Wednesday, December 21, 2016

:::::: غیر مُسلموں کے تہواروں میں شمولیت :::::::


 
:::::: غیر مُسلموں کے تہواروں میں شمولیت :::::::
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
الْحَمدُ لِلَّهِ حَمدًا كَثيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ كَمَا يُحِبُّ رَبُّنَا وَيَرضَى ، و افضَلُ الصَّلاۃِ و اَتمُّ السَّلام ِعَلَی رَسُولِہِ الکَریم ، امَّا بَعد ،
ہم پیدائشی ، خاندانی مُسلمانوں کی مُسلمانی میں اِیمان کو قتل کرنے والے امراض کی کثرت ہوتی جا رہی ہے ، اِن اِیمان کے قاتل امراض میں سے ایک مرض غیر مُسلموں  کے لیے قلبی لگاؤ بھی ہے ایسا قلبی لگاؤ جو بسا اوقات مُحبت کی صُورت میں بھی ظاہر ہوتا ہے  اور جب یہ مرض شدت اختیار کر جاتا ہے تو  ہم اپنوں سے نفرت کا اظہار کرتے ہیں اور کافروں سے مُحبت کا اقرار ،
جی ہاں مُحبت ، اُس  مُحبت کے اقرار و اظہار کے انداز و اطوار میں سے ایک انداز اُن کافروں کے تہواروں میں شمولیت بھی ہے  ، خواہ وہ تہوار خالصتاً دینی ہوں ، کفریہ عقائد پر مبنی ہوں ، یا محض اُن کافروں کی عادات میں سے ہوں ،
ہمیں اس سے کوئی غرض نہیں رہی کہ کافروں کے تہوار میں شمولیت کے بارے میں ہمارے دِین میں ہمارے لیے کیا حُکم ہے ؟؟؟
  ہم اُن  تہواروں میں شامل ہوتے ہیں ، اور کچھ نہ ہو تو اُنہیں نیک تمنائیں اور مُبارک کی دعائیں تو دے ہی دیتے ہیں ،  
ہمیں صِرف یہ شوق حُدود جنون میں داخل کر چکا ہے کہ  کِسی طور  ہم پر """ تنگ نظر  ، یا ، قدامت پرست ، یا ، بنیاد پرست ، یا ، دقیانوسی """، یا ماضی قریب میں اِنہی کافروں کی طرف سے ہماری مُحبتوں کے جواب میں دیے گئے  نئے لقب """دھشت گرد """ وغیرہ میں سے کوئی لقب  نہ دے دیا جائے ،
ہم تو فقط اپنے اندر موجود کُفار کی مُحبت اور اُن سے مرعوبیت اور کہیں  اُن کے خوف کی وجہ سے اُنہیں خوش کرنے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں ، خواہ اُس میں دُنیا کی ذِلت بھی ملتی رہے اور آخرت بھی تباہ ہوتی رہے
جی ہاں ، ایسا ہی ہے ، کیونکہ لوگوں کے أعمال اُن کے عقائد اور نیتوں کا نتیجہ ہوتے ہیں حتیٰ کے وہ أعمال بھی جو لاشعوری طور پر سر زد ہو جاتے ہیں اُن کے پیچھے بھی اِنسان کا کوئی نہ کوئی اِرداہ کارفرما ہوتا ہے جو اُس کے لا شعور میں مُقیم ہونے کی وجہ سے اُس کے ادراک سے باہر ہوتا ہے ، پس أعمال کو دیکھ کر ہی عاملین کے عقائد اور نیتوں کا اندازہ کیا جاتا ہے  ،  
اِس مخلوط و حیراں کیفیت کے بارے میں اِس سے زیادہ اور کیا کہوں کہ """  إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ """،
کافروں کے تہواروں اور اُ ن کی عادات میں شمولیت اور اُن کی عادات کی نقالی کے بارے میں اِسلامی احکام کا ذِکر کرنے سے پہلے میں یہ واضح کرنا چاہتا ہوں کہ ہر وہ شخص جو قران کریم کو اللہ تبارک و تعالیٰ  کی آخری ، حتمی ، مکمل اور غیر محرف کتاب نہیں مانتا وہ کافر ہے ،
اور  ہر وہ شخص  جو محمد  رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم جو کہ عبداللہ بن عبدالمطب  کے بیٹے تھے ، کو اللہ سُبحانہُ و تعالیٰ  کا آخری رسول نہیں مانتا وہ کافر ہے ،  خواہ وہ اللہ پر اِیمان رکھتا ہو اور بظاہر اُس کے پاس موجود کتابوں یا باتوں کے مُطابق اللہ کا عبادت گذار اور تابع فرمان نظر آتا ہو ، وہ مُسلمانوں کی صفوف میں شُمار نہیں کیا جا سکتا ، بلکہ کافر ہی مانا جائے گا ،
اِس وضاحت کو ذہن میں رکھتے ہوئے ، کافروں کی پہچان نظر میں رکھتے ہوئے ، پہلے بیان کردہ باتوں کی روشنی میں ہمیں یہ جان رکھنا چاہیے کہ ہمارا دین ہمیں مُعاشرے میں الگ تھلگ رہنے کی تعلیم نہیں دیتا بلکہ مُعاشرےمیں ہمارا اور کافروں کا وہ مُقام برقرار رکھنے کی تعلیم دیتا ہے جو اللہ نےمقرر کر رکھا ہے،ہمارے اور اُن کے درمیان وہ فرق برقرار رکھنے کی تعلیم دیتا ہے جو اللہ  تعالیٰ اور اُس کے رسول  کریم محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے مقرر کر رکھے ہیں ،
بحیثت اِنسان کافروں  کی جان مال اور عِزت پر ہاتھ نہ ڈالنا اور ُان کے ساتھ ظُلم و زیادتی نہ کرنا اِسلامی تعلیمات میں سے ہے ،کافروں کے ساتھ مُعاشرتی زندگی میں نرمی اور اچھائی والا رویہ رکھنا اِسلامی تعلیمات میں سے ہے ،اپنے اردگرد پائے جانے والے کُفار کے ساتھ بات چیت کرنا اور اِسلامی حدود میں رہتے ہوئے خوش اخلاقی کے ساتھ پیش آنا بحثیت اِنسان اُن کے حقوق میں سے ہے ،
ہمیں ایسے لوگوں کے ساتھ اچھے اِسلامی اخلاق کے ساتھ پیش آنا ہی چاہیے اور ساتھ ساتھ انہیں اِسلام کی دعوت بھی دیتے رہنا چاہیے ،
 دُکھ درد اور غم و تکلیف کے وقت اُن کی داد رسی کرنا بھی اِسلامی تعلیمات میں سے ہے ،
  لیکن اِن سب اعمال کی حُدود و شرائط ہیں ، مُعاشرتی زندگی میں کافروں کی خوشیوں اور تہواروں میں شمولیت ایک الگ معاملہ ہے ،
کافروں کے لیے قلبی میلان رکھنے ، اُن کی عادات کو اپنانے ، اُن کی نقالی کرنے ، اُن کے تہواروں پر اُنہیں برکت کی دُعا دینے ، اُن کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرنے ، اور اُن کے تہواروں میں شامل ہونے جیسی اپنی اِن بدعملیوں سے بڑھ کر بد عملی یہ ہے کہ ہم اپنی بد عملیوں ، خامیوں اور اپنے دِین کی دُرُست تعلیمات سے اپنی دُوری کو ختم کرنے کی بجائے اپنے دِلوں اور دِماغوں پر مُسلط خلافءِ اِسلام خیالات کو دُرست بنانے کے لیے ، اور اِن خیالات کے مُطابق کیے جانے والے اپنے اعمال کو دُرست ثابت کرنے کے لیے دِین کوبھی بدلنے کی کوشش کر ڈالتے ہیں ، جب کہ ہمیں ہمارے اکیلے لا شریک خالق و مالک ، جِس کی واحدنیت اور الوہیت کا کلمہ پڑھنے کے سبب ہم مُسلمانوں کی صفوف میں شُمار ہوتے ہیں ، اُس رب نے تو ہمیں حُکم دیا ہے کہ (((((فَاِن تَنَازَعتُم فِی شَیءٍ فَرُدُوہُ اِلَی اللّٰہِ و الرَّسُولِ اِن کُنتُم تُؤمِنُونَ بِاللّٰہِ وَ الیَومِ الاٰخِرِ، ذَلِکَ خَیرٌ وَ اَحسَنُ تَاوِیلاً :::  اور اگر تُم لوگوں میں کِسی چیز (کام ) کے بارے میں کوئی اِختلاف ہو جائے تو اگر تو تم لوگ(واقعتا ہی) اللہ اور آخرت کے دِن پر اِیمان رکھتے ہو تو ( اِختلاف کو حل کرنے کے لیے ) اُس اِختلاف کو اللہ کی طرف اور رسول کی طرف لوٹاؤ ، اور یہ (یعنی اِختلاف  کا حل اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے احکامت میں تلاش کرنا اور اس پر عمل کرنا)بہت خیر والا اور اچھے انجام والا ہے ))))) سُورت النِساء/آیت 59،
اور اِسی اللہ نے جِس کی بندگی کا ہم دعوی ٰ رکھتے ہیں ، اور جِس کے رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی مُحبت کا ہم دم بھرتے ہیں ، اپنے اور اپنے رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی اطاعت کے بارے میں حکم فرمایا ہے ((((( وَ مَا کَانَ لِمُؤمِنٍ وَ لَا لِمُؤمِنَۃٍ اِذَا قَضَی اللّٰہُ وَ رَسوُلَہُ اَمراً اَن یَکُونَ لَھُم الخِیرَۃُ مَن اَمرِھِم وَ مَن یَعصِ اللّٰہَ وَ رَسُولَہُ فَقَد ضَلَّ ضَلٰلاً مُبِیناً   ::: اور جب اللہ اور اس کا رسول کوئی فیصلہ کر دیں تو کِسی اِیمان والے مَرد اور کِسی اِیمان والی عورت کے لیے اُن (یعنی اللہ اور اُس کے رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم )کے فیصلے کے بارے میں کوئی اختیار باقی نہیں رہتا (یعنی وہ فیصلے ماننا اُس پر فرض ہے )اور جِس نے اللہ اور اُس کے رسول  کی نا فرمانی کی تو وہ یقیناً کھلی واضح گمراہی میں جا پڑا )))))سُورت الاحزاب /آیت 36،
اللہ پاک نے اپنی اور اپنے رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی بلا مشروط اور کِسی تاویل کے بغیر تابع فرمانی کے احکامات بار بار صادر فرما رکھے ہیں ، پس اگر ہم واقعتا ہی اِیمان والے ہیں تو ہم اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم  کی تابع فرمانی ہی کریں گے اور اگر ہم صِرف نام نہاد اِیمان والے ہیں تو پھر اپنی سوچوں ، فلسفوں ، آراء اور عقلوں کو کسوٹیاں بنا کر اپنی بد عملیوں کو درست بنانے کی کوشش کرتے دکھائی گے ،
ایسے لوگوں کو دیکھ کر اللہ تعالیٰ  کا یہ فرمان دل و دماغ میں گونجنے لگتا ہے کہ((((( يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اسْتَجِيبُوا لِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُمْ لِمَا يُحْيِيكُمْ وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ يَحُولُ بَيْنَ الْمَرْءِ وَقَلْبِهِ وَأَنَّهُ إِلَيْهِ تُحْشَرُونَ ::: اے ایمان والو ، اللہ کی بات قبول کرو اور رسول کی بات قبول کرو جب کہ وہ تم لوگوں کو زندگی بخش چیز کی طرف ہی بلاتے ہیں اور جان لو کہ اللہ (ان کی بات نہ ماننے والے)بندے اور اس کے دِل کے درمیان حائل ہو جاتا ہے (اور پھر  اُس بندے کے لیےحق سمجھنے کی گنجائش نہیں رہتی)اور تم لوگوں کو اللہ کی طرف ہی ہانکا جایا گا )))))سُورت الانفال/آیت24،
ان بھائی بہنوں کو شاید پتہ نہیں کہ وہ اللہ کی بات سُن کر اپنی سوچوں کی بنا پر اِنکاری کی سی کیفیت میں اُس سے منہ ُ پھیر کر کس قدر نقصان کما رہے ہیں ، اور وہاں کا نقصان کما رہے ہیں جہاں کوئی دوستی کام نہ آئے گی ، سوائے دو اِیمان والوں کی وہ دوستی جو صِرف اللہ کے لیے تھی ،
(((((وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنْ ذُكِّرَ بِآيَاتِ رَبِّهِ ثُمَّ أَعْرَضَ عَنْهَا إِنَّا مِنَ الْمُجرمينَ مُنْتَقِمُونَ ::: اور اُس سے بڑھ کر ظالم کون ہو گا جسے اللہ کی آیات کے ذریعے نصیحت کی جائے اور وہ اُن آیات سے(نہ ماننے کی صورت میں) مُنہ پھیر لے(تو ایسے لوگ یاد رکھیں کہ)یقیناً ہم مُجرموں سے اِنتقام لے کر رہیں گے)))))سُورت سجدہ/آیت22،
اللہ  تعالیٰ ہم سب کو ، ہمارے ہر اُس مُسلمان بھائی اور بہن کو ہدایت دے جو اللہ  تعالیٰ  اور اُس کے رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی بات سُن کر بھی اُن کے خلاف اپنے خیالات کو دُرُست ثابت کرنے کی کوشش میں لگا رہتا ہے ، اور نصیحت کی بات کو ، اللہ تبارک و تعالیٰ  اور رسول اللہ   محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی بات کو حقارت اور طنز کے ساتھ رَد کرتا ہے،اور کچھ تو ایسے ہیں جو کہ غلط فہمیوں پر مبنی  اپنے فلسفوں اور سوچوں کے دھارے میں اِس قدر بہہ رہے ہوتے ہیں کہ اپنے تیئں قران کریم کے مدبر بنے ہوتے ہیں کہ  اللہ تعالیٰ  کے اُسی قران میں دیے گئے اللہ تعالیٰ کے ہی  احکام کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اللہ کے  خلیل  محمد  صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی صحیح ثابت شدہ سُنّت مُبارکہ کا اِنکار کرتے ہیں ، اللہ ہی جانے اُن کی قران فہمی میں اللہ کا یہ فرمان کہاں ہوتا ہے کہجو لوگ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی نافرمانی کرتے ہیں ، اُن سے دُشمنی رکھتے ہیں ، اُنہیں غصہ دِلانے والے اعمال کرتے ہیں ، خواہ وہ کلمہ گو ہوں یا کافر اُن سب کا انجام اللہ نے ایک ہی بتایا ہے ((((( أَلَمْ يَعْلَمُوا أَنَّهُ مَنْ يُحَادِدِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَأَنَّ لَهُ نَارَ جَهَنَّمَ خَالِدًا فِيهَا ذَٰلِكَ الْخِزْيُ الْعَظِيمُ :::کیا یہ لوگ نہیں جانتے کہ جو کوئی بھی اللہ اور اُس کے رسول سے دُشمنی رکھے گا (اور اُن کی نافرمانی کرے گا اور ، اُنہیں غصہ دِلانے والے کام کرے گا)تو یقیناً اُس شخص  کے لیے جہنم ہے جِس میں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہے گا اور یہ بہت بڑی ذِلت ہے )))))سُورت التوبہ/آیت63،
اور  یہ طے شدہ امر ہے کہ کافروں کے لیے دوستی ، قلبی میلان اور اُن کے کفر پر رضا مندی والا معاملہ رکھنا، یہ سب عمل اللہ اور اُس کے رسول کی نافرمانی ہیں ، اور انہیں غُصہ دِلانے والے ہیں ،
((((( وَ لَا  تَرْكَنُوا  إِلَى  الَّذِينَ ظَلَمُوا  فَتَمَسَّكُمُ  النَّارُ  وَ مَا لَكُمْ مِنْ دُونِ اللَّهِ  مِنْ  أَوْلِيَاءَ  ثُمَّ  لَا تُنْصَرُونَ :::اور تُم لوگ اُن لوگوں کی طرف مائل مت ہو جنہوں نے (اللہ کا دِین اور حق قبول نہ کر کے اپنی جانوں)ظُلم کیا (اگر ایسا کرو گے) تو تُم لوگوں کو جہنم پکڑ لے گی اور تُم لوگوں کے اللہ کے علاوہ کوئی سرپرست اور والی نہ ہو گا اور پھر تم لوگوں کی کوئی مدد نہ کی جائے گی )))))سُورت ھُود/آیت113،
اِس مذکورہ بالا آیات مُبارکہ میں کِسی اہل کتاب یا کِسی خاص نسل و قِسم کے کافروں کا ذِکر نہیں ، بلکہ ہر قسم کے کافروں اور حتیٰ کہ کلمہ گو مُنافقوں ، فاسقوں اور فاجروں کے ساتھ تعلق داری کا ایک ہی حکم بیان ہوا ہے ،
لہذا کِسی کو یہ غلط فہمی نہیں رہنی چاہیے کہ یہ  آیات یا اِن میں دِیا گیا حُکم صرف یہودیوں اور عیسائیوں کے بارے میں ہے ،
اب اگر اتنے صاف اور واضح حُکم کے بعد بھی کوئی صاف صریح کھلے کافروں سے قلبی لگاؤ رکھتا ہو، اُن کی عادات  اور اُن کے کفر و عناد پر مبنی تہواروں کی طرف مائل ہوتا ہو ، بلکہ اُن کو دُرست سمجھ کر اور اُن احکامات کو نا دُرُست سمجھ کر ، اُن کافروں کو اُن کے کفر پر مبنی اعمال اور تہواروں  پر برکت کی دعاء دینے اور اُن کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرنے، اور اُن کے ساتھ اُن تہواروں میں شامل ہو نے  میں کوئی برائی نہیں سمجھتا تو ہم اُس کے لیے دُعا ہی کر سکتے ہیں کہ اللہ اُسے ہدایت دے اور سب ہی مُسلمانوں کو ہر اُس معاملے میں ہدایت دے جس میں وہ گمراہ ہیں ،
اللہ سُبحانہ ُو تعالیٰ کا فرمان مُبارک ہے (((((يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَّخِذُوا الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى أَوْلِيَاءَ بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاءُ بَعْضٍ وَمَنْ يَتَوَلَّهُمْ مِنْكُمْ فَإِنَّهُ مِنْهُمْ إِنَّ اللَّهَ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الظَّالِمِينَ:::اے اِیمان لانے والو ،  تُم لوگ نصاریٰ (عیسائیوں) اور یہودیوں کو دوست مت بناؤ ، وہ لوگ ایک دوسرے کے ہی دوست ہیں ، اور تُم لوگوں میں سے جِس نے اُن(کافروں)کے ساتھ دوستی کی تو وہ(میرے ہاں )اُن ہی میں سے ہے)))))سُورت المائدہ/آیت51،
دوستی جو کہ قلبی لگاؤ کے ایک انداز کا نام ہے ، جِس میں دوست کے دُکھ پر غم ہوتا ہو اور اُس کی خوشی پر خوشی محسوس ہوتی ہو ، قطع نظر اِس کے کہ اُس کے غم یا خوشی کا سبب کفر ہی کیوں نہ ہو ، اُس کی غمی اور خوشی میں شامل ہونا ، کِسی بھی انداز میں شرکت کرنا اُس قلبی لگاؤ کا ثبوت ہوتا ہے ، اورکِسی مُسلمان کی طرف سے کِسی کافر کے لیے ایسے  قلبی لگاؤکو روا رکھنے کی اِسلام میں اجازت نہیں ،
رہا کِسی کافر، مُشرک ،  یا بدکار کو کِسی تکلیف سے نجات پانے میں مدد کرنے کا معاملہ ، تو یہ اگر یہ محض اِنسانی حقوق  کی ادائیگی کے لیے ہو ، اور اِسلامی حدود کے اندر رہتے ہوئے ہو تو  اسے دوستی نہیں سمجھا جا سکتا ، اور نہ ہی کسی اور طور قلبی میلان ،    
یاد رکھیے ، کہ ،  کِسی کام کے لیے اللہ جلّ و عُلا  یا اُس کے رسول کریم محمد  صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم سے اجازت نہ ہونا کچھ معمولی بات نہیں  کہ وہ کام کر لیا جائے تو کوئی حرج نہ ہوگا ، یا کچھ ہلکا پھلکا سا نقصان ہو گا ، بلکہ اُس کام کو کرنا آخرت کی مکمل تباہی  کے اسباب میں سے ہے اور کافروں سے قلبی لگاؤ رکھنا بھی ایک ایسا ہی کام ہے ،
یہ آیت بھی ملاحظہ فرمایے اس میں بھی مطلقاً  کافروں کا ذِکر ہے صِرف یہود و نصاریٰ کا نہیں ،
((((( لَا يَتَّخِذِ الْمُؤْمِنُونَ الْكَافِرِينَ أَوْلِيَاءَ مِنْ دُونِ الْمُؤْمِنِينَ وَمَنْ يَفْعَلْ ذَلِكَ فَلَيْسَ مِنَ اللَّهِ فِي شَيْءٍ إِلَّا أَنْ تَتَّقُوا مِنْهُمْ تُقَاةً وَيُحَذِّرُكُمُ اللَّهُ نَفْسَهُ وَإِلَى اللَّهِ الْمَصِيرُ:::اِیمان والے (دوسرے)اِیمان والوں کو چھوڑ کر کافروں کو دوست مت بنائیں ، اور جِس نے ایسا کیا تو اُس کے لیے اللہ کی طرف سے کِسی(خیر و بخشش والا معاملہ ) میں نہیں ،  ایسا صرف (ظاہری طور پر )اُس وقت کر سکتے ہو جب تم لوگ اُن کافروں سے کِسی طور بچنا چاہتے ہو اور اللہ تُم لوگوں کو اپنی ذات مُبارک کے بارے میں خبر دار کرتا ہے اور اللہ کی طرف(تم سب نے)پلٹنا ہے)))))سُورت آل عمران/آیت 28،
اِس  مذکورہ  بالا آیت شریفہ میں اللہ تعالیٰ سب ہی کافروں سے دوستی کرنے والوں کے لیےہر خیر و بخشش سے محروم کر دیے جانے کا اعلان فرما رہے ہیں ، اِس آیت مُبارکہ اور  دیگر آیات مُبارکہ کے مُطابق بالکل ظاہر سی بات ہے ایسا کِسی اِیمان والے کے ساتھ نہ ہوگا ، یعنی ایسا کرنے والا شخص اگر اللہ کے ہاں اِیمان والوں میں رہے گا تو اللہ تعالیٰ اُس کے لیے آخرت کی ہر خیر سے محروم ہونے کی وعید نہ فرماتا،
اللہ تعالیٰ  کے رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے بھی اِس معاملے میں واضح احکامات دیے ہیں ،  اُن میں سے ایک حُکم تو ایک عام قاعدے قانون کی صُورت میں ہے جس میں کافروں کی ہر قسم کی نقالی کی ممانعت ہے،کیونکہ کِسی کی نقالی اُسکے لیے قلبی لگاؤ،اُس سے مُحبت  اور اُس سے متاثر ہونے کا مُنہ بولتا ثبوت ہے ، کوئی صحیح عقل و سمجھ والا  اِنسان کبھی کِسی ایسے شخص کی عادات ، انداز و اطوار نہیں اپناتا ، اُن کی نقالی نہیں کرتا جِس شخص کو وہ اچھا نہ سمجھتا ہو ،
:::::: عبداللہ ابن عُمر الفاروق رضی اللہ عنہ ُ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے اِرشاد فرمایا (((((مَنْ تَشَبَّهَ بِقَوْمٍ فَهُوَ مِنْهُمْ:::جِس نے جِس قوم کی نقالی کی وہ اُسی قوم میں سے ہے )))))سُنن ابو داؤد /حدیث4033/کتاب اللباس/باب5،اِمام الالبانی رحمہُ اللہ نے فرمایا """حسنٌ صحیح""  
:::::: جریر بن عبداللہ البُجلی رضی اللہ عنہ ُ کا کہنا ہے کہ میں نے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے ہاتھ مُبارک پر بیعت کی تو انہوں نے فرمایا(((((أُبَايِعُكَ عَلَى أَنْ تَعْبُدَ اللَّهَ وَتُقِيمَ الصَّلَاةَ وَتُؤْتِيَ الزَّكَاةَ وَتُنَاصِحَ الْمُسلمينَ وَتُفَارِقَ الْمُشْرِكِينَ:::میں ان باتوں پرتمہاری بیعت لیتا ہوں کہ تُم اللہ کی عبادت کرو گے اور نماز ادا کرو گے اور مُسلمانوں کو نصیحت کرو گے اور مُشرکوں سے الگ رہو گے)))))سُنن النسائی/حدیث4194/کتاب البیعۃ/باب17،السلسلہ الاحادیث الصحیحہ/ حدیث636،
اِس  حدیث شریف میں مُشرکوں سے الگ رہنے کا مطلب مُعاشرتی علیحدگی نہیں کیونکہ ایسا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے دور مُبارک کے  مُسلم مُعاشرے میں بھی نہ تھا ، بلکہ اِس کا مطلب یہ ہے کہ مُشرکوں کی عادات اور نقالی سے الگ رہو گے ، اور اگر کوئی معاملہ اُن کے ہاں دِینی نوعیت کا ہو تو پھر تو اُس میں کِسی بھی طور شمولیت بدرجہ اَولیٰ ممنوع ہے ،
 یہ مفہوم ہمیں دیگر احادیث اور آثار میں ملتا ہے جِس کی مثال کے طور پر آپ کو اُمت کے سب سے مقدس اور پاکیزہ طبقے کے عُلماء صحابہ  رضی اللہ عنہم اجمعین کے فتاویٰ میں سے کچھ پیش کرتا ہوں ،
:::::: عبداللہ ابن عَمرو رضی اللہ عنھما کا کہنا ہے کہ ((((( مَنْ بَنَى بِبِلاَدِ الأَعَاجِمِ وَصَنَعَ نَيْرُوزَهُمْ وَمِهْرَجَانَهُمْ وَتَشَبَّهَ بِهِمْ حَتَّى يَمُوتَ وَهُوَ كَذَلِكَ حُشِرَ مَعَهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ::: جو کوئی کافروں کے شہروں میں آباد ہوا اور ان کے تہوار منائے اور ان کی نقالی کی یہاں تک وہ اسی حالت میں مر گیا تو قیامت والے دن اس کا حشر انہی کافروں کے ساتھ ہو گا ))))) سنن البیہقی ، حدیث صحیح ہے ،
اور ایک روایت میں (((((  مَنْ بَنَى بِبِلاَدِ المُشرکین ))))) کے اِلفاظ ہیں اور وہ روایت بھی صحیح ہے ،
:::::: دوسری حدیث، ہمارے  بلا فصل خلیفہ أمیر المؤمنین عمر ابن الخطاب رضی اللہ عنہما کا فرمان ہے
((((( لا تَعلَّمُوا رَطانةَ الأَعاجِم ، ولا تَدخُلُوا علىَ المُشرِكِين في كَنَائسِهِم يَومَ عِيدهُم ، فإنَّ السَخطةَ تَنزِلُ عَلِيهِم ::: نہ تو کافروں کا خاص لہجہ سیکھو ، اور نہ ہی مُشرکوں کے تہواروں والے دِن اُن کی عبادت گاہوں میں داخل ہو کیونکہ ایسے میں اُن پر اللہ کا غصہ نازل ہو رہا ہوتا ہے)))))سنن البیھقی میں صحیح سند کے ساتھ روایت ہے ،
:::::: میں ان مذکورہ بالا آثار کو کو حدیث اس لیے کہہ رہا ہوں کہ اِس میں ایک ایسی خبر ہے جو وحی کے بغیر نہیں دی جا سکتی ایسی خبر کو"""موقوف فی حکم الرفع""" کہا جاتا ہے،
اللہ تبارک و تعالیٰ کا فرمان  شریف ہے ((((( وَالَّذِينَ لا يَشْهَدُونَ الزُّ ورَ وَإِذَا مَرُّوا بِاللَّغْوِ مَرُّوا كِرَاماً ::: اور وہ جو بے کار کاموں کی طرف نہیں دیکھتے اور اگر فضول کاموں والی جگہوں سے گذر ہو تو عزت کے ساتھ گذر جاتے ہیں ))))) سُورت الفُرقان/آیت72، اِس فرمان مُبارک کی تفیسر اگر آپ تفیسر ابن کثیر میں ہی دیکھ لیجیے تو آپ کو صحابہ رضی اللہ عنہم اور تابعین رحمہم اللہ کی طرف سے """ الزُّ   ور """ کی تفیسر """ کافروں کے تہوار """ بھی ملے گی ،
پس اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم اور صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین کے مذکورہ بالا فرامین کی روشنی میں  ، کافروں سے دوستی ، اُن کے تہواروں میں کِسی قسم کی شمولیت ناجائز کام ہیں ،
یہ معاملہ بھی بہت اچھی طرح سے ذہن و قلب میں جما رکھنے والا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنا کلام نازل فرماتے وقت ، اپنے رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی حدیث مُبارکہ صادر فرماتے وقت یقیناً خوب جانتا تھا کہ قیامت تک میرے مُسلمانوں نے کہاں کہاں اور کیسے کیسے اور کس کس کے ساتھ رہنا ہے ، پس ہمیں اپنے زندگی کے معاملات اور خاص طور پر عقیدے سے متعلق معاملات  مختلف علاقوں کے حالات و عادات اور مختلف لوگوں کی سوچ و فِکر کے مُطابق نہیں سمجھنے ، کہ جی وہ اُس وقت کی باتیں تھی ، اب حالات مختلف ہیں ، ضروریات مختلف ہیں ، مجبوریاں ہیں ، وغیرہ وغیرہ ،
لہذا یہ بات بھی خُوب یاد رکھنے کی ہے کہ شریعت کے احکام مختلف علاقوں کی عادات اور مختلف لوگوں کی مُعاشرتی دلچپیوں یا لگاؤ  ، یا مجبوریوں سے أخذ نہیں کیے جا سکتے ، بلکہ اللہ اور اُس کے رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے احکامات سے ، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی سُنّت مُبارکہ سے اخذ کیے جاتے ہیں ، اور وہ بھی صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین کی جماعت کے اقوال و افعال کے مُطابق نہ کہ ہر کس و ناکس اپنی اپنی سوچ و فِکر کی بنا پر ایسا کرنے کا اہل ہے ،
اِس موضوع پر اور بھی کافی بات کی جاسکتی ہے لیکن اُمید کرتا ہوں کہ اِن شاء اللہ اتنی ہی کافی رہے گی ،
وَاللَّهُ يَهْدِي مَنْ يَشَاءُ ،،،،، وَمَا عَلَيْنَا إِلَّا الْبَلَاغُ الْمُبِينُ ،،،،،  والسلام علیکم۔
تاریخ کتابت : 28/01/1433 ہجری ، بمطابق ، 23/12/2011عیسوئی،
تاریخ تجدید : 22/03/1438 ہجری ، بمطابق ، 21/11/2016عیسوئی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مضمون کا برقی نسخہ درج ذیل ربط پر مُیسر ہے :
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Tuesday, December 6, 2016

::::::: نیک ساتھی اِصلاح نفس کا، اور خیر کا ذریعہ ہوتے ہیں :::::::


::::::: نیک ساتھی اِصلاح نفس کا، اور خیر کا  ذریعہ ہوتے  ہیں :::::::
بِسمِ اللَّہِ الرِّحمٰنِ الرِّحیم
الحَمدُ لِلّہِ وَحدہُ الذی لا اِلہَ اِلاَّ ھُو ،  و لا أصدق مِنہ ُ قِیلا ،  و الَّذی أَرسلَ رَسولہُ بالھُدیٰ و تبیّن مَا ارادَ ، و الصَّلاۃُ و السَّلام عَلیَ مُحمدٍ عبد اللَّہ و رسولِ اللَّہ ، الَّذی لَم یَنطِق عَن الھَویٰ و الَّذی أمانۃ ربہِ قد اَدیٰ ،
شروع اللہ کے نام سے جو بہت ہی مہربان اور بہت رحم کرنے والا ہے ،
سچی اور خالص تعریف کا حق دار اللہ ہی ہے ، جِس کے عِلاوہ کوئی بھی اور سچا اور حقیقی معبود نہیں ، اور جِس سے بڑھ کر سچ کہنے والا کوئی نہیں ، اور جِس نے اپنے رسول کو ہدایت کے ساتھ بھیجا اور وہ سب کچھ واضح فرما دیا جِسے واضح کرنے کا اللہ نے ارداہ کیا ، اور سلامتی ہو اللہ کے بندے اور اللہ کے رسول محمد(صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم ) پر ، جو کہ اپنی خواہش کے مُطابق نہیں بات نہیں فرماتے تھے  ، اور جنہوں نے اپنے رب کی امانت مکمل طو رپر  دی،
السلامُ علیکُم و رحمۃُ اللہ و برکاتہُ ،
اِنسان کی شخصیت پر، اور ، اُس کی شخصیت  میں،  برے اور اچھے ساتھیوں کااثر کچھ اِس قدر زیادہ ہوتا ہے کہ ایک وقت آتا کہ اِنسان بالکل اپنے ساتھیوں جیسا ہی ہو کر رہ جاتا ہے ،
علوم ء نفسیات کے ماہرین اِس أہم نکتے پر بہت کچھ کہتے رہے ہیں اور کہتے رہتے ہیں ، لیکن حق یہ ہے کہ اِنسانی نفسیات کے بارے میں اِس عظیم حقیقت کی اِطلاع سب سے پہلے اِس اِنسان  کے اکیلے اور لا شریک خالق و مالک نے خود  اپنے کلام مُبارک میں عِنایت فرمائی ،
 پس اِرشاد فرمایا ﴿ وَاصْبِرْ نَفْسَكَ مَعَ الَّذِينَ يَدْعُونَ رَبَّهُمْ بِالْغَدَاةِ وَالْعَشِيِّ يُرِيدُونَ وَجْهَهُ وَلَا تَعْدُ عَيْنَاكَ عَنْهُمْ تُرِيدُ زِينَةَ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَلَا تُطِعْ مَنْ أَغْفَلْنَا قَلْبَهُ عَنْ ذِكْرِنَا وَاتَّبَعَ هَوَاهُ وَكَانَ أَمْرُهُ فُرُطًا:::اور(اے محمد)اپنے آپ کو اُن لوگوں کے ساتھ رہنے پر صبر کروایے جو صُبح و شام اپنے رب کو پکارتے ہیں(یعنی صحابہ رضی اللہ عنہم )وہ لوگ اپنے رب کی رضا چاہتے ہیں اور آپ اپنی آنکھیں اُن لوگوں کی طرف سے پھیریے نہیں ،)ایسا کرنے سے کہیں  ) آپ دُنیا کی زندگی کی سجاوٹ کے طلبگار نہ ہو جائیں ، اور آپ کِسی ایسے کی اِطاعت مت کیجیے گا جِس کے دِل کو ہم نے ہمارے ذِکر سے غافل کر دیا ہے اور وہ اپنی خواہشوں کا پیروکار (ہو گیا)ہے اور اُس کا معاملہ (خسارے اور تباہی میں ) بہت آگے بڑھ چکا ہے   ﴾ سورت الکھف(18)/آیت28،
  اور اِس کے عِلاوہ  اپنی ذات پاک کے بعد ، اپنی تمام تر  مخلوق میں سے سب سے زیادہ  پاکیزہ اور سچی ہستی، انپے خلیل اور رسول  محمد رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم  کی ز ُبان مُبارک سے بھی یہ حقیقت بیان کروائی ،
پس خلیل اللہ و رسول اللہ محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے نے ایک بہت ہی دل پذیر اور انتہائی عام فہم انداز میں ، بہترین مِثال دیتے ہوئے اِرشاد فرمایا  ﴿  مَثَلُ الْجَلِيسِ الصَّالِحِ وَالسَّوْءِ كَحَامِلِ الْمِسْكِ وَنَافِخِ الْكِيرِ ، فَحَامِلُ الْمِسْكِ إِمَّا أَنْ يُحْذِيَكَ ، وَإِمَّا أَنْ تَبْتَاعَ مِنْهُ ، وَإِمَّا أَنْ تَجِدَ مِنْهُ رِيحًا طَيِّبَةً ، وَنَافِخُ الْكِيرِ إِمَّا أَنْ يُحْرِقَ ثِيَابَكَ ، وَإِمَّا أَنْ تَجِدَ رِيحًا خَبِيثَةً::: اچھے ساتھی ، اور بُرے ساتھی کی مثال اِس طرح ہے جیسے کہ خُوشبو بیچنے والا ، اور بھٹی جھونکنے والا ، کہ خُوشبُو بیچنے والا یا تو تُمہیں خُوشبُو دے گا  ،یا تُم اِس سے خُوشبُو خریدو گے (اور خود کو معطر کرو گے )اور یا اِس سے خُوشبُو (میں سے کچھ نہ کچھ )پا لو گے ، اور بھٹی جھونکنے والا یا تو تُمہارے کپڑے جلائے گا ، یا تُم اِس سے بُری بُو پا لو گے ﴾صحیح البخاری/حدیث 5534/کتاب الذبائح/باب30، صحیح مُسلم/حدیث6860/ کتاب البر و الصلۃ و الادب/باب45،
اِس حدیث شریف میں یہ تعلیم فرمائی گئی کہ اگر اپنے ظاہر و باطن کی اِصلاح چاہیے ، اپنے نفس کی خیر میں مددگاری چاہیے تو نیکو کار لوگوں کو اپنے ساتھی بناؤ ، برے لوگوں کا ساتھ برائی کا ہی سبب بنے گا ، حتیٰ کہ اپنے دِین تک سے بھی ہاتھ دھو بیھٹو گے ، اور اپنے ساتھیوں ، دوستوں ، ہم مجلس لوگوں کے دِین پر ہو جاؤ گے ،
اور اِس عظیم حقیقت کا اظہار بھی اللہ  تبارک و تعالیٰ نے اپنے نبی محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی ز ُبان مُبارک سے کروایا کہ ﴿الرَّجُلُ عَلَى دِينِ خَلِيلِهِ فَلْيَنْظُرْ أَحَدُكُمْ مَنْ يُخَالِلُ:::اِنسان اپنے دوست کے دِین پر ہی ہوجاتا ہے لہذا تُم میں سے ہر کوئی دیکھ لے کہ وہ کس کے ساتھ دوستی رکھتا ہے﴾سُنن ابو داؤد /حدیث4835/کتاب الأدب/باب19، سُنن الترمذی /حدیث 2552/کتاب الزُھد/باب45،اِمام الالبانی رحمہُ اللہ نے """ حَسن """ قرار دِیا ،
اِس دوستی ، ساتھ اور قلبی میلان وغیرہ کے اثر کی ایک عام صُورت یہ دِکھائی دیتی ہے کہ ایسا متاثر شدہ شخص  اپنے دِین کا نام تو لیتا ہے ، خود کو اِس سے منسُوب تو رکھتا ہے لیکن اِس کے عمل میں اپنے دِین کوئی نسبت سچی نظر نہیں آتی ،
 اِس کے عمل اِس کےدِین سے منسُوب ہونے کے دعوے کی سچائی کی  گواہی نہیں بن پاتے ،اور کچھ تو اپنے ساتھیوں ، دوستوں اور ہم مجلس لوگوں سے اِس قدر متاثر ہو چکے ہوتے ہیں کہ  اپنے دِین کے عِلاوہ والوں کے اقوال و افعال کو بھی اپنے دِین کے مُطابق بتانے سمجھانے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں ، خواہ اِس کے لیے اُنہیں اپنے دِین کی اِساِسیات میں خوب لفظی یا معنوی تحریف ہی کرنا پڑے ، اور اپنے دِین کی نصوص کی باطل تأویالت ہی کرنا پڑیں ، اور معاذ اللہ بسا اوقات تو ایسے لوگ بھی دِکھائی دیتے ہیں جو  بالکل ہی دِین سے برأت والا رویہ اپنا لیتے ہیں ،
پس ہم سب کو ہی  اللہ ، اور اِس کے رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے فرامین کی روشنی میں ، اِنسانی زندگی کے مُشاہدے کے عین مُطابق ، اِنسانی نفسیات کے اِس أہم ترین مسئلے کو خوب اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے  کہ ہ جِس قِسم کے ساتھی ، دوست ، ہم محفل وہم مجلس لوگ اپنائیں گے ، ایک وقت آئے گا کہ ہم بھی اُنہی جیسے ہو جائیں گے ،
جی ہاں یہ حقیقت نا قابل اِنکار ہے کہ اگر کِسی کے ساتھی سچے اور نیکو کار نہ ہوں تو وہ کبھی بھی اِسے کِسی اچھائی کی طرف چلنے کا مشورہ نہیں دیں گے ، بلکہ اُن کا ھدف صِرف اور صِرف اپنی اور اپنے ساتھی کی مُشکلات کو کِسی بھی طرح ختم کرنا یا اپنی خواھشات کو کِسی بھی طرح پورا کرنا ہوتا ہے ، حلال و حرام یا  برا اور اچھا ،اُن کے ہاں کچھ معنی نہیں رکھتا ،
لہذاہم دیکھتے ہیں کہ ایسے لوگ اپنے کاموں ، اپنے فیصلوں ، اپنی سوچوں ، اپنے فہم و عقل کی غلطی کبھی بھی تسلیم نہیں کرتے ، اور ہر حال میں خود کو ٹھیک ہی مانتے ہیں یہاں تک کہ دُنیا میں فتنے و فساد کا سبب بنتے ہیں اور خُود کو اور اپنے ساتھیوں کو بلا شک و شبہ جہنم میں لے جانے والے ہی  ہوتے ہیں ،
جب کوئی اِنسان اپنے بارے میں اِس قسم کی حماقت انگیز، تباہ کُن غلط فہمی کا شکار ہو جائے کہ وہ ہمیشہ دُرست ہوتا ہے اور اِس میں کوئی کمی نہیں تو وہ شخص بلا شک و شبہ دُنیا اور آخرت کی تباہی کا سبب ہوتا ،
ہمیں اِس حقیقت سے اِنکار کی مجال نہیں کہ اللہ کی مخلوق میں کوئی بھی ایسا نہیں جِس پر اِس کی جِنس کے مُطابق فطری کمزوریاں وارد نہ ہوتی ہوں ،
کِسی اور کی تو بات ہی کیا کی جائے اللہ تبارک و تعالیٰ کی مخلوق میں سے سب سے زیادہ بُلندرتبے ، اور سب سے زیادہ مکمل  ترین اوصاف والے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے اپنے بارے میں اِرشاد فرمایا ﴿  إِنَّهُ لَوْ حَدَثَ فِى الصَّلاَةِ شَىْءٌ لَنَبَّأْتُكُمْ بِهِ ، وَلَكِنْ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِثْلُكُمْ ، أَنْسَى كَمَا تَنْسَوْنَ ، فَإِذَا نَسِيتُ فَذَكِّرُونِى ، وَإِذَا شَكَّ أَحَدُكُمْ فِى صَلاَتِهِ فَلْيَتَحَرَّى الصَّوَابَ ، فَلْيُتِمَّ عَلَيْهِ ثُمَّ يُسَلِّمْ ، ثُمَّ يَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ:::اگر نماز میں کچھ (تبدیلی ، کمی یا زیادتی )ہو تو میں تُم لوگوں کو بتاؤں گا ، لیکن بے شک میں تُم لوگوں کی طرح ایک اِنسان ہوں ، جِس طرح تُم لوگ بُھولتے ہو میں بھی بُھول جاتا ہوں ، لہذا اگر میں بُھول جاؤں تو مجھے یاد کروا دیا کرو ، اور اگر تُم لوگوں میں سے کوئی اپنی نماز (میں کِسی کمی یا بیشی ) کے بارے میں شک میں پڑے تو ٹھیک معاملے کے بارے میں یاد کرنے کی کوشش کرے ، پھر(اُسکے مُطابق ) نماز مکمل کرے ، پھر سلام پھیر لے ، پھر دو سجدےکرے ﴾ صحیح البخاری /حدیث401 /کتاب الصلاۃ   /باب31، صحیح مُسلم /حدیث1302/کتاب المساجد/باب20،  
پس ہر اِنسان کو اپنی اور دُوسروں میں موجود کمیوں اور غلطیوں کی پہچان ہونی چاہیے ، اور اُنہیں تسلیم کرتے ہوئے اُن کی اصلاح کی ہمت رکھنی چاہیے ،اور اپنے نفس کی خیر کے لیے ، اپنی دُنیا اور آخرت کے معاملات میں اچھائی ، نیکی ، اور دائمی فوائد کے حصول میں مددگاری کے لیے ایسے اِنسانوں کو اپنا ساتھی اور دوست اپنانا چاہیے جن میں یہ صلاحیت موجود ہو ، کہ وہ اپنی کمیوں اور غلطیوں کی پہچان رکھتے ہوں ، اپنے دوستوں کی کمیوں اور غلطیوں کی پہچان رکھتے ہوں اور کِسی منفی طریقے کو اپنائے بغیر ، کِسی فساد کا سبب بنے  بغیر اُن کی اصلاح کرنے اور کروانے والے ہوں ،  
یقین جانیے کہ ایسے نیک اوردُرست  عقل رکھنے والے ساتھی ہم سب  کے دِین ،دُنیا اور آخرت کی کامیابی کا ایک بڑا سبب ہیں ، خاص طور پر ایسے لوگ جنہیں اللہ تعالیٰ نے مُسلمانوں ، اور اِنسانوں کے  رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے اِرشاد فرمایا ہے ﴿  إِذَا أَرَادَ اللَّهُ بِالأَمِيرِ خَيْرًا جَعَلَ لَهُ وَزِيرَ صِدْقٍ إِنْ نَسِىَ ذَكَّرَهُ وَإِنْ ذَكَرَ أَعَانَهُ وَإِذَا أَرَادَ اللَّهُ بِهِ غَيْرَ ذَلِكَ جَعَلَ لَهُ وَزِيرَ سُوءٍ إِنْ نَسِىَ لَمْ يُذَكِّرْهُ وَإِنْ ذَكَرَ لَمْ يُعِنْهُ::: جب اللہ  کِسی حاکم کے ساتھ خیر کا اِرادہ فرماتا ہے تو اُس کے لیےنیکو کار سچا نیکی پر مدد کرنے والا وزیر مہیا کر دیتا ہے ، کہ اگر حاکم (خیر کا )کوئی کام یا بات بُھول جائے تووزیر اُسے یاد کروا دے ، اور اگر حاکم کو یاد ہو تو وزیروہ  کام کرنے میں اُس کی مدد کرے ، اور اگر  اللہ حاکم کے ساتھ اُس کے عِلاوہ معاملے کا اِرادہ فرماتا ہے تو اُسکے لیے بُرا وزیر مہیا کر دیتا ہے جو حاکم کو(خیر کا )کوئی کام یا بات بُھولنے کی صُورت میں یاد نہیں کرواتا ، اور اگر حاکم کو یاد ہو تو وہ  کام کرنے میں اُسکی مدد نہیں کرتا ﴾سُنن ابو داؤد/حدیث2934 /کتاب الخراج/باب4،اِمام الالبانی رحمہُ اللہ نے "صحیح " قرار دِیا ، صحیح ابن حبان /حدیث4494،
خیال رہے کہ یہ معاملہ صرف مُسلمانوں کے درمیان کا ہے ، جیسا کہ مُسند احمد کی روایت میں وضاحت سے بیان ہے کہ ﴿  مَنْ وَلاَّهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ أَمْرِ الْمُسْلِمِينَ شَيْئاً فَأَرَادَ بِهِ خَيْرًا جَعَلَ لَهُ وَزِيرَ صِدْقٍ فَإِنْ نَسِىَ ذَكَّرَهُ وَإِنْ ذَكَرَ أَعَانَهُ ::: جِسے اللہ عز و جَلَّ  مُسلمانوں کے معاملات میں سے کِسی معاملے میں حاکم بناتا ہے  اور اُس حاکم کے ساتھ خیر کا اِرادہ فرماتا ہے تو اُس کے لیےنیکو کار سچا نیکی پر مدد کرنے والا وزیر مہیا کر دیتا ہے ، کہ اگر حاکم (خیر کا )کوئی کام یا بات بُھول جائے تووزیر اُسے یاد کروا دے ، اور اگر حاکم کو یاد ہو تو وزیروہ  کام کرنے میں اُس کی مدد کرے﴾مُسند احمد/حدیث25147 ،
اِس حدیث شریف میں  حاکم اور وزیر کی مثال سے یہ نہیں سمجھا جانا چاہیے کہ یہ معاملہ صرف حاکموں اور اُن کے وزیروں تک محدود ہے ، بلکہ یہ معاملہ ہر دو ایسے اشخاص کا ہے جِن میں سے ایک وہ ہوتا ہے جو  براہ راِست کوئی کام کرنے یا کروانے کا ذمہ دار ہوتا ہے اور دُوسرا وہ جو اُس کا ساتھی اور اُس کو مشورہ دینے والا ہوتا ہے ، پس اگر ساتھی اچھا ہو گا تو اپنے ساتھی کو خیر کے کام کرگذرنے میں کوتاہی نہیں کرنے دے گا ، اور اگر ساتھی بُرا ہو گا تو اپنے ساتھی کو نیکی کی راہ پر نہیں چلنے دے گا بلکہ کِسی نیکی یا  اچھائی کا مشورہ تک بھی نہ دے گا،
اچھے ساتھی اپنے ساتھیوں ، دوستوں ، اور ہم محفل و ہم مجلس لوگوں کو نیکی اور اچھائی کی طرف ہی بلاتے ہیں اور ہر ایسے کام سے اچھے طریقے سے روکتے ہیں جو کام دِینی ، دُنیاوی اور بالخصوص اُخروی طور پر کِسی نُقصان والا ہو ،
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے دُوسرے بلا فصل خلیفہ أمیر المؤمنین عُمر الفاروق رضی اللہ عنہ ُ جِن کے بارے میں ساری تاریخ اِنسان یہ گواہی دیتی ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے بعد سب سے زیادہ انصاف کرنے والے تھے ، اُن کے بارے میں عبداللہ ابن عباِس رضی اللہ عنہ ُ     کا کہنا ہے کہ :::
""" اُن کے مُشیروں  میں قران کے قاری حضرات ہوا کرتے تھے ، خواہ بڑی عُمر کے ہوں یا نوجوان """،
اور انہی میں سے ایک حُر بن قیس  رحمہُ اللہ بھی تھے ، ایک دفعہ حُر بن قیس کے ایک چچا عُیینہ بن حصن نے حُر سے کہا کہ """ اِس حاکم کے پاِس تمہاری قدر و منزلت ہے مجھے اِن سے ملواؤ """،
حُر انہیں لے کر أمیر المؤمنین کی خدمت میں پہنچے تو اُن کے چچا نے کہا """ اے أمیر تُم ہمیں بہت زیادہ مال نہیں دیتے ، اور نہ ہی ہمارے ساتھ انصاف کرتے ہو """،
یہ سُن کر أمیر المؤمنین رضی اللہ عنہ ُ  غصے میں آگئے، تو حُر نے کہا """ اے أمیر المؤمنین ، اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی (صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم ) کو کہا ہے کہ  ﴿ خُذِ الْعَفْوَ وَأْمُرْ بِالْعُرْفِ وَأَعْرِضْ عَنِ الْجَاهِلِينَ::: درگذر والا معاملہ اپناؤ اور اچھائی اور نیکی والا حکم کرو اور جاھلوں سے رُو گرادنی  کرو ﴾ اور یہ (میرا چچا ) جاھل ہے """ ،
اللہ کی قسم جب حُر نے أمیر المؤمنین کو یہ آیت سنائی تو أمیر المؤمنین رضی اللہ عنہ ُ نے اِس آیت سے تجاوز نہیں کیا ، اور وہ اللہ کی کتاب (کے احکام ) پر پوری طرح سے عمل کرنے والے تھے """ صحیح البخاری /حدیث7286/کتاب الاعتصام بالکتاب /باب2رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی سُنّت کی پیروی کرنے کا بیان ،
دیکھیے ، اچھے ساتھی ، اور ہم مجلس کا فعل ،کہ فوراً کِسی ہچکچاہٹ ے بغیر اور بہترین طور پر نیکی کی راہ دِکھائی ، اور کِسی غلطی ، زیادتی ، یا گناہ کے سر زد ہونے سے اپنے ساتھی کو بچانے کا سبب ہوا،
اِس طرح کی مثالیں ہمیں اپنی تاریخ میں ، اور اپنے اِرد گِرد بھی بہت ملتی ہیں ، پس ہماری اِس ساری گفتگو کا حاصل یہ ہوا کہ اگر ہم اپنے نفوس کی خیر ، اور اصلاح چاہتے ہیں ، اور اپنی دِینی ، دُنیاوی اور اُخروی کامیابی چاہتے ہیں تو ہمیں اپنے لیے سچے اِیمان والے ، نیکو کار ، اوردُرست عقل والے ساتھی ، دوست، اور ہم مجلس اپنانے چاہیں ۔
، و السلام علیکم۔ طلب گارء دُعاء ، عادِل سُہیل ظفر۔
تاریخ کتابت : 12/10/1429 ہجری ، بمُطابق ، 13/10/2008عیسوئی،
تاریخ تجدید : 26/02/1438 ہجری ، بمُطابق ، 26/11/2016عیسوئی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مضمون کا برقی نُسخہ درج ذیل ربط پر مُسیر ہے :
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔