Tuesday, July 2, 2013

بغیر اجر و ثواب کے روزہ = فاقہ کشی

۹۹۹ بغیر اجر و ثواب کے روزہ     = فاقہ کشی ۹۹۹
E  کیا آپ جانتے ہیں کہ وہ کون ہے جو کسی اجر و ثواب کے بغیر ہی روزہ رکھتا ہے ؟
E  جو دن بھر اپنا کھانا پینا چھوڑے رکھتا ہے اور دن بھر کی اس بھوک پیاس کے نتیجے میں کوئی نیکی حاصل نہیں کر پاتا؟
یہ وہ شخص ہے جو ز ُبان کی لذتیں تو چھوڑ دیتا ہے لیکن ز ُبان کے استعمال پر پابندی نہیں لگاتا ،جھوٹ ، بد ز ُبانی ، گالی گلوچ ، بے حیائی  والی باتیں ، لڑائی فساد والی باتوں اور  غیبت وغیرہ سے باز نہیں آتا ، 
      یہ وہ شخص ہے جوروزے کی حالت میں بھی   آنکھ استعمال پر روک ٹوک نہیں رکھتا ،اور جن چیزوں کی طرف نگاہ کرنے سے اسے باز رہنا چاہیے ، باز نہیں رہتا ،
      یہ وہ شخص ہے جوروزے کی حالت میں بھی کانوں کے استعمال پر کچھ پابندی  نہیں لاگو نہیں کرتا ،اور وہ کچھ سنتا رہتا ہے جو اسے بغیر روزے کے بھی نہیں سننا چاہیے ، مثلاً موسیقی ، گانے ، بے حیائی والی باتیں ، جھوٹ وغیرہ،
یہ شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے اس فرمان کا مصداق ہوتا ہے کہ ﴿ مَن لَم یَدعَ قولَ الزُورِ و العَملَ بِہِ فَلیس للّہِ حاجۃٌ أن یَدَع طعامَہُ و شرابَہُ :::جِس نے جھوٹ بولنا اوراُس پر عمل کرنا نہیں چھوڑا اللہ کو اُس کے کھانا پینا چھوڑنے کی کوئی ضرورت نہیں صحیح البخُاری/حدیث 1903،
یہ روزہ دار کس قدر بد نصیب ہے کہ بھوک پیاس کاٹنے کے باوجود بھی اس کا یہ عمل اللہ کے ہاں قبول نہ ہوگا اور اسے کوئی اجر و ثواب نہ ملے گا ،
اس بات کو مزید واضح الفاظ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے یوں اِرشاد فرمایا کہ ﴿رُبَّ صَائِم   ٍ لَيس َلَه ُ مِن صِيَامِهِ إلا الْجُوعُ وَرُبَّ قَائِم   ٍ لَيس َلَه ُ مِن قِيَامِهِ إلا السَّهَرُ :::ایسا بھی ہوتا ہے کہ روزدار کے لیے اُس کے روزے میں سے سوائے بھوک کے کچھ نہیں ہوتا اور ایسا بھی ہوتا کہ قیام اللیل کرنے والے کے لیے اُس کے قیام اللیل میں سوائے جاگنے  کے اور کچھ نہیں ہوتا سنن ابن ماجہ/حدیث 1690/کتاب الصیام/باب21،
رمضان کے فوائد کے معاملے میں ایسے لوگوں سے بڑھ کر خسارے  والےاور کون ہوں گے جو اپنے  جسم کو تو بھوک پیاس کی تکلیف دیے رکھیں لیکن اپنے نفس پر کوئی پابندی نہ لگائیں اور یوں ان کا روزہ صرف بھوک پیاس ہی ہو ۔ اللہ ہم سب کو ایسی بے ثمر روزہ داری سے محفوظ رہنے کی توفیق دے اور وہ روزے رکھنے کی ہمت دے جو اسے قبول ہوں اور جن کا وہ اجر ملے جس کا اس نے وعدہ کیا ہے ۔
اس مضمون کا برقی نسخہ درج ذیل ربط پر میسر ہے :


::: روزے کا حقیقی سبب قران کے سایے میں Actual reason of Fasting as explained in Quran:::

٦   ٦ ٦  قران کے سایے میں  ٨           روزے کا  حقیقی سبب ٥ ٥ ٥
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ        
و الصَّلاۃُ والسَّلامُ عَلیٰ رَسولہ ِ الکریم مُحمدٍ و عَلیَ آلہِ وَأصحابہِ وَأزواجِہِ وَ مَن تَبِعَھُم بِاِحسانٍ إِلٰی یَومِ الدِین ، أما بَعد :::
أَعُوذُ بِاللَّهِ السَّمِيعِ الْعَلِيمِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ مِنْ هَمْزِهِ وَنَفْخِهِ وَنَفْثِهِ
اللہ تبارک و تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے ﴿ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِن قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ ::: اے لوگوں جو اِیمان لائے ہو ، تُم پر روزے لکھ دیے(یعنی فرض کر دیے) گئے ہیں ، جیسا کہ تُم سے پہلے والوں پر لکھے گئے ، تاکہ تُم تقویٰ اِختیار کرو    سورت البقرۃ / آیت 183،
یقیناً اللہ تعالی بہت اچھی طرح سے جانتا ہے کہ کسی انسان کو اگر کوئی کام کرنے کا پابند کیا جائے تو اسے وہ پابندی قبول کرنے لیے  اندرونی و بیرونی مدد کی ضرورت ہوتی ہے ، جب تک ایسی کوئی مدد میسر نہ ہوا انسان کوئی پابندی قبول کرنے پر تیار نہیں ہوتا خواہ اُس پابندی میں کتنا ہی فائدہ کیوں نہ ہو ،
پس اسی مددگاری کے لیے ہی مذکورہ بالا آیت میں  اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے اس کے ایمان والوں بندوں کے لیے صدا لگائی گئی ہے اور انہیں یہ یاد کروایا گیا ہے کہ روزہ رکھنا صرف تُم ہی لوگوں کے لیے فرض نہیں بلکہ پہلے والی امتوں  میں بھی اللہ پر ایمان رکھنے والوں کو روزے رکھنے کا حکم دیا گیا تھا ، اور اس فرض کی تکمیل میں سب سے پہلا بڑا مقصد یہ ہے کہ تُم لوگوں کے دل تقویٰ کے لیے تیار ہوں جائیں ، اور وہ شرک کی آلودگیوں سے شفاف ہو جائیں ، اللہ کے خوف سے لبریز ہو جائیں ،   اور اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم پر مکمل اور مطلوب درجہ کے مطابق ایمان سے بھر جائیں ، اور تُم لوگ اللہ اور اُس کے رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے مکمل تابع فرمان بن جاؤ ،
اِس طرح اللہ سُبحانہُ و تعالیٰ نے روزے رکھنے کا سب سے بڑا اور اہم مقصد """ تقویٰ """ بیان فرمایا ہے  ، اور یہ بیان  ہی وہ مددہے جو روزے رکھنے کی پابندی کو قبول کرنے کے لیے اللہ کی طرف سے  کی گئی کہ """ تقویٰ """اور اس کے فوائد     کا حصول کے لیے ایمان والے یہ پابندی خوش دلی سے قبول کرتے ہیں اور جو صرف کلمہ گو مسلمان ہیں وہ   اس مددگاری کی حقیقت سے اُسی طرح غافل رہتے ہیں جس طرح اِیمان اور دین کے دیگر بہت سے حقائق سےغافل ہوتے ہیں ،
پس اللہ کی طرف سے روزہ رکھنے کی پابندی قبول کرنے کے لیے """ تقویٰ """حاصل ہونے کی خوشخبری سنا کر  اللہ نے اپنے ایمان والے بندوں کے سامنے   ایک بہت ہی واضح اور بہت ہی عظیم فائدے والا ھدف رکھ دیا   اور   یہ مدد عطاء فرمائی کہ وہ اللہ کا فرض پورا کریں تو کراہت یا مجبوری سے نہیں بلکہ اللہ کی محبت میں ، اللہ کی رضا حاصل کرنے کے لیے ، اور اللہ کی وہ عظیم نعمت حاصل کرنے کے لیے جو ایمان والوں کے دِلوں ، جانوں اور اجساد سب کی ہی طہارت کا بڑا سبب ہے ، اور اللہ کی رضا اور اس کی عظیم رحمتوں کے حصول کے اسباب میں سے ایک عظیم سب ہے اور وہ ہے """ تقویٰ """،
اللہ سُبحانہ ُ و تعالیٰ نے  اِس مذکورہ بالا آیت مبارکہ میں جن لوگوں سے خطاب فرمایا ہے وہ ہیں اِیمان والے ، اور اِیمان والے جانتے ہیں کہ اللہ کے ہاں """ تقویٰ """کا کیا مُقام ہے؟ اور میزان میں اس کا کیا وزن ہے ؟لہذا اُن کےدِل اور اُن کی روحیں اُس کو پانے کی تمنا میں ہر پابندی قبول کرتے ہیں اور اُن پابندیوں کے عین مطابق عمل کرتے ہیں ،
یاد رکھیے کہ روزہ ایمان والے بندوں کا اُن کے اعمال کا خوب اچھی طرح جائزہ لینے اور اپنے رب سے، اس کی اطاعت اور اس کے احکام کے نفاذ کی صورت  میں  براہ راست تعلق بنانے کا بہترین ذریعہ ہے ،
اسی طرح روزہ اپنے جسم کی ضروریات کو قابو میں رکھنے کے لیے ایک قوی تربیتی عمل بھی ہے ، جو آخرت کے فوائد سے پہلے دُنیا کے فوائد میں سے ایک ہے ، لیکن ایمان والوں کا ہدف اور نیت جسمانی فوائد کا حصول نہیں ہوتا بلکہ صرف اور صرف اللہ کی رضا کا حصول ہوتا ہے  ، جو کہ روزے میں ملنے والے تقویٰ کے لازمی نتائج میں سے ہے ۔
اللہ تبارک وتعالیٰ ہم سب کو  یہ توفیق عطاء فرمائے کہ ہم""" تقویٰ """اختیار کر لیں اور اُسی کے مطابق اپنی زندگیاں بسر کرتے ہوئے  اپنے اللہ جلّ و عُلا کے دربار عالیہ میں حاضر ہوں ۔
والسلام علیکم ، آپ کی دعاؤں کا متمنی ، آپ کا بھائی ، عادل سہیل ظفر ۔
اس مضمون کا برقی نسخہ درج ذیل ربط پر میسر ہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
الحمد للہ کافی عرصہ پہلے """ تقویٰ """کے بارے میں ایک الگ مضمون نشر کیا جا چکا ہے ۔ جس کا مطالعہ درج ذیل لنک پر کیا جاسکتا ہے :

::::::: آپ روزے کے بارے میں کیا جانتے ہیں ؟ :::::::

۹۹۹ آپ روزے کے بارے میں کیا جانتے ہیں ؟ ۹۹۹
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ        
و الصَّلاۃُ والسَّلامُ عَلیٰ رَسولہ ِ الکریم مُحمدٍ و عَلیَ آلہِ وَأصحابہِ وَأزواجِہِ وَ مَن تَبِعَھُم بِاِحسانٍ إِلٰی یَومِ الدِین ، أما بَعد :::
روزہ اسلام کے ارکان میں سے ایک رُکن ہے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کا اِرشاد گرامی ہے ﴿  بُنِىَ الإِسْلاَمُ عَلَى خَمْسٍ شَهَادَةِ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ ، وَإِقَامِ الصَّلاَةِ ، وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ ، وَالْحَجِّ ، وَصَوْمِ رَمَضَانَ::: اسلام پانچ (چیزوں) پر تعمیر کیا گیا ہے (۱)یہ گواہی دینا کہ اللہ کے علاوہ کوئی سچا معبود نہیں اور یہ کہ محمد اللہ کے رسول ہیں ، اور (۲) نماز قائم کرنا ، اور (۳)زکوۃ ادا کرنا ، اور (۴)حج کرنا(رکھنا) اور ، (۵)رمضان کا روزہ صحیح البخاری /کتاب الایمان/باب2 ، صحیح مُسلم /کتاب الایمان/باب7 ،سُنن الترمذی / سنن النسائی ، وغیرھا ، مذکوہ الفاظ صحیح البخاری کے ہیں  ،
اللہ سُبحانہ ُ و تعالیٰ کے ہاں روزے کا رتبہ بہت بلند ہے کہ اللہ نے روزہ داروں کے اجر کی کوئی حد مقرر فرمائے بغیر وہ اجر عطاء فرمانے کا وعدہ فرمایا ہے ، اور ہر روزے پر  اجر و ثواب کی مقدار مقرر فرمانے کا حکم اپنی ذات مبارک تک راز رکھ لیا ، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کے بارے میں روایت فرمایا ہے کہ ﴿ يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ الصَّوْمُ لِى وَأَنَا أَجْزِى بِهِ ::: اللہ عزّ و جلّ فرماتا ہے ، روزہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کا اجر عطاء کروں گاصحیح البخاری /کتاب التوحید/باب35 ، صحیح مُسلم /کتاب الصیام/باب30،   
دینی اور اُخروی اجر و ثواب کے علاوہ روزے کے ذریعے اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے روزہ دار بندوں کو دنیاوی فوائد میں سے بھی بہت کچھ عطاء فرماتا ہے ، مثلاً :::
روزہ مُسلمان کے ایمان ، اس کی قوت اِرادہ اور عزیمت میں اضافے اور پختگی کا سبب بنتا ہے ، جس کے نتیجے میں وہ مُسلمان اپنے رب کے لیے اپنے کھانے پینے کی ضروریات تک کو ترک کیے رکھتا ہے اور دیگر کئی خواہشات کی تکمیل پر قدرت رکھنے کے باوجود خود کو ان سے دُور رکھتا ہے ،
جس کے دُنیاوی
روزہ مالداوں کے دِلوں میں غریبوں اور تنگ دست لوگوں کے احوال کا احساس پیدا کرنے کا سبب ہوتا ہے ، کہ وہ ان کی تنگی ، بھوک اور ضروریات کو محسوس کرتے ہیں اور جن کی خیر اللہ کے ہاں منظور ہو اللہ تبارک و تعالیٰ ان مالدار لوگوں کو  اُس کی راہ میں خرچ کرنے کی توفیق عطاء فرماتا ہے ،  جو امیروں اور غریبوں کے درمیان پائی جانے والی معاشرتی تفریق کے خاتمہ  کا سبب بنتی  ہے اور اسلامی بھائی چارے کو تقویت ملتی ہے ،جس کے دُنیاوی فوائد اُخروی فوائد سے پہلے ہی ساری اُمت کے لیے میسر ہوتے ہیں ،
روزے کے نتیجے میں ملنے والے جسمانی فوائد اور صحت کی بہتری سے متعلق فوائد کے بارے میں ہر دِن کوئی نئی تحقیق سامنے آتی ہے جو مُسلمانوں کے لیے ان کے رب کی رحمت کی وسعت کو سمجھنے کے لیے ایک مددگار ذریعہ ہے کہ اُن کا رب اپنے فرمان بردار بندوں کو آخرت کے اجر و ثواب کے ساتھ  دُنیا کے فوائد بھی اضافی نعمتوں کے طور پر عطاء فرماتا ہے ،  پس ہمیں اپنے اعمال دُنیاوی فوائد کو مد نظر رکھ کر نہیں کرنا چاہیں ، بلکہ اپنے اللہ کی خوشنودی حاصل کر کے اپنی  آخرت کی کامیابی کے حصول کے لیے کرنا چاہیں ،
اِیمان والے کا مطمع نظر اور اصل ھدف ہمیشہ اللہ کی رضا کا حصول ہوتا ہے ، دُنیاوی فوائد کے مد نظر کیے گئے اعمال عبادات میں شمار نہیں ہوتے خواہ اُن کی ظاہری ہیئت اور کیفیت کسی معروف عبادت جیسی ہی ہو ، یہ اس لیے کہ عملوں کا دارومدار نیتوں پر ہوتا ہے اور ہر شخص کے لیے وہی نتیجہ ہے جس کی اُس نے نیت کی ہو ، لہذا اگر کوئی شخص دُنیاوی فوائد حاصل کرنے کے لیے خواہ وہ جسمانی فوائد ہوں یا معاشرتی فوائد ، روزہ رکھتا ہے تو اسے اس کے روزے کے نتیجے میں اللہ کی رضا حاصل ہونے والی نہیں اور نہ ہی آخرت میں اس کا کوئی فائدہ ملنے والا ہے ، بلکہ نقصان کا اندیشہ ہے ،
روزے کی فضیلت میں بیان شدہ اجر و ثواب پانے کا دارومدار بھی روزے رکھنے والے کی نیت پر ہی ہے ، پس یہ عظیم اجر و ثواب حاصل کرنے کے لیے یہ عمل بھی خالص اللہ کی رضا کے حصول کی نیت سے ادا کیا جانا چاہیے ۔
اس مضمون کا برقی نسخہ """http://bit.ly/15RntmP """ پر میسر ہے ۔

::::::: رمضان اچھی عادات اپنانے کا سنہری موقع ہوتا ہے :::::::



:::::::  رمضان اچھی عادات اپنانے کا سنہری موقع ہوتا ہے :::::::
اللہ کے حُکم سے رمضان ہمارے اندر عزیمت ، ارادے اور دفاع کو مضبوط اور طاقتور بنانے کے بہترین مواقع فراہم کرتا ہے ، ہمیں چاہیے کہ اللہ کے اس مبارک مہینے میں پائے جانے والے ان مواقع کا بھر پور فائدہ اٹھائیں ، اور اس مہینے میں اپنی بری عادات وقتی طور پر  ترک کرنے کی بجائے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ترک کردیں ،اور اچھی اعمال کو وقتی طور پر ادا کرنے کے بجائے مستقل طور پر اپنا لیں گویا کہ وہ ہماری عادات میں شامل ہو جائیں ،
یہ ایک حقیقت ہے کہ کسی بھی انسان کو اچھا یا بُرا بنانے کے لیے بہت زیادہ اچھی یا بُری عادات کا ہونا لازم نہیں ہوتا بلکہ چند ہی اچھی یا بُری عادات کی موجودگی اُس کی شخصیت اور کردار کے اچھے یا بُرے ہونے کا فیصلہ  ہو جانے  کے لیے کافی ہوتی ہیں ،    
اگر ہم میں سے ہر ایک اپنی اپنی عادات کا جائزہ لے وہ بری عادات جنہیں ہم رمضان میں اور وہ بری عادات جنہیں ہم روزے کی حالت میں ترک کرتے ہیں ، شاید دونوں ہاتھوں کی پوروں کی گنتی سے بھی کم ہوں گی ،
اگر ہم کچھ غور کریں تو جان لیں گے کہ جن عادات کو ہم رمضان میں ایک مہینے کے لیے اللہ پر توکل کر کے چھوڑ دیتے ہیں ، اللہ کی رضا کے لیے چھوڑ دیتے ہیں اور اللہ ہمیں ان کے چھوڑنے پر صبر بھی دیتا ہے تو ان عادات کو اِسی نیک نیتی سے ہم ہمیشہ کے لیے بھی چھوڑ سکتے ہیں ،
اور یوں ہم برےمسلمانوں کی صفوں میں سے نکل کر اچھےایمان والوں کی صفوں میں شامل ہو سکتے ہیں کمزور ارادے والے لوگ اگر اپنی ساری ہی بری عادات کو ایک ہی دفعہ ختم نہ کر پائیں تو وہ ہر رمضان میں کچھ عادات کو چھوڑتے چلیں تو   اِن شاء اللہ چند ہی رمضان میں وہ اپنی بری عادات سے چُھٹکارا حاصل کر لیں گے ۔
اس مضمون کا برقی نسخہ درج ذیل ربط پر میسر ہے :