Thursday, December 10, 2015

::::::: احسان جتانے سے بہتر ہے کہ احسان کیا ہی نہ جائے :::::::

:::::: احسان جتانے سے بہتر ہے کہ احسان کیا ہی نہ جائے ::::::

  بِسمِ اللَّہ ،و الصَّلاۃُ و السَّلامُ عَلَی مُحمدٍ الذّی لَم یَکُن مَعہ ُ نبیاً و لا رَسولاً  ولا مَعصُوماً مِن اللَّہِ  و لَن یَکُون  بَعدہُ ، و علی َ أزواجہِ الطَّاھِرات و ذُریتہِ و أصحابہِ و مَن تَبِعھُم بِإِحسانٍ إِلیٰ یِوم الدِین :::شروع اللہ کے نام سے ، اور اللہ کی رحمتیں اور سلامتی ہواُس محمد پر ، کہ جن کے ساتھ  اللہ کی طرف سے نہ تو کوئی نبی تھا ، نہ رسول تھا، نہ کوئی معصوم تھا ، اور اُن کے بعد بھی ہر گِز کوئی ایسا ہونے والا نہیں ، اوراللہ کی رحمتیں اور سلامتی ہو محمد رسول اللہ  کی  پاکیزہ بیگمات پر، اور اُن کی اولاد پر ،اور اُن کے صحابہ پر ، اور جو کوئی بھی ٹھیک طرح سے ان سب کی پیروی کرے اُس پر ۔
السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ،
ہم عموماً یہ دیکھتے ہیں کہ کچھ لوگ نیکی والا کام کرتے ہیں ، دُوسروں کی مالی یا کسی اور انداز میں کوئی مدد کرتے ہیں ،ا ور پھر   جِن کی مدد کرتے ہیں ، اُن لوگوں کو کبھی تو واضح انداز میں ، اور کبھی ڈھکے چُھپے انداز میں ، باتوں میں باتیں لگا کر ، اُن لوگوں کو طعنے دیتے ہیں ، طنز کرتے ہیں ،اُن  کی وہ حالت ، پریشانی، غلطی ، وغیرہ  یاد کرواتے ہیں  جِس  کی وجہ سے اُن کی  مدد کی گئی ہو ، یا  کسی بھی اور انداز میں کوئی نیکی اور احسان والا کام کیا گیا ہو  ،  یا اُن بے چاروں کے بارے میں اِدھر اُدھر ایسی باتیں کرتے ہیں جو اُن لوگوں کی عِزت پر حرف ہوتی ہیں ،اُن کے لیے مزید شرمندگی ، ندامت اور غم کا سبب ہوتی ہے ، اور بسا اوقات تو ایسا ہوتا ہے کہ وہ لوگ یہ سوچنے لگتے ہیں کہ کاش اِس احسان جتانے والے اور طعنے دینے والے ، نے مجھ پر کوئی احسان نہ ہی کیا ہوتا ، کہ جس مُصیبت ، پریشانی ، دُکھ یا ذِلت وغیرہ میں اِس نے مجھ پر احسان کیا تھا وہ تو ایک وقت کی تھی ، لیکن اِس کا احسان جتانا، طعنے دینا ، اور میری اُس حالت کو بار بار یاد کروانا تو زندگی بھر کی شرمندگی ، دُکھ ، ذِلت اور اذیت ہے ،
پس ہوتا یہ ہے کہ  کسی کو ، کسی  وقتی پریشانی، غم ، دُکھ ، ذِلت ، اذیت وغیرہ میں  سے نکالنے کے بعد یہ احسان جتانے والے اُسے ساری زندگی کے لیے اُس سے کہیں زیادہ پریشانی، غم ، دُکھ ، ذِلت ، اذیت وغیرہ میں  ڈالے رکھتے ہیں ، اور شاید یہی وجہ ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ اُن احسان جتانے والوں ، اور اپنے احسان کے طعنے دینے والوں ، کسی کی کمزوری ، غلطی اور دُکھ کی  تکلیف دہ یاد دہانی کروانے والوں کا ، احسان کرنا  برباد ہو جاتا ہے ،
ایسے کام کرنے والے شاید یہ نہیں جانتے کہ اگر تو وہ نیک عمل ،  وہ احسان ، وہ مدد گاری اُنہوں نے اللہ کی رضا کے لیے بھی کی تھی تو بھی اِن کاموں ، یعنی طعنے دینے ، طنز کرنے ، بہانے بہانے اپنا احسان جتانے ، کمزور کو اُس کی کمزوری  یا  غلط کار کو اُس کی غلطی  کی یاد دلاتے  رہنے  وغیرہ سے اُن کی نیکی برباد ہو جاتی ہے ،
توجہ فرمایے ، محترم قارئین ،  ہمارے اکیلے لا شریک مالک اور خالق اللہ عزّ و جلّ نے حکم فرمایا ہے﴿ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُبْطِلُوا صَدَقَاتِكُمْ بِالْمَنِّ وَالأذَى ::: اے إِیمان لے آنے والو ، اپنے(خرچ کردہ )صدقات کو احسان جتا کر ، اور تکلیف دہ باتوں(طعنے، طنز  وغیرہ)کے ذریعے ضائع مت کرو﴾سُورت بقرہ (2)/آیت 264،
اور اپنے رسول کریم محمد صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی ز ُبان مُبارک سے یہ فیصلے اعلان کروائے کہ ﴿ ثلاثة لَا يُكَلِّمُهُمُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَلَا يَنْظُرُ إِلَيْهِمْ، وَلَا يُزَكِّيهِمْ، وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ: (1)الْمَنَّانُ بِمَا أَعْطَى، وَ(2)الْمُسْبِلُ إِزَارَهُ، وَ(3)الْمُنَفِّقُ سِلْعَتَهُ بِالْحَلِفِ الْكَاذِبِ::: تین قِسم کے لوگوں سے اللہ قیامت والے دِن نہ تو بات فرمائے گا اور نہ ہی اُن کی طرف دیکھے گا (ہی)اور نہ ہی اُن کی بخشش کرے گا ، اور اُن کے لیے شدید عذاب ہو گا ، (1)کچھ دے کر احسان جتانے والا، اور (2)اپنا (نچلے حصے کا)لباس (تہہ بند ، پاجامہ ، شلوار پتلون وغیرہ)ٹخنوں سے نیچے رکھنے والا ، اور (3)جھوٹی قَسم اُٹھا کر اپنا سامان (کوئی بھی چیز)بیچنے والا﴾ سُنن النسائی /حدیث/2564کتاب الزکاۃ/باب 69،إِمام الالبانی رحمہُ اللہ نے صحیح قرار دِیا ،،
اوریہ کہ ﴿لاَ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مَنَّانٌ وَلاَ عَاقٌّ وَلاَ مُدْمِنُ خَمْرٍ:::احسان جتانے والا ، اوررشتہ داریوں کو کاٹنے والا ، اور عادی شراب خور (کبھی )جنّت میں داخل نہیں ہوں گے﴾سُنن النسائی /حدیث/5690کتاب الأشربہ/باب 46،إِمام الالبانی رحمہُ اللہ نے صحیح قرار دِیا ،
مُسند احمد کی روایت میں [[[وَلاَ عَاقُّ وَالِدَيْهِ::: اپنے ماں باپ کے حق ادا نہ کرنے والا]]]ہے ، اور دونوں ہی روایات عبداللہ ابن عَمرو رضی اللہ عنہ ُ کی ہیں ، مُسند احمد /حدیث/7061مُسند عبداللہ ابن عَمرو میں سے حدیث رقم 430،
اپنے کسی مُسلمان بھائی کی مدد کے لیے ،کسی نیکی کے کام میں اپنا  مال، جان ،صحت ، وقت اور دیگر اسباب اور وسائل میں سے کچھ   خرچ کرنے کے أجر و ثواب کو احسان جتانے اور تکلیف دہ باتیں کر کے برباد کرنے کی بجائے اچھی بات کرنا چاہیے ، تا کہ آپ کا أجر و ثواب ضائع نہ ہو﴿قَوْلٌ مَعْرُوفٌ وَمَغْفِرَةٌ خَيْرٌ مِنْ صَدَقَةٍ يَتْبَعُهَا أَذًى وَاللَّهُ غَنِيٌّ حَلِيمٌ:::جانی پہچانی نیکی والی بات کرنا ، اور (جو کچھ دیا ہو)اُسے بخش دینا  اُس صدقہ (و خیرات)اچھا ہے جِس (صدقہ وخیرات)کے بعد تکلیف دی جائے ، اور اللہ (تو تمہارے اِن اعمال سے)بے نیاز ہے ، اور بُردبار ہے﴾سُورت بقرہ (2)/آیت 263،  
پس اگر آپ کسی کی کوئی مدد کر کے ،  کسی نیکی میں، اپنے مال، جان ،صحت ، وقت اور دیگر اسباب اور وسائل میں سے کچھ خرچ کر  نے کے بعد  اپنے کیے ہوئے کو جتانے والے ، یا طعنے  دینے والے،یا  طنز  کرنے والے، یا کسی کی عِزت ،اِیمان  اور کِردار کے بارے میں تکلیف دہ باتیں کرنے والے ہیں تو آپ کے لیے بہتر یہ ہے کہ آپ اپنے مال، جان ،صحت ، وقت اور دیگر اسباب اور وسائل وغیرہ میں سے کچھ خرچ کرنے کی بجائے  خیر ، اچھائی اور نرمی والی بات کرنا سیکھیے ، جس میں یہ بھی شامل ہے کہ  اگر آپ کسی  سبب سے کسی مُسلمان کی مدد نہیں کرنا چاہتے تو بھی اُسے حقارت ، نفرت ، طعنے ، طنز ، اور بے عِزتی والی باتوں کے ذریعے رد مت کیجیے ، بلکہ اچھے نیکی والے نرم انداز و الفاظ میں معذرت کر لیجیے ، جِس میں جھوٹ بھی شامل نہ ہو ، کیونکہ اُس وقت اِس انداز میں اُس کی مدد  سے انکار کرنا ، اِس  معاملے سے بہر طور بہتر ہے کہ بعد میں آپ، قولی یا فعلی طور پر  اُس پر احسان جتاتے رہیں ، اُس کو طعنے دیتے رہیں ، طنز کرتے رہیں ،
یقین جانیے کہ، اُس شخص کے لیےآپ کے اِس رویے کا برا نتیجہ  تو اُس شخص  موت کے ساتھ ختم ہوجائے گا ، یعنی وقتی معاملہ ہوگا ،  لیکن آپ کے لیے وہ برا نتیجہ آپ کی موت کے ساتھ شروع ہو گا ، جو کبھی بھی ختم ہونے والا نہیں ،
اللہ تبارک و تعالیٰ ہم سب کو یہ ہمت عطاء فرمائے کہ ہم اگر کسی کے ساتھ کوئی اچھائی ، نیکی ، مددگاری یا احسان والا کام کریں تو  وہ صِرف اور صِرف اللہ کی رضا کے لیے ہی ہو ، اور ہم اُس کام کو کرنے  کے بعد اِس طرح بھول جائیں  گویا کہ وہ کام کبھی کہیں تھا ہی نہیں ۔والسلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ،طلب گار ء دُعاء ،آپ کا بھائی ، عادِل سُہیل ظفر
تاریخ کتابت :28/02/1437ہجری ، بمُطابق ،10/12/2015عیسوئی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مضمون کا برقی نسخہ درج ذیل ربط پر میسر ہے :
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Tuesday, November 10, 2015

::::::: غار میں پھنس جانے والوں کا واقعہ اور اُس میں سے ملنے والے سبق ::::::

::::: سُنّت مُبارکہ کے باغ میں سے :::::

::::::: غار میں پھنس جانے والوں کا واقعہ اور اُس میں سے ملنے والے سبق ::::::

أَعُوذُ بِاللَّهِ السَّمِيعِ الْعَلِيمِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ مِنْ هَمْزِهِ وَنَفْخِهِ وَنَفْثِهِ
بِسمِ اللَّہ ،و السَّلامُ عَلیَ مَن اتبع َالھُدیٰ و سَلکَ عَلیَ مَسلکِ النَّبیِّ الھُدیٰ مُحمدٍ صَلی اللہُ علیہِ وعَلیَ آلہِ وسلَّمَ ، و قَد خَابَ مَن یُشقاقِ الرَّسُولَ بَعدَ أَن تَبینَ لہُ الھُدیٰ ، و اتبِعَ ھَواء نفسہُ فوقعَ فی ضَلالاٍ بعیدا۔
میں  شیطان مردُود(یعنی اللہ کی رحمت سے دُھتکارے ہوئے)کے ڈالے ہوئے جنون،اور اُس کے دیے ہوئے تکبر، اور اُس کے (خیالات و افکار پر مبنی)اشعار سے، سب کچھ سننے والے ، اور سب کچھ کا عِلم رکھنے والے اللہ کی پناہ طلب کرتا ہوں،
شروع اللہ کے نام سے ، اورسلامتی ہو اُس شخص  پر جس نے ہدایت کی پیروی کی ، اور ہدایت لانے والے نبی محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی راہ پر چلا ، اور یقینا وہ شخص تباہ ہوا جس نے رسول کو الگ کیا ، بعد اس کے کہ اُس کے لیے ہدایت واضح کر دی گئ اور(لیکن اُس شخص نے) اپنے نفس  کی خواہشات کی پیروی کی پس بہت دور کی گمراہی میں جا پڑا ۔
السلامُ علیکُم و رحمۃُ اللہ و برکاتہُ ،
عبداللہ ابن عُمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے اِرشاد فرمایا ﴿تُم لوگوں سے پہلے والوں میں سےتین لوگ کہیں جا رہے تھے کہ اُنہیں بارش نے آ لیا، تو اُنہوں نے ایک غار میں پناہ لی،(غار کے دھانے پر ایک چٹان آ گئی اور)غار کا دھانہ اُن پر بند ہو گیا،تو اُن میں سے کسی  نے کہا اے ساتھیو، اللہ کی قسم تم لوگوں  کے بچنے (کا سبب ) سِوائے صِدق کے اور کچھ نہیں ہو سکتا،
لہذا تُم سے ہر ایک اُس کام کے ذریعے (یعنی اُسے وسیلہ بنا کر اللہ سے)دُعاء کرے جس کام کے بارے میں اُسے یقین ہو کہ وہ کام اُس نے (اللہ تعالیٰ کے لیے خالص)صِدق سے کیا تھا،
تو اُن میں سے ایک نے(دُعاء کرتے ہوئے یہ)کہاکہ""" اے اللہ، آپ جانتے ہیں کہ ایک دفعہ میرے پاس ایک شخص نے چاولوں کے فَرَق(تین صاع کے برابرا ایک پیمانہ)کے عوض میرے لیے کام کیا ،اور وہ اپنا معاوضہ لیے بغیر چلا گیا، تو میں نے (اُس شخص کے حق کا فَرق)زراعت میں اِستعمال کیا، اور اُس (زراعت سے حاصل کردہ نفع)کے ذریعےمیں کچھ گائے خریدیں
پھر وہ شخص میرے پاس آیا اور اپنے حق کا مُطالبہ کِیا، تو میں نے اُسے کہا کہ اُن گاوؤں کے پاس جاؤ اور اُنہیں لے جاؤ،
اُس نے کہا تمہارے پاس میرے لیے چاولوں کا ایک فَرق ہے ،
تو میں نے کہا کہ اُن گاوؤں کی طرف جاؤ، وہ سب گائے(چاولوں کے)اُسی فَرق میں سے ہیں،
تو اُس نے وہ سب گائے لِیں اور چلا گیا ،
(اے اللہ)اگر تو یہ میں نے تیرے خوف سے کِیا تھا تو ہمارا راستہ کھول دے،
تو (اِس دُعاء کے بعد)وہ چٹان تھوڑا سے ہٹ گئی،
تو (اِس کے بعد)دُوسرے شخص نے (دُعاء)کرتے ہوئے کہا ، اے اللہ ، تُو جانتا ہے کہ میرے والدین بوڑھے تھے ،اور میں ہر رات اُن کے لیے اپنی بکریوں کا  دُودھ لے کر آتا تھا،
ایک رات مجھے اُن کے پاس پہنچنے میں دیر  ہوگئی ، تو وہ دونوں سو چکے تھے ، اور میری بیوی اور بچے بھوک سے بے حال تھے ، (میری طرف آہ و بکا کر رہے تھے)،لیکن میں اپنے بیوی بچوں کو اُس وقت تک دُودھ نہیں پلاتا تھا جب تک میرے ماں باپ نہ پی لیں ، اور اِس وقت مجھے یہ گوارہ نہ ہوا کہ میں (بیوی بچوں کی خاطر)اپنے ماں باپ کی نیند خراب کروں، اور مجھے یہ بھی پسند نہیں تھا کہ  اُنہیں دُودھ (پلائے بغیر)چھوڑ دوں ، کہ کہیں وہ (مزید)کمزوری کا شِکار نہ ہوجائیں(کہ یہ دُودھ ہی تو اُن کے لیے رات کا کھانا ہوتا تھا)،
لہذا میں دُودھ کا برتن لے کر( اُن دونوں کے سرھانے ، اُن کے خود سے جاگنے کا) انتظار کرتا رہاحتیٰ کہ فجر ہو گئی،   (اے اللہ)اگر تو یہ میں نے تیرے خوف سے کِیا تھا تو ہمارا راستہ کھول دے،
تو (اِس دُعاء کے بعد) وہ چٹان تھوڑا سے ہٹ گئی،یہاں تک انہوں نے آسمان دیکھا(لیکن اتنا راستہ نہ کھلا کہ وہ نکل سکتے)،
تو (اِس کے بعد)تیسرے شخص نے (دُعاء)کرتے ہوئے کہا ، اے اللہ ، تُو جانتا ہے کہ مجھے میرےچچا(یا تایا) کی بیٹی سب سے زیادہ محبوب تھی ، اور میں نے اُسے(ناجائز تعلقات بنانے کے لیے) پُھسلانے کی بہت کوشش کی ،لیکن اُس کی یہی شرط رہی کہ میں اُسے سو دینار دوں تو پھر ہی وہ اِس کام پر راضی ہوگی،
پھر میں نے ایک سال کوشش کر کر کے  یہ مال جمع کیا ، اور اُس کو دِیا ،
تو اُس نے اپنا آپ میرے حوالے کر دِیا ، یہاں تک کہ جب میں اُس کے دونوں پیروں کے درمیان بیٹھ گیا ، تو اُس نے کہا کہ ، اللہ (کے غصے اور عذاب )سے بچو،اوربغیر حق کے مہر مت توڑو،
تو میں وہاں سے اُٹھ کھڑا ہوا ،ا ور سو دینار بھی چھوڑ دیے،
(اے اللہ)اگر تو یہ میں نے تیرے خوف سے کِیا تھا تو ہمارا راستہ کھول دے،
تو (اِس دُعاء کے بعد) اللہ تعالیٰ نے اُن کا راستہ کھول دِیا اور وہ لوگ باہر نکل گئے﴾صحیح  البُخاری /  حدیث /3465کتاب احادیث الانبیاء/باب53،صیح  مُسلم  / کتاب الرقاق/ حدیث/7125باب2،
::::: فقہ الحدیث ::: حدیث کی تشریح اور أحکام :::::
اِس حدیث شریف میں ہمیں درج ذیل احکام اور سبق ملتے ہیں ،
::: (1) ::: اِیمان والا اللہ سے دُعاء کرتے ہوئے  اپنے اُن نیک کاموں کو وسیلہ بنا سکتا ہے جو اُس نے خالصتاً اللہ کی رضا کی نیّت سے کیے ہوں،
اور یہ نیک نیتی سے کیے گئے ، اور دُرست طور پر کیے گئے نیک کام ہی وہ وسیلہ ہیں جس کا ذِکر اللہ جلُ و عُلا نے اپنے اِس فرمان میں کیا ہے کہ﴿يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَابْتَغُوا إِلَيْهِ الْوَسِيلَةَ وَجَاهِدُوا فِي سَبِيلِهِ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ::: اے إِیمان لانے والو، اللہ (کی ناراضگی ، غُصے اور عذاب )سے بچو، اور اللہ کی طرف قُرب تلاش کرو، اور اُس کی راہ میں جِہاد کرو، تا کہ تُم لوگ(آخرت کی) کامیابی حاصل کر سکو﴾ سُورت المائدہ(5)/آیت 35،
[[[وسیلے کے بارے میں مکمل تفصیل الگ کتاب کی صُورت میں بیان کی جا چکی ہے ، وللہ الحمد]]]
::: (2) ::: خوشحالی ، یعنی نرمی ، راحت، آسانی ، تونگری، صحت و عافیت اور سکون و اطمینان کی حالت میں ،نیک نیتی سے کیے گئے ، نیک کام اِیمان والوں کی سختی ، پریشانی اورشدت کی حالت میں فائدہ دیتے ہیں ، 
یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے اِن الفاظ میں بھی سمجھائی کہ ﴿تعرَّف إلى الله في الرَّخاء ، يَعرفكَ في الشِّدَّةِ :::تُم اللہ کو (اپنی)خوشحالی میں یاد رکھو وہ تمہیں (تمہاری)سختی والے وقت میں یاد رکھےگا ﴾ صحیح الجامع الصغیر و زیادتہُ/حدیث 2961،
اِنسان پر فرض ہےکہ وہ صِرف اور صِرف اور براہ راست اپنے اکیلے لا شریک خالق ، مالک اور رب اللہ جلّ جلالہُ سے ہی دُعاء کرے ، خاص طور پر جب وہ کسی مصیبت یا پریشانی کا شِکار ہو تو ایسے میں تو اُسے اور زیادہ خالص توحید اختیار کرتے ہوئے صِرف اور صِرف اپنے اللہ تبارک و تعالیٰ سے ہی دُعاء کرنی چاہیے ، مخلوق میں سے کسی بھی زندہ یا مُردہ کو ، یا اُس کی کسی صِفت ، رتبے ، جاہ ، حق ،طفیل ، صدقے ، وغیرہ کو وسیلہ بنا کر اپنی دُعاء کو اللہ کی رحمت کی بجائے اُس کی ناراضگی کا سبب نہ بنائے ،
یادرکھیے، اور خُوب اچھی طرح سے یاد رکھیے محترم قارئین کرام ،  کہ ،اللہ جلّ و عُلا کے ساتھ ، یا اُس کے عِلاوہ کسی بھی اور سے دُعاء کرنا ، یا اللہ سُبحانہ ُ و تعالیٰ سے دُعاء کرتے ہوئے ، اللہ اور اُس کے رسول کریم محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی طرف سے منظوری کے بغیر دُعاء کی منظوری کے بارے میں کوئی ذریعہ کوئی عقیدہ اختیار کرنا ، اور کسی کے بارے میں یہ عقیدہ رکھنا کہ وہ کسی کام  کو آپ کی دُعاء  کے مُطابق کرنے ، یا اللہ سے کروانے کی صِفت یا صلاحیت وغیرہ رکھتا ہے ، شرک میں سے ہے ،
اللہ تبارک و تعالیٰ کا فرمان شریف ہے کہ ﴿وَلَا تَدْعُ مِنْ دُونِ اللَّهِ مَا لَا يَنْفَعُكَ وَلَا يَضُرُّكَ فَإِنْ فَعَلْتَ فَإِنَّكَ إِذًا مِنَ الظَّالِمِينَ ::: اور (اے  میرے رسول محمد آپ )  اللہ کو چھوڑ کر کسی ایسی چیز کو نہ  پکاریے گا جو آپ کو نہ تو کوئی فائدہ دے سکتی ہے اور نہ ہی کوئی نقصان ، اور اگر آپ نے ایسا کیا تو پھر یقیناً آپ ظُلم (شرک) کرنے والوں میں سے ہو جائیں گے﴾سُورت یُونُس(10)/آیت106،
قران کریم میں اللہ عزّ و جلّ کے کلام کے  عمومی اسلوب کے مُطابق اِس آیت شریفہ میں ظالمین کا معنی شرک کرنے والے ہی بنتا ہے ،اِسی لیے میں نے، ظالمین کا ترجمہ شرک کرنے والے لکھا ہے،
::: (3) ::: اللہ کی محبت کسی بھی اور محبت سے بڑھ کر ہونا، اپنے نفس کی خواہشات سے بڑھ کر ہونا، إِیمان والوں کی صِفت ہے ،
::: (4) ::: خوشحالی ، جو کوئی اللہ تبارک و تعالیٰ کی رضا کے لیے زنا کرنے، یا کوئی بھی گناہ کرنے کے تمام تر مواقع موجود ہونے کے باوجود وہ گناہ نہ کرے ، تو اللہ  سُبحانہُ و تعالیٰ اُسے مصیبتوں اور مشکلوں سے نجات دیتا ہے،
::: (5) ::: جو کوئی محنت کاروں ، مزدوروں ، اور حق داروں کے حق محفوظ رکھتا ہے ، اور طلب  کیے جانے پر ادا کرتا ہے ، اللہ تعالیٰ سختی اور پریشانی کے وقت میں اُس کی مدد کرتا ہےا ور اُسے بجات دیتا ہے،
اگر کسی کے حق میں سے کوئی مال آپ کے پاس رہ گیا ہو، اور صاحب حق تک رسائی ممکن نہ ہو ، تو آپ وہ مال کسی تجارت میں لگا سکتے ہیں ، لیکن جب صاحب حق اپنا حق طلب کرے تو اُس کا حق اور اُس کے ذریعے کمایا گیا سب مال ہی اُس کو دینا واجب ہے ، کیونکہ دراصل اُس کے حق کے مال کے ذریعے جو کچھ کمایا گیا وہ اُسی کا حق ہے،
ہم سے پہلی والی امتوں  جو شریعتیں دی گئیں ، اُن میں سے جن احکام اور مسائل کی تعریف کی گئی ، اور اچھائی کے طور پر اُن کی خبر دی گئی ، اور اُن کے منسوخ ہونے کی خبر نہیں دی گئی تو ایسے غیر منسوخ شُدہ احکام و مسائل ہماری شریعت میں بھی  قُبول و منظور ہیں ،
::: (6) ::: ماں باپ کے حق کی ادائیگی  کو بیوی بچوں کے حق ادا کرنے  پر أولیت دینا اللہ کے ہاں محبوب ہے ،  
::: (7) ::: ہر ایک کام کا اللہ کے ہاں مقبول ہونے کے لیے اخلاص  ہونا ضروری ہے ، یعنی ، وہ کام خالصتاً صِرف اللہ کی رضا کے لیے کیا گیا ہو تو ہی وہ  اللہ کے ہاں مقبول ہوتا ہے،جیسا کہ غار میں پھنس جانے والے  تینوں آدمیوں نے کہا تھا کہ ﴿(اے اللہ)اگر تو یہ میں نے تیرے خوف سے کِیا تھا تو ہمارا راستہ کھول دے﴾
لیکن خیال رہے کہکسی نیکی کا اللہ کے ہاں مقبول ہونے کے لیے صِرف اخلاص للہ ہی کافی نہیں ، بلکہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اِس کے لیے دوسری شرط اُس کے رسول کریم صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی اطاعت بھی رکھی ہے،لہذا کسی ایک شرط کی غیر موجودگی کسی بھی نیکی کے قبول ہونے کی اُمید کو ختم کرنے والی ہوتی ہے،
اللہ جلّ و عزّ ہم سب کو حق جاننے،ماننے،اپنانے اور اُسی پر عمل پیرا رہتے ہوئے اپنے حضور حاضر ہونے والوں میں سے بنائے ۔
والسلام علیکم۔
تاریخ کتابت : 17/11/1436ہجری،بمُطابق،01/09/2015عیسوئی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مضمون کا برقی نسخہ درج ذیل ربط پر میسر ہے :
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔