Friday, December 6, 2013

:::قُران و سُنّت کے باغ میں سے ::: مختصر اور مؤثر نصیحت زیادہ فائدہ مند ہے:::


:::قُران و سُنّت کے باغ میں سے ::: مختصر  اور مؤثر نصیحت زیادہ فائدہ مند ہے:::
بِسّمِ اللہ الرّ حمٰنِ الرَّحیم
الحَمدُ لِلّہ ِ وحدہُ و الصَّلاۃُ و السَّلامُ عَلیٰ مَن لا نبیَّ   و لا مَعصُومَ بَعدَہ ُمُحمد ا ً  صَلی اللہ عَلیہ ِوعَلیٰ آلہِ وسلّم و مَن  أَھتداء بِھدیہِ و سلک َ       عَلیٰ     مَسلکہِ  ::: اکیلے اللہ کے لیے ہی ساری خاص تعریف ہے اور رحمت اور سلامتی اس پر جِس کے بعد کوئی بنی نہیں اور کوئی معصوم نہیں وہ ہیں محمد  صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم، اور رحمت اور سلامتی اُس پر جِس نے اُن صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی ہدایت کے ذریعے راہ  اپنائی اور اُن صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی  راہ پر چلا:
السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ،
کہا جاتا ہے کہ نصیحت کرنے والا جَلّاد کی طرح ہوتا ہے ،
میں کہتا ہوں جَلّاد جتنا ماہر ہوتا ہے اُس کی لگائی ہوئی چوٹ جلد میں اتنی زیادہ ، گہری اور دیرپا درد چھوڑتی ہے ،
جی ہاں میں نے جَلّاد کے مارنے کے بارے میں اُس کی  مہارت اور عِلم کی بات کی ہے ، نہ کہ اُس کی ضرب کی قوت کی ،
 کیونکہ ایسا جَلّاد جو کسی تعصب یا غُصے کی بنا پر خوب قوت سے ضرب لگاتا ہے اُس کی ضرب پڑتے ہوئے تو یقیناً بہت شدید درد دے گی لیکن کچھ ہی عرصے بعدضرب  کھانے والاوہ دردبھول جائے گا ،
لیکن جو جَلّاد ضرب لگانے کے عِلم و فن میں ماہر ہو گا ، وہ قوت سے ضرب نہیں لگائے گا بلکہ وہ جانتا ہوگا کہ کونسی جگہ پر ہلکی سے ضرب بھی شدید اور دیرپا درد کا سبب ہو گی لہذا وہ اُسی جگہ ہلکی سے ضرب لگا کر بھی بہت قوی ضرب سے زیادہ اچھے نتائج حاصل کر لے گا ،
اِسی طرح نصیحت کرنے والا کا معاملہ ہے ،جی ہاں ،  اچھی با موقع اور درست طور پر نصیحت کرنے والا یہ جانتا ہے کہ """ نصیحت کا اصل فائدہ کثرت اور طوالتء کلام میں نہیں ، بلکہ بر موقع اور مثبت و مؤثر طریقے میں ہے """
پس اگر آپ کسی کو نصیحت کرنا چاہتے ہیں تو جس قدر ممکن ہو اچھے ، محبوب اور میٹھے اسلوب میں مختصر الفاظ و عبارات میں کیجیے ، نہ کہ جسے نصیحت کرنا چاہتے ہوں اسے درس دینا شروع کر دیجیے ، خاص طور پر جب کوئی ایسا معاملہ ہو جس میں کوئی اِختلاف نہ ہو صرف اُس پر عمل کرنے یا نہ کرنے کا معاملہ ہوتا ہے  ،
مثلاً نماز پڑھنے کا معاملہ ، کوئی مسلمان اِس کے فرض ہونے سے اِنکارنہیں کرتا، اور جو کوئی ایسا کرتا ہے وہ نام و نسب سے تو مُسلمان کہلا سکتا ہے ، شرعی احکام میں ، اور اللہ کے ہاں وہ مُسلمان نہیں ،
 جی تو ، نماز کی فرضیت ہر مُسلمان مانتا ہے ، لیکن پھر بھی ایسے کئی مُسلمان ہیں جو نماز کی فرضیت پر إِیمان رکھنے کے باوجود نماز نہیں پڑھتے ، اُنہیں زیادہ لمبے چوڑے سبق اور درس دینے کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ چند مختصر سی باتوں کے ذریعے یاد دہانی اور حوصلہ افزائی کی ضرورت ہوتی ہے  جو اُنہیں نماز نہ پڑھنے کے نقصانات اور پڑھنے کے فوائد سمجھانے میں مددگار ہو،  
اسی طرح ایسے کئی معاملات ہیں جن کے بارے میں مسلمان تو کیا غیر مسلم لیکن اچھے کردار والے بھی یہ مانتے ہیں کہ یہ کام اچھے نہیں ، مثلاً، شراب نوشی ،والدین کا احترام نہ کرنا ،لوگوں کے حقوق غصب کرنا ، وغیرہ ، تو ایسے معاملات میں قوت سے ضرب لگانا عموماً فائدہ مند نہیں ہوتا بلکہ وہ ضرب نقصان کا باعث ہو جاتی ہے ،    
 مجھے اپنے حبیب  محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی سُنّت مبارکہ کے مطالعہ میں یہ سبق خوب اچھی طرح سے ملا کہ اُن صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی طرف سے کی گئی  نصیحتیں ایک دو عبارات سے زیادہ طویل نہیں ، لیکن انداز و الفاظ ایسے ہیں جو روح کی گہرائیوں تک اُتر جاتے ہیں ، مثلا ً :::
::::::: علی رضی اللہ عنہ ُ کو نصیحت فرمائی (((((يا عَلِيُّ لَا تُتْبِعْ النَّظْرَةَ النَّظْرَةَ فإن لكَ الْأُولَى وَلَيْسَتْ لكَ الْآخِرَةُ ::: اے علی ایک کے پیچھے دوسری نظر نہ جانے پائے ، کیونکہ پہلی نظر تو تمہارے لیے تھی لیکن دوسری کے لیے تمہیں حق نہیں ))))) المستدرک الحاکم /حدیث 2788، سنن ابی داؤد/کتاب النکاح/باب44 ، مسند احمد/حدیث 23041،23143 و غیرھم ،
علم و عرفان اور عقائد کے خزانوں سے بھر پور نصیحت ایک مختصر سے جملے میں مکمل ہوئی ،
::::::: عبداللہ ابن عمر رضی اللہ عنہما کو نصیحت فرمائی اور اِس قدر محبت آمیز لیکن گہرے اور مضبوط اثر والے انداز میں کہ اُن رضی اللہ عنہ ُ کے کندھوں کو اپنے دونوں مبارک و پاکیزہ ہاتھوں میں تھام کر فرمایا (((((كُنْ في الدُّنْيَا كَأَنَّكَ غَرِيبٌ أو عَابِرُ سَبِيلٍ:::دُنیا میں اس طرح رہو جیسے کہ تُم اجنبی ہو یا ایک راہ گذر مسافر ہو)))))صحیح البخاری/حدیث 6503/کتاب الرقاق/باب3،
دیکھیے ،غور فرمایے کہ مختصر سی لیکن  دِین ،دنیا اور آخرت کی کامیابیوں کی ساری ہی خبر لیے ہوئے نصیحت تمام ہوئی،  
::::::: مُعاذ ابن جبل رضی اللہ عنہ ُ کو نصیحت فرمائی اوراِس طرح کہ  اپنے مقدس ہاتھوں میں اُن رضی اللہ عنہ ُ  کا ہاتھ تھام کر ،انتہائی نرم لیکن رُوح کی گہرائیوں میں  شدید ترین اثر کے ساتھ اتر جانے والے الفاظ میں فرمائی (((((يا مُعَاذُ والله إني لَأُحِبُّكَ والله إني لَأُحِبُّكَ ، فقال ، أُوصِيكَ يا مُعَاذُ لَا تَدَعَنَّ في دُبُرِ كل صَلَاةٍ تَقُولُ اللهم أَعِنِّي على ذِكْرِكَ وَشُكْرِكَ وَحُسْنِ عِبَادَتِكَ::: اے مُعاذ اللہ کی قسم میں تم سے محبت کرتا ہوں ، اللہ کی قسم میں تم سے محبت کرتا ہوں،  اور تمہیں نصیحت کرتا ہوں کہ ہر نماز کے بعد یہ کہنا کبھی نہ چھوڑنا """ اے اللہ آپ کا ذِکر کرنے  اور آپ کا شُکر ادا کرنے اور بہترین طور پر آپ کی عبادت کرنے پر میری مدد فرمایے"""))))) سنن ابو داؤد/حدیث 1522 کتاب الصلاۃ /باب 362،سنن النسائی/حدیث 1303/کتاب السھو/باب 60،
مختصر سی نصیحت لیکن اس قدر مؤثر کہ دنیا اور آخرت سنور جائے اور جسے کی گئی وہ اُس کی صداقت پر یقین رکھنے والا ہو تو ساری زندگی اِس پر عمل پیرا رہے ، جیسا کہ خود معاذ ابن جبل رضی اللہ عنہ ُ نے کیا ،
:::::::عمر ابن الخطاب رضی اللہ عنہما کو نصیحت فرمائی (((((يا عُمَرُ إِنَّكَ رَجُلٌ قويٌّ لاَ تُزَاحِمْ عَلىَ الْحَجَرِ فَتُؤْذِىَ الضَّعِيفَ إن وَجَدْتَ خَلْوَةً فَاسْتَلِمْهُ وَإِلاَّ فَاسْتَقْبِلْهُ فَهَلِّلْ وَكَبِّرْ ::: اے عُمر آپ ایک طاقتور مرد ہیں حجرء اسود (کو چُھونے ) کے لیے زور آزمائی مت کیجیے گا کہ کہیں آپ کسی کمزور کو اذیت نہ دے دیں لیکن اگر آپ کو فراغت (سے موقع) ملے تو پھر حجرء اسود کو چُھو لیجیے اوراگرفراغت نہ ملے تو اس کی طرف رُخ کر کے تھلیل کہیے اور تکبیر کہیے ))))) مُسند احمد/حدیث /195مُسند عمر ابن الخطاب رضی اللہ عنہما میں سے حدیث رقم 112، و غیرھما ، صححہ إِمام الالبانی رحمہُ اللہ(مناسک الحج و العمرہ)،
سُنّت مُبارکہ علی صاحبھا افضل الصلوۃ و السلام میں ایسی مختصر اور یقینی ترین اور شدید ترین اثر والی نصیحتوں کی اور بھی بہت سے مثالیں میسر ہیں ،
پھر جب سُنّت شریفہ علی صاحبھا افضل الصلوۃ و التسلیم کے بعد صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین ، تابعین ،تبع تابعین اور امت کے أئمہ کرام ، اور صالحین رحمہم اللہ و حفظہم  کے احوالء زندگی کا مطالعہ کرتا ہوں  تو وہ لوگ  اِس سنت مبارکہ پر اتنی کثرت سے عمل پیرا نظر آتے ہیں کہ اگر اُن کا ذِکر ایک جگہ جمع کیا جائے تو بہت موٹی سی کتاب بن جائے ، مثال کے طور پر :::
::::::: ایک دفعہ ابو ہُریرہ رضی اللہ عنہ ُ عرب کے مشہور اور محبوب شاعر فرزدق سے ملے تو اُسے نصیحت فرمائی کہ """ اے میرے بھتیجے ، میں دیکھتا ہوں کہ تُمہارے دونوں پاؤں بہت چھوٹے ہیں لہذا  تم جنّت میں اُن کے لیے جگہ ختم نہ کرو """ یعنی اپنے اشعار میں جو گناہ آلود باتیں تم کرتے ہواُن سے باز آ جاؤ اور اپنے لیے جہنم کی بجائے جنّت میں جگہ بناؤ ،
سبحان اللہ کتنی مختصر سی نصیحت ہے اور کس قدر بڑی بات ہے ،   
::::::: عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ ُ ایک دفعہ ایک جگہ سے گذر رہے تھے کہ گانے بجانے کی آواز  آئی ، آواز والی طرف دیکھا تو  نوجوانوں کے ایک ٹولے کے درمیان ایک نوجوان کو ساز بجا بجا کر گاتے ہوئے پایا ،  اُن لوگوں کے قریب سے گذرتے ہوئے فرمایا """" ما أحسنَ هذا الصَّوت لَو كان بقراءةِ كتابِ الله ::: کیا ہی اچھی تھی یہ آواز اگر اللہ کی کتاب کی قرأت کے لیے ہوتی """،  اور اپنا سر منہ ُ  اپنی چادر میں لپیٹ کر وہاں سے چلے گئے ،
کتنی مختصر سی لیکن کس قدر جامع نصیحت فرمائی اور کس قدر پیارے اسلوب میں کہ براہ راست گناہ گار کو کچھ بھی نہیں کہا ،  لیکن دیکھیے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے  اِس تھوڑے سے الفاظ والی نصیحت کا اثر کس قدر عظیم کر دِیا ،
عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ ُ کو آتے دیکھ کر تقریباً سب ہی لوگ اُس محفل سے دُور ہو گئے تھے ، گانے والے فنکار (آرٹسٹ ) کو یہ بات اچھی نہ لگی تھی ، اور اُس نے یہ بھی محسوس کیا تھا کہ جِس شخص کی وجہ سے اُس کے دوست اور پرستار اُس کی محفل سے دُور ہوئے تھے ، وہ شخص کچھ کہہ کر بھی گذرا ہے ، تو اُس گلوکار و فنکار نے اپنے دوستوں سے پوچھا اُس شخص نے کیا کہا ہے ؟
جو کچھ عبدا للہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ ُ  نے فرمایا تھا دوستوں نے بتا دیا،،،گانے والے نے پوچھا ، یہ شخص  تھا کون ؟
لوگوں نے بتایا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے صحابی عبداللہ ابن مسعود ،
گلوکار و فنکار کے انندر کا سچا مُسلمان جاگ اُٹھا ، اُس نے اپنے ساز اِس قدر زور سے زمین پر پھینکے کہ ٹوٹ ہی گئے ، اور وہ دوڑتے ہوئے عبداللہ ابن مسعود کے پاس پہنچا اور اپنا رومال جو کہ گاتے ہوئے وہ فرط طرب میں لہرا کرتا تھا ، اپنے ہی گلے میں ڈال کر کس لیا ، اور رونے لگا ،
عبداللہ رضی اللہ عنہ ُ نے اُس کا رومال کھولا اور خود بھی رونے لگے اور کہا """ میں اُس سے کیسے محبت نہ رکھوں جسے اللہ نے محبت کی """ اس کے بعد وہ گلوکار و فنکار دُنیائے طرب و شہرت کو چھوڑ کر  اپنے ناصح عبداللہ ابن مسعود  رضی اللہ عنہ ُ کا باقاعدہ اور مستقل  شاگردبن گیا ،  اور اُن سے احادیث روایات فرمائیں اور قران کریم کے علوم میں سے وافر حصہ پایا یہاں تک علوم ء قران کے إِماموں میں شمار ہوا، ،،،، آپ جانتے ہیں کہ وہ کون تھا ؟؟؟
جی اُن کا نام زاذان الکِندی  ہے ، إِمام زاذان ابو عُمر الکِندی  رحمہُ اللہ،  
اِن دو مذکورہ بالا واقعات میں ہمیں دو بڑے أہم سبق ملتے ہیں :::
::::: (1) ::::: نصیحت کرنے کے ایک اور انتہائی طاقتور اور پر اثر اسلوب کا سبق ،
اور وہ یہ کہ کسی کو نصیحت کرتے ہوئے ،ایسا انداز اپنانا چاہیے جو شیطان کو یہ موقع نہ دے کہ وہ اُس شخص کی معاشرتی حیثیت کو نصیحت قبول کرنے سے روکے رہنے کا سبب بنا دے ، یعنی نصیحت ایسے انداز میں نہ کی جائے جس میں کسی کو اُس کی بے عزتی یا توہین محسوس ہو ، اور خاص طور پر اگر آپ کے سامنے کوئی ایسی شخصیت ہو جو کسی بھی طور کوئی غیر معمولی معاشرتی حیثیت رکھتا ہو تو  اُسے نصیحت کرتے ہوئے اِس معاملے پر خصوصی توجہ رکھنا چاہیے ، کیونکہ اگر شیطان اُس شخص کو اُس کی عِزت و رُتبے وغیرہ کے چکر میں ڈال دے تو بسا اوقات  وہ شخص حق کا اِنکار کر کے ہمیشہ ہمیشہ نقصان پانے والوں میں سے ہو جاتا ہے ، 
اللہ جلّ و عُلا نے ہمیں یہ حقیقت اِن الفاظ میں سمجھائی ہے کہ (((((وَإِذَا قِيلَ لَهُ اتَّقِ اللَّهَ أَخَذَتْهُ الْعِزَّةُ بِالْإِثْمِ فَحَسْبُهُ جَهَنَّمُ وَلَبِئْسَ الْمِهَادُ ::: اور جب اُس سے کہا جاتا ہے کہ اللہ ( کی نافرمانی اورعذاب)سے بچو تو اُس کی عِزت اُسے گناہ کے ساتھ تھام لیتی ہے ، پس اُس کے لیے جہنم کافی ہے جو کہ یقیناً بہت ہی برا ٹھکانہ ہے)))))سُورت البقرہ(2)/آیت 206،
اور إِمام الشافعی رحمہُ اللہ نے فرمایا ہے  """ تعمدني بنُصحكَ في انفرادي ..... وجَنبَني النَّصيحة في الجماعةِ
فإن النُّصحَ بينَ الناسِ نوعٌ ..... مِن التوبيخِ لا أرضىَ استماعه"""،  یعنی ، مجھے  علیحدگی میں اپنی نصیحت سے نوازو، اور لوگوں کے درمیان مجھے نصیحت کرنے سے دُور رہو ، کیونکہ لوگوں کے درمیان میں نصیحت کرنا ، ڈانٹ ہوتا ہے اور میں اُسے سُننا پسند نہیں کرتا، 
::::: (2) ::::: نصیحت ایسے انداز میں ہونی چاہیے جس میں جھگڑے  اور بحث کا عنصر نہ ہو ، کیونکہ بحث عموماً جھگڑے کا انداز لیے ہوتی ہے اور عموماً محض اپنی اپنی باتیں درست دِکھانے کے لیے ہوتی ہے نصیحت کے لیے نہیں ہوتی ، اور اگر کوئی شخص نصیحت کے لیے کر بھی رہا ہو تو اُس کا اثر نصیحت کی طرح نہیں ہو پاتا کیونکہ اُس کا اسلوب نصیحت کی طرح رہ نہیں پاتا ، بلکہ جھگڑا اور کٹ حجتی ہو جاتا ہے ،
اللہ تبارک و تعالیٰ نے ہمیں اس کی خبر یوں فرمائی کہ (((((وَقَالُوا أَآلِهَتُنَا خَيْرٌ أَمْ هُوَ مَا ضَرَبُوهُ لَكَ إِلَّا جَدَلًا بَلْ هُمْ قَوْمٌ خَصِمُونَ  ::: اور وہ لوگ کہنے لگے کہ بھلا ہمارے معبود اچھے ہیں یا عیسیٰ ؟ اُن لوگوں نے عیسیٰ کی جو یہ مثال آپ کے لیے بیان کی ہے توصرف جھگڑا کرنے کے لیے (نہ کہ حق سمجھنے یا ماننے کے لیے ، لہذا)حقیقت یہ ہے کہ وہ لوگ ہیں ہی جھگڑالو ))))) سورت الزُخرف / آیت85،
یہی بات ہمیں اللہ کے رسول کریم محمد صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم جن کی ز ُبان مبارک وحی کے مطابق ہی کلام فرماتی تھی نے  اِسی آیت مبارکہ کی تفسیر میں سمجھاتے ہوئےاِرشادفرمایا(((((ما ضَلَّ قَوْمٌ بَعْدَ هدي كَانُوا عليه إلا أُوتُوا الْجَدَلَ ثُمَّ تَلَا هذه الْآيَةَ بَلْ هُمْ قَوْمٌ خَصِمُونَ ::: کوئی قوم ہدایت ملنے کے بعد صرف جھگڑوں میں پڑنے سے ہی  گمراہ ہوتی ہے ، اور پھر اُنہوں نے یہ  آیت مبارکہ تلاوت فرمائی ،  بلکہ وہ لوگ ہیں ہی جھگڑالو)))))سُنن ابن ماجہ /حدیث 48/باب 7، سنن الترمذی ، مُسند احمد /حدیث 22218 ،22311،حدیث صحیح ہے ، المشكاة المصابیح بتخریج الامام الالبانی /حدیث 180،
پس نصیحت کرنے والوں کو یہ معاملات اپنی نظر میں رکھنے چاہیے ، اُنہیں چاہیے کہ اگر وہ نصیحت کرنا چاہتے ہوں تو حتیٰ الامکان جھگڑے والی بحث سے گریز کریں ،
::::::: جھگڑے یا بات کو نہ ماننے کےعمومی اسباب میں سے یہ بھی ہوتا ہے کہ دوسرے کو بولنے کا موقع ہی نہ دیا جائے ، اُس کی بات کاٹی جائے ، اُس کی بات کو شور کرتے ہوئے یا اپنی ہی بات کا تکرار کرتے ہوئے دبانے کی کوشش کی جائے ، تو اِس کا بہت منفی اثر مرتب ہوتا ہے جو نصیحت یا فائدہ مندبات کو بھی دوسرے کے لیے ناقابل قبول یا نفرت انگیز بنا دیتا ہے ، اور ایسا کرنے والے کی شخصیت اپنی خوبیوں کے باوجود پسندیدہ نہیں رہتی ، اور لوگ ایسے شخص کی بات سننے ، اُس سے بات کرنے سے گُریز کرتے ہیں ، جو کسی اور سے پہلے خُود اُس  شخص کے لیے ہی نُقصان کا باعث ہوتا ہے ، پس نصیحت کرنے والے کو ، اچھی بات سمجھانے کی کوشش کرنے والے کو اِس معاملے  کا بھی خُوب خیال رکھنا چاہیے کہ اگر واقعتا وہ نصیحت ہی کرنا چاہتا ہے ، کسی کو کوئی اچھی بات سمجھانا ہی چاہتا ہے تو صرف اپنی ہی سنا سنا کر دوسرے کی عزت ء نفس کو مجروح کرنے کی کوشش سے باز رہے ،
جی اگر وہ بحث برائے بحث یا اپنی ذات یا اپنے معاشرتی رتبےیا اپنے مذھب ومسلک جماعت و گروہ  وغیرہ کی تائید و نصرت کے لیے بات کرتا ہے تو پھر ایسی غیر اخلاقی حرکات کا سر زد ہونا سمجھی سمجھائی بات ہے ، لیکن پھر بھی ایسی حرکات  کا نتیجہ یہی نکلتا ہے کہ ہر عقلء سلیم رکھنے والا ایسے شخص کی علمی کمزوری بھانپ لیتا ہے ، اور اُس کی بد اِخلاقی کو جان لیتا ہے ،   
::::::: چونکہ نفوس مختلف اِقسام کے ہیں ، اور عام طور پرنصیحت والی بات قبول کرنا مشکل ہوتا ہے، خاص طور پر دینی معاملات میں ، کیونکہ دین ہی ایسا بےچارہ ہو چکا ہے کہ ہر کوئی اُس سے متعلق اَحکام و معاملات اپنی اپنی سوچ و فکر اور  خواھشات کے مطابق سمجھنے میں خود کو آزاد سمجھتا ہے ،
:::::::بسا اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ اللہ کی طرف سے دیے گئےواضح  احکام کی موجودگی میں کی گئی نصیحت کی بات کو دِل سے ٹھیک ماننے کے باوجود کچھ لوگ کچھ ذاتی اَسباب کی بنا پر اُس کو نہیں مانتے ، گو کہ نصیحت کا نہیں بلکہ اللہ سُبحانہ ُ و تعالیٰ کے اِرسال کردہ دلائل کا اِنکار کر دیتے ہیں ، کہ اُن کی بات درست ثابت ہو اور جو کچھ مد مقابل ہے غلط ثابت ہو ،
  اللہ جلُ جلالہ ُ  نے ایسے لوگوں  کوفسادی قرار دیا ہے اور اُن کے بُرے انجام کی خبر دیتے ہوئے  اِرشاد فرمایا (((((وَجَحَدُوا بِهَا وَاسْتَيْقَنَتْهَا أَنْفُسُهُمْ ظُلْمًا وَعُلُوًّاۚ فَانْظُرْ كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُفْسِدِينَ::: اور بےانصافی اور غرور سے اُن(یعنی اللہ کی نشانیوں)کا اِنکار کیا لیکن اُن(اِنکار کرنے والوں) کے دِل اُن (نشانیوں)کو مان چکے تھے، سو دیکھ لو فساد کرنے والوں کا انجام کیسا ہوا)))))سورت النمل /آیت14 ،
::::::: ابلیس اور اُس کے ساتھی عموماً ایسے ہی لوگوں کو استعمال کرتے ہوئے اُن کے دلوں میں  طرح طرح وسوسے ڈال کر سیدی سادھی واضح نصیحت پر بھی بحث شروع کروا دیتے ہیں ،
 لہذا  اگر نصیحت کے جواب میں ایسی بحث شروع ہو جائے جو جھگڑے کی صُورت اختیار کرنے لگے تو ایک اچھے ناصح  یعنی نصیحت کرنے والے ، اور داعی الی الحق  یعنی حق کی طرف دعوت دینے والے کو یہی چاہیے کہ وہ اپنی بات کو صحیح مقبول شرعی دلائل تک محدود رکھے اور برائی کا جواب برائی سے نہ دے ،
اِس کی بات اور بحث  اسلامی عِلمی اور اِخلاقی حدود سے خارج نہ ہونے پائے (((((ادْعُ إِلَىٰ سَبِيلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ وَجَادِلْهُمْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ إِنَّ رَبَّكَ هُوَ أَعْلَمُ بِمَنْ ضَلَّ عَنْ سَبِيلِهِ وَهُوَ أَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِينَ ::: (اے رسول) آپ لوگوں کو اپنے رب کی راہ کی طرف حِکمت اور اچھے،دانش مندانہ،نرم  اورنصیحت آمیز بات کے ذریعے بلایے ، اور اُن سے(اسی)اچھے طریقے سے  مناظرہ کیجیے، یقیناً آپ کا رب اُسےجانتا ہے جو اُس کی راہ سے بھٹک گیا ہے اور اُسے بھی جانتا ہے جو ہدایت پر ہیں )))))سُورت النحل(16) /آیت 165،  
:::::::پس نصیحت کرنے والے کا ھدف نصیحت کرنا رہنا چاہیے ، نا کہ اپنی بات کی درستگی کے لیے جھگڑا ، اور اگر کبھی کوئی ضدی جاھل قسم کا شخص بحث کرنے لگے تو بھی نصیحت کرنے والے کو اُس کی ضد اور جہالت کو ذاتی مسئلہ نہیں بنانا چاہیے ، بلکہ مقبول شرعی دلائل کے ساتھ اُس کا جواب دے کر اپنی نصیحت پیش کرتے رہنا چاہیے ، تا کہ اللہ تعالیٰ اُس کی نصیحت کو  سبب بنا کر دوسروں کو  کسی جاھل کی جہالت، کسی دھوکے باز کی دھوکہ دہی ، کسی ضِدی کی ضِد ، کسی اَنا پرستی کی اَنانیت ، کسی باطل کو حق کی تلبیس کرنے والے کی تلبیس  وغیرہ سے محفوظ رکھے ،  
دو جلیل القدر ، عظیم المرتبہ صحابیوں رضی اللہ عنہما کے مذکورہ بالا دو واقعات ، اور اُن سے پہلے اُن کے استاد کریم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے نصیحت کرنے کے انداز میں سے ملنے والے اَسباق پر مختصر سی بات کے بعد میں اُنہی کی روشنی میں ایک دو اور نکات پر کچھ عرض کرتے ہوئے اپنی یہ بات ختم کروں گا ، اور وہ نکات یہ ہیں کہ :::
::::::: کبھی یُوں بھی ہوتا ہے کہ جسے نصیحت کی جاتی ہے وہ شخص نصیحت قبول کرنے کے سلسلے میں کچھ بہانے ، کچھ عُذر پیش کرتا ہے ،جو کسی طور کچھ مضبوطی نہیں رکھتے، بلکہ حقیقت میں اِس بات کی دلیل ہوتے ہیں کہ وہ شخص دِل سے تو اُس نصیحت کو مان چکا ہے لیکن اُس پر عمل کرنے میں کچھ ہچکچاہٹ رکھتا ہے ، جس کے کئی اسباب ہو سکتے ہیں ، اور عام عمومی سبب """ لوگ کیا کہیں گے؟ """ ہوتا ہے ،
پس ناصح یعنی نصیحت کرنے والے ، اور داعی الی الحق یعنی حق کی طرف دعوت دینے والے  کو یہ  بھی خیال رکھنا چاہیے ایسے عُذر پیش کرنے والے کی طرف سے مایوس نہ ہو ، اور نہ  ہی اُس پر سختی کرے بلکہ اُس کے بیان کردی اَسباب کو سمجھا جائے اور عُذر پیش کرنےوالےکو اُن اَسباب سے نجات حاصل کر کے نصیحت پر عمل کرنے میں مدد کی جائے ،
::::::: بسا اوقات یہ بھی ہوتا ہے کہ جسے نصیحت کی جائے وہ جواب میں نامناسب اِلفاظ استعمال کرتا ہے ، ایسے الفاظ جو شرعی طور پربھی اور اِخلاقی طور پر بھی نا مُناسب ہوتے ہیں، تو ایسی صُورت میں ناصح کو چاہیے کہ وہ اُس شخص کو شدید یا اُسی طرح کے نا مناسب اِلفاظ میں جواب دینے کی بجائے اُس کی اُس بیماری کا بھی اچھے طریقے سے علاج کرنے کی کوشش کرے ، اور اپنی نصیحت میں مُستمر رہے ، اور اللہ سے دُعا بھی کرتے رہے کہ اللہ تعالیٰ اس کی کوششوں کو قبول کر ے ، اور اس کا نتیجہ دُنیا اور آخرت میں اس کا مثبت نتیجہ عطاء فرمائے۔
 و السلام علیکم۔طبگارء دُعا ء ، عادِل سُہیل ظفر ۔
تاریخ کتابت : 14/ZulQada(11)/14331،،،بمطابق 22/10/2010 عیسوئی ،
تاریخ نظر ثانی : 28/Muharam(01)/14335،،،بمطابق 02/12/2013 عیسوئی ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مضمون  کا برقی نسخہ درج ذیل ربط پر میسر ہے :
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Sunday, December 1, 2013

اختلاف اور اخلاق_Ekhtlaf aur Ekhlaq



:::::: اِختلاف  اور  اِخلاق :::::::
بسّمِ اللہ الرّ حمٰنِ الرَّحیم
اِن اَلحَمدَ لِلِّہِ نَحمَدہ، وَ نَستَعِینہ، وَ نَستَغفِرہ، وَ نَعَوذ بَاللَّہِ مِن شرورِ أنفسِنَا وَ مِن سِیَّأاتِ أعمَالِنَا ، مَن یَھدِ ہ اللَّہُ فَلا مُضِلَّ لَہ ُ وَ مَن یُضلِل ؛ فَلا ھَاديَ لَہ ُ، وَ أشھَد أن لا إِلٰہَ إِلَّا اللَّہ وَحدَہ لا شَرِیکَ لَہ ، وَ أشھَد أن مُحمَداً عَبدہ، وَ رَسو لہ،
 بے شک خالص تعریف اللہ کے لیے ہے ، ہم اُس کی ہی تعریف کرتے ہیں اور اُس سے ہی مدد طلب کرتے ہیں اور اُس سے ہی مغفرت طلب کرتے ہیں اور اللہ کی پناہ طلب کرتے ہیں اپنی جانوں کی بُرائی سے اور اپنے گندے کاموں سے ، جِسے اللہ ہدایت دیتا ہے اُسے کوئی گمراہ نہیں کر سکتا ، اور جِسے اللہ گُمراہ کرتا ہے اُسے کوئی ہدایت دینے والا نہیں ، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ بے شک اللہ کے عِلاوہ کوئی سچا اور حقیقی معبود نہیں اور وہ اکیلا ہے اُس کا کوئی شریک نہیں ، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ بے شک محمد اللہ کے بندے اور اُس کے رسول ہیں :::  
خِلاف اور اِختلاف معروف الفاظ ہیں ،  اور غالباً اِن کے مفاہیم بھی معروف ہیں ،
لغوی طور پر اِختلاف کا اصل مادہ """ خَلَفَ """ ہے ، اس کو لغت میں یوں بیان کیا جاتا ہے :::
خَلَفَ ، یَخلِفُ ، خِلاف ٌ ، مُخالف ٌ ، اور ،
باب """ اِفتَعلَ "" سے ، اَختَلفَ ، یَختلفُ ، اِختلافٌ ، مُختَلِفٌ ، ہے،
مفہوم کے اعتبار سے دونوں ایک ہی مفہوم رکھتے ہیں کہ""" الخِلاف ھو ضِدُ الإِتفاق و ھو أن یذھبَ أحدُھُما اِلیٰ ما یُخلافُ الآخر::: خِلاف ، اتفاق کی ضد ہے اور وہ یہ ہے کہ دو(اشخاص ،یا جاندار اور ذی عقل چیزوں )میں سے ایک اُس طرف جائے جو دُوسرے کے خلاف ہو """،
پس خِلاف اور اِختلاف کے لغوی معنی و مفہوم طور پر کوئی اِختلاف نہیں اور اِسی طرح اصطلاحی استعمال میں بھی کوئی خِلاف نہیں ،،،،،اِس کے ہم معنی الفاظ میں""" فَرقٌ ، اور ، اِفتراقٌ """، """ نَزعٌ ، اور ، اِنتَزاعٌ""" ہیں ،
اللہ سبحانہ ُ و تعالیٰ کے کلام پاک میں اِن تینوں کے مذکورہ بالا مفاہیم کے مطابق اِستعمال کی مثالیں میسر ہیں جو اِس بات کی تائید ہیں کہ اصطلاحی طور پر بھی اِن کے مفاہیم میں کوئی فرق نہیں ،
اور اللہ سُبحانہُ  و تعالیٰ کے فرامین مُبارکہ میں  یہ بھی بہت واضح ہے کہ اِختلاف ، تفرقہ ، تنازع ، اللہ کو ناپسندہیں اور اللہ کی ناراضگی کے اَسباب میں سے ہیں ، اور دُنیا اور آخرت کی ذلت اور عذاب کے اَسباب میں سے ہیں ،مثلا ،
اللہ تبارک و تعالیٰ کا فرمان ہے﴿كَانَ النَّاسُ أُمَّةً وَاحِدَةً فَبَعَثَ اللّهُ النَّبِيِّينَ مُبَشِّرِينَ وَمُنذِرِينَ وَأَنزَلَ مَعَهُمُ الكِتَابَ بِالحَقِّ لِيَحكُمَ بَينَ النَّاسِ فِيمَا اختَلَفُوا فِيهِ وَمَا اختَلَفَ فِيهِ إِلاَّ الَّذِينَ أُوتُوهُ مِن بَعدِ مَا جَاءتهُمُ البَيِّنَاتُ بَغياً بَينَهُم فَهَدَى اللّهُ الَّذِينَ آمَنُوا لِمَا اختَلَفُوا فِيهِ مِنَ الحَقِّ بِإِذنِهِ وَاللّهُ يَهدِي مَن يَشَاءُ إِلَى صِرَاطٍ مُّستَقِيمٍ :::پہلے سب ہی لوگ ایک اُمت تھےتو اللہ نے نبی بھیجے ، خوشخبریاں دینے والے اور ڈرانے والے اور اُن کے ساتھ کتاب نازل فرمائی ، حق کے ساتھ ،تا کہ وہ نبی اُس کے بارے میں(اس کتاب کے ذریعے ) فیصلے کریں جِس میں لوگوں کا اختلاف ہے ، اور(جو کچھ، کتاب اور احکام)اُنہیں دیا گیا اُس میں انہوں نےاُس وقت اِختلاف کیا جب کہ اُن کے پاس واضح روشن دلائل آ چکے تھے، اُنہوں نے(یہ اِختلاف )آپس میں بغاوت کرتے ہوئے کیا، تو اللہ نے اِیمان لانے والوں کو اپنی اِجازت سے حق میں سے اُس کے بارے میں ہدایت فرمائی جس میں لوگوں نے اِختلاف کیا ، اور اللہ جسے چاہے اِستقامت والے راستے کی ہدایت دیتا ہےسورت البقرہ (2)/آیت 213 ،
اللہ پاک کے اس مذکورہ بالا فرمان میں """ اِختلاف """ کی مذمت بہت واضح ہے ، یہ صرف ایک موقع نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ نے اس عمل کی مذمت اور بھی کئی دفعہ فرمائی ، مثلاً:::
﴿وَمَا تَفَرَّقُوا إِلَّا مِن بَعدِ مَا جَاءهُمُ العِلمُ بَغياً بَينَهُم وَلَولَا كَلِمَةٌ سَبَقَت مِن رَّبِّكَ إِلَى أَجَلٍ مُّسَمًّى لَّقُضِيَ بَينَهُم وَإِنَّ الَّذِينَ أُورِثُوا الكِتَابَ مِن بَعدِهِم لَفِي شَكٍّ مِّنهُ مُرِيبٍ ::: اور وہ (سابقہ اُمتیں )اُن کے پاس عِلم آنے کے بعد ہی ایک دوسرے کے خلاف بغاوت کرتے ہوئے فرقوں میں تقسیم ہوئے، اور اگر اللہ کی طرف سے ایک (حساب ، اور جزا و سزا کے لیے )مقررہ وقت کی بات نہ ہوچکی ہوتی تو فیصلہ ہو جاتا ، اور بے شک جنہیں اِن (اختلاف کرنے فرقوں میں بٹ جانے والوں) کے بعد کتاب کی وراثت ملی وہ بھی اُس کے بارے میں شک کا شکار ہیںسورت الشُوریٰ (42)/آیت 14،
اِس آیت شریفہ کی ایک تفسیر یہ بھی  بیان ہوئی ہے کہ آیت مبارکہ میں""" لَفِي شَكٍّ مِّنهُ مُرِيبٍ""""میں مذکور """ مِّنهُ """ میں سے """ ہُ""" سے مُراد رسول اللہ  مُحمد (صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم) ہیں ،
بہر حال اِس سے مُراد وہ کتاب لی جائے جو سابقہ لوگوں، سابقہ  اُمتوں کو دی گئی اور جِس کا ذِکر کیا گیا ،
یا  خلیل اللہ ، محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی ذات مُبارکہ لی جائے ، بہر صورت اِختلاف  کا ذِکر ایک مذموم ، نا پسندیدہ ، اور برے عمل کے طور پر ہی ہوا ہے ،
اس نا پسندیدہ کام کو اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے لیےجائز نہ رکھتے ہوئے حُکم فرمایا﴿وَاعتَصِمُوا بِحَبلِ اللّهِ جَمِيعاً وَلاَ تَفَرَّقُوا:::  اور اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رکھو اور الگ الگ مت ہوسورت آل عمران(3)/ آیت103،
اور اللہ سُبحانہ ُ و تعالیٰ نے  اِس مذموم عمل یعنی اِختلاف اور گرو ہ بندی کی بہت وضاحت کے ساتھ مذمت فرماتے ہوئے ، اُس سے منع فرماتے ہوئے اور اُس کا خوفناک نتیجہ بتاتے ہوئے اِرشاد فرمایا﴿وَلاَ تَكُونُوا كَالَّذِينَ تَفَرَّقُواوَاختَلَفُوا مِن بَعدِ مَا جَاءهُمُ البَيِّنَاتُ وَأُولَـئِكَ لَهُم عَذَابٌ عَظِيمٌ:: اورتُم لوگ اُنکی طرح مت ہو جانا جنہوں نے اُنکے پاس روشن نشانیاں آ جانےکے بعد(بھی)گروہ گروہ ہو گئے اور اِختلاف کیا اور وہی ہیں جِن کے لیے بڑا عذاب ہےسورت آل عمران(3)/آیت105،
اللہ جلّ و عُلا نے ہمیں مزید یہ بھی بتایا کہ اختلاف اور گروہ بندی کا عذاب صرف آخرت میں ہی نہ ہو گا بلکہ دُنیا میں بھی ذلت و رسوائی کا سبب ہو گا ، پس فرمایا﴿وَأَطِيعُوا اللّهَ وَرَسُولَهُ وَلاَ تَنَازَعُوا فَتَفشَلُوا وَتَذهَبَ رِيحُكُم وَاصبِرُوا إِنَّ اللّهَ مَعَ الصَّابِرِينَ :::  اور اللہ کی تابع فرمانی کرو اور اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم)کی تابع فرمانی کرو اور تنازع مت کرو ورنہ تُم لوگ ناکام ہو جاؤ گے اور تُم لوگوں کی ہوا اُکھڑ جائے گی اور صبر کرو بے شک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہےسورت الأنفال(8)/ آیت46،
اِختلاف ، تنازع اور گروہ بندی کے منفی نتائج کے باوجود کئی اور ایسے ہی منفی نتائج والوں کاموں کی طرح اللہ سُبحانہُ و تعالیٰ نے اپنی مکمل بے عیب حکمت سے مقرر فرمایا کہ سابقہ اُمتوں کی طرح مسلمانوں میں بھی یہ مذموم عمل پایا جائے گا ، اور اِس کی خبر بھی فرمائی ﴿ وَلَو شَاء رَبُّكَ لَجَعَلَ النَّاسَ أُمَّةً وَاحِدَةً وَلاَ يَزَالُونَ مُختَلِفِينَ o إِلاَّ مَن رَّحِمَ رَبُّكَ وَ لِذَلِكَ خَلَقَهُم وَ تَمَّت كَلِمَةُ رَبِّكَ لأَملأنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الجِنَّةِ وَالنَّاسِ أَجمَعِينَ:::  اور اگر آپ کا رب چاہتا تو سارے ہی لوگوں کو ایک ہی اُمت بنا دیتا (لیکن اُس نے ایسا نہیں کیا ) اور وہ ابھی تک مُختلف ہیں o سوائے اُن کے جِس پر آپ کے رب نے رحمت کی (اور اختلاف سے محفوظ رکھا )اور اللہ نے لوگوں کو اسی لیے ہی بنایا اور اللہ آپ کے رب کا فرمان پورا ہو(کر رہے )گا(کہ)میں ضرور جہنم کو انسانوں اور جِنّات سے بھروں گاسورت هود/آیات 118 ، 119،
یعنی ایسا نہیں ہو سکتا کہ مُسلمانوں میں اِختلاف ختم ہو جائے ، یہ رہے گاخواہ بہت ہی معمولی رہے ، چھوٹے چھوٹے معاملات میں رہے ، پس یہ ختم نہ ہوسکنے والی چیز ہے ،
لیکن یہ ضرور کیا جا سکتا ہے اور ایسا کرنے کے لیے کچھ زیادہ محنت بھی درکار نہیں کہ اِختلاف کی صورت میں اپنے مُسلمان بھائی بہنوں کے حقوق اور اَحترام کی ادائیگی میں کوئی کمی نہ کی جائے اور نہ اپنے دِل میں اُن کے لیے کوئی بُغض رکھا جائے ،
یہاں تک کہ کسی کے بارے میں بالکل واضح طور پر یہ ثابت نہ ہو جائے کہ معاذ اللہ وہ حق جانتے ہوئے بھی باطل پر عمل پیرا ہے ، تو ایسے شخص کے لیے دِل میں کوئی اَحترام نہیں رہتا ،  
ایسا قطعاً نا مُمکن نہیں کہ ہم اپنے اختلاف کی بنا پر وجود میں آنے والی تفریق کو صرف اُس موضوع ، اُس بات ، اُس کام کے اندر تک محدود رکھیں جس میں وہ ہوا ہے ، اور اُس اِختلاف کے بارے میں بات چیت کریں ، ایک دوسرے کے دلائل سنیں ، مانیں یا رَد کریں  یہ ایک الگ معاملہ ہے ، لیکن  دونوں میں سے کسی بھی صُورت میں ، یعنی ماننے یا رَد کرنے میں سے کسی بھی صُورت میں ایک دوسرے سے اِسلامی بھائی چارہ قائم رکھیں ،
بھائیو، بہنو، خوب اچھی طرح سے سمجھ لیجیے ، اور اُس سے کہیں زیادہ اچھی طرح سے یاد رکھ لیجیے کہ ،بے شک ہم سب کے لیے اللہ کے رسول محمد  صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی ذات مُبارک ہر کام میں ہر لحاظ سے بہترین نمونہ ہے ،اور معاملہ صرف نمونہ ہونے کا ہی نہیں بلکہ اُن صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی اِتباع فرض ہے اور اُن صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی عطاء کردہ ہدایت اور ترغیب پر عمل کرنے سے بڑھ کر دُرستگی اور خیر والا کام اور کوئی نہیں ،
رسول اللہ  محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے اِرشاد فرمایا﴿خَيرُ الناس قَرنِي ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُم ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُم::: سب سے زیادہ خیر والے لوگ میرے زمانے کے ہیں پھر جو اُن کے بعد ہیں ، پھر جو اُن کے بعد ہیںصحیح البُخاری /حدیث 3451 /کتاب فضائل الصحابہ /باب اول ، صحیح مُسلم/حدیث 2533/کتاب فضائل الصحابہ /باب 25،
آیے دیکھتے ہیں کہ تمام تر لوگوں میں سے زیادہ خیر والے لوگ جو اُن سب سے زیادہ خیر والے  تین زمانوں میں تھے ، اُن لوگوں کا ایک دووسرے سے اِختلاف ہونے کی صورت میں کیا رویہ رہتا تھا ،
ہمارے دوسرے بلا فصل خلیفہ أٔمیر المؤمنین عُمر الفاروق  رضی اللہ عنہ ُ و أرضاہ ُ ، اور ابن مُسعود رضی اللہ عنہ ُ ، کےبارےمیں معروف ہے کہ وہ تقریباً ایک سو مسائل میں ایک دوسرے کے خِلاف تھے ، یعنی ان میں تنازع تھا ،
 لیکن اس کے باوجود ابن مسعود رضی اللہ عنہ ُ ، أٔمیر المؤمنین عُمر رضی اللہ عنہ ُ کی یاد میں رو پڑتے اور اُن کےبارے میں یہ کہا کرتے تھے کہ"""إِنَّ عُمَرَ رضي اللَّهُ عنهُ كان لِلإِسلامِ حِصنًا و حصيناً يَدخُلُونَ في الإِسلامِ وَلا يَخرُجُونَ فلما أُصِيبَ عُمَرُ انثَلَمَ الحِصنُ:::عُمر رضی اللہ عنہ ُ اِسلام کے لیے ایک قلعہ تھے کہ لوگ اِسلام میں داخل ہوتے تھے جس میں لوگ داخل ہو کر نکلتے نہ تھے جب عُمر (رضی اللہ عنہ ُ)فوت ہو گئے تو اُس قلعہ میں دڑار پڑ گئی """،
 اور ہمارے یہ دوسرے بلا فصل خلیفہ  أمیر المؤمنین عُمر رضی اللہ عنہ ُ ، اپنے سے بہت چھوٹے عُمر اور رتبے والے صحابی  عبداللہ ابن مُسعود رضی اللہ عنہ ُ کو دوسرے شہروں میں دِینی معاملات کے لیے اُستاد بنا کر بھیجا کرتے تھے ، اور اُن کے بارے میں فرمایا کرتے تھے کہ""""" کنیفٌ ملیءٌ عِلماً::: (ابن مسعود رضی اللہ عنہ ُ) عِلم (یعنی قران و حدیث کے عِلم ) سے بھرا ہوا برتن ہیں""""""(کنیف ، مترادف وِعاءٌ ہے ،  اور وِعاءٌ  کسی بھی ایسی چیز کو کہتے ہی جو کسی دوسری چیز کو اپنے اندر چھپا سکے)،
عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما اور زید بن ثابت رضی اللہ عنہ ُ  میں بھی اِسی طرح دادا کی وراثت سے متعلق کئی مسائل میں اِختلاف تھا ، اور ابن عباس رضی اللہ عنہما کہا کرتے تھے کہ"""  کیا زید اللہ کا خوف نہیں کرتے کہ پوتے کو دادا کا وارث بتاتے ہیں اور دادا کو پوتے کا نہیں""" ،
لیکن یہ  اِختلاف بھی صرف مسائل کی حد تک ہی تھا اوروہ دونوں ہی  ایک دوسرےکااِحترام اِس طرح کیا کرتے تھے کہ( ایک دفعہ)زید بن ثابت رضی اللہ عنہ ُ سوار ہونے لگے تو ،ابن عباس رضی اللہ عنہما زید رضی اللہ عنہ ُ کی سواری کی رکاب تھام لی تو زید بن ثابت رضی اللہ عنہ ُ نے فرمایا """اے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے چچا زاد بھائی اِس کی رکاب چھوڑ دیجیے""" ،تو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا """ ہمیں اِسی طرح اپنے عُلماء کی عِزت کرنا سکھایا گیا ہے""" ،
اور جب زید رضی اللہ عنہ ُ فوت ہوئے تو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا """ اس طرح عِلم ختم ہوتا ہے ، آج بہت زیادہ عِلم چلا گیا""""،
یونس الصدفی رحمہ ُ اللہ کا کہنا ہے کہ"""میں نے (اِمام)شافعی (رحمہُ اللہ )سے بڑھ کر عقل مند کوئی نہیں دیکھا ، ایک دِن میں نے اُن کے ساتھ کسی مسئلہ پر مناظرہ کیا اور ہم الگ الگ ہو گئے ، اُسکے بعد جب شافعی (رحمہُ اللہ )مجھے ملے تو اُنہوں نے میرا ہاتھ تھام کر کہا""" عیسیٰ کے باپ کیا یہ اچھا نہیں کہ ہم بھائی بھائی رہیں خواہ کسی مسئلہ میں ہمارا اتفاق نہ ہی ہو"""،
اِمام الشافعی رحمۃُ اللہ علیہ کا ابو عیسیٰ الصدفی رحمہ ُ اللہ سےپوچھا ہوا یہ سوال ہم سب کو ایک دوسرے سے پوچھنا چاہیے ،
 اور پھر ایک دوسرے کے حقوق جانتےاورسمجھتےہوئےاوراُنہیں اَدا کرتے ہوئے ، اپنے اِختلاف کو اپنے اِخلاق کاقاتل بننے سے روکنا چاہیے ،
 اور  شرعی طور پر اِتمامء حُجت ہونے سے پہلے کسی  بھی کلمہ گو مُسلمان کے اِیمان پر بہتان لگانے سے ، اُس  پر کافر ، مُشرک اور بدعتی وغیرہ ہونے کے فتوے صادر کرنے سے بالکل دُور ہی دُور رہنا چاہیے ،
اور نہ ہی کسی بھی اِختلاف کی بِناء پر کسی کلمہ گو مُسلمان کی جان ، مال اور عِزت کو حلال سمجھ کر اُس پر حملہ آور ہونا چاہیے ،
اور نہ ہی دِینی ، دُنیاوی اور اُخروی لحاظ سے کسی بھی معاملے میں اُس کی کوئی بھی حق تلفی  کرنی چاہیے ،
اللہ تعالیٰ ہم سب کو یہ ہمت، یہ جُرأت ، یہ قوت عطاء فرمائے کہ ہم اپنے مابین  اِختلافات کو بد اخلاقی اور اِسلامی بھائی چارے کا قاتل نہ بننے دیں ، کہ یہ قاتل ایسا ہے جو ہمیں تو کوئی فائدہ نہیں دیتا لیکن ، اللہ کے دِین ، اللہ کے رسول محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم ، اور اُن کی لائی ہوئی شریعت ، اور اُن صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی اُمت کے ہر دُشمن کو خوب فائدہ دیتا ہے ،
محترم ، کلمہ بھائیو، بہنو، اِختلافی مسائل اور معاملات کو اِسلامی بھائی چارے کےحقوق کی ادائیگی کرتے ہوئے سُلجھانے کی کوشش کیا کیجیے ،  نہ کہ بد اِخلاقی کر کے مزید بگاڑ پیدا کرنے کا سبب بنا کیجیے ،
یاد رکھیے ، اور بہت اچھی طرح سے یاد رکھیے کہ  چھوٹی چھوٹی دڑاڑیں بھرنا بہت آسان ہوتا ہے لیکن جب اُنہیں بھرنے کی بجائے کِھینچا جانے لگے تو وہ بڑی بڑی خلیجیں بن جاتی ہیں ، جنہیں پاٹنا(بھرنا) تقریباً ناممکن ہو جاتا ہے ،
 اور ہم مسلمانوں پر ٹوٹنے والی بڑی بڑی مصیبتوں میں سے ایک مُصیبت بداِخلاقی،ذاتی پسند نا پسند ، شخصیت پرستی، مذھب ، مسلک اور جماعت بندی  پر مبنی اِختلاف بھی ہے جو مسلمانوں کے درمیان ایسی ہی خلیجیں پیدا کرتا چلا آرہا  ہے ،
اور افسوس صد افسوس کہ اِن خلیجوں کو پاٹنے والا کوئی شاذ و نادر ہی دِکھتا ہے ، مگر انہیں چوڑا اور گہرا کرنے میں تقریباً ہماری اُمت کا ہر فرد ہی مشغول و ملوث دِکھائی دیتا ہے ،
إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ ، إِلیہِ أشتَکِی و ھُوالمُستَعان،
اللہ تعالیٰ ہمیں ہر شر سے محفوظ رکھے ، و السلام علیکم۔طلبگارء دُعاء ، عادِل سُہیل ظفر ۔
=======================================
مصادر و مراجع :::کتاب اللہ ، صحیح البخاری ، صحیح مُسلم ، المعجم الکبیر للاِمام سلیمان الطبرانی ، مُصنف عبدالرازاق ، الطبقات الکُبریٰ للاِمام محمدابن سعد ، تذکرۃ الحُفاظ، اور ، سیر أعلام النُبلاء للاِمام محمد الذھبی ، صفۃ الصفوۃ للاِمام عبدالرحمٰن ، المعرفۃ و التاریخ للاِمام ابو یوسف یعقوب الفسوی۔
تاریخ کتابت :23/Shaban(08)/1430ہجری ،  بمطابق15/08/2009 عسیوئی ،
تاریخ نظر ثانی  27/Muhram(01)/1435 ہجری ، 01/12/2013بمطابق   عیسوئی ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مضمون کا برقی نسخہ درج ذیل ربط سے نازل کیا جا سکتا ہے :
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔