Saturday, August 6, 2016

::: قران حکیم میں لفظ"حدیث"، اور حدیثء رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم ایک ہی نہیں ہیں :::


::: قران حکیم میں لفظ"حدیث"، اور حدیثء رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم ایک ہی نہیں ہیں  :::
بِسّم اللہِ و الحَمدُ  لِلَّہِ وحدہُ و الصَّلاۃُ و السَّلامُ عَلٰی مَن لا نَبی بَعدَہ ُ  والذی لَم یَتکلم مِن تِلقاءِ نَفسہِ و لَم یَکن کَلامُہ اِلَّا مِن وَحی رَبہ ::: اللہ کے نام سے آغاز ہے اور تمام سچی تعریف صرف  اللہ کے لیے ہے اور اللہ کی رحمت اور سلامتی ہو اُس پر جس کے بعد کوئی نبی نہیں اور جس نے نفس کی خواہش کے مُطابق بات نہیں کی اور جس کی بات سوائے اُس کے رب کی وحی کے اور کچھ نہ ہوتی تھی ،
السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ،
کچھ لوگ اپنی عقل، سوچ، سمجھ، اور اپنائے ہوئے مختلف نا دُرُست فلسفوں  اور افکار کی بِناء پر، اور کچھ لوگ اپنی ترجموں کی محتاج قران فہمی، اور دِین فہمی  کے زعم میں بھٹکتے رہتے ہیں، اور اِن اندھیر راہوں میں وہاں تک جا پہنچتے ہیں، جہاں اُن کے اقوال و افعال اللہ عزّ و جلّ اور اُس کے خلیل محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی دُشمنی کا مظہر ہونے لگتے ہیں، وہ دُشمنی جو جانے انجانے میں اِن لوگوں کے اندر سرایت ہو چکی ہوتی ہے، لیکن وہ لوگ اُس کا شعور نہیں رکھتے، اور اللہ تبارک وتعالیٰ کے اِس فرمان مُبارک کا مصداق بن جاتے ہیں کہ ﴿وَإِذَا قِيلَ لَهُمْ لَا تُفْسِدُوا فِي الْأَرْضِ قَالُوا إِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُونَ O أَلَا إِنَّهُمْ هُمُ الْمُفْسِدُونَ وَلَكِنْ لَا يَشْعُرُونَ :::اور جب اپن لوگوں سے کہا جاتا ہے کہ زمین میں فساد مت پھیلاؤ تو ہو کہتے ہیں کہ ہم تو إِصلاح کر رہے ہیں ، ہر گِز نہیں(بلکہ در حقیقت)یہ لوگ تو فساد پھیلانے والے ہیں لیکن(اپنی حقیقت کا)شعور نہیں رکھتےسُورت البقرہ(2)/آیات11،12،
ایسے لوگ اپنی جہالت، کم عِلمی اور اندھے تعصب کی وجہ سے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم  کی صحیح ثابت شدہ سُنّت مُبارکہ پر جاھلانہ اعتراضات وارد کرتے ہیں ، اور اپنی  گمراہی اور جہالت کو چھپانے کے صحابہ رضی اللہ  عنہم اجمعین سے لے کر آج تک آنے والے ہم مُسلمانوں کے إِماموں اور علُماء پر جھوٹے الزام بھی لگاتے ہیں ، اور اِن سب کاموں سے زیادہ گھناونا اور غلیظ کام یہ کرتے ہیں کہ  اپنے رُوحانی بڑوں کی سُنّت پر عمل کرتے ہوئے اللہ تبارک و تعالیٰ کے فرامین مُبارکہ  کی معنوی تحریف کر تے ہیں ،اور اگر اُس سے اُن کا مطلوب حاصل ہوتا ہوا نظر نہ آئے تو اللہ کے کلام پاک کی ایسی باطل تاویلات کرتے ہیں جو کسی بھی طور اللہ کے کلام مُبارک کی مُراد ثابت نہیں ہو پاتیں ،  
آگے چلنے سے پہلے میں بڑی وضاحت کے ساتھ  یہ کہنا چاہتا ہوں کہ محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی دُشمنی میں ، اُن صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی صحیح ثابت شدہ سُنّت مُبارکہ پر اعتراضات کرنے والے اور اپنی  مذموم  حرکتوں کو اللہ کی کتاب قران کریم کا نام استعمال کر کے اچھا دِکھانے کی کوشش کرنے والے لوگ ، یا ، کسی بھی طور کوئی بھی اور فسلفیانہ اورعقلی قلا بازیں لگانے والے لوگ، یا،ایسے لوگوں کی دھوکہ دہیوں کی طرف مائل لوگ ، یا کوئی بھی اور ، میرے اِس مضمون کے بارے میں اگرشرعی طور پر مقبُول علمی قواعد و قوانین کے دلائل کے مُطابق کچھ بات کرنا چاہیں تو خوش آمدید،  اور اگر اپنی جہالت زدہ سوچوں اور گمراہ شدہ فلسفوں کو بنیاد بنا کر کچھ بات کرنا چاہیں، یا میرے ، یا کسی بھی اور کے اِلفاظ کو ہی کاپی پیسٹ کر کے ، یا اُن میں تحریف کر کے اپنے اِلفاظ کے طور پر استعمال کرتے ہوئے بات کرنا چاہیں ، تو مجھے اُن لوگوں سے کچھ بات نہیں کرنا ، کیونکہ وہ لوگ علمی طور پر اِس قابل ہی نہیں ہیں کہ اُن سے بات کی جائے ، جیسا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا فرمان ہے کہ﴿خُذِ الْعَفْوَ وَأْمُرْ بِالْعُرْفِ وَأَعْرِضْ عَنِ الْجَاهِلِينَ  :::(اے محمد)در گذر فرمایے اور نیکی کے مُطابق حکم فرمایے اور جاھلوں سے کنارہ کشی اختیار  فرمایا کیجیے سُورت الاعراف (7)/آیت199،
اِس کےعِلاوہ دیگر فرامین بھی ہیں جن میں جاھلوں سے کنارہ کشی کا حکم دیا گیا ہے ،
الحمد للہ ، اِس موضوع کو بھی ایک الگ مضمون """ قران و سُنّت کے باغ میں سے :جاھلوں سے کنارہ کشی کیجیے ، لوگوں سے درگذر والا معاملہ رکھیے """ میں بیان کر چکا ہوں ،
یہ مضمون درج ذیل ربط پر میسر ہے: http://bit.ly/2aAQsbl
لہذا میں یہاں خود ساختہ مفسران و مدبران قران قسم کے جاھلوں سے کوئی بات نہیں کروں گا ، جن میں کسی نے چند صیغے پڑھ لیے کسی نے کچھ ترجموں کا مطالعہ کر لیا ، کسی کی ضمیریں گم رہتی ہیں ، کسی کو نحو و صرف کا نام آ گیا ، کسی کو ان میں سے کچھ بھی نہیں آتا لیکن اللہ تبارک وتعالیٰ کے فرامین مُبارکہ کے لیے اپنے ہی طور پر معانی اور مفاہیم مقرر کرتا ہے ، اور، اور ، اور،
اِن شاء اللہ تعالیٰ ، میں یہاں اللہ سُبحانہ ُ و تعالیٰ کے فرمان کے مُطابق اُن لوگوں اور ان کے مذھب اور ان کی حرکات کی حقیقت ظاہر کروں گا ، جو علوم قران سے عاری ہونے کے باوجود اپنے ہی تئیں  اپنے آپ کو  کہیں زبان حال سے اور کہیں زبان قال سے مدبران، مفکران ، ترجمان ، مفسران قران وغیرہ  وغیرہ ظاہر کرتے ہیں ، ان کی دھوکہ دہیوں کو ہوا اور کچھ نشو و نُما کچھ ایسے لوگوں کے ذریعے ملتی ہے جو بے چارے ان نام نہاد مدبران، مفکران ، ترجمان ، مفسران قِسم کے لوگوں کے جھانسے میں آجاتے ہیں ،
جبکہ ان مدبران، مفکران ، ترجمان ، مفسران وغیرہ وغیرہ  کی نام نہاد قران فہمی درحقیقت  کہیں تو قران کریم کی معنوی تحریف ہوتی  ہے ،اور کہیں بالکل ہی باطل قسم کی تاویل ، اور ان کی کاروائیوں سے یہ صاف ظاہر ہوتا ہے کہ اللہ جلّ و عزّ کے کلام پاک کی معنوی تحریف یا باطل تاویلات کا  سبب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم سے دُشمنی  ہے جو کہ اُن صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی سُنّت مُبارکہ سے دُشمنی  کی صُورت میں ظاہر ہوتی ہے ،
الحمد للہ ، پہلے بھی ان کی اس قسم کی کاروائیوں کو اللہ کی عطاء کردہ توفیق سے عیاں کر چکا ہوں ، اور یہ مضمون بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے ، اللہ تبارک و تعالیٰ میری اس کوشش کو قبول فرمائے اور  اسے میرے مُسلمان بھائی بہنوں کے لیے جہالت زدہ خود ساختہ ، اور ان سے متاثر ہوجانے والے لوگوں کی طرف سے ظاہر کیے گئے اِن نام نہاد مدبران، مفکران ، ترجمان ، مفسران   قران کی دھوکہ دہیوں سے محفوظ رہنے کے اسباب میں سے بنا دے ،
اس تعارفی تمہید کے بعد میں اللہ سُبحانہ ُ و تعالیٰ کا وہ فرمان پاک ذِکر کرتا ہوں جِس  کو استعمال کرتے ہوئے ابھی ابھی ذِکر کیے گئے خود ساختہ ترجمان ء قران  قْسم  کے ایک شخص نے اپنے مذموم ھدف کے حصول کی کوشش کی ہے ،  یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی حدیث شریف کو ناقابل توجہ اور غیر أھم سی چیز ثابت کرنے کی کوشش کی ہے ،
اللہ جلّ جلالَہُ  کا اِرشاد پاک ہے ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَدْخُلُوا بُيُوتَ النَّبِيِّ إِلَّا أَنْ يُؤْذَنَ لَكُمْ إِلَى طَعَامٍ غَيْرَ نَاظِرِينَ إِنَاهُ وَلَكِنْ إِذَا دُعِيتُمْ فَادْخُلُوا فَإِذَا طَعِمْتُمْ فَانْتَشِرُوا وَلَا مُسْتَأْنِسِينَ لِحَدِيثٍ إِنَّ ذَلِكُمْ كَانَ يُؤْذِي النَّبِيَّ فَيَسْتَحْيِي مِنْكُمْ وَاللَّهُ لَا يَسْتَحْيِي مِنَ الْحَقِّ وَإِذَا سَأَلْتُمُوهُنَّ مَتَاعًا فَاسْأَلُوهُنَّ مِنْ وَرَاءِ حِجَابٍ ذَلِكُمْ أَطْهَرُ لِقُلُوبِكُمْ وَقُلُوبِهِنَّ وَمَا كَانَ لَكُمْ أَنْ تُؤْذُوا رَسُولَ اللَّهِ وَلَا أَنْ تَنْكِحُوا أَزْوَاجَهُ مِنْ بَعْدِهِ أَبَدًا إِنَّ ذَلِكُمْ كَانَ عِنْدَ اللَّهِ عَظِيمًا::: اےاِیمان لے آنے والو، نبی کے گھر میں( اُس وقت تک) داخل مت ہو جب تک کہ تُم لوگوں کو کھانے کی طرف اجازت  نہ دی جائے ،  اور کھانے کی تیاری کے وقت میں داخل مت ہو ،  اور  لیکن جب تُم لوگوں کوبلایا جائے تو پھر تُم لوگ داخل ہو ، پس  جب تُم  لوگ کھانا کھا چکو تو (گھر سے نکل کر)منتشر ہو جاؤ ،  اور باتیں  کرنے سننے کے لگاؤمیں بیٹھے مت رہو ، یہ کام (یعنی تُم لوگوں کا اس طرح باتوں کے لیے  دیر تک بیٹھنا)نبی کے لیے تکلیف دہ ہوتا ہے ، لیکن نبی تُم لوگوں سے حیاء فرماتا ہے(لہذا تُم لوگوں کو منع نہیں فرماتے )، اور اللہ حق (بیان کرنے سے )حیاء نہیں فرماتا ، اور جب تُم لوگ اُن (یعنی نبی کی بیویوں)سے کسی چیز کا سوال کرو تو پردے کے پیچھے سے کرو ، ایسا کرنا تُم لوگوں کے دِلوں کے لیے اور نبی کی بیویوں کے دِلوں کے لیے زیادہ پاکیزگی والا ہے ، اور تُم لوگوں کے لیے یہ جائز نہیں کہ تُم لوگ نبی کو تکلیف پہنچاتے ، اور  نہ ہی ہر گز ہر گز  یہ(جائز ہے)کہ تُم لوگ نبی کے بعد اُن کی بیویوں سے نکاح کرو ، بے شک یہ کام اللہ کے ہاں بہت بڑا (گناہ) ہے سُورت الاحزاب(33)/آیت53 ،
اللہ پاک کے اس  مذکورہ بالا فرمان میں ہمیں بہت سے احکامات ملتے ہیں ، جو دُشمنان رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے افکار کا پول کھولنے والے ہیں ، وہ لوگ خواہ کتنا ہی واویلا کریں کہ وہ قران حکیم سے محبت کرتے ہیں ، اور قران کریم  کی عِزت و تقدیس کے علم بردار ہیں ، وغیرہ وغیرہ ، ، اللہ تعالیٰ اِسی قران کے ذریعے اُن کے جھوٹ ظاہر کرواتا ہے ، اور اِسی قران کریم  کو بھی  اُن لوگوں کی جہالت اور """ خلافء قران ، قران فہمی """ کی حقیقت آشکار کرنے کا سبب بناتا ہے  ، ولہ الحمد والمنۃ فی الاُولیٰ و لاآخرۃ ،  
جی ہاں ، ایسا ہی ہے ،
اللہ عزّ و جلّ نے اپنے اس مذکورہ بالا فرمان مُبارک  کا آغاز اپنے اِیمان والے بندوں کو پکارتے ہوئے فرمایا ہے ، اِس پُکار ، اِس نِداء کی کیا حکمتیں ہے ؟ اس کا ذِکر میں ایک الگ مضمون """ اِنسانیت اللہ کے اِن احکام پر عمل کی شدید ترین حاجت میں ہے """ میں کر چکا ہوں ،  لہذا انہیں یہاں دہرا نہیں جائے گا ،
قارئین کرام ، آیے اللہ جلّ و علا کے اِس مذکورہ بالا فرمان مُبارک میں دیے گئے احکام کو سمجھتے ہیں ، اور اِن شاء اللہ انہی کے ذریعے ہمیں اللہ کے رسول کے دُشمنوں کی دسیسہ کاری آشکار ہوتی ہوئی بھی دِکھائی اور سُجھائی دے گی ،
اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے اِیمان والے بندوں کو پکار کر پہلا حکم یہ فرمایا ﴿ لَا تَدْخُلُوا بُيُوتَ النَّبِيِّ إِلَّا أَنْ يُؤْذَنَ لَكُمْ إِلَى طَعَامٍ:::نبی کے گھر میں( اُس وقت تک) داخل مت ہو جب تک کہ تُم لوگوں کو کھانے کی طرف اجازت  نہ دی جائے ،
اور پھر دوسرا حکم فرمایا ﴿ غَيْرَ نَاظِرِينَ إِنَاهُ::: اور کھانے کی تیاری کے وقت میں داخل مت ہو  
 اور پھر ایک اور  حکم فرمایا ﴿ وَلَكِنْ إِذَا دُعِيتُمْ فَادْخُلُوا:::اور لیکن جب تُم لوگوں کوبلایا جائے تو پھر تُم لوگ داخل ہو ،
اور اس کے بعد ایک اور حکم ﴿ فَإِذَا طَعِمْتُمْ فَانْتَشِرُوا :::تو جب تُم  لوگ کھانا کھا چکو تو (گھر سے نکل کر)منتشر ہو جاؤ ،
اور اس کے بعد ایک اور حکم کہ ﴿ وَلَا مُسْتَأْنِسِينَ لِحَدِيثٍ::: اور باتیں  کرنے سننے کے لگاؤ میں بیٹھے مت رہو ، یہ حکم اس آیت مُبارکہ میں فرمائے گئے احکام میں بالترتیب پانچواں حکم ہے ، جو کہ دوسرے حکم﴿ غَيْرَ نَاظِرِينَ إِنَاهُ::: اور کھانے کی تیاری کے وقت میں داخل مت ہو   پر معطوف ہے ، اِسی حکم میں مذکور اِلفاظ کو اُن کے سیاق و سباق اور اللہ کی مُراد کےمُطابق مفہوم سے کہیں دُور لے جاتے ہوئے ، محض اور صرف اِلفاظ کے کچھ لغوی معانی کو لے کر  اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کی گئی ،
اب اگر میں اُن نام نہاد، خود ساختہ یا بزعم متاثرین ،قِسم کے  مدبران ، ترجمان ، مفکران اور مفسران لوگوں سے پوچھوں کہ بتایے کہ لغت میں """عطف""" کیا ہوتا ہے؟؟؟ لفظ """حدیث """کے کیا معانی ہیں ؟؟؟اور """استأنس """کیا ہے ؟؟؟
 تو اِن شاء اللہ ان میں کوئی بھی کسی بھی سوال کا کوئی درست جواب نہ دے سکے گا﴿ذَلِكَ مَبْلَغُهُمْ مِنَ الْعِلْمِ إِنَّ رَبَّكَ هُوَ أَعْلَمُ بِمَنْ ضَلَّ عَنْ سَبِيلِهِ وَهُوَ أَعْلَمُ بِمَنِ اهْتَدَى:::یہ اُن لوگوں کے علم کی مقدار ہے ، یقینا آپ کا رب  اُس کا خوب علم رکھتا ہے جو آپ کے رب  کی راہ سے بھٹکا ہوا ہے اور آپ کا رب اُس کا خوب علم رکھتا ہے جو ہدایت پر ہے،
 اللہ پاک اپنے بندوں کو بھی یہ خوب دِکھاتا رہتا ہے کہ کون اللہ کی راہ سے بھٹکا ہوا ہے اور اپنی سوچوں ، فکروں ، فلسفوں اور جہالت کی بنا پر اللہ کے کلام کی معنوی تحریف کرتا ہے اور اللہ کے کلام کی  مُراد کا انکار کرتا ہے ،اللھم لا تجعلنا منھم ،
 اور کون اللہ کی مقرر کردہ راہ پر رہتے ہوئے اللہ کے کلام کو اللہ کی مُراد کے مُطابق سمجھتا اور مانتا ہے ، جعلنی اللہ و ایاکم منھم ،
بات ہو رہی تھی آغاز میں ذِکر کردہ سُورت الاحزاب کی آیت53  میں بیان کردہ پہلے پانچ احکام میں سے پانچواں حکم ﴿ وَلَا مُسْتَأْنِسِينَ لِحَدِيثٍ::: اور باتیں  کرنے سننے کے لگاؤ میں بیٹھے مت رہو کے بارے میں کہ حدیث شریف کو ناقابل توجہ اور غیر أہم دکھانے کی مذموم کوشش کرنے والوں نے اس آیت کریمہ میں سے لفظ""" حدیث""" کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی""" حدیث"""بنانے کی کوشش کرتے ہوئے ، یہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ معاذ اللہ ،  حدیث رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی طرف متوجہ نہیں ہونا چاہیے ،
میں اللہ تبارک و تعالیٰ پر بھروسہ کرتے ہوئے پورے وثوق کے ساتھ یہ کہتا ہوں کہ ان لوگوں کی اِس  مذکورہ بالا بات، اِس مذکورہ بالا عقیدے کی دو میں سے ایک وجہ ہو سکتی ہے ، یا دونوں ہو سکتی ہیں  ، کسی تیسری وجہ کا کوئی امکان نہیں ، اور وہ دو وجوہات یہ ہیں :::
::::::: (1)  سراسر جہالت  کی وجہ سے یہ لوگ ایسی باتیں کہتے ، لکھتے اور نشر کرتے ہیں ،
::::::: (2)  جانتے بوجھتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم سے دُشمنی ،جِس کے سبب  اُن صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی حدیث  مُبارکہ جو کہ اللہ کے دِین کا دُوسرا بنیادی مصدر ہے ، اُس مصدر  سے دُور رکھنے کی مذموم کوشش کرتے ہیں ،
صرف اللہ تبارک و تعالیٰ ہی اس پر قادر ہے کہ اِن لوگوں کو ہدایت عطاء فرما دے ، اور صرف وہی اس پر قادر  ہے کہ اگر اُس کی مشیئت میں اُسکی کتاب اور اور اُسکے رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی سُنّت مُبارکہ سے دُشمنی کرنے والے اِن لوگوں کے لیے ہدایت نہیں تو  ہے تو اپنی ساری ہی مخلوق کو ان لوگوں کے شر سے محفوظ کر دے
اپنی بات آگے بڑھانے سے پہلے میں یہ ضروری سمجھتا ہوں کہ اُس  لفظ کے بارے میں کچھ معلومات پیش کروں جسے موقع محل کے خلاف مفہوم میں استعمال کر کے اِن لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی حدیث شریف کو ناقابل توجہ اور غیر أہم چیز سمجھانے کی بد کوشش کی ہے ،
لفظ """ حدیث""" وہ لفظ ہے ،اِس لفظ کا ثلاثی مجرد ، مادہ ، اصل  ، روٹ ورڈ ، دو طرف سے آتا ہے ،
(1) حَدَثَ   یُحدِثُ ، حُدُوثٌ ،  حدیثاً ، تحدیثاً،  مُحدَثٌ ، حادثۃٌ،
""" حَدَثَ """ کا معنی ہے ،  اُس ایک مذکر نے کوئی نئی چیز بنائی ، اُس ایک مذکر نے کوئی نیا کام کیا ،وغیرہ،
یہ حدیث ، قدیم یعنی پرانے کی ضد ہے ،
(2) حَدَّثَ    یُحَدِّثُ ، حَدیثٌ ، مُحَدَّثٌ ، مُحدِّثٌ ،  مُحادثۃ،
"""حَدَّثَ"""، جِس کے معانی ہیں ، اُس ایک مذکر نے بات کی ،اُس ایک مذکر نے کوئی نئی بات کی ، اُس ایک مذکر نے کوئی خبر تلاش کی ، اُس ایک مذکر نے کوئی خبر نشر کی، اُس ایک مذکر نے کوئی نئی خبر تلاش کی ، اُس ایک مذکر نے کوئی  نئی خبر نشر کی،
قارئین کرام یہ بات تو کسی بھی لغت ، کسی بھی زبان کے ادنیٰ سےطالب علم کو  کیا ، ہر اُس شخص کو بھی معلوم ہوتی ہے کہ  کسی ایک زبان میں اگر کسی ایک لفظ کے ایک سے زیادہ معانی یا مفاہیم پائے جاتے ہوں تو جب وہ لفظ کسی بات میں استعمال ہوتا ہے تو اُس بات کے سیاق و سباق کے مُطابق ، متکلم اور مخاطب اور متکلم فیہ  کی شخصیات اور  انداز و اسلوب  کے مُطابق ہی اُس  بات میں اُس لفظ کا صحیح مفہوم  سمجھا جا سکتا ہے ،
بالکل یہی معاملہ لفظ """حدیث """ کا بھی ہے ،
جو لوگ کسی ایسے لفظ کو جو ایک سے زیادہ معانی اور مفاہیم رکھتا ہو ،  کلام کے سیاق و سباق ، متکلم اور مخاطب اور متکلم فیہ  کی شخصیت اور اسلوب  کلام کے مقتضیٰ کے خلاف کسی اور ہی معنی یا مفہوم میں سمجھتے  یا سمجھاتے ہیں ، بلا شک و شبہ درستگی سے دُور ہو جاتے ہیں ، اور خود بھی گمراہ ہوتے ہیں اور دوسروں کی گمراہی کا سبب بھی بنتے ہیں ،
لہذا ،  اللہ تبارک و تعالیٰ کے فرامین میں لفظ """حدیث """ کے درست معانی اور مفاہیم بھی  اُنہی قواعد کے مُطابق ہی سمجھا جا سکتا ہے ، جن کا ابھی ذکر کیا ہے،
یعنی ، اللہ جلّ و علا کے فرامین شریفہ  میں لفظ """حدیث """کو مذکورہ بالا معانی اور مفاہیم میں سے کسی ایک معنی اور مفہوم  سے مربوط سمجھنے کے لیے ، کسی ایک معنی اور مفہوم کے لیے خاص جاننے  کے لیے یقیناً ، اللہ کے کلام کے سیاق و سباق کے اعتبار سے  ،اللہ پاک جو کہ متکلم ہے اُس کی  شخصیت کے مُطابق ، اُسکے  کلام کے انداز و اسلوب کے تقاضوں کے مُطابق ، اور جِس سے خطاب کیا جا رہا ہے، اور جن کے بارے میں خطاب کیا جا رہا ہے ، اُن کی شخصیات کے مُطابق ہی اِس لفظ """حدیث """،   
ہم مُسلمانوں کے ہاں ،  انہی مذکورہ بالا لغوی کیفیات میں سے """ نئی بات کرنے، نئی خبر نشر کرنے """ کے مفہوم کی قید کے ساتھ یہ لفظ """حدیث"""رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے فرامین مُبارکہ کے لیے ایک اصطلاح کے طور پر خاص قرار پا گیا ،  اور یہ اصطلاح اس قدر عام اور معروف ہو گئی کہ مُسلمان کے علاوہ دوسرے لوگ بھی اس کو سمجھنے اور  جاننے لگے کہ عربی جاننے والے اور عربی سے ملتی جلتی زبانیں جاننے والے مُسلمان خاص طور پر اور غیر مسلم بھی لفظ """حدیث""" سن کے یہی سمجھتے ہیں کہ یہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کا فرمان ہے ،
لفظ """ حدیث""" کا مذکورہ بالا لغوی معانی میں سے عام معروف معنی جو کہ نزول قران سے پہلے سے لے کر آج تک معروف ہے وہ ہے """بات چیت ، گفتگو ،خبر سنانا """،
جِس میں عموماً نئی ہونے کی صِفت پائی جاتی ہے ،
لفظ "حدیث" کا  یہی وہ عام معروف مفہوم ہے جو اللہ تبارک و تعالیٰ نے اِس فرمان یعنی سُورت الاحزاب کی آیت مُبارکہ 53 میں مذکور ہے ، اور اُن تمام آیات کریمات میں مذکور ہے جِن کی معنوی تحریف کرکے دُشمنانء رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم ، رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی صحیح ثابت شدہ سُنّت مُبارکہ سے اُن صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی اُمت کو دُور کرنا چاہتے ہیں ، لیکن نہ ایسا پہلے ہو سکا اور نہ ہی اِن شاء اللہ اب ہو گا ، اور نہ ہی اِن شاء اللہ کبھی کسی وقت میں ہوگا ، بلکہ قصہء دُنیا ختم ہوجائے گا لیکن اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی سُنّت مُبارکہ کے خدمتگار اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی سُنّت مُبارکہ پر عمل کرتے ہوئے اُن صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی سُنّتوں کو اپنے ظاہر  وباطن پر نافذ کیے ہوئے اپنے رب کے سامنے حاضر ہوں گے ، اوراللہ کے رسول  صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی سُنّتوں کی مخالفت کرنے والے ،اِن شاء اللہ  اِس دُنیا میں بھی جلتے بھنتے رہیں گے اوراِن شاء اللہ اِسی طرح  سلگتے ،سسکتےأبدی جلن کی طرف روانہ ہوں گے ،    
پس میرے محترم قارئین کرام، یاد رکھیے کہ لفظ """حدیث""" کا وہ اصطلاحی معنی و مفہوم جو اس لفظ """ حدیث""" کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے فرمان  کے لیے خاص کرتا ہے ، قران کریم  میں صرف ایک ہی جگہ اِستعمال  فرمایا گیا ہے ،  اِس خاص اور أہم نکتے کو ذہن میں راسخ کر لیجیے ، اِس کے بعد اِن شاء اللہ آگے چلتے ہیں ،
جیسا کہ میں نے ابھی کہا کہاللہ تعالیٰ اِسی قران کے ذریعے اُن کے جھوٹ ظاہر کرواتا ہے ، اور اِسی قران کریم  کو بھی  اُن لوگوں کی جہالت اور """ خلافء قران ، قران فہمی """کی حقیقت آشکار کرنے کا سبب بناتا ہے ، تو اِس آیت کریمہ کو استعمال کر کے اِن لوگوں کی طرف سے دھوکہ دہی کی کوشش کو بھی اللہ تعالیٰ اسی آیت مُبارکہ میں سے ہی واضح کروا دِیا ہے ، پس کسی اور آیت کریمہ کی طرف توجہ کرنے سے پہلے آیت ہم اِسی آیت شریفہ میں تدبر کرتے ہیں ،  
 اللہ تبارک و تعالیٰ  اِن لوگوں کی اگر ہم اسی آیت مُبارکہ کے اگلے حصے میں ہی اللہ تبارک و تعالیٰ کےفرمان پر تدبر کریں تو ہمیں یہ پتہ چلتا ہے کہ اِس آیت مُبارکہ میں لفظ """حدیث """سے مُراد  نبی اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے و ہ فرامین مُبارکہ نہیں ہیں ، جنہیں ساری ہی اُمت کسی شک اور اختلاف کے بغیر """حدیث """مانتی ہے ، بلکہ اُن صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے گھر میں آنے والوں کی اپنی باتیں ہیں ،  
اسی لیے ، اور اسی بات کو واضح فرماتے ہوئے اللہ تبارک و تعالیٰ نے باتیں کرنے اور سننے کے لگاؤ میں بیٹھے نہ رہنے کے حکم کے بعد یہ بھی بیان فرما دیِا کہ اِس حکم کا سبب کیا ہے ؟ ﴿ إِنَّ ذَلِكُمْ كَانَ يُؤْذِي النَّبِيَّ فَيَسْتَحْيِي مِنْكُمْ:::یہ کام (یعنی تُم لوگوں کا اس طرح باتوں کے لیے  دیر تک بیٹھنا)نبی کے لیے تکلیف دہ ہوتا ہے ، لیکن نبی تُم لوگوں سے شرم فرماتا ہے(لہذا تُم لوگوں کو منع نہیں فرماتے )
اور پھر یہ بھی بیان فرمایا کہ خود اللہ تعالیٰ نے یہ حکم کیوں فرمایا ہے ؟﴿ وَاللَّهُ لَا يَسْتَحْيِي مِنَ الْحَقِّ:::اور اللہ حق (بیان کرنے سے )شرم نہیں فرماتا ،
اگر یہاں لفظ """ حدیث""" سے مُراد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی بات ہوتی تو اللہ تبارک و تعالیٰ صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین کو اپنے ہی رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی بات سننے سے منع نہیں فرماتا ،
کیونکہ اللہ ہی کاتو حکم ہے کہ :::
﴿ یٰۤاَ اَیّھَا الذَّینَ اَمَنُوا اَطِیعوا اللّٰہَ وَ رَسُولَہُ وَ لاتَوَلَّوا عَنہُ وَ اَنتُم تَسمَعُونَ O وَ لَا تَکُونُوا کَالَّذِینَ قَالُواسَمِعنَا وَ ھُم لَا یَسمَعُونَ O اِنَّ شَرَّ الدََّّوَآبِّ عِندَ اللّٰہِ الصّمُ البُکمُ الَّذِینَ لَا یَعقِلُونَ:::اے لوگو جو اَِیمان لائے ہو اللہ اور رسول کی اَطاعت کرو اورسنتے جانتے ہوئےرسول سے منہ نہیں پھیرو O اور اُن لوگوں کی طرح مت ہو جاؤ جو کہتے ہیں کہ ہم سن رہے ہیں لیکن وہ سنتے نہیںOبے شک اللہ کے سامنے سب سے بُرےوہ ہیں جو(عقل کے)بہرے اور گونگےہیں اور سمجھتے نہیںسُورت الانفال(8)/آیات20،21، 22،
اسی طرح اللہ تبارک و تعالیٰ کے اور بھی ایسے احکام ہیں جن میں رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی بات سنننے اور ماننے  کے شدید حکم ہیں ،  انہی مذکورہ بالا آیات کو بغور پڑھیے ، کہ جو لوگ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی بات سن کر کہتے تو یہ ہین کہ ہم نے سن لی ، لیکن اُس بات کو مانتے نہیں،اُس میں دیے گئے حکم کو مانتے نہیں ،  اُس سے رُو گردانی کرتے ہیں ، اللہ کے ہاں وہ لوگ جانوروں سے بھی کم عقل  اور برے ہیں ،
اب اگر حدیث شریف  پر اعتراض کرنے والوں کی باطل منطق کے مُطابق سورت الاحزاب کی آ یت مُبارکہ رقم 53 اور دیگر آیات مُبارکہ میں لفظ """حدیث""" سے مُراد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی بات لی جائے تو معاذ اللہ ، اللہ کے ان فرامین میں اختلاف نظر آنے لگتا ہے ، جوحق کی صِفت نہیں اور  اللہ تبارک و تعالیٰ کے کلام پاک سراسر حق ہی حق ہے ،
اور اگر لفظ """حدیث""" سے مُراد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی بات ہوتی تو اللہ تعالیٰ اپنے رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کو اُن کے صحابہ رضی اللہ عنہم کے ساتھ بات چیت روکنے کی اجازت نہ دیتا ، کیونکہ اللہ ہی نے تو یہ حکم بھی فرما رکھا تھا کہ :::
﴿ وَاصْبِرْ نَفْسَكَ مَعَ الَّذِينَ يَدْعُونَ رَبَّهُمْ بِالْغَدَاةِ وَالْعَشِيِّ يُرِيدُونَ وَجْهَهُ وَلَا تَعْدُ عَيْنَاكَ عَنْهُمْ تُرِيدُ زِينَةَ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَلَا تُطِعْ مَنْ أَغْفَلْنَا قَلْبَهُ عَنْ ذِكْرِنَا وَاتَّبَعَ هَوَاهُ وَكَانَ أَمْرُهُ فُرُطًا:::اور اے (محمد)اُن لوگوں کے ساتھ رہنے کے لیے خود پر صبر کیجیے جو لوگ صُبح شام اپنے رب کو پکارتے ہیں ، اور آپ اپنی آنکھیں اُن کی طرف سے پھریے نہیں ، کیا آپ دُنیا کی زیب و زینت چاہتے ہیں ، اور اُس کی بات نہیں مانیے گا جِس کے دِل کو ہم نے ہماری یاد سے غافل کر رکھا ہے اور وہ اپنی خواھشات کے پیچھے چلتا ہے اور اُس کا معاملہ حد سے گذرا  ہوا ہےسُورت الکھف (18)/ آیت 28،
اور اللہ تبارک و تعالیٰ نے ہی اپنے نبی اکرم محمد صلی اللہ علیہ و علی آلہ  وسلم کی ذمہ داریوں میں یہ شامل کیا کہ ﴿ لَقَدْ مَنَّ اللَّهُ عَلَى الْمُؤمِنِينَ إِذْ بَعَثَ فِيهِمْ رَسُولاً مِّنْ أَنْفُسِهِمْ يَتْلُواْ عَلَيْهِمْ آيَاتِهِ وَيُزَكِّيهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَإِن كَانُواْ مِن قَبْلُ لَفِي ضَلالٍ مُّبِينٍ ::: یقیناً اللہ نے ایمان والوں پر احسان کیا ہے کہ ان میں ان کی جانوں میں سے ہی رسول بھیجا جو ان پر اللہ کی آیات تلاوت کرتا ہے اور ان ( کے دل و دماغ و نفوس ) کی صفائی کو پاک کرتا  ہے اور انہیں کتاب (قران )اور حکمت سکھاتا ہے اور بے شک اِس سے پہلے وہ لوگ واضح گمراہی میں تھےسورت آل عمران(3)/آیت164
اگر حدیث شریف کے خلاف زہر اگلنے والوں کے فلسفے کے مُطابق لفظ """حدیث"""سے مُراد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی باتیں لی جائیں تو معاذ اللہ ایک دفعہ پھر اللہ تبارک وتعالیٰ کے فرامین میں  اختلاف دکھائی دینے لگتا ہے،  کہ اللہ تعالیٰ اپنے رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی بات سے دُور رہنے کا حکم دیتا ہے تو پھر معاذ اللہ نبی اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی اس صِفت کا انکار ہوتا ہے کہ وہ اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین کو حِکمت سکھاتے تھے ، وہ حِکمت جو اللہ تعالیٰ نے اپنے اسی نبی کریم صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم پر قران کریم کے ساتھ نازل فرمائی ، وہ حِکمت جسے ہم مُسلمان حدیث اور سُنّت کہتے ہیں ،  
((( حِکمت کے بارے میں دو مضامین اور ایک دو مراسلات الگ سے نشر کیے جاچکے ہیں )))
اگر لفظ """حدیث""" سے مُراد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی بات لی جائے  توپھر معاذ اللہ آیت مُبارکہ کا مفہوم  رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی ذات پاک کی  ایک أہم ترین اور بنیادی ترین صفت کو رد کرنے والا بن جاتا ہے ، کیونکہ اس بات سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی سیرت مُبارکہ سے جاھل ترین شخص ہی انکار کر سکتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم اپنی تمام تر راحت و سکون کو تیاگ  اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین کی تعلیم و تربیت کے لیے ہمیشہ ایک جہد مسلسل میں رہے ، اور کبھی کہیں کوئی ایسا موقع خالی نہیں جانے دِیا جِس میں اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین کو دِین دُنیا اور آخرت کی کسی خیر کی تعلیم یا تربیت نہ دی ہو ، تو وہ رسول ، رحمت للعالمین ، روؤف رحیم ، کس طرح اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین کے لیے یہ چاہ سکتا تھا کہ وہ اُس کی بات نہ سنیں بلکہ اُٹھ کر چلے جایا کریں ،
اِن سب مذکورہ بالا معلومات کی روشنی میں ( جو کہ اِس موضوع پر سب ہی نہیں ہیں ) کی روشنی میں یہاں تک یہ معاملہ بڑی ہی وضاحت سے سمجھ آ جاتاہے کہ سُورت الاحزاب کی اِس آیت مُبارکہ رقم 53 میں صحابہ  رضی اللہ عنہم کو یہ حکم دیا گیا کہ  اگر انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے گھر میں کھانے کے لیے بلایا جائے تو نہ تو وہ لوگ  کھانا تیار ہونے سے پہلے گھر میں داخل ہوں ، اور نہ ہی کھانا کھانے کے بعد وہاں اپنی بات چیت کرنے کے لیے بیٹھے رہیں ،  کیونکہ کھانے سے پہلے اور بعد  ان لوگو ں کا بلا ضرورت  اس طرح بیٹھے رہنا اور باتیں کرتے  رہنا  رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے لیے تکلیف کا سبب ہوتا تھا ،  
رہا معاملہ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے فرامین مُبارکہ  کا ، جنہیں اِسلامی علوم میں اصطلاحی طور پر """حدیث """کہا جاتا ہے ، اور جو بلا شک و شبہ اللہ کی طرف سے وحی کی بنا پر ز ُبان مُبارک پر جاری ہوتی تھیں، تو وہ باتیں فرمانا  نہ  تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے لیے کسی تکلیف کا باعث تھیں ، اور نہ ہی صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین کے لیے ، اور نہ ہی صحابہ رضی اللہ عنہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی """حدیث """سننے کے لیے اُن صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے گھر میں بیٹھتے تھے ، بلکہ وہ لوگ گھر سے باہر ،  مسجد نبوی میں اور جہاں کہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم تشریف لے جاتے ان کے ساتھ ساتھ رہتے اور اپنے دِل و جان کو حبیب علیہ الصلاۃ و السلام کی """ حدیث ""' سے معطر کرتے رہتے ،
اللہ تبارک و تعالیٰ کی کتاب کا نام لے کر اُسی کتاب میں دی گئی تعلیمات اور احکام کے خلاف ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم سے دُشمنی رکھنے والے ، اُن صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی تعلیمات اور اطاعت سے دُور کرنے کی کوششیں کرنے والے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی سُنّت مُبارکہ کو مشکوک ، غیر أہم اور نا قابل توجہ بنانے کی مذموم کوشش میں اللہ تبارک و تعالیٰ کے فرامین کو اُن کے موقع محل سے تبدیل کرنے کی خواہ کتنی ہی کوششیں کرتے رہیں ، اللہ جل ّ جلالہ ُ جِسے چاہے اپنے حبیب محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم سُنّت کی محبت اور اطاعت کی عظمت عطاء فرما تا ہے اور اُس پر قائم کرتا ہے ، اور جِسے چاہتا ہے اُسے آخرت کی رسوائی سے پہلے دُنیا میں بھی  اپنے مُسلمان بندوں میں رسوائی دیتا ہے کہ اُسے اپنے حبیب محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی سُنت  کی دُشمنی اُس پر مسلط کردیتا ہے ،    
 اللہ تبارک و تعالیٰ  جس کے لیےدِین ،دُنیا  اور آخرت کی خیر چاہتا ہے اُسے اپنے حبیب محمد  صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی حدیث شریف پر کاربند رکھتا ہے ، اور جس کے لیے اس کے برعکس چاہتا ہے اُسے اپنے حبیب محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی حدیث شریف سے دُور کر دیتا ہے ، حدیث شریف کی روشنی ، خوشبو اور سُرور اس کے نصیب میں  سے اُٹھا لیے جاتے ہیں ،
سُورت الاحزاب ، کی آیت رقم 53 میں پانچویں حکم ﴿ وَلَا مُسْتَأْنِسِينَ لِحَدِيثٍ::: اور باتیں  کرنے سننے کے لگاؤ میں بیٹھے مت رہو کے بعد اللہ تبارک و تعالیٰ نے  صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین کو  اُمہات المؤمنین  رضی اللہ عنہن کی عِزت، حُرمت اور ادب کی تعلیم دیتے ہوئے چَھٹا حکم یہ فرمایا کہ﴿ وَإِذَا سَأَلْتُمُوهُنَّ مَتَاعًا فَاسْأَلُوهُنَّ مِنْ وَرَاءِ حِجَابٍ:::اور جب تُم لوگ اُن (یعنی نبی کی بیویوں)سے کسی چیز کا سوال کرو تو پردے کے پیچھے سے کرو ،
اللہ پاک کی رحیمی میں سے یہ بھی ہے  اُس نے جب چاہا ، اپنے کسی حکم کا سبب ، اُس کی حکمت بھی بیان فرما دی تا کہ اُس کے اِیمان والے بندوں کے ایمان  میں اضافے اور اِیمان کی تقویت کا سبب ہو ، اور گمراہوں کو راہ دکھانے کا سبب  ہو ،  اور منافقین کی پہچان کا سبب ہو ، اور کافروں پر اتمام حجت ہو ، پس یہاں اِس آیت شریفہ میں بھی اللہ تعالیٰ نے اپنے اِن احکام کے سبب ،حِکمت اور فائدے بھی بیان فرمائے ،
 اور اپنی رحمت کے ساتھ ، اپنے بندوں پر شفقت کے ساتھ پردے کے پیچھے سے بات چیت کرنے کےاس حکم کی حِکمت اوراس کا فائدہ بھی بیان فرما دِیا کہ ﴿ ذَلِكُمْ أَطْهَرُ لِقُلُوبِكُمْ وَقُلُوبِهِنَّ:::ایسا کرنا تُم لوگوں کے دِلوں کے لیے اور نبی کی بیویوں کے دِلوں کے لیے زیادہ پاکیزگی والا  ہے
اِس فرمان مُبارک میں ہمیں یہ خبر بھی دی گئی ہے کہ صحابہ اور اُمہات المؤمنین رضی اللہ عنہم اجمعین پاکیزہ دِلوں والے تھے ، اور ان کے دِلوں کی مزید پاکیزگی کے لیے انہیں یہ تعلیم دی گئی کہ  وہ ایک دوسرے سے پردے کے پیچھے سے بات کریں ،
اور یہ بھی غور کیجیے محترم قارئین ، کہ اِس آیت مُبارکہ میں اللہ تبارک وتعالیٰ نے یہ حکم فرمایا ہے کہ حجاب کے پیچھے سے بات کرو ، یعنی حجاب ایسی چیز ہے جس کے پیچھے چُھپا جاتا ہے ، نہ کہ ایسی چیز ہے جس میں سر کے بال وغیرہ چھپا لیے جائیں اور عنوانء شخصیت کو ننگا رکھا جائے ،
جو لوگ صرف سر اور گردن وغیرہ کو ڈھانپنے والے کپڑے کو حجاب کہتے ہیں وہ اللہ کے اس مذکورہ بالا فرمان میں حجاب کی صفت پر توجہ کریں کہ اللہ کے ہاں حجاب وہ ہے جس کے پیچھے  سارے کا سارا چھپا جا سکتا ہو ،، نہ کہ وہ کہ جس میں سے اپنے چہرے کو مزید نمایاں کیا جاتا ہو ،
یہاں ایک خاص نکتے کی طرف خصوصی توجہ مبذول کرواتا چلوں ، کہ جن لوگوں کے دِلوں کی پاکیزگی کی گواہی خود اللہ تعالیٰ کے فرامین میں موجود ہو انہیں اللہ تعالیٰ پردے کے پیچھے سے بات چیت کرنے کا حکم دیتا ہے ، تو وہ جن کے دِل دُنیا کی آلودگیوں سے اَٹے ہوں وہ  کس طرح یہ سوچتے ہیں کہ """حیاء تو دِل کی ہوتی ہے ، پردہ تو دِل کا ہوتا ہے """، اور اپنے دِلوں  کوبا حیاء سمجھتے ہوئے بڑی ہی بے حیائی سے عورت کو پردے سے نکالنا چاہتے ہیں، اور بے حیائی کی راہ پر چلا کر، جنس ء نمائش بنا کر  اپنے مریض دِلوں کی تسکین کا سامان کرنا چاہتے ہیں ،  ان لوگوں کو ، اور ان لوگوں کی گمراہی پر مبنی  باتوں  کے چنگل میں پھنس جانے والوں کو یہ سمجھ کیوں نہیں آتی کہ وہ کچھ بھی رہے ہوں اُن کے دِل صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین اور اُمہات المؤمنین رضی اللہ عنھن کے دِلوں سے زیادہ پاکیزہ نہیں ہو سکتے ، لہذا انہیں اس حقیقت کے پیش نظر اپنے دِلوں کی طہارت کے لیے پردے کے احکام پر عمل پیرا رہنا ہی چاہیے ، اور اللہ کی مقرر کردہ حدود سے نکلنے اور نکالنے کی کوششوں سے باز رہنا چاہیے ،
اپنے اِس مذکورہ بالا  حکم مُبارک کی حِکمت بیان فرمانے کے بعد ، اللہ سُبحانہُ و تعالیٰ نے اِیمان والوں کو تنبیہ فرماتے ہوئے یہ حکم  بھی فرمایا کہ ﴿ وَمَا كَانَ لَكُمْ أَنْ تُؤْذُوا رَسُولَ اللَّهِ::: اور تُم لوگوں کے لیے یہ جائز نہیں کہ تُم لوگ نبی کو تکلیف پہنچاتے یعنی کسی بھی مُسلمان کے لیے کوئی بھی ایسا کام کرنا جائز نہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کو تکلیف پہنچانے والا ہو ، یہ صِرف نزول قران کے وقت کے مُسلمانوں کے لیے نہیں ، بلکہ تا قیامت آنے والے مُسلمانوں کے لیے  ہے ، لہذا ہر مُسلمان کے لیے مقام فِکر ہے کہ وہ اپنے قول و فعل کا خوب اچھی طرح سے جائزہ لے اور محاسبہ کرے کہ جب قیامت والے دِن اُس کے اعمال اللہ کے سامنے پیش ہوں گے ، اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کو بھی اُن کی اُمت کے اعمال کے بارے میں خبر دی جائے گی تو اُس کے اعمال میں سے کتنے عمل ایسے ہیں جو اُن صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کوخوش کرنے والے ہیں ، اور کتنے ایسے ہیں جو اُن صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کو دُکھ پہنچانے کا سبب بننے والے ہیں ، اللہ تعالیٰ ہم سب کو وہ کچھ کرنے، کہنے اور کرنے کی توفیق دے جس  پر وہ راضی ہو اور جس کو جان کر قیامت والے دِن اُس کے حبیب محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم بھی خوش ہوں ،
الحمد للہ ، یہاں تک کی بات کے ذریعے یہ معاملہ یقینی طور پر ثابت ہو جاتا ہے کہ سُورت الاحزاب کی آیت مُبارکہ رقم 53 میں لفظ """حدیث""" کا معنی اور مفہوم ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے فرامین مُبارکہ نہیں ہیں ،
اور اِسی طرح درج ذیل دو آیات مُبارکہ بھی ہیں ، جن میں یہ لفظ  """حدیث""" استعمال فرمایا گیا ہے ،
﴿فَبِأَيِّ حَدِيثٍ بَعْدَهُ يُؤْمِنُونَ:::تو یہ لوگ اِس کے بعد پھر کس بات  پر اِیمان لائیں گےسُورت  المُرسلات(77)/آیت 50،
﴿فَبِأَيِّ حَدِيثٍ بَعْدَهُ يُؤْمِنُونَ:::تو یہ لوگ اِس کے بعد پھر کس بات پر اِیمان لائیں گےسُورت  الاعراف (7)/آیت185 ،
یہاں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی دُشمنی میں کلام اللہ کی معنوی تحریف کرنے والوں  کے لیے ایک تحدی ، چیلنج پیش کرتا ہوں کہ""" تُم لوگ جو  مذکورہ بالا دونوں ہی آیات مُبارکہ میں """ بَعدَهُ """ میں سے  """ هُ """ کی ضمیر قران کریم کی طرف راجع سمجھ کر  ،اور  لفظ """حدیث """ کو حدیث ء رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم بنانے کی کوشش کرتے ہوئے اُسے قران کریم کے مقابل دکھانے کی کوشش کرتے ہو تو ، کسی طور یہ ثابت کرو کہ اِن آیات مُبارکہ میں """ بَعْدَهُ """ میں سے  """ هُ """ کی ضمیر قران کریم کی طرف راجع ہے ، خواہ اِن آیات مُبارکہ کے سارے ہی سیاق سباق کو چھان لو ، اِن شاء اللہ کسی بھی طور وہ ثابت نہیں کر سکتے جو جھوٹ تم لوگ بنائے ہوئے ہو"""،
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے دُشمن اُن صلی اللہ علیہ وعلی وسلم کی حدیث شریف سے دُور کرنے کی کوشش میں قران کریم کی اِن مذکورہ بالا  آیات کی معنوی تحریف کرتے ہوئے لفظ """حدیث"""کو صرف اور صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے فرامین کے معنی میں  دِکھانے اور سمجھانے کی کوشش کرتے ہیں ، اور یہ ثابت ہو چکا کہ اُن کی یہ حرکت سراسر دھوکہ دہی ہے ، جسے وہ لوگ قران کریم کے نام کی آڑ میں اچھا بنانے کی کوشش بھی کرتے ہیں ، جیسا کہ میں نے پہلے بھی کسی جگہ کہا تھا کہ ان کی یہ تدلیس و تلبیس زہر کو شہد میں چھپا کر کھلانے کے مترادف ہے ،
قارئین کرام ، گو کہ میری بات مکمل ہو چکی اور ان لوگوں کی دھوکہ دہی اور بددیانتی ثابت ہو چکی ، لیکن اپنے اِس مضمون کو ختم کرنے سے پہلے ، اپنی باتوں کی ، اِن لوگوں کی جہالت ، دھوکہ دہی اور دبدیانتی کی  مزید وضاحت کے لیے اگر ہم اِن آیات مُبارکہ  کو ایک اور زوایہ سے دیکھتے اور سمجھتے ہوئے ، اِن میں لفظ """ حدیث """ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی بات سمجھ کر اِن کا ترجمہ کریں  تو پھر اِن کا ترجمہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی دُشمنی میں اُن کی سُنّت مُبارکہ کے خلاف کام کرنے والوں کے خِلاف دلیل بن  جاتا ہے  ، ملاحظہ فرمایے  :::
﴿فَبِأَيِّ حَدِيثٍ بَعْدَهُ يُؤْمِنُونَ:::تو یہ لوگ اِس کے بعد پھر کس بات  پر اِیمان لائیں گےسُورت  المُرسلات(77)/آیت 50،
﴿فَبِأَيِّ حَدِيثٍ بَعْدَهُ يُؤْمِنُونَ:::تو یہ لوگ اِس کے بعد پھر کس بات پر اِیمان لائیں گےسُورت  الاعراف (7)/آیت185 ،  
یعنی محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم  کی حدیث سننے کے بعد بھی اُس پر اِیمان نہیں لاتے تو پھر بھلا اور  کس کی حدیث اِس قابل ہے کہ اُس پر اِیمان لائیں ،
لیجیے قارئین کرام ، الحمد للہ،یہ آیات مُبارکہ تو اُن لوگوں کے خِلاف دلیل بن گئیں ،  اور اُن کے لیے کسی طرف سے یہ گنجائش نہیں رہی کہ وہ اپنی غلط بیانیوں ، دھوکہ دہیوں اور بد دیانتیوں کو اللہ کے کلام کی آڑ میں چھپا سکیں ، وللہ الحمد ۔
 والسلام علیکم۔
طلب گارء دُعاء، عادل سُہیل ظفر۔
تاریخ کتابت:24/09/1433ہجری، بمُطابق،12/08/2012عیسوئی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مضمون کا برقی نسخہ درج ذیل ربط کے ذریعے حاصل کیا جا سکتا ہے:
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

0 comments:

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔