Friday, June 5, 2020

:::: یہ ذریعہ رزق حلال نہیں (2) ::: سگریٹ ، تمباکو ، وغیرہ کی خرید و فروخت :::

::::::: یہ ذریعہ رزق حلال نہیں (2)::::::: سگریٹ ، تمباکو ، وغیرہ کی خرید و فروخت :::::::
بِسمِ اللَّہِ الرِّحمٰنِ الرِّحیم

الحَمدُ لِلّہِ وَحدہُ الذی لا اِلہَ اِلاَّ ھُو ،  و لا أصدق مِنہ ُ قِیلا ،  و الَّذی أَرسلَ رَسولہُ بالھُدیٰ و تبیّن مَا ارادَ ، و الصَّلاۃُ و السَّلام عَلیَ مُحمدٍ عبد اللَّہ و رسولِ اللَّہ ، الَّذی لَم یَنطِق عَن الھَویٰ و الَّذی أمانۃ ربہِ قد اَدیٰ ،

شروع اللہ کے نام سے جو بہت ہی مہربان اور بہت رحم کرنے والا ہے ،

سچی اور خالص تعریف کا حق دار اللہ ہی ہے ، جس کے عِلاوہ کوئی بھی اور سچا اور حقیقی معبود نہیں ، اور جس سے بڑھ کر سچ کہنے والا کوئی نہیں ، اور جس نے اپنے رسول کو ہدایت کے ساتھ بھیجا اور وہ سب کچھ واضح فرما دیا جسے واضح کرنے کا اللہ نے ارداہ کیا ، اور سلامتی ہو اللہ کے بندے اور اللہ کے رسول محمد(صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم ) پر ، جو کہ اپنی خواہش کے مُطابق نہیں بات نہیں فرماتے تھے  ، اور جنہوں نے اپنے رب کی امانت مکمل طو رپر  دی،

السلامُ علیکم و رحمۃُ اللہ و برکاتہُ ،

اللہ سُبحانہ و تعالیٰ اِیمان والوں کو پُکار کر حُکم دیتا ہے ،

﴿ یَا اَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا کُلُوا مِن طَیِّبَاتِ مَا رَزَقنَاکُم وَاشکُرُوا لِلّہِ اِن کُنتُم اِیَّاہُ تَعبُدُونَ::: اے اِیمان لانے والو ہم نے جو پاک (حلال )رزق تُمہیں دِیا ہے اُس میں سے کھاؤ اور اللہ کا شُکر ادا کرو اگر واقعتا تُم لوگ صرف اُسی کی عِبادت کرتے ہو ( تو تب ہی ایسا کرو گے ﴾  سورت البقرۃ(2) / آیت 172 ،

::: سگریٹ ، تمباکو ، وغیرہ کی خرید و فروخت ::: اِن میں سے خاص طور پر سگریٹاور تمباکو نوشی والی دیگر اشیاء  تو ایسی چیز ہے جِن کے اِستعمال میں مندرجہ ذیل چار  حرام کام اکھٹے ہوتے ہیں:::

سگریٹ اور تمباکو کی خرید و فروخت ، تمباکو نوشی ،  کی کئی صُورتیں ہیں ، جِن میں سے سب سے زیادہ عام سگریٹ نوشی ہے ، سگریٹ ایسی چیز ہے جِس کے اِستعمال میں  چار حرام کام اکھٹے ہوتے ہیں ،

::: (1)  ::: اپنی  جان کو ہلاکت میں ڈالنا :::

جبکہ  اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے ﴿ وَأَنفِقُوا فِی سَبِیلِ اللّہِ وَلاَ تُلقُوا بِأَیْدِیکُم إِلَی التَّہلُکَۃِ وَأَحسِنُوَا إِنَّ اللّہَ یُحِبُّ المُحسِنِینَ:::  اور اللہ کی راہ میں خرچ کرو اورخود کو ہلاکت میں مت ڈالو اور اچھے کام کرو بے شک اللہ تعالیٰ اچھائی کرنے والوں کو پسند کرتا ہے ﴾ سورت البقرۃ (2)  /آیت 195 ،

پس اِس مذکورہ بالا آیت شریفہ کی روشنی میں سگریٹ نوشی کرنے والے ایک  حرام کام، یعنی اپنی جان کو ھلاکت میں ڈالنے کا  شکار ہوتے ہیں ،

::: (2)  ::: فضول خرچی  :::

یہ بات تو تقریبا ہر شخص ہی جانتا ہے کہ سگریٹ نوشی میں اِنسان کی جان اور مال  کی ہلاکت ہی ہلاکت ہے ایک معمولی سا بھی فائدہ یا صحت مندی نہیں ، اور ایسے کام میں خرچ کرنا جِس میں کوئی فائدہ نہیں ، نہ دِینی نہ دُنیاوی ، اللہ کی راہ میں خرچ کرنا ہر گِز نہیں ، بلکہ اللہ کے حُکم میں کے خِلاف خرچ کرنا اللہ اور اِیمان والوں کے دُشمن شیطان کی راہ میں خرچ کرنا ہے ، اور ہر وہ کام جو اللہ تبارک و تعالیٰ کے  حُکم کے خِلاف ہے حرام ہے ،

اللہ سُبحانہُ و تعالیٰ کا فرمان ہے ﴿ إِنَّ المُبَذِّرِینَ کَانُوا إِخوَانَ الشَّیَاطِینِ وَکَانَ الشَّیطَانُ لِرَبِّہِ کَفُوراً  :::  بے شک فضول خرچی کرنے والے شیطان کے بھائی ہیں اور بے شک شیطان اپنے رب کا کفر کرنے والا ہے ﴾ سُورت بنی اِسرائیل (الاِسراء17 ) /آیت 27،

یعنی فضول کرچی کرنا شیطان کے سیکھائے ہوئے کاموں میں سے ہے اور ایسا کرنے والے اُس کے بھائی ہیں کیونکہ وہ اُس کی بات پر عمل کرتے ہیں ، اور جِس طرح شیطان اپنے رب کا کفر کرتا ہے یعنی نافرمانی کرتا ہے اُسی طرح اُس کی بات پر عمل کرنے والے بھی اپنے رب کی نافرمانی کرتے ہیں ، اور سگریٹ نوشی، یا کِسی اور طریقے سے تمباکو نوشی یا تمباکو اِستعمال کرنے میں اپنا مال خرچ کرنا ، سراسر فضول خرچی ہے کیونکہ یہ ایسا کام ہے جِسکی اِنسان کو قطعاً کوئی ضرورت نہیں ، صدیوں سے اِنسان اِس کے بغیر رہتے چلے آئے ہیں ، اور اب بھی کڑوڑوں اِنسان اِس کے بغیر اپنی زندگی بغیر کِسی کمی اور نقص کے مکمل طور پر بسر کر رہے ہیں ، لیکن جِن پر شیطان کا داؤ چل جاتا ہے وہ اُس کے وساوس کا شِکار ہو جاتے ہیں اور یہ فضول خرچی کرنے لگتے ہیں ، اللہ کی نافرمانی جو سراسر حرام کام ہے ،اُس  کا شکار ہو کر اللہ کے ہاں شیطان کے بھائی ہو جاتے ہیں ،

::: (3)  ::: اپنے اِرد گِرد مُسلمانوں ، اور دیگر اِنسانوں کوجانی نقصان ، اور،

::: (4)  ::: ذہنی و نفسیاتی اذیت اور دُکھ پہنچانا ،

جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ ُ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے ﴿ مَن أَکَلَ ثُومًا أو بَصَلًا فَلیَعتَزِلنَا أو قَالَ فَلیَعتَزِل مَسجِدَنَا وَلیَقعُد فی بَیتِہِ ::: جِس نے ثوم (لہسن) یا پیاز کھایا ہو وہ ہم سے دُور رہے یا فرمایا وہ ہماری مسجد سے دُور رہے اور اپنے گھر میں ہی بیٹھا رہے ﴾ صحیح البُخاری /حدیث 817 /کتاب صفۃ الصلاۃ /باب 76 ، صحیح مسلم /حدیث 567/ کتاب المساجد و مواضعیھا /باب 17،

دیکھیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ  و علی آلہ وسلم ، دُوسروں کو تکلیف و اذیت سے بچانے کیلیے حلال چیز کھا کر بھی  دُوسروں سے اور خاص طور پر ایسی جگہ سے دُور رہنے کا حُکم دے رہے ہیں جہاں زیادہ لوگوں کا اجتماع ہوتا ہے ، تو پھر ایسی چیز کا کیا حال ہے جو بذاتِ خود حرام ہو ، کیونکہ وہ ہلاکت کا سبب ہے ، اور دُوسروں کو اُس کی بدبو اور اُس کے دیگر خطرناک اثرات پینے والے کی طرح ہی نُقصان پہنچاتے ہیں ، ڈاکٹرز کی تحقیق میں یہ ثابت ہوچکا کہ سگریٹ، تمباکو  نوش کے اِرد گِرد والے اُس کی سگریٹ نوشی کی وجہ سے اُس کی نسبت زیادہ نُقصان اُٹھاتے ہیں، اِس طرح یہ سگریٹ نوش اپنی جان کو ہلاکت میں ڈالنے کے ساتھ دُوسروں کی جان کو بھی نقصان پہنچاتا ہے اوراُس کی  بدبو کی وجہ سےذہنی و نفسیاتی اذیت کا باعث بھی بنتا ہے ، اور یُوں مزید  دو  حرام کاموں کا شکار ہوتا ہے ،

یہاں تک کی بات سے یہ واضح ہوا کہ سگریٹ، تمباکو نوشی ایک ایسا کام ہے جِس کو کرنے والا  چار حرام کاموں کا شکار ہو جاتا ہے ، اور تمباکو اور اُس کی مصنوعات بنانے والے ، اُن کی خرید و فروخت کرنے والے ، تمباکو اِستعمال کرنے والوں کے لیے اِن حرام کاموں کا شکار ہونے کا بنیادی سبب ہوتے ہیں ، کیونکہ تمباکو اور اُس سے تیار شُدہ مصنوعات مُہیا کرنے والے ہی وہ ہیں جو پینے والوں کو اِن حرام کاموں کا شکار بننے کا ذریعہ بنتے ہیں،

 اب ذرا غور کیجیے ، تو پتہ چل جاتا ہے کہ جو کچھ وہ اِس تجارت میں کماتے ہیں حرام ہوتا ہے ، جب کمائی اور اُس کمائی پر پرورش شدہ جِسم و جان حرام ہو گی تو پھر اللہ کی رحمت  کیسے حاصل ہو گی، اللہ کے ہاں  دُعائیں  کیسے قُبُول ہو ں گی ؟؟؟

 اللہ تعالیٰ ہمارے دِل و دِماغ کی اصلاح فرمائے اور ہمیں توفیق دے کہ ہم اُس کے اور اُس کے رسول صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے احکامات کو ٹھیک اور مکمل طور پر سمجھیں اور اُن پر عمل کرتے ہوئے ہمارے خاتمے ہوں ۔

والسلام علیکم و رحمۃُ‌اللہ و برکاتہُ،

طلب گارء دُعاء ،

آپ کا بھائی ،

عادِل سُہیل ظفر ۔

تاریخ کتابت :23-09-1429 ہجری، بمُطابق ،  23-09-2008 عیسوئی ۔

تاریخ تحدیث و تجدید : 12-10-1441 ہجری، بمُطابق، 04-06-2020 عیسوئی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مضمون کا برقی نسخہ درج ذیل ربط سے نازل کیا جا سکتا ہے :

https://bit.ly/3cA2ajk

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔




Saturday, April 25, 2020

::: نماز میں (جسلہ ءتشھد میں)اُنگلی اُٹھانے یا حرکت دینے کا مسئلہ :::




:::  نماز میں (جسلہ ءتشھد میں)اُنگلی اُٹھانے یا حرکت دینے کا مسئلہ :::
بِسّم اللہِ و الحَمدُ  لِلَّہِ وحدہُ و الصَّلاۃُ و السَّلامُ عَلٰی مَن لا نَبی بَعدَہ ُ  والذی لَم یَتکلم مِن تِلقاءِ نَفسہِ و لَم یَکن کَلامُہ اِلَّا مِن وَحی رَبہ ::: اللہ کے نام سے آغاز ہے اور تمام سچی تعریف صرف  اللہ کے لیے ہے اور اللہ کی رحمت اور سلامتی ہو اُس پر جِس کے بعد کوئی نبی نہیں اور جِس نے نفس کی خواہش کے مطابق بات نہیں کی اور جِس کی بات سوائے اُس کے رب کی وحی کے اور کچھ نہ ہوتی تھی ۔
سوال 3: قعدہ  او ر تشہد میں انگشت شہادت کھڑے رکھنے ، یا مخصوص اوقات میں اُٹھانے،  یا ہلاتے رہنے کے مسئلے کی وضاحت درکار ہے ؟
::: جواب  ::: السلام علیکم ورحمۃ ُ اللہ و برکاتہ،
تشھد کے آغاز سے آخر تک، یعنی ، سلام پھیرنے تک ، شہادت کی اُنگلی کو اُٹھائے رکھنا، یا ، حرکت دیتے رہنا دونوں ہی سُنّت شریفہ سے ثابت ہیں،
::::::: وائل ابن حجر رضی اللہ عنہ ُ و أرضاہُ  نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کے نماز پڑھنے کی کیفیت بیان کرتے ہوئے بتایا ﴿ ثُمَّ قَعَدَ وَافْتَرَشَ رِجْلَهُ الْيُسْرَى وَوَضَعَ كَفَّهُ الْيُسْرَى عَلَى فَخِذِهِ وَرُكْبَتِهِ الْيُسْرَى،  وَجَعَلَ حَدَّ مِرْفَقِهِ الأَيْمَنِ عَلَى فَخِذِهِ الْيُمْنَى ثُمَّ قَبَضَ اثْنَتَيْنِ مِنْ أَصَابِعِهِ وَحَلَّقَ حَلْقَةً ثُمَّ رَفَعَ أُصْبُعَهُ فَرَأَيْتُهُ يُحَرِّكُهَا يَدْعُو بِهَا ::: پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم تشریف فرما ہوگئے اور اپنی سیدہی ٹانگ مُبارک (زمین پر) بچھا دی ، اور اپنے اُلٹے ہاتھ کی ہتھیلی مُبارک اپنی اُلٹی ران مُبارک پر، اور گُھٹنے مبارک پر  رکھی، اور اپنی سیدہی کہنی مُبارک اپنی سیدہی ران مُبارک پررکھی ، پھر اپنی اُنگلیوں میں سے دو اُنگلیوں (چھوتی اُنگلی اور اس کے ساتھ والی اُنگلی) کو بند فرما لیا ، اور (بڑی اُنگلی اور انگوٹھے کا) دائرہ بنا لیا ، پھر اپنی (شہادت والی)اُنگلی مُبارک کو اٹھایا ، تو میں نے(یہ)دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم اُس (شہادت والی اُنگلی مُبارک)کو حرکت دے رہے ہیں (اوراُسی حرکت کے ساتھ)دُعا فرما رہے ہیں﴾سُنن النسائی /حدیث1276 /کتاب السھو/باب34، إِمام الالبانی رحمہُ اللہ نے صحیح قرار دِیا ،
یعنی اُسے حرکت دیتے ہوئے ہی دُعاء بھی فرما رہے ہیں ، اور یہ بات تو سب ہی جانتے ہیں کہ دُعاء تشھد کے آخر میں کی جاتی ہے، پس یہ ثابت ہوا کہ تشھد کے آغاز سے آخر تک اُنگلی کو حرکت دیا جانا سُنّت شریفہ کی عین مُطابق ہے ،
تشھد میں کسی مخصوص وقت یا کسی مخصوص لفظ کے ساتھ، جیسا کہ لوگ اللہ  تعالیٰ کے ماسواء کی الوہیت کے انکار ، اور اللہ عزّ و جلّ  کی واحدینت کے اقرار کے الفاظ کے ساتھ اُنگلی اٹھاتے ہیں ،
یعنی """لا الہَ اَلّا اللَّہ """ میں "لا" کہنے  پر ، اور پھر "اللہ" کہنے پر اُنگلی اٹھانا،
اور اِسی طرح "أشھدُ"کہتے ہوئے اُنگلی اٹھانا، اِن سب حرکات کی تو سُنّت شریفہ میں کوئی دلیل ہے ہی نہیں،
اور اِسی طرح سُنن ابو داؤد، اور سُنن الترمذی میں عبداللہ ابن زبیر رضی اللہ عنہ ُ کی وہ روایت جِس میں اِشارہ نہ کرنے کا ذِکر ہے،اِس روایت میں اِشارہ نہ کرنے والی بات کو إِمام الالبانی رحمہُ اللہ نے شاذ قرار دِیا ہے،
تٖفصیل کے لیے دیکھیے""" تمام المنة في التعليق على فقه السنة/و من صِفۃ الجلوس للتشھد"""،
ایسی کئی صحیح روایات منقول ہیں، جِن میں صِرف اِشارہ کرنے کا ذِکر ہے، حرکت کرنے کا نہیں ،
کچھ لوگ صِرف اُنہی روایات پر نظر کرتے ہوئے یہ سمجھتے اور کہتے ہیں کہ صِرف اِشارہ کرنا ہی مقصود ہے،حرکت دینا اِشارے کی مخالفت ہے،جبکہ اُن صاحبان کا ایسا سمجھنا دُرُست نہیں، کیونکہ،  
صِرف اِشارے  والی روایات ایک عمل کا عمومی ذِکر لیے ہوئے ہیں ، اور حرکت دینے والی خبر اُس عمل کی کیفیت ہے،  اِن دونوں میں کوئی اِختلاف نہیں،
دیگر صحیح روایات اِس بات کی تاکید کرتی ہیں کہ، اِشارہ کرنے کی  ایک کیفیت اُنگلی کو حرکت دینا ہے، اِشارہ  کرنے سے مُراد صِرف ساکت اِشارہ نہیں،
اُن میں سے ایک تو وائل ابن حجر رضی اللہ عنہ ُ کی وہی روایت  ہے جو آغاز میں ذِکر کی گئی ہے،
اور دُوسری عبداللہ ابن عُمر رضی  اللہ عنہما کی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے اِرشاد فرمایا ﴿ لَهِىَ أَشَدُّ عَلَى الشَّيْطَانِ مِنَ الْحَدِيدِ::: یقیناً  یہ شیطان پر لوہے سے زیادہ شدید ہے﴾مُسند احمد،
عبداللہ ابن عُمر رضی اللہ  عنہ ُ نے پھر یہ بھی بتایا کہ یہ  فرمان شہادت والی اُنگلی کے بارے میں ہے،
پس یہ واضح ہوا کہ اِس اُنگلی کو حرکت دینا ہی مطلوب ہے، کیونکہ حرکت ہی تو شیطان کو  لوہے سے زیادہ شدید مار کا سبب ہو گی،
جیسا کہ إِمام احمد ابن حنبل رحمہُ اللہ سے مروی ہے کہ اُنہیں تشھد میں اُنگلی کے اِشارے کے بارے میں پوچھا گیا تو اُنہوں نے فرمایا """جی ہاں ، شدید طور پر """،
إِمام صاحب رحمہُ اللہ کی یہ بات اِشارے کی شرح ہے کہ اِشارہ متحرک ہو گا ، اور شدید حرکت والا ہونا چاہیے، ساکت اِشارہ نہیں،  
پس صِرف اِشارہ کرنے کو ہی دُرُست کہنا ، اور حرکت دینے کو نا دُرُست کہنا ، بذات خود نا دُرُست فعل ہے،
إِمام الالبانی رحمہُ اللہ نے """أصل صفۃ الصلاۃ النبی /التشھد الأول/تحریک الإِصبع فی التشھد/صفحۃ 838إِلیٰ 859""" نے اِس مسئلے کی بڑی اعلیٰ تحقیق پیش کی ہے،
  اور فرمایا ہے کہ """والحق، أنہ لا تفضیل بین الصفتین،بل کل منھما السُنّۃ ینبغی العمل بکل منھما أحیاناً:::حق یہ ہے کہ اِن دونوں کیفیات میں کوئی ایک دُوسری سےافضل نہیں ہے ، بلکہ دونوں ہی سُنّت ہیں، وقتا     ً فوقتا     ً  دونوں پر ہی عمل کیا جانا چاہیے"""۔
اُمید ہے کہ یہ معلومات اِن شاء اللہ اِس مسئلے کو واضح کرنے کا سبب ہو ں گی، اور بلا وجہ کی ضِد اور شِدت سے نجات کا بھی،
اللہ تعالیٰ ہم سب کو اور ہمارے سب کو دِین ،دُنیا اور آخرت کی خیر عطاء فرمائے۔
والسلام علیکم ،طلبگارء دُعاء ، آپ کا بھائی عادِل سہیل ظفر۔
تاریخ کتابت : 07/11/1437ہجری،بمُطابق،10/08/2016عیسوئی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مضمون کا برقی نُسخہ درج ذیل ربط سے نازل کیا جا سکتا ہے :
https://bit.ly/2KDjF6P 

Tuesday, April 14, 2020

::: قُران کو بغیر وضوء کے، جنابت ، حیض اور نفاس کی حالت میں چُھونا اور پڑھنا:::


::: قُران کو بغیر وضوء کے، جنابت ، حیض اور نفاس کی حالت میں  چُھونا اور پڑھنا:::
أَعُوذُ بِاللَّهِ السَّمِيعِ الْعَلِيمِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ مِنْ هَمْزِهِ وَنَفْخِهِ وَنَفْثِهِ
بِسمِ اللَّہ ،و السَّلامُ عَلیَ مَن اتَّبَع َالھُدیٰ و سَلکَ عَلیَ مَسلکِ النَّبیِّ الھُدیٰ مُحمدٍ صَلی اللہُ علیہِ وعَلیَ آلہِ وسلَّمَ ، و قَد خَابَ مَن یُشاقِقِ الرَّسُولَ بَعدَ أَن تَبیَّنَ لہُ الھُدیٰ ، و اتَّبَعَ ھَواہُ فقدوَقعَ فی ضَلالٍ بعیدٍ۔
میں  شیطان مردُود(یعنی اللہ کی رحمت سے دُھتکارے ہوئے)کے ڈالے ہوئے جُنون،اور اُس کے دِیے ہوئے تکبر، اور اُس کے (خیالات و افکار پر مبنی)اَشعار سے، سب کچھ سننے والے ، اور سب کچھ کا عِلم رکھنے والے اللہ کی پناہ طلب کرتا ہوں،
شروع اللہ کے نام سے ، اورسلامتی ہو اُس شخص  پر جس نے ہدایت کی پیروی کی ، اور ہدایت لانے والے نبی محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی راہ پر چلا ، اور یقینا وہ شخص تباہ ہوا جس نے رسول کو الگ کیا ، بعد اِس کے کہ اُس کے لیے ہدایت واضح کر دی گئی اور(لیکن اُس شخص نے)اپنے نفس  کی خواہشات کی پیروی کی پس بہت دُور کی گمراہی میں جا پڑا ۔
السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ،
:::::  سوال  :::::  قُران کو بغیر وضوء کے جنابت ، حیض  اور نفاس کی حالت میں چُھونے ، یا پڑہنے کا کیا حُکم ہے ؟ :::::
::::: جواب :::::
قران کریم کو بغیر وضوء پڑھنا  بھی جائز ہے، اور چُھونا بھی جائز ہے، سوائے حالت جنابت کے،
جنابت کی حالت میں نہ تو قران کریم کو چُھوا جا سکتا ہے اور نہ  ہی اُس کی تلاوت کی جا سکتی ہے ، حالت جنابت میں قران کریم   کو چُھونے ،  اور اُس کی تلاوت کرنے  کے ناجائز ہونے کے بارے میں جمہور عُلماء کا اتفاق بیان کیا جاتا ہے،
کچھ عُلماء نے اس سے بھی  اختلاف کیا ہے،  لیکن ، دونوں  طرف کے عُلماء کرام رحمہم اللہ کے اقوال پڑھنے سمجھنے کے بعد زیادہ مُناسب یہی معلوم ہوتا  ہے کہ حالتء جنابت میں نہ ہی قران پاک کو چُھوا جائے ، اور نہ  قران کریم کی تلاوت نہ کی جائے،
رہا مسئلہ ،  بلا وضوء قران کریم کو چھونے کا تو اِس  کے بارے میں دُرُست یہی ہے کہ اگر کوئی  مُسلمان صِرف بغیر وضوء ہو، تو وہ قران کو چُھو سکتا ہے، اور پڑھ سکتا ہے ، لیکن جنابت کی حالت میں نہیں ،
حیض اور نفاس کی حالت میں قران کریم ، یعنی مصحف کو براہ راست ننگے ہاتھوں سے چُھونا جائز نہیں ، بغیر چھوئے دیکھ کر یا ز ُبانی قرأت کرنا جائز ہے ،   کیونکہ اِس سے ممانعت کی کوئی دلیل میسر نہیں ،
حالتء حیض میں قران خوانی سے منع کرنے والے اصحاب  درج ذیل روایت کو دلیل بناتے ہیں :
((( لاَ تَقْرَإِ الْحَائِضُ وَلاَ الْجُنُبُ شَيْئًا مِنَ الْقُرْآنِ:::  حیض والی عورت اور  جو کوئی حالتء جنابت میں ہو ، وہ لوگ قران نہیں پڑھ سکتے )))
اِلفاظ اور اُن کی ترتیب  کے کچھ فرق کے ساتھ یہ روایت، سُنن کی کُتب میں  درج ذیل حوالہ جات پر موجود ہے  :
(1) سُنن الترمذی /حدیث 131 / کتاب الطھارۃ / باب 98  مَا جَاءَ فِى الْجُنُبِ وَالْحَائِضِ أَنَّهُمَا لاَ يَقْرَآنِ الْقُرْآنَ،
(2)  سُنن ابن ماجہ /حدیث 639 / کتاب الطھارۃو سُننھا / باب 105   مَا جَاءَ فِى قِرَاءَةِ الْقُرْآنِ عَلَى غَيْرِ طَهَارَةٍ، مَا جَاءَ فِى قِرَاءَةِ الْقُرْآنِ عَلَى غَيْرِ طَهَارَةٍ،
(3)     سُنن الدار قُطنی / حدیث 428 / کتاب الطھارۃ /  باب فِى النَّهْىِ لِلْجُنُبِ وَالْحَائِضِ عَنْ قِرَاءَةِ الْقُرْآنِ،
(4)  سُنن الکبریٰ للبیھقی  / حدیث 428 / کتاب الطھارۃ /  باب 99  ذِكْرِ الْحَدِيثِ الَّذِى وَرَدَ فِى نَهْىِ الْحَائِضِ عَنْ قِرَاءَةِ الْقُرْآنِ وَفِيهِ نَظَرٌ ،
اِس کی تمام اسناد میں  إسماعیل بن عیاش نامی راوی ہے ، اِس راوی اور اِس کی اِس روایت کے بارے میں امیر المؤمنین فی الحدیث محمد بن إسماعیل البخاری رحمہُ اللہ  کا  یہ  قول إمام الترمذی رحمہُ اللہ اور إمام  البیھقی رحمہُ اللہ نے ذِکر کیا ہے کہ:::
 ’’’   إِنَّمَا رَوَى هَذَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ وَلاَ أَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ غَيْرِهِ ، وَإِسْمَاعِيلُ مُنْكَرُ الْحَدِيثِ عَنْ أَهْلِ الْحِجَازِ وَأَهْلِ الْعِرَاقِ ::: یہ روایت إسماعیل بن عیاش نے موسی بن عُقبہ کے ذریعے بیان کی ہے اور میں اِس روایت کو اِس کے عِلاوہ کِسی اور کے حوالے سے نہیں جانتا ، اور  اگر اِس  إسماعیل (بن عیاش)  کی روایت حجاز اور عراق کے راویوں کے ذریعے ہوں تو یہ ( رزوی    إسماعیل بن عیاش) منکر الحدیث ہے( یعنی اِس کی روایات منکر ، ناقابلء قبول ، ناقابل حُجت  ہوتی ہیں ) ‘‘‘
اور اِ س کے بعد إمام  البیھقی رحمہُ اللہ نے دو دیگر روایات کا ذِکر کر کے یہ بتایا ہے کہ وہ دونوں بھی صحیح نہیں ہیں ،
پس یہ معاملہ بہت واضح ہے کہ یہ روایت کِسی طور قابل حُجت نہیں ، اِسے کِسی شرعی مسئلے کے لیے دلیل نہیں بنایا جا سکتا،
اِس روایت کے بارے میں یہ حکم صدیوں پہلے گذر چکے أئمہ کرام نے دِیا ہے ، ہمارے ہاں پائی جانے والی  مسلکی تقسیم  سے صدیوں پہلے کے أئمہ رحمہم اللہ نے ، لہذا کوئی اِسے کِسی مسلک یا کِسی مسلک کے کِسی عالم یا إمام کے کھاتے میں ڈال کر اپنی غلط بیانی کو دُرست کرنے کی کوشش نہ کرے،
اللہ تبارک و تعالیٰ ہم سب  کو حق کے خِلاف ہر ضِد اور تعصب سے دُور رہ کر حق جاننے ، ماننے اور اپنانے کی توفیق عطاء فرمائے ۔
و السلام علیکم ،
طلب گارء دُعاء ، آپ کا بھائی ،
عادِل سُہیل ظفر ۔
تاریخ کتابت : 03-02-2013  عیسوئی ، الموافق ، 22-03-1434ہجری ،
تاریخ تجدید و تحدیث : رہ کر حق م حق ماننے ، الے اصحاب  درج ذیل روایت کو دلیل بناتے ہیں :
 13-04-2020 عیسوئی ، الموافق ، 20-08-1441 ہجری ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مضمون کا برقی نسخہ درج ذیل ربط پر مُیسر ہے: