Tuesday, June 18, 2013

::::: نمازء استخارہ کے بارے میں منکرانء قران و حدیث کے شکوک و شبہات کا علمی جائزہ :::::


::::: نمازء استخارہ کے بارے میں   منکرانء قران و حدیث کے شکوک و شبہات کا علمی جائزہ  :::::
أَعُوذُ بِاللَّهِ السَّمِيعِ الْعَلِيمِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ مِنْ هَمْزِهِ وَنَفْخِهِ وَنَفْثِهِ
بِسمِ اللَّہ ،و السَّلامُ عَلیَ مَن اتبع َالھُدیٰ و سَلکَ عَلیَ مَسلکِ النَّبیِّ الھُدیٰ مُحمدٍ صَلی اللہُ علیہِ وعَلیَ آلہِ وسلَّمَ ، و قَد خَابَ مَن یُشقاقِ الرَّسُولَ بَعدَ أَن تَبینَ لہُ الھُدیٰ ، و اتبِعَ ھَواء نفسہُ فوقعَ فی ضَلالاٍ بعیدا۔
شروع اللہ کے نام سے ، اورسلامتی ہو اُس شخص  پر جس نے ہدایت کی پیروی کی ، اور ہدایت لانے والے نبی محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی راہ پر چلا ، اور یقینا وہ شخص تباہ ہوا جس نے رسول کو الگ کیا ، بعد اس کے کہ اُس کے لیے ہدایت واضح کر دی گئ اور(لیکن اُس شخص نے) اپنے نفس  کی خواہشات کی پیروی کی پس بہت دور کی گمراہی میں جا پڑا ۔
اللہ کی کتاب پاک کا نام لے کر ، اسی کتاب میں دیے گئے احکام کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ، اللہ کے خلیل محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی تعلیمات کا انکار کرنے والوں کی طرف سے ، رسول اللہ محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی تعلیم کردہ نمازء استخارہ کے بارے میں بھی کچھ خرافات ظاہر کی گئی ہیں ،
ایسی خرافات جو اُن لوگوں کی عادت کے مطابق ، اُمت کے اِماموں پر طعن و تشنیع ، رسولوں کی شان میں گستاخی اور الزام تراشی ، اور اللہ عزّ و جلّ کی ذات پاک سے جھوٹ منسوب کرنے  پر مشتمل ہیں ،  اور یہ سب کچھ اللہ کی کتاب قران کریم کا نام لے کر کیا جاتا ہے ،
جی قارئین کرام ایسا ہی ہے ، میرے اِس مضمون کو آرام ، سکون ،تحمل اور غور و تدبر کے ساتھ آخر تک پڑھیے گا ، خواہ ایک سے زیادہ مجلس میں پڑھا جائے ، اِن شاء اللہ میں نے ابھی جو کچھ کہا ہے آپ کو وہ سب کچھ دِکھائی دے  گا ، سُجھائی دے  گا ، 
اِس میں کوئی شک نہیں کہ نمازء استخارہ کے بارے میں ہمارے معاشرے میں عقیدے کے اعتبار سے بہت سے  غلط فہمیاں اور عمل کے اعتبار سے بہت سے غلطیاں پھیلی ہوئی ہیں ،
الحمد للہ ، اُن غلط فہمیوں اور غلطیوں کی حقیقت کے بارے میں ، ایک مضمون کافی عرصہ پہلے نشر کر چکا ہوں ، جس کا مطالعہ درج ذیل لنک پر کیا جا سکتا ہے ،
تمام محترم قارئین سے گذارش ہے کہ، یہاں ، اِس مضمون میں آگے چلنے سے  پہلے اُس مذکورہ بالا مضمون کا مطالعہ کر لیجیے ، اُمید ہے کہ نماز اور دُعاء استخارہ کے بارے میں رسول اللہ صلی علیہ و علی آلہ وسلم کی دی ہوئی ربانی تعلیم سے ہٹ کر لوگوں نے جو کچھ اپنے طور پر بنا پھیلا رکھا ہے اُس کی پہچان ہو جائے گی ،
اس کے بعد میں اِن لوگوں کی باتوں کا جائزہ پیش کرتا ہوں ، جو لوگ اپنی جہالت اور بد عقلی کو کسوٹی بنا کر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی صحیح ثابت شدہ احادیث شریفہ کو  رد کرتے ہیں ، اور اپنی اس بد عمل کو چُھپانے کے لیے  اپنی اُسی گمراہ عقل کے مطابق اللہ کے قران کریم کا استعمال کرنے کی کوشش کرتے ہیں ،
اعتراض کرنے والے نے اپنی خرافات کا عنوان رکھا ہے :::
""" استخارہ  : لوگوں کو قرآن سے موڑنے کی ایک دام ہمرنگ چال اور ختم نبوت پر حملہ  """،
میں اِس عنوان کے جواب میں یہ کہوں گا کہ اعتراضی کی یہ حرکت""" قران کا نام لے کر قران سے دُور لے جانے والا  ایک دام ہمرنگ ہے """،
اِن شاء اللہ اِس کی وضاحت آپ صاحبان کے سامنے آنے والی ہے ، 
اعتراضی نے اپنے جھوٹ پر مبنی عنوان کے تحت ، استخارہ والی حدیث شریف لکھنے کے بعد لکھا ہے :::
""" تبصرہ: محترم قارئین  !
 روایات کے خود ساختہ مذہبی ڈھانچہ میں استخارہ کی اصطلاح بہت مشہورہے لیکن پھر بھی یہاں اس کی وضاحت مناسب سمجھتا ہوں ۔
استخارہ کا لفظی معنی ہے خیر اور بھلائی کی طلب کرنا ، کچھ امور میں سے یا کسی بھی مسئلہ کی بابت اللہ سے رہنمائی لینا کہ فلاں کام کے کرنے میں مجھے
 فائدہ  ہو گا  یا  نقصان۔ اگر میرے فائدے کا ہو تو مجھے نصیب ہو اور میں اسے سر انجام دوں ۔ اگر میرے نقصان کا ہو تو میں اسے نہ کروں اور چھوڑ دوں ۔
قارئین کرام !
 جیسا کہ آپ نے دیکھا کہ امام بخاری استخارہ کی حدیث کو ابواب تہجد میں لایا ہے تو اس سے مراد یہ لی گئی ہے کہ رات کے وقت استخارہ کے ذریعے مشورہ اور رہنمائی لینے والا دو رکعت پڑھنے کے بعدحدیث کے مطابق جب مذکورہ بالا دعا پڑھے گا تو آگے مشہور ہے کہ سونے کے دوران نیند میں خواب کے ذریعے اللہ اپنے بندے کو جواب دے دیتا ہے یا خواب میں کوئی ایسا اشارہ دیا جاتا ہے جس سے استخارہ کرنے والے کو مطلوبہ مشورہ اور جواب مل جاتا ہے ۔"""،
قارئین کرام، اس ، اعتراض کرنے والےشخص کو شاید احادیث شریفہ  کی جانچ کا کچھ بھی علم نہیں اور اس کے دِل و دِماغ پر بس یہی خنّاس طاری ہے کہ احادیث شریفہ کی ساری ہی روایات خود ساختہ ہیں ، بالکل اسی طرح جس طرح اُس شخص کی سوچیں ، فلسفے اور اُس کی""" خِلافء قران ، قران فہمی """ خود ساختہ ہے ،
اِس شخص نے لوگوں میں بلا دلیل مشہور خیالات کو بھی اپنے بغض اور عناد کی وجہ سے أمیر المؤمنین فی الحدیث اِمام محمد بن اِسماعیل بخاری رحمہُ اللہ و رفع درجاتہُ کے ذمے لگانے کی سی عبارت لکھی ،
الحمد للہ ، میں اپنے  استخارہ والے مضمون میں اس بات کی خوب وضاحت کر چکا ہوں کہ استخارہ کے بارے میں عام طورپر جو کچھ لوگوں میں مشہور ہے اُس کی کوئی تعلیم سُنّت مبارکہ میں نہیں ہے ، نہ ہی صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین کی طرف سے ہے ، اور نہ ہی أئمہ رحمہم اللہ کی طرف سے ، ،،لیکن جِس کے دِل و دِماغ پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی دُشمنی مسلط ہووہ حقائق کی طرف نظر نہیں کر پاتا ، بلکہ ایسی باتیں ڈھونڈتا اور بناتا ہے جِن کی مدد سے وہ اپنے دِل کی جلن کم کرنے کی کوشش کر سکے ،       
مذکورہ بالا اقتباس کے بعد ، اُس اعتراضی نے مزید زہر افشانی کرتے ہوئے لکھا :::
""" جناب قارئین کرام !
 استخارہ کے نام سے رہبانی دنیا میں دکانیں کھل گئی ہیں کہ فلاں اللہ والے اور پہنچے ہوئے بزرگ سے کسی نے استخارہ کرایا اور اس کے بتائے ہوئے جواب اور مشورہ کے مطابق سائل نے عمل کیا تو اس سے اسے بہت فائدہ ہوا ، برکت ہوئی وغیرہ وغیرہ ۔  """،
محترم قارئین ، اگر کسی دُرُست کام کا ، کسی حق چیز کا نام لے کر غلط کاریاں کی جانے لگیں تو  کیا اُس دُرُست کام ، اُس حق چیز کو ہی غلط کہا ، اور سمجھا جانا چاہیے ؟؟؟
جیسا کہ یہ لوگ کرتے ہیں ، کہ قران کریم کا نام لے کر اُسی قران کریم کی مخالفت کرتے ہوئے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی صحیح ثابت شدہ سُنّت مُبارکہ کا انکار کرتے ہیں ، بلکہ اُس کا مذاق اُڑاتے ہیں ، اور تذلیل کرنے کی واہیات کوشش کرتے ہیں ،
تو کیا معاذ اللہ ،  اِن لوگوں کی اِن غلط کاریوں کی بنا پر  اللہ کی کتاب کو غلط کہا یا سمجھا جائے ؟؟؟
یقینا ً نہیں ، اور ہر گِز نہیں ، غلط اُسی قول اور فعل  کو کہا جائے گا جو اللہ کی کتاب اور اللہ کے خلیل محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے احکامات کی موافقت رکھتا ہوگا ،
اعتراض کرنے والا اپنی خرافات کو جاری  رکھتے ہوئے مزید لکھتا ہے کہ :::
""" جناب عالی!
 استخارہ کے نام پر روایات اور حدیثیں اختراع کرنے والوں کا اصل مقصد اور مطلوب یہ ہے کہ لوگوں کو قرآن کی جانب غور کرنے اور اس سے رہنمائی لینے سے روکیں کیونکہ قرآن نے زندگی کی حاجتوں میں رہنمائی کا مکمل کورس اور نصاب سکھایا ہوا ہے ۔ آپ نے اس حدیث کے متن اور عبارت سازی پر غور کیا ہوگا کہ روایت سازوں نے لکھا ہے کہ حضوؐر ہمیں استخارہ ایسا سکھاتے تھے جیسے قرآن کی سورۃ سکھاتے تھے ۔"""،
محترم قارئین ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے  جو اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین کو استخارہ  قران کریم کی کسی سُورت کی طرح سکھایا تو  یہ قران کریم سے مقابلہ نہیں ، بلکہ استخارہ کی أہمیت اور افادیت کی دلیل ہے ، کہ یہ  اللہ کی اپنے خلیل محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی اُمت پر خصوصی رحمتوں میں سے  ایک رحمت ہے کہ اِس اُمت کو یہ راہ سجھائی گئی کہ اپنے کسی بھی کام کو شروع کرنے سے پہلے اپنے رب سے خیر کا سوال کرو، اور پھر سچے یقین کے ساتھ اُس کام کو شروع کر دو،
 نہ کہ یہ ، کہ ، قران کریم کو پڑھنا چھوڑ دوو، اس پر ایمان اور عمل ترک کر دو، صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین نے تو ایسا نہیں کیا تھا ،
اور نہ ہی اُن کے بعد والوں نے استخارہ کی وجہ سے ایسا کیا ، اور نہ ہی اب  بھی کوئی صحیح عقیدے والا شخص ایسا کرتا ہے ،
یُوں بھی دِین کے معاملات  اللہ اور اس کے رسول محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم  کے احکامات ، اور رسول اللہ محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم  کی فعلی سُنّت مبارکہ ، اور پھر صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین کی جماعت کے اقوال و افعال کے مطابق سمجھے اور اخذ کیے جاتے ہیں ، لوگوں کے اقوال و افعال کے مطابق نہیں ، اور خاص طور پر بد عقیدہ اور جاھل لوگوں کے اقوال و افعال تو کسی بھی قول و فعل کی جانچ کے قابل نہیں ہوتے ،
قران کریم میں دیے گئے احکامات کی روشنی میں یہ لوگ تو صِرف نماز کی تعداد اور کیفیت بھی ثابت نہیں کر سکتے ، نماز کے لیے اختیار کیے جانے والی طہارت کا طریقہ اور کیفیت بھی نہیں دِکھا سکتے ، اور ایسے بیسیویں معاملات ہیں جن کا قران کریم میں صِرف اجمالی ذِکر ہے اور ان کی تفصیل اللہ کے رسول کریم محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی سُنّت شریفہ میں ہی ملتی ہے ، لیکن اللہ کے دِین سے دُشمنی کے لیے یہ لوگ صِرف قران کریم کا نام لے کر قران حکیم کے اللہ کی طرف سے مقرر کردہ شارح اور مُفسر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی تعلیمات سے دُور کرنے کی کوشش کرتے ہیں تا کہ لوگوں کو قران کا نام لے کر اپنی ہوائے نفس کا تابع بنا سکیں ، ولا حول ولا قوۃ الا باللہ ،
پس اِس اعتراضی کا یہ مذکورہ بالا اعتراض اور استخارہ کے بارے میں جھوٹ سازی ، محض اِس کی اپنی جہالت اور بد عقلی کی پیداوار ہے ، جس کے لیے عِلم اور حقائق کی دُنیا میں کوئی ثبوت نہیں ،
اعتراض کرنے والے نے اپنی """ خِلافء قران قران فہمی """ کی رَو میں بہتے ہوئے  مزید لکھا :::
""" جناب عالی!
 استخارہ کے معنی جب طلب خیر ہے تو وہ خیر قرآن ہی میں ہے۔ اب قرآن کے خیر سے منہ موڑ کر خیر کی تلاش کے لئے غیر قرآنی طریقوں سے حدیث بنا کر رسول کے کھاتے میں ڈالنا کتنی بڑی سازش ہے ۔ لیکن قرآن ان کی سازش کا بھانڈا پھوڑ رہا ہے کہ :
وَقِيلَ لِلَّذِينَ اتَّقَوْا مَاذَا أَنْزَلَ رَبُّكُمْ ۚ قَالُوا خَيْرًا ۗ لِلَّذِينَ أَحْسَنُوا فِي هَذِهِ الدُّنْيَا حَسَنَةٌ ۚ وَلَدَارُ الْآخِرَةِ خَيْرٌ ۚ وَلَنِعْمَ دَارُ الْمُتَّقِينَ (16:30)
اور (جب) پرہیزگاروں سے پوچھا جاتا ہے کہ تمہارے پروردگار نے کیا نازل کیا ہے۔ تو کہتے ہیں کہ بہترین (کلام)۔ جو لوگ نیکوکار ہیں ان کے لیے اس دنیا میں بھلائی ہے۔ اور آخرت کا گھر تو بہت ہی اچھا ہے۔ اور پرہیز گاروں کا گھر بہت خوب ہے ۔
 اور پوچھا جاتا ہے متقی لوگوں سے کہ کیا نازل فرمایا تمہارے رب نے تو وہ کہتے ہیں خیر۔
گویا ثابت ہوا کہ متقی انسانوں کے لئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کردہ الخیر قرآن حکیم ہی ہے۔
مزید فرمایا کہ :
مَا يَوَدُّ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ وَلَا الْمُشْرِكِينَ أَنْ يُنَزَّلَ عَلَيْكُمْ مِنْ خَيْرٍ مِنْ رَبِّكُمْ ۗ وَاللَّهُ يَخْتَصُّ بِرَحْمَتِهِ مَنْ يَشَاءُ ۚ وَاللَّهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيمِ (2:105)
جو لوگ کافر ہیں، اہل کتاب یا مشرک وہ اس بات کو پسند نہیں کرتے کہ تم پر تمہارے پروردگار کی طرف سے خیر (وبرکت) نازل ہو۔ اور خدا تو جس کو چاہتا ہے، اپنی رحمت کے ساتھ خاص کر لیتا ہے اور خدا بڑے فضل کا مالک ہے۔ 
یعنی اہل کتاب میں سے کافر اور مشرک لوگ نہیں چاہتے کہ تم پر خیر نازل ہو تمہارے رب کی طرف سے لیکن یہ اللہ کی رحمت اور عطا ہے کہ جسے وہ چاہے اسے چن لے اور اللہ بڑا فضل عظیم کا مالک ہے۔
جناب قارئین !
 ان آیات کریمہ میں بڑے واضح انداز سے اللہ تعالیٰ نے قرآن حکیم کو خیر کے نام سے پکارا ہے لیکن حدیث ساز امام بخاری اور اس کے استاد راویوں کی کاریگری پر آپ غور فرمائیں کہ وہ روایت میں یہ الفاظ سکھاتے ہیں کہ رسول اللہ ہمیں قرآن کی سورتوں کی طرح استخارہ کرنے کی دعا سکھاتے تھے۔ جس کا صاف اور واضح مطلب یہ ثابت ہوتا ہے کہ یہ حدیث ساز لوگ طلب خیر کے لئے قرآن کو کافی نہیں سمجھتے اور خیر کی دریافت کیلئے قرآنی رہنمائی کو ناکافی قرار دے کر غیر قرآنی ، خارج از قرآن حیلے لوگوں کو سکھا رہے ہیں استخارہ کے متعلق جو تفصیلات آج کل مشہور ہیں اس حدیث کی روشنی میں گویا کہ استخارہ کے ذریعے وحی قرآن کی تعلیم کو پس پشت ڈال کر خوابوں کے ذریعے اللہ سے مشاورت یعنی رسالت اور نبوت کی مقصدیت اور مرتبت کو نیچا دکھانے کی کوشش کی ہے اور یہی مطلوب و مقصود ہے ان حدیث ساز اور فقہ ساز اماموں کا ۔
لیکن قرآن نے دو ٹوک الفاظ میں اعلان فرمایا ہے کہ :
قُلْ بِفَضْلِ اللَّهِ وَبِرَحْمَتِهِ فَبِذَلِكَ فَلْيَفْرَحُوا هُوَ خَيْرٌ مِمَّا يَجْمَعُونَ (10:58)
کہہ دو کہ (یہ کتاب) خدا کے فضل اور اس کی مہربانی سے (نازل ہوئی ہے) تو چاہیئے کہ لوگ اس سے خوش ہوں۔ یہ اس سے کہیں بہتر ہے جو وہ جمع کرتے ہیں۔
یعنی  اے محمد اعلان کردے اللہ کے فضل و رحمت کا قرآن ملنے کا اور اس قرآن کے ملنے پر ضروری ہے، لازم ہے کہ تم جشن مسرت مناؤ اور یہ قرآن خیر ہے ،یہ قرآن نہایت بہتر اور برتر ہے ان احادیث اور فقہی روایات کے مجموعوں سے جن کے تم نے لاکھوں کی تعداد میں انبار لگارکھے ہیں ۔"""،
جی ہاں ، استخارہ کے معنی خیر طلب کرنا ہیں ،  اور قران کریم یقیناً اللہ کی طرف سے خیر ہے ، لیکن قران کریم میں یہ کہاں ہے کہ اللہ کی طرف سے ساری خیر صِرف قران کریم میں مقید فرما دی گئی ہے ، اور اس کے علاوہ اللہ جلّ و عُلا کسی اور طرح خیر نہیں دے گا ، معاذ اللہ یہ تو اللہ کی رحمت پر الزام لگایا گیا ہے ، لیکن اللہ کے دِین کے دُشمن ، اپنی"""خِلافء قران قران فہمی """ کے اندھیروں میں گُم اِس اعتراضی کو سمجھ نہیں آیا ،  یا سمجھ بوجھ کر  اللہ کے دِین سے گمراہ کرنے کی کوشش کی ہے ،
قارئین کرام ، اِن لوگوں کا وطیرہ ہے کہ یہ لوگ  قران کریم میں  سے ایسی آیات ذِکر کرتے ہیں جنہیں کسی طور اپنی مذموم حرکات کی دلیل بنائے جانے کی کوشش کر سکیں ، اور اُسی موضوع  سے متعلق دیگر آیات جو ان لوگوں کی بدطینتی کو واضح کرتی ہیں ، اُن آیات شریفہ کا ذِکر نہیں کرتے ،
محترم قارئین ، اگر """ خیر ""'سے مراد صرف قران کریم ہے  تو پھر ان مذکورہ ذیل آیات مبارکہ  سے کیا سمجھا جائے گا ؟؟؟،
﴿قُلْ لَا أَمْلِكُ لِنَفْسِي نَفْعًا وَلَا ضَرًّا إِلَّا مَا شَاءَ اللَّهُ وَلَوْ كُنْتُ أَعْلَمُ الْغَيْبَ لَاسْتَكْثَرْتُ مِنَ الْخَيْرِ وَمَا مَسَّنِيَ السُّوءُ إِنْ أَنَا إِلَّا نَذِيرٌ وَبَشِيرٌ لِقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ:::کہیے(اے محمد) فرمایے میں اپنے آپ کے لیے کوئی نفع یا نقصان حاصل کرنے کی قدرت نہیں رکھتا ، سوائے اُس کے جو اللہ کی مشیئت میں (میرے لیے مقرر ہو)، اور اگر میں غیب کا علم رکھتا ہوتا تو یقیناً خیر میں کثرت حاصل کر لیتا ، اور مجھے کوئی تکلیف چُھوتی بھی نہیں ، میں تو صِرف ایک ڈرانے والا اور خوشخبریاں سُنانے والا (پیامبر) ہوں ، اِیمان والوں کے لیےسُورت الاعراف(7)/آیت 188،
قارئین کرام ، غور کیجیے ، اگر اعتراضی کے کہنے کے مطابق """ الخیر """ صرف قران ہی ہے تو  کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کو یہ فرمانے کا حکم دیا گیا ہے کہ اگر ان کو اختیار ہوتا تو وہ قران کو اپنی مرضی سے بڑھا لیتے ، اُس میں اپنی مرضی سے اضافہ کر لیتے ؟؟؟
اعتراضی کے کہنے کے مطابق اگر """ الخیر """ کو صِرف قران کریم ہی سمجھا جائے تو معاذ اللہ ،  رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم پر کیا الزام عائد ہو جاتا ہے !!!،
پس ثابت ہوا کہ قران کریم میں """ الخیر """سے مراد صرف قران کریم  ہی نہیں ، اور نہ ہی کہیں یہ مفہوم ہے کہ """ خیر """ کو اللہ تعالیٰ نے صِرف قران حکیم میں ہی محدود کر دِیا ہے ،
اللہ  جلّ جلالہُ کے اِس فرمان کو بھی پڑھیے ﴿إِنَّ الْإِنسَانَ لِرَبِّهِ لَكَنُودٌ O وَإِنَّهُ عَلَىٰ ذَٰلِكَ لَشَهِيدٌ O وَإِنَّهُ لِحُبِّ الْخَيْرِ لَشَدِيدٌ::: بے شک اِنسان تو اپنے رب کا نا شکرا ہے O اور وہ اپنی اس عادت پر خود گواہ ہے Oالخیر کی محبت میں بڑا شدید ہے سُورت العادیات(100)/آیات 6 تا 8،
قارئین کرام ، غور فرمایے ، اگر اعتراضی کے کہنے کے مطابق """ الخیر """ صرف قران ہی ہے تو یہ کونسی """ الخیر""" ہے جس سے محبت کو اللہ نے مذموم قرا دیا ہے ؟؟؟
اللہ سُبحانہ ُ و تعالیٰ نے""" خیر """ کی دعاء کرنے سے رک جانے کو معیوب قرار دِیا ہے ، اور رک جانے والوں کو اچھا نہیں قرار دِیا ، پڑھیے ،
﴿لَا يَسْأَمُ الْإِنْسَانُ مِنْ دُعَاءِ الْخَيْرِ وَإِنْ مَسَّهُ الشَّرُّ فَيَئُوسٌ قَنُوطٌ::: اِنسان خیر کی دُعاء کرتے ہوئے تو تھکتا نہیں لیکن اگر اُسے کوئی شر آن پڑے تو مایوس اور دِل برداشتہ ہو جاتاہےسُورت الفُصلت(41)/آیت 49،
اور اعتراض کرنے والااپنی """ خِلافء قران ، قران فہمی """ کے بدبودار اندھیروں میں بھٹکتے ہوئے خیر طلب کرنے کے نبوی طریقے اور خیر طلب کرنے کی نبوی  دُعاء کو قران کے خِلاف قرار دے رہا ہے ،
محترم قارئین ، اِسی قران پاک میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ بھی بتایا ہے کہ """ خیر """خود انسانوں کے اپنے اعمال میں بھی ہے ، اور اللہ نے انہیں اس کی قدرت دے رکھی ہے کہ وہ اپنے اعمال کے ذریعے اپنے لیے """ خیر """ جمع کر سکیں ، ملاحظہ فرمایے :::
﴿وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ وَمَا تُقَدِّمُوا لِأَنْفُسِكُمْ مِنْ خَيْرٍ تَجِدُوهُ عِنْدَ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ::: اور نماز قائم کرو، اور زکاۃ ادا کرو ، اور جو کچھ تُم خیر میں سے اپنے لیے آگے بھیجتے ہو ، اُسے تُم لوگ اللہ کے پاس پاؤ گے ، تُم لوگ جو کچھ بھی کرتے ہو اللہ یقیناً وہ سب دیکھتا ہےسُورت البقرہ(2)/آیت 110،
لیجیے  قارئین کرام ، اللہ سُبحانہُ و تعالیٰ نے تو خود اپنے اِیمان والے بندوں کے پاس  اُن کے لیے"""خیر """ ہونے کی خبر دے رکھی ہے ، اور یہ"""خیر """ اُن بندوں کے نیک عمل ہیں ،  جو قران حکیم سے باہر کی چیز ہیں ، مخلوق کے اعمال ہیں ،
 اب اگر کوئی بندہ اپنے کسی کام میں اپنے رب سے """استخارہ """کر کے """خیر """طلب کرتا ہے تو وہ قران کریم کا مخالف کیسے ہوا ؟؟؟ جبکہ نماز ادا کرنا ، اور اللہ سے دُعا ء کرنا دونوں ہی عین عبادت ہیں ، اور اللہ کے ہاں مطلوب ہیں ، اور اگر دُرُست طور پر ہوں تو  بلا شک و شبہ، دِین دُنیا اور آخرت کی """ خیر """ ہی ہیں ، اور یہ کام تقویٰ والے ہی کرتے ہیں ، دوسرے تو نماز سے دُور بھاگتے ہیں ،
 بلکہ کچھ تو اِس اعتراضی جیسے  ایسے بھی ہیں جو نماز ادا کرنے کے ہی منکر ہیں اور کہتے ہیں کہ نماز کچھ مخصوص اعمال اور اذکار کا نام نہیں بلکہ ایک نظام ہے جسے قائم کیا جانا چاہیے ، اور وہ نظام بھی اُن بد عقلوں کی""" خِلافء قران ، قران فہمی """ کا ایک شاخسانہ ہی ہے،  
قارئین کرام ، پہلے بھی گذارش کی جا چکی ہے کہ خوابوں کے ذریعے مشاورت کرنے کی کوئی تعلیم استخارہ والی حدیث میں نہیں ہے ، اور نہ ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی ساری ہی صحیح ثابت شدہ سُنّت شریفہ میں ایسی کوئی تعلیم ہے کہ خوابوں کو بنیاد بنا کر اپنے اعمال اختیار کیے جائیں ،
یہ الزام ، اعتراضی کی جہالت پر مبنی ہے اور یا پھر اُس کی اللہ کے دِین سے دُشمنی پر ، اور دوسرے سبب کا امکان زیادہ ہے ، جو کہ اِس شخص کی دیگر تحریروں کے علمی جائزے میں واضح ہو چکا ہے ، وللہ الحمد والمنۃ ،
اس کے بعداعتراضی نے اپنی جہالت بکھیرتے ہوئے مزید لکھا ہے کہ :::
""" جناب قارئین کرام!
 اللہ تعالیٰ کی طرف سے قرآن حکیم کو خیر قرار دیئے جانے کے باوجود بھی یہ حدیث ساز خوابوں کے ذریعے خیر مانگنے کی حدیثیں بنائے بیٹھے ہیں ۔ ان کی اس روایت سازی سے ان کا اندر کا مقصد کھل کر سامنے آجاتا ہے کہ یہ لوگ عام انسانوں کو بہکا
رہے ہیں کہ خیر کی جستجو کا محل صرف قرآن نہیں بلکہ استخارہ اور دیگر ذرائع سے بھی خیر حاصل کیا جا سکتا ہے۔ یہ حدیثیں اس قرآن کے مقابلہ میں اپنا خوابوں والا خیر بنائے بیٹھی ہیں اور رہبانیت کی دکانوں پر براجمان بابے اپنے استخاروں والے خیر کی دکانیں کھولے بیٹھے ہیں ۔ لوگ ان کے پاس آتے ہیں عرض کرتے ہیں کہ بابا سائیں ہماری یہ الجھن ہے ، ہمارے لئے استخارہ کریں ، اللہ کی مرضی معلوم کرکے بتائیں کہ ہمیں کیا کرنا ہے کیا نہیں کرنا اس طرح اللہ کی مرضی معلوم کرنے کے لئے قرآن حکیم کی طرف رجوع کرنے کی بجائے ان گدی نشینوں کی دکانوں پر لوگوں کو بلایاجا رہا ہے ۔"""،
ان خرافات کا جواب بھی میری سابقہ باتوں میں ہو چکا ہے کہ استخارہ کے نام پر گمراہی پھیلانے والوں اور دکانیں سجانے والوں کے کسی بھی کام کے دُرُست ہونے کے بارے میں کوئی ادنی ٰسا اشارہ بھی استخارہ والی حدیث شریف میں تو کیا پوری کی پوری صحیح ثابت شدہ سُنّت مبارکہ میں نہیں ملتا ، اور نہ ہی صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین کی تعلیمات میں ، اور نہ ہی اُمت کے اِماموں کی تعلیمات میں ۔
اعتراضی نے اپنی"""خلافء قران ، قران فہمی """کی بے ہوشی میں اللہ تبارک و تعالیٰ پر ایک اور جھوٹ بھی لگا دیا ، ایک اور قول بھی اللہ تعالیٰ سے منسوب کر دِیا ، لکھتا ہے :::
"""لیکن قرآن نے دو ٹوک الفاظ میں اعلان فرمایا ہے کہ :
قُلْ بِفَضْلِ اللَّهِ وَبِرَحْمَتِهِ فَبِذَلِكَ فَلْيَفْرَحُوا هُوَ خَيْرٌ مِمَّا يَجْمَعُونَ (10:58)
کہہ دو کہ (یہ کتاب) خدا کے فضل اور اس کی مہربانی سے (نازل ہوئی ہے) تو چاہیئے کہ لوگ اس سے خوش ہوں۔ یہ اس سے کہیں بہتر ہے جو وہ جمع کرتے ہیں۔
یعنی  اے محمد اعلان کردے اللہ کے فضل و رحمت کا قرآن ملنے کا اور اس قرآن کے ملنے پر ضروری ہے، لازم ہے کہ تم جشن مسرت مناؤ اور یہ قرآن خیر ہے ،یہ قرآن نہایت بہتر اور برتر ہے ان احادیث اور فقہی روایات کے مجموعوں سے جن کے تم نے لاکھوں کی تعداد میں انبار لگارکھے ہیں ۔"""،
قارئین کرام، مذکورہ بالا اقتباس پر غور فرمایے ، اعتراضی کی نقل کی ہوئی آیت شریفہ میں اللہ تعالیٰ نے مال و دولت جو کہ جمع کیا جاتا  تھا ،ا ور جمع کیا جاتا ہے ، اُسکی نسبت قران کریم کو """ خیر""" قرار دِیا ہے ، 
اور یہ اعتراضی ، جمع کیے جانے والے چیز کو حادیث اور فقہی روایات کے لاکھوں  مجموعے کہہ رہا ہے ، اور اسے اللہ کا کلام قرار دے رہا ہے ، جبکہ نزول قران کے وقت، سورت یُونُس کے نزول کے وقت  نہ تو کہیں احادیث کا کوئی ایک بھی   مجموعہ تھے اور نہ ہی فقہی روایات کا ،
اور اگر اِس آیت شریفہ﴿ قُلْ بِفَضْلِ اللَّهِ وَبِرَحْمَتِهِ فَبِذَلِكَ فَلْيَفْرَحُوا هُوَ خَيْرٌ مِمَّا يَجْمَعُونَ میں اللہ کے یہی حکم تھا کہ قران کریم کے ملنے پر """جشن مسرت منایا""" جائے تو ، پھر کیا معاذ اللہ ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ  وعلی آلہ وسلم کو اِس کی سمجھ نہ آئی تھی !!!؟؟؟ یا معاذ اللہ ، اُن صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے تو کوئی """ جشن مسرت """ نہیں """ منایا """،
﴿فَنَجْعَل لَّعْنَتَ اللَّهِ عَلَى الْكَاذِبِينَ:::پس ہم جھوٹوں پر اللہ کی لعنت بھیجتے ہیں 
تو کیا اب اِس اعتراضی کو اِس آیت شریفہ سے یہ جو  کچھ سمجھ میں آیا ہے وہ اس کی طرف وحی کیا گیا ہے ؟؟؟ کیا یہ شخص اُن لوگوں کا نبی ہے جو لوگ  مسلمانوں کو حدیث شریف  پر ایمان رکھنے کا طعنہ دیتے ہیں ، اور حدیث مبارک کے اِماموں کو نبی ماننے کا طعنہ دیتے ہیں ؟؟؟اورصحیح ثابت شدہ احادیث شریفہ کا انکار کرتے ہیں ؟؟؟
﴿فَنَجْعَل لَّعْنَتَ اللَّهِ عَلَى الْكَاذِبِينَ:::پس ہم جھوٹوں پر اللہ کی لعنت بھیجتے ہیں     
الحمد للہ ، جِس نے اِس اعتراضی کی اللہ کے دِین سے دُشمنی کو اِس شخص کے بنائے ہوئے اِن منقولہ بالا جھوٹوں کے ذریعے  بھی ظاہر کروا دِیا ، اور اِس  شخص کی اپنی ہی لکھی ہوئی باتوں سے یہاں بھی یہ واضح کروایا دِیا کہ یہ شخص نہ تو اللہ تبارک و تعالیٰ کی عِزت کرنے والا ہے ، اور نہ ہی اُس کی کتاب قران کریم کی ، اور نہ ہی اُس کے رسول محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی ،
﴿فَنَجْعَل لَّعْنَتَ اللَّهِ عَلَى الْكَاذِبِينَ:::پس ہم جھوٹوں پر اللہ کی لعنت بھیجتے ہیں   
اِس اعتراضی کو اُمت کے اِماموں علیہم رحمۃ اللہ کی نیتوں اور کاموں میں تو عیب اور دروغ گوئی دکھائی دیتے ہیں ، لیکن جو کچھ خود کہتا یا لکھتا ہے اُس میں اِسے کوئی جھوٹ نظر نہیں آتا ، یا جان بوجھ کر ایسا کچھ لکھتا ہے کیونکہ اُس کا مطلوب تو لوگوں کو اللہ کے دِین سے دُور لے جانا ہے اور اِس طرح لے جانا ہے کہ وہ لوگ بےچارے یہی سمجھتے رہیں کہ وہ اللہ کی کتاب کے مطابق چل رہے ہیں ،
﴿فَنَجْعَل لَّعْنَتَ اللَّهِ عَلَى الْكَاذِبِينَ:::پس ہم جھوٹوں پر اللہ کی لعنت بھیجتے ہیں 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
قارئین کرام ، اللہ سُبحانہُ وتعالیٰ پر جھوٹ لگانے کے بعد ،اعتراضی نے اللہ کے دِین سے دُشمنی کو چھپانے کی کوشش میں ،خود کو نبی اللہ محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی  نبوت پر ایمان رکھنے والا دِکھانے کی کوشش میں ،لوگوں کے جذبات کو ایک اور پہلو سے اُبھارنے اور اِستعمال کرنے کی کوشش کرتے ہوئے ،مزید یہ بھی لکھ مارا کہ :::
""" ختم نبوت پر ڈاکہ
یہاں میں بخاری جلد اول کے باب کیف کان بدأ الوحی کی حدیث نمبر3 پر تبصرہ کرنا چاہتا ہوں ۔ چونکہ حدیث خاصی لمبی ہے اس لئے طوالت کی وجہ سے اس کا سارا متن نقل نہیں کررہا ہوں۔اس لئے متعلقہ جملے نقل کرکے تبصرہ کرتاچلوں گا ۔ یہ حدیث وحی کی ابتدائی کیفیت بیان کرنے کے لئے بنائی گئی ہے ۔ اس کی روایت حضرت بی بی عائشہؓ کی طرف منسوب کی گئی ہے جبکہ وحی کی ابتداء کا تعلق ،عمرؓ اور رفاقت رسول کے لحاظ سے بی بی خدیجہؓ سے بنتا ہے ۔
بہرحال حدیث کے ابتدائی الفاظ یہ ہیں کہ :
اول مابدی بہ رسول اللہ صلے اﷲ علیہ و سلم من الوحی الرؤیا الصالحہ فی النوم ۔
 وحی کی ابتدا رسول ؐ  کو نیک صالح خوابوں سے کرائی گئی اور وہ خواب ایسے تھے کہ
 لایری الا جاء ت مثل فلق الصبح
یعنی وہ خواب صبح صادق کی طرح صاف اور واضح ہوتے تھے۔
جناب معزز قارئین !
 حدیث ساز امام لوگ وحی کی ابتدا ء کو خوابوں سے جو ملا رہے ہیں تو یہ ان کی ایک بہت بڑی اور گہری سازش ہے کہ رویاء صالحہ یعنی نیک خوابوں کو وحی سے خلط ملط کرنے کا سنگ بنیاد رکھ رہے ہیں ۔ اس سازش کو سمجھنے کیلئے ضروری ہے کہ بخاری صاحب کے مجموعہ حدیث کے
 باب الرویاء الصالحہ جزء من ستتہ و اربعین جز ئا من النبوۃ
پڑھ کر دیکھیں جس میں بخاری صاحب نے نیک خوابوں کو نبوت کا چھیالیسواں حصہ قرار دے کر ختم نبوت کا کھلم کھلا انکار کیا ہے اور وہاں لائی ہوئی حدیث میں ابو ہریرہ کے نام سے روایت لکھی ہے کہ نبوت میں سے اب صرف نیک صالحہ خواب ہی باقی بچے ہیں ۔
جناب قارئین کرام !
 وہاں کی چار حدیثوں میں سے ایک حدیث کا راوی امام زہری صاحب ہے تو یہاں ابتداء والی حدیث نمبر3کے راویوں میں بھی زہری صاحب موجود ہیں اور یہاں بھی نبوت اور رسالت کے مشن میں دراڑ ڈالنے کے لئے وحی کی ابتداء نیک صالح خوابوں سے کرارہے ہیں ۔
 قارئین کرام !
 خواب خواب ہوتے ہیں ۔ ضروری نہیں کہ وہ سارے واجب التعمیل ہوں چہ جائیکہ وہ صالحین اور نبیوں کے ہی کیوں نہ ہوں جس طرح حضرت ابراہیم کا خواب دیکھنا کہ وہ اپنے بیٹے اسماعیل کو ذبح کررہے ہیں اور آپ نے خواب کی تعمیل کرتے ہوئے اپنے بیٹے کو ذبح کرنے کے لئے لٹایا تو حکم ربی آیا کہ اے ابراہیم تو نے اپنا خواب سچا کردکھایا ۔
یہ تیرا خواب تھا ہمارا حکم نہیں تھا ۔
 ہم اسماعیل کو اس سے بھی زیادہ اور بڑھ کر ذبح عظیم کے لئے قبول کررہے ہیں یعنی اپنے گھر کا پاسبان بنانا چاہتے ہیں ۔""" ،
الحمد للہ ، اعتراضی کی اللہ کے دِین سے دُشمنی ، اور""" خِلافء قران ، قران فہمی """ کو اللہ تعالیٰ نے اعتراضی کی لکھی ہوئی مذکورہ بالا آخری عبارات میں تو بہت ہی واضح کروا دیا کہ اس نے اِبراہیم علیہ السلام کے خواب کا اللہ کی وحی ہونے سے ہی انکار کر دِیا کہ کسی طور یہ شخص اپنی خرافات ہی ٹھیک دِکھا سکے ، خواہ اُس کے لیے اللہ کے پہلے خلیل ابراہیم علیہ السلام کی ذات شریف پر ہی الزام لگ جائے ،
اور اپنے زعم میں ایک  اورقول  اللہ سے منسوب کر دیا،کہ """یہ تیرا خواب تھا ہمارا حکم نہیں تھا """ جبکہ اللہ تعالیٰ نے ایسا کہیں نہیں فرمایا ،  لیکن عقل کے اندھے ، اللہ کے دِین کے دُشمن اِس اعتراضی نے نہ صِرف اللہ سُبحانہ ُ و تعالیٰ پر ایک  اورجھوٹ لگا دِیا ، بلکہ اللہ کے پہلے خلیل ، اللہ کے عظیم نبی ابراہیم علیہ السلام کے بارے میں بھی یہ تاثر دیا کہ معاذ اللہ انہوں نے اپنے بیٹے کو ذبح کرنے کی کوشش اللہ کے حکم پر نہیں کی تھی ، بلکہ اپنے خواب کو اللہ کا حکم سمجھنے کی غلطی کا شکار ہو کر اپنے خواب پر عمل کرتے ہوئے کی تھی ،
یعنی ،معاذ اللہ ، ثم معاذ اللہ ، ثم معاذ اللہ ، اللہ کے رسول ابراہیم علیہ السلام تو بے چارے خوابوں کا شکار ہو کر اللہ کے حکم کے بغیر ہی بیٹے کو ذبح کرنے تک جا پہنچے ، اور بیٹا بھی اُسے اللہ کا حکم سمجھ کر راضی رہا ، اور یہ اعتراضی جاھل ، اپنی عقل کا مارا ہوا ، جاگتے میں اندھیرے خواب دیکھنے والا درست راہ پر ہے ،
﴿ فَنَجْعَل لَّعْنَتَ اللَّهِ عَلَى الْكَاذِبِينَ:::پس ہم جھوٹوں پر اللہ کی لعنت بھیجتے ہیں 
قارئین کرام ، آیے خلیل اللہ ابراہیم علیہ السلام  اور ان کی نبی بیٹے اسماعیل علیہ السلام کا یہ واقعہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے الفاظ میں پڑھتے ہیں ، اِن شاء اللہ ، اعتراضی کی بد دیانتی ، جھوٹ اور اللہ کے دِین ، اور اللہ کے رسولوں علیہم السلام سے اُس جھوٹے شخص  کی دُشمنی آپ سب پر خود ہی واضح ہو جائے گی ،اللہ تعالیٰ نے اس واقعہ کو اس طرح بیان فرمایا ہے کہ :::
﴿فَلَمَّا بَلَغَ مَعَهُ السَّعْيَ قَالَ يَا بُنَيَّ إِنِّي أَرَى فِي الْمَنَامِ أَنِّي أَذْبَحُكَ فَانْظُرْ مَاذَا تَرَى قَالَ يَا أَبَتِ افْعَلْ مَا تُؤْمَرُ سَتَجِدُنِي إِنْ شَاءَ اللَّهُ مِنَ الصَّابِرِينَ (102) فَلَمَّا أَسْلَمَا وَتَلَّهُ لِلْجَبِينِ (103) وَنَادَيْنَاهُ أَنْ يَا إِبْرَاهِيمُ (104) قَدْ صَدَّقْتَ الرُّؤْيَا إِنَّا كَذَلِكَ نَجْزِي الْمُحْسِنِينَ (105) إِنَّ هَذَا لَهُوَ الْبَلَاءُ الْمُبِينُ (106) وَفَدَيْنَاهُ بِذِبْحٍ عَظِيمٍ (107) وَتَرَكْنَا عَلَيْهِ فِي الْآخِرِينَ (108) سَلَامٌ عَلَى إِبْرَاهِيمَ (109) كَذَلِكَ نَجْزِي الْمُحْسِنِينَ (110) إِنَّهُ مِنْ عِبَادِنَا الْمُؤْمِنِينَ (111) وَبَشَّرْنَاهُ بِإِسْحَاقَ نَبِيًّا مِنَ الصَّالِحِينَ (112) وَبَارَكْنَا عَلَيْهِ وَعَلَى إِسْحَاقَ وَمِنْ ذُرِّيَّتِهِمَا مُحْسِنٌ وَظَالِمٌ لِنَفْسِهِ مُبِينٌ (113)
﴿جب اسماعیل ، اِبراہیم کے ساتھ محنت کرسکنے کی عُمر تک پہنچ گیا تو ابراہیم نے کہا اُس سے کہا ، اے میرے بیٹے میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ میں تُمہیں ذبح کرتا ہوں ، لہذا تُم اس معاملے کے بارے میں کیا کہتے ہو؟، اسماعیل نے کہا اے میرے والد ، وہی کیجیے جس کا آپ کو حکم دِیا گیا ہے ، اِن شاء اللہ آپ مجھے صبر کرنے والا پائیں گے (102) جب دونوں نے قبول کر لیا ، اوراِبراہیم نے اِسماعیل کو ماتھے (پیشانی) کے بل لِٹا دِیا (103)اور ہم نے اُن دونوں کو آواز دِی ، کہ اے اِبراہیم(104)تُم نے خواب کو سچ کر دِکھایا (بس ہمیں تو یہ ایک امتحان لینا تھا، لہذا اِسماعیل کو ذبح کرنے کی ضرورت نہیں)ہم نیک عمل کرنے والوں کو اِسی طرح بدلہ دیتے ہیں (105)بے شک یہ تو (ایک)بہت بڑی آزمائش ہے (106)اور (پھر )ہم نےاِسماعیل کو بڑی قربانی کے بدلے چُھڑوا لِیا(107)اور (پھر)ہم نے بعد میں آنے والوں میں یہ معاملہ(یہ واقعہ ، یا قُربانی کرنا ، یا ابراہیم و اسماعیل علیہما السلام کی تعریف و توصیف)برقرار رہنے دیا(108)سلامتی ہے اِبراہیم پر(109)ہم نیک عمل کرنے والوں کو اِسی طرح بدلہ دیتے ہیں(110)یقیناً اِبراہیم ہمارے اِیما ن والے بندوں میں سے ہے (111)اور ہم نے(اُس پر خوش ہوتے ہوئے)اُسےخوشخبری دی( کہ ہم اُسے بیٹا دیں گے )اسحاق کے بارے میں ، جو کہ نیکو کاروں میں سے(بھی ہو گا اور) نبی (بھی)ہو گا(112)اور ہم نے اِبراہیم پر برکت کی ، اور اِسحاق پر برکت کی ،اور اُن دونوں کی نسل میں سے نیک لوگ بھی ہیں ، اور واضح طور پر اپنی جان پر ظلم کرنے والے بھی(113)سُورت الصافات ()/آ،
قارئین کرام، اللہ جلّ جلالہُ کے مذکورہ بالا  الفاظ مبارکہ کی مزید کوئی تفسیر یا شرح کرنے کی ضرورت نہیں ، جی خلاصے کے طور پر لکھتاہوں کہ اللہ سُبحانہُ و تعالیٰ نے اِن مذکورہ بالا آیات شریفہ میں بہت ہی واضح طورپر بتایا  ہے کہ:::
"""""اِبراہیم علیہ السلام کو وہ خواب اللہ کی طرف سے دِکھایا گیا ، اور دونوں باپ بیٹے نے اُسے اللہ کا حکم جان کر قبول کیا ، اوراس پر عمل کرنے لگے ، اللہ تعالیٰ نے اُن دونوں   پر راضی ہوا ، اور انہیں خود آواز دے کر اُن سے کلام فرمایا ، اور اُن کے اس عمل پر خوش ہو کر انہیں محسنین (سچے اِیمان کے ساتھ ، اِخلاص کے ساتھ ،اور دُرُست طریقے پرنیکی کرنے والوں)میں شامل قرار دیا ،اوراُن کی نیکی کو قبول فرما کر اُس کے بدلے میں، اور اپنے حکم کی تکمیل کے لیے ، ایک بڑی قربانی کا جانور دے کر اِسماعیل کو علیہ السلام کو تکمیل کے عمل سے چُھڑوا لیا ، اور اِبراہیم ، اور اِسماعیل علیہما  السلام کی اس فرمانبرداری اور نیکی کو اُن کے بعد میں آنے والوں میں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے باقی رکھ دِیا (کہ اُن کے بعد میں آنے والے اِیمان والے ، اُن دونوں کی اِس سُنّت پر عمل کرتے ہوئے اللہ کی راہ میں جانور قربان کیا کریں )،
اور ابراہیم علیہ السلام پر سلامتی ہونے کا اعلان فرمایا ، اور ایک دفعہ پھر انہیں نیکوکار ہونے اور ایمان والا ہونے کا تمغہ عنایت فرمایا ، اور اُن پر اپنی رضا مندی اور خوشی کے انعامات میں سے اُنہیں ایک ایسا بیٹا دینے کی خوشخبری بھی دیا جو بیٹا نہ صرف نیک ترین لوگوں میں سے ہو گا بلکہ نبی بھی ہو گا ، اور پھر ابراہیم علیہ السلام اور اُس بیٹے اِسحاق علیہ السلام دونوں پر اپنی برکت فرمانے کا ذِکر فرمایا """""،
قارئین کرام ، یہ باتیں تو خود اللہ سُبحانہُ و تعالیٰ نے فرمائی ہیں ، اِن  سے صاف پتہ چلتا ہے کہ جھوٹے ، بد دیانت اور اللہ کے دِین کے دُشمن اعتراضی کی طرف سے اللہ کے فرمان کے طور  پر یہ لکھنا کہ"""یہ تیرا خواب تھا ہمارا حکم نہیں تھا """ اللہ جلّ جلالہُ پر ایک اور جھوٹ ہے ،
اور اللہ کے پہلے خلیل اِبراہیم علیہ السلام  ، اور اُن کے نبی بیٹے اِسماعیل علیہ السلام کی شان میں گستاخی بھی ،
اللہ تبارک و تعالیٰ کے مذکورہ بالا فرامین سے ہمیں یہ بھی پتہ چل گیا کہ نبیوں اور رسولوں کے خواب بھی اللہ کی حفاظت میں  ہوتے ہیں اور انہیں خوابوں میں جو کچھ دِکھائی دیتا ہے وہ  اللہ کی طرف سے وحی ہوتا ہے ، پس اگر اِیمان والوں کی والدہ محترمہ امی جان عائشہ رضی اللہ عنہا و أرضاہا نے یہ بتایا ہے کہ اللہ کے دوسرے خلیل محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم پر وحی کے نزول کی ابتداء خوابوں کی صورت میں ہوئی تو یہ قران کریم کی مذکورہ بالا آیات شریفہ کے عین مطابق ہے ،
﴿ فَنَجْعَل لَّعْنَتَ اللَّهِ عَلَى الْكَاذِبِينَ:::پس ہم جھوٹوں پر اللہ کی لعنت بھیجتے ہیں 
قارئین کرام ، امید ہے یہاں تک مہیا کی گئی معلومات ، آپ صاحبان کو ، قران کا نام لے کر قران میں دی گئی تعلیمات اور عقائد کے خلاف کام کرنے والوں کی ، اوراُن کی طرف سے  پھیلائی گئی خُرافات کی پہچان کرنے والی ہوں گی ، اِن لوگوں کی اللہ کے دِین سے دُشمنی پر مبنی ایسی کاروائیوں کے لیے میرے دیگر مضامین کا مطالعہ بھی کیجیے گا ،اِن شاء اللہ مزید فائدے کا سبب ہو گا ۔
 و السَّلامُ عَلیَ مَن اتبع َالھُدیٰ و سَلکَ عَلیَ مَسلکِ النَّبیِّ الھُدیٰ مُحمدٍ صَلی اللہُ علیہِ وعَلیَ آلہِ وسلَّمَ ، و قَد خَابَ مَن یُشقاقِ الرَّسُولَ بَعدَ أَن تَبینَ لہُ الھُدیٰ ، و اتبِعَ ھَواء نفسہُ فوقعَ فی ضَلالاٍ بعیدا۔
اس مضمون کا برقی نسخہ  اس ربط پر میسر ہے ::: http://bit.ly/17VRurH

Monday, June 17, 2013

:::::: استخارہ سُنّت میں اور کہانیوں میں :::::::

::::: استخارہ ، سُنّت میں اور کہانیوں میں :::::
أَعُوذُ بِاللَّهِ السَّمِيعِ الْعَلِيمِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ مِنْ هَمْزِهِ وَنَفْخِهِ وَنَفْثِهِ
بِسمِ اللَّہ ،و السَّلامُ عَلیَ مَن اتبع َالھُدیٰ و سَلکَ عَلیَ مَسلکِ النَّبیِّ الھُدیٰ مُحمدٍ صَلی اللہُ علیہِ وعَلیَ آلہِ وسلَّمَ ، و قَد خَابَ مَن یُشقاقِ الرَّسُولَ بَعدَ أَن تَبینَ لہُ الھُدیٰ ، و اتبِعَ ھَواء نفسہُ فوقعَ فی ضَلالاٍ بعیدا۔
شروع اللہ کے نام سے ، اورسلامتی ہو اُس شخص  پر جس نے ہدایت کی پیروی کی ، اور ہدایت لانے والے نبی محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی راہ پر چلا ، اور یقینا وہ شخص تباہ ہوا جس نے رسول کو الگ کیا ، بعد اس کے کہ اُس کے لیے ہدایت واضح کر دی گئ اور(لیکن اُس شخص نے) اپنے نفس  کی خواہشات کی پیروی کی پس بہت دور کی گمراہی میں جا پڑا ۔
السلامُ علیکُم و رحمۃُ اللہ و برکاتہُ ،
چند دِن پہلے ایک بھائی کی طرف سے ارسال کی گئی اِستخارہ کے بارے میں ایک حدیث نظر سے گذری ، جِسے اُنہوں نے بعنوان ''' جو استخارہ کرے ''' ارسال کِیا تھا ،
 اللہ تعالیٰ بھائی عبداللہ حیدر کو بہترین اجر عطاء فرمائے کہ اُنہوں نے دُعاءِ اِستخارہ والی حدیث کا حوالہ درج فرما دِ یا ، اور اُس کا مکمل متن بھی نقل کر دِیا ، میں اِس مضمون میں اُس حدیث کو پھر مکمل متن یعنی ٹیکسٹ کے ساتھ نقل کر رہا ہوں اور یہ اِس لیے کہ اِس موضوع پر ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی دی ہوئی تعلیم کو اِن شاء  اللہ تعالیٰ پوری طرح سے حاصل کر لیں اور میری اِس کوشش کو اللہ تعالیٰ اُن غلط فہمیوں اور غلط عقید ے کی اصلاح کا سبب بنا دے ، جو غلط فہمیاں اور غلط عقائد ''' استخارہ ''' کے بارے میں ہم مسلمانوں میں پائے جاتے ہیں،
 بات کو پوری طرح سے واضح کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم عربی لُغت میں اُن الفاظ کے معنیٰ اور مفہوم کو سمجھیں جواِس موضوع میں بنیادی حیثیت رکھتے ہیں ،
لفظ ، ''' اِستخارۃ ''' ،باب ''' اِستَفعَلَ''' سے ہے ، اور اِس کا معنی ہوتا ہے ، اُس ایک مذکر نے کام ہونا طلب کیا ،اب اِس باب میں جِس بھی کِسی کام کا ذِکر کیا جائے گا ، اُس کا معنیٰ ویسا ہی ہو ، میں چند ایسے الفاظ مثال کے طور پر پیش کرتا ہوں جو قران و سنّت میں استعمال ہوئے ہیں ،اور عام مسلمان بھی اُن کو جانتے ہیں ، خواہ اُن کا معنیٰ اور مفہوم نہ جانتے ہوں لیکن صوتی تعارف رکھتے ہی ہیں ، مثلاً ،
''' اِستَسقیٰ ''' ، عام طور پر نمازِ استسقاء میں یہ لفظ استعمال ہوتا ہے ، اِس کا اصل مادہ ''' سقیٰ '''یعنی ''' اُس ایک مذکر نے پلایا''' ، اور جب اِس کا باب تبدیل کر کے استعمال ہوا تو اِس کا معنیٰ ہو گیا ''' اُس ایک مذکر نے پینا طلب کیا ''' نمازِ استسقاء کو یہ نام اِسی لیے دِیا گیا ہے کہ اِس نماز کے ذریعے اللہ تعالیٰ سے بذریعہ بارش پانی پلانا طلب کیا جاتا ہے کہ وہ اپنی رحمت سے اُس عِلاقے میں جہاں یہ نماز پڑھی جا رہی ہے یا جہاں کے لیے نماز پڑہی جا رہی ہے وہاں اپنی اُس مخلوق کو پانی پلا دے جو پانی کی کمی کا شکار ہورہی ہے ،
''' اِستَغفَرَ ''' اصل مادہ ''' غَفَرَ ''' یعنی ''' اُس ایک مُذکر نے معاف کر دِیا ''' باب کی تبدیلی سے معنیٰ ہو گیا ''' اُس ایک مُذکر نے معافی طلب کی ''' اور ''' اِستغفَارٌ ''' اِس باب کے فعل کا اسم مصدر ہے ،
''' استفتیٰ ''' اصل مادہ ''' افتیٰ '''یعنی ''' اُس ایک مُذکر نے فتویٰ دِیا''' باب کی تبدیلی سے معنیٰ ہو گیا ''' اُس ایک مُذکر نے فتویٰ طلب کیا '''،
 ''' اِستَعمَلَ '''اصل مادہ ''' عَمِلَ ''' یعنی ''' اُس ایک مذکر نے کام کیا ''' باب کی تبدیلی سے معنیٰ ہو گیا ''' اُس ایک مُذکر نے کام کرنا طلب کِیا '''
یہ لغوی تفصیل (Gramatical Detail) لکھنے کا مقصد اُس غلط بات کو واضح کرنا ہے جو استخارہ کے بارے میں بہت ہی معروف ہے اور وہ یہ کہ ''' اِستخارۃ ''' کو ''' اِستشارۃ ''' کے معنیٰ اور مفہوم میں لیا جاتا ہے ، ''' اِستخارۃٌ ''' کا اصل ''' خِیَّرَ ''' اور مصدر ''' اِختیارٌ ''' یعنی اختیار کرنا ہے اور باب استفعل میں سے اِس کا مصدر ''' اِستِخارۃٌ ''' یعنی کِسی دوسرے سے اِختیار کرنے کی مانگ کرناہے ، اور ''' اِستشار ۃٌ''' کا معنی ''' کِسی سے مشورہ طلب کرنا ہے ،
'''اِستخارہ ''' اور ''' اِستشارہ ''' کے بارے میں اِسی غلط فہمی یا کم عِلمی کی بنیاد پر اصل حقیقت کھو دی گئی ہے ، اور وہ عقیدہ جو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے دُعاءِ اِستخارہ کے ذریعہ صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین ، اور اُن کے ذریعے اپنی ساری اُمت کو سکھا یا اُس صحیح صاف پاکیزہ عقیدے کو ہم تک پہنچنے نہیں دِیا گیا ،
دُعاء الاِستخارۃ
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنھُما کا کہنا ہے کہ:::
 """  کان رسول اللَّہِ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم یُعَلِّمُنَا الِاسْتِخَارَۃَ فی الْاُمُورِ کما یُعَلِّمُنَا السُّورَۃَ من الْقُرْآنِ یقول :: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم ہمیں تمام کاموں میں اِستخارہ کرنا ایسے سکھاتے تھے جیسے کہ قُرآن کی کوئی صُورت سیکھایا کرتے تھے ( اور فرمایا کرتے تھے )﴿اذا ہَمَّ احدکم بِالْامْرِ فَلْیَرْکَعْ رَکْعَتَیْنِ من غَیْرِ الْفَرِیضَۃِ ثُمَّ لِیَقُل اللَّہُمَ انی اَسْتَخِیرُکَ بِعِلْمِکَ وَاَسْتَقْدِرُکَ بِقُدْرَتِکَ وَاَسْالُکَ من فَضْلِکَ الْعَظِیمِ فَاِنَّکَ تَقْدِرُ ولا اَقْدِرُ وَتَعْلَمُ ولا اَعْلَمُ وَاَنْتَ عَلَّامُ الْغُیُوبِ اللہم ان کُنْتَ تَعْلَمُ اَنَّ ہذا الْاَمْرَ خَیْرٌ لی فی دِینِی وَمَعَاشِی وَعَاقِبَۃِ اَمْرِی :::جب تُم میں سے کِسی کو ، کوئی کام کرنے کی سوچ (فِکر) آئے تو وہ فرض نماز کے عِلاوہ دو رکعت نماز پڑہے اور کہے اے اللہ میں تُجھ سے تیرے عِلم کے ذریعے خیر طلب کرتا ہوں اور تیری قُدرت کے ذریعے قُدرت طلب کرتا ہوں ، اور تجھ سے تیرا عظیم فضل مانگتا ہوں ، کیونکہ تُو ہی قُدرت رکھتا ہے اور میں نہیں ، اور تُو ہی سب کُچھ جانتا ہے اور میں نہیں اور تُو ہی غیب کو ہر طرح سے جاننے والا ہے ، اے اللہ تو جانتا ہے اگر یہ کام میرے لیئے میرے دِین اور معاش اور آخرت میں ﴾،
او قال ::: یا فرمایا ﴿عَاجِلِ اَمْرِی وَآجِلِہِ فَاقْدُرْہُ لی وَیَسِّرْہُ لی ثُمَّ بَارِکْ لی فیہ وَاِنْ کُنْتَ تَعْلَمُ اَنَّ ہذا الْاَمْرَ شَرٌّ لی فی دِینِی وَمَعَاشِی وَعَاقِبَۃِ اَمْرِی ::: میرے دُنیا اور آخرت کے معاملے میں خیر والا ہے تو یہ کام میرے لیئے کر دے ، اور اے اللہ تُو جانتا ہے اگر یہ کام میرے لیئے دِین اور معاش اور آخرت میں
او قال ::: یا فرمایا ﴿فی عَاجِلِ اَمْرِی وَآجِلِہِ فَاصْرِفْہُ عَنِّی وَاصْرِفْنِی عنہ وَاقْدُرْ لی الْخَیْرَ حَیْثُ کان ثُمَّ اَرْضِنِی بہ :::میرے دُنیا اور آخرت کے معاملے میں شرّوالاہے تو اِس کام کو مجھ سے دُور کر دے اور مجھے اِس سے دُور کر دے اور جہاں کہیں بھی میرے لیئے خیر ہے وہ مجھے عطاء فرمادے اور پھر مجھے اُس پر راضی فرما دے
قال::: اور فرمایا﴿ وَیُسَمِّی حَاجَتَہُ ::: اِس کے بعد دُعا کرنے والا اپنے کام کا ذِکر کرے
صحیح البُخاری / حدیث 1109/ کتاب الکسوف / باب26،
اور دوسری روایت ، حدیث /6955 /کتاب التوحید / باب 10 ، میں اپنے کام کا ذِکر دُعا کے درمیان کیے جانے کا ذِکر ہے ، یعنی جہاں'''ھذا الامر یعنی یہ کام ''' کہاجاتا ہے وہاں براہ راست کام کا نام لیا جائے ،
اِس صحیح ثابت شدہ حدیث شریف میں جو باتیں انتہائی وضاحت سے سامنے آتی ہیں ، جِن کی تعلیم رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم نے اپنے اِن پاکیزہ  اِلفاظ میں دِی ہے جو اِلفاظ اِس حدیث شریف  میں ہیں ، وہ باتیں یہ ہیں کہ :::
::::: (1)  اللہ تعالیٰ ہی عالم ءِ غیب ہے  ، اللہ سُبحانہ ُ و تعالیٰ کے عِلاوہ کوئی بھی اور عالم الغیب نہیں ،  ورنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلمل قران کریم کی آیت کی طرح توجہ اور مشقت کےساتھ بار بار اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین کو یہ دُعا سکھانے کی محنت کرنے کی بجائے ، اور صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین کو دو رکعت اضافی نماز پڑہنے اور یہ دُعا یاد کرنے اوردُعاء  کرنے کی محنت کرنے اور کروانے کی  بجائے یہ فرما دیتے کہ مجھ سے آ کرپوچھ لیا کرو،(عِلم ءغیب کی تعریف ایک الگ مضمون میں بیان کی جا چکی ہے، اِس لیے اُس کے بارے میں  مزیدکوئی بات نہیں کی جا رہی)۔
 ::::: (2)کِسی بھی کام کے ہونے نہ ہونے ، کرنے نہ کرنے کی قُدرت صِرف اللہ کے پاس ہے ، اُس میں سے جتنی جِس کو چاہے اور جیسے چاہے اور جب چاہے عطاء فرما دے ، نہ چاہے تو کوئی ایک سانس بھی اندر یا باہر کرنے کی استطاعت نہیں رکھتا ۔
::::: (3) بنیادی عقیدے میں یہ درستگی پیدا کرنے کے بعد یہ سمجھایا گیا کہ'''اِستخارہ '''کے ذریعے ''' اِستخارہ''' کرنے والا اللہ تعالیٰ سے خیر طلب کرتا ہے ، مشورہ نہیں کرتا ، کہ میں دو یا زیادہ کاموں میں سے کونسا کام کروں، لہذا اِس یقین اور اِیمان کے ساتھ کہ اللہ تعالیٰ ہی عالمِ الغیب ہے اور وہ ہی قادر مطلق یعنی مکمل ترین قُدرت رکھنے والا اور تمام تر قُدرت کا مالک ہے ، اُس سےخیر طلب کرو ، اور پھر وہ کام کرنا شروع کر دو،
جی ہاں، اِس دُرست عقیدے کے ساتھ '''اِستخارہ ''' کرنے کے بعد کام کا آغاز کر دیا جائے گا ،
اِستخارہ کی تعلیم اور طریقے والی اِس صحیح ثابت شدہ  حدیث شریف کے آغاز میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے فرمان پر غور کیجیے ،اِرشاد  فرمایا ہے ﴿ اذا ہَمَّ احدکم بِالاَمرِ::: جب تُم میں سے کِسی کو ، کوئی کام کرنے کی سوچ (فِکر) آئے ،،،
اور غور کرنے سے پہلے یہ اچھی طرح سے سمجھ لیجیے کہ :::
 اِنسان کے لاشعور اور پھر شعورمیں کوئی بھی کام کرنے سے پہلے کچھ مراحل طے ہوتے ہیں جِن کے نتیجے میں کام ہوتا ہے ، پہلا مرحلہ عربی میں ''' خَطرٌ ''' یعنی''' گُمان ، شائبہ'''کہلاتا ہے ، اور اُس کا مقام لا شعور ہوتا ہے ، جب یہ گُمان کچھ طاقت ور ہوتا ہے تو ''' ھَمٌّ ''' یعنی''' سوچ یا فِکر'''بن جاتا ہے اور اِس کا مُقام شعور ہوتا ہے ، اور جب یہ''' سوچ یا فِکر '''کچھ طاقتور ہوتی ہے تو وہ ''' اِرادۃٌ، او ، نِیّۃٌ ''' یعنی ''' اِرادہ یا نیّت ''' بن جاتی ہے ، اور اِس کا مُقام دِل ہوتا ہے ،
 پھر اِس کے بعد یا تو یا اِس ''' اِرادے یا نیّت'''  کے مُطابق عمل واقع  ہوتا ہے یا اِس ''' اِرادے یا نیّت ''' کا خاتمہ ہو جاتا ہے ،اور اِن دونوں میں سے کسی ایک انجام تک پہنچنے تک وہ''' اِرادہ یا نیّت''' دِل میں ہی رہے رہتا ہے ،
قارئین کرام ، کسی بھی اِنسان کی نفسیات میں کسی بھی کام  کے آغاز سے انجام تک واقع ہونے والے مراحل کی اِس تفصیل کے بعد ، اب  پھر  سے اِستخارہ والی حدیث مُبارک کے پہلے حصے پر غور کیجیے ، کہ ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے '''سوچ یا فِکر '''کے بعداُس کی پختگی کے لیے اُسے ''' اِرادے یا نیّت ''' میں تبدیل ہونے سے پہلے عقیدے کی اصلاح کے ساتھ اللہ سے خیر طلب کرنے کا طریقہ سِکھایا ، کہ خیر طلب کرو ، اگر اِنسانی فطرت کے مطابق اگلہ مرحلہ طے ہوگیا اور اِرادہ بن گیا ، تو ، کام کا آغاز کر دو،
ابی سعید الخُدری رضی اللہ عنہُ سے بھی ''' اِستخارہ ''' کی دُعا روایت ہوئی ہے اور اُس میں ﴿ اِذا ہَمَّ احدکم بِالاَمرِِ::: جب تُم میں سے کِسی کو ، کوئی کام کرنے کی سوچ (فِکر) آئے کی بجائے ﴿ اِذا اَرادَ احدکم بِالاَمرِِ ::: جب تُم میں سے کوئی کِسی کام کا اِرادہ کرے کے الفاظ ہیں ، جو میری بات کی مزید تائید کرتے ہیں ، کیونکہ ''' اِرادے اور نیّت '''کے بعد یا کام ہوتا ہے یا اِرادہ ترک کیا جاتا ہے ، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے ''' اِستخارہ''' کو کام سے پہلے ایک مرحلہ بنا کر یہ سِکھایا کہ یہ مرحلہ طے کرنے کے بعد کام کا آغاز کر دو ،
یہ جو باتیں سنی سنائی جاتی ہیں ، لکھی پڑہائی جاتی ہیں کہ '''اِستخارہ ''' کے بعد کِسی قِسم کے لال پیلے جھنڈے ، جھنڈیاں ، یا روشنیاں نظر آتی ہیں یا کوئی بُزرگ دکھائی دیتا ہے یا کوئی اشارہ ہوتا ہے ، یا کوئی اِلہام ہوتا ہے ، سب مَن گھڑت ہیں ،
کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی طرف سے اور نہ ہی کِسی صحابی  رضی اللہ عنہ ُ کی طرف سے کہیں بھی ، حتیٰ کہ کِسی کمزور روایت میں بھی ایسی کوئی بات اِشارۃً بھی نہیں ملتی ، جو لوگ ایسی بے بنیاد خِلاف سُنّت باتوں کو مانتے اور اُن پر عمل کرتے ہیں اُن کو اگر اشارے ہوتے ہیں تو وہی کرتا ہے جو اُنہیں خِلافِ سُنّت کام کرواتا ہے ، اور ایسی بے بنیاد باتوں کو بنیاد بنا کر جو لوگ صحیح ثابت شدہ حدیث شریف پر اور حدیث شریف جمع کرنے والوں پر اعتراض کرتے ہیں ، الزام لگاتے ہیں ، اُن سے بھی یہ سب کام وہی کروا رہا ہوتا ہے ، اللہ تعالیٰ ہم سب مسلمانوں کو اُس مردود کے ہر شر سے محفوظ رکھے،
پھر دُہراتا ہوں کہ '''اِستخارہ'''کا مطلب ہے '''خیر طلب کرنا ''' جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے اِلفاظ مبارک میں بالکل واضح طور پر بیان کِیا گیا ہے ، کہ اگر اِس کام میں میرے لیے خیر ہے تو اسے میرے لیے آسان فرما دے اور اگر شر ہے تو اِسے مجھ سے ، اور مجھے اِس سے دور کردے ، پس ہمیں اِس بات پراِیمان رکھنا چاہیے کہ اللہ سے خیر طلب کرنے کے بعد جہاں تک اُس کام میں ہمارے لیے خیر ہوگی اللہ تعالیٰ وہاں تک اُسے کروا دے گا اور جہاں سے شر کا آغاز ہوگا اللہ تعالیٰ اُس کو ہم سے دُور فرما دے گا اور ہمارے لیے اُس کام کا جو بھی نتیجہ ہو گا وہ یقینا ہمارے لیے خیر ہی ہوگا ، خواہ وہ بظاہر ہمارے لیے تکلیف دہ ہی نظر آتا ہو ،
''' اِستخارہ '''کرنے کی لیے اُسکی تیاری کے بارے بھی کئی خاص ہدایات مفت بہم پہنچائی جاتی ہیں مثلاً ، نہانا چاہیے ، سفید لباس پہننا چاہیے ، '''اِستخارہ ''' رات کے وقت  کیا جاناچاہیے ، ''' اِستخارہ ''' کرتے ہوئے أگر بتیاں (خُوشبُو والی لکڑیاں وغیرہ)سُلگا لینی چاہیں ، یا استخارہ کیے جانے والے مُقام کے  اِرد گِرد خُوشبُوچھڑک لینا چاہیے ،،،، پھر ،،، سفید بستر پر سونا چاہیے اور وہ بھی سیدھی کروٹ پر ، منہ قبلہ کی طرف کرکے ، وغیرہ وغیرہ ،
یہ سب باتیں ویسی ہی ہیں جیسی کہ ''' اِستخارہ ''' کے نتیجے کے بارے میں ہیں ،
 یعنی بے بُنیاد اور مَن گھڑت ، پھر یہ بھی سننے اور پڑھنے میں میسر ہے کہ ، اگر ایک دفعہ ''' اِستخارہ ''' کرنے سے کوئی اِشارہ نہیں ہوتاتو بار بار کرو ، یہاں تک کہ اِشارہ ہو جائے ، کچھ نے اِشارہ نہ ہونے کی صورت میں ''' اِستخارہ ''' کرنے کے لیے زیادہ سے زیادہ دِن بھی مقرر کر رکھے ہیں ، اور اگر اِشارہ نہ ہو تو سب مل کر کہتے ہیں ، کام مت کرو ، یہی اِشارہ ہے ، ولا حَولَ و لا قُوۃَ اِلَّا بِاللَّہِ ،
یہ ہی نتیجہ ہوتا ہے سُنّت کو ترک کر کے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی ہدایت کو چھوڑ کر اپنی اپنی سوچ یا فلسفے کے مطابق طریقے اختیار کرنے کا کہ کہیں کوئی راہ مقرر نہیں ہو پاتی ،اور جب راہ ہی گم ہو تو منزل پہ کیا پہنچے گا راہی ﴿ فَانَّ اصدَق َ الحَدِیثِ کِتَابُ اللَّہِ ، وَخیرَ الھُدیٰ ھُدیٰ مْحمَّدٍ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم ، وَ شَرَّ الامُورِ مُحدَثَاتُھَا ، وَ کُلَّ مُحدَثَۃٍ بِدَعَۃٌ، و کُلَّ بِدَعَۃٍ ضَلالَۃٌ ، وَ کُلَّ ضَلالۃٍ فِی النَّارِ :::بے شک سب سے زیادہ خیر والی بات اللہ کی کتاب ہے اور سب سے خیر والی ہدایت محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی ہدایت ہے ، اور ہر نیا کام بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے اور ہر گمراہی جہنم میں ہے ،
'''استخارہ ''' کے بارے میں جو مراسلہ بھیجا گیا تھا اُس میں ایک حدیث لکھی گئی تھی چلتے چلتے اُس پر بھی نظر کرتے چلیں،
 یہ حدیث امام الطبرانی نے روایت کی جِس کی سند میں عبدالقدوس ولد عبدالسلام ولد عبد القدوس اپنے باپ سے اور وہ اپنے باپ سے روایت کرتا ہے ، اور وہ الحسن (البصری)سے کہ انس بن مالک کے بارے میں روایت ہے کہ اُنہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے کہا ﴿ مَا خَابَ مَن استَخَارَ ولا نَدمَ مَن استَشَارَ ولا عَال مَن اقتَصَدَ ::: جِس نے اِستخارہ کیا وہ خراب نہیں ہوتا ، اور جِس نے مشورہ کِیا وہ شرمندہ نہیں ہوتا ، اور جِس نے میانہ روی اختیار کی وہ مُفلس نہیں ہوتا المعجم الاوسط/حدیث 6627 ، المعجم الصغیر /980،
اِس حدیث کی صحت کے بارے میں، اِمام ابو بکر الھیثمی نے مجمع الزوائد /کتاب الادب /باب ١٣١ ما جاء فی المشاورۃ ،میں فرمایا ::: اِس روایت کی سند میں عبدالقدوس ولد عبدالسلام دونوں( باپ بیٹا ) ضعیف جِداً یعنی ( حدیث روایت کرنے کے معاملے میں )انتہائی کمزور (ناقابل حجت )ہیں ، اگر بفرض محال اس حدیث کو صحیح مان بھی لیا جائے تو اِس میں اللہ سے مشورہ کرنے کے بات نہیں بلکہ صرف مشورہ کا ذِکر ہے ، اور اگر کوئی یہ سوچے کہ استخارہ کے ذِکر کے بعد مشورہ کرنے کا ذِکر ہے ، اور اِستخارہ صرف اللہ سے کیا جاتا ہے لہذا یہاں اللہ سے مشورہ کرنے کا ذِکر ہے ، جواب میں کہتا ہوں ، اِستخارہ یعنی خیر طلب کرنا کِسی او ر سےخیر طلب نہیں کی جا سکتی کیوں ؟ حدیث کی شرح میں جو بیان کیا گیا ہے اُسے دوبارہ پڑہیئے اِنشاء اللہ سمجھ آ جائے گا کہ یہ صرف اللہ کی قدرت میں ہے کہ وہ کِسی کو کِسی کام میں خیر عطاء فرمائے ، اور مشورہ لینے ، دینے کی قدرت اللہ نے اپنی مخلوق کو بھی دے رکھی ہے ، اگر یہاں ذِکر کیے گئے مشورہ کو اللہ سے مشورہ کرنا مانا جائے تو اللہ تعالیٰ سے کوئی بات یا کام منسوب کرنے کے لیے صاف واضح صحیح نص یعنی قرانی آیت یا صحیح حدیث چاہیے ہوتی ہے ، اپنی سوچ سمجھ عقل فلسفہ و منطق کی بنیاد پر اللہ تعالیٰ سے کوئی بات منسوب نہیں کی جا سکتی ، اِسی کو جھوٹ باندھنا ، الزام لگانا کہا جاتا ہے ، اِس موضوع پر مزید بہت بات کی جا سکتی ہے لیکن اُس کی قطعا کوئی ضرورت نہیں کیونکہ جب یہ حدیث ہی درست اور قابل حجت نہیں تو پھر اِس کی شرح یا تفسیر کے لیے وقت ضائع کرنے کی کیا ضرورت ہے ۔
اپنی دُعاؤں میں مجھے مت بھولیے گا ۔
والسلامُ علیکُم و رحمۃ ُ اللہ و برکاتُہ ۔عادِل سُہیل ظفر ۔ 2007/7/24۔
یہ مضمون سب سے پہلے مذکورہ بالا تاریخ پر پاک نیٹ پر نشر کیا گیا تھا ، جس کا لنک درج ذیل ہے:
------------------------------------------------------------------------------------------
اس نئے مضمون کے برقی نسخے کا لنک درج ذیل ہے :