Tuesday, November 26, 2013

::::::: وھم کے مقتول :::::: Victims Of Imaginations

::::::: وھم کے مقتول :::  Victims Of Imaginations:::::::
بِسّمِ اللہ الرَّحمٰن الرَّحیم
الحمدُ للّہ الذی لا اِلہَ اِلَّا ھُوَ و الذی ارسل رَسولَہُ بالھُدیٰ و أنزلَ علیہِ  کتاباً تَبیاناً لِکُلِ شیءٍ و اعطاءہُ مع الکتاب مثلہُ
تمام تر خالص اور سچی تعریف صِرف اللہ کے لیے ہے ، اُس کے عِلاوہ کوئی سچا معبود نہیں ، اللہ وہی ہے جِس نے ہدایت کے ساتھ  اپنا رسول بھیجا اور اُن صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم پر کتاب نازل فرمائی جو ہر ایک چیز کی وضاحت لیے ہوئے ہے اور اُن صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کو اُس کتاب کے ساتھ مزید  اُسی کتاب جیسا علم و عرفان بھی عطاء فرمایا،
اس میں کوئی شک نہیں کہ حسد ایک حقیقت ہےجس سے کوئی مفر نہیں ، سوائے اللہ تعالیٰ کی پناہ اختیار کرنے کے ،
 قران پاک اور صحیح سُنّت مبارکہ میں ہمیں حسد کے بارے میں خوب خبر دی جاچکی ہے کہ یہ ایک حقیقت ہے ، اور یہ کہ اس حسد کی وجہ سے اِنسان اپنا اور دوسروں کا کتنا نقصان کر لیتے ہیں ،
قران پاک میں یوسف علیہ السلام کا واقعہ انسانی حسد کی ایک قِسم کا بیان ہے اور صحیح سُنّت مبارکہ میں ہمیں یہ بتایا گیا کہ کبھی کوئی کسی حاسد کے حسد کا شکار اس حاسد کی طرف سے بظاہر کسی مادی سبب کے اختیار  کے بغیر بھی ہو جاتا ہے جسے عام طور پر """ نظر لگنا """ کہا جاتا ہے ، اس کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کا فرمان مبارک ہے کہ ((((( لا عَدویٰ و لا طَیرۃ و العَین حَق ::: نہ چھوت (کی کوئی بیماری )ہے نہ پرندوں سے شگون لینا (کچھ معنی رکھتا )ہے اور نظر لگنا حقیقت ہے))))) السلسلۃ الاحادیث الصحیحۃ / حدیث 781 ،
(الحمد للہ ، اِس حدیث مُبارک کی کچھ دوسری روایات   اور کچھ مختصر شرح """ ماہ صفر اور ہم ، کیا ماہ صفر منحوص ہے؟ http://bit.ly/1giUVtQ """ میں بیان کر چکا ہوں، اور """نظر بد کی حقیقت http://bit.ly/1gkMu3E""" میں نظر بد کے بارے میں معلومات مہیا کی جا چکی ہیں)
حسد اور نظر لگنے کی حقیقت اپنی جگہ ثابت شدہ اور یقینی ہے ، لیکن اس حقیقت کے بارے میں لوگوں کی اکثریت وھم کا شکار ہوتی ہے  اور یوں وہ لوگ اپنے ساتھ ساتھ دیگر لوگوں کے لیے بھی پریشانی کا باعث بنتے ہیں ،
جب کبھی انہیں کوئی پریشانی یا ناکامی ملتی ہے تو وہ یہ سمجھتے ہیں کہ لوگ اُن سے حسد کرتے ہیں اور انہیں حاسدوں میں سے کسی کی نظر لگی ہے، اِنسانی شیطان وھم زدہ لوگوں  کی اِس ناکامی یا پریشانی کا سبب ہیں ،
 ایسے لوگ اپنے طور خود کو بہت ہی درست اور محنتی تصور کرتے ہیں کہ انہوں نے تو خوب محنت کی اور سب کچھ ٹھیک کیا لیکن حاسدوں نے ان کو نظر لگا کر ناکام کر دیا ،
ایسے لوگ شیطان کو خوش کرنے اور اسے خود سے مذاق کرنے کا موقع فراہم کرنے والے ہوتے ہیں ، کیونکہ وہ اپنے بارے میں کبھی تو  خوش فہمی ، اور کبھی غلط فہمی کا شکار ہو کر اپنی پریشانیوں اور ناکامیوں کے اصل اسباب کی طرف توجہ نہیں کرتے ، بلکہ دوسروں کو الزام دیتے ہیں اور یوں کبھی بھی اپنی اصلاح کی طرف نہیں آ پاتے ،
یاد رکھیے کہ  انسان کی عمومی طور پر ، اور خاص طور پر مسلمان کی ناکامی شیطان کو  بہت پسند ہے ،
میں جب بھی کسی ناکام یا پریشان حال شخص  کو دیکھتا ہوں اور اس کا سبب دریافت کرتا ہوں تو اکثر مجھے یہی جواب ملتا ہے کہ """ مجھے نظر لگی ہے """،
  تو میں اسے کہتا ہوں کہ بھائی میرے  وہ کون بیوقوف ہے جو کامیاب اور بلند رتبے والے لوگوں کو چھوڑ کر تمہیں نظر لگائے گا ؟
ایسے لوگ حقائق سے نظریں پھیرے ہوئے وھم کی دُنیا میں بستے ہیں ، اُنہیں یہ نظر نہیں آتا ایسے لوگ جنہوں نے تاریخ کو مجبور کر دیا کہ وہ اُن کے نام اور اُن کے کارمانے محفوظ رکھے جن میں مسلمان اور کافر سب ہی شامل ہیں ، اُن لوگوں کو کسی حاسد کے حسد نے ناکام نہیں کیا ! کسی کی نظر نہیں لگی ،
مثلاً امام الشافعی ، امام ابن تیمیہ ،صلاح الدین ایوبی ، ابن رُشد ، ابن خلدون ، البیرونی ،رحمہم اللہ ، اور  آئن سٹائن ، چرچل وغیرہ ،
اِس وھم میں رہنے والوں کو اُن کے اپنے ہی ارد گرد ایسی مثالیں نظر نہیں آتِیں جنہوں نے اپنے آپ کو یقین اور محنت کے ساتھ  عزت اور بزرگی کی بلندی تک پہنچانے کی بھر پور کوششیں کیں اور اللہ نے انہیں وہاں تک پہنچایا اور وہاں قائم رکھا ،
 اُن میں سے دینی طور پر عظمت کی چوٹیوں پر براجمان شخصیات بھی ہیں اور دُنیاوی طور پر بھی ، اگر ہم اپنے ہی زمانے کے ایسے لوگوں کے نام ہی گنوانا شروع کر دیں تو شاید ایک اچھی خاصی فہرست تیار ہو جائے ،
وھم کے شکار ہونے والے احمق لوگوں کو یہ بھی نظر نہیں آتا کہ ہم اپنی کوتاہیوں کی طرف توجہ کر کے اُن کی اِصلاح کرکے اُن کامیاب لوگوں کی صفوں میں شامل ہونے سے صرف اپنے اُس وھم کی وجہ سے رُکے ہوئے ہیں ،
اِن بے چاروں کو یہ بھی سمجھ نہیں آتا کہ اُن کامیاب لوگوں کو تو نہ حسد پکڑتا ہے اور نہ ہی نظر لگتی ہے تو آخر ہم میں اُن کامیاب لوگوں سے بڑھ کر ایسی کونسی بات ہے جس کی بنا پر کوئی ہم سے حسد کرے اور ہمیں نظر لگے ،    
ایک دفعہ میں ایک طالب عِلم سے مِلا جو یونیورسٹی میں اپنے امتحانات میں ایک سے زیادہ دفعہ ناکام ہو چکا تھا ، میں  نے  اُس سے ، اُس کی پے درپے ناکامیوں کے سبب کے بارے میں پوچھا ، تو ،
اُس نے بڑے غم سے جواب دیا کہ مجھے میرے ہم جماعتوں میں سے حاسدوں کی نظر لگ گئی ہے ،
میں نے اسے کہا ، تمہارے دوسرے چار بھائی تو بہترین درجوں میں کامیاب ہوئے ، وہ سب تُم سے پہلے کامیابی کے زینے چڑھ چکے ہیں اور اپنے ہم جماعتوں میں ممتاز شخصیت ظاہر ہو چکے ہیں تم سب سے بعد تھے ، تُم سب میں سے صِرف تُم ایک اکیلے ہی نظر کا شکار کیوں ہوئے ؟
 نہیں بیٹا جس وھم کا تم شکار ہو وہ حقیقت نہیں بلکہ حقیقت یہ ہے کہ تُم نے اُن کامیاب ہونے والوں کی طرح جماعت میں حاضری نہیں رکھی ، جماعت میں بیٹھ کر بھی غیر حاضر رہتے ہو ، سبق سمجھنے اور یاد کرنے کی طرف توجہ نہیں کرتے ،اس لیے تُم کامیاب نہیں ہو پا رہے ،
خواتین کے ساتھ معذرت کے ساتھ کہتا ہوں کہ خواتین  ایسے اوہام (یعنی  وہموں) کا مَردوں کی نسبت زیادہ شکار ہوتی ہیں اور حقائق سے چشم پوشی بھی خوب کرتی ہیں ،
مثلاً کچھ  ایسی خواتین (کے بارے میں مجھے پتہ چلا ) جنہیں اللہ تعالیٰ نے تین فیصد حسن بھی نہیں دیا وہ اپنے ہی خاندان کی عورتوں سے بھی چہرہ چُھپاتی ہیں کہ اُنہیں اُن عورتوں میں سے کسی کی نظر نہ لگ جائے ،
کیا اِنہیں کچھ خبر نہیں کہ دُنیا میں ایسی ایسی خوبصورت خواتین بھی تِھیں اور ہیں جن کی مثال ملنا مشکل ہوتی ہے لیکن اُنہیں کسی کی نظر لگنے کی کوئی خبر آج تک سامنے نہیں آئی ،   
کچھ ایسی خواتین (کے بارے میں  مجھے بتایا گیا ) جو اپنے ماں بننے کی اُمید کی خوشخبری دوسری عورتوں حتیٰ  کہ اپنے خاندان کی بزرگ  عورتوں سے بھی  چُھپاتی ہیں کہ انہیں نظر نہ لگ جائے ، اور آنے والا بچہ کچھ کا کچھ نہ ہو جائے ، سبحان اللہ ، کیسا وھم ہے ، دُنیا میں ہمیشہ سے کتنی عورتیں مائیں بنتی چلی آ رہی ہیں ؟!
اُن میں سے کتنی کو نظر لگی اور کتنی خواتین کی اولاد کو نظر لگی ؟!
 خود اِن وھم زدہ خواتین کی اپنی ماؤں کو کسی کی نظر نہیں لگی اور یہ خواتین اللہ کے حکم سے باخیر وعافیت پیدا ہو گئیں تو اب اُن میں  ایسی کیا خوبی ہے ، کیا انفرادیت ہے جو اُن کو نظر لگے گی؟!
 کیا وہ وھم زدہ خواتین یہ سمجھتی ہیں کہ کسی خالد ابن الولید کو جنم دینے والی ہیں یا کسی صلاح الدین ایوبی کو ،
کسی انجان بیماری کی وجہ سے کسی عورت کے سر کے بال جھڑنے لگیں تو وہ علاج کی طرف توجہ کرنے کی بجائے یہ  کہتی سنائی دیتی ہے کہ مجھے کسی کی نظر لگ گئی ہے ، نظر نے مجھے تباہ کر دیا ہے ، میرا حسن و جمال نظر کھا گئی ہے ،
اللہ اللہ ، دیکھیے تو خلافت عباسیہ کی حسین  ترین  عورت  بوران  بنت  الحسن بن سہل  کے سر  کے بال تو اللہ نے سلامت رکھے کسی کی نظر نہ  لگی ، اور،،،  اِنہیں نظر لگ گئی ،
کیا ہی بھلا ہو کہ اس قسم کے وھم میں پڑنے کی بجائے ہم اللہ کی طرف سے ہمارے لیے  مسخر اور مہیا کردہ مادی وسائل کو بروئے کار لا کر اللہ کے عطاء کردہ علوم کے ذریعے اسباب جاننے کی کوشش کریں اور اگر کچھ پتہ نہ چلے تو پھر بھی اِس قِسم کی باتوں کی طرف توجہ کر کے اُن کے سامنے خود کو بے بس بنانے کی بجائے اور لوگوں میں اُس کا شکوہ کرنے کے بجائے اپنے رب کی طرف رجوع کریں اور اس سے اپنی غلطیوں پر معافی مانگیں اور اپنے گناہوں سے توبہ کریں اور اس سے دعا کریں کہ وہ ہمیں اس غم اور ہر غم سے نجات دے دے ،
اور نظر بد وغیرہ سے بچنے اور نجات پانے کے جو ذرائع ہماری شریعت مطہرہ میں جائز قرار پاتے ہیں اُن کو اپنے معمولات میں شامل کریں ،(((نظر بد کی حقیقت ، اور عِلاج کے بارے میں ایک مضمون الگ سے نشر کیا جا چکا ہے: http://bit.ly/1gkMu3E )))  
حقیقت یہ ہے کہ شیطان ہم میں سے اکثر کے ساتھ کھیلتا ہے جن میں سے اکثریت کمزور اِیمان والے اِس قسم کے احمق لوگوں کی ہوتی ہے جو ایسے وھموں کا شکار ہوتے ہیں ،
مضبوط اِیمان والے ، بہادر اور ذہین لوگوں پر شیطان کا یہ داؤ بھی نہیں چلتا بلکہ وہ شیطان کو مغلوب کرتے ہیں ،
یہ کیوں نہیں سوچا جاتا کہ ہم قران اور اِیمان والی امت ہیں ،
 ہمیں ہی حاسد کی نظر کیوں لگتی ہے  ،  ناسا کے ارکان کو کیوں نہیں ؟؟؟ جنہوں نے مریخ کی سطح تک رسائی حاصل کر لی ہے ،
 قصہ مختصر یہ کہ ہم لوگ وھم کے مقتول ہیں ، 
میری دِلی خواہش ہے کہ وھم اور وسوسوں کے پنجروں میں بند یہ لوگ آزاد ہو جائیں اور اپنی غلطیوں کو پہچان کر اُن کی اِصلاح کریں اور اُمت میں اپنے نفسیاتی امراض پھیلانے سے بچ جائیں ،
تو اے وھم کے ہاتھوں مارے جانے والو،،،،، اُمت کو اپنے اس فتنے سے محفوظ کرو اور اِس سے توبہ کر کے اپنے اللہ کی طرف پلٹ پڑو،،،،،وسوسوں کو حقیقت جاننا چھوڑ دو اور اللہ پر توکل کرنا شروع کرو (((((وَعَلَى اللَّهِ فَتَوَكَّلُوا إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ ::: پس اگر تُم لوگ (سچے ) اِیمان والے ہوں تو(پھر بس صِرف ) اللہ پر ہی توکل کرو)))))سورت المائدة/ آیت 23 کا ایک جُز ۔
و السلام علیکم ۔ طبگارء دُعاء ، عادِل سُہیل ظفر ،
 تاریخ کتابت : 21/06/1431 ہجری،بمُطابق 04/06/2010 عیسوئی ،
 تاریخ نظر ثانی و تجدید : 22/01/1435 ہجری ،بمُطابق،26/11/2013 عیسوئی۔
الشیخ ڈاکٹر عائض القرنی کی ایک تحریر  سے ماخوذ ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس مضمون کا برقی نسخہ درج ذیل ربط پر میسر ہے :
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
((( شیطان کے وساوس سے بچنے کے طریقوں کے بارے میں ایک تفصیلی مضمون کافی عرصہ  پہلے شائع کیا جا چکا ہے ، وللہ الحمد )))

Wednesday, November 20, 2013

لمبی اور پُر سُکون زندگی کا ایک حقیقی سبب __ An Actual Reason Of Long Life


::::::: لمبی اور پُر سُکون  زندگی کا ایک حقیقی سبب ::::::::
بِسمِ اللَّہ ،و الصَّلاۃُ و السَّلامُ عَلَی مُحمدٍ الذّی لَم یَکُن مَعہ ُ نبیاً و لا رَسولاً  ولا مَعصُوماً مِن اللہِ  و لَن یَکُون  بَعدہُ ، و علی َ أزواجہِ و ذُریتہِ و أصحابہِ و مَن تَبِعھُم بِإِحسانٍ إِلیٰ یِوم الدِین ،
شروع اللہ کے نام سے ، اور اللہ کی رحمتیں اور سلامتی ہواُس محمد پر ، کہ اللہ کی طرف سے نہ تواُن کے  ساتھ کوئی نبی تھا ، نہ رسول تھا، نہ کوئی معصوم تھا ، اور اُن کے بعد بھی ہر گِز کوئی ایسا ہونے والا نہیں ، اوراللہ کی رحمتیں اور سلامتی ہو محمد رسول اللہ  کی بیگمات پر، اور اُن کی اولاد پر ،اور اُن کے صحابہ پر ، اور جو کوئی بھی ٹھیک طرح سے ان سب کی پیروی کرے اُس پر ۔
اللہ تبارک وتعالیٰ نے  اپنی ساری ہی مخلوق کے خاتمے کی معیاد مقرر فرما رکھی ہے ، اور جو کوئی بھی اُس مقرر کردہ معیاد تک پہنچتا ہے اُس ختم ہونا ہی ہوتا ہے ،
لیکن اللہ جلّ جلالہ ُ نے  کسی کی معیاد کم ہونے کے بھی کچھ اسباب رکھے ہوتے ہیں ، اور کسی کی معیاد  زیادہ ہونے کے بھی ،
جِن میں سے کچھ سب ہی انسانوں کے لیے مشترک دِکھائی دیتے ہیں اور کچھ مُسلمانوں کے لیے خاص ،  
کہا جاتاہے کہ مُسلمانوں میں  جن لوگوں کے سینے (دِل )اورباطن ( دِماغ و رُوح) حسد و کینہ پروری سے ، اور جن کی تنہائیاں بھی  گناہوں سے ، اور جن کے باطن بھی شر ّ سے پاک ہوں ، وہ لوگ عموما ً لمبی  اور پرُ سکون زندگی پانے والے دِکھائی دیتے ہیں ،
یہ وہ  لوگ ہوتے ہیں جو دِن بھر دوسروں کو ملنے والی نعمتوں اور راحتوں کو دیکھتے ہیں ، لیکن اِن کے دِل و دِماغ میں کہیں کسی کے لیے کوئی حسد یا نفرت نہیں ہوتی ، اور رات کو اپنے رب کا شکر ادا کرتے ہوئے صاف ستھرے دِل ، دِماغ لیے ہوئے انتہائی پُر سکون نیند سوتے ہیں ،
یہ وہ لوگ ہوتے ہیں کہ ان کے پیٹ خالی ہوتے ہیں ، لیکن اپنے اِرد گِرد بھرے پیٹوں والوں کو دیکھ کر بھی وہ اپنے اللہ کے فیصلوں پر راضی رہتے ہیں ، اُن کے پیٹ تو بھوک سے بلبلاتے ہیں ، لیکن دِل ، دِماغ اور رُوحیں اللہ کی نافرمانی اور نا شکری کی طرف مائل بھی نہیں ہوتے ،
یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے کے لیے خون سے بننے والا پسینہ بہاتے ہیں اور پھر بھی اُن کی جائز ضروریات اور ذمہ دارایاں تک بھی پوری نہیں ہوپاتِیں ، اور وہ اپنے اِر د گِرد ایسے لوگوں کا پجوم پاتے ہیں جو کچھ خاص مشقت کیے بغیر حلال و حرام کی تمیز رکھے بغیر اتنا مال کماتے ہیں کہ جس کا شاید اُن کو خود بھی پتہ نہیں ہوتا، لیکن ، پھر اِن اِیمان والے ، محنت کش غریبوں کے باطن اپنے اللہ کی عطاء ، حِکمت اور مشئیت پر راضی ہوتے  ہیں ،
سچے اِیمان کے پھلوں میں سے ایک پھل اپنے مُسلمان ، کلمہ گو بھائیوں بہنوں کے لیے دِل میں محبت و احترام ہوتا ہے ، کیا ہمار رب نے اِیمان والوں کی نشانیوں میں یہ نہیں بتایا کہ (((((وَالَّذِينَ جَاءُوا مِن بَعْدِهِمْ يَقُولُونَ رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَلِإِخْوَانِنَا الَّذِينَ سَبَقُونَا بِالْإِيمَانِ وَلَا تَجْعَلْ فِي قُلُوبِنَا غِلًّا لِّلَّذِينَ آمَنُوا رَبَّنَا إِنَّكَ رَءُوفٌ رَّحِيمٌ::: اے ہمارے رب ہماری بخشش فرما ، اور ہمارے اُن بھائیوں کی بھی جو اِیمان لانے میں ہم سے  آگے رہے ، اور ہمارے دِلوں میں  اِیمان لانےو الوں کے لیے کوئی حسدو نفرت نہ ہونے دے ، اے ہمارے رب تُو یقیناً بہت ہی زیادہ شفقت کرنے والا اور رحم کرنے والا  ہے )))))) سورة الحشر(59)/ آيت 10 .
اِیمان والا کبھی حسد نہیں کرتا ، کیونکہ حسد ایک ایسی قلبی اور  روحانی بیماری ہے ، جو اِیمان کی کمزوری کی حالت میں حملہ آور ہوتی ہے اور جِس قدر اِیمان کمزور اور کم ہوتا ہے اُسی قدریہ بیماری طاقتور اور زیادہ ہوتی ہے ،
اور ایک وقت آتا ہے جب یہ بیماری قلب و رُوح سے نکل کر نفسیات اور جِسم کو بھی مریض کر دیتی ہے ،
اور پھر حاسد ایک ایسا مریض بن کر رہ جاتا ہے کہ جِس  ہر کسی بیماری کا کوئی مادی عِلاج اثر نہیں کرتا ، اور اُس کی بیماریوں میں روز بروز اضافہ اورشدت ہوتی ہے ، جو اُس کی زندگی کے مختصر ہونے کے اسباب میں سے ہو جاتی ہے ،
اِیمان والا اِس لیے بھی اپنے مسلمان کلمہ گو بھائیوں ، بہنوں سے  حسد ، کینہ اور نفرت نہیں کرتا کہ اُس کا اِیمان اُسے اپنے مسلمان بھائیوں ، بہنوں کے لیے خیر و عافیت کا متمنی رکھنے کا سبب ہوتا ہے ، لہذا وہ اپنے رب اللہ سُبحانہُ و تعالیٰ کی طرف سے لوگوں میں اور خاص طور پر مسلمانوں میں رزق کی تقسیم پر معترض نہیں ہوتا ،
اور اپنے رب کے اِ س فرمان پر راضی رہتا ہے کہ (((((إِنَّ رَبَّكَ يَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ يَشَاءُ وَيَقْدِرُ إِنَّهُ كَانَ بِعِبَادِهِ خَبِيرًا بَصِيرًا:::یقیناً آپ کا رب جِس کے چاہتا ہے رزق وسیع فرماتا ہے اور (جِس کے لیے چاہتا ہے )تنگ فرماتا ہے ، اور یقیناً وہ اپنے بندوں کی بہت زیادہ خبر رکھتا ہے اور (انہیں اور اُن کے ظاہر و باطن کو خُوب اچھی طرح سے باریک بینی سے)دیکھتا ہے)))))سُورت الاِسراء(بنی إِسرائیل 17)/آیت 30،
یاد رکھیے  کہ خود کو یا کسی کو ملنے والے رزق پر حسد کرنا اللہ تبارک و تعالیٰ کی مشیئت اور تقسیمءِ رزق پر اعتراض ہوتا ہے ، جیسا کہ جناب جعفر (صادق رحمہُ اللہ) بن محمد بن علی زین العابدین بن حسین بن علی رضی اللہ عنہما ،کے بارے میں مروی  ہے کہ انہوں نے اپنے بیٹے کو وصیت کرتے ہوئے فرمایا""" ومَن لم يرض بَما قَسمَ الله عزَّ و جلَّ لَهُ اتَّهمَ اللهُ تعالى في قضائِهِ ::: جو ُا س پر راضی نہیں ہوتا جو کچھ اللہ نے اُس کی قِسمت میں کیا ہے تو وہ اللہ کے فیصلے پر تہمت لگانے والا ہوتا ہے"""، صفۃ الصفوۃ / (إِمام ابن الجوزی رحمہ ُاللہ )جلد /صفحہ 170، ، الطبعۃ الثانیۃ ، دار المعرفۃ ، بیروت،
پس اِیمان والا نہ تو اپنے کسی مُسلمان بھائی یا بہن پر کوئی مصیبت پڑنے سے خوش ہوتا ہے ، اور نہ ہی اُن میں سے کسی پر کوئی آفت آنے سے ، بلکہ  کسی مُسلمان کو کسی تکلیف میں دیکھ کر اُس کا دِل دُکھتا ہے ، اور اُس بھائی یا بہن کا درد اُسےاپنے اندر محسوس ہوتا ہے (((((مَثَلُ الْمُؤْمِنِينَ فِى تَوَادِّهِمْ وَتَرَاحُمِهِمْ وَتَعَاطُفِهِمْ مَثَلُ الْجَسَدِ إِذَا اشْتَكَى مِنْهُ عُضْوٌ تَدَاعَى لَهُ سَائِرُ الْجَسَدِ بِالسَّهَرِ وَالْحُمَّى:::اِیمان والوں کی آپس میں محبت اور رحم اور نرم دِلی کی مثال ایک جِسمء واحد کی طرح ہوتی ہے کہ اگر اُس میں سے کوئی ایک حصہ کسی تکلیف میں ہو تو سارا ہی جِس اُس ایک حصے کے لیے  بے خوابی اوربُخار کی کیفیت میں مبتلا ہو جاتا ہے)))))صحیح مُسلم /حدیث /6751کتاب  البِر و الصلۃ والادب/باب17،
[[[ اِس حدیث شریف میں میڈیکل سائنس کی ایک بڑی حقیقت بھی بیان  ہوئی ہے، اِس وقت میں اُس کی تفصیل میں نہیں جانا چاہتا ، صِرف اِشارۃً ذِکر کیا ہے ، یہ سمجھانے کے لیے کہ صحیح ثابت شدہ احادیث شریفہ اللہ کی طرف سے وحی ہیں ، نہ کہ گمراہ لوگوں کی سوچ کے مطابق خوامخواہ کی روایات ]]]
اِیمان والا اپنے مُسلمان بھائیوں بہنوں کو ، یا اُ ن میں کسی کو  گمراہی میں دیکھتا ہے تو اُن کی گمراہی پر  اُس کا دِل تڑپتا ہے، اور وہ اُن کا واجب ادلاء احترام برقرار رکھتے ہوئے انہیں راہ راست کی دعوت دیتا ہے ، اُن پر کفر و ضلالت کے فتوے  نہیں لگاتا ، حتیٰ کہ اگر اُس پر کسی کی ڈھٹائی، ضد اور تعصب واضح ہو جائے تو بھی وہ اپنے طور کسی مسلمان کو شیطان کے حوالے کرنے کا سبب نہیں بنتا ، کہ وہ اُسے مزید گمراہ کرے ، اور نہ ہی اِس بات کا موقع مہیا کرتا ہے کہ مسلمانوں کے درمیان عدوات اور بغض پیدا ہو ، یا بڑھے ، اِیمان والے کو اپنے رب جلّ و عُلا کا یہ فرمان یاد رہتا ہے کہ (((((إِنَّمَا يُرِيدُ الشَّيْطَانُ أَنْ يُوقِعَ بَيْنَكُمُ الْعَدَاوَةَ وَالْبَغْضَاءَ ::: بلکہ یقیناً شیطان تو یہ ہی چاہتا ہے کہ تُم (اِیمان والے)لوگوں کے درمیان دُشمنی اور کینہ  پڑ جائے   )))))سُورت المائدہ(5)/آیت 91،
 پس اِیمان والا ، سچے اِیمان والا ، اپنے دِل میں کسی مُسلمان کے لیے کوئی حسد ، بغض ، کینہ ، نفرت اور اِسی قِسم کا کوئی دوسرا جذبہ نہیں رکھتا ، وقتی طور پر ، یا شیطان یا نفس کے کسی وسوسے کی وجہ سے ایسا کوئی خیال آئے بھی تو فوراً اُس سے چھٹکارا پانے کی کوشش کرتا ہے ، اور اللہ کی عطاء کردہ توفیق کےذریعے  چُھٹکارا پا بھی لیتا ہے ،
اور جِس کا دِل و دِماغ ، ظاہر و باطن اپنے رب کی عطاء ، تقسیمءِ رزق، اور مشیئت پر راضی رہتا ہو، اپنے مسلمان بھائیوں بہنوں کے لیے حسد ، بغض ، کینہ اور نفرت وغیرہ سے صاف رہتا ہو ، اللہ کی طرف سے یہ اُس کے لیے لمبی اور پُر سکون دُنیاوی زندگی اور باعزت اُخروی زندگی کے اسباب میں سے ہو جاتا ہے ۔
اللہ تبارک و تعالیٰ ہم سب کو ایسی ہی دُنیاوی اور اُخروی زندگی پانے والوں میں سے ہونے کی توفیق عطاء فرمائے ،
یہ بات بھی یاد رکھنے کی ہے کہ اِیمان والا کسی کافر کو ملنے والے رزق پر بھی حسد کا شِکار نہیں ہوتا ، اور نہ ہی اُس کی وجہ سے اُس سے کسی قِسم کی دُشمنی یا بغض رکھتا ہے ،لیکن اُس کے کفر کی وجہ سے اُس کی طرف کسی بھی قِسم کا قلبی یا میلان بھی نہیں رکھتا ، اور اس کے ساتھ ساتھ ایک انسان ہونے کی حیثیت سے اللہ نے اُس کافر کے جو حقوق مقرر کیے ہیں انہیں ادا بھی کرتا ہے ،
اِیمان والا کسی بھی کافر سے بغض اور دُشمنی صِرف اُس کے کفر کے وجہ سے رکھتا ہے ، کہ اُس کا کُفر اللہ کی دُشمنی ہے اور اللہ کا دُشمن کسی اِیمان والے کا محبوب ، یا پسندیدہ نہیں ہو سکتا ، اور جس کسی کو کوئی کافر پسند ہوتا ہو ، وہ یہ جان رکھے کہ اُس کا اِیمان مکمل نہیں (((((مَنْ أَحَبَّ لِلَّهِ وَأَبْغَضَ لِلَّهِ وَأَعْطَى لِلَّهِ وَمَنَعَ لِلَّهِ فَقَدِ اسْتَكْمَلَ الإِيمَانَ::: جِس نے اللہ کے لیے محبت کی ، اور اللہ کے لیے دُشمنی کی ، اور اللہ کے لیے ہی (اپنے مال ومتاع میں سے ) کچھ دِیا ، اور اللہ کے لیے ہی کچھ دینے سے باز رہا تو یقیناً اُس نے اپنا اِیمان مکمل کر لیا )))))سُنن ابو داؤد /حدیث /4683کتاب السُنّۃ/باب16، إِمام الالبانی رحمہ ُ اللہ نے صحیح قرار دِیا ،  
اور  وہ کافر جن کی قولی ، فعلی ، اشاراتی یا کسی بھی قِسم کی کاروائی سے یہ پتہ چلتا ہو کہ وہ  اللہ جلّ و عُلا اور اُس کے خلیل محمد رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے خلاف کام کرنے والوں میں سے ہے ، فقط کفریہ عقائد کا حامل ہی نہیں بلکہ اُن عقائد کے مطابق اللہ ، محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم اور اللہ کے دِین ، اور اُس دِین کے ماننے والوں کے خِلاف کام کرنے، کروانے والوں میں سے ہے تو کوئی بھی سچے اِیمان والے  ایسے کسی بھی  کافر  کے لیے اپنے دِل میں کوئی محبت ، کوئی لگاؤ ، کوئی میلان نہیں پاتا ، جیسا کہ صحابہ رضی اللہ عنہم کی شان میں اللہ تبارک وتعالیٰ نے اِرشاد فرمایا (((((لَّا تَجِدُ قَوْمًا يُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ يُوَادُّونَ مَنْ حَادَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَلَوْ كَانُوا آبَاءَهُمْ أَوْ أَبْنَاءَهُمْ أَوْ إِخْوَانَهُمْ أَوْ عَشِيرَتَهُمْ أُولَٰئِكَ كَتَبَ فِي قُلُوبِهِمُ الْإِيمَانَ وَأَيَّدَهُم بِرُوحٍ مِّنْهُ وَيُدْخِلُهُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ أُولَٰئِكَ حِزْبُ اللَّهِ أَلَا إِنَّ حِزْبَ اللَّهِ هُمُ الْمُفْلِحُونَ ::: (اے محمد)آپ اللہ اور آخرت کے دِن پر اِیمان رکھنے والوں میں ایسے لوگ نہیں پائیں گے  جو اُن سے محبت کرتے ہوں جو اللہ اور اُس کے رسول سے دُشمنی رکھتے ہیں ، خواہ وہ (دُشمنی رکھنے والے ) اُن ( اِیمان والوں) کے باپ دادا ہوں ، یا اُن کے بیٹے (اولاد) ہوں ، یا اُن کے بھائی ہوں ، یا اُن کے خاندان والے ہوں ، یہ ہی (وہ سچے اِیمان والے)ہیں جِن کے دِلوں میں اللہ نے اِیمان لکھ دِیا ہے ، اور اپنے پاس سے اپنی رُوھ کے ذریعے اُن کو تقویت دی ہے ، اور اُنہیں اللہ اُن باغات میں داخل فرمائے گا جِن باغات کے نیچے سے نہریں بہتی ہیں ، یہ (سچے پکے اِیمان والے ) اُن باغات میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے ، اللہ اِن سے راضی ہو چکا ہے اور یہ اللہ سے راضی ہو چکے ہیں ، یہ ہی ہیں اللہ کی جماعت ، یاد رکھو  کہ اللہ کہ یقیناً اللہ کی جماعت ہی (دِین ، دُنیا اور آخرت  کی حقیقی)کامیابی حاصل کرتی ہے   ))))) سُورت المجادلۃ(22)/آیت 58،
اللہ تبارک وتعالیٰ ہم سب کو ، ہمارے سب مسلمان بھائیوں ، بہنوں کو صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین کے نقش قدم پر چل کر ایسا اِیمان پانے والوں میں سے بنا دے اور ہم پر بھی راضی ہو جائے اور ہمیں اُس پر ، اُس کے ہر فیصلے پر راضی  رہنے والوں میں سے ، حسد ، تعصب ، ناجائز حقد وعناد سے محفوظ رہنے والوں میں سے بنا دے ۔
والسلام علیکم، طلب گارء دُعاء ، عادِل سُہیل ظفر۔
تاریخ کتابت : 16/01/1435ہجری ، 20/11/2013  عیسوئی ۔
مضمون کا برقی نسخہ درج ذیل ربط پر میسر ہے :
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔