Tuesday, January 23, 2018

::: تدبرء قُران اور قُران فہمی کی دو بنیادی اِقسام ہیں:::

::: تدبرء قُران اور قُران فہمی کی  دو  بنیادی اِقسام ہیں  :::
أَعُوذُ بِاللَّهِ السَّمِيعِ الْعَلِيمِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ مِنْ هَمْزِهِ وَنَفْخِهِ وَنَفْثِهِ
بِسمِ اللَّہ ،و السَّلامُ عَلیَ مَن اتَّبَع َالھُدیٰ و سَلکَ عَلیَ مَسلکِ النَّبیِّ الھُدیٰ مُحمدٍ صَلی اللہُ علیہِ وعَلیَ آلہِ وسلَّمَ ، و قَد خَابَ مَن یُشاقِقِ الرَّسُولَ بَعدَ أَن تَبیَّنَ لہُ الھُدیٰ ، و اتَّبَعَ ھَواہُ فقدوَقعَ فی ضَلالٍ بعیدٍ:::میں  شیطان مردُود(یعنی اللہ کی رحمت سے دُھتکارے ہوئے)کے ڈالے ہوئے جنون،اور اُس کے دیے ہوئے تکبر، اور اُس کے (خیالات و افکار پر مبنی)اشعار سے، سب کچھ سننے والے ، اور سب کچھ کا عِلم رکھنے والے اللہ کی پناہ طلب کرتا ہوں،
شروع اللہ کے نام سے ، اورسلامتی ہو اُس شخص  پر جس نے ہدایت کی پیروی کی ، اور ہدایت لانے والے نبی محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی راہ پر چلا ، اور یقینا وہ شخص تباہ ہوا جس نے رسول کو الگ کیا ، بعد اس کے کہ اُس کے لیے ہدایت واضح کر دی گئ اور(لیکن اُس شخص نے) اپنے نفس  کی خواہشات کی پیروی کی پس بہت دور کی گمراہی میں جا پڑا ۔
السلامُ علیکُم و رحمۃُ اللہ و برکاتہُ ،
قُران کریم میں تدبر کے بارے میں اکثر بات پڑھنے سننے میں ملتی رہتی ہے ، اور خاص طور پر رمضان کے قریبی ایام میں اور دورانء رمضان اِس موضوع پر گفتگو کی کثرت رہتی ہے ، قُران پاک میں تدبر کرنے کی اہمیت ، فضیلت اورتدبر کرنے والوں کے دِل و رُوح پر  اس کے اثرء عظیم کے بارے میں کہیں کوئی دو مختلف رائے نہیں پائی جاتیں ،
جی ہاں ، یہ ضرور ہوتا ہے اور کافی بڑی تعداد میں لوگ ایسا کرتے ہیں کہ تدبر ء قُران حکیم   کی اہمیت اور فضیلت  سننے اور پڑھنے  تک ہی محدود رہتے ہیں ، جِس کا ایک عام سبب یہ وسوسہ ہے کہ""" قُران  کریم میں تدبر کے لیے تفسیر کا علم ہونا ضروری ہے ، تاکہ جب کوئی آیت پڑی جائے تو اُس میں تدبر کیا جا سکے ، اگر تفسیر ہی نہیں جانتے تو تدبر کیا کریں گے؟ """،
پس جو مسلمان تو اس وسوسے کے شِکار ہو جاتے ہیں وہ یہ خیال کرتے ہیں کہ اُن کے اور تدبرء قُران کے درمیان نہ طے ہو سکنے والے فاصلے ہیں ، بلکہ کچھ لوگ  تووسوسوں کے سامنے  اِس قدر بے چارگی کا شِکار ہو جاتے ہیں کہ یہ تک کہنے ، لکھنے اور ماننے لگتے ہیں کہ تدبر ء قُران ہر کس و ناکس کا کام ہی نہیں ، جب تک فُلاں فُلاں مفسر کی طرح تفسیر کا  علم حاصل نہ کر لیا جائے قُران پاک میں تدبر جائز ہی نہیں ،    
غور کیجیے کہ اس قِسم کے وسوسوں کی وجہ سے کتنے مسلمان تدبر ء قُران کی لذت سے خود کو محروم رکھے ہوئے ہیں ، اللہ کی کتاب کی مِٹھاس سے خود کو دُور کیے ہوئے ہیں ، کتنی بڑی خیر اور کامیابیوں  اور اپنے درمیان روکاٹیں کھڑی کر رکھی ہیں ،
ہم حُسن ءظن سے کام لیتے ہوئے یہ خیال کرتے ہیں کہ ایسے لوگ خود کو تدبرء قُران کے باغات میں داخل ہونے سے نیک نیتی کی بِناء  پر ہی روکے رکھتے ہیں کہ کہیں بغیر علم کے اللہ کے بارے میں کچھ ایسا نہ سمجھ لیں جو اللہ کی مُراد نہ ہو ،
لیکن سمجھنے کی بات یہ ہے کہ کیا اِس مُقام پر  یہ خوف  دُرست ہے اور یہاں اِس خوف کے مُطابق عمل کرنا مطلوب ہے !!!؟؟؟
اس کا جواب یہ ہے کہ :::
تدبرء قُران کریم کا معاملہ ایسا نہیں جِس کو اِس مذکورہ بالا خوف کی بِناء پر ترک کر دِیا جائے ،کیونکہ یہ حقیقت  بالکل واضح ہے ، اور اِس میں شک کی کوئی گنجائش تک نہیں کہ قُران کریم میں تدبر کرنا اور قُران پاک کی تفسیر بیان کرنا دو مختلف معاملات ہیں ،خوب سمجھنے کی بات ہے کہ قُران کریم میں تدبر دو اقسام میں ہوتا ہے ،
::::: (1) ::::: ذھنی معرفت کے مُطابق، اُس معرفت کی دُرُستگی،  اور اُس میں اضافے کے لیے  قُران حکیم  میں تدبر اور قُران فہمی    :::::
::::: (2) :::::قلبی اور اِیمانی معرفت کے مُطابق، اُس معرفت کی درستگی کے لیے  اور اس میں اضافے کے لیے قُران حکیم  میں تدبر اور قُران فہمی    :::::
پہلی قِسم میں قُران کریم میں اِستعمال ہونے والے غریب اِلفاظ کی تفسیر کرنا ، أَحکام أَخذ کرنا ، عقائد کی چھان بین کرنا اور دلائل کی وضاحت کرنا ہوتا ہے ،
یہ وہ کام ہیں  جو یقیناً اھل عِلم ہی کرتے ہیں کیونکہ اللہ نے اُنہیں ہی اِس کی اِستطاعت عطاء فرمائی ہوتی ہے ،
 پس وہ لوگ اللہ کے عطاء کردہ عِلم و اِستطاعت اور توفیق کے مُطابق اللہ کے کلام کی تفسیر کرتے ہیں ﴿فَسَالَتْ أَوْدِيَةٌ بِقَدَرِهَا:::تو وادیاں اپنی اپنی طاقت(اِستطاعت ، ظرف) کے مُطابق بہہ نِکلیں﴾سورت الرعد(13)/آیت 17،
پس پہلی قَسم کا  تدبرء قُران   اور قُران فہمی ہماری گفتگو کا موضوع نہیں ہے ، بلکہ ہماری گفتگو کا موضوع دوسری قِسم کا تدبر اور فہم قُران ہے ،
 جو کہ دِلی  إِیمان کے مُطابق ، اُس إِیمان کی دُرُستگی کے لیے  اور اُس إِیمان  میں اِضافے کے لیےقران پاک  میں تدبر کرنا اورقران پاک  کو سمجھنا ہے ،
 یہ وہ تدبر ہے جو کہ قُران کریم پڑھنے والا ہر قاری،قران کی ہر آیت کو پڑھتے ہوئے با آسانی کر سکتا ہے اور اِس کام کے لیے اُس قاری کا تفسیری علوم کا عالم ہونا ضروری نہیں  ،
زیر قرأت   آیت کریمہ میں تدبر کرنے کے لیے قاری کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ وہ آیت مبارکہ کا کسی مذہبی،مسلکی، جماعتی  اور فلسفیانہ  تعصب  کے بغیر ترجمہ جانتا ہو،عام قاری کے لیے قطعا یہ ضروری نہیں کہ وہ  تدبر ء قُران کے لیےتفسیری علوم کا ماہر ہو ،یا کتبء تفسیر کا مطالعہ کرے ،
اپنی ز ُبان میں مُیسر ،لیکن قُران کریم اور صحیح ثابت شدہ سُنّت کے موافق ترجمے کی روشنی میں وہ آیات مبارکہ میں غور و فِکر کرے اور اپنی شخصیت کو اُن کے مُطابق پرکھے اگر خود میں کوئی خوشخبری والی صِفت پائے تو اللہ کا شکر ادا کرے اور اگر معاملہ اِس کے بر عکس ہو تو اللہ کی پناہ طلب کرے اوراپنا محاسبہ کرتے ہوئے  اپنی اِصلاح کی کوشش کرے ، 
یاد رکھیے کہ دُوسری قِسم کا تدبر و  فہم اصل مقصد ہے اور ہر مُسلمان سے  بدرجہ اولیٰ اور ہر اِنسان سے مطلوب ہے ،  اور پہلی قِسم کا تدبر و فہم اِس دُسوری قِسم تک پہنچنے کاایک  ذریعہ ہے ، پس دوسری قَسم کے تدبر و فہم یعنی اصل مقصد تک رسائی کے لیے یہ  ہر گِز ضروری  نہیں کہ پہلی قِسم کے   اس ذریعے کے بغیر اصل مقصد تک رسائی ممکن ہے   ،
امام الحسن البصری رحمہُ اللہ کا کہنا ہے """عِلم دو قِسم کا ہوتا ہے (1) وہ عِلم جو دِل میں ہوتا ہے اور یہی عِلم نفع مند عِلم ہوتا ہے، اور (2)وہ عِلم جو ز ُبان  پر ہوتا ہے اور یہ عِلم اللہ کی طرف سے اُس کی مخلوق پر اُس کی حُجت ہوتی ہے"""،
اِس مختصر سی تفصیل کی روشنی میں  یہ بات بالکل واضح ہوجاتی ہے کہ تدبرء قُران کے لیے تفسیری عُلوم کا ماہر ہونا ضروری نہیں ، کچھ مزید وضاحت کے لیے میں ایک مثال پیش کرتا ہوں ،
اگر کوئی سورت النبا(78) کی قرأت کرے اور اللہ تعالیٰ کا یہ قول پڑھے کہ﴿ إِنَّا أَنْذَرْنَاكُمْ عَذَابًا قَرِيبًا يَوْمَ يَنْظُرُ الْمَرْءُ مَا قَدَّمَتْ يَدَاهُ وَيَقُولُ الْكَافِرُ يَا لَيْتَنِي كُنْتُ تُرَابًا :::یقیناً ہم نے تُم لوگوں کو بہت قریب کے عذاب کے سے ڈرایا ہے جِس دِن انسان وہ سب کچھ دیکھے گاجو اُس نے اپنے ہاتھ سے آگے بھیجا ہو گا اور کافر کہے گا کہ اے کاش میں مٹی ہو گیا ہوتا﴾آخری آیت،
کیا اِس  آیت کریمہ میں تدبر کرنے اور اِس کا فہم حاصل کرنے کے لیے کسی تفسیری علم کی ضرورت ہے!!!؟؟؟
 جی نہیں ، اور بالکل نہیں ، اِس آیت مُبارکہ میں تدبر کرنے کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ قاری اِسے پڑھنے کے بعد کچھ دیر رُکے اور سوچے کہ عنقریب واقع ہونے والے اِس دِن کے لیے اُس نے کیا تیار کر رکھا ہے؟؟؟ اور وہاں اپنے دیکھنے کے لیے کیا بھیج رہا ہے؟؟؟اور کافر کیوں یہ چاہے گا کہ وہ مٹی ہو گیا ہوتا؟؟؟
یہی تدبر ہے اور اِس کے نتیجے میں قاری سمجھ جائے گا کہ قیامت والے دِن کے کیا معاملات ہوں گے اور اُن کو اچھے طور پر نمٹانے کے لیے کیا کرنا چاہیے ؟؟؟
کیونکہ غور کر کے، تدبر کر کے، قُران پڑھنے والا قاری  قُران میں بیان شدہ قیامت کے معاملات کی خبر جانتا ہو گا لہذا ،  اِس آیت کریمہ میں تدبر کرنے کے لیے ،اُس قاری کے لیے تفسیری عُلوم کا عالم ہونا تو کیا ، اُن کی  جان پہچان ہونا  بھی ضروری نہیں،
اِس تدبر کی مثالیں ہمیں آج بھی اپنے اِرد گِرد ملتی ہیں ،
مثال کے طور پر ایک دفعہ ایک دِینی علمی اعتبار سے ایک عام سے  شخص  نے نماز میں إِمام صاحب کو یہ آیات قرأت کرتے ہوئے سُنا  ﴿ وَإِذْ أَخَذْنَا مِنَ النَّبِيِّينَ مِيثَاقَهُمْ وَمِنْكَ وَمِنْ نُوحٍ وَإِبْرَاهِيمَ وَمُوسَى وَعِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ وَأَخَذْنَا مِنْهُمْ مِيثَاقًا غَلِيظًا؀ لِيَسْأَلَ الصَّادِقِينَ عَنْ صِدْقِهِمْ وَأَعَدَّ لِلْكَافِرِينَ عَذَابًا أَلِيمًا ::: اور جب ہم نے نبیوں سے اور آپ سے اور نوح سے اور ابراہیم سے اور مریم کے بیٹے عیسیٰ سے شدید مضبوط عہد لیا ؀ تا کہ(اللہ)سچے لوگوں  سے اُن کے سچ کا حال  پوچھے اور اُس نے کافروں کے لیے درد ناک عذاب تیار کر رکھا ہے﴾سورت الاحزاب(33)/آیات 7،8،
 تو نماز کے بعد بڑے خوف کی حالت میں کھڑا ہو کر بلند لیکن  کانپتی آواز میں کہنے لگا """ اے لوگو، اللہ سے ڈرو ، اور دیکھو کہ  جب نبیوں اور رسولوں کا  بلکہ اُن میں سے سب سے زیادہ خیر والوں  کایہ معاملہ ہے کہ اُن سے  سچائی کے بارے میں پوچھا جائے گا  تو ہمارے جیسوں کا کیا حال ہو گا ؟؟؟ ہم کیا جواب دیں گے؟؟؟ """،
 یہ کہہ کر وہ خود بھی زار و قطار  رونے لگا اور تقریباً مسجد میں موجود سب ہی لوگ رو پڑے ،
دیکھیے ایک عام سے شخص نے ، جو دِینی علوم میں سے چند بنیادی ترین مسائل کے عِلاوہ  کچھ بھی نہیں جانتا تھا ، کس قدر دُرُست طور پر قُران کریم کی اِن آیات میں تدبر کیا ،  
یہی اصل مطلوب تدبر ہے  جسے میں نے دُوسری قِسم کا تدبر کہا تھا،
 یعنی دِلی إِیمان کے مُطابق ، اُس إِیمان کی دُرُستگی کے لیے  اور اُس میں اِضافے کے لیےتدبر کرنا ، اور اِس کے لیے تفسیری عُلوم کا جاننا ضروری نہیں ، لہذا ہم سب کو اِس وسوسے سے دُور رہنا چاہیے اور اپنے رب کی کتاب کا حق ادا کرتے ہوئے اپنی دُنیا اور آخرت کی خیر تلاش کرتے ہوئے اپنے رب کے کلام میں تدبر کرنا چاہیے ،
إِمام ابن القیم رحمہ ُ اللہ کا کہنا ہے """ التدبر مفتاح حیاۃ القلب ::: (قران میں )تدبر دل کی زندگی کی چابی ہے """،
پس جو کوئی اللہ کی کتاب میں تدبر کرے گا وہ ایسی راحت و سکوں اور سعادت و خوش نصیبی   والی زندگی پائے گا جس کی مثال  دینا مشکل ہے ،
 کیا اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کریم محمد  صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کو مخاطب فرما کر یہ خوشخبری عطاء نہیں فرمائی کہ ﴿ مَا أَنْزَلْنَا عَلَيْكَ الْقُرْآَنَ لِتَشْقَى ::: (اے محمد)ہم نے آپ پر قُران اس لیے نازل نہیں کیا کہ آپ مشقت میں پڑ جائیں﴾سورت طہٰ (20)/آیت 2،
جی ہاں اور بلا شک یہ حق ہے کہ قُران کسی مُشقت کے لیے نازل نہیں کیا گیا ، بلکہ قُران رحمت و سکوں اور دُنیا اور آخرت کی سعادت کے لیے نازل کیا گیا ہے ، پس جو کوئی اِس میں  نیک نیتی سے  اور دُرُست طور پر  تدبر کرے گا اللہ تعالیٰ اُس تدبر کرنے والے کو  اپنے اِس کلام پاک کے فوائد عطاء فرمائے گا ،
اور جو کوئی اللہ پاک کے کلام کو مادی معایر ،  پیمانوں ، اپنی مرضی ، اپنی عقل ، اپنے بنائے یا اختیار کردہ فلسفوں ، منطقوں ، وغیرہ کے مُطابق سمجھنے کی کوشش کرے گا ،  وہ خود بھی یقینی گمراہی کا شِکار ہو گا اور اپنے ساتھ کئی دُوسروں کو  بھی گمراہ کرے گا،
 اللہ تعالیٰ ہم سب کو راہ حق پر چلنے کی ہمت عطاء فرمائے، اپنی بات کے اختتام میں امام قتادہ رحمہُ اللہ کی دُعا دہراتا ہوں کہ """ میں اللہ سے سوال کرتا ہوں کہ اللہ میرا اور آپ کا دِل اُس کی کتاب کے فہم کے لیے کُشادہ فرما دے اور اُس کی کتاب میں اُس طرح  تدبر کے لیے کُشادہ فرما دے جس طرح کہ وہ  ہم سے راضی ہو """۔والسلام علیکم ،
ڈاکٹر عُمر المقبل حفظہُ اللہ کے ایک مقال سے ماخوذ ۔    
تاریخ کتابت :16/08/1432ہجری،بمُطابق، 17/07/2011عیسوئی،
تاریخ تجدید و تحدیث :11/11/1436ہجری، بمُطابق،26/08/2015۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مضمون کا برقی نسخہ درج ذیل ربط سے نازل کیا جا سکتا ہے :
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Sunday, January 21, 2018

::::: سجاوٹ والے اِمتحان :::::

:::::   سجاوٹ والے اِمتحان  :::::
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ
أَعُوذُ بِاللَّهِ السَّمِيعِ الْعَلِيمِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ مِنْ هَمْزِهِ وَنَفْخِهِ وَنَفْثِهِ
و الصَّلاۃُ والسَّلامُ عَلیٰ رَسولہ ِ الکریم مُحمدٍ و عَلیَ آلہِ وَأصحابہِ وَأزواجِہِ وَ مَن تَبِعَھُم بِاِحسانٍ إِلٰی یَومِ الدِین ، أما بَعد :::
السلامُ علیکم و رحمۃُ اللہ و برکاتہُ ،
اللہ جلّ جلالہُ کا اِرشاد گرامی ہے کہ(((زُيِّنَ لِلنَّاسِ حُبُّ الشَّهَوَاتِ مِنَ النِّسَاءِ وَالبَنِينَ وَالقَنَاطِيرِ المُقَنطَرَةِ مِنَ الذَّهَبِ وَالفِضَّةِ وَالخَيلِ المُسَوَّمَةِ وَالأَنعَامِ وَالحَرثِ ذَلِكَ مَتَاعُ الحَيَاةِ الدُّنيَا وَاللَّهُ عِندَهُ حُسنُ المَآبِ O قُل أَؤُنَبِّئُكُم بِخَيرٍ مِن ذَلِكُم لِلَّذِينَ اتَّقَوا عِندَ رَبِّهِم جَنَّاتٌ تَجرِي مِن تَحتِهَا الأَنهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا وَأَزوَاجٌ مُطَهَّرَةٌ وَرِضوَانٌ مِنَ اللَّهِ وَاللَّهُ بَصِيرٌ بِالعِبَادِ ::: لوگوں کے لیے عورتوں ، بیٹوں ، سونے اور چاندی کے خزانوں میں اور پالتو نشان لگائے گھوڑوں اور مویشیوں  میں اور کھیتی باڑی میں لالچ سجا دیے گئے ، یہ سب دُنیا کی زندگی کا سامان ہے اور اور اللہ کے پاس (جو کچھ )ہے (وہ)بہترین ٹھکانہ اور ثواب ہے O آپ فرمایے کیا میں تم لوگوں کو اس سے زیادہ خیر والی خبر نہ بتاوں (کہ)جو تقویٰ والے ہیں اُن کے لیے ان کے رب کے ہاں باغات ہیں جن کے نیچے دریا بہتے ہیں جہاں وہ لوگ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے اور (وہاں ) پاکیزہ بیویاں ہوں گی اور اللہ کی خوشنودی ہوگی اور اللہ اپنے بندوں (اور ان کے اعمال ) کو دیکھتا ہے))) سُورت آل عمران(3)/آیت 14–15،
ان دو مذکورہ بالا  آیات مُبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے اس دُنیا میں دی گئی مخلتف لذتوں میں سے اُن لذتوں کی خبر عطا فرمائی ہے جو لوگوں کے لیے سجا دی گئی ہیں ، یعنی لوگوں کے لیے بہت پر کشش اور محبوب بنا دی گئی ہیں ، وہ لذتیں عورتوں اور بیٹوں اور مال و مویشی سے متعلق ہیں ،
اللہ تعالیٰ نے یہاں سب سے پہلے عورت کا ذکر کیا ہے کیونکہ دُنیا کے فتنوں یعنی امتحانات میں سب سے بڑا امتحان عورت ہے کہ اس کے ذریعے دِین دُنیا اور آخرت سب ہی کچھ خطرے میں پڑجاتے ہیں اور بسا اوقات تباہ ہو جاتے ہیں ، لہذا عورت سے بڑھ کر فتنہ اور کوئی نہیں جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے فرمایا ((( مَا تَركتُ بَعدِي فَتنَة أضَرُ عَلٰى الرِّجَالِ مِن النِّساءِ  ::: میرے بعد مَردوں کے لیے عورتوں سے بڑھ کر نقصان دہ امتحان اور کوئی نہیں ہوگا)))صحیح بخاری/حدیث/5096کتاب النکاح /باب17، صحیح مُسلم/حدیث/7121کتاب الرقاق/پہلا باب،
لیکن اس حدیث شریف سے یہ مطلب لینا ہر گِز دُرُست نہیں کہ عورت بہر صورت ، ہمیشہ پریشانی اور نقصان کا باعث ہی بنتی ہے ،  بلکہ عورت بہت خیر اور برکت کا باعث بھی ہوتی ہے اور اگرعورتوں کے ذریعے اپنی عِزت اور عفت کو برقرار رکھنا ، اور اولاد کی کثرت کا ارادہ  ہو تو یہ کام نہ صرف جائز بلکہ مطلوب اور پسندیدہ ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ و سلم نے اس کی ترغیب دی ہے اور فرمایا ہے کہ (((الدُّنيَا مَتَاعٌ وَخَيرُ مَتَاعِ الدُّنيَا المَرأَةُ الصَّالِحَةُ ::: دُنیا (آخرت کا )سامان ہے اور اِس کے سامان میں سب سے زیادہ خیر والی چیز نیک بیوی ہے )))صحیح مُسلم / کتاب الرضاع /باب 17،
ایسی ہی تابع فرمان نیک عورتوں کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کا فرمان ہے (((حُبِّبَ إلي من الدُّنيَا النِّسَاءُ وَالطِّيبُ وَجُعِلَ قُرَّةُ عَينِي في الصَّلَاةِ:::میرے لیے  عورتیں اور خُوشبُو پسندیدہ بنائی گئی اور میری آنکھوں کی ٹھنڈک نماز میں بنائی گئی )))‏‏سنن النسائی / حدیث 8887/کتاب عِشرۃ النِساء /باب اول ، صحیح سنن النسائی / حدیث 3939 ،
اِن سب فرامین کی روشنی میں عورت کو بحیثیتِ جنس امتحان اور فتنہ نہیں سمجھا جا سکتا ہے ،
 بلکہ اللہ تعالیٰ کا مذکورہ بالا فرمان، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی  مذکورہ بالا احادیث میں سے  پہلی حدیث شریف   ایک عمومی خبر رکھتے ہیں ،  جس  خبر کے ذریعے یہ یقینی علم ملتا ہے کہ اِس جِنس کی اکثریت فتنے کا سبب ہے اور یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس سے اِنکار کی کوئی گنجائش نہیں ،
عورت کے بعد اللہ تعالی نے اس آیت کریمہ میں دُوسرے نمبر پر بیٹوں کا ذِکر فرمایا ہے ، کہ بیٹوں کی چاہت اور اُن کے ہونے کی محبت بھی اِنسان کے لیے پر کشش اور خوشنما بنا دی گئی ہے ،
اِس کے بھی دو سبب سمجھ میں آتے ہیں ایک تو سب ہی اِنسانوں میں مُشترک ہے ، اور دُوسرا  نیکو کار ایمان والوں کے  ساتھ مخصوص ،
پہلا سبب دُنیاوی فخر اور فوائد کے حصول کے لیے بیٹوں کی خواہش اور محبت ،
دُوسرا سبب محمد صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی اُمت میں نیک موحد اور مجاھد اِیمان والوں کی کثرت کی خواہش کی وجہ سے بیٹوں کے حصول کی محبت ، اور یہ محبت مطلوب ہے ، محمود ہے ، ممدوح ہے ، مرغوب ہے ، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کا فرمان ہے ((( تَزَوَّجُوا الوَدُودَ الوَلُودَ فَإِنِّي مُكَاثِرٌ بِكُم الأمَمَ‏:::محبت کرنے والیوں اور زیادہ بچے پیدا کرنے والیوں سے نکاح کرو کہ میں قیامت والے دن تم لوگوں کی کثرت کی وجہ سے دُوسری اُمتوں سے کثرت میں ہوں گا)))سنن ابی داود / حدیث 2050 /کتاب النکاح / باب 5 ، اِمام البانی رحمہُ اللہ نے "حَسن صحیح "قرار دِیا ،
پس بیٹوں کی محبت ، یعنی ان کے ہونے کی محبت اور چاہت اگر پہلے سبب سے ہو تو فتنہ ، اور اگر دُوسرے سبب سے ہو تو قابل ستائش اور دُنیا اور آخرت کی خیر والی ، ان شاء اللہ ،
اسی طرح مال سونا چاندی پالتو جانور مویشی وغیرہ کی خواہش اور اس کی محبت ہے ، اس کا معاملہ بھی بیٹوں کی محبت جسیا ہے ، یعنی ستائش اور دُنیا اور آخرت کی خیر والی ، ان شاء اللہ ،
اِسی طرح مال سونا چاندی پالتو جانور مویشی وغیرہ کی خواہش اور اُس کی محبت ہے ، اِس کا معاملہ بھی بیٹوں کی محبت جیسا ہے ، یعنی اِس کے بھی وہی دو بنیادی سبب نظر آتے ہیں ،
پہلا تو یہ کہ مال کی خواہش اور مال کی محبت عموماً فخر اور تکبر کے لیے ہوتی ہے ، کمزور اور غریب لوگوں پر رعب اور دھونس جبر و ستم کے لیے ہوتی ہے،
اور دُوسرا یہ کہ مال کی خواہش اور محبت نیک ایمان والوں کے ہاں اللہ کے قرب کے حصول کے ذریعے کے طور پر ہوتی ہے کہ وہ لوگ  نیک کاموں کے میں ، اللہ کے دین کی سُرخرُوئی کے لیے وہ مال خرچ کر کے اللہ کی رضا اور خوشنودی حاصل کرنا چاہتے ہیں ، اور ایسے ہی اِیمان والوں کی نشانیوں میں اللہ تعالی نے یہ فرمایا ہے کہ ((( و مِمَّا رَزقناھُم یُنفِقُون ::: اور جو کچھ ہم نے انہیں رزق دیا اُس میں سے وہ خرچ کرتے ہیں )))سورت البقرۃ (2)آیت 3،
مال کے ذکر میں اللہ تعالی نے ایک خاص مقدار ((( قنطار )))کا ذِکر فرمایا ہے ، اِس مقدار کے بارے میں مختلف اقوال ہیں کہ ایک قنطار کتنا ہوتا ہے ،
مثلا کہا گیا کہ قنطار ، ایک ہزار دینار ، اور کہا گیا ایک ہزار دو سو دینار ، اور  کہا گیا بارہ ہزار ، اور کہا گیا چالیس ہزار ، اور کہا گیا ساٹھ ہزار اور اس کے علاوہ بھی اقوال ہیں ، لیکن اس معاملے میں سب سے اچھی بات اور بہتر قول امام الضحاک رحمہ اللہ کا ہے کہ """ قنطار بہت زیادہ مال کو کہا جاتا ہے """  
اللہ تعالیٰ نے قنطار کا جو ذِکر فرمایا ہے اس سے مراد یہ نہیں کہ ایک قنطار سے کم مال کی محبت یا اس کو جمع رکھنا قابل گرفت نہ ہوگا بلکہ اس کے ذِکر کا مطلب یہ ہے بہت زیادہ مال جمع کرنے کی محبت عموماً اِنسان کو ھلاکت کی طرف لے جاتی ہے ،
اس کے علاوہ اللہ تبارک و تعالی نے گھوڑوں کی محبت کا ذِکر فرمایا ، اور اُن گھوڑوں کی صِفت کے طور پر اُن کو (((المسومہ))) فرمایا ہے ،
((( المسومہ)))کی تفیسر عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے """پالتو """ فرمائی ،
پالتو گھوڑوں سے محبت کے تین سبب ہیں ،
::::: (1) پہلا سبب  :::::  کبھی تو یہ محبت اللہ کی ر اہ میں جہاد کے لیے ہوتی ہے کہ ایمان والے اپنے بہترین نشان لگے ، تحجیل والے گھوڑے (یعنی ایسے گھوڑے جن کی آنکھوں اور پیروں وغیرہ کے گرد حلقے ہوتے ہیں) وہ گھوڑے تیار رکھتے ہیں کہ کسی بھی وقت اللہ کی راہ میں استعمال کی ضرورت پیش آجائے تو تاخیر نہ ہو ،
یہ لوگ اپنے اس عمل پر اللہ سُبحانہ ُ و تعالیٰ سے بہترین اجر پائیں گے ، کیونکہ اللہ کا حُکم ہے کہ ‏((( وَأَعِدُّوا لَهُم مَّا استَطَعتُم مِّن قُوَّةٍ وَمِن رِّبَاطِ الخَيلِ تُرهِبُونَ بِهِ عَدوَّ اللّهِ وَعَدُوَّكُم وَآخَرِينَ مِن دُونِهِم لاَ تَعلَمُونَهُمُ اللّهُ يَعلَمُهُم وَمَا تُنفِقُوا مِن شَيءٍ فِي سَبِيلِ اللّهِ يُوَفَّ إِلَيكُم وَأَنتُم لاَ تُظلَمُونَ ::: اور کافروں کے تیار رکھو طاقت میں سے جو تمارے اختیار میں ہو اور بندھے ہوئے تیار گھوڑوں میں سے جس کے ذریعے تُم لوگ خوف زدہ کر سکو اللہ کے دُشمنوں اور تُمارے دُشمنوں کو اور جو اُن کے علاوہ ہیں جنہیں تم لوگ نہیں جانتے اللہ ہی انہیں جانتا ہے ، اور تُم لوگ جو کچھ اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہو وہ تم لوگوں کی طرف وفا (کے ساتھ پلٹا دیا جائے ) گا اور تُم لوگوں پر ظُلُم نہ کیا جائے گا )))سورت  الأنفال(8) / آیت 60 ‏،
::::: (2) دُوسرا سبب :::::  اور کبھی گھوڑوں کی پرورش اپنی سیفد پوشی کے لیے ہوتی ہے اور گھوڑوں کی نسل بڑھانے کے لیے ہوتی ہے ، یہ لوگ اگر مسلمان ہوں اور  ان جانوروں کا حق ادا کرتے ہوں تو ان شاء اللہ آخرت میں ان کے لیے فائدہ مند ہو گا ،
::::: (3) تِیسرا سبب :::::  اور کبھی گھوڑے پالے جاتے ہیں ایک دُوسرے کے سامنے تکبر اور فخر کرنے کے لیے یا اسلام اور مسلمانوں کےخلاف استعمال کرنے لے لیے  پالے جاتے ہیں ، ایسا کرنا کرنے والوں کے آخرت میں عذاب کا سبب ہو گا ،
اللہ تعالیٰ کے فرمان میں (((و الأنعام:::مویشی)))سے مراد اُونٹ گائے بکری وغیرہ ہیں ، اور ((( الحرث:::کھیتی باڑی ، زراعت)))سے مُراد ایسی زمین ہے جِسے کھیتی باڑی کے لیے استعمال کیا جاتا ہے ،
اِس کے بعد اللہ تعالیٰ نےاِرشاد فرمایا (((ذَلِكَ مَتَاعُ الحَيَاةِ الدُّنيَا:::یہ سب دُنیا کی زندگی کا سامان ہے )))یعنی یہ سب کچھ صرف دُنیا کی زندگی میں ہی ہے ، اور صرف اسی زندگی کی سجاوٹ اور دل پذیری کا سبب ہے ، جسے ایک دِن زائل ہونا ہی ہے ، ختم ہونا ہی ہے ،
(((وَاللَّهُ عِندَهُ حُسنُ المَآبِ ::: اور اللہ کے پاس (جو کچھ )ہے (وہ) بہترین ٹھکانہ اور ثواب ہے )))،
امیر المؤمنین عمر رضی اللہ عنہ کا کہنا ہے کہ """ جب ((( زُيِّنَ لِلنَّاسِ حُبُّ الشَّهَوَاتِ )))نازل ہوئی تو میں نے کہا ، اب اے ہمارے رب جب کہ آپ نے اسے ہمارے لیے سجا دیا ، تو پھر(((قُل أَؤُنَبِّئُكُم بِخَيرٍ مِن ذَلِكُم لِلَّذِينَ اتَّقَوا)))نازل ہوئی """
اور اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے جنّت میں موجود نعمتوں کا ذِکر فرما کر لوگوں کو اس کی جنّت کی ترغیب دلاتے ہوئے بتایا کہ جو کچھ اللہ پاس ہے وہ دُنیا کی ظاہری اور ختم ہوجانے والے زینت سے کہیں زیادہ بہترین ہے اور وہ جنت ہے جس میں اس کے باغات کے نیچے دریا بہتے ہیں ، دودھ ، شہد ، شراب اور پانی اور طرح طرح کے مشروبات کے دریا ، اور اس میں وہ کچھ ہے جو کسی آنکھ نے دیکھا نہیں کسی دل کان نے سُنا نہیں اور نہ ہی کسی اِنسان کے دل میں اس کا گمان بھی گذرا ہے ، وہاں ان دریاوں والی جنّت میں ، ایسی پاکیزہ بیویوں کے ساتھ جو دُنیا کی عورتوں کے طرح حیض و نفاس وغیرہ جیسی علتوں سے پاک ہوں گی ، اور ان سب نعمتوں سے بڑھ کر اور عظیم بڑی نعمت ‏(((وَرِضوَانٌ مِنَ اللَّهِ أكبر)))اللہ کی رضا اور خوشی کے ساتھ وہاں رہیں گے اور ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے ، نہ اُس کے بعد اللہ تعالیٰ اُن پر ناراض ہو گا ، اور نہ ہی وہ لوگ اُن نعمتوں سے خارج ہوں گے ،
 آخر میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا (((وَاللَّهُ بَصِيرٌ بِالعِبَادِ)))یعنی اللہ تعالیٰ ہر ایک کو وہ کچھ عطا کرے گا جس کا وہ اپنے اعمال کے مُطابق مُستحق ہو گا ۔
 اللہ تعالی اپنے لطف و کرم سے ہر مسلمان کو یہ توفیق عطا فرمائے کہ وہ اللہ کی جنّت میں داخل ہونے کا مُستحق ہو جائے ۔
والسلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ، 
طلب گارء دُعا ، آپ کا بھائی ،
عادِل سُہیل ظفر۔
 تفسیر ابن کثیر سے ماخوذ ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تاریخ کتابت : 27/03/1431ہجری، بمُطابق13/03/2010عیسوئی،
تاریخ تجدید : 18/07/1435ہجری ، بمُطابق 17/05/2014عیسوئی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مضمون کا برقی نسخہ درج ذیل ربط پر مُیسر ہے :
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔