Tuesday, November 26, 2013

::::::: وھم کے مقتول :::::: Victims Of Imaginations

::::::: وھم کے مقتول :::  Victims Of Imaginations:::::::
بِسّمِ اللہ الرَّحمٰن الرَّحیم
الحمدُ للّہ الذی لا اِلہَ اِلَّا ھُوَ و الذی ارسل رَسولَہُ بالھُدیٰ و أنزلَ علیہِ  کتاباً تَبیاناً لِکُلِ شیءٍ و اعطاءہُ مع الکتاب مثلہُ
تمام تر خالص اور سچی تعریف صِرف اللہ کے لیے ہے ، اُس کے عِلاوہ کوئی سچا معبود نہیں ، اللہ وہی ہے جِس نے ہدایت کے ساتھ  اپنا رسول بھیجا اور اُن صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم پر کتاب نازل فرمائی جو ہر ایک چیز کی وضاحت لیے ہوئے ہے اور اُن صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کو اُس کتاب کے ساتھ مزید  اُسی کتاب جیسا علم و عرفان بھی عطاء فرمایا،
اس میں کوئی شک نہیں کہ حسد ایک حقیقت ہےجس سے کوئی مفر نہیں ، سوائے اللہ تعالیٰ کی پناہ اختیار کرنے کے ،
 قران پاک اور صحیح سُنّت مبارکہ میں ہمیں حسد کے بارے میں خوب خبر دی جاچکی ہے کہ یہ ایک حقیقت ہے ، اور یہ کہ اس حسد کی وجہ سے اِنسان اپنا اور دوسروں کا کتنا نقصان کر لیتے ہیں ،
قران پاک میں یوسف علیہ السلام کا واقعہ انسانی حسد کی ایک قِسم کا بیان ہے اور صحیح سُنّت مبارکہ میں ہمیں یہ بتایا گیا کہ کبھی کوئی کسی حاسد کے حسد کا شکار اس حاسد کی طرف سے بظاہر کسی مادی سبب کے اختیار  کے بغیر بھی ہو جاتا ہے جسے عام طور پر """ نظر لگنا """ کہا جاتا ہے ، اس کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کا فرمان مبارک ہے کہ ((((( لا عَدویٰ و لا طَیرۃ و العَین حَق ::: نہ چھوت (کی کوئی بیماری )ہے نہ پرندوں سے شگون لینا (کچھ معنی رکھتا )ہے اور نظر لگنا حقیقت ہے))))) السلسلۃ الاحادیث الصحیحۃ / حدیث 781 ،
(الحمد للہ ، اِس حدیث مُبارک کی کچھ دوسری روایات   اور کچھ مختصر شرح """ ماہ صفر اور ہم ، کیا ماہ صفر منحوص ہے؟ http://bit.ly/1giUVtQ """ میں بیان کر چکا ہوں، اور """نظر بد کی حقیقت http://bit.ly/1gkMu3E""" میں نظر بد کے بارے میں معلومات مہیا کی جا چکی ہیں)
حسد اور نظر لگنے کی حقیقت اپنی جگہ ثابت شدہ اور یقینی ہے ، لیکن اس حقیقت کے بارے میں لوگوں کی اکثریت وھم کا شکار ہوتی ہے  اور یوں وہ لوگ اپنے ساتھ ساتھ دیگر لوگوں کے لیے بھی پریشانی کا باعث بنتے ہیں ،
جب کبھی انہیں کوئی پریشانی یا ناکامی ملتی ہے تو وہ یہ سمجھتے ہیں کہ لوگ اُن سے حسد کرتے ہیں اور انہیں حاسدوں میں سے کسی کی نظر لگی ہے، اِنسانی شیطان وھم زدہ لوگوں  کی اِس ناکامی یا پریشانی کا سبب ہیں ،
 ایسے لوگ اپنے طور خود کو بہت ہی درست اور محنتی تصور کرتے ہیں کہ انہوں نے تو خوب محنت کی اور سب کچھ ٹھیک کیا لیکن حاسدوں نے ان کو نظر لگا کر ناکام کر دیا ،
ایسے لوگ شیطان کو خوش کرنے اور اسے خود سے مذاق کرنے کا موقع فراہم کرنے والے ہوتے ہیں ، کیونکہ وہ اپنے بارے میں کبھی تو  خوش فہمی ، اور کبھی غلط فہمی کا شکار ہو کر اپنی پریشانیوں اور ناکامیوں کے اصل اسباب کی طرف توجہ نہیں کرتے ، بلکہ دوسروں کو الزام دیتے ہیں اور یوں کبھی بھی اپنی اصلاح کی طرف نہیں آ پاتے ،
یاد رکھیے کہ  انسان کی عمومی طور پر ، اور خاص طور پر مسلمان کی ناکامی شیطان کو  بہت پسند ہے ،
میں جب بھی کسی ناکام یا پریشان حال شخص  کو دیکھتا ہوں اور اس کا سبب دریافت کرتا ہوں تو اکثر مجھے یہی جواب ملتا ہے کہ """ مجھے نظر لگی ہے """،
  تو میں اسے کہتا ہوں کہ بھائی میرے  وہ کون بیوقوف ہے جو کامیاب اور بلند رتبے والے لوگوں کو چھوڑ کر تمہیں نظر لگائے گا ؟
ایسے لوگ حقائق سے نظریں پھیرے ہوئے وھم کی دُنیا میں بستے ہیں ، اُنہیں یہ نظر نہیں آتا ایسے لوگ جنہوں نے تاریخ کو مجبور کر دیا کہ وہ اُن کے نام اور اُن کے کارمانے محفوظ رکھے جن میں مسلمان اور کافر سب ہی شامل ہیں ، اُن لوگوں کو کسی حاسد کے حسد نے ناکام نہیں کیا ! کسی کی نظر نہیں لگی ،
مثلاً امام الشافعی ، امام ابن تیمیہ ،صلاح الدین ایوبی ، ابن رُشد ، ابن خلدون ، البیرونی ،رحمہم اللہ ، اور  آئن سٹائن ، چرچل وغیرہ ،
اِس وھم میں رہنے والوں کو اُن کے اپنے ہی ارد گرد ایسی مثالیں نظر نہیں آتِیں جنہوں نے اپنے آپ کو یقین اور محنت کے ساتھ  عزت اور بزرگی کی بلندی تک پہنچانے کی بھر پور کوششیں کیں اور اللہ نے انہیں وہاں تک پہنچایا اور وہاں قائم رکھا ،
 اُن میں سے دینی طور پر عظمت کی چوٹیوں پر براجمان شخصیات بھی ہیں اور دُنیاوی طور پر بھی ، اگر ہم اپنے ہی زمانے کے ایسے لوگوں کے نام ہی گنوانا شروع کر دیں تو شاید ایک اچھی خاصی فہرست تیار ہو جائے ،
وھم کے شکار ہونے والے احمق لوگوں کو یہ بھی نظر نہیں آتا کہ ہم اپنی کوتاہیوں کی طرف توجہ کر کے اُن کی اِصلاح کرکے اُن کامیاب لوگوں کی صفوں میں شامل ہونے سے صرف اپنے اُس وھم کی وجہ سے رُکے ہوئے ہیں ،
اِن بے چاروں کو یہ بھی سمجھ نہیں آتا کہ اُن کامیاب لوگوں کو تو نہ حسد پکڑتا ہے اور نہ ہی نظر لگتی ہے تو آخر ہم میں اُن کامیاب لوگوں سے بڑھ کر ایسی کونسی بات ہے جس کی بنا پر کوئی ہم سے حسد کرے اور ہمیں نظر لگے ،    
ایک دفعہ میں ایک طالب عِلم سے مِلا جو یونیورسٹی میں اپنے امتحانات میں ایک سے زیادہ دفعہ ناکام ہو چکا تھا ، میں  نے  اُس سے ، اُس کی پے درپے ناکامیوں کے سبب کے بارے میں پوچھا ، تو ،
اُس نے بڑے غم سے جواب دیا کہ مجھے میرے ہم جماعتوں میں سے حاسدوں کی نظر لگ گئی ہے ،
میں نے اسے کہا ، تمہارے دوسرے چار بھائی تو بہترین درجوں میں کامیاب ہوئے ، وہ سب تُم سے پہلے کامیابی کے زینے چڑھ چکے ہیں اور اپنے ہم جماعتوں میں ممتاز شخصیت ظاہر ہو چکے ہیں تم سب سے بعد تھے ، تُم سب میں سے صِرف تُم ایک اکیلے ہی نظر کا شکار کیوں ہوئے ؟
 نہیں بیٹا جس وھم کا تم شکار ہو وہ حقیقت نہیں بلکہ حقیقت یہ ہے کہ تُم نے اُن کامیاب ہونے والوں کی طرح جماعت میں حاضری نہیں رکھی ، جماعت میں بیٹھ کر بھی غیر حاضر رہتے ہو ، سبق سمجھنے اور یاد کرنے کی طرف توجہ نہیں کرتے ،اس لیے تُم کامیاب نہیں ہو پا رہے ،
خواتین کے ساتھ معذرت کے ساتھ کہتا ہوں کہ خواتین  ایسے اوہام (یعنی  وہموں) کا مَردوں کی نسبت زیادہ شکار ہوتی ہیں اور حقائق سے چشم پوشی بھی خوب کرتی ہیں ،
مثلاً کچھ  ایسی خواتین (کے بارے میں مجھے پتہ چلا ) جنہیں اللہ تعالیٰ نے تین فیصد حسن بھی نہیں دیا وہ اپنے ہی خاندان کی عورتوں سے بھی چہرہ چُھپاتی ہیں کہ اُنہیں اُن عورتوں میں سے کسی کی نظر نہ لگ جائے ،
کیا اِنہیں کچھ خبر نہیں کہ دُنیا میں ایسی ایسی خوبصورت خواتین بھی تِھیں اور ہیں جن کی مثال ملنا مشکل ہوتی ہے لیکن اُنہیں کسی کی نظر لگنے کی کوئی خبر آج تک سامنے نہیں آئی ،   
کچھ ایسی خواتین (کے بارے میں  مجھے بتایا گیا ) جو اپنے ماں بننے کی اُمید کی خوشخبری دوسری عورتوں حتیٰ  کہ اپنے خاندان کی بزرگ  عورتوں سے بھی  چُھپاتی ہیں کہ انہیں نظر نہ لگ جائے ، اور آنے والا بچہ کچھ کا کچھ نہ ہو جائے ، سبحان اللہ ، کیسا وھم ہے ، دُنیا میں ہمیشہ سے کتنی عورتیں مائیں بنتی چلی آ رہی ہیں ؟!
اُن میں سے کتنی کو نظر لگی اور کتنی خواتین کی اولاد کو نظر لگی ؟!
 خود اِن وھم زدہ خواتین کی اپنی ماؤں کو کسی کی نظر نہیں لگی اور یہ خواتین اللہ کے حکم سے باخیر وعافیت پیدا ہو گئیں تو اب اُن میں  ایسی کیا خوبی ہے ، کیا انفرادیت ہے جو اُن کو نظر لگے گی؟!
 کیا وہ وھم زدہ خواتین یہ سمجھتی ہیں کہ کسی خالد ابن الولید کو جنم دینے والی ہیں یا کسی صلاح الدین ایوبی کو ،
کسی انجان بیماری کی وجہ سے کسی عورت کے سر کے بال جھڑنے لگیں تو وہ علاج کی طرف توجہ کرنے کی بجائے یہ  کہتی سنائی دیتی ہے کہ مجھے کسی کی نظر لگ گئی ہے ، نظر نے مجھے تباہ کر دیا ہے ، میرا حسن و جمال نظر کھا گئی ہے ،
اللہ اللہ ، دیکھیے تو خلافت عباسیہ کی حسین  ترین  عورت  بوران  بنت  الحسن بن سہل  کے سر  کے بال تو اللہ نے سلامت رکھے کسی کی نظر نہ  لگی ، اور،،،  اِنہیں نظر لگ گئی ،
کیا ہی بھلا ہو کہ اس قسم کے وھم میں پڑنے کی بجائے ہم اللہ کی طرف سے ہمارے لیے  مسخر اور مہیا کردہ مادی وسائل کو بروئے کار لا کر اللہ کے عطاء کردہ علوم کے ذریعے اسباب جاننے کی کوشش کریں اور اگر کچھ پتہ نہ چلے تو پھر بھی اِس قِسم کی باتوں کی طرف توجہ کر کے اُن کے سامنے خود کو بے بس بنانے کی بجائے اور لوگوں میں اُس کا شکوہ کرنے کے بجائے اپنے رب کی طرف رجوع کریں اور اس سے اپنی غلطیوں پر معافی مانگیں اور اپنے گناہوں سے توبہ کریں اور اس سے دعا کریں کہ وہ ہمیں اس غم اور ہر غم سے نجات دے دے ،
اور نظر بد وغیرہ سے بچنے اور نجات پانے کے جو ذرائع ہماری شریعت مطہرہ میں جائز قرار پاتے ہیں اُن کو اپنے معمولات میں شامل کریں ،(((نظر بد کی حقیقت ، اور عِلاج کے بارے میں ایک مضمون الگ سے نشر کیا جا چکا ہے: http://bit.ly/1gkMu3E )))  
حقیقت یہ ہے کہ شیطان ہم میں سے اکثر کے ساتھ کھیلتا ہے جن میں سے اکثریت کمزور اِیمان والے اِس قسم کے احمق لوگوں کی ہوتی ہے جو ایسے وھموں کا شکار ہوتے ہیں ،
مضبوط اِیمان والے ، بہادر اور ذہین لوگوں پر شیطان کا یہ داؤ بھی نہیں چلتا بلکہ وہ شیطان کو مغلوب کرتے ہیں ،
یہ کیوں نہیں سوچا جاتا کہ ہم قران اور اِیمان والی امت ہیں ،
 ہمیں ہی حاسد کی نظر کیوں لگتی ہے  ،  ناسا کے ارکان کو کیوں نہیں ؟؟؟ جنہوں نے مریخ کی سطح تک رسائی حاصل کر لی ہے ،
 قصہ مختصر یہ کہ ہم لوگ وھم کے مقتول ہیں ، 
میری دِلی خواہش ہے کہ وھم اور وسوسوں کے پنجروں میں بند یہ لوگ آزاد ہو جائیں اور اپنی غلطیوں کو پہچان کر اُن کی اِصلاح کریں اور اُمت میں اپنے نفسیاتی امراض پھیلانے سے بچ جائیں ،
تو اے وھم کے ہاتھوں مارے جانے والو،،،،، اُمت کو اپنے اس فتنے سے محفوظ کرو اور اِس سے توبہ کر کے اپنے اللہ کی طرف پلٹ پڑو،،،،،وسوسوں کو حقیقت جاننا چھوڑ دو اور اللہ پر توکل کرنا شروع کرو (((((وَعَلَى اللَّهِ فَتَوَكَّلُوا إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ ::: پس اگر تُم لوگ (سچے ) اِیمان والے ہوں تو(پھر بس صِرف ) اللہ پر ہی توکل کرو)))))سورت المائدة/ آیت 23 کا ایک جُز ۔
و السلام علیکم ۔ طبگارء دُعاء ، عادِل سُہیل ظفر ،
 تاریخ کتابت : 21/06/1431 ہجری،بمُطابق 04/06/2010 عیسوئی ،
 تاریخ نظر ثانی و تجدید : 22/01/1435 ہجری ،بمُطابق،26/11/2013 عیسوئی۔
الشیخ ڈاکٹر عائض القرنی کی ایک تحریر  سے ماخوذ ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس مضمون کا برقی نسخہ درج ذیل ربط پر میسر ہے :
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
((( شیطان کے وساوس سے بچنے کے طریقوں کے بارے میں ایک تفصیلی مضمون کافی عرصہ  پہلے شائع کیا جا چکا ہے ، وللہ الحمد )))

2 comments:

Farrukh نے لکھا ہے کہ

السلام و علیکم ورحمۃ اللہ۔۔۔
عادل سیل بھائی۔۔
کیا دل کی بات کہدی۔۔۔
میں خود یہی سوچتا آرہا ہوں کئی سالوں سے کہ کیا ہم اتنے کمزور ہیں کہ کوئی ہمیں نظر لگا کر مجبور کر دے کہ ہم کچھ نہ کر سکیں؟
یہ آرٹیکل پڑھ کر واقعی حقیقت کا اندازہ ہوتا ہے کہ زیادہ تر ہم لوگ وھم کی نفسیاتی بیماری کا شکار ہو جاتے ہیں، نظر لگنے کے خوف سے، حالانکہ یہ صرف اور صرف اللہ سبحان و تعالٰی کی مرضی ہی ہوتی ہے اور جسے کوئی ٹال نہیں سکتا۔

جزاک اللہ خیرا و کثیرا

فرخ وحید

Adil Suhail Zaffar عادل سھیل ظفر نے لکھا ہے کہ

و علیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ ،
جزاک اللہ خیرا، بھائی فرُخ وحید صاحب ، ہم میں سے کوئی اگر کوئی اچھا اور نیک کام کر پاتا ہے تو وہ محض اللہ کی کرم فرمائی سے ہے ،
ہمارے معاملات میں سے اکثر ایسے ہو چکے ہیں جو حقائق سے چشم پوشی کی سی کیفیت میں چلتے ہیں ، خا ص طور پر دینی معاملات تو بس ، اللہ اللہ،
اللہ ہی ہے جو ہمیں غیر ثابت شدہ قصے اور کہانیوں کے دھویں سے نکلنے کی ہمت دے سکتا ہے ، والسلام علیکم۔

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔