Tuesday, July 2, 2013

::::::: آپ روزے کے بارے میں کیا جانتے ہیں ؟ :::::::

۹۹۹ آپ روزے کے بارے میں کیا جانتے ہیں ؟ ۹۹۹
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ        
و الصَّلاۃُ والسَّلامُ عَلیٰ رَسولہ ِ الکریم مُحمدٍ و عَلیَ آلہِ وَأصحابہِ وَأزواجِہِ وَ مَن تَبِعَھُم بِاِحسانٍ إِلٰی یَومِ الدِین ، أما بَعد :::
روزہ اسلام کے ارکان میں سے ایک رُکن ہے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کا اِرشاد گرامی ہے ﴿  بُنِىَ الإِسْلاَمُ عَلَى خَمْسٍ شَهَادَةِ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ ، وَإِقَامِ الصَّلاَةِ ، وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ ، وَالْحَجِّ ، وَصَوْمِ رَمَضَانَ::: اسلام پانچ (چیزوں) پر تعمیر کیا گیا ہے (۱)یہ گواہی دینا کہ اللہ کے علاوہ کوئی سچا معبود نہیں اور یہ کہ محمد اللہ کے رسول ہیں ، اور (۲) نماز قائم کرنا ، اور (۳)زکوۃ ادا کرنا ، اور (۴)حج کرنا(رکھنا) اور ، (۵)رمضان کا روزہ صحیح البخاری /کتاب الایمان/باب2 ، صحیح مُسلم /کتاب الایمان/باب7 ،سُنن الترمذی / سنن النسائی ، وغیرھا ، مذکوہ الفاظ صحیح البخاری کے ہیں  ،
اللہ سُبحانہ ُ و تعالیٰ کے ہاں روزے کا رتبہ بہت بلند ہے کہ اللہ نے روزہ داروں کے اجر کی کوئی حد مقرر فرمائے بغیر وہ اجر عطاء فرمانے کا وعدہ فرمایا ہے ، اور ہر روزے پر  اجر و ثواب کی مقدار مقرر فرمانے کا حکم اپنی ذات مبارک تک راز رکھ لیا ، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کے بارے میں روایت فرمایا ہے کہ ﴿ يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ الصَّوْمُ لِى وَأَنَا أَجْزِى بِهِ ::: اللہ عزّ و جلّ فرماتا ہے ، روزہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کا اجر عطاء کروں گاصحیح البخاری /کتاب التوحید/باب35 ، صحیح مُسلم /کتاب الصیام/باب30،   
دینی اور اُخروی اجر و ثواب کے علاوہ روزے کے ذریعے اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے روزہ دار بندوں کو دنیاوی فوائد میں سے بھی بہت کچھ عطاء فرماتا ہے ، مثلاً :::
روزہ مُسلمان کے ایمان ، اس کی قوت اِرادہ اور عزیمت میں اضافے اور پختگی کا سبب بنتا ہے ، جس کے نتیجے میں وہ مُسلمان اپنے رب کے لیے اپنے کھانے پینے کی ضروریات تک کو ترک کیے رکھتا ہے اور دیگر کئی خواہشات کی تکمیل پر قدرت رکھنے کے باوجود خود کو ان سے دُور رکھتا ہے ،
جس کے دُنیاوی
روزہ مالداوں کے دِلوں میں غریبوں اور تنگ دست لوگوں کے احوال کا احساس پیدا کرنے کا سبب ہوتا ہے ، کہ وہ ان کی تنگی ، بھوک اور ضروریات کو محسوس کرتے ہیں اور جن کی خیر اللہ کے ہاں منظور ہو اللہ تبارک و تعالیٰ ان مالدار لوگوں کو  اُس کی راہ میں خرچ کرنے کی توفیق عطاء فرماتا ہے ،  جو امیروں اور غریبوں کے درمیان پائی جانے والی معاشرتی تفریق کے خاتمہ  کا سبب بنتی  ہے اور اسلامی بھائی چارے کو تقویت ملتی ہے ،جس کے دُنیاوی فوائد اُخروی فوائد سے پہلے ہی ساری اُمت کے لیے میسر ہوتے ہیں ،
روزے کے نتیجے میں ملنے والے جسمانی فوائد اور صحت کی بہتری سے متعلق فوائد کے بارے میں ہر دِن کوئی نئی تحقیق سامنے آتی ہے جو مُسلمانوں کے لیے ان کے رب کی رحمت کی وسعت کو سمجھنے کے لیے ایک مددگار ذریعہ ہے کہ اُن کا رب اپنے فرمان بردار بندوں کو آخرت کے اجر و ثواب کے ساتھ  دُنیا کے فوائد بھی اضافی نعمتوں کے طور پر عطاء فرماتا ہے ،  پس ہمیں اپنے اعمال دُنیاوی فوائد کو مد نظر رکھ کر نہیں کرنا چاہیں ، بلکہ اپنے اللہ کی خوشنودی حاصل کر کے اپنی  آخرت کی کامیابی کے حصول کے لیے کرنا چاہیں ،
اِیمان والے کا مطمع نظر اور اصل ھدف ہمیشہ اللہ کی رضا کا حصول ہوتا ہے ، دُنیاوی فوائد کے مد نظر کیے گئے اعمال عبادات میں شمار نہیں ہوتے خواہ اُن کی ظاہری ہیئت اور کیفیت کسی معروف عبادت جیسی ہی ہو ، یہ اس لیے کہ عملوں کا دارومدار نیتوں پر ہوتا ہے اور ہر شخص کے لیے وہی نتیجہ ہے جس کی اُس نے نیت کی ہو ، لہذا اگر کوئی شخص دُنیاوی فوائد حاصل کرنے کے لیے خواہ وہ جسمانی فوائد ہوں یا معاشرتی فوائد ، روزہ رکھتا ہے تو اسے اس کے روزے کے نتیجے میں اللہ کی رضا حاصل ہونے والی نہیں اور نہ ہی آخرت میں اس کا کوئی فائدہ ملنے والا ہے ، بلکہ نقصان کا اندیشہ ہے ،
روزے کی فضیلت میں بیان شدہ اجر و ثواب پانے کا دارومدار بھی روزے رکھنے والے کی نیت پر ہی ہے ، پس یہ عظیم اجر و ثواب حاصل کرنے کے لیے یہ عمل بھی خالص اللہ کی رضا کے حصول کی نیت سے ادا کیا جانا چاہیے ۔
اس مضمون کا برقی نسخہ """http://bit.ly/15RntmP """ پر میسر ہے ۔

0 comments:

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔