Thursday, July 27, 2017

:::::: مُنافق اور مُنافقت کی نشانیاں، نجات کا طریقہ::::::


:::::: مُنافق اور مُنافقت کی نشانیاں، نجات کا طریقہ::::::
أَعُوذُ بِاللَّهِ السَّمِيعِ الْعَلِيمِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ مِنْ هَمْزِهِ وَنَفْخِهِ وَنَفْثِهِ
بِسمِ اللَّہ ،و السَّلامُ عَلیَ مَن اتبع َالھُدیٰ و سَلکَ عَلیَ مَسلکِ النَّبیِّ الھُدیٰ مُحمدٍ صَلی اللہُ علیہِ وعَلیَ آلہِ وسلَّمَ و قَد خَابَ مَن یُشقاقِ الرَّسُولَ بَعدَ أَن تَبینَ لہُ الھُدیٰ ، و اتبِعَ ھَواء نفسہُ فوقعَ فی ضَلالاٍ بعیدا۔
میں  شیطان مردُود(یعنی اللہ کی رحمت سے دُھتکارے ہوئے)کے ڈالے ہوئے جنون،اور اُس کے دیے ہوئے تکبر، اور اُس کے (خیالات و افکار پر مبنی)اشعار سے، سب کچھ سننے والے ، اور سب کچھ کا عِلم رکھنے والے اللہ کی پناہ طلب کرتا ہوں،
شروع اللہ کے نام سے ، اورسلامتی ہو اُس شخص  پر جس نے ہدایت کی پیروی کی ، اور ہدایت لانے والے نبی محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی راہ پر چلا ، اور یقینا وہ شخص تباہ ہوا جس نے رسول کو الگ کیا ، بعد اس کے کہ اُس کے لیے ہدایت واضح کر دی گئ اور(لیکن اُس شخص نے) اپنے نفس  کی خواہشات کی پیروی کی پس بہت دُور کی گمراہی میں جا پڑا ۔
السلامُ علیکُم و رحمۃُ اللہ و برکاتہُ ،
مُنافقت  کا معنی    ٰ ہے اپنے قول او رعمل سے وہ کچھ ظاھر کرنا جو دِل میں موجود عقائد و عزائم کے خِلاف ہو ،
اور اِسلام میں منافقت کا مفہوم ، دِل میں کفر ، شرک اور گناہوں کا اقرار اور عمل کے وجود کے ساتھ ، اپنے آپ کو قولی اور عملی طور پر   اِیمان  والا ،  اللہ کی توحید کو ماننے والا، اور گناہوں سے دُور رہنےو الا ظاہر کرنا ،
 اللہ تعالیٰ نے جہنم کا  سب سے نچلا   درجہ ،  منافقین ، یعنی ، منافقت کرنے والوں  کا ٹھکانہ   مقرر فرما رکھا ہے (((إِنَّ الْمُنَافِقِينَ فِي الدَّرْكِ الْأَسْفَلِ مِنَ النَّارِ ::: یقیناً منافقین جہنم کے سب سے نچلے درجے میں ہوں گے  ))) سُورت النِساء (4)/آیت145 ،  
خواہ یہ منافق ، نفاق ء اکبر  (بڑی مُنافقت ) پر عمل کرنے والے ہوں ، یا نفاقء اصغر(چھوٹی مُنافقت ) پر، اعتقادی نفاق والے ہوں یا عملی مُنافقت والے ، سب کا ٹھکانہ وہی ہے ،
منافقت کی کچھ  خصوصیات ایسی بھی ہیں جنہیں اکثر لوگ محض نفسیاتی ، یا شخصی عادات سمجھتے ہیں ، جب کہ اللہ  تعالیٰ کے ہاں وہ منافقت والے کام ہیں ، اور اُن کاموں کو کرنے والے ، اُن صِفات کے حامل لوگ مُنافق ہیں ،
اللہ تعالیٰ نے  ہمارے لیے اُس کی شفقت و رحمت کے حصول کے اسباب میں سے ایک سبب  یہ بھی عطاء فرمایا ہے کہ اللہ پاک نے اُس کے رسول کریم محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی ز ُبان مُبارک سے  ہمیں اُس کے ہاں مُنافقت قرار پائے جانے والے کاموں کی خبر عطاء فرمادی ، اُس کے ہاں مُنافق قرار پائے جانے والوں کی صِفات کی پہچان عطاء فرما دی ،
آیے مُنافقت اور مُنافقت کی اُن نشانیوں کو جانتے ہیں  ،
::: (1) ::: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے اِرشاد فرمایا (((أَرْبَعٌ مَنْ كُنَّ فِيهِ كَانَ مُنَافِقًا خَالِصًا، وَمَنْ كَانَتْ فِيهِ خَصْلَةٌ مِنْهُنَّ كَانَتْ فِيهِ خَصْلَةٌ مِنَ النِّفَاقِ حَتَّى يَدَعَهَا: إِذَا اؤْتُمِنَ خَانَ، وَإِذَا حَدَّثَ كَذَبَ، وَإِذَا عَاهَدَ غَدَرَ، وَإِذَا خَاصَمَ فَجَرَ ::: جِس میں(یہ)چار (خَصلتیں،صِفات، نشانیاں) ہوں وہ خالص مُنافق ہے ، اور جِس میں اِن میں سے کوئی ایک خصلت ہو تو اُس میں نِفاق کی خَصلت ہے یہاں تک کہ وہ اُسے چھوڑ دے ، (1) جب اُس کے پاس اَمانت رکھوائی جائے تو وہ اُس میں خیانت کرے (2)جب بات کرے تو جھوٹ بولے (3)جب وعدہ کرے تو وعدہ خِلافی کرے(4)جب جھگڑا کرے تو پھٹ پڑے(یعنی بے حیائی پر اتر آئے))))متفقٌ علیہ،
::: (2) :::  اور اِرشاد فرمایا(((ثَلَاثٌ مَنْ كُنَّ فِيهِ فَهُوَ مُنَافِقٌ، وَإِنْ صَامَ وَصَلَّى وَ حَجَ وَ أعتمَرَ وَقَالَ إني مُسْلِمٌ: مَنْ إِذَا حَدَّثَ كَذَبَ، وَإِذَا وَعَدَ أَخْلَفَ، وَإِذَا اؤْتُمِنَ خَانَ:::جس میں تین (خَصلتیں،صِفات، نشانیاں)ہوں (تو)وہ مُنافق ہے خواہ  وہ نماز (بھی)پڑھتا ہو،اور روزہ(بھی) رکھتا ہو،اورحج(بھی) کرتا ہو،اور عمرہ(بھی) کرتا ہواور،(یہ بھی ) کہتا ہو کہ میں مُسلمان ہوں ،(یہ وہ شخص  ہے) جو (1)بات کرے تو جھوٹ بولے (2)وعدہ کرے تو وعدہ خِلافی کرے (3)جب اسے امانت داربنایا جائے تو خیانت کرے)))صحیح الجامع الصغیر /حدیث 3043،
::: (3) :::  اور اِرشاد فرمایا (((إِنَّ الْحَيَاءَ وَالْعَفَافَ وَالْعِيَّ عن اللِّسَانِ لا عِيَّ الْقَلْبِ،وَالْعَمَلَ مِنَ الإِيمَانِ، وَإِنَّهُنَّ يَزِدْنَ فِي الآخِرَةِ،وَيُنْقِصْنَ مِنَ الدُّنْيَا، وَمَا يَزِدْنَ فِي الآخِرَةِ أَكْثَرُ مِمَّا يُنْقِصْنَ فِي الدُّنْيَا ؛ وَإِنَّ الشُّحَّ والفُحشَ وَالْبَذَاءَ مِنَ النِّفَاقِ، وَإِنَّهُنَّ يَزِدْنَ فِي الدُّنْيَا، وَيُنْقِصْنَ مِنَ الآخِرَةِ، وَمَا يُنْقِصْنَ فِي الآخِرَةِ أَكْثَرُ مِمَّا يَزِدْنَ فِي الدُّنْيَا::: بے شک حیاء اورعِفت اور ز ُبان کی کم علمی نہ کہ دِل کی کم علمی، اور (اُس کے مُطابق)عمل اِیمان میں سے ہیں ، اور بے شک یہ سب آخرت (کی خیر)میں اضافہ کرتے ہیں ، اور دُنیا (کے شر)میں کمی کرتے ہیں، اور جو کچھ یہ آخرت میں اضافہ کرتے ہیں وہ دُنیا میں کمی سے زیادہ ہے ، اور بے شک لالچ ، اور بے حیائی،اور بے ہودہ گفتگو نِفاق میں سے ہیں اور یہ سب دُنیا (کے شر)میں اضافہ کرتے ہیں اور آخرت (کی خیر)میں کمی کرتے ہیں اور جو کچھ یہ آخرت (کی خیر)میں سے کم کرتے ہیں وہ اس سے زیادہ ہے جو یہ دُنیا میں سے بڑھاتے ہیں))) سلسلہ الاحادیث الصحیحہ/حدیث3381،
::::::: صحابہ رضی اللہ عنہم وأرضاھُم  أجمعین کے اقوال میں سے  :::::::
::::::: دوسرے بلا فصل خلیفہ أمیر المومنین عمرابن الخطاب رضی اللہ عنہما سےکا کہنا ہے کہ میں نے اپنی انگلیوں کی تعداد سے زیادہ دفعہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ (((إِنَّ أَخْوَفَ مَا أَخَافُ عَلَى هَذِهِ الْأُمَّةِ الْمُنَافِقَ الْعَلِيمَ::: میں اس اُمت پر صاحبء علم منافقوں کے بارے میں بہت ڈر رتا ہوں )))
پوچھا گیا ، منافق صاحبء علم کیسے ہو سکتا ہے ؟
تو أمیر المومنین عمرابن الخطاب رضی اللہ عنہما نےاِرشاد فرمایا (((عَالِمُ اللِّسَانِ، جَاهِلُ الْقَلْبِ وَالْعَملِ ::: ز ُبان کا عِالم لیکن دِل اور عمل سے جاھل )))الاحادیث المختارہ /حدیث 236/ روایۃ عمر ابن الخطاب رضی اللہ عنہ ُ /ابو عثمان عبدالرحمٰن بن مل النھدی عن عمر رضی اللہ عنہ ُ ،
 صاحبء کتاب امام محمد بن عبدالواحد المقدسی کا کہنا ہے کہ اسے مخلتف اسناد سے روایت کیا گیا ہے ، جن میں مرفوع بھی ہیں اور موقوف بھی ہیں اور زیادہ درست یہ ہے کہ یہ موقوف ہے ، یعنی عُمر رضی اللہ عنہ ُ کافرمان ہے ،  
::::::: حذیفہ ابن الیمان رضی اللہ عنہ ُ سے پوچھا گیا کہ """ منافق کون ہے ؟ """
فرمایا """ الَّذِي يَصِفُ الْإِسْلَامَ وَلَا يَعْمَلُ بِهِ::: وہ جو اِسلام کا دعویٰ دار ہو لیکن اُس پر عمل نہ کرتا ہو"""
::::::: عبداللہ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے کہا گیا کہ """ ہم حکمرانوں اور سرداروں  کے پاس جاتے ہیں تو کچھ اور بات (یعنی ان کی تعریف ہی)کرتے ہیں اور جب وہاں سے نکلتے ہیں تو  اس  بات کے خلاف  بات کرتے ہیں """ تو ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا ( ((كُنَّا نَعُدُّهَا نِفَاقًا::: ہم اُسے مُنافقت میں گنا کرتے تھے)))صحیح البخاری /کتاب الاحکام/باب 27،
مختلف الفاظ میں یہ اثر بہت سی کتابوں میں صحیح اسناد کے ساتھ مروی ہے ، مثلاً سُنن ابن ماجہ/حدیث 3975 /کتاب الفتن /باب 12،مسند احمد /حدیث 5829 ، وغیرھا،
مذکورہ بالا احادیث شریفہ ، اور اقوال ء صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین  میں  مُنافق کی درج ذیل نشانیاں بتائی گئی ہیں :::
::: (1)  :::  خیانت ،       ::: (2)  :::  جھوٹ  ،      ::: (3)  :::  عہد شکنی ، وعدہ خِلافی  ،
::: (4)  :::  غداری ،     ::: (5)  :::  غصے کی حالت میں بے قابو ہو کر برائی اور بدکلامی پر اُ  تر آنا  ،
 ::: (6)  :::  لالچ ، ::: (7)  :::  بے حیائی  ،    ::: (8)  ::: بے ہودہ  گفتگو ، فحش  کلامی  ،
::: (9)  ::: بہت اچھی اور عالمانہ باتیں کرنا ، لیکن اُن کی حقیقت نہ جاننا ،
میرے محترم بھائی بہنوں ، اِن مذکورہ بالا  نشانیوں کی روشنی میں ہم سب ذرا اپنے بارے میں سوچیں تو    کہ ہم کونسی سی نشانیاں پائی جاتی ہیں ؟ اور ہمارے اَرد گِرد کس کس میں کیا کیا نشانی پائی جاتی ہے ؟ اور اگر ہمارے اندر اِن میں سے کوئی نشانی ہے تو اُس سے نجات کی کوشش کریں ، اور اپنے  جِس  مُسلمان بھائی بہن میں اِن میں سے کوئی نشانی پائیں اُسے بھی حِکمت اور نرمی کے ساتھ آگاہ کرتے ہوئے اصلاح کی رغبت دلائیں ،
میرے محترم بھائیوں بہنوں ، مُنافقت سے نجات کا طریقہ یہی ہے کہ ہم اگر اپنے اندر منافقت کی صِفات پائیں تو خود سے اُنہیں چھوڑیں ، اپنے آپ کو اُن سے آزاد کروائیں ،  جیسا کہ اوپر ذِکر کی گئی سب سے پہلی حدیث شریف میں بتایا گیا ہے ،
::: مُنافقت سے نجات کا طریقہ   ::: عمومی طور پر اللہ سُبحانہ ُ و تعالیٰ کی معرفت میں اضافہ بری صِفات  سے نجات میں مدد گار ہوتا ہے ، اور ہر  نیکی جو خالصتاً اللہ کی رضا کے حصول کی نیت کی جائے ، ایمان میں اضافے اور تقویت کا سبب ہوتی ہے ، لہذا  اپنے رب اللہ جلّ و عُلا کے معرفت مین اضافہ کیا جانا چاہیے ، لیکن قصے کہانیوں کے ذریعے  نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ اور اُس کے رسول کریم محمد صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی دِی ہوئی خبروں کے ذریعے ، اور حدیث شریف بھی صِرف وہ  مانی اور اپنائی جانی چاہیے جِسے ائمہ کرام نے صحیح قرار دِیا ہو، ہر ایک روایت کو حدیث نہیں ماننا چاہیے ، اور  نیک نیتی کے ساتھ اپنی نیکیوں میں اضافہ کیا جانا چاہیے ،   اللہ تعالیٰ ہم سب کو مُنافقت اور مُنافقین سے محفوظ رکھے،
 و السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ،
 طلب گارء دُعاء ، عادِل سُہیل ظفر ۔
تاریخ کتابت :18/09/1431ہجری، بمُطابق،28/08/2010عیسوئی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مضمون کا برقی نسخہ درج ذیل ربط سے نازل کیا جا سکتا ہے :
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Monday, July 24, 2017

::::::: میانہ روی، اعتدال کیا ہے ؟:::::::


::::::: میانہ روی، اعتدال کیا ہے ؟:::::::
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ
و الصَّلاۃُ والسَّلامُ عَلیٰ رَسولہ ِ الکریم مُحمدٍ و عَلیَ آلہِ وَأصحابہِ وَأزواجِہِ وَ مَن تَبِعَھُم بِاِحسانٍ إِلٰی یَومِ الدِین ، أما بَعد :::
السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ،
 بہت سی اصطلاحات اپنے اصلی مفاہیم سے دُور ہو چکی ہیں ، یا یوں کہیے کہ لوگوں میں اُن کے اصلی مفاہیم ناپید ہو چکے ہیں ، اور اُن کی جگہ مختلف معانی اور مفاہیم لے چکے ، جان بوجھ کر ایسا کیا گیا ہو یا نادانستگی میں ایسا ہوا ہے ، یہ ایک حقیقت ہے کہ ایسا ہو چکا ہے اور مسلسل ہو رہا ہے ،
ایسی اصطلاحات میں سے ایک """ میانہ روی """ ہے ، جسے عربی میں """ الوسطیۃٌ """ کہا جاتا ہے
 لوگوں کے ہاں اب اس کا مفہوم کچھ کا کچھ ہو چکا ہے ،  عموماً  لوگ میانہ روی سے یہ مُراد لیتے ہیں کہ"بُرائی کو بُرائی ، بُرے کو بُرا مت کہیے ، بس خود اچھائی کیے جایے "،
جب کہ  ہمیں ہمارے اور ساری ہی مخلوق کے اکیلے خالق و مالک اللہ جلّ شانہ ُ نے اپنے دِین حق  اِسلام میں  یہ میانہ روی  سِکھائی ہے کہ  :::
  """ اِنسان اپنے معاملات میں ، خواہ وہ دِینی ہوں یا دُنیاوی ، اُن میں غُلو نہ کرے ،
 یعنی اللہ عزَّ و جلَّ  کی مقرر کردہ حُدود سے نہ تو کِسی طور  تجاوز نہ کیا جائے ،  اور نہ ہی اللہ سُبحانہ ُ و تعالیٰ کی مقرر کردہ حُدود میں کِسی انداز میں کوئی  کمی نہ کی جائے  ،
 اور یہ ہے کہ نبی اللہ  محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی سیرت مُبارکہ پر  بھی اِسی طرح کِسی زیادتی یا کمی کے بغیر مضبوطی سے عمل پیرا رہا جائے ،
مثا ل کے طور پر ، کوئی شخص یہ کہے کہ چونکہ نماز سے عِبادات میں سے اِفضل عِبادت ہے لہذا میں چاہتا ہوں کہ میں ساری رات جاگ کر نماز پڑھا کروں ،  لہذا میرا اِرادہ ہے کہ میں ساری رات جاگا کروں اور کبھی نہ سویا کروں ،  تو ایسے شخص کے بارے میں ہم کہیں گے کہ یہ شخص غالٍ ہے ،  یعنی ،  دِین میں غُلو (زیادتی ، حدود سے تجاوز )کرنے والا ہے اور راہِ حق پر نہیں ہے ،
 اِس بات کو اِس واقعہ سے سمجھیے کہ  ایک دفعہ تین صحابہ رضی اللہ عنہم اِیمان والوں کی ماؤں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی پاکیزہ بیویوں کی خدمت میں  حاضر ہوئے ، اور اُن ایک نے کہا """ میں ہمیشہ (ہر رات )جاگا کروں گا اور سویا نہیں کروں گا """ ،
دُوسرے  نے کہا """میں ہمیشہ (ہر دِن) روزہ رکھا کروں گا اور کبھی بغیر روزے کے  نہیں رہوں گا """،
تِیسرے  نے کہا """ میں شادی نہیں کروں گا """،
رسول  اللہ صلی علیہ وعلی آلہ وسلم تک یہ بات پہنچی تو اِرشاد فرمایا (((أَنْتُمْ الَّذِينَ قُلْتُمْ كَذَا وَكَذَا أَمَا والله إني لَأَخْشَاكُمْ لِلَّهِ وَأَتْقَاكُمْ له لَكِنِّي أَصُومُ وَأُفْطِرُ وَأُصَلِّي وَأَرْقُدُ وَأَتَزَوَّجُ النِّسَاءَ فَمَنْ رَغِبَ عن سُنَّتِي فَلَيْسَ مِنِّي:::  تُم لوگ یہ یہ باتیں کرتے ہو اور میں تُم لوگوں میں سے سب سے زیادہ اللہ سے ڈرنے والا اور اللہ (کی ناراضگی اور عذاب )سے بچنے (کے لیے محنت کرنے )والا  ہوں ، اور لیکن میں(کبھی )روزہ رکھتا  بھی ہوں    اور (کبھی)  نہیں بھی رکھتا ،  اور (راتوں میں ) نماز بھی پڑھتا ہوں اور سوتا بھی ہوں ، اور شادیاں بھی کرتا ہوں لہذا جِس نے میری سُنّت سے مُنہ پھیرا وہ مجھ میں سے نہیں )))صحیح البُخاری /حدیث4776 /کتاب النکاح /باب 1، صحیح مُسلم  /حدیث1401 /کتاب النکاح /باب1 ،
اِن تینوں نے دِین میں غُلو(کے اِرادے  ظاہر کر کے قولی طور پر غُلو )کیا تو رسول  اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے (اُن لوگوں سے ناراضگی کا اِظہار فرماتے ہوئے)ایسا کرنے والوں  سے اپنی برأت کا اعلان فرمایا ، کیونکہ اُنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی سُنّت مُبارکہ سے مُنہ پھیرا  جس میں (نفلی) روزہ رکھنا اور نہ رکھنا ، (نفلی)نماز کے لیے رات میں جاگنا اور سونا،اور عورتوں سے شادی کرنا سب ہی کچھ شامل  ہے،
:::   مُلاحظہ :::گو کہ اُنہوں نے  یہ اِرادے اپنی   عِبادات کی تعداد میں إضافہ کرنے کے لیے ، اپنے لیے زیادہ نیکیاں کمانے کے لیے کیے تھے  لیکن پھر بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے اُن کی باتوں کو ناپسند فرماتے ہوئے اُن باتوں پر عمل کرنے کی صُورت میں شدید نقصان اور ناکامی کی خبر دی  ،
یعنی اُن سے اپنی براءت کا اظہار فرمایا [[[ اِس موضوع کو مکمل طور پر سمجھنے کے لیے میری کتاب "وہ ہم میں سے نہیں" کا مطالعہ فرمایے ، یہ کتاب درج ذیل ربط پر مُیسر ہے :     http://bit.ly/1JgaCOH     ]]]
رہا معاملہ تقصیر (یعنی کمی ) کرنے والوں کا تو وہ ایسے لوگ ہیں جو(کچھ اِس طرح ) کہتے ہیں کہ""" ہمیں نفلی عبادات اور نیکیوں کی ضرورت نہیں  لہذا ہم تو صرف فرض پورے کرتے ہیں""" اور عین ممکن ہے کہ ایسا کہنے والے فرائض بھی پوری طرح سے ادا نہ کرتے ہوں ،
اور معتدل (یعنی میانہ رو ) وہ شخص ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم اور اُن کے خُلفاء راشدین رضی اللہ عنہم اجمعین کی راہ پر چلتا ہے ،
:::دوسری  مِثال ::: تین آدمیوں کا سردار ایک  فاسق شخص   ہو ،
ایک آدمی کہے  ، میں تو اِس فاسق کو سلام تک بھی نہ کروں گا ،اور نہ ہی اس بات کروں گا،اور اسے چھوڑ کر دُور چلا جاؤں گا ،
اور دُوسرا آدمی کہے ، میں اِس فاسق کے ساتھ چلوں گا ، اِسے سلام بھی کروں گا ، اور اُس کے ساتھ خوش اِخلاقی کے ساتھ پیش آؤں گا اور اُسے اپنے پاس دعوت بھی دوں گا اور اُس کی دعوت قُبول بھی کروں گا ،میں تو اُسے ایک اچھا آدمی سمجھتا ہوں  
اور تیسرآدمی کہے ، یہ فاسق ہے لہذا میں اِس کے فِسق کی وجہ سے اِس کو پسند نہیں کرتا لیکن اِس کے اِیمان کی وجہ سے اِس سے نفرت بھی نہیں کرتا اور نہ ہی میں اِسے چھوڑ ں گا سوائے اِس کے کہ اُسے چھوڑنے میں اُس کی اِصلاح کا اِمکان ہو ، لیکن اگر اُسے چھوڑنا اُس کے مزید بگاڑ کا سبب ہو سکتا ہو تو میں اُسے  نہیں چھوڑں گا ، بلکہ نصیحت کرنے کے لیے اُس کے آس پاس رہوں گا ،  
تو اِس مِثال میں پیش کردہ تین آدمیوں میں سے پہلا تو غُلو کرنے والا ہے ، اور دُوسرا تقصیر کرنے والا اور تیسرا میانہ روی والا ،
پس اِسی طرح ہم سارے ہی دِینی و دُنیاوی معاملات کے بارے میں غلو کرنے والوں ، تقصیر کرنے والوں اور میانہ روی پر عمل کرنے والوں کو پہچانیں گے ،  
::: تِیسری  مِثال ::: (تین مختلف مَرد جن میں سے) ایک شخص کی بیوی اُس کی عقل و ہوش پر حاوی ہو چکی ہو یہاں  تک کہ اُس کی مرضی کے بغیر وہ کچھ بھی نہ کرتا ہو، جہاں وہ بیوی چاہے اور جیسے چاہے اُسے اِستعمال کرتی ہو ، اور یہ شخص اپنی بیوی کو نہ تو کِسی برائی سے روک سکتا ہو اور نہ ہی کسی خیر کی طرف مائل کر سکتا ہو ،
اور دُوسرے شخص کا مُعاملہ یہ ہو کہ وہ اپنی بیوی کے ساتھ تکبرانہ رویہ رکھتا ہو اُس کی کوئی پرواہ نہ کرتا ہواور اُس بیوی کی بجائے نوکرانی سمجھتا ہو ،اُس کی کِسی بات کو ماننا تو درکنار  سُننا بھی مُناسب نہ سمجھتا ہو،
اور تیسرے شخص کا مُعاملہ یہ ہو کہ وہ اپنی بیوی کے ساتھ اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے احکامات کے مُطابق رویہ رکھتا ہو (کہ  اللہ کا حکم ہے) ، (( (وَلَهُنَّ مِثْلُ الَّذِي عَلَيْهِنَّ بِالْمَعْرُوفِ ::: اور  جانے پہچانے طریقے سے عورتوں کے لیے (حقوق کا معاملہ ) لیے بھی ویسا ہی ہے جیسا کہ اُن پر (فرائض  کا )ہے ))) سُورت  البقرة  (2)  / آیت228،
اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کا حُکم ہے  (( (لَا يَفْرَكْ مُؤْمِنٌ مؤمنه إن كَرِهَ منها خُلُقًا رضى منها آخَرَ::: کوئی اِیمان والا (خاوند) کسی اِیمان والی (بیوی )کو غُصہ (اور غُم ) نہیں دِلاتا ، اگر اُس (بیوی) کا کوئی کام خاوند کو نا پسند ہو تو (وہ خاوند سوچے کہ )کوئی کام پسند بھی ہو گا )))صحیح مُسلم/حدیث1469 /کتاب الرضاع /باب 18،
تو اِس مِثال میں یہ آخر والا تیسرا  شخص متوسط (یعنی میانہ رو) ہے ، اور پہلا شخص  غُلو کرنے والا، اور دُوسرا شخص مُقصر (یعنی تقصیر ، کمی کرنے والا ) ہے ،
آپ انہی مِثالوں کے مُطابق  اپنے اور دُوسروں کے تمام دِینی اور دُنیاوی معاملات میں اُن کا رویہ دیکھ کر کِسی کے بارے میں یہ سمجھ سکتے ہیں کہ کون میانہ روی پر عمل پیرا ہے """ (شیخ محمد العُثیمین رحمہ ُ اللہ کے ایک بیان سے ماخوذ ) ،
اِس بیان کی روشنی میں ہمیں یہ سمجھ آتا ہے کہ میانہ روی اور تقصیر میں بہت فرق ہے ، کچھ لوگ اپنی تقصیر کو میانہ روی کا نام دے کر اُسے اِسلام کے پردے میں لپیٹتے ہیں اور اُسے جائز قرار دینے کی کوشش کرتے ہیں اور ایک غیر ثابت شدہ بات((( خَیر الأمور أوساطھا ))) کو رسول اللہ صلی ا للہ علیہ و علی آلہ وسلم کے فرمان کے طور پر   مان کر اپنی تقصیر کی دلیل بناتے ہیں ، گو کہ یہ قول حدیث نہیں ہے ، لیکن ہے حِکمت والی بات ، اور اِس میں میانہ روی کو خیر کہا گیا ہے نہ کہ غُلو یا   تقصیر کو ، اِس فرق کو نہ سمجھنے کی وجہ سے ہمارے اکثر مُسلمان بھائی بہن اپنے دِینی اور دُنیاوی معاملات اور احکام پر عمل نہیں کرتے اور کئی احکام کی خلاف ورزی کرتے ہیں ،
اللہ تعالیٰ ہم سب کو ہر بات درست طور پر سمجھنے اور اُس پر عمل کرنے کی توفیق عطاء فرمائے اور اپنی ذاتی سوچ و فِکر اور خوش فہمیوں پر مبنی حسنء ظن کی بنا پر لوگوں کے فلسفوں سے محفوظ رہنے کی ہمت عطاء فرمائے ، کہ یہ بھی میانہ روی میں سے ہے ۔
والسلام علیکم ،طلب گارء دُعاء ،
عادِل سُہیل ظفر ۔
تاریخ کتابت : 20/04/1431ہجری، بمُطابق، 05/04/2010عیسوئی ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مضمون کا برقی نسخہ درج ذیل ربط پر میسر ہے :
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔