Tuesday, July 26, 2016

::::::: مدینہ منورہ میں قحط اور روضہء رسول میں کھڑکی(روشندان وغیرہ) کھولے جانے کا قصہ :::::::



::::::: مدینہ منورہ میں قحط اور روضہء رسول میں کھڑکی(روشندان وغیرہ) کھولے جانے کا قصہ :::::::
بِسّمِ اللَّہ الرّ حمٰنِ الرَّحیم
الحَمدُ لِلّہ ِ وحدہُ و الصَّلاۃُ و السَّلامُ عَلیٰ مَن لا نبیَّ   و لا مَعصُومَ بَعدَہ ُمُحمدٌ  صَلَّی اللَّہُ عَلیہ ِوعَلیٰ آلہِ وسلّمَ ، و مَن  أَھتداء بِھدیہِ و سَلک َ  عَلیٰ     مَسلکہِ  ، و قد خسَرَ مَن أَبتدعَ و أَحدثَ فی دِینِ اللَّہ ِ بِدعۃ، و قد خاب مَن عَدھا حَسنۃ ،
شروع اللہ کے نام سے جو بہت ہی مہربان اور بہت رحم کرنے والا ہے ،
اکیلے اللہ کے لیے ہی ساری خاص تعریف ہے اور رحمت اور سلامتی اس پر جِس کے بعد کوئی بنی نہیں اور کوئی معصوم نہیں وہ ہیں محمد  صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم، اور رحمت اور سلامتی اُس پر جِس نے اُن صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی ہدایت کے ذریعے راہ  اپنائی اور اُن صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی  راہ پر چلا، اور یقیناً وہ نقصان پانے والا ہو گیا جِس نے اللہ کے دِین میں کوئی نیا کام داخل کیا ، اور یقیناً وہ تباہ ہو گیا جِس نے اُس بدعت کو اچھا جانا ،
السلامُ علیکُم و رحمۃُ اللہ و برکاتہُ ،
ہم مُسلمان اچھے اِنسانی اِخلاق سے خالی دامن تو ہوئے جا رہے ہیں، لیکن اُس سے زیادہ تیزی سے اپنے دِین کی تعلیمات اور احکام سے بھی غافل ہوتے جا رہے ہیں،
جن میں سے ایک یہ ہے کہ کسی بات کو دُوسروں تک پہنچانے سے پہلے اُس بات کی سچائی کی جانچ کرنا چاہیے، دُنیاوی معاملات میں لوگ ایسا کرتے ہیں تو دُنیا کا کچھ مال کمانے کے لیے، لیکن، دِین سے متعلق کوئی خبر کسی جانچ اور تصدیق کے بغیر دُوسروں میں کیوں پھیلائی جاتی ہیں؟
دِین کی آڑ میں دُنیا کمانے کے لیے، یا،
اپنے اختیار کردہ عقائد کو ہی سچ دِکھانے کے لیے، یا،
مُسلمانوں کو گمراہ کرنے کے لیے،
یا، یا، یا، ایسے کئی سوالات ذہن میں آتے ہیں ،
گھبرایے نہیں، مجھے آپ صاحبان سے اِن سوالات کے جوابات درکار نہیں، بلکہ ، یہ سوالات صِرف آپ کی سوچ وفِکر کی توجہ کے لیے ہیں ،
میں تو اِس وقت   ایک ایسی حرکت کے بارے میں کچھ معلومات مہیا کرنا چاہتا ہوں جس کا ذِکر ابھی کیا ہے، اور وہ ہے ، دِین کے نام پر، دِین کی آڑ میں غیر تصدیق شدہ باتوں کو نشر کرنا،
دیٹس ایپ، اور برقی ڈاک کے ذریعے  طرح طرح کی  غلط باتیں اور واقعات دِینی تعلیمات کے طور پر نشر کیے جاتے ہیں، اُن میں سے ہی ایک واقعہ درج ذیل ہے :::
"""بخاری شریف میں حدیث ہے کہ مدینہ شریف میں بارش نہیں برس رہی تھی قحط سالی پڑ چکی تھی،
لوگ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنها کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی کہ اماں جان کوئی ایسا وظیفہ کوئی ایسا امر بتائیں کہ قحط سالی ختم ہو جائے اور ابر رحمت برسنے لگے.
تو ام المومنین رضی اللہ عنها نے فرمایا کہ روضئہ رسول کی چھت پہ جو روشندان یعنی کھڑکی رکھی گئی ہے اسے کھول دو.
جب روضئہ رسول کا اور آسمان کا سامنا ہوا تو خوب بارش برسنے لگی یہاں تک کہ لوگ دوبارہ ام المومنین کی بارگاہ میں حاظر ہوئے اور بارش روکنے کے وظائف و تدابیر دریافت کرنے لگے.
تو اماں عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنها نے فرمایا کہ روضئہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ کھڑکی دوبارہ بند کر دو.
چنانچہ کھڑکی بند کرتے ہی بارش تھم گئی"""،
بہت افسوس کی بات ہے کہ جس کسی نے بھی یہ ایک جھوٹا واقعہ بنایا ہے، اُس نے سب سے پہلے تو اپنی سچائی دِکھانے کے لیے صحیح بخاری کا نام لکھ دِیا ، جب کہ اِس قِسم کا کوئی واقعہ صحیح بخاری میں تو کیا ، عام طور پر معروف چھ صحیح کتابوں میں سے بھی کسی میں نہیں ہے ،
اس واقعے میں بہت سے ایسی باتیں ہیں جو روایت حدیث کی  تحقیق کے بغیر ہی اِس واقعے کے غلط ہونے کی دلیل بنتی ہیں ، اُن کے بارے میں اِن شاء اللہ بعد میں کچھ گذارشات پیش کرتا ہوں،
پہلے  اُس روایت کے بارے میں کچھ بتاتا چلوں ،
یہ روایت سُنن الدرامی میں ہے ، اور اِس کا متن اور سند درج ذیل ہے :::
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ زَيْدٍ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مَالِكٍ النُّكْرِىُّ حَدَّثَنَا أَبُو الْجَوْزَاءِ : أَوْسُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ : قُحِطَ أَهْلُ الْمَدِينَةِ قَحْطاً شَدِيداً ، فَشَكَوْا إِلَى عَائِشَةَ فَقَالَتْ : انْظُرُوا قَبْرَ النَّبِىِّ -صلى الله عليه وسلم- فَاجْعَلُوا مِنْهُ كِوًى إِلَى السَّمَاءِ حَتَّى لاَ يَكُونَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ السَّمَاءِ سَقْفٌ. قَالَ : فَفَعَلُوا فَمُطِرْنَا مَطَراً حَتَّى نَبَتَ الْعُشْبُ وَسَمِنَتِ الإِبِلُ حَتَّى تَفَتَّقَتْ مِنَ الشَّحْمِ فَسُمِّىَ عَامَ الْفَتْقِ
ہمیں  ابو نعمان نے بتایا، اُسے سعید بن زید نے بتایا، اُسے عَمرو بن مالک  النُکری نے  بتایا، کہ ابو الجوزاء اَوس بن عبداللہ کہا، مدینہ والوں کوشدید قحط میں ڈالا گیا، تو وہ اپنی پریشانی بیان کرنے کے لیے(اُم المؤمنین )عائشہ رضی اللہ عنہا و أرضاھا)کے پاس گئے ، تو، (اُم المؤمنین )عائشہ رضی اللہ عنہا و أرضاھا) نے کہا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر (والے حجرے )کی طرف دیکھو، اور اُس میں سے آسمان کی طرف تھوڑی جگہ کھول دو ، یہاں تک آسمان اور قبر کے درمیان کوئی چھت نہ رہے،
اوس بن عبداللہ نے کہا، لوگوں نے ایسا ہی کیا، تو ہم پر بارش کی گئی یہاں تک کہ خشک ہو چکی بُوٹیاں سبز ہو گئیں، اور اُونٹ موٹے ہو گئے، یہاں تک اُن پر چربی کی کثرت سے اُن کے زیریں حصے خوب موٹے ہو گئے، اور اُس سال کو پھیلنے پھولنے کا سال کہا گیا۔ سُنن الدارمی /حدیث/93کتاب المقدمہ/باب15مَا أَكْرَمَ اللَّهُ تَعَالَى نَبِيَّهُ -صلى الله عليه وسلم- بَعْدَ مَوْتِهِ،
إِمام الالبانی رحمہُ اللہ نے کہا  """اِس روایت کی سند ضعیف ہے، اِس میں تین نقص ہیں، اس کے ذریعے کوئی حجت قائم نہیں ہوتی (یعنی یہ روایت ناقابل یقین اور ناقابل عمل ہے)"""،
 اور پھر بڑی وضاحت سے اُن تین نقائص کا ذِکر کیا ہے ،
اور پھر اُس کے بعد، اِسی روایت کے بارے میں  شیخ الاسلام احمد ابن تیمیہ رحمہُ اللہ کے کچھ فرمودات ذِکر کیے ہیں ، جو اِس روایت میں موجود غلط بیانیوں میں کئی کا  بیان لیے ہوئے ہیں،
طوالت سے بچنے کے لیے میں وہ سب کچھ یہاں نہیں لکھ رہا،
جو بھائی بہن ، عربی پڑھ اور سمجھ سکتے ہیں وہ درج ذیل حوالہ کا مطالعہ کر سکتے ہیں، """التوسل ، أنواعہُ و احکامہُ /صفحہ140،الطبعۃ الخامسۃ 1406ہجری۔ المکتب الاسلامی، بیروت،لبنان، """(طبعات کے فرق کی وجہ سے صفحے کا نمبر مختلف ہو سکتا ہے)
مضمون کے آخر میں مذکورہ بالا حوالہ کا عربی متن شامل کر دیا گیا ہے، جن کی رسائی کتاب تک نہ ہو سکے وہ یہیں اِس مضمون کے آخر میں مطالعہ کر سکتے ہیں ،
اب ، اِن شاء اللہ ، میں  اِس واقعہ میں موجود چند بالکل صاف سجھائی دینے والی کچھ غلط بیانیوں کا ذِکر کرتے ہوئے اپنی یہ بات ختم کرتا ہوں ،
:::::: پہلی غلط بیانی ::::::: قحط سالی سے بچنے اور بارش حاصل کرنے کے معروف سُنّت طریقے کے علاوہ وظیفوں کی تلاش :::::::
اُم المؤمنین  عائشہ رضی اللہ عنہا و أرضاھا کی موجودگی کے دَور میں ، جب کہ مدینہ المنورہ میں صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین کی کثرت تھی، اُس دَور میں وہاں آباد مُسلمانوں میں یہ بات بالکل معروف تھی کہ بارش کے لیے نمازء استسقاءپڑھی جاتی ہے، کوئی وظیفے یا چلے نہیں ہوتے،
اور یہ نماز پڑھنے کے لیے امیر المؤمنین سے کہا جاتا تھا،
پس یہ کوئی ایسا غیر معروف مسئلہ نہ تھا کہ جس کے بارے میں پوچھنے کے لیے دیگر سب صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین کو چھوڑ کر مدینے کے لوگ اُم المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا و أرضاھا کے پاس جاتے،
یہ بات بھی ہمارے لیے جانی پہچانی ہے کہ کسی کام کی تکمیل کے لیےیا کسی مُشکل سےنجات کے لیے، وظیفے اِسلامی تعلیمات میں سے نہیں ہیں،لہذا ایسے وظیفوں کا نہ تو کوئی وجود سُنّت شریفہ میں ملتا ہے ، اور اِسی لیے ایسے کوئی وظیفے یا چلّہ کشیاں  صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین کے معاشرے میں بھی دکھائی نہیں دیتیں ،
خیال رہے کہ کسی خاص کام کے لیے  اگر کچھ مخصوص الفاظ میں کوئی دُعاء کرنا سِکھایا گیا ہے تو وہ صِرف دُعاء ہے ، اور یہ جو وظیفوں ، چلّہ کشیوں اور أذکار کے نام پر کیا اور کروایا جاتا ہے وہ دُعا ء کرنے کی تعلیمات اور آداب سے بہت دُور کی کاروائیاں ہوتی ہیں،
غالباً اِس قصے کو اِس انداز میں لکھ کر نشر کرنے میں وظیفوں کو رائج کرنے والوں میں سے کسی کا عمل دخل ہے، کیونکہ جو واقعہ روایت ہوا ہے ، اُس میں کہیں بھی کسی قِسم کے وظیفے ، چلّے یا اذکار وغیرہ کے بارے میں پوچھنے کا کوئی اِشارہ بھی نہیں،
لوگوں کا اُم المؤمنین رضی اللہ عنہا کے پاس جا کر قحط سالی کا حال بیان کرنا اِس لحاظ سے بھی قابل قبول نہیں کہ اُس دَور میں پائے جانے والے لوگ ایسے نہ تھے کہ اُن پر آن پڑنے والی ایسی قدرتی آفات سے نجات پانے کے لیے وہ اللہ تبارک وتعالیٰ کی بجائے اللہ کی مخلوق کی طرف رجوع کرتے ،
:::::::دُوسری غلط  بیانی ::::::: حُجرہ مُبارک  کوموجودہ زمانے کے کمرے کے مُطابق سمجھانے کی کوشش ::::::
 عائشہ رضی اللہ عنھا کا حجرہ ، جِس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی قبر تھی ، اُس وقت کچھ کھلے اور کچھ بند حصے پر مشتمل ایک کمرے کی صُورت میں تھا، جس میں سے قبر مُبارک تک سُورج کی روشنی بھی آتی تھی ، یعنی قبر مُبارک ، اور آسمان کے درمیان کوئی روکاٹ ، کوئی آڑ نہ تھی ، تو ایسے میں اُس کی چھت میں براہ راست ایک ایسی کھلی جگہ بنانے کا کہنا کہ جو قبر مبارک اور آسمان  کے درمیان کسی  آڑ کو باقی نہ رہنے دے ، ایسے مشورے کی گنجائش ہی کہاں ہے؟؟؟
:::::: تیسری غلط بیانی :::::: حُجرہ مُبارک کی چھت میں روشن دان ::::::
اُس وقت ، اُم المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا و أرضاھا کے  حجرہ مُبارک کی چھت میں کہیں کوئی روشن دان ، یا کھڑکی  نہیں تھی،  جسے کھولنے ، اور پھر بند کرنے کا مشورہ دیا جا تا ،
:::::: چوتھی غلط بیانی :::::: اُم المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا پر ایک الزام  ::::::
 قبر مُبارک اور آسمان کے درمیان کی چھت میں ایسی کھلی جگہ بنانے جس کی وجہ سے قبر مبارک اور آسمان کے درمیان کوئی آڑ نہ ہو ، کا مطلب یہ ہوا کہ جب بارش ہو گی تو براہ راست قبر مبارک پر بھی پڑے گی،  حاشاء للہ،کہ ، امی جان  عائشہ رضی اللہ عنہا نے ایسا کوئی کام کرنے کو کہا ہو جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی قبر مُبارک پر کسی قِسم کے نقصان کا سبب ہو سکتا ہو،
::::::: پانچویں  غلط بیانی ::::::: بلا ثبوت قحط سالی ، اور اُس کے بعد سبز حالی ::::::
مدینہ منورہ کی تاریخ میں کہیں ایسا کوئی قحط نہیں ملتا  کہ جس سے نجات پانے کے لیے نمازء استسقاء پڑھنے کے علاوہ کچھ اور کیا گیا ہو، اور پھر کسی قحط کے بعد ایسی کسی سبز حالی کی بھی کوئی خبر نہیں ملتی کہ جس میں جڑی بُوٹیاں تو ہری ہو ئیں سو سوئیں، اُونٹ بھی اتنے موٹے ہو گئے کہ چربی کی کثرت کی وجہ سے اُن کے زیریں حصے پھٹنے کے قریب ہو گئے،  اگر ایسا  عجیب واقعہ ہوا ہوتا ، اور اس طرح کثرت سے ہوا ہوتا تو یقیناً ہمیں تاریخ میں اس کے کئی جگہ ذِکر ملتا، لیکن ایسا نہیں ہے۔
اِن سب معلومات کی روشنی میں یہ ثابت ہوتا ہے کہ یہ واقعہ  اور اِس کو بنیاد بنا کر لکھا اور پھیلایا گیا وہ پیغام جسے آغاز میں نقل کیا گیا ہے ، سب غلط بیانی پر مشتمل ہے ، سچا نہیں ہے،
اللہ تبارک و تعالیٰ ہم سب کو تو فیق عطاء فرمائے کہ ہم  اپنی محبت ، اور عقیدت کو اُس کے ، اور اُس کے رسول کریم محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی مقرر کردہ حُدود میں رہ کر اِستعمال کر سکیں ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
::::: إمام محمد ناصر الدین الالبانی رحمہُ اللہ، اور شیخ الاسلام احمد ابن تیمیہ رحمہُ اللہ کا کلام :::::

أثر فتح الكوى فوق قبر الرسول صلى الله عليه وسلم إلى السماء:

روى الدارمي في "سننه" "1/43": حدثنا أبو النعمان ثنا سعيد ابن زيد ثنا عمرو بن مالك النكري حدثنا أبو الجوزاء أوس بن عبد الله قال: قحَط أهل المدينة قحطاً شديداً، فشكوا إلى عائشة، فقالت: انظروا قبر النبي صلى الله عليه وسلم فاجعلوا منه كوى إلى السماء حتى لا يكون بينه وبين السماء سقف، قال: ففعلوا، فمطرنا مطراً حتى نبت العشب، وسمنت الإبل حتى تفتقت من الشحم، فسمي عام الفتق.
قلت: وهذا سند ضعيف لا تقوم به حجة لأمور ثلاثة:
أولها: أن سعيد بن زيد وهو أخو حماد بن زيد فيه ضعف. قال فيه الحافظ في "التقريب": صدوق له أوهام. وقال الذهبي في "الميزان":
قال يحيى بن سعيد: ضعيف، وقال السعدي: ليس بحجة، يضعفون حديثه، وقال النسائي وغيره: ليس بالقوي، وقال أحمد: ليس به بأس، كان يحيى بن سعيد لا يستمرئه.
وثانيهما: أنه موقوف على عائشة وليس بمرفوع إلى النبي صلى الله عليه وسلم، ولو صح لم تكن فيه حجة، لأنه يحتمل أن يكون من قبيل الآراء الاجتهادية لبعض الصحابة، مما يخطئون فيه ويصيبون، ولسنا ملزمين بالعمل بها.
 وثالثها: أن أبا النعمان هذا هو محمد بن الفضل، يعرف بعارم، وهو وإن كان ثقة فقد اختلط في آخر عمره. وقد أورده الحافظ برهان الدين الحلبي حيث أورده في "المختلطين" من كتابه "المقدمة" وقال "ص391":
"والحكم فيهم أنه يقبل حديث من أخذ عنهم قبل الاختلاط ولا يقبل حديث من أخذ عنه قبل الاختلاط أو بعده".
قلت: وهذا الأثر لا يدرى هل سمعه الدارمي منه قبل الاختلاط أو بعده، فهو إذن غير مقبول، فلا يحتج به (وتغافل عن هذه العلة الشيخ الغماري في "المصباح - 43" كما تغافل من لم يوفق للإصابة ليوهموا الناس صحة هذا الأثر)،
 وقد قال شيخ الإسلام ابن تيمية في"الرد على البكري ص 68-74": "وما روي عن عائشة رضي الله عنها من فتح الكوة من قبره إلى السماء، لينزل المطر فليس بصحيح، ولا يثبت إسناده، ومما يبين كذب هذا أنه في مدة حياة عائشة لم يكن للبيت كوة، بل كان باقياً كما كان على عهد النبي صلى الله عليه وسلم، بعضه مسقوف وبعضه مكشوف، وكانت الشمس تنزل فيه، كما ثبت في "الصحيحين" عن عائشة أن النبي صلى الله عليه وسلم كان يصلي العصر والشمس في حجرتها، لم يظهر الفيء بعد، ولم تزل الحجرة النبوية كذلك في مسجد الرسول صلى الله عليه وسلم.. ومن حينئذ دخلت الحجرة النبوية في المسجد، ثم إنه يُبنى حول حجرة عائشة التي فيها القبر جدار عال، وبعد ذلك جعلت الكوة لينزل منها من ينزل إذا احتيج إلى ذلك لأجل كنس أو تنظيف. وأما وجود الكوة في حياة عائشة فكذب بين لو صح ذلك لكان حجة ودليلاً على أن القوم لم يكونوا يقسمون على الله بمخلوق ولا يتوسلون في دعائهم بميت، ولا يسألون الله به، وإنما فتحوا على القبر لتنزل الرحمة عليه، ولم يكن هناك دعاء يقسمون به عليه، فأين هذا من هذا، والمخلوق إنما ينفع المخلوق بدعائه أو بعمله، فإن الله تعالى يحب أن نتوسل اليه بالإيمان والعمل والصلاة والسلام على نبيه صلى الله عليه وسلم ومحبته وطاعته وموالاته، فهذه هي الأمور التي يحب الله أن نتوسل بها إليه، وإن أريد أن نتوسل إليه بما تُحَبُ ذاته، وإن لم يكن هناك ما يحب الله أن نتوسل به من الإيمان والعمل الصالح، فهذا باطل عقلاً وشرعاً، أما عقلاً فلأنه ليس في كون الشخص المعين محبوباً له ما يوجب كون حاجتي تقضى بالتوسل بذاته إذا لم يكن مني ولا منه سبب تقضى به حاجتي، فإن كان منه دعاء لي أو كان مني إيمان به وطاعة له فلا ريب أن هذه وسيلة، وأما نفس ذاته المحبوبة فأي وسيلة لي منها إذا لم يحصل لي السبب الذي أمرت به فيها.
وأما الشرع فيقال: العبادات كلها مبناها على الاتباع لا على الابتداع، فليس لأحد أن يشرع من الدين ما لم يأذن به الله، فليس لأحد أن يصلي إلى قبره ويقول هو أحق بالصلاة إليه من الكعبة، وقد ثبت عنه صلى الله عليه وسلم في الصحيح أنه قال: "لا تجلسوا على القبور ولا تصلوا إليها" مع أن طائفة من غلاة العباد يصلون إلى قبور شيوخهم، بل يستدبرون القبلة، ويصلون إلى قبر الشيخ ويقولون: هذه قبلة الخاصة، والكعبة قبلة العامة! وطائفة أخرى يرون الصلاة عند قبور شيوخهم،
أفضل من الصلاة في المساجد حتى المسجد الحرام[ و المسجد النبوي ]و[المسجد]الأقصى. وكثير من الناس يرى أن الدعاء عند قبور الأنبياء والصالحين أفضل منه في المساجد، وهذا كله مما قد علم جميع أهل العلم بديانة الإسلام أنه مناف لشريعة الإسلام. ومن لم يعتصم في هذا الباب وغيره بالكتاب والسنة فقد ضَل وأضل، ووقع في مهواة من التلف. فعلى العبد أن يسلم للشريعة المحمدية الكاملة البيضاء الواضحة، ويسلم أنها جاءت بتحصيل المصالح وتكميلها، وتعطيل المفاسد وتقليلها، وإذا رأى من العبادات والتقشفات وغيرها التي يظنها حسنة ونافعة ما ليس بمشروع علم أن ضررها راجح على نفعها، ومفسدتها راجحة على مصلحتها، إذ الشارع الحكيم لا يهمل المصالح. ثم قال:
"والدعاء من أجل العبادات، فينبغي للإنسان أن يلزم الأدعية المشروعة فإنها معصومة كما يتحرى في سائر عبادته الصور المشروعة، فإن هذا هو الصراط المستقيم. والله تعالى يوفقنا وسائر إخواننا المؤمنين".
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مضمون کا برقی نسخہ درج ذیل ربط پر میسر ہے :
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Tuesday, July 19, 2016

::::: دِلوں کے سخت ہو جانے کے تین بُنیادی اسباب ::::::



:::::: دِلوں کے سخت ہو جانے کے تین بُنیادی اسباب ::::::
بِسمِ اللَّہ ،و السَّلامُ عَلیَ مَن اتبع َالھُدیٰ و سَلکَ عَلیَ مَسلکِ النَّبیِّ الھُدیٰ مُحمدٍ صَلی اللہُ علیہِ وعَلیَ آلہِ وسلَّمَ ، و قَد خَابَ مَن یُشقاقِ الرَّسُولَ بَعدَ أَن تَبینَ لہُ الھُدیٰ ، و اتبِعَ ھَواء نفسہُ فوقعَ فی ضَلالاٍ بعیدا۔
شروع اللہ کے نام سے ، اورسلامتی ہو اُس شخص  پر جس نے ہدایت کی پیروی کی ، اور ہدایت لانے والے نبی محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی راہ پر چلا ، اور یقینا وہ شخص تباہ ہوا جس نے رسول کو الگ کیا ، بعد اس کے کہ اُس کے لیے ہدایت واضح کر دی گئ اور(لیکن اُس شخص نے) اپنے نفس  کی خواہشات کی پیروی کی پس بہت دور کی گمراہی میں جا پڑا ۔
السلامُ علیکُم و رحمۃُ اللہ و برکاتہُ ،
کِسی بھی مُسلمان پر واجب کاموں میں سے ایک أہم کام اُس کے اپنے دِل کی اصلاح کی کوشش کرتے رہنا بھی ہے،
خاص طور ہر ہمارے اس دور میں جب کہ دِلوں کی خرابی اور سختی کے اسباب ہر طرف پھیلے ہوئے ہیں، اور دِن بدِن اُن میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے، اور نئے نئے انداز و اطوار میں وہ اسباب ظاہر ہو رہے ہیں ،
پس بندے کے لیے اِس کے عِلاوہ اور کوئی دُوسرا ذریعہ نہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ پر توکل کرتے ہوئے ، اللہ ہی کی عطاء کردہ توفیق سے دِل کی اِصلاح اور حفاظت کے وہ اسباب اختیار کرے جو پہلے بھلے وقت کے مُسلمان اختیار کیا کرتے تھے،
اُس بھلے وقت کے مُسلمان اپنے دِلوں کی اِصلاح اور اُن کو سختی سے بچانے کے لیے خصوصی کوشش کیا کرتے تھے،کیونکہ اُنہیں اِس بات کا اچھی طرح سے اندازہ تھا کہ اگر دِل سخت ہو جائیں تو پھر نفس گناہوں کی طرف مائل ہونے ، بلکہ گناہ کرنے میں دلیر ہو جاتا ہے،اور بندہ ھلاکت میں جا پڑتا ہے،
اُن بھلےوقتوں کےمُسلمانوں میں ایسے اِیمان والوں کی کثرت تھی جو کسی کوتاہی کے واقع ہونے پر، کسی گناہ کے سر زد ہونے پر اپنے نفس پر گرفت کرتے تھے، اوراُس کوتاہی، اُس گناہ کی وجہ سے  اپنے رب اللہ عزّ وجلّ سے دُور ہو جانے پر تڑپتے تھے، جبکہ اُن لوگوں کی مالی، بدنی ، روحانی عِبادات بہت زیادہ ہوتی تھیں ، اور اللہ تبارک وتعالیٰ اور اُس کے رسول کریم محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی تعلیمات کی حُدود میں ہوتی تھیں ، اور وہ لوگ حرام سے بچے رہنے کی ہر ممکن کوشش کیا کرتے تھے، اور ہرنیکی میں سے زیادہ سے زیادہ پانے کی کوشش کرتے تھے ،
:::::: دِلوں کی سختی اور کالے ہوجانے  کا  پہلا اور سب سے بڑا بنیادی سبب گناہ ہیں ::::::
گناہوں کا سب سے بڑا ذریعہ اِنسان کے جسم کے اعضاء ہیں ، یہ سب اعضاء اِنسان کی دِل میں کھلنے والی کھڑکیاں ہیں، جن کے ذریعے اِنسان کے دِل میں گناہوں کا اثر داخل ہوتا ہے ، اور دِل میں سے اِیمان کی روشنی ختم ہونے لگتی ہے، اللہ اور اُس کے رسول محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی محبت اور اطاعت کی مٹھاس اور نرمی ختم ہونے لگتی ہے ، اورگناہوں ، کفر، شرک اور بِدعات کے اندھیرے، کڑواہٹ اور سختی داخل ہوتے ہوتے دِل بالکل پتھر ہو جاتے ہیں،
قارئین کرام ، میں نے ابھی کہا کہ اِنسان کے اعضاءاِنسان کی دِل میں کھلنے والی کھڑکیاں ہیں، جی ہاں ، ایسا ہی ہے،
اب یہ اِنسان پر منحصر ہے کہ وہ اِن کھڑکیوں سے اپنے دِل تک کیا پہنچاتا ہے، خیر یا شر، نیکی یا گناہ،
جیسا کہ آنکھ ، اگر کوئی اِنسان  آنکھ کا اِستعمال حرام دیکھنے میں کرے گا تو اپنے دِل تک اُس حرام کو پہنچائے گا، اور اپنے دِل کو سخت کرتا چلا جائے گا، اندھیر کرتا جائے گا،
اِسی طرح کان ، کہ، اگر کوئی اِنسان اپنے کانوں سے حرام آوازیں سُنے گا تو اپنے دِل کو اُس حرام کی آماجگاہ بناتا چلا جائے گا، اپنے دِل کو سخت کرتا چلا جائے گا ، اندھیر کرتا جائے گا،
اور اگر ایسا ہی کرتا رہا تو ایک وقت آ کر ہی رہے گا کہ اُس کا دِل پتھر کی طرح سخت اور اندھیر ہو کر رہ جائے گا، کوئی خیر، کوئی نیکی اُس پر اثر نہ کر پائے گی،
اور اگر انہی کھڑکیوں سے اپنے دِل تک حلال اور پاکیزہ چیزوں کا صوتی اور صُوری عکس پہنچائے گا تو اپنے دِل کو نرم کرتا چلے گا، روشن کرتا چلے گا،
اِسی طرح ز ُبان، کہ ، اگر وہ ز ُبان کو جھوٹ، غیبت، بے حیائی پر مبنی باتوں، اور اِسی قِسم کی دیگر باتوں کے لیے اِستعمال کرے گا تو اپنے دِل تک اُنہی باتوں کے منفی اور برے اثرات ہی پہنچائے گا، اپنے دِل کو سخت اور اندھیر ہی کرے گا،
اِسی طرح ہاتھ ، کہ ، اگر وہ اپنے ہاتھوں کو  کِسی کی جان، عِزت اور مال وغیرہ لوٹنے ،بلا حق مار پیٹ کرنے، اور دیگر حرام کاموں کی تکمیل کے لیے اِستعمال کرے گا تو  اپنے دِل کو سخت اور اندھیر  ہی کرے گا ،
اِنہی مثالوں کو جسم کے دیگر اعضاء کے بارے میں بھی سمجھیے تو یہ بات یقینی ہو جاتی ہے کہ اِنسان کے جسم کے أعضاء اُس کے دِل پر کھلنے والی وہ کھڑکیاں ہیں جو دِل کو نرم ، روشن اور حق قُبُول کرنے والابنانے کا سبب بھی بن سکتی ہیں ، اور سخت، اندھیر اور حق کو قُبُول نہ کرنے اور باطل کو  اپنانے والا بنانے کا بھی ،
ہمیں یہ بات کائنات کے سب سے سچے اِنسان محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے بتا دِی ہے کہ ﴿أَلاَ وَإِنَّ فِى الْجَسَدِ مُضْغَةً إِذَا صَلَحَتْ صَلَحَ الْجَسَدُ كُلُّهُ ، وَإِذَا فَسَدَتْ فَسَدَ الْجَسَدُ كُلُّهُ . أَلاَ وَهِىَ الْقَلْبُ ::: خبردار ، اور جِسم میں ایک دھکیلنے والی چیز ہے جو اگر اِصلاح پائی ہو جائے تو سار ا ہی جِسم اِصلاح پا جاتا ہے ، اور اگر اُس چیز میں فساد پیدا ہوجائے تو سارا ہی جِسم فساد والا ہو جاتا ہے﴾صحیح بُخاری /حدیث /52کتاب الایمان/باب32، صحیح مُسلم/حدیث /4178کتاب المساقاۃ    /باب20،
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ سلم نے یہ فرمان اِنسان کے دِل کے بارے میں اِرشاد فرمایا ہے ، اور یہ حق ہے ، دِل ہی اِنسان کے جِسم ایسی چیز ہے جِس کی اِصلاح اِنسان کے سارے جِسم کی ظاہری اور باطنی اِصلاح کا سبب ہے ، اور جِس میں فساد بپا ہونا اِنسان کے جِسم میں ظاہری اور باطنی فساد کا سبب ہے ،
پس جب دِل سخت اور کالا ہو جاتا ہے تو پھر وہ ہر لحاظ سے فساد کا سبب ہی بنتا ہے ، اور جن أعضاء نے اُسے اِس حال تک پہنچایا ہوتا ہے وہ أعضاء سب ہی اُس کے تابع ہو کر مزید فساد میں مشغول ہوجاتے ہیں ،
::::::: دِلوں کی سختی کا دُوسرا بڑا سبب ، اللہ کی کتاب کی طرف رُجوع نہ کرنا:::::::
اللہ تبارک وتعالیٰ نے  بنی إِسرائیل کی تباہی کے بہت سے اسباب بیان فرمائے ہیں جِن میں ایک یہ بیان فرمایا ہے کہ ﴿ أَلَمْ يَأْنِ لِلَّذِينَ آمَنُوا أَن تَخْشَعَ قُلُوبُهُمْ لِذِكْرِ اللَّهِ وَمَا نَزَلَ مِنَ الْحَقِّ وَلَا يَكُونُوا كَالَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ مِن قَبْلُ فَطَالَ عَلَيْهِمُ الْأَمَدُ فَقَسَتْ قُلُوبُهُمْ وَكَثِيرٌ مِّنْهُمْ فَاسِقُونَ:::کیا اِیمان لانے والوں کے لیے ابھی یہ وقت نہیں آیا کہ اُن کے دِل اللہ کے ذِکر کے لیے اور جو کچھ اللہ نے حق کے ساتھ نازل فرمایا ، اُس کے لیے ڈر جائیں ، اور یہ اِیمان لانے والے اُن کی طرح نہ ہو جائیں جنہیں اِن سے پہلے  کتاب دِی گئی اور( اُن لوگوں نے اُس کتاب سے تعلق توڑ لیا ،اور اِسی حالت میں اُن لوگوں پر)لمبا عرصہ گذر گیا، تو اُن کے دِل (اللہ کی کتاب سے لا تعلقی کی )وجہ سے سخت ہو گئے،اور (اسی وجہ سے اب )اُن کی اکثریت فاسق ہے﴾سُورت  الحدید(57)/آیت 16،
اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے اِس مذکورہ بالا فرمان میں ہمیں یہ بتایا اور سمجھایا ہے کہ اُس کی کتاب قران کریم سے لا تعلقی دِلوں کی سختی کا سبب ہے جس کا یقینی انجام فاسق ہو جانا ہے ،
اللہ کی کتاب سے لاتعلقی مختلف انداز میں ہوتی ہے ، اُس کتاب کی تلاوت نہ کرنا، اُس کو اللہ کے مطلُوب کے مُطابق سمجھنے کی بجائے اپنی عقل فلسفے اور باطل تاویلات وغیرہ کے مُطابق  سمجھنا، اُس میں نازل فرمودہ احکام کی تعمیل نہ کرنا،یہ سب کچھ اللہ کی کتاب سے لا تعلقی میں آتا ہے ،
اللہ عزّ و جلّ نے اپنی اِس مذکورہ بالا آیت شریفہ میں ہمیں بنی إِسرائیل کی تباہی کے بڑے سبب ، یعنی دِلوں کے سخت ہوجانے کا سبب بتایا ہے ، تا کہ ہم اِس کو جان اور پہچان سکیں اور اِس کا شِکار ہونے سے بچ سکیں ،
پس ہمیں  اللہ کی کتاب قران کریم کو اپنی زندگی کے ہر ایک معاملے میں پہلا  راہنماءو رہبر بنانا ہی چاہیے اور اُس میں اللہ پاک نے جو احکام نازل کیے ہیں اُن کو اللہ کی ہی مُراد کے مطابق سمجھ کر اُن پر عمل کرتے ہی رہنا چاہیے ، اِسی میں ہماری دِین ، دُنیا اور آخرت کی خیر ، حقیقی عِزت اور کامیابی ہے ،
قارئین کرام ، اگر ہم غور کریں تو پتہ چلتا ہے کہ جِس طرح بنی إِسرائیل اللہ تعالیٰ کی قُدرت کی واضح نشانیاں دیکھنے کے بعد بھی اللہ عزّ و جلّ اور اُن لوگوں کی طرف بھیجے گئے  اللہ کے نبیوں اور رسولوں کی بات نہیں مانتے تھے ہم لوگ بھی کچھ اُسی طرح اللہ تعالیٰ اور اُس کے رسول کریم محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی اطاعت کی طرف آنے کی بجائے بے کار، بے ہودہ اورناکارہ قِسم کے فلسفوں، تاویلوں، منطقوں، عقل بازیوں، قیاس آرائیوں، آراء،اور أھواء کا شِکار ہوتے جا رہے ہیں ،
اور اگر اللہ تعالیٰ کی کتاب قران کریم سے ہماری لا تعلقی اِسی طرح رہی تو معاذ اللہ، دِین کے معاملات میں ہم لوگوں کا حال بھی  بنی إِسرائیل سے مختلف نہ ہو گا ،
دیکھیے جب بنی إِسرائیل کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے مُصیبتوں، پریشانیوں ، تکلیفوں اور امتحانوں میں مبتلا کیا گیا تو اُنہوں نے اللہ کی طرف رُجوع کرنے کی بجائے اللہ کی نافرمانی والے راستے اپنائے ، جیسا کہ اب ہم کرتے ہیں ، زلزلے آتے ہیں ، سیلاب آتے ہیں ، وبائیں پھوٹتی ہیں تو ہم صَرف مادی وسائل پر ہی بھروسہ اور توکل کرتے ہیں اور اُنہی کے بارے میں کہتے ہیں کہ ہم فُلاں فُلاں کام کر کے مستقبل میں اِن مصیبتوں سے بچ جائیں گے اور اللہ کی نافرمانیوں میں کچھ بھی کمی کرنے کا سوچتے تک نہیں ،
ایسا ہی بنی إِسرائیل  بھی کیا کرتے تھے تو اُن کا حال کیا ہوا، اللہ تعالیٰ نے ہی بتایا ہے کہ ﴿ ثُمَّ قَسَتْ قُلُوبُكُم مِّن بَعْدِ ذَلِكَ فَهِيَ كَالْحِجَارَةِ أَوْ أَشَدُّ قَسْوَةً وَإِنَّ مِنَ الْحِجَارَةِ لَمَا يَتَفَجَّرُ مِنْهُ الأَنْهَارُ وَإِنَّ مِنْهَا لَمَا يَشَّقَّقُ فَيَخْرُجُ مِنْهُ الْمَاء وَإِنَّ مِنْهَا لَمَا يَهْبِطُ مِنْ خَشْيَةِ اللّهِ وَمَا اللّهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُونَ :::پھر(وہ سب واضح نشانیاں دیکھنے کے باوجود بھی) تم لوگوں کے دل سخت ہوگئے، گویا کہ وہ پتھر ہوں ، یا پتھروں سے بھی سخت، اور پتھروں میں سے کچھ ایسے(بھی) ہوتے ہیں جِن میں سے اللہ کے ڈر کی وجہ سے دریا بہنے لگتے ہیں ، اور کچھ ایسے(بھی) ہوتے ہیں جِن میں سے(اللہ کے ڈر کی وجہ سے)سے پانی نکلنے لگتا ہے،اور کچھ ایسے (بھی) ہوتے ہیں، جو (اللہ کے ڈر کی وجہ سے)لڑھکنے لگتے ہیں، (لیکن تُم لوگوں پر کچھ اثر نہیں ہو رہا )اور  جو کچھ بھی تُم لوگ کرتے ہو، اللہ اُس سے غافل نہیں ہے﴾سُورت البقرہ(2)/آیت74،
::::::: دِلوں کی سختی کا تیسرا بڑا سبب، اللہ کے سامنے عاجزی و انکساری اختیار  نہ کرنا :::::::
اللہ تبارک وتعالیٰ نے اِس مذکورہ بالا  آیت سے پہلے والی آیات میں بنی اِسرائیل کی دِلوں کی سختی کا سبب مُصیبتوں، پریشانیوں ، تکلیفوں اور امتحانوں  میں مبتلا کرناذِکر  فرمایا ہے ،
اور  اپنے کلام مُبارک قران الحکیم میں صِرف اِسی کا ذِکر نہیں فرمایا ، بلکہ اِس کی حِکمت بھی یہ بیان فرما دِی کہ اِس سے مطلوب اللہ کی طرف رُجوع کرنا ہوتا ہے ، جِس کا سب سے پہلا اور بنیادی ذریعہ ، بلا شک و شبہ اللہ سُبحانہُ و تعالیٰ کے فرامین مُبارکہ پر اللہ ہی کی مُراد اور مطلوب کے مُطابق عمل کرنا ہے،  جیسا کہ ہمیں ، اُمتء محمدیہ علی صاحبھا افضل الصلاۃ و السلام کو مخاطب کرتے ہوئے اِرشاد فرمایا ﴿وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَيْءٍ مِنَ الْخَوْفِ وَالْجُوعِ وَنَقْصٍ مِنَ الْأَمْوَالِ وَالْأَنْفُسِ وَالثَّمَرَاتِ وَبَشِّرِ الصَّابِرِينَ (155) الَّذِينَ إِذَا أَصَابَتْهُمْ مُصِيبَةٌ قَالُوا إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ (156) أُولَئِكَ عَلَيْهِمْ صَلَوَاتٌ مِنْ رَبِّهِمْ وَرَحْمَةٌ وَأُولَئِكَ هُمُ الْمُهْتَدُونَ(715) ::: اور یقیناً ہم تُم لوگوں کو خوف اور بھوک اور مال اور جانوں اور پھلوں (کھیتیوں) کی کمی میں مبتلا کر کے آزمائیں گے ، اور(اے محمد) صبر کرنے والوں کو خوشخبری دے دیجیے(155)یہ وہ لوگ ہیں کہ جنہیں اگر کوئی مُصیبت آن پکڑتی ہے تو (اللہ کی طرف رُجوع کرتے ہوئے) کہتے ہیں یقیناً ہم اللہ ہی کے لیے  ہیں(یعنی اُسی کی ملکیت ہیں وہ جو چاہتا ہے کرتا ہے اور حق کرتا ہے) ، اور یقیناً ہم نے اللہ ہی کی طرف واپس جانا ہے(156)یہ ہیں وہ لوگ جِن پر اُن کے رب  کی مہربانیاں ہوتی ہیں اور اُن  پر رحم  کیا جاتا ہے،اور یہ ہی لوگ ہدایت پائے ہوئے ہیں(715)﴾سُورت البقرہ(2) ،
اور جو لوگ اللہ کی طرف سے  کسی بھی قسم کی انفرادی یا اجتماعی مُصیبت یا امتحان آنے کی صُورت میں اللہ کی طرف رُجوع نہیں کرتے ، بلکہ اپنے مختلف کاموں کو زیادہ معتبر سمجھتے ہیں ، اچھا سمجھتے ہیں اُن کاموں پر بھروسہ اور توکل کرتے ہیں ،
اور ایسا نہ کرنا بھی دِلوں کی سختی اور حق قُبُول نہ کرنے کا ایک بڑا سبب ہے ،
اللہ جلّ و عُلا نے یہ بھی بتایا ہے﴿ فَلَوْلا إِذْ جَاءهُمْ بَأْسُنَا تَضَرَّعُواْ وَلَكِن قَسَتْ قُلُوبُهُمْ وَزَيَّنَ لَهُمُ الشَّيْطَانُ مَا كَانُواْ يَعْمَلُونَ ::: پھر کیوں نہ ہوا کہ جب اُن پر ہماری (طرف سے)سختی آئی تو(اللہ کے سامنے ) عاجزی و انکساری اختیار کرتے ،(لیکن اُنہوں نے ایسا نہ کیا)اور اُن کے دِل سخت ہو گئے اور شیطان نے انہیں وہ کام آراستہ کر دکھائے جو وہ کرتے تھے﴾سُورت الانعام(6)/آیت43 ،
اِس آیت مُبارکہ سے یہ بھی پتہ چلا کہ ، جب دِل سخت ہوجاتے ہیں تو پھر شیطان کو مزید مواقع مل جاتے ہیں کہ وہ اِنسانوں کو اُن کے کاموں کو اچھا کر کر کے دِکھاتا ہے اور اِنسان اپنے اکیلے لا شریک خالق و مالک کی طرف رُجوع کرنے کی بجائے ، اُس کے سامنے عاجزی اور انکساری اختیار کر کے اُس سے مدد مانگنے کی بجائے اپنے کاموں پر توکل کرنے لگتا ہے اور اللہ تعالیٰ پھر اُسے اُسی کی اپنائی ہوئی راہ پر چھوڑ دیتا ہے ، اور وہ شخص شیطان کے فتنے میں پھسنتااور دھسنتا ہی جاتا ہے ،
جی ہاں یہ بھی ہمارے اللہ پاک نے ہی ہمیں بتا دِیا ہے  
﴿ لِيَجْعَلَ مَا يُلْقِي الشَّيْطَانُ فِتْنَةً لِّلَّذِينَ فِي قُلُوبِهِم مَّرَضٌ وَالْقَاسِيَةِ قُلُوبُهُمْ وَإِنَّ الظَّالِمِينَ لَفِي شِقَاقٍ بَعِيدٍ ::: (اللہ تعالیٰ  اس لیے ایسا ہونے دیتا ہے)تاکہ شیطان کی ڈالی ہُوئی خرابی کواُن لوگوں کے لیے آزمائش بنا دے جِن لوگوں کے دِلوں میں (منافقت کی ) بیماری ہوتی ہے ، اور جِن کے دِل سخت ہو چکے ہوتے ہیں ، اور حقیقت تو یہ ہی ہے کہ یہ (اپنی جانوں پر)ظُلم کرنے والے لوگ (حق سے اور اللہ کی رحمت سے )بہت دُور ہو چکے ہیں﴾سُورت الحج(22)/آیت53 ،      
جو لوگ دِلوں کی سختی کا شِکار ہو جاتے ہیں ، اُن کے لیے اللہ  تعالیٰ نے آخرت میں تباہی کی وعید نازل فرمائی ہے ﴿أَفَمَن شَرَحَ اللَّهُ صَدْرَهُ لِلْإِسْلَامِ فَهُوَ عَلَى نُورٍ مِّن رَّبِّهِ فَوَيْلٌ لِّلْقَاسِيَةِ قُلُوبُهُم مِّن ذِكْرِ اللَّهِ أُوْلَئِكَ فِي ضَلَالٍ مُبِينٍ ::: کیا وہ شخص جس کا سینہ اللہ نے اِسلام کے لیے کھول دیاہو ،  اور وہ اپنے رب کی طرف سے ایک روشنی پر( چل رہا)ہو، (اُس شخص کی طرح ہو سکتا ہے جس کا دِل سخت ہو چکا ہو اور وہ اللہ کی باتوں سے کچھ نہ  سمجھتا اورسیکھتا ہو؟ پس)تباہی ہے اُن لوگوں کے لیے جِن کے دل اللہ کی( طرف سے آنے والی) نصیحت(سُن کر بھی) سخت ہو گئے وہ لوگ  واضح  گمراہی میں پڑے ہوئے ہیں﴾سُورت الزُمر(39)/آیت 22،
اللہ تبارک و تعالیٰ ہم سب کو ، اور ہمارے سب کو ، دِلوں کی سختی  کے اسباب سمجھنے اور اُن سے بچنے کی ہمت عطاء فرمائے ، اور اپنے ہدایت یافتہ بندوں میں سے بننے کی توفیق عطاء فرمائے ۔
والسلام علیکم۔
تاریخ کتابت : 16/09/1437ہجری، بمُطابق،21/06/2016عیسوئی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مضمون کا برقی نسخہ درج ذیل ربط پر مُیسر ہے:
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔