﴾سُورت الاعراف(7)/آیت33،
اور یہ سبق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین کو سکھاتے ، جیسا کہ ابی ذر الغِفاری رضی اللہ عنہ ُ کا کہنا ہے کہ ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے مجھے اِرشاد فرمایا﴿اتَّقِ اللهَ حَيْثُمَا كُنْتَ وَأَتْبِعِ السَّيِّئَةَ الْحَسَنَةَ تَمْحُهَا وَخَالِقِ النَّاسَ بِخُلُقٍ حَسَنٍ:::جہاں کہیں بھی ہو (یعنی لوگوں میں ہو یا تنہائی میں ) اللہ (کی ناراضگی اور عذاب )سے بچتے رہو ، اور (اگر کوئی)گناہ (ہو جائے)تو اُس کے پیچھے پیچھے نیکی بھیجو وہ گناہ کو مٹا دے گی ،اور لوگوں کے ساتھ اچھے اخلاق و کِردار والا معاملہ رکھو﴾سُنن الترمذی ،حدیث2115،کتاب البر والصلہ ،باب55، اِمام الترمذی رحمہُ اللہ اور اِمام الالبانی رحمہُ اللہ نے حسن قرار دیا ،
معاذ ابن جبل رضی اللہ عنہ ُ نے بھی اُنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی طرف سے یہی  سبق دیے جانے کی روایت کی ہے ، مُسند احمد ، حدیث 22709، مسند معاذ ابن جبل رضی اللہ عنہ ُ میں سے حدیث رقم 77، اور یہ روایت بھی صحیح ہے ،
اللہ کی خشیئت کے ثمرات میں سے سب سے بڑا پھل یہ ہے کہ اللہ کی خشیئت کا حامل ہی اُن میں شامل ہوسکتا ہے جو اللہ تبارک وتعالیٰ کے فرامین مبارکہ سے نصیحت حاصل کرتے ہیں ، اور جن میں یہ صِفت نہیں ہوتی وہ اللہ کے کلام پاک سے نصیحت حاصل نہیں کر سکتے بلکہ اللہ کا کلام پڑھنے اور سننے کے باوجود گمراہ ہوتے ہیں ،
اللہ تبارک وتعالیٰ نے اِرشاد فرمایا ہے﴿مَا أَنزَلْنَا عَلَيْكَ الْقُرْآنَ لِتَشْقَىٰ O إِلَّا تَذْكِرَةً لِّمَن يَخْشَىٰ::: (اے محمد) ہم نے یہ قران آپ پر اس لیئے نازل نہیں فرمایا کہ آپ مشقت میں پڑ جائیں O بلکہ اُس شخص کو نصیحت دینے کے لیے (نازل کیا) ہے جو (اللہ سے )ڈرتا ہو﴾سُورت طہٰ (20)،آیات 2، 3،***2***
اور اِرشاد فرمایا ہے ﴿سَيَذَّكَّرُ مَن يَخْشَىٰ:::جو تو اللہ سے ڈرتا ہے وہ نصیحت حاصل کرے گا﴾ سُورت الاعلیٰ (87)،آیت10 ،
اور پھر جو کوئی اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے فرامین مبارکہ سے نصیحت حاصل کرے گا تو یقیناً وہ آسانی سے گناہوں کو شکار نہیں ہو گا ، بلکہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے احکام اور تعلیمات پر عمل پیرا رہنے کے لیے اپنے نفس کے ساتھ مجاھدہ کرتا رہے گا اور اللہ کی خشیئت کے دوسرے بڑے پھل کا حقدار ہو جائے گا جو پھل اُسے آخرت میں ملنے والا ہے ،
اس کی  دلیل کے طور پر اللہ تبارک و تعالیٰ کے دو فرامین مبارکہ تو میں ابھی ابھی ذِکر کرچکا ہوں ،
ایک تو  یہ فرمان مبارک ہے ﴿مَنْ خَشِيَ الرَّحْمَنَ بِالْغَيْبِ وَجَاءَ بِقَلْبٍ مُنِيبٍ ::: جو کوئی رحمٰن کو بِن دیکھے اُس سے ڈرا اور(اللہ کے پاس اللہ ہی کی طرف)رجوع کرنے والا دِل لے کر آیا﴾سُورت ق(50)/آیت 33،
اس کے سیاق و سباق میں اس آیت کریمہ میں مذکور اللہ کی خشیئت رکھنے والوں کے لیے اللہ کی جنت میں داخلے اور جنت کے انعامات ملنے کی خوشخبریاں ہیں ،
اور دوسری دلیل  یہ فرمان شریف ہے ﴿إِنَّمَا تُنذِرُ مَنِ اتَّبَعَ الذِّكْرَ وَخَشِيَ الرَّحْمَٰنَ بِالْغَيْبِ فَبَشِّرْهُ بِمَغْفِرَةٍ وَأَجْرٍ كَرِيمٍ ::: آپ تو اُسے ہی ڈرا سکتے ہیں جو نصیحت کی پیروی کرنے والا ہو اور رحمٰن سے اسے بن دیکھے ڈرتا ہو، پس آپ ایسے شخص کو بخشش اور عزت والے أجر کی خوشخبری سنا دیجیے﴾سُورت یٰس (36)/آیت11 ،
اور تیسری دلیل اللہ جلّ و علا کا یہ فرمان مبارک ہے﴿جَزَاؤُهُمْ عِندَ رَبِّهِمْ جَنَّاتُ عَدْنٍ تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا أَبَدًا رَّضِيَ اللهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ  ذَلِكَ لِمَنْ خَشِيَ رَبَّهُ:::اُن لوگوں  کے رب کے پاس اُن لوگوں کی جزاءہمیشہ ہمیشہ رہنے والے وہ باغات ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی ، وہ لوگ اُن باغات میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے ، اللہ اُن سے راضی ہوا اور وہ اللہ سے راضی ہوئے ، یہ سب کچھ اُس کے لیے ہے جِس نے اپنے رب سے خوف رکھا﴾سُورت  البینہ(98)/آیت8 ،
تو حاصل کلام یہ ہوا کہ اللہ کی خشیئت وہ صِفت ہے جو کسی اِیمان والے کو اُس کے نفس میں آجانے والے گناہوں کے خیالات اور اسے گناہوں کی طرف مائل کرنے والے وسواس کو مات دینے والی ہے ،
جب اللہ کی خشیئت اپنے اعلی ترین درجہ پر پہنچ جائے تو پھر اس سے موصوف اِیمان والا گناہوں کے لیے ایک نا قابل تسخیر ہستی بن جاتا ہے اور اپنے اللہ کی توفیق سے اپنے نفس میں آنے والے گناہوں کے شائبوں کو کچل کر رکھ دیتا ہے ،اور کسی بھی طور اُس کے سامنے نہیں ٹھہر پاتے اور اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے اُس بندے کو گناہوں کا شِکار ہونے سے محفوظ کر دیتا ہے ۔والسلام علیکم،
طلبگارء دُعا، عادِل سُہیل ظفر،
تاریخ کتابت : 04/01/1434ہجری،بمُطابق،18/11/2012عیسوئی،
تاریخ تجدید و تحدیث : 16/11/1436ہجری،بمُطابق،31/08/2015عیسوئی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اِس مضمون کا برقی نسخہ درج ذیل ربط سے نازل کیا جاتا ہے:
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
***1*** جب یہ مضمون پاک نیٹ پر شائع ہوا تو اِس حدیث شریف کو پڑھ کر ایک بہن نے ایک سوال کیا ،وہ سوال اور جواب درج ذیل ہیں :
::: سوال :::
اسلام و علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ۔۔۔۔۔
جزاک اللہ خیر و احسن الجزاء
عادل بھائی اسکی وضاحت کریں۔۔۔کچھ لوگ کہتے ہیں جب تک جسکی غیبت کی ھو اس سے معافی نہ مانگی جائے معافی نہیں ہوتی۔۔۔
اللہ سبحانہ تعالی ہمارے تمام گناہوں کو معاف کرکے ھمیں متقی بنائے ۔
::: جواب :::
السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ،
اللہ تبارک وتعالیٰ آپ کو بھی بہترین اجر نوازے ،
مختلف نیک اعمال کے اجر و ثواب کے بارے میں جو خبر اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے دی ہے اُن میں سے کوئی عمل ایسا نہیں ہے جو اللہ کی کسی مخلوق کی کسی حق تلفی کے گناہ کو ختم کر سکنے والا ہو ،
اللہ کے حقوق کا معاملہ اللہ کے بندوں کے حقوق سے مختلف ہے کہ جب تک صاحب حق اپنا حق معاف نہیں کرے گا ، اللہ تبارک و تعالیٰ بھی حق مارنے والے کو معاف نہیں کرے گا ،
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کا اِرشاد مبارک ہے کہ﴿مَنْ كَانَتْ عِنْدَهُ مَظْلَمَةٌ لأَخِيهِ فَلْيَتَحَلَّلْهُ مِنْهَا ، فَإِنَّهُ لَيْسَ ثَمَّ دِينَارٌ وَلاَ دِرْهَمٌ مِنْ قَبْلِ أَنْ يُؤْخَذَ لأَخِيهِ مِنْ حَسَنَاتِهِ ، فَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ حَسَنَاتٌ أُخِذَ مِنْ سَيِّئَاتِ أَخِيهِ ، فَطُرِحَتْ عَلَيْهِ:::جس کسی کے ذمے اُس کے کسی بھائی کا کوئی حق ہو تو وہ اُس حق سے آزادی حاصل کر لے ، کیونکہ وہاں (قیامت میں)دینار و درھم نہ ہوں گے (کہ انہیں ادا کر کے گلو خلاصی کروا لی جائے)لہذا اُس حقدار کے حق مارنے والا بھائی سے اُس کی نیکیاں لے لی جائیں گی (اور حقدار کو دی جائیں گی)اور اگر حق مارنے والے کے پاس نیکیاں نہ ہوں گی تو صاحب حق کے گناہ اُس حق مارنے والے کے کھاتے میں ڈالے جائیں گے﴾صحیح بخاری /حدیث/6534کتاب الرقاق/باب48،
صحیح مسلم کی روایت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کا یہ فرمان مذکور ہے کہ﴿يُغْفَرُ لِلشَّهِيدِ كُلُّ ذَنْبٍ إِلاَّ الدَّيْنَ:::شہید کے ہر گناہ معاف کر دِیا جاتا ہے سوائے قرض کے﴾صحیح مسلم/حدیث4991/کتاب الإمارہ/باب32،
اس حدیث شریف سے بھی علماء کرام نے یہ اخذ کیا ہے کہ بندوں کے حقوق معاف نہیں کیے جائیں گے جب تک کہ صاحب حق اپنا حق معاف نہ کرے ، یا اللہ تعالیٰ اُسے کسی طور اُس کے حق کا بدلہ عطاء فرمائے دے،
اور بھی کئی احادیث شریفہ میں یہ بتایا گیا ہے کہ حقوق العباد معاف نہیں کیے جائیں گے ، جب تک کہ صاحب حق معاف نہ کرے یا اللہ تعالی اپنے عدل اور اپنی حکمت سے اُس کو اس کے حق کا بدلہ دلوائے،
پس ایسے کام جو گناہوں کو مٹانے والے ہیں ، وہ کام اللہ اور بندے کے حقوق سے متعلق گناہوں تک محدود ہیں ،
 بندوں کے آپس کے حقوق کے سلسلے میں ہونے اور کیے جانے والے گناہوں سے متعلق نہیں ہیں ،
آپ نے غیبت کے بارے میں پوچھا ہے ، جو بلا شک و شبہ اُن حقوق کو غصب کرنے میں سے ہے جنہیں معنوی حقوق بھی کہا جاتا ہے، اور یہ گناہ بھی ایسے گناہوں میں سے ہے جن کا اقرار بسا اوقات نا ممکن ہوتا ہے ، یا اِس کے اقرار میں فتنے اور فساد کا امکان ہوتا ہے، اس لیے غیبت ، الزام تراشی ،بہتان ، کسی کی عِزت و عصمت کے خلاف کی گئی کاروائیاں وغیرہ کے بارے میں ، علماء کرام یہ کہنا ہے کہ اگر ان کے اظہار میں کسی بھی قسم کے نقصان یا فساد کا اندیشہ ہو ، یا صاحب حق تک رسائی ممکن نہ ہو تو اُس صاحبء حق کے لیے مغفرت اور خیر کی دُعاء کرتے رہنا چاہیے ،
اور اس کی دلیل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کا درج ذیل فرمان مبارک ہے:::
﴿اللَّهُمَّ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ فَأَيُّمَا رَجُلٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ سَبَبْتُهُ أَوْ لَعَنْتُهُ أَوْ جَلَدْتُهُ فَاجْعَلْهَا لَهُ زَكَاةً وَرَحْمَةً:::اے میرے اللہ بے شک میں انسان ہوں ، لہذا مسلمانوں میں سے جِس کسی کو میں نے سخت سُسست کہا ہو ، یا اُس پر لعنت کی ہو ، یا اُسے کوڑے مارے ہوں ، تو)میرے)یہ کام اُس کے لیے صفائی اور رحمت بنا دے﴾صحیح مسلم/حدیث6781/کتاب البر و الصلۃ و الآداب /باب25،
اِسی باب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی یہ دُعاء مختلف الفاظ میں مروی ہے ، اور ان میں سے ایک روایت صحیح بخاری میں بھی ہےکہ﴿اللَّهُمَّ فَأَيُّمَا مُؤْمِنٍ سَبَبْتُهُ فَاجْعَلْ ذَلِكَ لَهُ قُرْبَةً إِلَيْكَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ:::اے میرے اللہ ایمان والوں میں سے جِس کسی کو بھی میں سخت سُسست کہوں تو آپ قیامت والے دِن (میرا )یہ کہنا اُس ایمان والے کے لیے آپ کی طرف قُربت کا سبب بنا لیجیے گ﴾صحیح بخاری /حدیث6361/کتاب الدعوات/باب34،
اِن شاء اللہ ، یہ معلومات آپ کے سوال کے جواب کے طور پر کفایت کرنے والی ہوں گی ، مزید کوئی اشکال ہو تو ضرور سامنے لایے گا ، اور اپنے عادل بھائی اور اس کے اہل خانہ و خاندان کے لیے بھی دعا کیجیے گا ، والسلام علیکم۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
***2*** [[[ طہٰ رسول اللہ محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے ناموں میں سے نہیں ہے ، یہ موضوع الحمد للہ ایک الگ مضمون بعنوان """رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے نام مُبارک""" نشر کیا جا چکا ہے ، جو درج ذیل ربط پر مُطالعہ کے لیے میسر ہے :
پڑھیے اور پڑھایے ، اِن شاء اللہ مزید خیر کا سبب ہو گا ]]]