Monday, July 21, 2014

::::::: آپ کے احساسات آپ کی زندگی کا ایندھن ہیں ، آپ کون سا ایندھن اختیار کرتے ہیں؟ :::::::

::::::: آپ کے احساسات آپ کی زندگی کا ایندھن ہیں ، آپ کون سا ایندھن اختیار کرتے ہیں؟ :::::::
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ                
أَعُوذُ بِاللَّهِ السَّمِيعِ الْعَلِيمِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ مِنْ هَمْزِهِ وَنَفْخِهِ وَنَفْثِهِ
و الصَّلاۃُ والسَّلامُ عَلیٰ رَسولہ ِ الکریم مُحمدٍ و عَلیَ آلہِ وَأصحابہِ وَأزواجِہِ وَ مَن تَبِعَھُم بِاِحسانٍ إِلٰی یَومِ الدِین ، أما بَعد :::
السلامُ علیکُم و رحمۃُ اللہ و برکاتہُ ،
احساسات اِنسان کا ایندھن ہیں ، رُوح اللہ کی تخلیق ہے اُس کی کیفیت اللہ ہی جانتا ہے ، لیکن اللہ تبارک وتعالیٰ نے اُسے ایسا بنایا ہے کہ اُسے رہنے کے لیے گھر چاہیے ، اور وہ گھر کوئی جِسم ہوتا ہے ، جِس میں جب تک اللہ کا حکم ہو وہ رُوح رہتی ہے ،
اور اُس جِسم کو حرکت دینے کے لیے کوئی محرک (Engine) چاہیے ، اور وہ محرک دِماغ ہے ، اور اُس محرک کو مختلف قِسم کی حرکات پر مائل کرنے کے لیے ، اور چلانے کے لیے کوئی ایندھن چاہیے ، اور وہ ایندھن اِنسان کے احساسات ہیں ، جو کہ ایندھن کے گودام (Fuel Tank) دِل میں رہتے ہیں ،
پس اِنسان نامی مشین کو چلانے کے لیے جو ایندھن درکار ہے وہ اُس اِنسان کے احساسات ہیں ، کہ ہر اِنسان اپنے احساسات کےمطابق ہی حرکت کرتا ہے ، جِس قِسم کا ایندھن اِس مشین کو ملتا ہے یہ  اُسی قِسم کی حرکات کرتی ہے ،
جب آپ اپنے احساسات کے مطابق عمل کرتے ہیں تو آپ کے اعمال کسی نہ کسی نتیجے کو ظاہر کرتے ہیں ، کبھی وہ نتیجہ مثبت ہوتا ہے تو کبھی منفی،
جب آپ اپنے احساسات کو اپنے دماغ پر حاوی نہیں ہونے دیتے ، بلکہ دماغ کو احساسات کا حاکم بناتے ہیں تو عموماً مثبت نتائج برآمد ہوتے ہیں ،
اور  جب آپ کسی احساس کو اپنے دماغ کا حاکم بنا ڈالتے ہیں اور اُس کے مطابق عمل کرتے ہیں تو عموماً اُس عمل کے نتائج منفی اثرات لیے ہوتے ہیں ،
لہذا آپ کو چاہیے کہ آپ اپنے دِل و دماغ کے برتن ایسے احساسات سے نہ بھرنے دیں جو آپ کی عقل پر غلبہ پا جائیں ، آپ کے دِماغ کے حاکم بن جائیں ،
اپنے دِل و دِماغ میں پیدا ہونے والے احساسات کے ایندھن میں سے اپنے محرک کے لیے وہ احساسات چنیے جو اُسے مثبت نتائج والے  اعمال کی قوت دیں اور اُس سے مثبت نتائج والے اعمال کروائیں ،
اگر آپ ایسا کر سکیں تو اِن شاء اللہ ، آپ دیکھیں گے کہ نہ صِرف اندرونی طور پر آپ کی جسمانی و روحانی  صحت برقرار رہے گی ، بلکہ بیرونی طور پر بھی آپ  ایسے نتائج پائیں گے جو آپ کو معاشرتی زندگی میں ایک کامیاب اور با عِزت اِنسان کی حیثیت سے متعارف کروانے والے ہوں گے ،
ہم آج کی دُنیا میں یہ دیکھ رہے کہ  اب ، پہلے کی طرح ، بڑی بڑی کمپنیاں اپنے ملازموں کا چناؤ کرتے ہوئے صِرف اُن کی پڑھائی اور اُن کا تجربہ ہی نہیں دیکھتیں ، بلکہ اُن کا اپنی ذات پر اختیار (کنٹرول)بھی جانچتی ہیں ،
جماعتی طور پر کام کرتے ہوئے (In Team Work)دوسروں کے مختلف رویوں پر اُن کا ردعمل بھی دیکھتی ہیں ، اور پھر اپنے لیے کسی کا چناؤ کرتی ہیں ، گو کہ عموماً اِس قِسم کا امتحان ہوتے ہوئے اُن لوگوں کو احساس نہیں ہو پاتا جنہیں جانچا جا رہا ہوتا ہے ، لیکن یہ حقیقت ہے کہ اب اِس قِسم کی جانچ پڑتا ل کی طرف رجحان میں بہت اضافہ ہو چکا ہے اور عملی طور پر اسے اپنایا جا چکا ہے اور دِن بدِن اِس میں اضافہ ہو رہا ہے ،
ماہرین کا کہنا ہے کہ اِنسان کے اعمال میں 93%عمل اُس کی اپنی ذاتی صلاحیات یعنی اُس کے اخلاق ، افکار ، کام نمٹانے کے انداز و اطوار  کے مطابق ہوتے ہیں ، اور یہ سب کام اِنسان اپنے احساسات کے مطابق کرتا ہے ، 
یاد رکھیے کہ آپ کے افکار ، اور ہر قِسم کے اعمال جو دوسروں تک پہنچتے ہیں وہ آپ کے جِسم کی مختلف حرکات کے نتیجے میں پہنچتے ہیں ، اور آپ کا جِسم صِرف اُسی وقت حرکت کرتا ہے جب اُسےاحساسات کا ایندھن میسر ہوتا ہے ،
ورنہ تو اچھا خاصا تندرست و توانا جِسم بھی ایک لوتھڑے کی طرح پڑا رہتا ہے ،
اگر تو جسم کو حرکت دینے والا ایندھن مثبت ہو گاتو اُس کی وجہ سے ہونے والی حرکات بھی مثبت نتائج والے اعمال ظاہر کریں گی ، اور اگر وہ ایندھن منفی وہ گا تو اُس کی وجہ سے ہونے والی حرکات بھی منفی نتائج والے اعمال ظاہر کریں گی ،
اِنسان کے احساسات بھی موسم کی طرح ہوتے ہیں ، کبھی سرد کبھی گرم، کبھی صاف ستھرے کبھی غبار آلود ، لیکن اُن میں سے مثبت اعمال کے لیے جِسم کا ایندھن بننے والے احساسات کو جانچ کر استعمال کرنا اِنسان کا اپنا ہی کام ہے ، کوئی دوسرا اُس سے یہ کام نہیں کروا سکتا ، سوائے چند ایک ایسے مواقع پر جب کہ وہ اِنسان اپنے کسی احساس کو ایندھن بنانے سے پہلے کسی سے مشورہ کرے ،
کیاآپ جانتے ہیں کہ آپ کے اکیلے اور لا شریک خالق اللہ تبارک وتعالیٰ نے آپ کے دِماغ میں 150 ارب خلیے عطاء فرمائے ہیں ، اور آپ کو وہ آنکھ عطاء فرمائی ہے جو ایک وقت میں دس ملین (ایک کڑوڑ)رنگوں میں فرق کر سکتی ہے ، اور وہ عقل عطاء فرمائی ہے جو ایک سیکنڈ میں دو ملین (بیس لاکھ)معلومات محفوظ کر سکتی ہے ،
تو پھر بھلا اِس میں کیا مشکل ہے  کہ آپ اپنے احساسات کو جانچ نہ سکیں اور اُن میں اپنے محرک کے لیے مثبت اور منفی ایندھن کو الگ الگ کر کے صِرف مثبت ایندھن استعمال نہ کر سکیں ؟
اللہ کے شکر گذار بن کر ، اُس کی عطاء کردہ قدرات کو اِستعمال کرتے ہوئے اپنے دِماغ کا ایندھن منفی احساسات کو مت بننے دیجیے ،
اپنے فیول ٹینک (Fuel tank) کو اُن احساسات سے بھریے جو  آپ کو یہ سب کچھ عطاء کرنے والے آپ کے رب اللہ سُبحانہُ و تعالیٰ کی رضا والے ہوں ، جن کی بنا پر آپ کا محرک وہ اعمال انجام دے جِس میں آپ کے اللہ کی خوشی ہو ، کہ جب اللہ خوش ہو گا تو یقیناً دِین دُنیا اور آخرت کی ہر خیر اور خوشی میسر ہو گی ،
اللہ جلّ و عُلا ہم سب کو یہ توفیق عطاء فرمائے کہ ہم اپنے جِسموں کی مشینوں کو چلانے کے لیے مثبت اعمال کا سبب بننے والا ایندھن چن سکیں اور صِرف اُسے ہی اِستعمال کریں ۔ والسلام علیکم۔تاریخ کتابت 21/05/1435، بمطابق 22/03/2014۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
برقی نسخے کے نزول کے ربط کے لیے :
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Thursday, July 17, 2014

::::::: مُسلمان اور کافر کے درمیان فرق :::::::

:::::::  مُسلمان اور کافر کے درمیان فرق :::::::
أَعُوذُ بِاللَّهِ السَّمِيعِ الْعَلِيمِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ مِنْ هَمْزِهِ وَنَفْخِهِ وَنَفْثِهِ
و الصَّلاۃُ والسَّلامُ عَلیٰ رَسولہ ِ الکریم مُحمدٍ و عَلیَ آلہِ وَأصحابہِ وَأزواجِہِ وَ مَن تَبِعَھُم بِاِحسانٍ إِلٰی یَومِ الدِین ، أما بَعد :::
السلامُ علیکُم و رحمۃُ اللہ و برکاتہُ ،
ہم مسلمانوں میں سے کئی لوگ اِس غلط فہمی کا شِکار ہیں کہ اہل کتاب لوگ کافر نہیں ہیں ، اور کئی لوگ ایسے ہیں جو اِس حقیقت کو جانتے ہیں کہ اہل کتاب کافر ہیں ، لیکن اپنی ذاتی مصلحتوں یا نفس کی اطاعت میں اِس حقیقت کو مانتے نہیں ، بلکہ دوسروں کو بھی اِس حقیقت سے دُور کرنے کی کوشش کرتے ہیں ،
آیے دیکھتےہیں کہ  اِنسانوں میں سے مسلمان اور کافر کی پہچان کی کیا کسوٹیاں ہیں :
اِسلام اور اِیمان دو الگ الگ اِلفاظ ہیں ، لیکن تقریباً ایک ہی معنی اور مفہوم رکھتے ہیں ، اِسی طرح مسلمان اور مؤمن تقریباً ایک ہی معنی اور مفہوم رکھتے ہیں ، جی ہاں اِسلام اور اِیمان، مُسلمان اور مؤمن میں فرق یقیناً ہے ،  جیسا کہ ہمارے رب اللہ سُبحانہ ُ وتعالیٰ نے اِرشاد فرمایا ہے﴿قَالَتِ الْأَعْرَابُ آمَنَّا قُل لَّمْ تُؤْمِنُوا وَلَٰكِن قُولُوا أَسْلَمْنَا وَلَمَّا يَدْخُلِ الْإِيمَانُ فِي قُلُوبِكُمْ:::دیہاتی لوگ کہتے ہیں کہ ہم اِیمان لائے ، آپ فرمایے کہ تُم لوگ اِیمان نہیں لائے ، بلکہ تُم لوگ یہ کہو کہ ہم نے اِسلام قبول کیا ہے ، اور اِیمان تو ابھی تمہارے دِلوں میں داخل نہیں ہوا﴾سُورت الحجرات(49)/آیت 14،
پس یقیناً اِسلام اور اِیمان میں فرق ہے ، لیکن وہ فرق بہر صُورت دائرہ اِسلام سےخارج کرنے والا نہیں ،
جبکہ اِسلام ومُسلمان ،اور کفر و کافر ، بالکل مختلف  چیزیں ، بالکل مختلف شخصیات ہیں ، بالکل متضاد و مخالف ،
معروف حدیث جبریل علیہ السلام ، جِس میں اللہ کے دو رسولوں علیہما السلام  کی مبارک گفتگو ہوئی ، اُن دونوں رسولوں علیہما السلام کی اُس مبارک گفتگو  میں یہ بتایا گیا کہ ﴿الإِسْلاَمُ أَنْ تَشْهَدَ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ وَتُقِيمَ الصَّلاَةَ وَتُؤْتِىَ الزَّكَاةَ وَتَصُومَ رَمَضَانَ وَتَحُجَّ الْبَيْتَ إِنِ اسْتَطَعْتَ إِلَيْهِ سَبِيلاً:::اِسلام یہ ہے کہ آپ اِس بات کی گواہی دیجیے کہ اللہ کے علاوہ کوئی سچا اور حقیقی معبود نہیں ، اور یہ کہ محمد اللہ کے رسول ہیں ، اور نماز ادا کیجیے ، اور زکوۃ ادا کیجیے ، اور رمضان کے روزے رکھیے ، اور اگر سفر کے لیے(جسمانی اور مالی اخراجات  کی)استطاعت رکھتے ہو تو حج کرو﴾،
اور آسمان والے رسول جبریل علیہ السلام کے پوچھنے پر زمین والے رسول محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے اِیمان کی تعریف اِن اِلفاظ میں فرمائی کہ﴿أَنْ تُؤْمِنَ بِاللَّهِ وَمَلاَئِكَتِهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ وَتُؤْمِنَ بِالْقَدَرِ خَيْرِهِ وَشَرِّهِ:::یہ کہ تُم اللہ پر اِیمان لاؤ ، اور اُس کے فرشتوں پر اور اُس کی کتابوں پر اور اُس کے رسولوں پر اور آخرت کے دِن پر ، اور تقدیر میں خیر اور شر ہونے پر﴾صحیح مُسلم /حدیث/102کتاب الاِیمان /پہلا باب،
لہذا یہ واضح ہے کہ ہر وہ شخص  جو اللہ کی واحدنیت کا ، اور محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی رسالت کا اقرار نہیں کرتا وہ اِسلام قبول کرنے والوں میں سے نہیں ، مُسلمان نہیں ، کافر ہے ، خواہ وہ کسی اور آسمانی کتاب کے نام نہاد پیروکاروں کے کسی ٹولے ، کسی جماعت یا کسی اُمت کا فرد ہی ہو ۔
اللہ تعالیٰ ہمیں حق جاننے ، ماننے سمجھنے ، اپنانے اور اُس پر قائم رہنے کی توفیق عطاء فرمائے ۔
تاریخ کتابت : 15/08/1435 ہجری ، بمطابق ، 14/06/2014عیسوئی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مکمل مضمون کے آن لائن مطالعے کے لیے، اور برقی نسخے کے نزول کے ربط کے لیے :
پڑھیے اور پڑھایے ، اِن شاء اللہ خیر کا سبب ہو گا ،،،
و السلام علیکم۔

Friday, May 23, 2014

::::::دنیا کے پھل اور پھول تباہ کن ہیں ::::::

:::::::      دُنیا کے پھل اور  پُھول تباہ کُن ہیں  :::::::

أَعُوذُ بِاللَّهِ السَّمِيعِ الْعَلِيمِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ مِنْ هَمْزِهِ وَنَفْخِهِ وَنَفْثِهِ

بِسمِ اللَّہ ،و السَّلامُ عَلیَ مَن اتبع َالھُدیٰ و سَلکَ عَلیَ مَسلکِ النَّبیِّ الھُدیٰ مُحمدٍ صَلی اللہُ علیہِ وعَلیَ آلہِ وسلَّمَ ، و قَد خَابَ مَن یُشقاقِ الرَّسُولَ بَعدَ أَن تَبینَ لہُ الھُدیٰ ، و اتبِعَ ھَواء نفسہُ فوقعَ فی ضَلالاٍ بعیدا۔
شروع اللہ کے نام سے ، اورسلامتی ہو اُس شخص  پر جس نے ہدایت کی پیروی کی ، اور ہدایت لانے والے نبی محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی راہ پر چلا ، اور یقینا وہ شخص تباہ ہوا جس نے رسول کو الگ کیا ، بعد اس کے کہ اُس کے لیے ہدایت واضح کر دی گئ اور(لیکن اُس شخص نے) اپنے نفس  کی خواہشات کی پیروی کی پس بہت دور کی گمراہی میں جا پڑا ۔
السلامُ علیکُم و رحمۃُ اللہ و برکاتہُ ،
دُنیا کے پُھول ، اس دُنیا میں ملنے والی ، نظر آنے والی ہر ایک ایسی  چیز  کو جو حق سے دُور کر دے ،کنایۃً دُنیا کے پھول کہا جاتا ہے ، کیونکہ اُن چیزوں کا حُسن و جمال اُن کی دلکشی ، قوت جاذبیت ،اور پھر جلد ہی اُن کا گل سڑ جانا کسی پھول کی طرح ہی ہوتا ہے ،
 دُنیا کی رعنائیوں اور راحتوں کو یہ نام اُن کے خالق اور مالک اللہ تبارک و تعالیٰ نے دِیا ہے ﴿ وَلَا تَمُدَّنَّ عَينَيكَ إِلَى مَا مَتَّعنَا بِهِ أَزوَاجاً مِّنهُم زَهرَةَ الحَيَاةِ الدُّنيَا لِنَفتِنَهُم فِيهِ وَرِزقُ رَبِّكَ خَيرٌ وَأَبقَى:::اور (اے ہمارے رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم)آپ اپنی نگاہیں اُن(چیزوں) کی طرف مت پھیلایےجِس کے ذریعے ہم نے  کچھ لوگوں کو فائدے دے رکھے ہیں (یہ چیزیں تو صِرف )دُنیا کی زندگی کے پھول ہیں اور (بے شک)آپ کے رب کا رزق ہی خیر والا اور باقی رہنے والا ہے﴾سورت طہ /آیت 131،
اور اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے دُنیا  میں موجود تہذیب و تمدن، مال و دولت  سے اور اُن کے مصادر سےدُور ، صحراؤں کے درمیان، زمین کے اندرونی اور بیرونی اور خزانوں اور دُنیا کے پھولوں اور پھلوں سے  تقریباً عاری ایک بستی میں کاءنات کی سب سے مقدس ہستی  کو دِکھایا گیا کہ دُنیا کی کنجیاں اُنہیں ، اُن  کے ساتھیوں اور  اُن سے منسوب بعد میں آتے رہنے والے لوگوں کو دی جائیں گی ، دُنیا کی زندگی کی خیر ان کے سامنے چشموں کی طرح  پُھوٹ پڑے گی ،پس مال و جاہ ، دُنیاوی عِزت و حشمت ، اور اس کے پھل اور پھول ان کے ہاتھوں کے درمیان  نہروں اور دریاؤں کی طرح بہہ اُٹھیں گے ،
قیامت تک آنے والے اپنے نام لیواؤں سے بے پناہ محبت کرنے والے ، ان پر شفقت و رحمت کرنے والے ، محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم یہ جاننے کے بعد اپنی امت کے لیے خوف زدہ ہوگئے کہ دُنیا کے پھل اور پھول سجاوٹ اور چکا چوند انہیں فتنے اور امتحانات میں مبتلا کر دے گی ، اور دُنیا کا مال اور حکمرانی خواہ وہ کسی ایک فرد پر ہی ہو ، کا مزہ انہیں اللہ سے بغاوت کی طرف لے جائے گا ، اور وہ دنیا کے پھول حاصل کرنے میں ایک دوسرے سے آگے نکلنے اور زیادہ ہوجانے میں اپنی قوتیں صرف کرنے لگیں گے ، اور اس کوشش میں حق داروں کی  حق تلفی کرنے لگیں گے ، اور ایک دوسرے کی جان مال عزت کا خیال بھی نہ کریں گے اور طویل و عریض جھگڑوں میں رہ کر دُنیا کی بھلائی بھی نہ پا سکیں گے اور آخرت کی رسوائی کے بھی مستحق ہو جائیں گے ،
روؤف رحیم ، نبی کریم ، محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم اسی فکر کو لیے اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین کوسامنے کھڑے ہوئے اور اللہ سبحانہُ و تعالیٰ کی عطاء کردہ مٹھاس اور محبت سے لبریز  دِل سے مبارک زبان پر سےیہ الفاظ فرمائے :::
﴿لَا واللَّه ما أَخشَى عَلَيكُم أَيُّهَا الناس إلَّا ما يُخرِجُ الله لَكُم مِن زَهرَةِ الدُّنيَا::: نہیں ، اللہ کی قَسم ، اے لوگو میں تُمہارے بارے میں نہیں ڈرتا ، سوائے اُس سے(کہ )جو اللہ تُم لوگوں کے لیے دُنیا کے پھولوں میں سے نکال (کر تم لوگوں کو) دے گا﴾ صحیح مُسلم / حدیث  1052/ کتاب  الزکاۃ/باب 41،
روؤف اور رحیم رسول صلی اللہ علیہ وعلی  آلہ وسلم نے اپنی اُمت کو اس دُنیا کے پھلوں اور پھولوں کی حقیقت صرف ایک ہی دفعہ نہیں بتائی بلکہ کئی مواقع پر بتاتے رہے جیسا کہ عَمر و بن عوف رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے اِرشاد  فرمایا﴿ فَأَبشِرُوا وَأَمِّلُوا ما يَسُرُّكُم فَوَاللَّهِ ما الفَقرَ أَخشَى عَلَيكُم وَلَكِنِّي أَخشَى عَلَيكُم أَن تُبسَطَ الدُّنيَا عَلَيكُم كما بُسِطَت عَلى مَن كان قَبلَكُم فَتَنَافَسُوهَا كما تَنَافَسُوهَا وَتُهلِكَكُم كما أَهلَكَتهُم :::پس تُم لوگ خوش خبری لو اور بھر جاؤ اُس سے جوتمہیں خوش کرتا ہے ، اللہ کی قسم میں تُم لوگوں کے  بارے میں تُمارے لیے غُربت  ہونےکی وجہ سے نہیں ڈرتا ہوں بلکہ اس بات سے ڈرتا ہوں کہ تُم لوگوں پر دُنیاکھول دی جائے جیسا کہ تُم لوگوں سے پہلے والوں پر کھولی گئی اور پھر ان لوگوں نے اُس میں ایک دوسرے سے بڑھ جانے کے لیے کوشش کی ، جیسے بھی کی ، اور (اس بات سے ڈرتا ہوں کہ)یہ  دُنیا  تُم لوگوں کو بھی اسی  طرح  تباہ  کر  دے جس طرح  اُن  لوگوں  کو  تباہ  کیا﴾صحیح البخاری / حدیث 6061/ کتاب الرقاق / باب 7 ،  صحیح مُسلم / حدیث  2961/ کتاب  الزھد و الرقائق ،
قارئین کرام ،  رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے ان فرامین مبارکہ ، اور خاص طور پر پہلے فرمان پر غور کیجیے کہ پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نےانکار فرمایا ﴿ لا ::: نہیں﴾،
اور پھر  اللہ کی قسم فرمائی ﴿واللَّہ ::: اللہ کی قسم﴾،
 پھر ایک اور انکار فرمایا ﴿ما أَخشَى عَلَيكُم::: لوگو میں تُمہارے بارے میں نہیں ڈرتا﴾،
اور پھر اس انکار میں سے ایک معاملے کو مستثنیٰ فرمایا ﴿إلَّا:::سوائے اُس سے﴾،
  ایک ہی بات میں تاکید  کےمختلف اسلوب اختیار فرمانا اس بات کی واضح دلیل ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علہ آلہ وسلم کو اپنی اُمت سے کتنی محبت تھی اور وہ اس کے لیے کتنے فِکر مند رہا کرتے تھے اور اس پر دُنیا کے پھولوں کے فتنے سے کتنا ڈرتے تھے ، اور ہم آج اپنے رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے فرامین اور کاموں سے راہ فرار اختیار کرنے کرنے کے لیے طرح طرح کی تاویلات گھڑتے ہیں اور پھر بھی اُن صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی محبت کے دعویٰ دار ہیں اور ان کی شفاعت حاصل ہونے کا یقین رکھتے ہیں ،
جی تو بات ہو رہی تھی کہ  رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علہ آلہ وسلم کو اپنی اُمت کے لیے اُس پر دُنیا کے پھولوں کے فتنے سے ڈرتے تھے ، نہ تو اُس پر غربت کے فتنے سے ڈرتے تھے اور نہ ہی اس بات سے ڈرتے تھے کہ اُن صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی اُمت اُن کے بعد  اِیمان اور اِسلام چھوڑ کر پھر سے کافر یا مُشرک بن جائے گی ، جیسا کہ عُقبہ بن عامر  رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے کہ""""" صَلّى رُسول  ُاللَّهِ صَلّی اللَّہ عَلِیہ ِ    وعَلی آلہِ   وسلّم على قَتلَى أُحُدٍ ثُمَّ صَعِدَ المِنبَرَ كَالمُوَدِّعِ لِلأَحيَاءِ وَالأَموَاتِ فقال  ::: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے اُحد میں قتل ہوجانے والوں کی نماز جنازہ پڑھی اور پھر منبر پر جلوہ افروز ہوئے گویا کہ وہ زندہ اور مُردہ کو الواداع فرما رہے ہوں ، تو اِرشاد فرمایا ﴿ إني فَرَطُكُم علَىَ الحَوضِ وَإِنَّ عَرضَهُ كما بَين آيلة إلى الجُحفَةِ إني لَستُ أَخشَى عَلَيكُم أَن تُشرِكُوا بَعدِي وَلَكِنِّي أَخشَى عَلَيكُم الدُّنيَا أَن تَنَافَسُوا فيها وَتَقتَتِلُوا فَتَهلِكُوا كما هَلَكَ مَن كان قَبلَكُم   :::  میں (قیامت والے دِن اپنے )حوض پر تُم لوگوں  کا انتظار کروں گا اور اُس کی چوڑائی آیلہ سے جُحفہ تک کے برابر ہے ، میں تُم لوگوں کے بارے میں اس بات سے نہیں ڈرتا کہ تُم لوگ میرے بعد (اِیمان اور اِسلام چھوڑ کر پھر سے) شرک کرو گے لیکن میں تُم لوگوں کے بارے میں اس بات سے ڈرتا ہوں کہ تُم لوگ دُنیا (کے مال و متاع ) کے لیے  ایک دوسرے سے مقابلہ کرو گے اور ایک دوجے کوقتل کرو پس تباہ ہو جاو گے جیسے کہ تُم لوگوں سے پہلے والے تباہ ہوئے﴾
قال عُقبَةُ فَكَانَت آخِرَ ما رأيت رَسُولَ اللَّهِ صَلّی اللہ عَلِیہ ِ    وعَلی آلہِ   وسلّم عَلى المِنبَرِ ::: عُقبہ رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے کہ ، یہ آخری موقع تھا جب میں  نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کا منبر پر آخری دیدار کیا """"" صحیح مسلم /حدیث 2296/کتاب  الفضائل/ باب 9،
::: ایک وضاحت ::: یہ واقعہ جہاد اُحد کے آٹھ سال بعد کا ہے ، پس  اس روایت پر عقل مندوں کے اعتراضات کی کوئی گنجائش نہیں ، سنن البیہقی الکُبریٰ کی حدیث 6601/ کتاب  الجنائز/ جماع أبواب غسل المیّت / باب52، میں  یہ وضاحت موجود ہے :::
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم  کے ذریعے دی ہوئی خبر سچ ہوچکی اور اُن صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی اُمت دُنیا کے پھولوں کے فتنے میں گم ہوچکی اور دِن بَدِن اُس میں مزید گِھرتی جارہی ہے ، کہ اب ہمارے سامنے میڈیا اور جدید سائنسی وسائل اور ایجادات کے ذریعے یہ پھول مزید خوبصورت اور واضح انداز میں آتے ہیں ، اور ان تک رسائی کہیں زیادہ آسان ہو چکی ہے ،
اِیمان اور اخلاق کو تباہ کرنے کے وسائل پہلے سے کہیں زیادہ اور آسانی کے ساتھ میسر ہو چکے ہیں اور تقریباً ہر ایک مُسلمان کی زندگی میں کسی نہ کسی طور داخل ہو چکے ہیں ، جہاں وہ نہ چاہتے  ہوئےبھی اُن کی دراندازی سے محفوظ نہیں رہ پاتا ، اور ایک سچا مُسلمان اُس حالت میں پہنچ جاتا ہے جس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم اس فرمان مُبارک میں بیان فرمایا  ﴿ يَأتِي عَلىَ النَّاسِ زَمَانٌ الصَّابِرُ فِيهِمْ على دِينِهِ كَالْقَابِضِ على الْجَمْرِ :::لوگوں پر ایسا وقت (بھی) آئے گا (کہ) جِس میں اپنے دِین پر صبر کرنے والامٹھی میں انگارہ پکڑنے والے کی طرح ہوگا﴾سنن الترمذی /حدیث 2260/کتاب   الفِتَن/باب 73 ، السلسلہ الاحادیث  الصحیحہ /حدیث 945 ،
اور ایسے وقت میں اپنے دِین پر قائم رہنے والے مُسلمان کے اجر وثواب کے بارے میں یہ خوشخبری عطا فرمائی ﴿ إِنَّ مِن وَرَائِكُم زَمَانَ صَبرٍ لِلمُتَمَسِّكِ فيه أَجرُ خَمسِينَ شَهِيدًا:::بے شک تُم لوگوں کے بعد  ایسا صبر کرنے والا وقت (آنا) ہے جِس میں (اسلام ) تھامے رہنے والے کے لیے پچاس شہداء کا ثواب ہو گا﴾،
تو عُمر رضی اللہ عنہُ نے دریافت فرمایا  """ يا رَسُولَ اللَّهِ مِنَّا أو منهم  ::: یا رسول اللہ ہم میں سے (پچاس شہداء) یا اُن میں سے (پچاس شُہدا ء کا ثواب؟)"""،
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نےاِرشاد فرمایا ﴿مِنكُم ::: تُم لوگوں میں سے﴾المعجم الکبیر للطبرانی / حدیث 10394/ و مِن مُسند عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ ُ/آخری باب ، صحيح الجامع  الصغیر و زیادتہ/حدیث 2234 ،
اب ہم ایسے ہی پر فتن زمانے میں ہیں کہ جس میں اپنے دِین کے خلاف عقائد ، عبادات ، معاملات ہر طرف ہی بکھرے پڑے ہیں اور خوب خُوب سجے سنورے ، بنے ٹھنے ، اِٹھلا اِٹھلا کر ہمیں ہمارے دِین اسلام سے دُور ہی دُور لیے جانے کی بھر پُور کوشش میں ہیں اور صد افسوس کی ہماری اکثریت دُنیا کے وقتی پھلوں کی آرائش اور دلپیذیری کا شکار ہو چکی ہے ، اور اُن میں جو اب اپنے دِین اسلام کو اسی طرح  تھامے ہوئے ہیں جِس طرح اللہ اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کا حُکم ہے تو ان شاء اللہ اُس کے صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین میں سے پچاس شہیدوں کا ثواب ہے ، 
کیا ہمارے لیے اتنی بڑی خوشخبری کافی نہیں؟
 کیا دُنیا کے اِن عارضی فنا ہو جانے والے  وقتی لذت والےپھلوں کی بجائے ﴿ وَرِزقُ رَبِّكَ خَيرٌ وَأَبقَى::: اور (بے شک)آپ کے رب کا رزق ہی خیر والا اور باقی رہنے والا ہے﴾اختیار کرنا اچھا نہیں ؟ ۔
اللہ سُبحانہُ  و تعالیٰ ہر مسلمان کودُنیا کے پُر آفریب  فانی اور خوفناک نتائج والے پھولوں کے فریب میں آنے سے محفوظ رکھے۔
والسلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ۔
طلب گارء دُعاء ، عادِل سُہیل ظفر ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تاریخ کتابت : 17/07/1430ہجری، بمطابق09/07/2009عیسوئی،
تاریخ تجدید : 18/07/1435ہجری ، بمطابق 17/05/2014عیسوئی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اِس مضمون کا برقی نسخہ درج ذیل ربط پر میسرہے :
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔