Sunday, June 30, 2013

آیے رمضان المبارک کی تیاری کریں ،،،،Let Us Prepare For Holy Ramadan

::::::: آیے رمضان المبارک کی تیاری کریں ::::::
بِسمِ اللَّہِ الرّحمٰنِ الرَّحِیم
و لہُ الحمدُ فی اُولیٰ و فی الآخرۃ ،  و افضلَ الصَّلاۃُ و السَّلامُ عَلیٰ رَسولِ اللَّہ، الذَّی لا نَبیَّ و لا مَعصومَ بَعدہُ
شروع اللہ کے نام سے جو دُنیا اور آخرت میں  بہت زیادہ رحم کرنے والا ہے
اور دُنیا اور آخرت میں وہی سچی تعریف کا مستحق ہے ، اور سب سے اعلی ترین برکت اور سلامتی ہے اُس کے رسول محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم پر ، جن کے بعد نہ کوئی نبی ہوا اور نہ ہی جن کے بعد کوئی اللہ کی طرف سے معصوم ہوا ۔
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ ،
محترم قارئین ، چند شفقت بھری باتیں پیش خدمت ہیں ، اِن شاء اللہ آپ اپنے دِل میں اِن کی جگہ پائیں گے ، اور اپنے سینے میں اِن کے لیے  قبولیت محسوس کریں گے ،
 ::::::: پہلی بات :::::::
اللہ کا شکر ادا کیجیے کہ اللہ نے ایک دفعہ پھر آپ کو اپنی رحمتوں کے خاص مہینے رمضان کے قریب کر دیا ہے ، ذرا اپنے اِرد گِرد دیکھیے تو یاد آ جائے گاکہ کتنے ایسے تھے جو پچھلے رمضان میں آپ کے پاس ، آپ کے ساتھ تھے ، اور اب وہ منوں مٹی تلے دب چکے ہیں ،
ایک دفعہ پھر اللہ کا شکر ادا کیجیے کہ اُس نے آپ کو ایک اور رمضان کے قریب کر کے ایک اور احسان فرمایا ہے اور اس کی عملی شکر گذاری کرتے ہوئے اُس کی رحمتوں اور مغفرت والے مہینے کا بھر پور فائدہ اُٹھانے کی تیاری کیجیے،
اُس کی اطاعت کرتے ہوئے ، اُس کے رسول صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کی اطاعت کرتے ہوئے اور اپنی زندگی میں موجود غلطیوں ، کوتاہیوں ، اور گناہوں کو ہمیشہ کے لیے ترک کرتے ہوئے ، اللہ کے اس برزگی والے مہینے میں نازل ہونے والی بے حد و حساب رحمت اورمغفرت اورجہنم سے نجات کے حصول کی تیاری کیجیے ۔
::::::: دوسری بات :::::::
جی ، رمضان ہم سب کے لیے گناہوں اور کوتاہیوں سے دور ہونے کے لیے اللہ کی طرف سے مہیا کردہ ایک بہترین تربیت گاہ ہے ، اور اُنہیں ہمیشہ کے لیے چھوڑ دینے کے لیے بہترین اور مضبوط ترین قوت مہیا کرتا ہے ، پس تیار ہو جایے کہ اس رمضان میں ہم کھلے عام علیٰ الاعلان اپنے گناہوں اور برائیوں کو ترک کر دیں گے ، اس سے بھی کہیں زیادہ شوق اور جرأت کے ساتھ کہ جس کے ساتھ ہم وہ سب کچھ کرتے ہیں ، اور ابلیس اور اُس کے ساتھیوں کے سامنے پوری قوت کے ساتھ اللہ اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی تابع فرمانی کا عملی ثبوت مہیا کرنے کے لیے تیار ہو جایے ،
یقین رکھیے اگر ہم صدق دِل سے یہ تیاری کر لیں تو اللہ تعالیٰ ہمیں کبھی ہماری برائیوں اور گناہوں میں نہ چھوڑے گا ۔
::::::: تیسری بات :::::::
رمضان ، قران کا مہینہ ہے ،پس اس نسبت کو اپنی زندگیوں میں لانے کی بھر پور کوشش کی تیاری کیجیے ، کہ قران پڑھا جائے ، لیکن ، صرف الفاظ پڑھ کر نیکیاں کمانے کے لیے ہی نہ پڑھا جائے بلکہ مکمل سمجھ داری اور اُس میں غور و فکر کے ساتھ پڑھا جائے ،
::::::: چوتھی بات :::::::
ہوشیار رہیے کہ ہم اُن میں سے نہ ہو جائیں جو دِن بھر بھوک پیاس برداشت کرتے ہیں اور ساتھ ساتھ اپنے ایسے کاموں میں بھی مشغول رہتے جو گناہ کے زمرے میں آتے ہیں ،
ہوشیار ہیے کہ ہم اُن میں سے نہ ہو جائیں جو دِن بھر بھوک پیاس برداشت کرتے ہیں اورخود کو گناہوں سے بچانے کی کوشش بھی کرتے ہٰں لیکن روزہ کھلتے ہی اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی نافرمانیاں شروع کر دیتے ہیں ، مثلا کتنے روزہ دار افطار کے فوراً بعد سگریٹ نوشی شروع کر دیتے ہیں اور نماز کی کوئی فکر نہیں ہوتی ، افطار سے لے کر رات گئے مختلف برقی منظر نُماؤں(ڈسپلےز) میں ایسی چیزوں کا نظارہ کرتے رہتے ہیں جو گناہ ہے ، اور کسی نماز کے لیے نہیں اُٹھتے ، اسی یا اسی قسم کی لغو مشغولیت میں دیر تک جاگتے ہیں اور پھر ایک ہی دفعہ کھا پی کر سو جاتے ہیں ، مغرب ، عِشاء ، فجر کوئی نماز نہیں پڑھی جاتی اور دن چڑھے اپنے اپنے کاموں پر روانہ ہو جاتے ہیں،
::::::: پانچویں بات :::::::
میں اپنے آپ کو آپ سب کو نصیحت کرتا ہوں کہ اللہ کی رحمت اور مغفرت والے اس خاص مہینے میں زیادہ سے زیادہ جتنا بھی ہو سکے اللہ کی راہ میں خرچ کیجیے ، اگر ہم لوگ کھانے پینے کی طرح طرح کی چیزوں کی بجائے اپنے معمول کے کھانے پر ہی اکتفاء کریں اور اضافی تکلفات پر خرچ کرنے والی رقم اللہ کی راہ میں خرچ کریں تو ان شاء اللہ رنگ برنگی افطاری سے کہیں زیادہ فائدہ مند ہو گا، ہمارے جسموں کے لیے بھی اور ہماری روحوں کے لیے بھی ، ہماری دُنیا کے لیےبھی اور ہماری آخرت کے لیے بھی ،
اپنے اِرد گِرد اپنے غریب مسلمان بھائی بہنوں کو مت بھولیے ، جن کا اللہ کے بعد آپ کے علاوہ کوئی مددگار نہیں ، جوپوری طرح سے سادہ روٹی بھی حاصل نہیں کر پاتے، اور ہم اپنے دستر خوان ضرورت سے کہیں زیادہ اور محض زُبان کے مزےپورے کرنے کے لیے اور پیٹ کی شہوت بجھانے کے لیے سجائے ہوتے ہیں ، کوشش کیجیے کہ ایسے بھائی بہنوں میں سے کوئی نہ کوئی ضرور آپ کے دستر خوان پر یا آپ کے مہیا کردہ مواد سے افطاری کرے ،
::::::: چَھٹی بات :::::::
خیال رکھیے کہ افطار ی حلال اور پاکیزہ رزق سے ہو اور ایسی حالت اور ایسی جگہ میں ہو جس اللہ کی ناراضگی کا کوئی سبب نہ ہو ، اس بات کو چوتھی بات کے ذریعے سمجھا جا سکتا ہے ان شاء اللہ۔
::::::: ساتویں بات :::::::
روزے کی حالت میں زیادہ سے زیادہ ، اللہ کا ذکر کرتے رہیے ، اور دُعا کرتے رہیے ، اپنے لیے ، اپنے والدین ، بھائیوں بہنوں ، اور تمام مسلمانوں کے لیے ، جو دُنیا کے مختلف حصوں میں طرح طرح کے مظالم کا شکار ہو رہے ہیں ، اورخود ہمارے اپنے ہی وطن میں بھی ،
یاد رکھیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے اِرشاد فرمایا ہے ((((( ان لِلَّهِ عُتَقَاءَ في كل يَومٍ وَلَيلَةٍ لِكلِّ عَبدٍ منهم دَعوَةٌ مُستَجَابَةٌ :::بے شک اللہ تعالیٰ ہر رات میں اور ہر دِن میں (یعنی رمضان کی راتوں اور دِنوں میں) لوگوں کو (جہنم کی آگ سے ) آزاد فرماتے ہیں اور ان آزاد ہونے والوں میں سے ہر ایک کے ایک قبول شدہ دُعا ہوتی ہے)))))مُسند أحمد ، صحیح الجامع الصغیر ،
کیا پتہ اللہ کی رحمت سے ہم بھی ان میں ہو جائیں اور ہماری دُعا قبول ہو جائے اور اللہ تعالیٰ ہمارےساتھ ساتھ ہمارے ان گنت مسلمان بھائیوں بہنوں کی مشکلیں آسان فرمادے ،
::::::: آٹھویں بات :::::::
جس کے لیے ممکن ہو وہ یہ ارداہ بھی رکھے کہ اللہ کے گھر کعبہ کی زیارت کرے ، اور عمرہ ادا کرے کہ اس مبارک مہینہ میں عُمرہ کرنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے ساتھ حج کرنے کے برابر اجر و ثواب رکھتا ہے ، یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و علی آلہ وسلم کا فرمان ہے ((((( فَاِذا جَاءَ رَمضَانُ فَاعتَمرِی فَاِنّ عُمرۃً فِیہِ تَعدِلُ حَجَۃً و فی روایۃ حَجَۃً مَعِيَ ::: جب رمضان آئے تو اُس میں عُمرہ کر لینا ، رمضان میں عُمرہ حج کے برابر ہے ))))) صحیح مسلم ، سُنن النسائی،
::::::: نویں بات :::::::
ایک دفعہ پھر یاد کرتے ہیں ، ابھی ابھی بیان کردہ حدیث پاک ، ((((( ان لِلَّهِ عُتَقَاءَ في كل يَومٍ وَلَيلَةٍ لِكلِّ عَبدٍ منهم دَعوَةٌ مُستَجَابَةٌ :::بے شک اللہ تعالیٰ ہر رات میں اور ہر دِن میں (یعنی رمضان کی راتوں اور دِنوں میں) لوگوں کو (جہنم کی آگ سے ) آزاد فرماتے ہیں اور ان آزاد ہونے والوں میں سے ہر ایک کے ایک قبول شدہ دُعا ہوتی ہے)))))مسند أحمد ، صحیح الجامع الصغیر ،
اس کو یاد رکھتے ہوئے یہ ارادہ کرتے ہیں کہ ان شاء اللہ اس رمضان میں ہم بھر پور کوشش کریں گے کہ ہم اللہ تعالیٰ کی اس عظیم عطاء کو حاصل کر سکیں اور اُن میں سے ہو سکیں جِن کو اللہ تعالیٰ جہنم کی آگ سے آزاد فرما دیتا ہے ،
::::::: دسویں بات :::::::
رمضان الکریم میں اللہ کی خصوصی رحمت اور مغفرت کے حصول کے لیے ہم سب یہ کوشش بھی کریں اور خوب کریں کہ ہم اللہ کے کلام کو زیادہ سے زیادہ پڑھتے رہیں ، سنتے رہیں ، سمجھتے رہیں اور جو کوئی اس کی قدرت نہ رکھتا ہو وہ اپنا زیادہ سے زیادہ وقت اللہ کے گھروں میں اللہ کا ذکر کرتے ہوئے گذارے خواہ تسبیح ، تحمید اور تکبیر ہی کہتا رہے ، اور شیطان ملعون کی اور اس کے پیروکاروں کی محفلوں اور ان کی جاری کردہ مشغولیات سے دُور رہیں ،
اللہ تعالیٰ ہم سب کو ہمارے والدین بھائیوں بہنوں ، اور تمام اھل خانہ اور اھل خاندان اور اھل اسلام کو اپنی خاص رحمت اور مغفرت والے اس بزرگ اور عِزت مآب مہینے کی زیادہ سے زیادہ برکتیں حاصل کرنے کی ہمت اور توفیق عطاء فرمائے۔
طلبگارِ دُعاء ، آپ کا بھائی ،
 عادل سُہیل ظفر۔
اس مضمون کا برقی نسخہ درج ذیل ربط پر میسر ہے

0 comments:

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔